مسئلہ صفات باری تعالیٰ اور مختلف فرقوں کا وجود
مولانا خیر الامین قاسمی صاحب حفظہ اللہ
شُمارہ نمبر
مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت 39
اردو زبان میں بخاری شریف کی مختلف شروحات موجود ہیں لیکن جو دقت عمق اور مستند باتیں دارلعلوم دیوبندکے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سعیداحمدپالن پوری رحمہ اللہ کی شرح تحفۃ القاری میں ملتی ہے وہ اسی کاخاصہ ہے، راقم چونکہ آج کل ایک تصنیفی کام " الدراسات علی کتب الستة " کے کام میں حضرت الاستاد مولانا محمودعالم صفدراوکاڑوی زیدمجدہ کے ساتھ ان کاہاتھ بٹھاتا ہے تو مختلف شروحات زیرمطالعہ ہیں ،مسئلہ صفات باری تعالی کے متعلق ایک اہم مضمون اور سبق تحفۃ القاری میں نظر سے گزری ، بہت فایدہ اٹھایا اور لذت محسوس کی توارادہ ہوا کہ یہ سبق مجلہ راہ ہدایت کے قارئین کرام کے نظر کردوں۔حضرت مفتی سعیداحمدپالنپوریؒ لکھتے ہیں :
" اللہ تعالیٰ کی صفات دو طرح کی ہیں۔ایک : وہ صفات ہیں جن کی مخلوق سے مشابہت نہیں ، جیسے اللہ ایک ہیں ، اللہ بے نیازہیں ، دوسری : وہ صفات ہیں جومخلوق سے مشابہت رکھتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ سنتے ہیں ، اللہ دیکھتے ہیں ، اللہ کاہاتھ ہے ، اللہ کاچہرہ ہے ، رات کے آخری حصہ میں سمایے دنیاپراترتے ہیں ، اور ہم بھی سنتے ہیں ، دیکھتے ہیں ، ہمارا بھی ہاتھ ہے ، چہرہ ہے اور ہم بھی اوپر سے نیچے اترتے ہیں ، پس جو صفتیں مخلوق کے مشابہہ نہیں وہ تو زیر بحث نہیں آییں مگر جو صفتیں مخلوق کی صفات کے مشابہہ ہیں وہ زیر بحث آییں کہ ان صفات کاکیامطلب ہیں ؟ اور صفات متشابہات میں اختلاف کی وجہ سے مختلف فرقے وجود میں آئے:
1)....معتزلہ نے صفات باری تعالی کاانکار کردیا مگر صاف انکار نہیں کیا ، بلکہ یہ کہا کہ اللہ کی صفات اللہ کی ذات کاعین ہیں ، یعنی صفات باری تعالی کانہ الگ کویی مفہوم ہے نہ وجود، اللہ کی ذات ہی ان صفات کامنبع ہے ، قرآن کریم کے قدیم وحادث ہونے کا مسئلہ اسی پر متفرع ہے۔
2.../معطلہ نے گول مول صفات کاانکار نہیں کیا بلکہ صاف کہا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات متشابہات نہیں ہیں ، کیونکہ ان سے اللہ تعالیٰ کامخلوق کے مشابہہ ہونا لازم آتاہے درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہیں ، پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کو صفات سے معطل کردیا۔اس لیے وہ معطلہ ( اسم فاعل) کہلایے اور یہ بھی معتزلہ ہی کافرقہ ہے۔
3)......ان کے برخلاف مجسمہ اور مشبہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کاہماری طرح جسم ہے ، ہاتھ پیر اور چہرہ ہے اور ان کی صفات مخلوق کی صفات کی طرح ہیں۔۔( مجسمہ اور مشبہ دونوں اسم فاعل واحد مونث ہیں یعنی اللہ کے لیے جسم ماننے والے اور اللہ کو مخلوق کے مشابہہ قرار دینے والے ) ۔
4)....اور اہل السنت والجماعت کاعقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفتیں قرآن وحدیث میں آئی ہیں وہ سب صفتیں اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں مگر وہ مخلوق کی صفات کی طرح نہیں ، رہی یہ بات کہ اللہ کی یہ صفات کیسی ہے ؟ تو اہل السنّۃ نے کہا ہم ان کیفیت نہیں جانتے ( کیفیت مجہول ہیں یہ بات صحیح نہیں بلکہ کیفیت منتفی ہے ۔انظر محاضرات فی العقیدة وعلم الکلام للشیخی وسندی شیخ سجادالحجابی صاحب حفظہ اللہ ) بس بالاجمال یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔
(تحفۃ القاری ج1/ 179)
صفت کلام میں ایک معرکۃ الآراء اختلاف
قرآن کے مخلوق ہونے کاعقیدہ :
”کلام بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے سب سے پہلے یہ صفت زیربحث آیی ۔اور اسی مسلہ کی وجہ سے علم التوحید والصفات کانام علم کلام پڑگیا۔۔قرآن کریم میں ہے " وکلم اللہ موسی تکلیما" اللہ تعالیٰ نے موسی سے کلام فرمایا ، تکلیما مفعول مطلق تاکید کے لیے ہے ، اس میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی ، پس اللہ تعالیٰ کے صفت کلام ثابت ہوئی، اور اس صفت کاپیکر محسوس قرآن کریم ہے ، دیگر صفات کا کوئی پیکرمحسوس نہیں ، جیسے اللہ تعالیٰ سمیع ہیں تو اس کی کوئی نظر آنے والی صورت نہیں ، یہی حال صفت بصیر کاہے ، اس کابھی کوئی پیکر محسوس نہیں ، مگر صفت کلام کاپیکر محسوس ہے اس لیے یہ صفت زیر بحث آئی۔
معتزلہ نے کہا : قرآن اگرچہ اللہ تعالیٰ کاکلام ہے مگر یہ قدیم نہیں حادث ہے اور ان کے نزدیک صفت کلام کامطلب کسی محل میں کلام پیداکرناہے ۔قرآن بھی اللہ تعالیٰ قاری کی زبان پر پیدا کرتے ہیں اس لیے وہ مخلوق اور حادث ہے ۔ اہل السنّۃ والجماعۃ نے کہا قرآن کریم چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کاپیکر محسوس ہے اس لیے وہ قدیم اور غیرمخلوق ہے اگر قرآن حادث ہوگا تواللہ کی صفت کلام کاحادث ہونا لازم آیے گا اور اللہ کا کوئی صفت حادث نہیں ہوسکتی ، ورنہ اللہ تعالیٰ کامحل حوادث ہونالازم آیے گا جوباطل ہے۔“
(تحفۃ القاری 1/180)
اہل حق کی دو جماعتیں : اشاعرہ اور ماتریدیہ
”اشاعرہ کے سرخیل امام ابوالحسن اشعریؒ ہیں۔آپ صحابی رسول حضرت ابوموسی اشعری ؓ کی نسل سے ہیں ، اسی وجہ سے اشعری کہلاتے ہیں۔ماتریدیہ کے سرخیل امام ابومنصورماتریدی ؒ المتوفی 333ھ ہیں ، ماترید ماوراء النہر کی ایک بستی ہے آپ نے معتزلہ کے عقاید جوقرآن وسنت کے خلاف تھے ان کوبرملا ظاہر کیا اور ان کی پرزور تردید کی۔شیخ ابومنصورماتریدی رح فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے اور شیخ ابوالحسن شافعی ۔اس وجہ سے اصول وعقاید میں شوافع عمومًا اشعری ہوتے ہیں اور احناف ماتریدی۔اشاعرہ اور ماتریدیہ کے درمیان بارہ مسائل میں اختلاف ہے حوسب فروعی ( غیراہم ) مسائل ہیں۔بنیادی کسی مسئلہ میں اختلاف نہیں ، ان بارہ مسائل کو علامہ احمد بن سلیمان معروف بہ ابن کمال پاشا رح نے ایک رسالہ میں جمع کیاہے وہ رسالہ رحمۃ اللہ الواسعہ جلداول کے شروع میں بعینہ شائع کیاگیاہے اس کامطالعہ کرناچاہیے۔ان دونوں جماعتوں کوسب سے پہلے صفت کلام کی بحثوں سے واسطہ پڑا ، معتزلہ نے یہ مسئلہ چھیڑ رکھاتھا وہ چونکہ صفات باری تعالی کے منکر تھے ، صفات کو عین ذات مانتے تھے یاان کی تاویل کرتے تھے اس لیے نھوں نے قرآن پاک کواللہ کی صفت قدیم ماننے سے انکارکیا اور کلام اللہ کوحادث کہا ۔متکلمین نے دیگر صفات متشابہات کی طرح صفت کلام کی کلام نفسی سے تاویل کی جو اہل السنّۃ کے امام حضرت امام احمدبن حنبل رح کوپسندنہ آئی ، انہوں نے بغیرتاویل کے کلام اللہ کواللہ کی صفت قراردیا اور اس کوقدیم کہا اسی طرح ان کا الگ مسلک وجودمیں آیا۔
(تحفۃ القاری 1/181,182)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں