﷽
آمین بالجہر نور حسین گرجاکھی پر
ایک نظر
تالیف : ابوالجراح الحنفی
ادارہ : النعمان سوشل میڈیا سروسز
مقدمہ
الحمد للہ الذی أرسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کلّه ولو کره المشرکون، والصلاة والسلام علی سیدنا محمد، الصادق الأمین، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد :
" اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو رشد و ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس دین کی تبلیغ و حفاظت کا ذریعہ بنایا۔ محدثینِ عظام نے اپنی زندگیوں کو اس دین کے تحفظ کے لیے وقف کیا اور حدیثِ رسول کو پرکھنے کے اصول مرتب کیے تاکہ امت پر جھوٹ اور افتراء کی حقیقت عیاں ہو۔ لیکن آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنی مسلکی عناد اور ہٹ دھرمی کے سبب نہ صرف علماء و فقہاء بلکہ صحابہ کرام اور یہاں تک کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو بھی اپنی من گھڑت باتوں کا نشانہ بنا لیا ہے۔ پہلے دین کی خدمت کرنے والے مجتہدین و محدثین پر الزام تراشی کی گئی، پھر صحابہ کرام جیسے مقدس اور پاکیزہ شخصیات پر جھوٹ باندھنے کا سلسلہ شروع ہوا، اور آج افسوسناک حد تک یہ معاملہ بڑھ کر ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچا ہے۔ اس سے بڑھ کر دین کے ساتھ بے ادبی اور خیانت کا تصور ممکن نہیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم و تحقیق کی دنیا میں قیامت برپا ہو چکی ہو، جہاں حقائق کو دفن کر کے جھوٹ، افتراء اور تحریف کو بنیاد بنایا جا رہا ہے ۔ میرے ہاتھوں میں اس وقت غیرمقلدین کے ایک خودساختہ مجتہد مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب کا ایک رسالہ موجود ہے۔ اس رسالے میں انہوں نے جو گل کھلائے ہیں اور تحریفات و تکذیبات کا جو طومار باندھا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے گرجاکھی صاحب نے حقائق کو مسخ کرنے اور خیانت کو تحقیق کا لبادہ پہنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو۔ یہ رسالہ جھوٹ، تحریف، اور افتراء کی ایسی دستاویز ہے کہ عقلِ سلیم اس پر ماتم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ گرجاکھی صاحب کی یہ کتاب ایک علمی تحقیق کے بجائے جہالت کا مرقع، تعصب کا شاہکار اور افتراء کی دستاویز معلوم ہوتی ہے۔ اس کتاب میں نہ حدیث کی پرکھ کا اصول اپنایا گیا ہے اور نہ ہی دیانت داری کے بنیادی تقاضوں کا لحاظ کیا گیا ہے۔ گرجاکھی صاحب نے جھوٹ گھڑنے میں ایسی مہارت دکھائی کہ شاید ان کا قلم بھی ان پر ہنس رہا ہو۔ محترم گرجاکھی صاحب کا انداز یہ ہے کہ اپنی خواہشات کو دلائل کا لبادہ پہنا کر عوام کے سامنے پیش کریں۔ جھوٹ گھڑنا، موضوع روایات کو "سند صحیح" کا درجہ دینا اور صحابہ کرام پر بہتان تراشی کرنا ان کا محبوب مشغلہ معلوم ہوتا ہے۔ گرجاکھی صاحب نے اپنے اس مختصر رسالے میں علماء، فقہاء، مجتہدین، اور محدثینِ کرام پر صریح جھوٹ باندھنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے فرقے کے من گھڑت اصولوں پر عمل کرتے ہوئے صحابہ کرام جیسی مقدس ہستیوں پر بھی بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ اس سے بھی بڑھ کر، گرجاکھی صاحب نے اپنی تحریر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی جس جسارت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ایمان اور دیانت داری کے تمام تقاضوں کو پامال کر دینے والی حرکت ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے لیے حق اور سچائی کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی، اور جھوٹ ان کے قلم کا معمول بن چکا ہے۔
گرجاکھی صاحب کے افتراء کے بارے میں کیا خوب کہا گیا ہے
"کذبوا علی المصطفیٰ والصحب مِنْ جهل،
وأضلّوا الناس فی الدین بالزورِ
ترجمہ: انہوں نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر جھوٹ باندھا، اور جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو دین میں گمراہ کیا۔
گرجاکھی صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے "دلائل" کو پڑھ کر گویا جھوٹ بھی حیران ہے کہ اسے اس بے دردی سے کیوں گھسیٹا جا رہا ہے۔ ان کی "تحقیق" کے سامنے حقائق اس طرح سہمے کھڑے ہیں جیسے ظلم کے سامنے مظلوم۔
شیخ سعدی نے کیا خوب کہا۔
"در دروغے راہ صدق افتادہای،
کارِ تو از کارِ خود بگسستہای۔"
(ترجمہ: تم جھوٹ کے راستے پر چل کر سچائی کو تباہ کر رہے ہو، تمہارا کام خود تمہارے قابو سے باہر ہو چکا ہے۔)
یہ مقدمہ اس رسالہ میں کیے گئے جھوٹ، افتراء، اور علمی خیانت کے رد میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ حق واضح ہو اور باطل کا پردہ چاک کیا جا سکے۔ اہلِ حق کے سامنے یہ ذمہ داری ہے کہ جھوٹے دعووں کو بے نقاب کریں اور دین کے سچے علم کو محفوظ رکھیں۔
"الحقُّ أبلجُ والباطلُ لجلجُ،
والکذبُ لیس له حَیَاةٌ تُذکَرُ"
(ترجمہ: حق واضح ہے اور باطل ہمیشہ لڑکھڑاتا ہے، جھوٹ کی کوئی پائیدار زندگی نہیں ہوتی۔)
یہ مقدمہ محض ایک آغاز ہے، باقی صفحات میں ان کے ہر جھوٹ اور ہر افتراء کو حقائق کی روشنی میں بے نقاب کیا جائے گا ان شاہ اللہ ۔ اس رسالے کا مقصد جھوٹ اور تحریف کو بے نقاب کرنا ہے، تاکہ مسلمان اصل حقیقت کو سمجھ سکیں اور گمراہی سے بچ سکیں۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ ہمیں سچائی کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔
إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيدُ ۔ بے شک اللہ جو چاہے حکم دیتا ہے۔
أبو الجراح الحنفي
21دسمبر 2024
والسلام علی من اتبع الهدی
﷽
ابتدائیہ
یہ رسالہ غیرمقلد مولوی نور حسین گرجاکھی کے رسالہ "آمین بالجہر" میں موجود جھوٹوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ غیرمقلدین نے اپنے باطل نظریات کی ترویج کے لیے جھوٹ، تحریف، اور غلط بیانی کو اپنا ہتھیار بنایا ہے۔ یہ جھوٹ صرف فقہاء یا علماء پر نہیں، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، محدثین عظام، اور حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر بھی باندھے گئے ہیں۔
ہمارا مقصد ان جھوٹوں کو دلائل کے انبار سے دبانا نہیں، بلکہ انہیں ان کے اصل چہرے کے ساتھ بے نقاب کرنا ہے، تاکہ ہر انصاف پسند قاری دیکھ سکے کہ یہ فرقہ اپنی ترویج کے لیے کن مکروہ حربوں کا سہارا لے رہا ہے۔ اس تحریر میں کسی فقہی اختلاف کو زیرِ بحث لانے یا دلائل کا انبار لگانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہاں صرف اور صرف ان کے وہ جھوٹ پیش کیے جائیں گے، جو انہوں نے قرآن و حدیث کا غلاف چڑھا کر پیش کئے، تاکہ لوگ ان کے دجل و فریب کا شکار نہ ہوں۔
یہ تحریر ان کے جھوٹوں کا آئینہ ہے، جو ان کے کردار کو نمایاں کرے گا۔ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ان کے الزامات کا جواب دینے کے بجائے ان کی بے بنیاد باتوں کو ان کے اصل انداز میں پیش کریں، تاکہ قاری خود فیصلہ کرے کہ حق کہاں ہے اور باطل کہاں۔
رسالے کی ترتیب :
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ
ان جھوٹوں کا ذکر کیا جائے گا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے نام پر گھڑے۔ ان کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ان کے خود ساختہ نظریات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
2۔ صحابہ کرام پر الزامات
غیرمقلدین نے اپنی گمراہی کو جواز دینے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جھوٹے الزامات لگائے، ان کی عزتوں کو پامال کیا، اور ان کے اعمال کو اپنی غلط تاویلات کا نشانہ بنایا۔
3۔ محدثین و علماء کرام پر تحریف
محدثین و مجتہدین کے اقوال و افعال کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، تاکہ اپنے فرقے کو مضبوط کیا جا سکے۔ اس میں ان کی علمی خیانت اور حقائق کو چھپانے کی کوشش واضح طور پر سامنے آئے گی۔
نوٹ :
یہ رسالہ اس وقت صرف مولوی نور حسین گرجاکھی کے جھوٹوں پر مرکوز ہے۔ البتہ ہمارا ارادہ ہے کہ آئندہ غیرمقلدین کے دیگر علماء کے جھوٹ اور تحریفات کو بھی جمع کر کے ایک جامع دستاویز تیار کی جائے، تاکہ ان کا مکروہ چہرہ امت کے سامنے مکمل طور پر عیاں ہو سکے۔
غیرمقلدین کے پیشوا مولوی نور حسین گرجاکھی اپنے رسالہ "آمین بالجہر" میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ کے بعد بلند آواز سے آمین کہتے اور مقتدیوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیتے تھے (ص 4)۔
یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور حقیقت کے خلاف ہے۔ اگر تمام غیرمقلدین اورتمام کتبِ احادیث کو جمع کر لیا جائے، تو کوئی ایک دلیل بھی ایسی نہیں ملے گی جو یہ ثابت کر سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدیوں کو بلند آواز سے آمین کہنے کا حکم دیا ہو۔
یہ الزام گرجاکھی صاحب کی علمی خیانت کا ثبوت اور امت کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ایسے لوگ دینی اصطلاحات کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹ کا تانا بانا بنتے ہیں، اور ان کی یہ جسارت اس بات کی علامت ہے کہ ان کے دل سے خوفِ خدا نکل چکا ہے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جو اپنی مرضی کے نظریات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے سچائی کو مسخ کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔
موصوف کی فریب کاری و بےباکی کی انتہا دیکھیں کہ اپنے رسالہ "آمین بالجہر" کے اسی (ص 4) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ہی سانس میں دو جھوٹ باندھ دیئے۔
1۔ لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بھی عند الرکوع رفع الیدین کرنے کا حکم دیا۔ یہ دعویٰ غیرمقلدی ذہنیت کی بہترین عکاسی ہے، جہاں جھوٹ کو دین کا لبادہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر غیرمقلدین تمام کتب احادیث جمع کر لیں، تب بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کی جا سکتی جو ان کے اس دعوے کو ثابت کرے۔
2۔ حدیث "صلوا كما رأيتموني أصلي" کا یہ مطلب بیان کرنا کہ "تم بھی میری طرح رفع الیدین کرکے نماز پڑھا کرو" کھلی جہالت اور تحریف ہے۔ یہ حدیث نماز کے پورے طریقے پر دلالت کرتی ہے، نہ کہ صرف رفع الیدین پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سنت کو اپنانا مطلوب ہے، مگر اسے اپنے فرقہ وارانہ نظریات کے لیے مخصوص کرنا علمی خیانت اور دین کے ساتھ مذاق ہے۔
یہ جھوٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر باندھ کر اپنی فرقے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش ہے، جو درحقیقت ان کی علمی خیانت اور بے حیائی کی دلیل ہے۔ ایسے لوگوں کی جرأتِ اظہار دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے دل خوفِ آخرت سے خالی ہیں۔
مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب اپنے رسالہ "آمین بالجہر" میں ایک اور عنوان کے تحت لکھتے ہیں: "آمین اور اس کا معنیٰ" اور اپنے قلم کی سیاہی سے ایک اور جھوٹ کا دروازہ کھولتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ "رسول خدا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ مکمل کرنے کے بعد بلند آواز سے آمین کہا کرتے تھے، اور صحابہ کرام کو بھی یہی حکم دیتے تھے" (ص 7)۔
یہ دعویٰ سراسر جھوٹ اور افتراء ہے۔ ایسی نہ کوئی صحیح حدیث موجود ہے، نہ کوئی قابلِ اعتماد روایت جو اس بات کو ثابت کرے۔ تاریخِ اسلام میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بلند آواز سے آمین کہنے کا حکم دیا ہو۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جو سچ کو چھپاتے ہیں اور جھوٹ کے پردے میں دین کو رنگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ غیرمقلدین ہمیشہ اپنی بگڑی ہوئی حقیقتوں کو دین کا لباس پہنانے کی سعی کرتے ہیں۔ ان کی یہ بے بنیاد دعوے صرف ایک گمراہی ہی ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور ان کے ایمان کو متزلزل کرنا ہے۔
موصوف مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب اپنے رسالہ "آمین بالجہر" کے صفحہ 8 پر ایک عنوان دیتے ہیں: "باب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا آمین بالجہر پر ہمیشگی کرنا" اور اس کے تحت چند روایات ذکر کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان روایات میں وہ قطیعت اور ثبوت نہیں پایا جاتا جس سے یہ دعویٰ ثابت ہو سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ آمین بالجہر کیا کرتے تھے۔
یعنی، اگرچہ ان روایات کو ذکر کیا گیا ہے جن میں مطلقاً آمین کا ذکر ہے، مگر ان میں کوئی ایسی صحیح سند یا مستند دلیل نہیں پیش کی گئی جو اس دعوے کی حقیقت کو ثابت کر سکے۔ یہ دعویٰ محض بے بنیاد قیاس آرائی پر مبنی ہے اور اس کا کوئی مضبوط شواہد نہیں ہیں۔ اس طرح کے دعووں کے ذریعے دین کی حقیقت کو مسخ کیا جا رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو نہ صرف غلط ہے بلکہ گناہ عظیم ہے
غیرمقلد مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب نے اپنی کتاب میں ایک عنوان باندھا: یہود کا آمین بالجہر پر حسد کرنا۔اس کے تحت ایک روایت نقل کی
" عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما حسدتكم اليهود على شيء ما حسدتكم على آمين، فأكثروا من قول آمين.
اس کا ترجمہ مولوی صاحب نے یوں کیا ہے ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود نے اتنا حسد تم سے کسی بات میں نہیں کیا جتنا آمین پکار کر کہنے میں، سو تم بہت آمین کہو تاکہ اور زیادہ جلیں۔"
اب ذرا توقف کیجیے! کیا واقعی اس روایت کا اصل متن اور مفہوم یہی ہے جو مولوی صاحب نے بیان کیا ہے؟
یہاں صحابہ کرام کے کلام میں ایسے الفاظ شامل کر دیئے گئے جو متن میں موجود ہی نہیں خاص طور پر "پکار کر" اور "بلند آواز سے" آمین کہنے کا ذکر کہاں ہے؟ یہ مولوی صاحب کے تخیلات ہیں یا کسی اور متن سے ماخوذ؟ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ اس مفہوم کو اصل روایت سے ثابت کریں اور وہ الفاظ دکھائیں جن کی بنیاد پر یہ معنی اخذ کیا گیا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ حضرات دین کے نام پر جھوٹ کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔ حدیثِ نبوی ﷺ جیسی مقدس امانت میں اس درجے کی تحریف کر کے یہ نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ امت کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش بھی کر رہے ہیں۔ جھوٹ باندھنے کی یہ روش ان کی فکر و نظر میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ نہ انہیں اللہ کے غضب کا ڈر رہا اور نہ ہی دین کی حرمت کا پاس۔ آہ! وہ لوگ جو دین کی حفاظت کے امین بنائے گئے تھے، آج خود دین کے اصل چہرے کو بگاڑنے میں مشغول ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
موصوف مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب اپنے رسالہ میں ایک اور روایت نقل کرتے ہیں
إِنَّ الْيَهُودَ يَحْسُدُونَكُمْ عَلَى السَّلَامِ وَالتَّأْمِينِ
اور اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہودی تم سے سلام اور آمین بالجہر کا تم سے حسد کرتے ہیں۔"
یہاں پر جیسے ہمیشہ کی روش ہے، دجل و فریب، عیاری و مکاری کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس روایت کے ترجمے کو اپنی خواہشات کے مطابق تحریف کر دیا گیا، تاکہ امت مسلمہ کو یہودی بنانے کا چسکا پورا کیا جا سکے۔ یہ روایت جو کہ ایک واضح اور سادہ سی حقیقت بیان کرتی ہے، اسے بگاڑ کر "آمین بالجہر" کا لفظ تھوپا گیا ہے تاکہ مقصد پورا ہو سکے، اللہ اکبر۔ پوری دنیائے غیرمقلدیت کو چیلنج کیا جاتا ہے کہ وہ اس روایت میں "آمین بالجہر" کے لفظ کو دکھا کر سرخرو ہوں۔ ورنہ ان کی من گھڑت تشریحات اور شیطانی اعمال میں کوئی حقیقت نہیں ہے، اور وہ اسی جال میں پھنسی رہیں گے۔ اللہ تعالی ہدایت دینے والا ہے، اور ان کے دلوں کو سچائی کی طرف مائل کرنے والا بھی۔
غیرمقلد مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب اپنے رسالہ میں ایک اور روایت نقل کرتے ہیں
عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، مَا حَسَدَتْكُمُ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ، مَا حَسَدَتْكُمْ عَلَى السَّلَامِ وَالتَّأْمِينِ
اور اس کا ترجمہ اسی غیرمقلدیت کی ذہنیت کے مطابق کچھ یوں کرتے ہیں
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہود نے مسلمانوں سے اتنا حسد کسی اور بات پر نہیں کیا جتنا سلام اور آمین بالجہر کی وجہ سے کرتے ہیں" (ص 24)
یہ روایت بھی تحریف کا شکار ہو گئی ہے۔ غیرمقلدین میں یہ عجیب سی روش کیوں چل نکلی ہے کہ ہر حال میں تحریف کی جائے؟ چاہے وہ لفظی تحریف ہو یا معنوی، دونوں صورتوں میں مقصد یہی ہوتا ہے کہ اصل روایت کو بگاڑ کر اپنی خواہشات کے مطابق پیش کیا جائے۔ یہاں بھی جو بات روایت میں نہیں ہے، اسے بنا کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ پر تھوپ دیا گیا ہے، اور یہ سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی ہدایت سے نوازے اور اس طرح کے افعال سے محفوظ رکھے، آمین۔
غیرمقلد مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب اپنے اس رسالہ میں ایک موضوع و من گھڑت روایت کی طرف رخ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "سیکون فی أمتی رجال یدعون الناس إلی أقوال إمامهم ورہبانهم ویعملون بها ویحسدون المسلمین علی التأمین خلف الإمام، ألا انهم یهود ھذہ الأمة
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو لوگوں کو اپنے علماء اور مشائخ کی تقلید کی طرف بلائیں گے، خود بھی انہی اقوال پر عمل کریں گے، اور مسلمانوں کو امام کے پیچھے آمین کہنے پر حسد کریں گے، جیسے یہودی تم سے آمین بالجہر پر حسد کرتے ہیں۔ خبردار! یہی ہیں اس امت کے یہودی، یہی ہیں اس امت کے یہودی، جو آمین بالجہر پر حسد کرتے ہیں اور جلتے ہیں
یہ روایت جو مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب پیش کرتے ہیں، موضوع اور من گھڑت ہے۔ دنیا کی کسی معتبر کتاب میں اس کی سند موجود نہیں۔ یہ خود ساختہ الفاظ ہیں، جنہیں دین کے پردے میں چھپا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جو طبقہ ہمیشہ اہل سنت والجماعت پر ضعیف اور موضوع روایات کا الزام لگاتا آیا، آج وہی طبقہ جھوٹ کی چادر اوڑھ کر مسلمانوں کو یہودی بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ اس روایت میں نہ تو "آمین بالجہر" کا ذکر ہے اور نہ ہی اس کی کوئی مستند سند۔ مگر یہ حضرات تحریف فی الحدیث کے ذریعے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے نام پر جھوٹ باندھنا، اور امت کے ایک بڑے حصے کو یہودی ثابت کرنے کا خواب دیکھنا، ان کے گمراہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیے نبی کریم ﷺ کے مبارک نام کو بھی آلودہ کر دیا؟
تحریف کا یہ حال ہے کہ یہودیوں کا طرزِ عمل اپناتے ہوئے آمین بالجہر جیسے الفاظ خود سے گھڑ لیے گئے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی زبان پر قرآن و حدیث کے نعرے ہیں، مگر ان کے دل میں حسد اور کینہ کا زہر بھرا ہوا ہے۔ افسوس، آج دین کے نام پر ایسی جعل سازی ہو رہی ہے
میرے چیلنج کا سامنا کریں! اگر آپ اس روایت کو سند سے ثابت کر سکتے ہیں تو پیش کیجیے۔ ورنہ اپنی صفوں میں ان فریب کاروں کو تلاش کیجیے جو خود مسلمانوں کو یہودی کہہ کر ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی سازش میں مصروف ہیں۔ یہودی انہی میں چھپے ہیں جو اس قسم کی تحریفات کو دین کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں ان فتنہ پردازوں سے محفوظ رکھے اور حق کی روشنی پر استقامت عطا فرمائے، آمین
مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب اپنے رسالے میں باب نمبر 6 "محققین علمائے احناف کی رائے" کے تحت لکھتے ہیں۔اصل حنفی آمین بالجہر کو ہرگز برا نہیں مانتے نہ ہی آمین سے جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں یہ تو بے شک یہودی کا حصہ ہے بلکہ تمام محققین مستند علماء احناف احادیث آمین بالجہر کو ترجیح دیتے ہیں اور آمین بالجہر کو سنت قرار دیتے ہیں۔( ص 26)
پہلی بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مولوی صاحب نے یہاں ایک صریح جھوٹ باندھا ہے کہ "تمام محققین علماء احناف آمین بالجہر کو سنت قرار دیتے ہیں۔" سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی یہ بات درست ہے اور آمین بالجہر کو سنت قرار دینے میں سب متفق ہیں تو پھر مولوی صاحب کس سے مخاطب ہیں؟ کس کے خلاف یہ الزامات لگا رہے ہیں اور ان کو "یہودی" قرار دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے دعوے کرنے کے باوجود مولوی صاحب نے اپنے باب میں صرف تین چار حوالے دیئے ہیں، جو یا تو تحریف شدہ ہیں یا پھر یہودیوں کی طرح عبارات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
اب آئیے، حضرت رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ سے متعلق مولوی صاحب کے دعوے کو دیکھیں، جہاں وہ لکھتے ہیں۔
حضرت رشید احمد گنگوہی آمین بالجہر کو سنت قرار دیتے ہیں ۔ بحوالہ سبیل الرشاد ص20
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی پوری عبارت میں کہیں بھی یہ جملہ موجود نہیں ہے کہ آمین بالجہر ہی سنت ہے۔ انہوں نے صرف آمین کہنے کو مطلقاً سنت قرار دیا ہے، اور مولوی صاحب نے اپنی طرف سے بالجہر کا اضافہ کر کے یہ ان پر تھوپ دیا ہے۔
مزید برآں، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے اپنی عبارت میں واضح طور پر ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمر بن الخطاب، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت ابن مسعود، اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم اخفاء (آہستہ آمین کہنا) کے قائل تھے۔
اب قارئین خود فیصلہ کریں کہ مولوی صاحب کا یہ دعویٰ کہ "تمام محققین علماء احناف آمین بالجہر کو سنت قرار دیتے ہیں"، کس حد تک درست ہے۔ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی اصل عبارت ملاحظہ کریں۔
آمین کے باب میں دونوں طرف حدیث صحیح موجود ہے۔ اس میں بھی دو فریق ہیں، ایک جہر کو اولی کہتے ہیں، دوسرے خفیہ کو اولی کہتے ہیں۔ اور اصل آمین کہنے کی سنت ہونے میں اتفاق ہے۔ اس میں وہی جواب ہے کہ آمین کی جہر و اخفا میں صحابہ علیہم الرضوان مختلف ہیں، اور روایات حدیث کے مختلف ہیں۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، ابی بن کعب رضوان اللہ عنہم اجمعین اخفا کی جانب ہیں۔ پس مجتہدین نے کسی ایک قول کو مرجح بنا کر اپنا معمول بنایا ہے اور اس جانب کو اولی قرار دیا ہے۔سبیل الرشاد ص 29۔
خلاصہ کے طور پر اس مقام پر مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب کے دعوؤں میں پائے جانے والے واضح جھوٹ کو ملاحظہ کریں۔
. "تمام محققین مستند علماء احناف آمین بالجہر کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ دعویٰ صریح جھوٹ ہے
. "آمین بالجہر کو سنت قرار دیتے ہیں ۔ یہ بھی نرا جھوٹ ہے
"حضرت گنگوہی ؒ آمین بالجہر کو سنت قرار دیتے ہیں
یہ ایک تحریفی دعویٰ ہے۔ حضرت رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے مطلقاً آمین کہنے کو سنت قرار دیا ہے، نہ کہ بالجہر کو۔ بلکہ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جلیل القدر ہستیوں کے اخفا کو بھی واضح طور پر بیان کیا ہے۔
ان جھوٹے دعووں سے واضح ہوتا ہے کہ عبارتوں کو تحریف اور جھوٹ کے ذریعے پیش کر کے کس طرح لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ طرز عمل یہودیوں کے اس رویے کی یاد دلاتا ہے جہاں اصل کلام کو چھپا کر اور اپنی مرضی کی تشریحات کر کے فیصلے اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا طرز عمل نہ علم کے ساتھ انصاف ہے، نہ امانت داری کے ساتھ۔
موصوف مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب اسی دعوے محقیقین علمائے احناف کی رائے آمین بالجہر کو ترجیح دیتی ہے اور اسے سنت قرار دیتی ہے کے تحت ایک اور حوالہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
علامہ ترکمانی متعصب حنفی فرماتے ہیں والصواب ان الخبر بالجهر بها والمخافة صحيحان۔ آمین بالجہر کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔ (جوہر النقی ص 58)
مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب کی عبارت پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ حقائق کو دبانے اور تعصب کی دھند میں لپیٹنے کے ماہر ہیں۔ ان کے دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ علامہ ابن ترکمانی نے جہر بالآمین کی حدیث کو صحیح قرار دیا اور اسے سنت کے طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن افسوس کہ موصوف نے یہاں بھی اپنی پرانی روش نہیں چھوڑی اور عبارت کو ادھورا پیش کرکے اپنی من مانی تشریح چسپاں کردی۔
قارئین کرام! گرجاکھی صاحب کی تحریروں کا جائزہ لینے کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہ سچائی سے زیادہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ جوہر النقی کی اصل عبارت کو پورے سیاق و سباق کے ساتھ نقل کرتے۔ ہم آپ کے سامنے وہ مکمل عبارت پیش کرتے ہیں تاکہ حقیقت عیاں ہوجائے۔
وقد قد منافى باب الجهر بالبسملة ان عمر وعليا لم يكونا يجهران بآمين قال الطبري وروي ذلك عن ابن مسعود وروي عن النخعي والشعبى وابراهيم التيمى كانوا يخفون بآمين والصواب ان الخبر بالجهر بها والمخافة صحيحان وعمل بكل من فعليه جماعة من العلماء وان كنت مختارا خفض الصوت بها إذا كان اكثر الصحابة والتابعين على ذلك۔"
اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ جہر اور اخفاء دونوں طریقے صحیح ہیں اور ہر ایک پر عمل کرنے والے علماء موجود ہیں۔ لیکن علامہ ترکمانی رحمہ اللہ نے واضح طور پر ترجیح دی ہے کہ آمین کو آہستہ کہا جائے، کیونکہ اکثر صحابہ کرام اور تابعین کا عمل اسی پر تھا۔
اب ذرا سوچئے! اگر گرجاکھی صاحب یہ مکمل عبارت پیش کردیتے تو ان کے مسلک کا کیا ہوتا؟ ان کی خود ساختہ دلیل کا غبارہ پھٹ جاتا، اور ان کی علمی خیانت سب پر واضح ہوجاتی۔ لیکن انہوں نے یہودیوں کی طرح اصل عبارت کو چھپانا ہی بہتر سمجھا تاکہ ان کا جھوٹ برقرار رہے۔ یہ روش نہ صرف علمی خیانت ہے بلکہ امت مسلمہ میں انتشار پھیلانے کی سازش ہے۔ اللہ ایسے تحریف کرنے والے دجالوں سے امت کی حفاظت فرمائے۔ جو لوگ قرآن و سنت کے نام پر اپنے مفادات کو فروغ دیتے ہیں، وہ دراصل حق کے دشمن اور باطل کے علمبردار ہیں۔
گرجاکھی صاحب جیسے متعصب افراد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دین حقائق چھپانے اور من مانی تشریحات کرنے سے نہیں چلتا، بلکہ دیانتداری اور حق گوئی سے آگے بڑھتا ہے۔ ان کے لیے نصیحت یہی ہے کہ توبہ کریں، ورنہ آخرت میں جواب دہی کے لیے تیار رہیں۔
مولوی نور حسین گرجاکھی صاحب اپنے رسالے میں صفحہ 16 پر امام ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ کا قول پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
"وَيَقُولُهَا الْمَأْمُومُ فَرْضًا وَلَا بُدّ
یعنی مقتدی پر آمین کہنا فرض ہے۔ پھر موصوف بڑی مہارت سے اس قول کو آمین بالجہر کی فرضیت کے حق میں پیش کرتے ہیں اور منکرین آمین بالجہر کو عبرت پکڑنے کی نصیحت فرماتے ہیں۔
قارئین کرام! یہاں ذرا توقف کیجیے اور دیکھئے کہ کس طرح مولوی نور حسین صاحب نے امام ابن حزم رحمہ اللہ کے قول کا مطلب اپنے مطلب کی دہلیز پر جھکا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام ابن حزم نے مطلقاً آمین کو فرض کہا ہے، نہ کہ آمین بالجہر کو۔ لیکن یہاں یہ قول ایسے پیش کیا گیا ہے جیسے امام صاحب آمین بالجہر کی فرضیت کے قائل ہوں۔ یہ رویہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی درخت کا پھل کھا کر اسی جڑ پر کلہاڑی چلانے کی کوشش کرے۔
یہ وہی غیرمقلدین ہیں جو امام ابن حزم رحمہ اللہ کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، لیکن جب کوئی بات ان کے مزاج کے خلاف ہو، تو یا تو اس پر مٹی ڈال دیتے ہیں یا اس قول کی ایسی تشریح کر دیتے ہیں کہ اصل حقیقت کہیں دب جائے۔ اگر ان لوگوں میں واقعی علمی دیانت داری ہوتی تو وہ اپنے پیش کردہ اقوال کو امانت داری سے پیش کرتے اور جہاں اختلاف ہوتا، وہاں احترام کا مظاہرہ کرتے۔ لیکن افسوس کہ ان کی تحریریں اکثر ایسی ہیں جیسے کسی پاک صاف جگہ کو گندگی سے آلودہ کرنے کی کوشش۔ مولوی نور حسین صاحب کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ایسی تحریف شدہ دلیلیں پیش کرنا ان کی فرقہ پرستی کے لیے مناسب ہیں؟ کیا یہ رویہ اس شخص کے شایانِ شان ہے جو خود کو دین کا داعی کہلاتا ہو؟ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا نہ علمی دیانت داری ہے اور نہ ہی امت کو جوڑنے کا ذریعہ۔ یہ طرز عمل صرف اور صرف فتنہ و انتشار پیدا کرتا ہے۔
خلاصہ کلام :
آپ نے فرقہ غیرمقلدیت کی حقیقت کو جانا اور جو کچھ ملاحظہ فرمایا، وہ دراصل ایک ایسا دجل و فریب ہے جس کے ذریعے یہ فرقہ امت مسلمہ کو صاف و شفاف قرآن و صحیح حدیث کا لیبل لگا کر گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وہ فرقہ ہے جو اپنے مسلک کی ترویج کے لیے علماء کرام، فقہاء، مجتہدین اور محدثین پر جھوٹ بولتا ہے۔ یہ وہ فرقہ ہے جو صحابہ کرام پر جھوٹ بولنے کو عیب نہیں سمجھتا، بلکہ ان کے بارے میں ایسی باتیں گھڑتا ہے جو اسلام کی حقیقت سے متصادم ہوں۔ اور اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولے، تو ان کے نزدیک یہ بھی ایک معمولی بات ہو جاتی ہے۔
اگر کسی پر جھوٹ بولا جائے اور وہ عمداً، بغضاً، اور دانستہ طور پر اسے جھٹلائے، تو کیا یہ اسلام کی خدمت ہے؟ کیا اس سے اسلام کا قلعہ مضبوط ہو رہا ہے؟ یا یہ کہ اسلام کی بنیادوں میں دراڑ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہو رہی ہے؟ جو شخص اپنے مسلک کی خاطر اپنے رہنماؤں، صحابہ کرام اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولے، وہ نہ صرف اپنی تقدیر کے ساتھ کھیل رہا ہے، بلکہ اس کے ذریعے پورے دین کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا اس شخص کے لیے شرم کا مقام نہیں؟ کیا اس کے دل میں کوئی خوف، کوئی عار، کوئی شرم باقی ہے؟
اللہ کی قسم! یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کو داخلی طور پر نقصان پہنچا کر اپنی دکان چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد نہ دین کی خدمت ہے، نہ امت کا اتحاد، بلکہ صرف اور صرف اپنی فرقہ پرستی کو جواز دینا ہے۔ کیا آپ ان کی حقیقت کو پہچاننے کے بعد بھی ان کے پیچھے چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا یہ علم کا راستہ ہے یا فتنے کا؟ کیا اس طرح کی باتوں سے آپ کی دینی غیرت جاگتی ہے یا کہ آپ اس فریب کو اپنانا چاہتے ہیں؟
اللہ ہمیں سچائی کی سمجھ دے، اور ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے، آمین۔
نوٹ:
اگر آپ اس مسئلے پر مکمل تحقیق کرنا چاہتے ہیں اور اس میں جھوٹ کے پردے چاک کرنا چاہتے ہیں، تو آپ "تحقیق مسئلہ آمین" حضرت اکاڑوی رحمہ اللہ کی تصنیف کا مطالعہ کریں، جس میں قرآن و حدیث اور عقلی و نقلی دلائل سے آمین بالجہر کا صحیح مفہوم بیان کیا گیا ہے۔ اس میں غیرمقلدین سے سوالات کیے گئے ہیں اور لب و لہجہ بھی انتہائی آسان اور عام فہم ہے، تاکہ ہر شخص اس کو سمجھ سکے۔
مزید اس علم کی جستجو کے لیے ہماری ایپ دفاع احناف لائبریری کا استعمال کریں، جو علم و تحقیق کا ایک خزانہ ہے۔ یہ ایپ ایک نعمت کی طرح ہے، جس میں ہمارے دوستوں نے دن رات کی محنت سے مختلف کتب کا مواد جمع کیا ہے اور نہ صرف مواد کو یکجا کیا، بلکہ ہر موضوع کے تحت مختلف مصنفین کی کتب سے مواد اٹھا کر اسے بہتر ترتیب سے پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر، "تجلیات صفدر" جو سات جلدوں میں چھپی ہے، اس میں ترک رفع یدین پر بحث ہو، تو آپ ایک ہی موضوع کو بآسانی تلاش کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ سات جلدوں کو کھول کر وقت ضائع کرنا پڑے۔ اس طرح کی سہولتیں آپ کو علم کی جستجو میں انتہائی مددگار ثابت ہوں گی۔
یہ ایپ نہ صرف آپ کو آسانی سے مواد تک رسائی فراہم کرتی ہے، بلکہ ہر مسئلے کو باقاعدہ دلائل، تحقیقی مواد اور مؤثر انداز میں پیش کر کے آپ کو صحیح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس سے استفادہ کریں، تاکہ آپ بھی علم کی روشنی سے اپنی راہوں کو واضح کر سکیں۔ اللہ ہمیں سچائی
سمجھنے کی توفیق دے، آمین۔۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں