نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو یوسفؒ پر امام عمرو بن علی المعروف الفلاس (متوفی 249ھ) کی “کثیر الغلط” کی جرح کا تحقیقی جائزہ

 


امام ابو یوسفؒ پر امام عمرو بن علی المعروف الفلاس (متوفی 249ھ)  کی “کثیر الغلط” کی جرح کا تحقیقی جائزہ


نُورُ الْقَضَاءِ فِي ذِكْرِ الْقَاضِي بَرَاءَةُ أَبِي يُوسُفَ مِنْ طَعْنِ الْفَلَّاسِ الْمُعَادِي


امام ابو یوسفؒ: علمی مقام اور خدمات

ائمۂ دین میں حضرت امام ابو حنیفہؒ اور ان کے جلیل القدر تلامذہ کا مقام نہایت بلند اور مسلّم ہے۔ انہی درخشاں ستاروں میں سے ایک عظیم نام قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری رحمہ اللہ کا ہے، جنہوں نے فقہ اسلامی کی تدوین، ترویجِ حدیث، اور نظامِ قضاء میں وہ خدمات انجام دیں کہ تاریخِ اسلام ان پر ہمیشہ نازاں رہے گی۔ آپ کی علمی رفعت، دیانت، اور فقہی بصیرت اہلِ علم پر مخفی نہیں، اور آپ کا شمار ان اکابر میں ہوتا ہے جنہوں نے امت کو علمی استحکام عطا کیا۔ تاہم بعض ناقدین کی جانب سے آپ پر جرح بھی منقول ہے، جن میں سے ایک قول امام عمرو بن علی المعروف الفلاس (متوفی 249ھ) کا ہے، اس کی سند اور متن درج ذیل ہے:  أخبرنا ابن الفضل، قال: أخبرنا عثمان بن أحمد الدقاق، قال: حدثنا سهل بن أحمد الواسطي، قال: حدثنا أبو حفص عمرو بن علي قال: أبو يوسف صدوق كثير الغلط.


ائمہ جرح و تعدیل کی توثیق اور جمہور کا موقف

کسی بھی راوی کی حیثیت کا تعین انفرادی اقوال سے نہیں بلکہ "جمہور" کی رائے سے ہوتا ہے۔ امام ابو یوسفؒ کو فنِ حدیث کے ان ستونوں نے ثقہ قرار دیا ہے جن کی جرح و تعدیل پر پوری امت کا مدار ہے ۔آپ  کو بڑے بڑے متشدد  ائمہ نے ثقہ اور معتبر قرار دیا ہے۔ خصوصاً:
  • امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ (جو خود امام فلاس کے استاد ہیں)

  • امام نسائیؒ

  • امام ابن حبان

  • امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

یہاں خاص بات یہ ہے کہ امام احمدؒ کا مزاج اہلِ رائے (احناف) کے بارے میں سخت سمجھا جاتا ہے، اس کے باوجود انہوں نے امام ابو یوسفؒ کو  ﺻﺪﻭﻕ اور معتبر قرار دیا ہے اور ان پر “کثیر الغلط” جیسی جرح نہیں کی۔ یہ خود اس بات کی قوی دلیل ہے کہ امام ابو یوسفؒ کی ثقاہت مسلم ہے۔

امام فلاس کا تشدد

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امام الفلاس راویوں پر کثرت سے کلام کرنے والے محدث تھے، مگر ان کے اقوال کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات جرح میں کافی سخت اور متشدد ہو جاتے تھے۔ بعض مواقع پر انہوں نے ایسے راویوں پر بھی سخت کلام کیا ہے جنہیں جمہور محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ حدیث جیسے امام ذہبی اور امام ابن حجر   نے کئی مقامات پر امام الفلاس کی جرح کو رد کیا ہے۔ یہ امر اس  کی دلیل ہے کہ بعض مواقع پر ان کی جرح کو محدثین نے قبول  نہیں کیا۔  تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 46 : امام عمرو بن علی المعروف الفلاس رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح


 یہاں ایک طرف ایک متشدد امام الفلاس کی جرح ہے دوسری طرف کئی ائمہ کی توثیق : لہٰذا راجح  توثیق ہی ہوگی۔

جرح کا ممکنہ سبب

یہ بھی قوی احتمال ہے کہ امام فلاس تک امام ابو یوسفؒ کی جو روایات پہنچی ہوں، وہ کسی ضعیف واسطے سے پہنچی ہوں یا سند میں کہیں خلل ہو اور اس ضعف کو امام فلاس نے امام ابو یوسفؒ کی طرف منسوب کر دیا ہو  کیونکہ بعض اوقات خطا راوی کے اوپر والے یا نیچے والے کی ہوتی ہے، مگر نسبت بیچ والے راوی کی طرف ہو جاتی ہے۔   امام احمد جیسے معتدل مزاج جب احناف کے معاملے میں اس قدر سختی برتتے تھے، تو امام فلاس جیسے متشدد ناقد سے اس قسم کے مبالغہ آمیز حکم کا صادر ہونا بعید نہیں۔

استاد کی رائے شاگرد پر مقدم کیوں؟

 امام ابو حفص الفلاس کی جانب سے امام ابو یوسفؒ  پر کی گئی جرح کو اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں ناقابلِ قبول قرار دینا عقلاً و نقلاً درست ہے، اور اس پر متعدد مضبوط دلائل موجود ہیں۔

1. سب سے پہلی بات یہ ہے کہ خود امام فلاس کے استاد، یحییٰ بن معین  کا مقام فنِ جرح و تعدیل میں ان سے کہیں بلند ہے۔ جیسا کہ عبد الله بن عبد الرحمن السعد نے لکھا: “ويحيى بن معين يُقدَّم على أبي حفص الفلاس” (قواعد الجرح والتعديل، ص 12)۔ لہٰذا اصولی طور پر امام ابن معین کی توثیق کو امام فلاس کی جرح پر ترجیح دی جائے گی۔

غیر مقلدین کے اپنے اصولوں سے استدلال

2. دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ حضرات جو امام ابو یوسف پر کلام کرتے ہیں، خود ان کے اپنے مسلمہ اصول یہاں ان کی تردید کرتے ہیں۔  غیر مقلدین کے شیخ الاسلام  ابو القاسم سیف بنارسی   کی کتاب “دفاع بخاری” (صفحہ 529) میں لکھا ہے:  "یحییٰ بن معینؒ ناقدین کے امام ہیں، پس جس راوی کی وہ توثیق کریں، وہ ثقہ سمجھا جائے گا، اور اس پر جتنی بھی جروحات ہوں، وہ مردود (غیر معتبر) سمجھی جائیں گی۔" اسی بنیاد پر ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ: امام ابو یوسفؒ  کو ابن معینؒ اور دیگر محدثین نے  ثقہ قرار دیا ہے لہٰذا اصولی طور پر امام ابو یوسفؒ کو ثقہ ہی مانا جائے گا اور ان کے خلاف دیگر جروحات قابلِ ترجیح نہیں رہتیں ۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ جب امام ابن معینؒ نے امام ابو یوسفؒ کی توثیق کر دی، تو پھر  امام فلاس کی جرح کو اچھالنا اپنے ہی اصولوں سے غداری نہیں تو اور کیا ہے؟

 مسلکی اختلاف

3. تیسری اہم دلیل یہ ہے کہ خود امام ابن معینؒ سے ایک نہایت اہم قول منقول ہے : “أصحابنا يفرطون في أبي حنيفة وأصحابه” یعنی ہمارے اصحاب (اہلِ حدیث) امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کے بارے میں زیادتی کرتے ہیں۔ یہ جملہ خصوصاً اصحاب الحدیث، کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے، جنہوں نے امام ابو حنیفہؒ پر بے جا طعن و تشنیع کی۔ ظاہر ہے کہ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امام ابن معین کے شاگرد تھے، جیسے امام فلاس وغیرہ۔ لہٰذا جب خود امام ابن معینؒ اس زیادتی کی نشاندہی کر رہے ہیں، تو ایسی جروحات کو بلا تحقیق قبول کرنا درست نہیں، بلکہ احتیاط اور اصولی توازن کے ساتھ دیکھا جائے گا۔

خلاصہ : 

 امام فلاس کی جرح اپنے استاد امام ابن معینؒ کی توثیق اور جمہور ائمہ کے اقوال کے مقابلے میں قابلِ ترجیح نہیں، اس لیے امام ابو یوسفؒ بدستور ایک ثقہ اور معتبر راوی ہی شمار ہوں گے۔ تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 46 : امام عمرو بن علی المعروف الفلاس رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح


ان تمام اصولی نکات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ:

  • امام فلاس کی “کثیر الغلط” والی جرح راجح نہیں

  • جمہور ائمہ کی توثیق اس کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے

  • اور امام ابو یوسفؒ ایک ثقہ، معتبر اور جلیل القدر محدث ہیں

قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...