بدعاتِ اہلحدیث
مولانا عبد الرحمٰن عابد صاحب حفظہ اللہ (قسط:۱)
پہلے مجھے پڑھیں :
شُمارہ نمبر 39
مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ وحدہ والصلوة والسلام علی من لا نبی بعدہ اما بعد!
ناظرینِ کرام!
جب انگریزوں نے مسلمانوں کے درمیان انتشار اور فساد پیدا کرنے، اور ان کے باہمی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوششیں شروع کیں، تو ان کا ایک اہم حربہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے لباس میں ایک ایسا گروہ تیار کیا جائے جو درحقیقت انگریزوں کا مکمل تابعدار ہو۔ چنانچہ انہوں نے ایک ایسی جماعت بنائی جس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر انگریز سرکار کی مکمل اطاعت کو اپنا دینی فریضہ قرار دیا۔
جیسے کہ اس جماعت کے سربراہ نواب صدیق حسن غیر مقلد اپنے آقا انگریز کے بارے میں لکھتے ہیں:
"اور حاکموں کی اطاعت اور رؤساء کا انقیاد، ان کی ملت میں سب واجبوں سے بڑا واجب ہے۔"
(ترجمانِ وہابیہ، صفحہ 29)
یعنی حکمرانوں (مراد انگریزوں) کی اطاعت اور ان کے تابع داری کو تمام واجبات سے بڑا واجب قرار دیا گیا ہے!
کیا خوب! صحابہ کرامؓ کی اتباع کوئی فرض نہیں، مگر انگریزوں کی تابعداری سب سے بڑا واجب ہے؟! یہ کون سا دین ہے؟
آگے لکھتے ہیں:
"بحیثیتِ موجودہ، سرکارِ انگریزی کی مخالفت کو قطعاً ناجائز لکھا ہے۔"
(ایضاً، صفحہ 48)
اس کے علاوہ بھی ان کی وفاداریوں کی ایک لمبی فہرست ہے، جسے ہم اس مختصر مضمون میں تفصیل سے نہیں لا سکتے۔ لیکن ان کی اپنی ہی کتابیں ان کے لیے گواہ ہیں۔
مثلاً غیر مقلدین کے ایک شیخ الاسلام ثناءاللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں:
"سرکاری دفتروں میں اہل حدیث کو وہابی لکھنے کی ممانعت ہے"
اور آگے ذکر کرتے ہیں کہ ہمارا یہ نام (اہل حدیث) انگریزوں سے ہمیں باقاعدہ عطا ہوا، مورخہ 3 دسمبر 1889ء نمبر 1758 کے تحت۔
صرف نام ہی نہیں، بلکہ انگریزوں نے انہیں القابات بھی دئیے۔ جیسے کہ غیرمقلدین کی ایک معتبر شخصیت ابراہیم سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں:
"حکومت کی طرف سے خطاب: 'شمس العلماء' کا خطاب ملا۔"
(تاریخ اہل حدیث، صفحہ 478)
اور یہ شخصیت کون ہیں؟ ایک اور غیرمقلد مؤرخ لکھتا ہے:
"علماء اہل حدیث کا سلسلہ برصغیر میں ان سے شروع ہوتا ہے۔"
(چالیس علماء اہل حدیث، صفحہ 28)
الغرض! یہ بدعتی فرقہ جو اپنے آپ کو "اہل حدیث" کہتا ہے، انگریزوں کی تقلید میں وہ بہت سی مخصوص خصوصیات رکھتا ہے۔ ان خصوصیات میں سے ہم صرف ایک کو چن کر زیرِبحث لا رہے ہیں:
یعنی یہ کہ یہ لوگ اپنے آپ کو "اہلِ سنت" کہلواتے ہیں، اور اپنے مخالفین پر ہر بات میں بدعت کا فتویٰ لگاتے ہیں۔
حالانکہ خود بڑے بڑے بدعات میں مبتلا ہیں، لیکن وہ بدعتیں انہیں نظر نہیں آتیں۔ یہ صرف ان کا طریقہ نہیں، بلکہ ہر باطل فرقے کا یہی وتیرہ رہا ہے۔ کوئی خود کو "سنی" کہتا ہے اور تمام اعمال بدعی ہوتے ہیں۔ کوئی خود کو "اہل بیت" کا علمبردار کہتا ہے، مگر ان کے خلاف ہی عمل کرتا ہے۔غیرمقلدین بھی بدعت کے خلاف بیانات تو بہت دیتے ہیں، لیکن اپنے بدعات کو کبھی بدعت تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو دکھائیں کہ غیرمقلدین بھی بریلویوں (رضاخانیوں) کی طرح بلکہ ان سے بھی بڑے بدعتی ہیں۔
فیصلہ اب منصف قارئین پر ہے کہ آیا ہم اپنی اس دعویٰ میں کامیاب ہیں یا نہیں؟ بلکہ ان کے اکابرین کے اپنے حوالوں سے واضح ہو جائے گا کہ وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے مسلک میں بدعت اور بدعتی موجود ہیں۔ہم نے ان کے اپنے اقوال سے وہ اقوال پیش کیے ہیں جن میں وہ کسی چیز کو بدعت کہتے ہیں، مگر وہی چیز ان کے گھروں میں موجود پائی جاتی ہے۔یہ تمام حوالے ہم اختصارا ذکر کرینگے ان شاءاللہ۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارا کسی سے کوئی ذاتی عناد نہیں، ہمارا مقصد صرف باطل کا رد ہے۔ ہم غیرمقلدین سے کہتے ہیں:
یا تو ان بدعات کو ختم کرو، یا پھر دلائلِ شرعیہ سے انہیں ثابت کرو، ورنہ دوسروں پر بدعت کا فتویٰ لگانا بند کرو۔
خود جو کام کرو، وہ جائز ہو، اور دوسرے کریں تو بدعت؟ یہ کیسا انصاف ہے؟
غیرمقلدین اس طرح اپنی جان نہیں چھڑا سکتے کہ "ہم نہیں مانتے!" اگر نہ ماننا ہی معیار ہے، تو پھر یہ لوگ صحابہ، انبیاء، بلکہ (نعوذباللہ) خدائے تعالیٰ کے کلام کو بھی نہ مانیں، تو کیا کہیے؟جو لوگ اپنے آپ کو "اہل حدیث" یا "غیرمقلد" کہتے ہیں، یا جنہیں دوسروں نے یہ لقب دیا ہے، ہم ان کی جماعت میں بدعات کو واضح کریں گے۔یہ "اہل حدیث" کا لبادہ اوڑھ کر ایسے ایسے بدعات کر رہے ہیں کہ بریلوی بھی ان سے پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ سب کچھ وہ خود بھی تسلیم کر چکے ہیں۔بریلوی اگر بدعت کرتے ہیں، تو وہ تسلیم بھی کرتے ہیں کہ یہ بدعت ہے، اور شریعت میں موجود نہیں تھی، بلکہ بعد میں ایجاد ہوئی۔
مثلاً اذان کے وقت "الصلاة والسلام علیک یا رسول اللہ" یا میلاد کے مخصوص انداز۔
مگر غیرمقلدین کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی بدعتوں کو بدعت نہیں مانتے، بلکہ ظلم پر ظلم یہ کہ قرآن و حدیث سے اس کے لیے دلائل بھی گھڑ لیتے ہیں، ایسے دلائل جن کا امت مسلمہ کے وہم و گمان میں بھی گزر نہ ہو!اسی لیے ہم خیرخواہی کے طور پر غیرمقلدین کو دعوت دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو "سنت کا محافظ" نہ سمجھیں، بلکہ تعصب اور ضد سے نکلیں، اور ہمارا یہ مضمون کھلے دل سے پڑھیں اور اپنے اس "بدعی غیرمقلدیت" مسلک کو خیرآباد کہیں، جو کہ اجتہاد کے بغیر گھڑا گیا ہے، اور اپنے اسلاف کے طریقے کو اختیار کریں۔ہم نے یہ تمام مواد ان ہی کی کتابوں سے پیش کیا ہے تاکہ انکار کا کوئی موقع نہ رہے۔ اگر کوئی شخص پھر بھی انکار کرے تو اسے اپنے اکابرین پر شک کرنا پڑے گا، اور خود اس کا مسلک بھی خطرے میں آ جائے گا۔ہم دعوت دیتے ہیں کہ دین کے معاملے میں اپنی رائے کو نہ، بلکہ اہل حق کے طریقے کو اختیار کریں۔ اور ان باطل عقائد سے سچی توبہ کریں جو اس مسلکِ غیرمقلدیت نے آپ پر تھوپ رکھے ہیں۔
تفصیل کے لیے ہماری کتاب "غیرمقلدین کے گمراہ کن عقائد" کا مطالعہ کریں۔ یہی ہماری دعوت ہے، آپ نے پڑھ لیا، اب ماننا یا نہ ماننا آپ کا اختیار ہے۔
کل قیامت کے دن یہ نہ کہیے گا کہ ہمیں خبر نہ تھی۔
آخر میں ہم یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ جہاں ہم نے "غیرمقلد" کا لفظ استعمال کیا ہے، وہاں ہماری مراد وہ گروہ ہے جو اجتہاد کی صلاحیت نہیں رکھتا اور پھر بھی ائمہ اربعہ کے تقلید کو رد کرتا ہے۔جہاں "اہل حدیث" کا لفظ آیا ہے، ہماری مراد محدثینِ کرام (رحمہم اللہ) نہیں، بلکہ وہ متاخرین ہیں جنہیں خود ثناء اللہ امرتسری اور عبدالمجید سوہدروی نے غیرمقلد لکھا ہے، اور انگریزوں نے انہیں "اہل حدیث" کا لقب دیا۔
(اہل حدیث کا مذہب، صفحہ 102، سیرت ثنائی، صفحہ 452)
اور امین اللہ پشاوری کے بقول، "اہل حدیث" اب ایک خاص تنظیم کا لقب ہے۔ (الحق الصریح 1/446)
پس اگر یہ فرقہ حق قبول نہیں کرتا جیسا کہ ان کا پرانا وطیرہ ہے تب بھی کم از کم کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے جو ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہوں گے، یا جزوی متاثر ہوں گے، وہ تو حق کی طرف آ ہی سکتے ہیں اور جن غیرمقلدین کو ہماری تحریر سے رنج پہنچے، ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ اسے اپنے لیے خیر کا پیغام سمجھیں۔واللہ! ہمیں آپ سے کوئی ذاتی بغض نہیں۔ہم نے جو کچھ آپ کی کتابوں میں پڑھا، وہی بیان کیا۔اگر کوئی زیادتی ہو گئی ہو، تو ہمیں اطلاع دیں، ہم اعتراف اور معذرت میں دیر نہ کریں گے۔
آمدم برسرمقصد :
آئیے اور اپنا مقصدی بحث شروع کرتے ہیں بعونہ تعالی
۱: تراویح اور تہجد کو ایک ہی نماز قرار دینا
غیر مقلدین کا یہ بدترین بدعتی نظریہ ہے کہ وہ تراویح اور تہجد کو (تمام جہات سے) ایک ہی نماز شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر ان کے پاس کوئی صریح آیت یا واضح مرفوع حدیث (سلف کے فہم کے مطابق) ہو جس میں تراویح اور تہجد کو ایک ہی نماز قرار دیا گیا ہو تو وہ پیش کریں... ورنہ خاموشی ہی بہتر ہے!
۲: تراویح اور وتر کو ایک قرار دینا
غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتے ہیں:
"تراویح، تہجد، قیام اللیل، قیام رمضان اور وتر ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔"
(تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ، صفحہ 16)
اسی طرح عبدالرؤف سندھو صاحب لکھتے ہیں:
"معلوم ہوا کہ آپ کا قیام اللیل (تہجد) رمضان میں قیام رمضان (تراویح) سے بدل گیا، یعنی رسول اللہ ﷺ جو تہجد اور وتر غیر رمضان میں نیند سے اٹھ کر پڑھتے تھے، رمضان میں وہی تہجد اور وتر نیند سے قبل عشاء کے بعد تراویح کے نام سے پڑھ لیتے تھے۔"
(القول المقبول فی تخریج صلاۃ الرسول، صفحہ 607)
قاری لیاقت علی باجوہ صاحب غیر مقلد لکھتے ہیں:
"بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس حدیث کا تعلق تہجد سے ہے، حالانکہ تہجد، تراویح، قیام اللیل، قیام رمضان، وتر یہ سب ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔"
(پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث کراچی، 18 مئی 2018ء، جلد 100، شمارہ 17)
حافظ عبدالرحمن منیجر رحمانی لکھتے ہیں:
"جو نماز عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے درمیانی رات میں پڑھی جاتی ہے، اس کے کئی نام ہیں: قیام اللیل، وتر، نفل، تطوع، تہجد وغیرہ۔"
(رحمانی نماز، صفحہ 185)
ان تمام حوالوں کا خلاصہ یہ ہے کہ غیر مقلدین تراویح اور وتر کو ایک ہی نماز سمجھتے ہیں، حالانکہ کسی بھی سلفِ صالحینؒ سے ایسا دعویٰ منقول نہیں۔ یہ بھی ان کی ایجادی بدعات میں سے ایک ہے۔ خود ان کے ہاں وتر کو سنت مؤکدہ مانا جاتا ہے، اور اسے سحری کی سنتوں جیسی اہمیت دیتے ہیں (رسول اکرم کا صحیح طریقہ نماز، ص: 569 از رئیس ندوی غیر مقلد)، جب کہ تراویح کو نفلی نماز سمجھتے ہیں (الحق الصریح، 1/406 از امین اللہ بشاوری)۔چنانچہ اگر کوئی تراویح نہ پڑھے تو ان کے نزدیک کوئی حرج نہیں! (تذکرہ مولانا غلام رسول، صفحہ 59 از مولانا اسحاق بھٹی غیر مقلد)۔
یعنی دعویٰ کچھ اور، عمل کچھ اور...!
۳: بے وضو یا ناپاک حالت میں قرآن کو چھونا
غیر مقلدین کے نزدیک قرآنِ کریم کو چھونے کے لیے وضو یا طہارت شرط نہیں۔ (نزل الأبرار، جلد 1، صفحہ 9، و عرف الجادی، صفحہ 15)
عبدالعزیز نورستانی لکھتے ہیں کہ قرآن کو طہارت سے چھونا فرض ہونا منقول نہیں۔لہٰذا ان کے نزدیک حیض و نفاس کی حالت میں بھی قرآن کو چھونا جائز ہے کیونکہ اس کی ممانعت کسی واضح اور صریح حدیث سے ثابت نہیں۔
(صحیح نماز نبوی، ص 64 از عبدالرحمٰن عزیز بنظر ثانی و مبشر احمد ربانی)۔
۴: ایک ہاتھ سے مصافحہ سنت، دونوں سے بدعت!
غیر مقلدین ایک ہاتھ سے مصافحہ کو سنت اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کو بدعت کہتے ہیں العیاذ باللہ۔ حالانکہ یہ خود ان کا گھڑا ہوا نظریہ ہے۔ اگر اس پر اصرار کریں تو انہیں محدثین کے ابواب اور اسمِ جنس کی تعریف یاد رکھنی چاہیے تاکہ پریشان نہ ہوں...!
۵: قربانی میں غیر مسلم کی شرکت
غیر مقلدین کی ایک اور بدعت یہ ہے کہ یہ لوگ غیر مسلم (مرزائی) کے ساتھ قربانی میں شرکت کو ناجائز نہیں کہتے۔
"مرزائی کی شرکت کے متعلق بھی حرام کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔"
(فتاویٰ علمائے حدیث، جلد 13، صفحہ 89)
اسی طرح:
"ذبیحہ اہل تشیع کا کھانا حلال ہے۔"
(فتاویٰ نذیریہ، جلد 3، صفحہ 317)
۶: غیر مسلم کے پیچھے نماز پڑھنا
غیر مقلدین کے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں:
"میرا مذہب اور عمل ہے کہ ہر کلمہ گو کے پیچھے اقتداء جائز ہے، چاہے وہ شیعہ ہو یا مرزائی۔"
(اخبار اہل حدیث، 12 اپریل 1915ء؛ فتاویٰ امام ربانی، ص 50)
مولانا عبدالعزیز غیر مقلد لکھتے ہیں:
"آپ (ثناء اللہ) نے لاہوری مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھی، فتویٰ دیا کہ ان کے پیچھے نماز جائز ہے"
(فیصلہ ء مکہ، ص 36)
ایسا ہی فتویٰ غیر مقلد عبد اللہ غازی پوری نے بھی دیا ہے (مجموعہ فتاویٰ، ص 24)۔
۷: غیر مسلم عورت سے نکاح
غیر مقلدین کے نزدیک مرزائی عورت سے نکاح بھی جائز ہے۔
ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں:
"اگر عورت مرزائی ہے تو ممکن ہے علماء کی رائے مخالف ہو، مگر میرے ناقص علم میں نکاح جائز ہے۔"
(اخبار اہل حدیث، امرتسر، 2 نومبر 1933ء؛ بحوالہ ترکِ تقلید کے بھیانک نتائج، ص 54)
ہم غیر مقلدین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایک بھی آیت یا حدیث (جو ان کے نزدیک حجت ہو) پیش کریں جس سے غیر مسلم عورت سے نکاح کا جواز ثابت ہو ورنہ ان کا پورا مذہب بدعتوں کا مجموعہ ہے۔
۸: جمعہ کے خطبہ میں غیر عربی زبان کا استعمال
غیر مقلدین جمعہ کے دن خطبہ عربی کے بجائے اردو، پشتو، فارسی وغیرہ میں دیتے ہیں۔ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کوئی آیت یا حدیث (فہم سلف کے مطابق) پیش کریں جس سے غیر عربی میں خطبہ دینے کی اجازت ثابت ہو۔
۹: مرغی کی قربانی کا جواز
غیر مقلد مفتی عبدالستار لکھتے ہیں:
"شرعاً مرغی کی قربانی جائز ہے۔"
(فتاویٰ ستاریہ، جلد 2، ص 72)
رئیس ندوی لکھتے ہیں:
"مرغا، مرغی وغیرہ کی قربانی کو جائز کہنے والے بہت پرانے زمانے سے موجود ہیں۔"
(ضمیر کا بحران، ص 284)
مولانا اسماعیل سلفی لکھتے ہیں:
"بعض صحابہ مرغی اور انڈے کی قربانی جائز سمجھتے تھے۔"
(فتاویٰ سلفیہ، ص 108)
یہ صحابہ کرامؓ پر جھوٹ باندھنا نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر واقعی ایسا قول ہے تو صحیح سند سے ثابت کریں، ورنہ صحابہ پر بہتان ہوگا۔
۱۰: انڈے کی قربانی کا جواز
غیر مقلدین کے نزدیک انڈے کی قربانی بھی جائز ہے۔
مفتی سے سوال ہوا:
"کیا مرغ یا مرغی کے انڈے کی قربانی ہو سکتی ہے؟"
جواب:
"حدیثِ جمعہ میں آیا ہے کہ جو شخص سب سے پہلے جمعہ کے لیے آتا ہے، اسے اونٹ کی قربانی کا ثواب، اس کے بعد آنے والے کو گائے، پھر بکری، پھر مرغی، اور پھر انڈے کی قربانی کا ثواب ملتا ہے۔"
(فتاویٰ ستاریہ، جلد 4، ص 140)
مولانا اسماعیل سلفی نے بھی یہی بات لکھی ہے (جیسا کہ اوپر گزر چکا)۔یہ فتوے نہ صرف بدعت ہیں بلکہ دینِ اسلام کے سنجیدہ احکام کا مذاق اڑانا ہے۔
( جاری)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں