امام عمرو بن علی المعروف الفلاس کہتے ہیں کہ ( امام ) ابوحنیفہ صاحب الرائے حدیث کے حافظ نہیں تھے. مضطرب الحدیث، واهي الحديث اور صاحب هوى ( خواہش نفس کی پیروی کرنے والے ) تھے.
امام عمرو بن علی المعروف الفلاس رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح
شَهَادَةِ الأَعْيَان لعزالامام النعمان
و رَدُّ الفَلَّاسِ فِي مِيزَانِ العِرْفَان
أخبرنا ابن الفضل، أخبرنا عثمان بن أحمد الدقاق، حدثنا سهل بن أحمد الواسطي، حدثنا أبو حفص عمرو بن علي قال: وأبو حنيفة النعمان بن ثابت صاحب الرأي ليس بالحافظ مضطرب الحديث، واهي الحديث، وصاحب هوى
امام عمرو بن علی المعروف الفلاس کہتے ہیں کہ ابوحنیفہ صاحب الرائے حدیث کے حافظ نہیں تھے. مضطرب الحدیث، واهي الحديث اور صاحب هوى ( خواہش نفس کی پیروی کرنے والے ) تھے.
جواب : اسلامی تاریخ میں بعض ایسی عظیم شخصیات گزری ہیں جن کی علمی عظمت اور دینی خدمات نے پوری امت کو متاثر کیا۔ انہی جلیل القدر ہستیوں میں سے ایک نام امام اعظم کا ہے۔ آپ فقہِ اسلامی کے عظیم امام، بلند پایہ مجتہد اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی فقاہت، دیانت، تقویٰ اور علمی بصیرت کو صدیوں سے علماء و محدثین نے تسلیم کیا ہے۔
تاہم تاریخ کے مختلف ادوار میں بعض افراد کی طرف سے امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں چند اعتراضات بھی نقل کیے گئے ہیں۔ انہی میں ایک قول امام عمرو بن علی المعروف الفلاس سے منسوب کیا جاتا ہے جسے غیر مقلدین بڑی شد و مد کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اس جرح کا علمی اور منصفانہ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔
امامِ اعظمؒ کا منصبِ فقاہت اور محدثین کا معیارِ نقد
امام الفلاس کی جرح کہ "واهي الحديث، وصاحب هوى"، دراصل فنِ فقہ اور فنِ حدیث کے امتزاج کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ امام صاحب کا اصل میدان استنباطِ مسائل اور تدوینِ فقہ تھا، جہاں وہ کثرت سے قیاسِ جلی و خفی سے کام لیتے تھے۔ اس عہد میں بعض محدثین محض ظواہرِ نصوص پر اکتفا کرتے تھے، لہٰذا ان کے نزدیک قیاس و رائے کا استعمال گراں گزرتا تھا۔ امام الفلاس کی جرح اسی مخصوص مکتبہ فکر کی عکاسی کرتی ہے جو فقہی گہرائی کو "خواہشِ نفس" (صاحبِ ہویٰ) سے تعبیر کرنے کی علمی خطا کر بیٹھے، حالانکہ امام صاحب کا قیاس عینِ روحِ شریعت کے مطابق تھا۔
ہم اپنی سابقہ تحریروں میں واضح کر چکے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کا طریقہ کار عام محدثین کے طریقے سے مختلف تھا۔ آپ کثرت سے احادیث بیان کرنے والے محدثین کی طرح نہیں تھے، بلکہ آپ کا اصل میدان فقہ اور مسائل کا استنباط تھا۔ اسی لیے آپ دلائلِ شرعیہ سے احکام اخذ کرنے میں قیاس سے بھی کام لیتے تھے۔ اس دور میں بعض حلقوں میں قیاس کے استعمال کو پسند نہیں کیا جاتا تھا اور بعض لوگ اسے دین میں رائے کا دخل سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بعض محدثین نے اس بنیاد پر امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں سخت کلمات کہہ دیے۔ اس موضوع کی مزید تفصیل قارئین "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود مضمون:
اعتراض نمبر 3 :بعض محدثین نے قیاس اور رائے کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراض وغیرہ کئے۔
اسی پس منظر میں بعض محدثین نے یہ سمجھ لیا کہ چونکہ امام ابو حنیفہؒ قیاس سے بھی استدلال کرتے ہیں، اس لیے وہ حدیث کے حافظ نہیں یا رائے کے زیادہ قائل ہیں۔ کچھ یہی حال امام فلاس کے اس قول کا بھی ہے۔
کیا امام صاحب حدیث کے حافظ نہ تھے؟
امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ “حافظ الحدیث” نہیں تھے، درست نہیں۔ جلیل القدر محدثین نے نہ صرف آپ کو طبقاتِ حفاظ میں شمار کیا بلکہ آپ کی روایت کی کثرت کا بھی اعتراف کیا ہے۔ چنانچہ ذھبی لکھتے ہیں کہ امام صاحب سے اتنے لوگوں نے روایت کی ہے کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے ( مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه للذھبی ص 20 )۔ اس موضوع کی مکمل تفصیل یہاں بیان کرنا طوالت کا باعث ہوگا، تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود :
امام فلاس کی جرح مضطرب الحديث کا جواب
جہاں تک امام فلاس کی مضطرب الحديث کی جرح کا تعلق ہے ، تو اس کا جواب ہم پہلے ہی تفصیل کے ساتھ دے چکے ہیں، لہٰذا یہاں اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امام الفلاس راویوں پر کثرت سے کلام کرنے والے محدث تھے، مگر ان کے اقوال کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات جرح میں کافی سخت اور متشدد ہو جاتے تھے۔ بعض مواقع پر انہوں نے ایسے راویوں پر بھی سخت کلام کیا ہے جنہیں جمہور محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ حدیث جیسے امام ذہبی اور امام ابن حجر نے کئی مقامات پر امام الفلاس کی جرح کو رد کیا ہے۔ یہ امر اس کی دلیل ہے کہ بعض مواقع پر ان کی جرح کو محدثین نے قبول نہیں کیا۔
امام فلاس کا راویوں پر بے وجہ کلام اور محدثین کا انہیں رد کرنا
1 :- محمد بن بشار المعروف بندار - امام فلاس انکے تعلق سے قسم کھا کر کہتے ہیں " عمرو بن علي يحلف أن بندارا يكذب فيما يروي عن يحيى" بُندار، یحییٰ ( بن سعيد القطان ) سے جو روایت کرتا ہے، اس میں جھوٹ بولتا ہے. [تهذيب التهذيب (3/ 519)]
حالانکہ بندار کی امام یحیی بن سعید القطان کے واسطہ سے روایات کو امام بخاری و امام مسلم نے جگہ جگہ نقل کیا ہے. اس لئے امام ابن حجر امام فلاس کی جرح کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں " مُحَمَّد بن بشار بنْدَار تكلم فِيهِ الفلاس فَلم يلْتَفت إِلَيْهِ محمد بن بشار بندار کے بارے میں فلاس نے کلام کیا، مگر محدثین نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ (فتح الباري لابن حجر 463/1)
2 :- محمد بن حاتم بن ميمون السمين الحافظ الإمام أبو عبد الله المروزي - امام الفلاس انکے بارے میں کہتے ہیں " ليس بشيء " یعنی وہ کچھ بھی نہیں ہے" یا "اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے"۔ امام الفلاس کی اس جرح کا رد کرتے ہوئے امام ذہبی کہتے ہیں" قلت: هذا جرح مردود " میں ( امام ذہبی ) کہتا ہوں" یہ جرح مردود ہے " (تذكرة الحفاظ = طبقات الحفاظ للذهبي 33/2 ).
جبکہ سير أعلام النبلاء ( 450/11 ) پر امام ذہبی امام الفلاس کی جرح کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں"هَذَا مِنْ كَلاَمِ الأَقْرَانِ الَّذِي لاَ يُسمَعُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ ثَبْتٌ حُجَّةٌ" یہ ہم عصروں کی باہمی تنقید میں سے ہے، جسے قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ یہ شخص ( محمد بن حاتم بن ميمون ) ثقہ اور حجت ہے.
3 :- عبد الله بن رجاء - امام الفلاس عبد اللہ بن رجاء پر جرح کرتے ہوئے کہتے ہیں "كثير الغلط ليس بحجة" امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں انکے ترجمہ میں "صح" کی علامت لگائی ہے جسکا مطلب ہے کہ یہ راوی امام ذہبی کے نزدیک ثقہ ہے اور اس پر جرح درست نہیں ہے. جبکہ امام علی بن المدینی عبد اللہ بن رجاء کے بارے میں کہتے ہیں " اجتمع أهل البصرة على عدالة رجلين: أبي عمر الحوضى وعبد الله بن رجاء". ( ميزان الاعتدال )
4 :- وهب بن منبه - وهب بن منبه کی محدثين توثيق ہی کرتے ہیں سوائے امام الفلاس کے. امام ذہبی لکھتے ہیں " ثقة مشهور ، ضعفه أبو حفص الفلاس وحده". ( من تكلم فيه وهو موثق )
ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ بعض مواقع پر امام الفلاس راویوں پر سخت یا غیر مضبوط جرح کر جاتے تھے، جسے محدثین نے قبول نہیں کیا۔ لہٰذا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں ان کی جرح کو بھی اسی اصول کے تحت دیکھا جائے گا۔
میزانِ نقد میں امام ابنِ معینؒ کی فوقیت و اولیت
امام ابو حفص الفلاس کی جانب سے امام اعظم ابو حنیفہؒ پر کی گئی جرح کو اصولِ جرح و تعدیل کی روشنی میں ناقابلِ قبول قرار دینا عقلاً و نقلاً درست ہے، اور اس پر متعدد مضبوط دلائل موجود ہیں۔
اولاً: امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا مقام فنِ جرح و تعدیل میں امام الفلاس سے کہیں بلند اور مقدم ہے۔ شیخ ابن باز و شیخ ابن عثیمین کے شاگرد عبد الله بن عبد الرحمن السعد نے اس بات کو صراحت سے لکھا ہے : "وأيضاً الطبقة الأولى على درجات؛ فيحيى بن معين يُقدَّم على أبي حفص الفلاس" (یعنی: طبقہ اولیٰ کے محدثین میں بھی درجہ بندی ہے، اور یحییٰ بن معین، ابو حفص الفلاس پر مقدم ہیں۔) ( قواعد الجرح والتعديل صفحة 12 ) اس بنا پر امام یحییٰ بن معین کی توثیق کو امام الفلاس کی جرح پر ترجیح دی جائے گی۔
ثانیاً: امام یحییٰ بن معین نے امام ابو حنیفہؒ کے متعلق واضح کلماتِ توثیق ارشاد فرمائے
ہیں۔ قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
امام ابن معینؒ کی توثیق کا مقام
غیر مقلدین کے شیخ الاسلام ابو القاسم سیف بنارسی کی کتاب “دفاع بخاری” (صفحہ 529) میں لکھا ہے: "یحییٰ بن معینؒ ناقدین کے امام ہیں، پس جس راوی کی وہ توثیق کریں، وہ ثقہ سمجھا جائے گا، اور اس پر جتنی بھی جروحات ہوں، وہ مردود (غیر معتبر) سمجھی جائیں گی۔"
اسی بنیاد پر ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ: امام ابو حنیفہؒ کو ابن معینؒ، امام شعبہؒ اور دیگر محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے لہٰذا اصولی طور پر امام ابو حنیفہؒ کو ثقہ ہی مانا جائے گا اور ان کے خلاف دیگر جروحات قابلِ ترجیح نہیں رہتیں ۔ مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اس کے علاوہ یحییٰ بن معینؒ سے منقول ایک نہایت اہم روایت جو کہ "جامع بیان العلم و فضلہ" (جلد 2، صفحہ 1081) میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے، یہ واضح کرتی ہے کہ: "أصحابُنا يُفرِطونَ في أبي حنيفةَ وأصحابِهِ" (ہمارے اصحاب امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے بارے میں زیادتی سے کام لیتے ہیں۔)
یہ جملہ خصوصاً اصحاب الحدیث، کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے، جنہوں نے امام ابو حنیفہؒ پر بے جا طعن و تشنیع کی۔ ان محدثین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خود امام یحییٰ بن معین کے شاگرد ہوں یا معاصرین۔ جیسا کہ ابن الغلابی ہوں ابن معین کے شاگرد یا ابو حفص الفلاس یا دیگر معاصرین ۔
لہٰذا جب خود امام ابن معین اس زیادتی کی نشاندہی کر رہے ہیں تو اس قسم کی جروحات کو احتیاط کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
جمہور ائمہ کی خاموشی اور عدمِ التفات
یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ:
-
امام ذہبیؒ نے اس جرح کو قبول نہیں کیا
-
امام ابن حجرؒ نے اسے بطور حجت نقل نہیں کیا
-
امام مزّیؒ نے بھی اس پر اعتماد ظاہر نہیں کیا
اگر یہ جرح واقعی مضبوط ہوتی تو یہ جلیل القدر محدثین اسے ضرور ذکر کرتے۔ ان اکابرین کا اس جرح کو نظرانداز کرنا اور امام صاحب کے تذکرے میں ان کی عدالت، دیانت اور فقاہت کے گن گانا اس بات کی مہرِ تصدیق ہے کہ یہ جرح "غیر معتبر" ہے۔ امامِ اعظمؒ کی شخصیت اس قدر بلند ہے کہ ایسی انفرادی اور متشددانہ آراء ان کے علمی وقار کو گزند نہیں پہنچا سکتیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود مضمون
علمِ حدیث کے اُفق پر چمکتا ستارہ: تابعی، ثقہ، ثبت، حافظ الحدیث، امام اعظم ابو حنیفہؒ
خلاصۂ کلام
مذکورہ تفصیل سے چند حقیقتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں:
-
امام الفلاس بعض اوقات راویوں پر سخت جرح کر دیتے تھے جسے محدثین قبول نہیں کرتے تھے۔
-
امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں ان کی جرح بھی اسی نوعیت کی معلوم ہوتی ہے۔
-
امام یحییٰ بن معین جیسے عظیم امام کی توثیق اس جرح کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔
-
بڑے محدثین نے اس جرح کو قابلِ اعتناء نہیں سمجھا۔
لہٰذا حقیقت یہی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اپنی فقاہت، دیانت، ضبط اور امت میں علمی قبولیت کے باعث ہمیشہ بلند مقام پر فائز رہے ہیں۔ ایسی چند مبہم یا متشدد جروحات نہ تو ان کی علمی عظمت کو متاثر کر سکتی ہیں اور نہ ہی ان کے مقام کو کم کر سکتی ہیں۔ بلکہ جمہور محدثین نے ان کی عدالت، ثقاہت اور علمی مرتبے کو تسلیم کیا ہے، اور یہی امت کا متفقہ اور معتبر موقف ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں