رسول اللہﷺ کی قبر سے فریاد کر کے روٹی مانگنا —
بسلسلہ توضیحات عباراتِ اکابر عبارت نمبر 2
مولانا عبدالرحمن عابد حفظہ اللہ تعالی
اہلِ باطل (غیر مقلدین + مماتی + بریلوی) علماءِ دیوبندؒ کی ایک منقول عبارت لے کر اس پر اپنی سقیم فکر و فہم کی بنیاد پر مختلف قسم کے اعتراضات کرتے ہیں۔
اول، وہ واقعہ بمع اصل عبارت ملاحظہ کیجیے جسے اہلِ باطل نے عقیدہ بنا کر اور پھر اپنی طرف سے ازخود غلط تشریح کے ساتھ نقل کیا ہے:
شیخ زکریا صاحبؒ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
"ابن جلاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ طیبہ حاضر ہوا، مجھ پر فاقہ تھا۔ میں قبر شریف کے قریب حاضر ہوا اور عرض کیا: حضور! میں آپ ﷺ کا مہمان ہوں۔ پھر مجھے کچھ غنودگی سی آگئی تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک روٹی مرحمت فرمائی۔ میں نے آدھی کھائی اور جب میں جاگا تو آدھی میرے ہاتھ میں تھی۔"
(وفاء) [فضائلِ حج، منسلک فضائلِ صدقات، صفحہ 792، واقعہ نمبر 23، ناشر: مکتبہ عمر فاروق، قصہ خوانی بازار پشاور]
اب اس واقعہ پر مختلف قسم کے اعتراضات ہوئے ہیں، لیکن سب کو نقل کرنا محض ضیاعِ وقت ہے۔ البتہ ان سب اعتراضات کا خلاصہ اور لبّ لباب یہی ہے کہ:
علماءِ دیوبند کا یہ عقیدہ ہے کہ قبروں والوں سے حاجت اور مدد مانگنا جائز ہے، العیاذ باللہ۔
چنانچہ عبید الرحمن محمدی غیر مقلد لکھتے ہیں:
"ان واقعات میں قبروں والوں سے سوال کرنے کی خوب ترغیب دی گئی ہے۔۔۔ نبی ﷺ اپنی قبر پر آنے والے ضرورت مندوں کی ضرورت کو جانتے اور ان کی حاجت پوری بھی کرتے ہیں۔"
(تبلیغی جماعت کا تحقیقی جائزہ، صفحہ 97)
اور مولوی خان بادشاہ صاحب بھی شیخ زکریاؒ پر خوب برسا ہے چنانچہ لکھتےہیں:
" وَكَتَبَ كَثِيرًا مِنَ ٱلْوَقَائِعِ ٱلَّتِي كُلُّهَا خُرَافَاتٌ وَشِرْكِيَّاتٌ ٱلَّتِي لَا يَنْبَغِي لِلْمُسْلِمِ أَنْ يَسْتَفُوهُ بِهَا فَضْلًا عَنِ ٱلْعَالِمِ سِيَّمَا مِثْلَ هَذَا ٱلْمُبَلِّغِ؛ يَنْبَغِي لَهُ ٱلرُّجُوعُ عَنِ ٱلْخُرَافَاتِ حَتَّىٰ لَا يُضَلَّ بِهَا ٱلنَّاسُ مِنَ ٱلْأَتْبَاعِ ٱلْمُسْلِمِينَ، وَإِلَّا كَيْفَ جَوَابُهُ لِرَبِّ ٱلْعَالَمِينَ يَوْمَ ٱلدِّينِ؟(الصواعق المرسلة صفحہ92 )
ترجمہ: "اس نے بہت سے واقعات لکھے ہیں جو سب کے سب خرافات اور شرکیات ہیں، جن کے ساتھ مسلمانوں کا جڑنا ہرگز مناسب نہیں، چہ جائیکہ انہیں کسی عالم کی طرف منسوب کیا جائے، خصوصاً ایسے مبلغ کی طرف۔ پس اس کے لیے زیادہ مناسب یہ ہے کہ وہ ان خرافات سے رجوع کرے تاکہ مسلمان متبعین ان سے دھوکا نہ کھائیں، ورنہ روزِ قیامت وہ اپنے رب کو کیا جواب دے گا؟"
مزید لکھتےہیں:
"اُنْظُرْ إِلَى ٱتِّبَاعِ هٰذَا ٱلْمُبَلِّغِ كَيْفَ كَانَ حَالُ عَقَائِدِهِمْ، لِأَنَّ حَالَ ٱلْمَتْبُوعِ هٰكَذَا، فَكَيْفَ حَالُ ٱلتَّابِعِ؟ وَقَدْ كَتَبَ هٰذَا ٱلْمُبَلِّغُ أَرْبَعِينَ مِنَ ٱلْخُرَافَاتِ لَيْسَ لَهَا ٱلْوُجُودُ فِي ٱلْأَدِلَّةِ ٱلشَّرْعِيَّةِ، وَكُلُّهَا مِنَ ٱلْكَلِمَاتِ ٱلْكُفْرِيَّةِ، أَعَاذَنَا ٱللَّهُ مِنْهَا. يَنْبَغِي لِلْمُبَلِّغِ مُؤَلِّفِ فَضَائِلِ ٱلْحَجِّ أَنْ يُطَالِعَ كُتُبَ شَيْخِ ٱلْإِسْلَامِ ابْنِ تَيْمِيَّةَ حَتَّى لَا يَكُونَ مَذْمُومًا مَخْذُولًا.
(ٱلصَّوَاعِقُ ٱلْمُرْسَلَةُ ص ٩١)
ترجمہ:
"اس مبلغ کے پیروکاروں کو دیکھو کہ ان کے عقائد کا کیا حال تھا، کیونکہ جب متبوع (رہنما) کا یہ حال ہے تو تابع (پیروکار) کا حال کیا ہوگا؟
اور اسی مبلغ نے چالیس خرافات گھڑ ڈالیں جن کا شرعی دلائل میں کہیں وجود نہیں، اور یہ سب کے سب کفریہ کلمات ہیں، اللہ ہمیں ان سے محفوظ رکھے۔
فضائلِ حج کے مؤلف مبلغ کے لیے ضروری ہے کہ وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرے تاکہ وہ ملامت زدہ اور رسوا نہ ہو۔"
اور پھر ایک سطر بعد یہی اعتراض نقل کرتےھوۓ لکھتےہیں کہ:
" كَيْفَ قَالَ إِنَّهُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَىٰ قَبْرِ ٱلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ ٱللَّهِ، إِنِّي ضَيْفُكُمْ، فَنَامَ، فَأَعْطَی لہ ٱلنَّبِيُّ ﷺ خُبْزَتَيْنِ، فَأَكَلَ إِحْدَی ھما فِي ٱلنَّوْمِ، وَلَمَّا ٱسْتَيْقَظَ كَانَتِ ٱلْأُخْرَىٰ عِنْدَهُ مَوْجُودَةً.
ترجمہ:
"یہ کس طرح کا واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی قبرِ مبارک پر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کا مہمان ہوں۔ پھر وہ سو گیا تو نبی ﷺ نے اسے دو روٹیاں عطا کیں۔ اس نے ایک روٹی خواب ہی میں کھالی اور جب بیدار ہوا تو دوسری روٹی واقعی اس کے پاس موجود تھی!"
(دیکھے الصواعق المرسلة صفحہ 91)
*جواب* :
اولا: یہ عقیدہ نہیں اللہ کے بندوں! بلکہ یہ محض ایک واقعہ ہے، اور وہ بھی اسلافؒ ہی سے منقول۔ (آگے ان شاء اللہ حوالہ جات آ رہے ہیں)۔
لہٰذا عقیدہ اور کسی مسئلے کی فضیلت کے لیے بطورِ تائید اسلاف ہی سے کوئی واقعہ نقل کرنے میں بہت فرق ہے۔
اہلِ باطل کو چاہیے کہ اپنی جہالت کی دنیا سے باہر آئیں اورخرقِ عادت کےطورسہی ذرا انصاف سے مطالعہ کریں:
> جہالت کا مرض جس دل میں جاگزیں ہو جائے
دلیل و علم کی روشنی بھی بے اثر ہو جائے
یاد رکھیے! کسی بزرگ یا شیخ کی طرف سے منقول واقعات کو عقائد کے باب میں معیار بنانا نہ اہلِ حق کا طریقہ ہے اور نہ ہی اسلاف کا۔ بلکہ یہ واقعات صرف تبرکاً، یا بطور تائید و حکایت ذکر کیے جاتے ہیں۔
*ثانیاً* : یہ واقعہ بذاتِ خود ایک خواب کا واقعہ ہے، اور خواب سے کچھ ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟ اس پر بھی ذرا غیر مقلدین ہی کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:
امین اللہ پشاوری کے بھائی ابو زہیر سیف اللہ صاحب لکھتے ہیں:
> "خواب سے شریعت میں حکم ثابت نہیں ہوتا۔"
(تفسیر حکمة القرآن، ج1، ص4)
نواب صدیق حسن خان غیر مقلد لکھتے ہیں:
> "خواب کشف کے مثل حجت نہیں ہوتا۔"
(مجموعہ رسائل، ج3، ص53)
غلام مصطفیٰ ظہیر صاحب غیر مقلد لکھتے ہیں:
> "اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ امتی کا خواب حجتِ شرعی نہیں ہوتا۔"
یہی نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ دیکھئے! جب مولوی خان بادشاہ مماتی نے شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ پر یہی اعتراض کیا تو اس کا جواب خود غیر مقلد عالم، مولوی اسحاق گبرالی نے دیا۔
مولوی اسحاق صاحب نے شیخ زکریا رحمہ اللہ کا دفاع کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا:
> "یہ مذکورہ قصص میں زیادہ تر خواب کے واقعات ہیں، اور خواب نہ شرعی حجت ہے اور نہ عقیدہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شیخ زکریا رحمہ اللہ ان قصص کے ذکر کرنے کے بعد خود فضائلِ حج صفحہ 181 پر لکھتے ہیں:
’ *تنبیہ* : گزشتہ واقعات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب وغیرہ میں زیارت کے متعدد قصے گزرے۔۔۔‘
معلوم ہوا کہ شیخ زکریاؒ ان قصص کو خواب ہی کے قصص تسلیم کرتے ہیں۔"
(اھداء المذکر الی المتعصب المتکبر، ص17)
پس ثابت ہوا کہ خود غیر مقلدین بھی اقرار کرتے ہیں کہ یہ محض خواب کا واقعہ ہے، اور خواب حجت نہیں۔ جب حجت نہیں تو اس سے نہ استحباب ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کفر و شرک کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے (!!!)
اور فرقہ اشاعتیہ بھی کہتےہیں کہ "خواب بالاتفاق حجت شرعیہ نہیں ہے"(موت کا پیغام غالی مولیوں کے نام صفحہ437 و 24)
پس اگر خواب ہی کو معیار مانا جائے تو نہ صرف ان کے اپنے اکابر کی کتابیں سوالیہ نشان بن جائیں گی بلکہ ہزاروں ایسے واقعات ہیں جنہیں وہ خود تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن جب اہلِ حق کی کتاب میں کوئی واقعہ آئے تو فوراً کفر و شرک کے فتوے برسنے لگتے ہیں؟!
> حقیقت سے جو ناواقف ہوں وہی شور مچاتے ہیں
دلیلیں جن کے آگے ہوں وہ خاموش ہو جاتے ہیں
یا
تعصب نے آنکھوں کو اندھا کیا ہے
حقیقت ہے سامنے، پر نظر آ نہیں رہی
*ثالثاً* : حضرت شیخؒ نے اس واقعہ کو نقل کر کے آخر میں بطور حوالہ "وفاء" درج بھی کیا ہے، یعنی میں نے یہ حوالہ "وفاء الوفا بأخبار دار المصطفی ﷺ" سے نقل کیا ہے۔
جب حضرت شیخؒ نے یہ واقعہ صرف نقل کیا ہے تو خود اہلِ باطل کے اصول کی روشنی میں بھی "منقول عنہ" کو چھوڑ کر محض ناقل پر کفر و شرک کے فتوے لگانا کہاں کا انصاف ہے؟
جب کہ غیرمقلدین کا یہ نظریہ بھی ہے کہ ناقل پر صرف تصحیحِ نقل کی ذمہ داری ہوتی ہے چنانچہ حافظ محمدگوندلوی صاحب علامہ ذھبیؒ کےدفاع میں ایک منکرحدیث کو جواب دیتےھوۓ کہتےہیں:"ناقل کا کوئی قصورنہیں ہے"(دوام حدیث حصہ دوم ص184)(مزید غیرمقلدین کے گھرکا حوالہ جات ھماری دوسری کتاب"توضیحات عبارات اکابر" کا مطالعہ کریں )
اور اشاعت کے مشہورعالم مولوی خان بادشاہ صاحب اپنےھم مسلک ساتھیوں کو مشورہ دیتےھوۓ لکھتےہیں" کسی کتاب یا رسالےسےنقل کریں تو پھراسکا حوالہ دیا کریں چاہیےاس میں غلطی ھو اس طرح کرنےسےگویا کہ آپ نےاپنےکندھوں سےبوجھ اٹھاکر اُس(منقول عنہ،ناقل) پرڈال دیا ہے"(ماھنامہ التوحیدوالسنة ج3 شمارہ 9ص20)
مزید حوالہ جات کیلۓ ھماری کتاب(التحقیق القوی صفحہ 71 )دیکھے۔
تو مخالفین کےاس اصول کے مطابق بھی حضرت شیخؒ اس الزام و اتھام سے بری الذمہ ہوگئے ہیں الحمد للہ۔
*رابعا* : اگر واقعی طور پر اس واقعے سے کفر، شرک یا قبر پرستی وغیرہ کا الزام درست ہو سکتا ہے تو یہ الزام صرف حضرت شیخ ذَکریاؒ پر ہی نہیں رُکے گا، کیونکہ یہ واقعہ تو حضرت شیخ صاحبؒ نے اپنی طرف سے نہیں گھڑا۔ بلکہ متعدد محدثین و سلف صالحین رحمہم اللہ سے انہوں نے نقل فرمایا ہے۔ پھر لازم ہوگا کہ ان سب پر بھی کفر و شرک کے فتوے لگائے جائیں (العیاذ باللہ)۔
*سلف صالحینؒ سے ثبوت* :
اب ذرا ملاحظہ فرمائیے! جن جن محدثین، فقہاء اور اکابر سلفؒ نے یہ واقعات اپنی کتب میں ذکر کیے ہیں، ان کے چند معتبر حوالہ جات درج ذیل ہیں۔
1= سب سےپہلا حوالہ باسندِصحیح ملاحظہ فرمائیں:
امام ابوبکرمحمدبن أبی إسحاق بن إسحاق بن ابراھیم بن یعقوب الکلاباذی البخاری الحنفیؒ(المتوفّی:380ھ) نے یہ واقعہ باسند نقل کرتےھوۓ رقمطرازہیں:
"قال: سمعتُ منصورَ بنَ عبدِ الله، قال: سمعتُ أبا عبدِ الله بنَ الجلّاء يقول:
دخلتُ مدينةَ رسولِ الله ﷺ، وبی شيءٌ من الفاقة، فتقدّمتُ إلى القبر، وسلّمتُ على النبي ﷺ، وعلى ضجيعيهِ أبي بكرٍ وعمرَ رضي الله عنهما، ثم قلتُ: يا رسولَ الله، بي فاقةٌ، وأنا ضيفُك الليلة.
ثم تنحّيتُ ونمتُ بين القبر والمنبر، فإذا أنا بالنبي ﷺ قد جاءني، ودفع إليَّ رغيفًا، فأكلتُ نصفَه، فانتبهتُ فإذا في يدي نصفُ الرغيف"
(التعرّف لمذھب أھل التصوف صفحہ 54 بیروت)
*ترجمہ* : ابو عبداللہ بن الجلّاء کہتے ہیں:
میں مدینۂ رسول ﷺ میں داخل ہوا، اور مجھ پر کچھ فاقہ کی حالت طاری ہوئی۔ میں قبرِ مبارک کے قریب حاضر ہوا اور نبی کریم ﷺ، اور آپ کے دونوں رفقاء ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو سلام عرض کیا۔ پھر میں نے کہا:
"یا رسول اللہ! مجھے فاقہ ہے اور آج کی رات میں آپ کا مہمان ہوں۔"
پھر میں ہٹ کر منبر اور قبر کے درمیان سو گیا۔ خواب میں نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور مجھے ایک روٹی عطا فرمائی۔ میں نے اس کا آدھا حصہ کھا لیا، جب میں بیدار ہوا تو میرے ہاتھ میں آدھی روٹی موجود تھی۔
*فائدہ* : ھم نے سند پرتحقیق کی ہے بالکل صحیح السند ہے فللہ الحمدوالمنة ۔ چونکہ یہاں نقل کرنا خوف طوالت کی وجہ سےمناسب نہیں ورنہ یہاں تفصیلا ذکر کرتا۔ہاں اگر موقعہ پایا اور کچھ لینےدینے کی بات آئی تو میدان پھرسجائینگے ان شاء اللہ العزیز۔
2= ابوعبداللہ محمدبن ابی بکر بن عبدالقادر شمس الدین الرازی الحنفیؒ(المتوفّی:666ھ) نےبھی یہی واقعہ مذکورہ مفہوم کےساتھ درج کیا ہے(دیکھے:حدائق الحقائق ص177)
3= الشیخ ابومحمدعفیف الدین عبداللہ بن عبدالملک المرجانیؒ(المتوفّی:770ھ)نےبھی اپنی کتاب میں یہ واقعہ(بقول اھل باطل، یہ عقیدہ) درج کیاہے (دیکھے: بہجة النفوس والأسرار صفحہ395 )
4= الشیخ عبدالقادر بن محمد بن عبدالقادر الجزیریؒ(المتوفّی:976ھ) نےاپنےمخطوطہ میں بھی یہ واقعہ ذکرکیا ہے(دیکھے: دررالفرائدالمنظمہ من أخبار الحاج وطریق مخة المعظمة ص265 )
5= حافظ ابن حجر الھیتمیؒ(المتوفّی: 974ھ ) نے"تحفة الزّوّار إلی قبرالنبی المختار صفحہ117 " پر نقل کیا ہے۔
6 = حسین بن نصر ابن خمیسؒ(المتوفّی:552ھ)نے"مناقب الأبرار و محاسن الأخیار صفحہ411" میں نقل کیا ہے۔
7 = امام ابن جوزیؒ(المتوفّی: 597ھ ) نے بھی "مرآة الزمان ج16ص460" پر نقل کیا ہے۔
8= قاضی مکة المکرمة الإمام أبوالبقاء محمدبن أحمد بن محمد بن ضیاء المکی الحنفیؒ(المتوفّی:854ھ) نے"البحرالعمیق فی مناسک المعتمر والحاج" کےصفحہ نمبر 264 پر نقل کیا ہے۔
9= امام ابن فضل اللہ العمری شھاب الدین احمد بن یحییؒ(المتوفّی: 749ھ ) نے"مسالک الأبصار فی ممالک الأمصار ج8ص311" پر نقل کیا ہے۔
10= عبدالرؤف مناویؒ(المتوفّی: 1031ھ )نے"الکواکب الدریة فی تراجم السادة الصوفیة (الطبقات الکبرٰی) ج2ص37" پر نقل کیا ہے۔
11 = علامہ۔مجددالدین محمد بن الأثیرالجزیریؒ(المتوفّی: 606ھ ) نے"المختار من مناقب الأخیارج1ص236" میں درج کیا ہے۔
12 = شیخ الاسلام زکریا محمد بن الأنصاریؒ(المتوفّی:926ھ) نے"نتائج الأفکار القدسیہ فی بیان معانی شرح الرسالة القشیریہ ج3ص336" پر بھی رقم کی ہے۔
13 = امام قشیریؒ(المتوفّی: 465ھ ) نے"القشیریہ صفحہ 349" میں یہ حوالہ قلمبند کیا ہے۔
14= الامام الحافظ ابوسعد عبدالملک بن ابی عثمان الخرکوشی النیسابوریؒ(المتوفّی:406ھ) نے اپنی کتاب"شرف المصطفیٰﷺ ج3ص235" میں یہ واقعہ نقل۔کیا ہے۔
15 = علامہ سیوطیؒ(المتوفّی:911ھ) نے "کتاب المحاضرات والمحاورات ج1ص427" پر بھی نقل کیا ہے۔
16= علامہ شعرانیؒ(المتوفّی: 973ھ ) نے بھی"الطبقات الکبرٰی ج1ص109" پر نقل کیا ہے۔
17 = ابن عساکرؒ(المتوفّی: 571ھ ) نے "تاریخ مدینہ دمشق ج66ص161" پر نقل کیا ہے۔
18= امام علی بن احمد سَمْہُودیؒ (متوفی 911ھ) نے یہ واقعہ صراحت کے ساتھ اپنی مشہور کتاب الوفاء بأحوال المصطفىﷺ میں نقل کیا ہے۔
19= یہی واقعہ امام سَمْہُودیؒ کی دوسری کتاب "وفاء الوفاء بأخبار دارالمصطفیﷺ ج4ص1371 طبع دارالکتب العلمیة " میں بھی ملتا ہے، جو مدینہ منورہ اور آثارِ نبویہ پر ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔
20: علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانیؒ (متوفی 1350ھ) نے بھی یہ واقعہ"حجة الله على العالمين في معجزات سيد المرسلين" میں بیان کیا ہے۔
اگر اس طرح حوالہ جات ذکرکرتا چلوں تو بات کافی لمبی ھوتی چلے جائیگی اور شیخ زکریاؒ کی علمیت کی لوہا مزید چمکتا ھوا نظرآئینگے یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ اگر تمام کتبِ تاریخ، مناقب، اور تصوف سے جمع کیا جائے اور استیعاب کیاجاۓتو اس نوع کے بیسیوں نہیں سینکڑوں واقعات ملتے ہیں
لیکن منصف کےلئے ایک حوالہ بھی کافی و شافی ہے اور متعصب و متکبر باطل پرست کیلۓ یہ بیس حوالہ جات بھی کافی نہیں۔
عرض یہ ہے کہ اھل باطل میں اگرھمت ہے تو ان اسلاف(رحمھم اللہ) پربھی کفر شرک اور قبرپرستی وغیرہ کے فاسدالزامات لگائیں۔ ورنہ قومِ شعیب علیہ السلام کی جس راستے پر(بےانصافی)گامزن ھو اس سے توبہ تائب ھوجائیں۔
لہٰذا ہمارا پیغام واضح ہے کہ یہ واقعات نہ عقیدہ بناتے ہیں اور نہ عبادت، بلکہ یہ محض کرامات و تائیدی حکایات ہیں۔ جو شخص ان کو بنیاد بنا کر تکفیر کے فتوے لگاتا ہے وہ دراصل اپنی ہی جہالت اور تعصب کا پردہ فاش کرتا ہے۔"
> تعصب میں اندھے ہوئے جب دل و دماغ
تو حق کی روشنی بھی دکھائی نہیں دیتی
*خامسا* : یہ واقعہ شیخ الاسلام زکریا انصاریؒ نے جب نقل کیا تو اس پر فرقہ مماتیہ وغیرہ کی طرح گندہ ذھنیت کے عکاسی تبصرہ نہ کیا بلکہ یوں بہترین تبصرہ کیا کہ:
"فی ذالک دلالة علی صدقہ فی حاجتہ وعلی أن اللہ أکرمہ بھذہ الکرامة لشرف نبیناﷺ"
اس واقعہ میں اس(ابن جلاّدؒ) کی حاجت کی سچی ھونےکی دلیل موجود ہے۔ اللہ تعالی نےنبی اکرمﷺکےشرف و مرتبہ کی وجہ سےان کی کرامت کےذریعے مہمان نوازی کی۔
*قارئین کرام* ! ابھی آپ حضرات خود سوچ لیں کہ اسلافؒ کی اخذ کردہ نتیجہ عمدہ ہے یا انگریز کےدور کےبعد فرقہ غیرمقلدین و فرقہ اشاعتیہ و بریلویہ کا اخذ کردہ نتیجہ عمدہ و قابل لائق ہے؟؟
بےانصافی کی بھی حد ھوتی ہے کہ اھل حق کےخلاف یہ تینوں فرقیں آپس میں فکری طور متحد ہیں اور یوں اھل حق کی بےجامخالفت کرتےنظرآرھےہیں ھداھم اللہ وایانا۔
*سادسا* : اس میں تو کوئی غیراللہ سےمدد مانگنےکی بات ہی نہیں یہاں تو صرف یہ کہاگیا ہے کہ کہ اے اللہ کےرسولﷺ! میں آپ کا مہمان ھوں تو اس میں کیا قباحت و مضایقہ ہے چہ جائیکہ استمداد من غیراللہ کی بات ھو۔۔؟؟؟ سبحان اللہ۔
*سابعا* : خطیب بغدادیؒ(المتوفّی:463ھ) کےمتعلّق کیا خیال ہے جو انہوں نے ابوعلی الخلالؒ سےنقل کرتےھوۓ فرماتےہیں کہ"ماهَمَّنِي أَمْرٌ فَقَصَدْتُ قَبْرَ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ فَتَوَسَّلْتُ بِهِ فَسَهَّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِي مَا أُحِبُّ (تاریخ بغداد ج1ص442)
ترجمہ:
"جب بھی مجھے کوئی پریشانی لاحق ھوتی تو میں حضرت موسیٰ بن جعفرؒ کی قبر کی طرف قصدکرتا اور ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توسل کرتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے وہ سب آسان فرما دیا جسے میں پسند کرتا تھا۔"
حافظ ابن حجرؒ(المتوفّی:852ھ) ابوعلی النیشاپوریؒ(المتوفّی:349)کےحوالے سے سنداً نقل کرتےہیں:
"وَقَالَ الْحَاكِمُ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ النَّيْسَابُورِيَّ يَقُولُ: كُنْتُ فِي غَمٍّ شَدِيدٍ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ، كَأَنَّهُ يَقُولُ لِي: سِرْ إِلَى قَبْرِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَاسْتَغْفِرْ وَسَلْ، تُقْضَ حَاجَتُكَ، فَأَصْبَحْتُ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَقُضِيَتْ حَاجَتِي"(تھذیب التھذیب ج7ص617 ترجمہ: یحیی بن یحیی رقم الترجمة 8893، ناشر:۔المکتبة المعروفیہ کوئٹہ پاکستان )
ترجمہ: حاکم (نیشاپوریؒ) فرماتے ہیں: میں نے ابا علی نیشاپوری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ "میں سخت غم و پریشانی میں مبتلا تھا، تو میں نے خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا گویا آپ مجھے فرما رہے ہیں: ’یحییٰ بن یحییٰ(المتوفّی:226ھ) کی قبر کی طرف جاؤ، استغفار کرو اور دعا مانگو، تمہاری حاجت پوری کر دی جائے گی۔‘
پھر جب میں صبح اٹھا تو میں نے ایسا ہی کیا، چنانچہ میری حاجت پوری ہوگئی۔"
کیا یہاں تو غیرمقلدین اور ان کےچھوٹے بھائی مماتیوں کو تو قبرپرستی نظر نہیں آتی؟
فریبِ باطل سے جنہیں فرصت نہیں
وہ حق کی کرنوں سے بہرہ ور نہیں
*ثامنا* ۔۔۔ قَالَ الحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ عَسقلانی ۔۔۔ كَانَ ابْنُ الْمُقرِئُ يَقُولُ: كُنْتُ أَنَا وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو الشَّيْخِ بِالْمَدِينَةِ، فَضَاقَ بِنَا الوَقْتُ، فَوَاصَلْنَا ذٰلِكَ الْيَوْمَ فَلَمَّا كَانَ وَقْتُ الْعشَاءِ حَضَرْتُ القَبْرَ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْجُوعُ. فَقَالَ لِلطَّبَرَانِيِّ: اجْلِسْ، فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الرِّزْقُ أَوِ الْمَوْتُ. فَقُمتُ أَنَا وَأَبُو الشَّيْخِ: فحضرَالبابَ عَلَوِیٌّ. فَفَتَحْنَا لَهُ، فَإِذَا مَعَهُ غُلاَمَانِعجیب بِقُفَّتَینِ فِيهِمَا شَيْءٌ كَثِيرٌ. وقَالَ: شَكَوْتُمُونِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ رَأَيْتُهُ فِي النَّوْمِ فَأَمَرَنِي بِحَملِ شَيْئٍ إِلَيْكُمْ.
(سیرأعلام النبلاء ج11ص469 و 470 تحت الترجمہ ابن المقرئ رقم الترجمہ 649 طبع:المکتبة الوحیدیہ پشاور پاکستان)
*ترجمہ* : حافظ ابن حجرؒ عسقلانیؒ روایت کرتے ہیں کہ ابن المقرئؒ کہا کرتے تھے:
"میں، امام طبرانیؒ اور ابو الشیخؒ مدینہ منورہ میں تھے۔ ایک دن ہم پر سخت تنگی اور فاقہ ہوگیا، اور ہمارے پاس کچھ نہ تھا۔ جب شام کا وقت آیا تو ہم روضۂ اطہر پر حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا: ’یا رسول اللہ! بھوک!(لگی ہے)
تو طبرانیؒ نے کہا: بیٹھ جاؤ، اب یا تو رزق ملے گا یا موت آئے گی۔ ہم نے کہا: جی ہاں۔
اسی اثنا میں دروازے پر دستک ہوئی۔ ہم نے دروازہ کھولا تو ایک علوی شخصیت کو پایا، ان کے ساتھ دو غلام تھے جن کے پاس دو ٹوکریاں تھیں جن میں بہت سا سامان تھا۔ انہوں نے کہا: کیا تم نے نبی کریم ﷺ کے سامنے میری شکایت کی ہے؟ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہارے لیے کچھ لے آؤں۔"
اب یہی فتوی جو شیخ زکریاؒ پر لگایا تھا وہی فتوی حافظ ابن حجرؒ اور ان منقول عنھم پر بھی گانے کی جرأت کرسکوگے۔۔؟؟
ھرگز نہیں ھمیں آپ لوگوں کی علمی غیرت اور علماء دیوبندؒ سے دشمنی بھی خوب معلوم ہے ھداکم اللہ۔
*الزامی حوالہ جات* : اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہی واقعہ(لیکن کچھ گڈ مڈ تعبیرکےساتھ) مماتیوں کےشیخ القرآن مولانا محمدطاھر صاحبؒ نے بھی نقل کیا ہے(دیکھے: خطبات شیخ القرآن حضرت مولانا محمدطاہر صفحہ 222 و 223، مرتب ابوخالد محمدکفایت اللہ منیب صاحبباجوڑ طبع اول، ناشر: جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن باجوڑ)
*قبرپرست کون؟*
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ قبر پرستی اور استمداد کے قائل ہونے کا جو فتویٰ غیر مقلدین اور فرقہ مماتیہ نے علماءِ دیوبندؒ پر تھوپا ہے، حقیقت میں قبر پرست اور استمداد کے قائل کون ہیں؟"
دراصل خود یہی حضرات ہیں حقائق ملاحظہ کیجۓ:
1= غیر مقلدین نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ "صوفی حبیب الرحمٰن صاحب کا بیان ہے کہ 1910ء میں جب حضرت ضیاء معصوم صاحب، مرشدِ امیر حبیب اللہ خان شاہ کابل پٹیالہ تشریف لائے، تو انہوں نے سرہند جانے کے لیے قاضی( منصور پوری غیر مقلد،ناقل) کو اپنے ساتھ لے لیا۔ حضرت ضیاء معصوم صاحب جب روضہ حضرت مجدد الف ثانیؒ پر مراقبہ کے لیے بیٹھے تو قاضی جی نے دل میں کہا کہ شاید ان بزرگوں نے آپس میں کوئی راز کی بات کہنی ہو، ان سےالگ ہو جانا چاہیے۔ ابھی آپ اپنے جی میں یہ خیال لےکر اُٹھے ہی تھے کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور فرمایا: کہ سلیمان! بیٹھے رہو، ہم کوئی بات تجھ سے راز میں نہیں رکھنا چاہتے۔’
صوفی صاحب کا بیان ہے کہ قاضی صاحب نے بعض دوستوں سے ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ واقعہ مراقبہ یا مکاشفہ کا نہیں بلکہ بیداری کا ہے" (کراماتِ اھلحدیث صفحہ 22، مطبع مکتبہ دین و دنیا فیصل آباد)
*نوٹ* : یاد رھے نئ ایڈیشن میں یہ حوالہ خاموشی سے بغیر اعلان کے ھباء منثورا ھوچکا ہے جو غیرمقلدین اور مماتیوں کی میراثی عادت ہے۔
اب ذرا یہ بتائیے! مجدد الف ثانیؒ قاضی صاحب کے دل میں چھپی بات سے کس طرح باخبر ہوگئے؟
کیا قاضی صاحب نے زبان سے کچھ کہا تھا یا صرف دل ہی میں خیال کیا تھا؟
پھر یہ بھی بتائیے کہ مجددؒ نے قاضی کا ہاتھ کس طرح پکڑ لیا؟
کیا صرف ہاتھ قبر سے باہر آیا تھا یا پورا جسم ہی قبر سے نکل آیا تھا؟
یہ کون سا مراقبہ ہے جو بیداری میں واقع ہوا؟ اور جب خود قاضی منصور پوری غیر مقلد نے تسلیم کیا کہ یہ مکاشفہ یا مراقبہ نہیں بلکہ بیداری کا واقعہ ہے تو پھر یہ کھلا ہوا تصرفِ اموات ہوا یا نہیں؟
اب سوال یہ ہے کہ یہ تصرفاتِ اولیاء اور اہلِ قبور سے فیوضات کب سے غیر مقلدین کی شریعت میں جائز ہوگئے؟ جو دوسروں پر شرک و بدعت کے فتوے برسایا کرتے ہیں، اپنے اکابر کی کرامات کو کس خانہ میں رکھیں گے؟!
اپنے ہی جال میں پھنس گئے واعظِ شہر
فتویٰ جو دوسروں پر تھا، خود پہ اتر آیا
*دوسرا حوالہ*:
غیر مقلدین ہی کی ایک اور کتاب میں اس طرح مفھوم کا واقعہ مذکور ہے کہ:
"آپ کو مراقبہ و مشاہدہ میں بھی کمال(حاصل) تھا۔ میں نے بارہا جناب والد ماجدم رحمہ اللہ کو دیکھا کہ جنابِ حضرت والدہ ماجدہ مرحومہ و مغفورہ کو مراقبہ میں بٹھاتے، اور جب آپ کو زیارتِ رسول صلعم( صلی اللہ علیہ وسلم،ناقل) یا اور کسی ولی و بزرگ کی ہوتی تو اس وقت حل مشکلات بعض مطالب قرآن و حدیث کا فرماتے" (تذکرہ اھل صادق پور، صفحہ 200)
*سبحان اللہ* ! اپنی بیوی کو بھی زندہ کر کے مراقبے میں بٹھا دیتے، اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ و شپ یعنی گفتگو بھی کرتے، اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اولیاء و بزرگوں سے ملاقاتیں کر کے قرآن و حدیث کے مطالب حل کروا لیتے۔ سبحان تیری قدرت! اب بتلایا جائے کہ یہ سب کچھ غیرمقلدین کے ذھن میں قبر پرستی اور استمداد نہیں تو پھر آخر ہے کیا؟"
*مماتیوں کےگھرسے* :
اب الزامی چند حوالہ جات مماتیوں کے گھرسے بھی ملاحظہ فرمائیں
مماتیوں کا یہ نظریہ ہے کہ اموات کبھی کبھی تصرف کرتےہیں جیسا کہ نیلوی صاحب معرض استدلال میں رقمطرازہیں:
"کاملین کی رُوحوں کا عالَمِ عُنصری میں کبھی تصرّف بھی نمایاں ہوجاتا ہے"
(ندائے حق، ج 1، ص 176)
خان بادشاہ صاحب کے ممدوحین اب بتاۓ کہ خرافات یہ ہے یا کہ شیخ زکریاؒ کی نقل کردہ بات۔۔۔ ؟
شیخ غلام اللہ خانؒ لکھتےہیں:
"جس طرح حیاتِ دنیا میں ارواح ابدانِ عُنصریہ کے ذریعے سے متحرک ہوتی ہے اور تمام اعمال اور تصرفات بجالاتی ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام اور بعض کاملین کی ارواح وفات کے بعد عالم برزخ میں مثالی اور برزخی اجسام کے ذریعے سے حرکت کرتی ہے اور نماز تلاوت قرآن حج اور *کئی دوسرے اعمال بجالاتی ہے* "(جواہر القرآن ج1ص194)
مماتیوں کے معتمد اور ان کےہاں معروف شخصیت شیخ القرآن مولانا حسین علی رحمہ اللہ کے متعلق ذکر ہے خود فرماتےہیں:
"وَقَعَدتُ عِندَ مَزارِ الإِمَامِ الرَّبَّانِيِّ، فَقَالَ لِي فِي المُكَاشَفَةِ: بَيَانُ مَسأَلَةِ التَّوحِيدِ عَلَى دَرَجَتِهِ عَنِ السُّلُوكِ"
(تفسیربلغة الحیران ج1ص8ناشر: خود شیخ حسین علیؒ نےمیانوالی سےشایع کی، یعنی میرےپاس قدیم نسخہ ہے الحمدللہ)
اس کا ترجمہ مفسرقرآن مولانا صوفی عبدالحمیدؒ یوں کرتےہیں:
"مکاشفہ: جب میں امام ربانی مجددالف ثانیؒ کےمزارکےپاس بیٹھا ھوا تھا مکاشفہ کی حالت میں امام ربانیؒ نےمجھ سےفرمایا کہ توحیدکا مسئلہ بیان کرنا سلوک میں سب سےاعلی درجہ ہے"(فیوضات حسینی ص17)
اور یہی حوالہ نیلوی صاحب نے بھی لکھی ہے لکھتےہیں:
"میں امام ربانی مجدالف ثانی کےمزار پر بیٹھا ھوا تھا مکاشفہ کی حالت میں امام ربانی نےمجھ سےفرمایا کہ توحیدکامسئلہ بیان کرنا سلوک میں سب سےاعلی درجہ ہے"(ناشر القرآن یعنی سوانخ مولانا حسین علیؒ صفحہ53 ناشر:سرگودھا طبع اول)
عرض ہے کہ یہاں مماتیوں کو قبرپرستی اور استمداد کا مسئلہ یاد نہیں ھوتا۔۔۔؟؟ کیا وجہ ہے؟
*اختتامی کلمات* :
آخر اس مضمون کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ اہلِ باطل کا الزام
اہلِ باطل نے اس واقعہ کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ دیوبندی علما عقائد میں شرک کے قائل ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک خواب کا واقعہ ہے جسے بطور حکایت ذکر کیا گیا، نہ کہ عقیدہ یا شرعی دلیل کے طور پر۔ فلھذا یہ اھل باطل کا محض الزام تراشی ہے۔
۲۔ حقیقتِ حال
شیخ زکریاؒ نے یہ واقعہ اپنی طرف منسوب نہیں کیا بلکہ بطور حوالہ "وفاء الوفاء" سے نقل کیا ہے۔ لہٰذا ناقل کو الزام دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
۳۔ اہلِ باطل کا تضاد
یہی لوگ خواب کو شرعی حجت نہیں مانتے، لیکن جب اہلِ حق کوئی حکایت نقل کریں تو اسی کو شرک و کفر کا شور بنا دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اپنے اکابر نے بھی اسی نوع کے خواب اور حکایات نقل کیے ہیں۔
۴۔ اہلِ حق کا موقف
یہ حکایات عقیدہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ صدقِ حاجت اور کرامت کے بیان کے لیے ذکر کی جاتی ہیں۔ ان پر عقائد کی بنیاد رکھنا اہلِ حق کا طریقہ نہیں رہا۔
۵۔ حجت اہلِ حق پر
اگر یہ واقعہ شرک ہے تو پھر وہ تمام محدثین و اکابر بھی اس حکم کے تحت آئیں گے جنہوں نے اسی واقعہ کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جس سے ھم نے بیس حوالہ جات تو نقل کیۓ ہیں ،کیا اہلِ باطل اپنے اصول پر ان سب کی بھی تکفیر کریں گے؟
۶۔ خلاصہ
اصل حقیقت یہ ہے کہ:
یہ واقعات عقیدہ نہیں بلکہ تبرک و حکایت کے طور پر ذکر ہوتے ہیں۔
ناقل پر الزام لگانا ظلم اور جہالت ہے۔
اہلِ باطل کا معیار دوہرا ہے؛ اپنے لیے جواز اور دوسروں کے لیے تکفیر۔
یہ واقعہ اہلِ ایمان کے لیے نبی کریم ﷺ کی عظمت، اللہ کی قدرت اور صدقِ حاجت کی دلیل ہے۔ اس سے شرک یا کفر کا کوئی پہلو نکلنا ممکن نہیں۔
اہلِ حق پر فتوے لگانے والے دراصل اپنی جہالت اور تعصب کے قیدی ہیں۔
> جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:
"عیبِ مومن تلاش کرنا تو آسان ہے
مگر اپنی خطاؤں پہ نظر ڈالنا مشکل ہے"
مزید عبارتِ اکابر کا بھی چان پڑتال جاری رھے گا ان شاء اللہ منتظر رھے
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں