امام ابو الحسن اشعریؒ کے تین مراحل سے گزرنے اور توبہ کے بعد
اپنے مذہب سے رجوع کرنے کا شبہ
حافظ محمد ثاقب حنفی الماتريدی صاحب
مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت
شُمارہ نمبر35
بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام ابو الحسن اشعریؒ کی زندگی میں تین مراحل گزرے!
پہلا مرحلہ: اعتزال، جو تقریباً چالیس سال کی عمر تک جاری رہے۔
دوسرا مرحلہ: عبداللہ بن سعید بن کلاب کی پیروی۔
تیسرا مرحلہ: سلف اور اہل سنت کے عقیدے کی طرف رجوع۔
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اشاعرہ امام اشعریؒ کی دوسرے مرحلے کی پیروی کرتے ہیں، جب کہ وہ ابن کلاب کے نظریات کے حامل تھے، اور چونکہ ابن کلاب کو اہل سنت میں شمار نہیں کیا جاتا، اس لیے اشاعرہ درحقیقت امام اشعریؒ کے بجائے ابن کلاب کے پیروکار ہیں۔ مزید یہ کہ امام اشعریؒ نے اپنی زندگی کے آخری دور میں اس عقیدے سے رجوع کر لیا تھا اور اپنی توبہ کے بعد "الابانة" نامی کتاب تصنیف کی تھی، جو ان کے سلفی عقیدے کی دلیل ہے۔
اس شبہے کے جواب میں ہم اسے تین نکات میں تقسیم کریں گے۔
پہلا شبہ: کیا واقعی امام اشعریؒ کی زندگی تین مراحل میں تقسیم ہوتی ہے— اعتزال، ابن کلاب کی پیروی، اور آخر میں اہل سنت و الجماعت کی طرف رجوع؟ یہ اس بحث کی بنیادی شق ہے۔
دوسرا شبہ: کیا عبداللہ بن سعید بن کلاب اہل سنت و الجماعت کے منہج پر نہیں تھے؟
تیسرا شبہ: کیا واقعی "الابانة" امام اشعریؒ کی آخری تصنیف ہے اور ان کے آخری عقیدے کی نمائندگی کرتی ہے؟
ان سوالات کے جوابات سے یہ واضح ہوگا کہ یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے یا محض ایک شبہ ہے۔
پہلی شبہ کا جواب: امام اشعری کے تین مراحل سے گزرنے کا دعویٰ
اس شبہ کا رد درج ذیل نکات کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔
یہ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ یہ دعویٰ کسی مضبوط دلیل یا تاریخی شواہد کے بغیر کیا جاتا ہے۔ کسی بھی مستند مؤرخ یا عالم نے یہ ذکر نہیں کیا کہ امام اشعری نے تین مراحل میں اپنے عقائد بدلے۔ امام اشعریؒ ایک مشہور اسلامی شخصیت تھے، جن کی علمی حیثیت مسلم ہے، اور ان کی مناظرے کی شہرت بھی عام ہے۔
ایسی معروف ہستی کے بارے میں یہ دعویٰ کہ انہوں نے تین مراحل میں عقائد بدلے، بغیر کسی تاریخی سند کے کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے؟ خاص طور پر جب یہ دعویٰ ایسے افراد کی طرف سے کیا جا رہا ہو جو نہ صرف امام اشعری کے بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ان کے مسلک کے مخالف بھی ہیں۔
کیا انصاف پسند لوگ محض کسی مخالف کے بے بنیاد گمان کو قبول کر سکتے ہیں، خصوصاً جب اس کے پاس کوئی مضبوط تاریخی دلیل یا مستند حوالہ نہ ہو؟ صرف "الإبانة" کے مطالعے سے کسی نے یہ نتیجہ اخذ کر لینا کہ امام اشعری نے اپنے عقائد بدلے، ایک غیر علمی اور غیر منصفانہ طرزِ عمل ہے۔
تاریخی مصادر میں اس نام نہاد رجوع کا کوئی ذکر نہیں
تمام مستند تاریخی کتب، تراجم اور طبقات کی کتابوں میں کہیں بھی اس تین مراحل والے رجوع کا ذکر نہیں ملتا۔ بلکہ تمام مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام اشعریؒ معتزلہ سے علیحدگی کے بعد اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کی حمایت میں سرگرم ہو گئے اور اپنی تصانیف، جیسے "الإبانة" وغیرہ، اہلِ حق کے نظریات کے دفاع میں تحریر کیں۔
امام ابو بکر بن فورکؒ فرماتے ہیں:
انتقل الشيخ أبو الحسن علي بن إسماعيل الأشعري رضي الله عنه من مذاهب المعتزلة إلى نصرة مذاهب أهل السنة والجماعة بالحجج العقلية، وصنف في ذلك الكتب
( تبيين كذب المفتري ص/127)
ترجمہ۔"شیخ ابو الحسن علی بن اسماعیل اشعریؒ معتزلہ کے مذاہب کو ترک کر کے اہل سنت و الجماعت کے عقائد کے دفاع میں مصروف ہو گئے اور اس پر متعدد کتب تصنیف کیں۔"
ابن خلکان لکھتے ہیں:
هو صاحب الأصول والقائم بنصرة مذهب السنة.... وكان أبو الحسن
أولا معتزليا ثم تاب من القول بالعدل وخلق القرآن في المسجد الجامع
بالبصرة يوم الجمعة
( وفيات الأعيان 3/284)
ترجمہ۔"وہ اصول کے امام اور اہل سنت کے مسلک کے دفاع کرنے والے تھے… امام اشعری پہلے معتزلی تھے، پھر انہوں نے عدل اور خلق قرآن کے نظریے سے توبہ کی اور بصرہ کی جامع مسجد میں اس کا اعلان کیا۔
امام ذہبی کہتے ہیں:
وبلغنا أن أبا الحسن تاب وصعد منبر البصرة، وقال: إني كنت أقول بخلق القرآن... وإنّي تائب معتقد الرد على المعتزلة
( سير أعلام النبلاء 15/89)
ترجمہ۔"ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ امام اشعری نے توبہ کی، بصرہ کے منبر پر چڑھ کر کہا: میں پہلے خلقِ قرآن کا قائل تھا… اب میں اس سے رجوع کرتا ہوں اور معتزلہ کے خلاف عقیدہ رکھتا ہوں۔"
ان تمام شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام اشعریؒ کا صرف ایک ہی حقیقی رجوع تھا: معتزلہ سے اہل سنت کی طرف۔ تین مراحل کا نظریہ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہے، جس کی تائید کسی بھی معتبر تاریخی ماخذ سے نہیں ہوتی۔
دوسری شبہ کا جواب: کیا عبد اللہ بن سعید بن کلاب اہل سنت اور سلف صالحین کے راستے سے منحرف تھے؟
یہ متفقہ بات ہے کہ امام اشعریؒ ابتدا میں عبد اللہ بن سعید بن کلابؒ کے طریقے پر تھے۔ مگر بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابن کلابؒ اہل سنت اور سلف صالحین کے طریقے پر نہیں تھے، اس لیے انہوں نے یہ تصور گھڑا کہ اشاعره ان کی پیروی کرتے ہوئے اہل سنت والجماعت کے مخالف راستے پر چلے، جسے بعد میں امام اشعریؒ نے چھوڑ کر سلفی طریقہ اختیار کر لیا۔
اس شبہ کے جواب میں ہم علمائے کرام کے اقوال پیش کرتے ہیں، جنہوں نے عبد اللہ بن سعید بن کلابؒ کے علمی مقام اور اہل سنت سے ان کے تعلق کو واضح کیا ہے۔
ابن قاضی شہبہ کی گواہی
"عبد اللہ بن سعید، ابو محمد، جو ابن کلاب کے نام سے معروف ہیں، بڑے متکلمین میں شمار ہوتے تھے اور اہل سنت میں سے تھے۔ انہی کی اور حارث المحاسبی کی روش پر امام ابو الحسن اشعری نے عمل کیا۔ انہوں نے توحید اور صفات پر کئی کتب تصنیف کیں۔"
( طبقات الشافعية لابن قاضي شهبة 1 / 78)
تاج الدین السبکی کا بیان
تاج السبکی نے لکھا:
"ابن کلاب ہر حال میں اہل سنت میں سے ہیں۔"
( الطبقات 2 /300 )
امام ضیاء الدین الخطيب الرازي کی شہادت
امام ضیاء الدین الخطيب الرازي، جو امام فخر الدین رازی کے والد تھے، نے اپنی کتاب غاية المرام في علم الكلام کے آخر میں ذکر کیا:
"اہل سنت کے متکلمین میں سے، جو مامون کے دور میں تھے، عبد اللہ بن سعید التميمي تھے، جنہوں نے معتزلہ کو مامون کے دربار میں شکست دی اور اپنی فصاحت و بلاغت سے انہیں بے نقاب کیا۔"
ان نصوص سے واضح طور پر یہ ثابت ہوا کہ ابن کلاب سلف اور اہل سنت کے طریقے پر تھے۔
تیسری شبہہ کا جواب: اور وہ یہ ہے کہ امام نے اپنی آخری کتاب الإبانة میں اپنے مذہب سے رجوع کر لیا تھا۔
اس شبہ کا جواب کئی جہات سے دیا جا سکتا ہے۔
یہ شبہ اہل سنت کے نصوصِ متشابہات سے متعلقہ طریقۂ کار کو غلط اور ناقص فہم پر مبنی ہے۔ اہل سنت کے ہاں متشابہات سے متعلق دو طریقے پائے جاتے ہیں، جیسا کہ ہم اگلے مبحث میں وضاحت کریں گے۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ نص کو اس کے ظاہر پر تفویض کر دیا جائے اور اس کی تفسیر میں بحث نہ کی جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نص کی تفسیر اور تأویل ایسے صحیح معنی پر کی جائے جو شرعی اصولوں اور ضوابط کے مطابق ہو، اور یہ طریقہ بعض صحابہ کرام اور سلف صالحین نے اختیار کیا ہے۔
امام اشعری رحمہ اللہ نے اپنی کتب میں سلف کے ان دونوں طریقوں کو اپنایا ہے۔ ان کی کتاب الإبانة میں تفویض کا طریقہ نمایاں نظر آتا ہے، جو کہ جمہور سلف صالحین کا مسلک ہے۔ بعض لوگوں نے یہی سمجھا کہ انہوں نے اپنی سابقہ عقیدے کو چھوڑ کر سلف کے عقیدے کی طرف رجوع کر لیا اور ابن کلاب کے نظریات ترک کر دئیے۔
حق بات یہ ہے کہ ابن کلاب جیسا کہ ہم نے ثابت کیا سلف صالحین کے طریقے سے سرے سے ہٹے ہی نہیں تھے، بلکہ وہ خود انہی میں سے تھے اور اہل تفویض کے طریقے پر گامزن تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں نے انہیں حشویہ (ظاہری نصوص پر اصرار کرنے والے) کہہ کر متہم کیا، کیونکہ وہ بعض متشابہ نصوص کی تاویل میں بحث نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کے بارے میں تسلیم و تفویض پر اکتفا کرتے تھے۔
اسی وجہ سے حافظ ابن حجرؒ نے ابن کلاب کے بارے میں اس الزام کو رد کیا اور ان کے ترجمے میں فرمایا:
"مراد وہ لوگ ہیں جو آیات و احادیثِ صفات کی تاویل سے گریز کرتے ہیں اور انہیں بغیر کسی تشریح کے اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں، انہیں مفوضہ کہا جاتا ہے۔"
( لسان الميزان 3 /291)
جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام اشعری اپنے سابقہ عقائد سے رجوع کر چکے تھے، ان کے پاس الإبانة ہی وہ واحد دلیل ہے جس پر وہ اپنی رائے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مگر جب ہم الإبانة کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امام اشعری نے اس میں بھی ابن کلاب کے ہی طریقے کو اپنایا ہے۔
چنانچہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں
"امام اشعری نے اپنی کتاب الإبانة میں ابن کلاب ہی کے طریقے پر عمل کیا۔"
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن کلاب سلف کے طریقے پر تھے، اور امام اشعری اپنی زندگی کے آخری حصے میں بھی انہی کے طریقے پر قائم رہے۔
اس بات کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ بعض حنبلی علماء، خصوصاً بغداد کے حنابلہ، نے الإبانة کو امام اشعری سے تعصب کی بنیاد پر قبول نہیں کیا۔ اگر الإبانة حنابلہ کے نظریے کے مطابق ہوتی، تو وہ اسے رد نہ کرتے۔
مزید برآں، جو الإبانة آج چھپی ہوئی حالت میں دستیاب ہے، اس میں تحریف، کمی بیشی اور بعض مقامات پر الفاظ کی تبدیلی پائی جاتی ہے، لہٰذا اس کتاب میں موجود ہر چیز کو بلا تحقیق امام اشعری کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
شیخ وہبی غاوجی نے اپنے کتاب "نظرة علمية في نسبة كتاب الإبانة جميعه إلى الإمام أبي الحسن" میں امام زاہد الکوثری کی کتاب کا حوالہ پیش کرتے ہے۔ کہ امام کوثریؒ نے تبيين كذب المفتري پر اپنے حاشیے میں جب الإبانة کا ذکر کیا تو فرمایا:
"یہ کتاب تفویض کے طریقے پر ہے، جس میں مراد کی تعیین سے اجتناب کیا گیا ہے، اور یہی سلف کا مذہب ہے۔ امام اشعریؒ نے اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں کو تشبیہ کے گڑھے سے نکالنے کی کوشش کی جو بعض روایات کی وجہ سے اس میں مبتلا ہو گئے تھے، اور انہیں آہستہ آہستہ صحیح عقیدہ کی طرف لے جانے کا ارادہ کیا۔
جہاں تک متأخرین (خلف) کا تعلق ہے، تو ان کے ہاں محتمل معانی میں سے وہ معنی ترجیح دیے جاتے ہیں جو تنزیہ (اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے پاک ثابت کرنے) کے مطابق ہوں، اور اس میں قرائنِ کلام اور عربی زبان کے عام استعمال کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ پس، سلف اور خلف دونوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ متشابہ نصوص کو ان کے ظاہری معنی سے ہٹا کر اس تشبیہ سے پاک کیا جائے جو بظاہر سمجھ میں آتی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ سلف عمومی تأویل پر اکتفا کرتے ہیں اور مراد کے تعین میں احتیاط برتتے ہیں، جبکہ خلف کو اس بارے میں زیادہ وضاحت کرنی پڑتی ہے تاکہ ان مشبہہ (تشبیہ دینے والے) لوگوں کی تحریفات کا رد کیا جا سکے، جنہوں نے اپنے زمینی بت کو ایک آسمانی بت بنا دیا۔ ان دو گروہوں کے علاوہ کوئی تیسرا یا چوتھا راستہ نہیں۔ اور جو شخص ان میں سے چھٹا کوئی اور راستہ نکالے، وہ محض دھوکہ دے رہا ہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔
جہاں تک ہندوستان میں چھپنے والی الإبانة کی مطبوعہ نسخے کا تعلق ہے، تو وہ ایک محرف اور تصحیف شدہ نسخہ ہے، جس میں ناپاک ہاتھوں نے تحریف کی ہے، لہٰذا اسے کسی مستند اصل سے دوبارہ شائع کرنا ضروری ہے۔
شیخ عنایت علی الحیدر آبادی نے اپنی کتاب ضميمة الإبانة میں ایک طویل گفتگو کے بعد فرمایا:
" الکندري نامی بدباطن شخص نے یہ فتنہ اپنی خبیث رافضی سازش کے تحت کھڑا کیا، جس سے ظالم گروہ چاہے وہ معتزلہ ہو یا رافضہ بہتان اور جھوٹ گھڑنے کا موقع پا گیا۔ چنانچہ، غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے ان من گھڑت روایات کو ایجاد کرکے الإبانة میں شامل کر دیا، جو امام اشعریؒ کی آخری تصنیف شمار کی جاتی ہے، تاکہ امت میں ہمیشہ تفرقہ باقی رہے اور اس کی اصلاح نہ ہو سکے۔"
شیخ وہبی غاوجی نے اس موضوع پر ایک رسالہ تحریر کیا ہے جس کا عنوان ہے "نظرة علمية في نسبة كتاب الإبانة جميعه إلى الإمام أبي الحسن" (کتاب "الإبانة" کی مکمل نسبت امام ابو الحسن اشعری کی طرف ہونے کے بارے میں علمی نظر)۔اس رسالے میں انہوں نے علمی اور معروضی دلائل پیش کیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج کل لوگوں کے درمیان رائج الإبانة کا ایک بڑا حصہ درحقیقت امام اشعری کی طرف صحیح طور پر منسوب نہیں کیا جا سکے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں