احادیث کے رَد و قبول میں غیرمقلدین کی من مانیاں
مفتی رب نواز صاحب حفظہ اللہ احمد پور شرقیہ (قسط:۴)
شُمارہ نمبر 39
مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت
جرح سے توجہ ہٹانے کے لئے غیر متعلقہ باتیں چھیڑ دیں
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے زبیر علی زئی غیرمقلد کی بابت لکھا :
’’در اَصل اس روایت کے باطل ہونے کے سلسلے میں امام بخاری رحمہ اللہ کا حوالہ انتہائی اہم ہے اور بہت ہی واضح ہے ،اس لئے زبیر علی زئی صاحب نے اسے پیچھے دھکیل دیا ہے اور اس سے پہلے امام ابن عدی رحمہ اللہ اور امام ابن القیسرانی رحمہ اللہ کے حوالے کو لے کر اِدہر اُدہر کی غیرمتعلق باتیں کرکے اپنی تحریر کے ابتدائی حصہ کو بوجھل کردیا ۔ شاید اس لئے کہ جو قاری ابتداء میں اُکتاکر پوری تحریر پڑھنا چھوڑ دے، وہ اس حوالے پر اگاہی سے محروم ہی رہے ۔ یا کوئی قاری پوری تحریر پڑھے بھی تو ابتداء ہی میں اپنا نشاط کھو بیٹھے اور آگے چل کر امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالے پر زیادہ دھیان نہ دے سکے۔ نیز تیسرے نمبر پر بھی امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالے کے ساتھ موصوف نے غیر متعلق باتیں چھیڑ کر اَصل بات کو گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی ہے ، بلکہ بد ترین مغالطہ بازی سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ ۲۲)
من گھڑت روایت کو صحیح قرار دینے کی کاوش
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد نے ایک روایت کو صحیح باور کرایا ،تو سنابلی صاحب نے اسے من گھڑت بتاتے ہوئے لکھا :
’’یہ زبر دست دلیل ہے کہ زیر بحث روایت موضوع اور من گھڑت ہے ، اور جس نے بھی اسے گھڑا ہے ، وہ تاریخ سے نابلد تھا ۔ اس نے یہ حدیث تو وضع کر دی کہ شام میں ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو حدیث سنائی، لیکن اس بد نصیب کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ جس دَور میں صحابی رسول یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ شام میں تھے ، اس دَور میں ابو ذر رضی اللہ عنہ شام گئے ہی نہیں تھے ، بلکہ اس کے بہت بعد عثمان رضی اللہ عنہ کے دَور میں شام گئے تھے اور اس سے پہلے ہی صحابی رسول یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فوت ہو چکے تھے ، لہذا ایک فوت شدہ شخص کو ابو ذر رضی اللہ عنہ کوئی حدیث کیسے سنا سکتے ہیں؟ امام بخاری رحمہ اللہ کی تحقیق سے اس روایت کا موضوع اور من گھڑت ہونا ثابت ہوگیا ۔ والحمد للہ ۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ ۲۲)
حرف پرستی ……اور …… دوغلہ پن
سنابلی صاحب لکھتے ہیں :
’’اگر یہ کہہ دیا جائے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو مردود قرار دیا ہے، تو یہ بھی معنوی طور پر بالکل درست ہے ۔ اگر زبیر علی زئی صاحب اس کا اس وجہ سے انکار کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے کلام میں لفظ ’’ مردود ‘‘ نہیں ہے،تو یہ سوائے حرف پرستی کے اورکچھ نہیں ہے ۔ اور یہ حرف پرستی بھی صرف اسی معاملے میں ہے ، ورنہ دیگر مقامات پر خود زبیر علی زئی صاحب نے بھی معنوی طور پر اہلِ علم کی طرف اس طرح کی نسبتیں کی ہیں۔مثلاً : رفع الیدین سے متعلق حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تضعیف میں آں جناب اکیس (۲۱) اہلِ علم کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’ یہ سب امت مسلمہ کے مشہور علماء تھے ۔ان کا اس روایت کو متفقہ طور پر ضعیف و معلول قرار دینا ترمذی و ابن حزم کی تصحیح پر ہر لحاظ سے مقدم ہے۔‘‘[ نور العینین ، جدید ایڈیشن : ( ص۱۳۴) ] یہاں آپ نے معلول قرار دینے کی بات ، وہ بھی متفقہ طور پر ’’ معلول ‘‘قرار دینے کی بات اکیس اہلِ علم کی طرف منسوب کی ہے ، سوال یہ ہے کہ ان اکیس میں سے کتنے اہلِ علم نے اپنے کلام میں لفظ ’’ معلول ‘‘ استعمال کیا ہے ؟ اب گر ان اہلِ علم کے کلام میں ’’ معلول ‘‘ کا لفظ نہ ملے تو حرف پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے آپ کو جھوٹا قرار دیا جائے اور آپ کی خدمت میں آپ کے اکیس صریح جھوٹ پیش کئے جائیں؟؟؟ اگر آپ کہیں کہ معلول سے آپ کی مراد ان اہلِ علم کا اس کلام پر قادح کلام کرنا تو ہم بھی کہتے ہیں کہ مردود سے ہماری مراد زیر بحث راوی پر امام بخاری کا قادح کلام کرنا ہے۔ نیز صرف مردود ہی نہیں بلکہ معنوی طور پر اگر یہ بھی کہا جائے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے تو یہ بھی غلط نہیں ہے کیوں کہ اس روایت میں ایسی بات ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ کی جرح کے مطابق ممکن ہی ہیں ، اس لئے ناممکن بات بیان کرنا اس کے موضوع اور من گھڑت ہونے کی دلیل ہے ۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ ۲۵،۲۶)
روایت کو صحیح ثابت کئے بغیر استدلال حد درجہ مضحکہ خیز بات ہے
سنابلی صاحب لکھتے ہیں :
’’محترم زبیر علی زئی سے درخواست ہے کہ زیر بحث روایت کو پہلے صحیح تو ثابت کریں ،اس کے بعد اسے بطور ِ دلیل پیش کریں ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے خاص اس روایت پر جرح کی ہے ،لہٰذا جب تک آپ اس جرح کا ازالہ دیگر ائمہ نقد کے حوالوں سے پیش نہ کردیں ، تب تک یہ روایت جرح کی زَد سے باہر نہیں نکل سکتی ، اور جب تک یہ روایت جرح کی زَد سے نہیں نکل سکتی تب تک یہ صحیح بھی نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے آں جناب پہلے اس روایت کوجرح کی زد سے نکالیں اور اس پر کی گئی جرح کا ازالہ پیش کریں ، ورنہ یہ روایت صحیح ثابت نہیں ہوسکے گی ، بلکہ ضعیف ہی رہے گی ، اور ضعیف روایت کو صحیح ثابت کرنے سے پہلے ہی بطور ِ دلیل پیش کرنا ، بلکہ اس پر کی گئی جرح ہی کے جواب میں پیش کر دینا انتہائی نامعقول بات ہونے کے ساتھ ساتھ حد درجہ مضحکہ خیز بھی ہے ۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ۳۳)
جرح کے جواب سے بے بسی ……سر پیٹ لیں یا کسی دیوار سے ٹکرا جائیں
سنابلی صاحب لکھتے ہیں :
’’یزید والی حدیث پر ہم نے امام بخاری رحمہ اللہ کی جو جرح پیش کی ہے ،اس کا کوئی جواب زبیر علی زئی صاحب سے نہیں بن پڑا ۔ اس لئے اس کمی کو پورا کرنے کرنے کے لئے جناب نے یہ مضحکہ خیزی کی (کہ ) امام بخاری رحمہ اللہ کی دوسری جرحیں صحیح مسلم کی دو احادیث پر پیش کرکے اس کا جواب دیا ہے……[ مقالات(۶؍۳۹۶)]……کیا خوب دندان شکن جواب ہے ! سمجھ نہیں آتا کہ اس جواب پر ہم اپنا سر پیٹ لیں یا کسی دیوار سے ٹکرا جائیں! جناب کو امام بخاری رحمہ اللہ کی ایک جرح کا کوئی جواب سجھائی نہیں دیا تو ان کی دوسری جرح اُٹھا کر اس کا جواب لکھ مارا! سبحان اللہ ! ۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ ۳۳)
’’ لایعرف ‘‘ کے ذریعہ کی جانے والی بات قبول ہے ، اور نہیں بھی
سنابلی صاحب لکھتے ہیں :
’’امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’ لایعرف ‘‘ کے الفاظ میں ایک چیز کا انکار کیا ہے تو ٹھیک انہیں الفاظ میں امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے ابو قلابہ کی تدلیس کا انکار کیا ہے ۔اور زبیر علی زئی صاحب امام ابو حاتم کے انہیں الفاظ سے حجت پکڑتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ حافظ ذہبی سے زیادہ بڑے امام اور متقدم محدث ابو حاتم الرازی نے ابو قلابہ کے بارے میں فرمایا ’’ ’’ لایعرف تدلیسه‘‘اور اُن کا تدلیس کرنا معروف (معلوم ) نہیں ہے ۔(کتاب الجرح والتعدیل :۵؍۵۸) [ دیکھیں :علمی مقالات ۳؍۴۹۶م۴۹۷۔ معروف کے بعد بریکٹ میں (معلوم ) زبیر علی زئی صاحب ہی کی طرف سے ہے ] غور کیا جائے کہ ’’ لایعرف ‘‘کے الفاظ سے ابو حاتم رحمہ اللہ نے ایک چیز کا انکارکیا تو نہ صرف یہ کہ اس سے حجت پکڑی جاری رہی ہے ، بلکہ اسے امام ذہبی رحمہ اللہ کے قول کے خلاف پیش کیا جار ہا ہے۔ اور یہاں تو امام بخاری رحمہ اللہ کے ’’ لایعرف ‘‘ کے خلاف کسی کا قول بھی موجود نہیں ، پھر بھی اسے ناقابلِ احتجاج بتلانا چہ معنی دارد ؟۔ ‘‘
(حاشیہ حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ۳۴)
ہر معلول ضعیف نہیں ہوتی
شیخ زبیر علی زئی نے اپنے طور پر ایک روایت کو صحیح قرار دیا ،جب کہ اس پر معلول ہونے کی جرح ہے ۔ اَب اس جرح سے جان چھڑانے کے لئے انہوں نے کیا جواب دیا !؟ ذرا پڑھیے !وہ لکھتے ہیں:
’’ بطور فائدہ عرض ہے کہ ہر معلول روایت ضعیف نہیں ہوتی ہے ،بلکہ علت کی دو قسمیں ہیں (۱) علت قادحہ ( یہ روایت ضعیف ہوتی ہے ) (۲)) علت غیر قادحہ ( یہ روایت
ضعیف نہیں ہوتی ہے ) ……‘‘
(مقالات: ۶؍۳۹۸)
سنابلی صاحب نے علی زئی صاحب کی مذکورہ عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :
’’عرض ہے کہ علت اور معلول میں فرق ہے ۔ علت کی دو قسمیں کی جاتی ہیں ، لیکن معلول کے بارے میں یہ کہنا کہ ہر معلول روایت ضعیف نہیں ہوتی ہے ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اہلِ بدعت کہتے ہیں : (۱) بدعت حسنہ (یہ جائز و مستحب ہے ) (۲) بدعت سیئہ (یہ ناجائز و حرام ہے ) حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ ہر بدعت گمراہی و مردود ہوتی ہے ۔ ٹھیک اسی طرح ہر معلول حدیث ضعیف و مردود ہوتی ہے ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ کے بقول کسی حدیث کو معلول کہنا اور پھر اسے صحیح بھی کہنا ایک ہی وقت میں دن اور رات دونوں کا دعوی کرنا ہے ، جیسا کہ آگے ہم ان کے الفاظ نقل کر رہے ہیں۔ ہمارے علم کی حد تک محدثین میں سے جس نے بھی معلول کی تعریف کی ہے ، سب نے اس کی تعریف میں یہی کہا ہے کہ یہ غیر صحیح ہوتی ہے ،مثلا……۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ۴۲)
بہت بڑا عجوبہ !
سنابلی صاحب آگے لکھتے ہیں :
’’غور فرمائیں ! امام ابن الصلاح رحمہ اللہ نے معلول حدیث کی تعریف میں ’’ اطلع فیه علی علة تقدح فی صحته ‘‘ ( جس کے اندر موجود کسی ایسی علت پر آگاہی حاصل ہو جائے جو صحت حدیث کے لئے قادح ہو ) کہا ہے ۔ یعنی معلول حدیث کہتے ہی اسی حدیث کو ہیں جس کے اندر علت قادحہ موجود ہو جو صحت حدیث کے لئے مانع ہو ۔ یعنی ہر معلول حدیث ضعیف و مردود ہی ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ کہنا کہ ’’ ہر معلول روایت ضعیف نہیں ہوتی ہے ۔ ‘‘ بہت بڑا عجوبہ ہے اور زبیر علی زئی صاحب کے لہجے میں یہ ’’ صریح جھوٹ ‘‘ ہے ۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ۴۳)
کسی حدیث کومعلول مان کر صحیح کہنا رات کو دن کہنے کے مترادف ہے
اوپر مذکور ہوا کہ شیخ زبیر علی زئی نے کہا کہ معلول کی دو قسمیں ہیں ایک معلول ضعیف اور دوسری معلول
صحیح ۔لہذا ہر معلول ضعیف نہیں ہوتی ۔ سنابلی صاحب نے اس پر جو تبصرہ کیا ، اس کا کچھ حصہ گزر چکا ، مزید وہ لکھتے ہیں :
’’غرض یہ کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے حولے سے ہم نے جس معلول کی بات کی ہے ، وہ اصطلاحی طور پرمعلول ہے ۔ اور اصطلاحی طور پر ہر معلول روایت ضعیف ہی ہوتی ہے ۔ اس پر معلول کا اطلاق ہی اس وقت ہوتا ہے جب اس کے اندر علت قادحہ ہو ۔ اَب اگر زبیر علی زئی صاحب اصطلاحی معنی میں ابھی معلول کی دو قسمیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر معلول روایت ضعیف نہیں ہوتی ہے ( یعنی بعض معلول روایت صحیح بھی ہوتی ہے ) تو موصوف ایک ہی وقت میں دن اور رات دونوں کے وجود کادعوی کرتے ہیں کیوں کہ کسی روایت کو اصطلاحی طور پر معلول کہنا اور اسے صحیح بھی قرار دینا اجتماع ضدین ہے ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ……رہا ایک ساتھ اس طرح کہنا کہ ’’ یہ حدیث صحیح شاذ ہے ‘‘ یا ’’ یہ حدیث صحیح معلول ہے ‘‘ تو یہ دونوں باتیں ایک ساتھ اکٹھا نہیں ہو سکتیں ، دونوں متضاد چیزیں ایک ساتھ قطعاً جمع نہیں ہو سکتیں۔[ سلسلۃ الھدی والنور ،مفرغ کاملا (۹؍۹۴) ]علامہ البانی رحمہ اللہ کی اس زبر دست علمی وضاحت کے بعد کوئی احمق ہی ہوگا جو ایک ہی حدیث کو ’’ معلول ‘‘ بھی کہے اور اسے ’’ صحیح ‘‘ بھی قرار دے ۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ۴۷،۴۹)
اس عبارت میں لفظ ’’ احمق ‘‘ پہ بھی نگاہ رہے ۔
جرح کو اپنے خلاف پاکر آپے سے باہر
شیخ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:
’’ قارئین کرام! آپ نے دیکھ لیا کہ امام بخاری نے یزید والی حدیث کو ’’ موضوع ، و من گھڑت یا مردود ‘‘ ہرگز قرار نہیں دیا، لہذا سنابلی صاحب نے امام بخاری پر جھوٹ بولاہے ۔ ‘‘
(مقالات : ۶؍۳۹۸)
سنابلی صاحب نے علی زئی صاحب کی مذکورہ عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :
’’عرض ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالہ سے متعلق گذشتہ تفصیل کی روشنی میں یہ
بات اظہرمن الشمس ہو جاتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو معلول قرار دیا اور تاریخی اعتبار سے اسے حقائق کے خلاف یعنی باطل و من گھڑت ثابت کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی طرف اس موقف کی نسبت کو جھوٹ قرار دینا بذات ِ خود جھوٹ اور ہٹ دھرمی ہے ۔ دکتور بسام بن عبد اللہ الغانم العطاوی نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے ’’ الاحادیث التی اعلھا الامام البخاری متونھا بالتناقض ‘‘ ( وہ احادیث جنہیں ان کے متون کے متناقض ہونے کے سبب امام بخاری نے معلول قرار دیا ہے ) اس کتاب کی پانچویں قسم کومؤلف نے یہ عنوان دیا ہے : ’’ الاحادیث التی اعلھا البخاری بمناقصة متونھا الواقع ‘‘…… وہ احادیث جنہیں ان کے متون کے خلاف واقعہ ہونے کے سبب امام بخاری نے معلول قرار دیا ہے ۔ ‘‘[ الاحادیث التی اعلھا الامام البخاری متونھا بالتناقض(صفحہ ۶۷)] س عنوان کے تحت مؤلف نے سب سے پہلے اسی یزید والی حدیث ہی کو پیش کیا ہے ۔ اب کیا دکتور بسام نے بھی امام بخاری پر جھوٹ بولا ہے ۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ۴۹۔۵۰)
امام بخاری پر زبیر علی زئی صاحب کا رَد کیوں؟
سنابلی صاحب آگے مذکورہ بالا عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں :
’’غور طلب بات یہ ہے کہ اگر ناچیز نے امام بخاری رحمہ اللہ کی طرف غلط بات منسوب کرکے جھوٹ بولا تھا تو زبیر علی زئی صاحب نے امام بخاری رحمہ اللہ پر رَدکیوں کردیا ؟ ان کی بات کو بے دلیل کیوں کہہ ڈالا ؟ اگر امام بخاری رحمہ اللہ کے کلام کا وہ مقصود ہے ہی نہیں جو ہم بتلا رہے ہیں ، تو پھر آں جناب اس بات پر کیوں مجبور ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے موقف کی تغلیط کریں اور ان کی بات کو بے سند و بے دلیل قرار دیں ؟ اگر آپ کی نظر میں ناچیز نے امام بخاری رحمہ اللہ کا نام لے کر جھوٹ بولا تھا تو آپ کے لئے بس اتنا کافی تھا مجھے جھوٹا کہہ دیتے ؟ لیکن مجھے جھوٹا کہنے کے ساتھ ساتھ امام بخاری رحمہ اللہ کو غلط کیوں کہنے لگے ؟صاف ظاہر ہے کہ زبیر علی زئی صاحب کو بھی معلوم ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف ان کی پیش کردہ روایت کے مکذوب و من گھڑت ہونے پر زبر دست دلیل ہے ،اس لئے آں جناب ناچیز پر جھوٹ کی تہمت لگانے کے باوجود بھی اس بات پر مجبور ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی بات کو غلط قرار دیں!!! ۔ ‘‘
( حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ ۵۰)
(جاری)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں