مولانا خیر الامین قاسمی صاحب حفظہ اللہ
ترکِ تقلید کے نقصانات و مفاسد
"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"
جس طرح تقلید کے بہت زیادہ فایدے ہیں اسی طرح ترک تقلید کے نقصانات بھی بہت ہیں۔اس سے پہلے کہ ترک تقلیدکے نقصانات لکھوں ، حضرت الاستاد متکلم اسلام مولانا محمدالیاس گھمن صاحب حفظہ اللہ کاایک مختصر واقعہ لکھتاہوں جس سے پتہ چلتاہے کہ تقلید دین میں کتنا ضروری ہے اور ترک تقلید میں کتنے نقصانات ہیں۔
حضرت استاد محترم متکلم اسلام مولانا محمدالیاس گھمن صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک شیخوپورہ بیان کے لیے گیا تو بیان کے بعدوہاں کے میزبان نے ایک بچے کو مجھ سے ملوایا اور کہا کہ حضرت اس بچے نے مناظرہ کیاہے میں نے کہا کس کے ساتھ تو انہوں نے کہا کہ اپنے ممانی کے ساتھ۔میں نے ازراہ مزاح کہاکہ پھرتویہ مناظرہ کم اور مناظری زیادہ ہوا کیونکہ ایک طرف نابالغ بچہ اور دوسری طرف ممانی ہے ۔۔خیر اس بچے سے میں نے پوچھا کہ کس موضوع پہ مناظرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ " مسئلہ تقلید پر" جب میری ممانی ماموں کے گھر آئی تو انہوں نے ہرآیے دن مسائل پہ بحث شروع کی کھبی رفع یدین پہ ، کھبی آمین بالجہر پہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔خیر میں نے ممانی سے کہا کہ یہ بتاو ۔۔تقلید کرناایمان ہے یا شرک ؟ اگر ایمان ہے تو آپ کانظریہ ختم کیونکہ آپ کامذھب میں تقلید کوشرک کہاجاتاہے اور اگر آپ کہتے ہیں کہ شرک ہے تو پھر آپ کی نکاح ختم ۔۔کیونکہ میرا ماموں مقلد ہے ۔۔تو یا مذھب سے ہاتھ دھوگے یا میرے ماموں سے۔۔اس کے بعد اس نے کہا کہ چھوڑو ایسی باتوں کو تم بھی ٹھیک ہو اور ہم بھی ٹھیک ہیں۔
(فائل مسئلہ تقلید3)
خیر میرا مقصد یہی ہے کہ ترک تقلید کے بہت سے نقصانات ہے اس پر تفصیل کے ساتھ حجۃ اللہ فی الارض مولانا محمدامین صفدراوکاڑوی نوراللہ مرقدہ نے تجلیات صفدر جلد سوم میں لکھاہے میں کچھ تغیر واختصار کے ساتھ حضرت کے افادات لکھتاہوں۔
1)...ترک تقلید سے امت کااتحاد پارہ پارہ ہوتاہے، اختلافات کے سوتے پھوٹتے اور افتراق کے چشمے ابلتے ہیں ،
ترک تقلید انتشار وخلفشار ،اختلاف وافتراق ، اور باہمی توتکار پیدا کرنے کاسب اے بڑا سبب اور باعث ہے۔ترک تقلید کے اصول ہی اس بات کے متقاضی ہیں کہ غیر مقلدوں میں اتفاق واتحاد باقی نہ رہے، جب آدمی غیرمقلد ہوجاتاہے تو پھروہ شتربے مہار بن کر ہروقت ہرکھیتی منہ مارنے کے لیے تیاررہتاہے۔
2)___ترک تقلید کفر وارتداد کاسبب بنتاہے ، غیر مقلدین کے بہت بڑے عالم اور وکیل اعظم مولانا محمدحسین بٹالوی اپنے رسالہ اشاعت السنۃ نمبر۴جلد۱۱مطبوعہ ۱۸۸۸ء میں کفروارتداد ،الحاد وزندقہ اور فسق وفجور کےاسباب ومحرکات اور علل وعوامل پر روشنی ڈالتے ہویے رقمطراز ہیں :
” پچیس برس کے تجربہ سے ہم کویہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جولوگ بے علمی کے ساتھ مجتہدمطلق ہونے کادعوی کرتے ہیں اور مطلق تقلید کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کو سلام کربیٹھتے ہیں۔ان میں بعض عیسائی ہوجاتے ہیں اور بعض لامذھب جوکسی دین ومذھب کے پابند نہیں رہتے اور احکام شریعت سے فسق وخروج تو اس آزادی کالازمی نتیجہ ہے۔ان فاسقوں میں بعض توکھلم کھلا جماعت نماز روزہ چھوڑ دیتے ہیں سود وشراب سے پرہیز نہیں کرتے اور بعض جو کسی مصلحت دنیاوی سے فسق ظاہری سے بچتے ہیں وہ فسق مخفی میں سرگرم رہتے ہیں۔“
اسی طرح مشہور غیرمقلد عالم مولانا عبدالواحد صاحب خانپوری لکھتے ہیں :
”پس اس زمانے کے جھوٹے اہل حدیث مبتدعین ،مخالفین سلف صالحین جو حقیقت میں ماجاء بہ الرسول ؐ سے جاہل ہیں۔وہ صفت میں وارث اور خلیفہ ہویے شیعہ وروافض کے، جس طرح شیعہ پہلے زمانوں میں باب دہلیز کفرونفاق کے تھے اور مدخل ملاحدة وزنادقہ کاتھے اس طرح یہ جاہل بدعتی اہل حدیث اس زمانہ میں باب اور دہلیز اور مدخل ہیں ملاحدہ اور زنادقہ منافقین کے بعینہ مثل اہل تشیع کے۔“
(کتاب التوحید والسنۃ فی رد اہل الحاد والبدعۃ ص ۲۶۲)
3)__ترک تقلید کے بطن سے نیچریت پیدا ہوئی۔مشہور محقق ومورخ شیخ محمداکرام اپنی مشہور تحقیقی وتاریخی کتاب "موج کوثر" میں لکھتے ہیں :
” سرسید احمدخان ۱۸۵۵ء میں ایک خط میں اپنی وفات سے تین سال قبل لکھتے ہیں کہ " میں نے
وہابیوں کے تین قسمیں قرار دی ہیں۔ایک وہابی ، دوسرے وہابی کریلا اور تیسرے وہابی کریلا نیم چڑھا۔میں اپنے تییں تیسری قسم قراردیتاہوں۔“
کچھ سطروں کے بعد لکھتے ہیں :
” جناب مولوی سیدنذیرحسین دہلوی کو میں نے ہی نیم چڑھا وہابی بنایا ہے۔وہ نماز میں رفع یدین نہیں کرتے تھے مگراس کوسنت ہدی جانتے تھے میں نے عرض کیا کہ نہایت افسوس ہے کہ جس بات کو آپ نیک جانتے ہیں لوگوں کے خیال سے نہیں کرتے۔جناب ممدوح میرے پاس تشریف لائے تھے جب یہ گفتگو ہوئی میں نے سنا کہ میرے پاس سے اٹھ کر جامع مسجد میں عصر کی نمازپڑھنے لگے اور اس وقت رفع یدین کرنے لگے ۔“
(موج کوثر 51)
4)...فتنہ انکار حدیث :ترک تقلیدکے بت کے بجاری اور صنم خانہ غیرمقلدیت کے برہمن نشہ انانیت میں مست ومخمور ہوکرپہلے فقہ پر نکتہ چینی کرتے، اس کی براییاں بیان کرتے اور اس سے اعراض انکار کرتے ہیں۔جب وہ فقہ کی بندش سے آزاد ہوجاتے ہیں توپھر وہ مزید آزاد ہوناچاہتے ہیں ،ان کی طبیعتیں اتنی آزادی اور آوارگی پر قانع نہیں ہوتی ،فقہ کی بندش سے آزادی آہستہ آہستہ ان کو انکارحدیث کے مرحلہ تک پہنچادیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فتنہ انکارحدیث کابانی اور موسس بھی ابتداء غیرمقلدتھا اور اس کے اعوان وانصار بھی غیرمقلدتھے۔پھر آج تک اس فتنہ کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے اور اس کے پھیلانے میں ایڑی چوٹی کازور لگانے والے اور اس بارے میں تحرءر وتقریر کے زریعے سرگرمی دکھانیوالے وہ حضرات ہیں جو شروع میں غیرمقلدتھے۔ غیر مقلدیت کانشہ جب ان کے رگ وپے میں سرایت کرگیا جب اسکے نشہ کی تیزی نے ان کے دل ودماغ پرپوری طرح تسلط جمالیا تووہ آخراسلام کو سلام کربیٹھے اور اپنی زندگی کی ساری تواناییاں فتنہ انکارحدیث کی آبیاری میں صرف کردیں۔غیرمقلدین کے شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں :
” امام اہل قرآن عبداللہ چکڑالوی نے نفسیات کے اس مسئلہ پراچھی طرح غور کرالیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ جماعت کے عقائد دیر میں اور بتدریج بدلتے ہیں اس لیے جب انہوں نے دیکھا کہ اب لوگ فقہ کی بندش سے تقریبا آزاد ہوگئے توانہوں نے حدیث پرنکتہ چینی شروع کردی اور جب کچھ دنوں میں یہ مرحلہ بھی طے ہوجایے گا تووہ جمع وتدوین قرآن میں رخنے نکالنے شروع کردیں گے اور جب لوگوں کواس عیاری کاپتہ چلے گا اور عوام اور نیے تعلیم یافتہ طبقہ کے دل ودماغ کواتنامسموم کرچکے ہونگے کہ اس کاتدارک کسی سے نہ ہوسکے گا۔“
چندسطروں کے بعدلکھتے ہیں :
” اہل قرآن کسی خاص جماعت کانام ہوایسانہیں بلکہ ان کاہرشخص خودامام اور مجتہد ہے اس کوکسی کی تقلید کی ضرورت نہیں کیونکہ تقلید نام ہے پابندی کا اور اس پابندی سے بھاگنے کے لیے تویہ سارا کھیل کھیلا گیا ہے۔اس لیے یہ لوگ ایک دوسرے کی بالکل نہیں سنتے ۔ہرشخص قرآن مجید کوجس طرح سمجھتاہے اسی طرح پر اس پرعمل پیرا ہونے کادعوی کرتے ہیں۔“
(فتاوی ثنائیہ ۱/۲۸۰)
ناظرین کرام ! خط کشیدہ الفاظ کا بغور مطالعہ فرمائیں اور ازراہ انصاف بتلائیں کیا منکرین حدیث کے یہ افکار ونظریات اور خیالات وحالات ہوبہو غیرمقلدین میں نہیں پائے جاتے؟ کیا غیرمقلدین کی کی تقلید کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ؟کیا ان میں سے ہرشخص اجتہاد کادعویدار نہیں ؟ کیا غیرمقلدین تقلید کی پابندی سے بھاگتے نہیں ؟ خدا بھلاکرے مولانا ثناء اللہ امرتسری کا کہ انہوں نے نہایت دیانت داری اور خوبصورتی سے اپنے فرقے کی نہایت واضح تصویر کھینچ کررکھدی ہےاس تصویر میں غیرمقلدیت کے چہرے کے تمام خدوخال ،نقوش اور امتیازات واختصاصات پوری طرح نمایاں ہیں۔
مشہور محقق مورخ شیخ محمداکرام صاحب رقم طراز ہیں :-
”اہل حدیث جماعت کے جوش وخروش کادوسرا نتیجہ طبقہ اہل قرآن کاآغاز ہے، اہلحدیث اپنے آپ کو غیرمقلدکہتے ہیں ۔وہ فقہی آیمہ مثلا امام ابوحنیفة کی تقلیدسے آزاد ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ کیی طبیعتوں کوجوزیادہ آزاد خیال تھیں۔فقط فقہاء کی تقلدست آزادی کافی معلوم نہ ہویی اور انہوں نے مختلف اسباب کی بناپر احادیث سے بھی آزادی حاصل کرنا چاہی اس گروہ کاایک مرکز پنجاب میں ہے،جہاں لوگ انہیں چکڑالوی کہتے ہیں۔اور یہ اپنے آپ کواہل القرآن کالقب دیتے ہیں اس گروہ کابانی مولوی عبداللہ چکڑالوی پہلے اہل حدیث غیرمقلدتھا۔“
(موج کوثر صفحہ ۵۲)
5)....فتنہ مرزائیت : بانی فتنہ قادیانیت مرزا غلام احمدقادیانی بھی ابتداء غیرمقلدتھا ۔مرزا صاحب کاسوانح نگار "مجدداعظم " کا مولف ڈاکٹر بشارت احمدقادیانی لکھتاہے :
” مرزا صاحب امام کے پیچھے فاتحہ پڑھتے تھے اور سینے پرہاتھ رکھ کر باندھاکرتے تھے لیکن امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے والوں کو مردود کھبی نہیں قرار دیا۔“
(مجدداعظم ۲/۱۳۳۳)
نیز لکھتاہے :
” مولوی محمدحسین بٹالوی نیے نیے پڑھ کر اور مولوی بن کر جو بٹالہ آئے توچونکہ یہ اہل حدیث تھے اس لیے حنفیوں کوان کے خیالات بہت گراں گزرے ۔بعض اختلافی مسائل میں بحث کرنے کے لیے حنفیوں نے حضرت اقدس مرزا صاحب کی طرف رجوع کیا اور ایک نمائندہ حضرت اقدس کو قادیان سے بٹالہ لے آیا، شام کو مولوی محمدحسین بٹالوی اور ان کے والدمسجد میں تھے ، جوحضرت اقدس وہاں پہنچ گئے ، بحث شروع ہوئی مولوی محمدحسین بٹالوی صاحب نے تقریرکی۔حضرت اقدس نے تقریر سن کر فرمایا کہ اس میں تو کوئی بات ایسی نہیں جوقابل اعتراض ہو، تو میں تردید کس بات کی کروں۔ان لوگوں کو جو آپ لائے تھے بہت مایوسی ہوئی۔اور وہ آپ سے بہت ناراض ہوئے لیکن آپ نے محض اللہ کے لیے اس بحث کو ترک کردیا۔کیونکہ محض دھڑے بندی کے لیے آپ حق بات کی تردید نہیں کرسکتے تھے۔“
(مجدداعظم ۲/۱۳۴۳)
ناظرین کرام ! ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ مرزا صاحب نے بٹالوی صاحب کے نظریات وخیالات کی کس طرح تائید وتصویب کی ہے۔مرزا قادیانی کامرید خاص اور دست راست حکیم نورالدین بھی پہلے غیرمقلد تھے۔تاریخ احمدیت میں مذکور ہے
” حرمین سے واپسی پر نورالدین نے وہابیت اختیارکی اور ترک تقلید پر وعظ کیے اور عدم جواز تقلید پر کتابیں تصنیف کیں۔بھیرہ میں ہیجان عظیم بپاہوگیا۔حضرت مولانا غلام نبی صاحب للوی ، مولانا غلام رسول صاحب چاوی مولانا غلام مصطفی بریلوی اور مولانا عبدالعزیز صاحب بگوی کے دستخطوں سے ایک فتوی غیرمقلدین کے خلاف شایع ہوا اور محلہ پیراچگاں بھیرہ میں فیصلہ کن مناظرہ کے بعد غیرمقلدین کا بھیرہ میں ناطقہ بندہوگیا ۔“
(تاریخ احمدیت ۴صفحہ ۶۹تا صفحہ ۷۰)
نیز لکھتے ہیں :
”حکیم نورالدین صاحب امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھاکرتے اور رفع یدین کیاکرتے تھے۔“
(تاریخ احمدیت ۴/۶)
6)...رفض کی نیے ایڈیشن غیرمقلدیت ہیں۔اکثر مسائل اور خیالات ونظریات میں یہ دونوں فرقت ہم آہنگ وہم رنگ ہیں۔اہل سنت کا کوئی گروہ قیاس کامنکر نہیں لیکن شیعہ قیاس کے منکرہیں۔اور اس کوحرام قرار دیتے ہیں۔غیرمقلدین بھی شیعہ کے نقش قدم پر چلتے ہویے قیاس کو حرام اور شرک قرار دیتے ہیں ۔روافض تقلید کے منکرہیں۔غیرمقلدین بھی ان کے ہم نوا ہیں۔روافض تین طلاق کوایک قراردیتے ہیں غیرمقلدین بھی ان کے ہم صدا ہیں۔راوفض تراویح کاانکارکرتے ہیں غیرمقلدین بھی تراویح کے منکر ہیں۔شیعہ بلاعذر جمع بین الصلوتین کے قائل ہیں غیرمقلدین بھی بڑی سختی سے اس پرکاربند ہیں۔روافض الحاد وارتداد اور دہریت کاباب اور مدخل تھے غیرمقلدین بھی الحاد دہریت اور ارتداد کا دروازہ اور مدخل ومخرج ہیں۔
منهم تخرج الفتنة وفیهم تعود
نوٹ: کچھ اختصار وتغیرکے ساتھ مضمون تجلیات صفدر جلد سوم سے لیاگیاہے مزید تفصیل اور تحقیق کے لیے تجلیات کی طرف رجوع کریں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں