نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

{ مسئلہ تصرّف کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ } سلسلہ توضیحات عباراتِ اکابر عبارت نمبر 3



{ مسئلہ تصرّف کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ }

 سلسلہ توضیحات عباراتِ اکابر 

عبارت نمبر 3

مولانا عبدالرحمن عابد حفظہ اللہ تعالی


غیر مقلدین مماتی اور بریلوی حضرات "تصرّفات" کے مسئلے پر علماء دیوبندؒ پر اعتراض کرتے ہیں۔


غیر مقلدین اور فرقہ اشاعتیہ کا اعتراض اس انداز میں ہے کہ وہ کہتے ہیں: دیوبندی علماء کی کتابوں میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ وہ تصرّفات کو مانتے ہیں، اور اس کےلئے شیخ الحدیث مولانا حمداللہ جان ڈاگئ باباجی صاحبؒ کی کتاب"البصائر" اور حاجی امداد اللہ مہاجرمکیؒ و حضرت تھانویؒ و دیگر کتبِ علماء دیوبندؒ سے ظاھری عبارت اپنے لۓمستدل بناتےہیں۔

حالانکہ یہ تو سراسر شرک ہے۔

جبکہ بریلوی حضرات یوں اعتراض کرتے ہیں: 

اگر ہم تصرّف کا عقیدہ رکھیں تو دیوبندی علماء ہمیں مشرک قرار دیتے ہیں، حالانکہ دیوبندی علماء کی اپنی کتابوں میں بھی اس کے جواز کے اقوال موجود ہیں۔

 *الجواب* :

ہم نہ تو تصرّف کو غیر مقلدین اور پنجپیریوں کی طرح مطلقاً شرک اور بدعت کہتے ہیں، اور نہ بریلویوں کی طرح ہر قسم کا تصرّف مانتے ہیں، بلکہ ہم اس مسئلے میں تقسیم کے قائل ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں:

 *پہلی صورت* :

ایسا شخص جو یہ عقیدہ رکھے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کو کائنات میں "کن فیکون" والی طاقت ذاتی طور ازخود حاصل ہے اسی طرح نبی یا ولی اپنے ارادے اور مشیت کےساتھ بلا کسی سبب اور آلات کے جو چاہیے جیسا چاہیے جس کو چاہیے جس وقت چاہیے ہر کچھ کرسکتا ہے…

 *حکم* :

تو ایسا تصرّفی عقیدہ شدید ترین شرک ہے۔

یہ اتنا بڑا شرک ہے کہ ابوجہل اور ابولہب بھی اس کے قائل نہ تھے۔

یاد رہے کہ مشرکینِ مکہ بھی اپنے معبودوں کو اللہ کا مخلوق اور غلام مانتے تھے، اور جب وہ ان سے مدد مانگتے، یا تصرّفات کا عقیدہ رکھتے، تو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ نے انہیں عطا کیا ہے، ذاتی اختیار نہیں سمجھتے تھے۔

 دوسری صورت کہ:

> "کوئی نبی، ولی، پیر یا شہید ایسا اللہ کا مقرب بندہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص عنایت سے 'کُن فَيَكُون' کی طاقت عطا کی ہے، اور وہ اب اپنی مرضی، ارادہ اور مشیت سے اب تصرّف کر سکتا ہے۔"

جیسے لوگوں کو ڈوبنے سے بچا دینا، حاجات پوری کرنا، وغیرہ۔

اگرچہ یہ طاقت اللہ کی طرف سے عطا شدہ مانی جاتی ہے، لیکن چونکہ وہ خود مختار بنا دیا گیا ہے، اس لیے یہ بھی وہی شرکیہ عقیدہ ہے جس کے قائل مشرکینِ مکہ تھے۔

> "ومنهم من اعتقد أن الله هوالسّيد، وهو المدبّر، لكنّه قد يخلع على بعض عباده لباس الشرف والتأله، ويجعله متصرّفًا في بعض الأمور الخاصّة"

(حجة الله البالغة، باب حقيقة الشرك)


 ترجمہ: "ان مشرکین میں کچھ ایسے بھی تھے جن کا عقیدہ تھا کہ اصل سردار اور مدبر تو اللہ ہی ہے، مگر وہ اپنے بعض بندوں کو الوہیت کا لباس پہناتا ہے، اور انہیں بعض خاص امور میں متصرّف بنا دیتا ہے۔"


 اس سے واضح ہوا کہ مشرکین بھی اپنے معبودوں کو ذاتی طاقت والا نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ان کا ماننا تھا کہ اللہ نے انہیں یہ طاقت دی ہے — لیکن یہ عقیدہ شرک ہی کہلایا۔

مزید لکھتےہیں:

> "الشِّرْكُ آنَسْتُ أنْ يُثْبِتَ لِغَيْرِ اللهِ صِفاتٍ مُخْتَصَّةً بِاللهِ، مِثْلُ التَّصَرُّفِ فِي العالَمِ بِالإرادَةِ، الَّذِي يُعَبَّرُ عَنْهُ بـ (كُنْ فَيَكُونُ)" (الفوز الكبير، ص ۸)

 ترجمہ:

"شرک یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے اللہ کی خاص صفات کو ثابت کیا جائے، جیسے کہ اپنی مرضی سے کائنات میں تصرّف کرنا، جسے 'کُنْ فَيَكُونُ' سے تعبیر کیا جاتا ہے۔"

قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں:

> "الأولياءُ قادِرونَ لَا عَلَى إِيجَادِ مَعْدُومٍ، وَلَا إِعْدَامِ مَوْجُودٍ، فَنِسْبَةُ ذٰلِكَ إِلَيْهِمْ كُفْرٌ"

(ارشاد الطالبین، ص۲۰)

 ترجمہ:

"اولیاء کرام اس بات پر قادر نہیں کہ کسی غیر موجود کو وجود دیں، یا موجود کو فنا کر دیں۔ لہٰذا کسی چیز کے وجود یا عدم، رزق، اولاد یا بیماری دور کرنے کو ان کی طرف منسوب کرنا کفر ہے۔"

 تیسری صورت:

کوئی نبی یا ولی ذاتی طور پر یا مستقل طور پر نہیں، بلکہ اللہ کی مرضی سے اور اللہ کی قدرت کے تحت بطور معجزہ یا کرامت، کسی خاص واقعے کے ذریعے تصرّف کرے۔

تو اگرچہ یہ عمل ولی یا نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو، لیکن دراصل یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔

یہی وہ تصرّف ہے جسے کرامت یا معجزہ کہا جاتا ہے، اور یہی وہ موقف ہے جس پر علماء دیوبند قائم ہیں، جیسے مولانا اشرف علی تھانویؒ یا حاجی صاحبؒ وغیرہ

یہی تصرّف برحق ہے، اور جائز ہے۔

 *چوتھی صورت* :

ایسا تصرّف جو انسان اپنے طبیعی اسباب، طاقت، فن، علم یا باطنی توجہ سے کرتا ہے — جیسے طب، علمِ نجوم، جادو، یا سائنس کے ذریعے کسی چیز پر اثر ڈالنا۔

تو یہ بھی جائز ہے، کیونکہ یہ انسان کے اختیار میں ہے، اور اس پر انسان ثواب یا عذاب کا مستحق بن سکتا ہے۔

 *خلاصہ* :

اہلِ باطل اور ہم (اہلِ حق) کے درمیان اصل اختلاف اور نکتہ اختلاف دوسری صورت کے تصرّف پر ہے:

> یعنی بغیر اسباب، بغیر کسی آلہ یا عمل کے، کسی نبی یا ولی کا اپنی مرضی اور اختیار سے مستقل طور پر "کن فیکون" انداز میں کائنات میں تصرّف کرنا۔

یہی وہ عقیدہ ہے جو پرانے مشرکین کا بھی تھا، اور آج کے قبر پرستوں کا بھی ہے۔

> العِيَاذُ بِاللَّهِ مِنْ هٰذِهِ الْعَقَائِدِ الْفَاسِدَةِ، الزَّائِغَةِ، الْمَرْدُودَةِ، الْمُفْسِدَةِ، الْمُبْتَدِعَةِ، الضَّالَّةِ۔


 *نکتنہ نزاع* :


اہلِ باطل اور ہم (اہلِ حق) کے درمیان اصل اختلاف اور نکتہ اختلاف دوسری صورت کے تصرّف پر ہے:

> جو بغیر اسباب، بغیر کسی آلہ یا عمل کے، کسی نبی یا ولی کا اپنی مرضی اور اختیار سے مستقل طور پر "کن فیکون" انداز میں کائنات میں تصرّف کرنا۔

حالانکہ ایسا تصرف کی قدرت نہ تو اللہ نے کسی نبی کو دیا ہے اور نہ کسی ولی کو۔۔

یہی وہ عقیدہ ہے جو پرانے مشرکین کا بھی تھا، اور آج کے قبر پرستوں کا بھی ہے۔

> العِيَاذُ بِاللَّهِ مِنْ هٰذِهِ الْعَقَائِدِ الْفَاسِدَةِ، الزَّائِغَةِ، الْمَرْدُودَةِ، الْمُفْسِدَةِ، الْمُبْتَدِعَةِ، الضَّالَّةِ۔

 *الزامی جوابات* : فرقہ اہلحدیث کے اس واقعے سے بھی بعد از وفات تصرف کی حقیقت آشکار ہوتی ہے۔

غیر مقلدین نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ ان الفاظ میں

نقل کیا ہے :

 "صوفی حبیب الرحمٰن صاحب کا بیان ہے کہ 1910ء میں جب حضرت ضیاء معصوم صاحب، مرشدِ امیر حبیب اللہ خان شاہ کابل پٹیالہ تشریف لائے، تو انہوں نے سرہند جانے کے لیے قاضی( منصور پوری غیر مقلد،ناقل) کو اپنے ساتھ لے لیا۔ حضرت ضیاء معصوم صاحب جب روضہ حضرت مجدد الف ثانیؒ پر مراقبہ کے لیے بیٹھے تو قاضی جی نے دل میں کہا کہ شاید ان بزرگوں نے آپس میں کوئی راز کی بات کہنی ہو، ان سےالگ ہو جانا چاہیے۔ *ابھی آپ اپنے جی میں یہ خیال لےکر اُٹھے ہی تھے کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور فرمایا: کہ سلیمان! بیٹھے رہو، ہم کوئی بات تجھ سے راز میں نہیں رکھنا چاہتے* ۔’

صوفی صاحب کا بیان ہے کہ قاضی صاحب نے بعض دوستوں سے ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ واقعہ مراقبہ یا مکاشفہ کا نہیں *بلکہ بیداری کا ہے* " (کراماتِ اھلحدیث صفحہ 22، مطبع مکتبہ دین و دنیا فیصل آباد)

 *نوٹ* : یاد رھے نئ ایڈیشن میں یہ حوالہ خاموشی سے بغیر اعلان کے ھباء منثورا ھوچکا ہے جو غیرمقلدین اور مماتیوں کی میراثی عادت ہے۔

اب ذرا یہ بتائیے! مجدد الف ثانیؒ قاضی صاحب کے دل میں چھپی بات سے کس طرح باخبر ہوگئے؟ 

کیا قاضی صاحب نے زبان سے کچھ کہا تھا یا صرف دل ہی میں خیال کیا تھا؟ 

پھر یہ بھی بتائیے کہ مجددؒ نے قاضی کا ہاتھ کس طرح پکڑ لیا؟ 

کیا صرف ہاتھ قبر سے باہر آیا تھا یا پورا جسم ہی قبر سے نکل آیا تھا؟ 

یہ کون سا مراقبہ ہے جو بیداری میں واقع ہوا؟ اور جب خود قاضی منصور پوری غیر مقلد نے تسلیم کیا کہ یہ مکاشفہ یا مراقبہ نہیں بلکہ بیداری کا واقعہ ہے تو پھر یہ کھلا ہوا تصرفِ اموات ہوا یا نہیں؟

اب سوال یہ ہے کہ یہ تصرفاتِ اولیاء اور اہلِ قبور سے فیوضات کب سے غیر مقلدین کی شریعت میں جائز ہوگئے؟ جو دوسروں پر شرک و بدعت کے فتوے برسایا کرتے ہیں، اپنے اکابر کی کرامات کو کس خانہ میں رکھیں گے؟!

اپنے ہی جال میں پھنس گئے واعظِ شہر

فتویٰ جو دوسروں پر تھا، خود پہ اتر آیا


 *دوسرا حوالہ*:

  غیر مقلدین ہی کی ایک اور کتاب میں اس طرح مفھوم کا واقعہ مذکور ہے کہ:

 "آپ کو مراقبہ و مشاہدہ میں بھی کمال(حاصل) تھا۔ میں نے بارہا جناب والد ماجدم رحمہ اللہ کو دیکھا کہ  جنابِ حضرت والدہ ماجدہ مرحومہ و مغفورہ کو مراقبہ میں بٹھاتے، اور جب آپ کو زیارتِ رسول صلعم( صلی اللہ علیہ وسلم،ناقل) یا اور کسی ولی و بزرگ کی ہوتی تو اس وقت حل مشکلات بعض مطالب قرآن و حدیث کا فرماتے" (تذکرہ اھل صادق پور، صفحہ 200)

 *سبحان اللہ* ! اپنی بیوی کو بھی زندہ کر کے مراقبے میں بٹھا دیتے، اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ و شپ یعنی گفتگو بھی کرتے، اور ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اولیاء و بزرگوں سے ملاقاتیں کر کے قرآن و حدیث کے مطالب حل کروا لیتے۔ سبحان تیری قدرت! 

اب بتلایا جائے کہ یہ سب کچھ غیرمقلدین کے ذھن میں تصرّفِ اموات نہیں تو پھر آخر ہے کیا؟"


*مماتیوں کےگھرسے* : 

اب الزامی چند حوالہ جات مماتیوں کے گھرسے بھی ملاحظہ فرمائیں

مماتیوں کا یہ نظریہ ہے کہ اموات کبھی کبھی تصرف کرتےہیں جیسا کہ نیلوی صاحب معرض استدلال میں رقمطرازہیں:

"کاملین کی رُوحوں کا عالَمِ عُنصری میں کبھی *تصرّف* بھی نمایاں ہوجاتا ہے"

(ندائے حق، ج 1، ص 176)

مزید لکھتےہیں:

"اسی طرح وھاں کا کھانا پینا نقل و حرکت میل ملاپ بات چیت سرور وغیرہ اہل دنیا سےمستورہے"(نداۓ حق ج1ص502)

آگے مزید لکھتےہیں:

"وہ(شہداء،ناقل) موھوبہ اجسام کےذریعےجنت کی سیرکرتےہیں کھاتےپیتےہیں اور اپنےدوستوں سےملاقاتیں کرتےہیں اس عالم برزخ کےآسمان زمین اور جنت میں جہاں جی چاہیے جاتےہیں اور اپنےساتھیوں کی پاوری(مدد، دستگیری،اعانت بحوالہ فیروزاللغات،ناقل)کرتےہیں"(نداۓحق ج1ص578)

سبحان اللہ۔۔۔!

بلکہ مردوں کا زندوں کےساتھ گفت و شنید کا بھی نظریہ ان لوگوں کا ملاحظہ کیجۓ کیسے ایک دوسرے کو پہچانتےہیں اور کیسے ایک دوسرے کےساتھ گفتگو کرتے ھوۓ سماع موتی کی پھاٹک سے گزرکر کلام الموتی کی وادی تک پہنچ گۓہیں چنانچہ مماتیوں کے معتمد اور ان کےہاں معروف شخصیت شیخ القرآن مولانا حسین علی رحمہ اللہ کے متعلق ذکر ہے خود فرماتےہیں:

"وَقَعَدتُ عِندَ مَزارِ الإِمَامِ الرَّبَّانِيِّ، فَقَالَ لِي فِي المُكَاشَفَةِ: بَيَانُ مَسأَلَةِ التَّوحِيدِ عَلَى دَرَجَتِهِ عَنِ السُّلُوكِ"

(تفسیربلغة الحیران ج1ص8ناشر: خود شیخ حسین علیؒ نےمیانوالی سےشایع کی، یعنی میرےپاس قدیم نسخہ ہے الحمدللہ)

اور یہی حوالہ بمع ترجمہ نیلوی صاحب نے بھی لکھی ہے،لکھتےہیں:

"میں امام ربانی مجدالف ثانی کےمزار پر بیٹھا ھوا تھا مکاشفہ کی حالت میں *امام ربانی نےمجھ سےفرمایا* کہ توحیدکامسئلہ بیان کرنا سلوک میں سب سےاعلی درجہ ہے"(ناشر القرآن یعنی سوانخ مولانا حسین علیؒ صفحہ53 ناشر:سرگودھا طبع اول)

عرض ہے کہ یہاں مماتیوں کو تصرّف کا مسئلہ یاد نہیں ھوتا۔۔۔؟؟ کیا وجہ ہے؟

اور صرف بات چیت نہیں بلکہ فوت شدہ حضرات سے ملاقاتیں بھی کرتےہیں یعنی فوت شدہ حضرات دنیا میں واپس آکر ان کی زیارت کےجواز کے بھی قائل ہیں چنانچہ ان کی کتابوں میں درج ہیں کہ"

" اور بعض کاملین نےحالت بیداری میں حضورﷺ اور حضرت خضر علیہ السلام کودیکھا۔۔۔۔۔(اور پھر اس ہر تفصیلی بات کی ہے کہ آنحضرتﷺ کی زیارت ھوسکتی ہے بلکہ متحقق ہیں۔۔ناقل) دیکھے(تفسیرجواھرالقرآن ج1ص194تحت سورة آل عمران رقم الآیة 169، نداۓ حق ج1ص556 تا 559 و 167)

شیخ غلام اللہ خانؒ اور مولوی حسین نیلوی صاحب مرحوم لکھتےہیں:

"جس طرح حیاتِ دنیا میں ارواح ابدانِ عُنصریہ کے ذریعے سے متحرک ہوتی ہے اور تمام اعمال اور *تصرفات* بجالاتی ہے *اسی طرح* انبیاء علیہم السلام اور بعض کاملین کی ارواح وفات کے بعد عالم برزخ میں مثالی اور برزخی اجسام کے ذریعے سے *حرکت* کرتی ہے اور نماز تلاوت قرآن حج اور *کئی دوسرے اعمال بجالاتی ہے* "(جواہر القرآن ج1ص194، نیز۔۔۔ دیکھے نداۓحق ج1ص557)

اگر اس طرح  ان کے گھر سے مزیدحوالہ جات لکھتےجائیں تو یقین کریں صفحات کم ھوسکتےہیں قارئین کرام کثرت حوالہ جات دیکھ کر بور ھوسکتےہیں لیکن ان کے حوالہ جات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے اتنی کثرت حوالہ جات ہیں میرےپاس۔بحمدہ تعالی و فضلہ 

فلھذا اس میں میرا بعض حوالہ جات الزامی ہے کہ اگرکرامت اور خرق عادت سے اگر استمداد یا تصرفاتِ حقیقیہ و ممنوعہ ثابت ھوتی ہے تو اپنا چہرہ شریفہ بھی آئینہ میں ذرا دیکھے اور وہ بھی صرف دو تین الزامی حوالہ جات کےساتھ تاکہ بات کو مختصر کرکے سمجھنے میں آسانی ھوسکیں

 اللہ تعالیٰ ہمیں خالص توحیدِ باری تعالیٰ پر قائم رکھے، شرک و بدعت کے تمام مظاہر سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں اکابرِ دیوبندؒ کے معتدل و حق شعار مسلک پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔

وَاللّٰهُ الْمُوَفِّقُ إِلَى سَبِيلِ الرَّشَادِ.

آمین ثم آمین یارب العالمین

23 اکتوبر بوقتِ شبِ جمعہ بعدازنمازعشاء

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...