احادیث کے رد و قبول میں غیرمقلدین کی من مانیاں
مفتی رب نواز صاحب حفظہ اللہ (قسط:۱)
مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت
شُمارہ نمبر 36
احادیث کے رد و قبول میں غیرمقلدین کی من مانیاں
شیخ البانی کی من مانیاں
احادیث کے رَد و قبول میں من مانیوں کی غیرمقلدانہ داستان بہت لمبی ہے۔ ہم اس کی ابتداء شیخ البانی سے کرتے ہیں ۔ایک تو اس لئے کہ غیرمقلدین کے ہاں البانی سب سے زیادہ قدآور اور بے مثال شخصیت ہیں اور ان کے بقول ایساعالم صدیوں بعد پیدا ہوا ہے۔حوالہ جات آگے آنے والے عنوان ’’ احادیث کی تصحیح و تضعیف میں من مانیاں کرنے والے شیخ البانی کو غیرمقلدین کا خراجِ تحسین ‘‘کے تحت نقل کروں گا، ان شاء اللہ ۔
دوسرا یہ کہ آج کل غیرمقلدین کی کتب جو منظر عام پہ آرہی ہیں، ان میں تصحیح و تضعیف کی بابت شیخ البانی کا فیصلہ نقل کیا جاتا ہے جیسا کہ آگے غیرمقلدین کا اپنا اعتراف ہم باحوالہ ذِکرکریں گے ان شاء اللہ ۔
البانی کا کوئی اُصول یا قاعدہ نہیں تھا
شیخ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتے ہیں :
’’ البانی صاحب کسی طبقاتی تقسیم مدلّسین کے قائل نہیں تھے بلکہ وہ اپنی مرضی کے بعض مدلّسین کی معنعن روایات کو صحیح اور مرضی کے خلاف بعض مدلسین(یا ابریاء من التدلیس)کی معنعن روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کاکوئی اصول با قاعدہ نہیں تھا۔ ‘‘
(علمی مقالات: ۳؍۳۱۷)
علی زئی صاحب کی مذکورہ عبارت ان کی کتاب ’’ توضیح الاحکام المعروف فتاویٰ علمیہ : ۲؍۳۳۰ ‘‘ ...اور .. . ’’نور العینین صفحہ ۳۸۸‘‘ طبع جدید پر بھی موجود ہے ۔
تصحیح و تضعیف کا اصول بھی من مانا تھا
شیخ ابو الا شبال شا غف غیر مقلد نے البا نی کے متعلق لکھا :
’ ’ تصحیح و تضعیف کا اصول بھی ان کے نز دیک من مانا تھا کوئی مسلمہ اصول نہیں تھا ۔ اور یہی وجہ ہے کہ کسی حدیث کو ایک جگہ ضعیف قرار دیا تو دوسری جگہ اس کی تصحیح کر دی کسی جگہ کسی راوی کو ثقہ قرار دیا تو دوسری جگہ ضعیف اور اس کی بے شما ر مثالیں ان کی تحریروں میں مل سکتی ہیں۔‘‘
( مقالا ت ِ شا غف صفحہ ۲۶۷، اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
سنن اربعہ پر طبع آزمائی
علامہ البا نی نے سنن اربعہ کے دو دو حصے کر دئیے جو صحیح نسائی ۔ضعیف نسائی۔ صحیح تر مذی ،ضعیف ترمذی۔ صحیح ابو داود ، ضعیف ابو داو د اور صحیح ابن ماجہ ، ضعیف ابن ماجہ کے نام سے شائع ہیں ۔ ضعاف کے مجمو عہ میں ایک انداز ہ کے مطا بق قریباًتین ہزار حدیثوں کو شامل کیا ۔ البانی کی ا س جسارت پر خود ان کے اپنے بھی کچھ نہ کچھ لکھنے پہ مجبور ہو گئے ۔
چنانچہ ابو الا شبال شا غف غیر مقلد نے لکھا:
’’ شیخ البا نی نے بخاری و مسلم کی بعض روایتوں کو سلسلہ ضعیفہ اور مو ضوعہ میں درج کر دیا ۔ بقیہ کتب ستہ میں سے ۴ کو دو حصو ں میں تقسیم کر کے صحیح اور ضعیف کے نام سے اسناد حذف کر کے شائع کر ادیا ۔ جہلا ء نے سمجھ لیا کہ آج تک اس ٹکر کا کوئی محدث گزرا ہی نہیں، لہٰذ ا کسی حدیث کو صحیح ماننے کے لیے شیخ البا نی کی تصحیح لازمی ہے ‘‘ ۔
( مقالاتِ شاغف ص ۳۶۳، اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
غیر مقلدین کے ’’ فضیلہ الشیخ حضرت مولانا حافظ ‘‘ محمد امین(تقویۃ الا یما ن ماموں کا نجن) لکھتے ہیں:
’’ کچھ عر صہ سے اہل حدیث یا محدثین کے نام پر ایک نیا انداز ِ فکر متعارف کرو ایا جا رہا ہے ۔ جسے اہل ظاہر یا خوارج کا اند از فکر کہا جا سکتا ہے۔ جس میں اعتدال نام کی کوئی چیز نہیں بلکہ انتہا پسند انہ رویہ اختیار کیا جا تا ہے۔ تشد د کو پسند ید ہ خیال کیا جاتا ہے بعض متشد دین محد ثین کے اصول جنہیں جمہور محدثین نے تر ک کر دیا تھا دو بارہ نافذ کیے جا رہے ہیں معتبر احاد یث کو سند میں معمولی ضعف کی وجہ سے غیر معتبر قرار دے کر ان پر عمل کرنے کو نا جا ئز قرار دیا جا رہاہے جب کہ جمہور محدثین نے ان احادیث کو شو اہد اور قبولیت کی وجہ سے حسن قرار دے کر قابلِ عمل قرار دیا تھا صحاح ستہ میں اس قسم کی احادیث کی عظیم مقدار کو با قا عدہ ’’ ضعاف ‘‘ کے عنوان سے الگ جمع کر دیا گیا ہے اور عوام الناس کو ان پر عمل نہ کرنے کی تلقین کی جارہی ہے، حالاں کہ اصول ِ حدیث کے لحاظ سے متا خر محدثین کی تصحیح و تضعیف معتبر نہیں ۔‘‘
( نما ز کے بعددعا ئے اجتماعی صفحہ ۱۲۰، تالیف ابو مسعود مولانا عبد الجبار سلفی غیرمقلد)
مولانا عبد الصمد رفیقی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ میرے پیارے چچاجان ابو محمد عبد السلام کیلانی رحمہ الہ بھی امام البانی رحمہ اللہ کے فیض یافتگان میں سے تھے ۔ شاگرد ہونے کے باوجود کہنے لگے : حدیثوں کی تحقیق و تخریج تو ٹھیک ہے مگر سنن اربعہ میں سے ہر کتاب کو صحیح اور ضعیف حصوں میں تقسیم کرنا صحیح نہیں ۔ میں نے پوچھا : وہ کیوں ؟ کہنے لگے : تحقیق و تخریج کے نتیجے میں جب بندہ کسی حدیث پر حکم لگاتا ہے تو وہ عموماً اجتہادی ہوتا ہے جس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے ، لیکن جب آپ (مثلاً) سنن ابی داود کی صحیح حدیثوں کو الگ اور ضعیف حدیثوں کو الگ کریں گے تو گویا یہ بالواسطہ طور پر اس بات پر اصرار ہے کہ جن حدیثوں کو میں نے صحیح کہہ دیا ہے ، یہ ضعیف ثابت نہیں ہوسکتیں اور جن کو ضعیف کہہ دیا ہے ،وہ اَب ہمیشہ کے لئے ضعیف ہیں ۔ ‘‘
( اشاعۃ الحدیث حضرو ،اشاعتِ خاص بیاد شیخ زبیر علی زئی صفحہ ۳۲۱)
اوپر ہم بتا چکے کہ شیخ البانی نے سنن اربعہ کے ٹکڑے کئے ہیں۔اس کاروائی پراُن کے مداحوں نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
مقالہ نگار جناب عبد المنان لکھتے ہیں:
’’بارہ سو سال بعد شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ایسا وقیع کام سر انجام دیا کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کھوٹے اورکھرے کی شناخت کرنا آسان ہو گئی۔‘‘
( تحقیق ِ حدیث میں شیخ البانی اور حافظ زبیر علی زئی کے معیارات کا تقابلی مطالعہ صفحہ ۳)
ابو حماد عبد الغفار مدنی (جدہ ،سعودی عرب ) نے البانی کے متعلق لکھا :
’’ . جاتے جاتے صحیح احادیث و ضعیف اور موضوع روایتوں کا الگ الگ کئی جلدوں پر مشتمل ایسا عمدہ امت کے دے گئے کہ اُمت کا کوئی صاحبِ علم و تحقیق ان سے مستغنی نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘
( سخن ہائے مترجم :سلفیت تعارف و حقیقت صفحہ ۹)
مولانا محمد اسلم سندھی غیرمقلد( شہداد پور سندھ )لکھتے ہیں:
’’ یہ ایک حقیقت ہے کہ ’’ الناس اعداء ماجھلوا ‘‘ لہذا جو لوگ فن اسماء الرجال اور اصول ِ حدیث سے بے بہرہ ہوتے ہیں ، وہ ان علمائے کرام سے بغض و عداوت رکھتے ہیں جنہوں نے اس علم کے لئے اپنی زندگیاں صرف کر دی ہوتی ہیں ۔ ایک ایسے ہی شیخ الحدیث صاحب کا سنا ہے جو کئی سالوں سے صحیح بخاری پڑھا رہے ہیں اور وہ اپنے درس میں شیخ البانی پر ہمیشہ تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے صحیح اور ضعیف احادیث کو الگ الگ کیوں کیا ہے ؟ جو لوگ کام نہیں کر سکتے وہ کام کرنے والوں پر بے جا تنقید کرتے ہیں یا کم اَز کم ان کی محنت کی بے قدری ضرور کرتے ہیں ، یا پھر اندر ہی اندر جلتے ضرور ہیں ۔ ‘‘
( اشاعۃ الحدیث حضرو ، اشاعت خاص بیاد شیخ زبیر علی زئی صفحہ ۱۹۴)
اس عبارت میں دو باتیں ہیں ایک یہ کہ غیرمقلدین کے شیخ الحدیث نے تاثر دیا کہ شیخ البانی کا کتب حدیث کے ٹکڑے کرکے صحیح اور ضعیف میں تقسیم کرنا غلط حرکت ہے۔ دوسرا یہ کہ اسلم صاحب کے بقول فن حدیث سے بے بہرہ لوگ ہی البانی پر تنقید کیا کرتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ انہوں نے البانی پہ تنقیدکرنے والے کو ’’شیخ الحدیث ‘‘ قرار دیا ۔مطلب یہ کہ فن حدیث سے بے بہرہ شخص بھی ان کے نزدیک ’’شیخ الحدیث ‘‘ ہو سکتا ہے ۔
مسلمہ کتب حدیث پر خنجر آزمائی
ابو الا شبال شاغف بہاری غیر مقلد لکھتے ہیں:
’’ کاش البانی صاحب ... مسلمہ کتب احا دیث پر نقد و تنقید سے پر ہیز کر تے تو ان کے حق میں بھی اچھا ہوتا اور دوسروں کے حق میں بھی لیکن تنقید کا تیر کمان سے نکل چکا ہے جس
نے دوسروں کو توز خمی کیا ہی خود تیر چلانے والا بھی زخمی ہوا۔‘‘
(مقالاتِ شاغف صفحہ ۳۲۲، اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
مر دود قاعد ہ کا سہارا
ایک روایت کا مفہوم ہے کہ سجد وں سے فراغت پر جب رکعت کے لیے اٹھیں تو آٹا گوندھنے کی طرح مٹھی بند کر کے اٹھیں ۔ شیخ زبیر علی زئی غیر مقلداِس روایت کی تحقیق میں لکھتے ہیں:
’’ ابو اسحاق الحربی کی روایت مذکورہ کا ایک راوی ہیثم بن عمران الدمشقی ہے ۔ جسے ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی ثقہ قرار نہیں دیا۔ لہٰذا یہ راوی مجہول الحال ہے حدیث کے عام طالب عالموں کوبھی معلوم ہے کہ مجہول الحال کی منفرد روایت ضعیف ہوتی ہے... ہیثم بن عمر ان کی توثیق ثابت کرنے کے لیے شیخ البانی رحمہ اللہ نے جو قاعدہ بنا یا ہے وہ کئی وجہ سے مردودہے مثلاً:……‘‘
(توضیح الا حکام : ۱؍ ۳۸۲)
ثقہ راویوں کو مجہول قرار دینے کی مہربانی
شیخ زبیر علی زئی لکھتے ہیں :
’’ شیخؒ البا نی پر تعجب ہے کہ عجلی ، ابن حبان ، ابن خزیمہ ، تر مذی، اور حاکم کی توثیق کے با وجود مر جانہ مذکورہ کو مجہولہ سمجھتے تھے ۔ ‘‘
(توضیح الا حکام: ۱؍ ۲۶۲)
علی زئی صاحب ، ابن ماجہ کی ایک روایت کے متعلق لکھتے ہیں :
’’ اس روایت کے راوی مو ثربن عفا زہ ثقہ تھے، انہیں امام عجلی ، حافظ ابن حبا ن اور حاکم وغیر ھم نے ثقہ قرار دیا ہے، لہٰذا شیخ البانی رحمہ اللہ کا انہیں مجہول قرار دینا غلط ہے۔ ــ‘‘
( علمی مقالات : ۳ ؍۴۴۰)
حدیث پر ہاتھ صاف کرلیا
شیخ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتے ہیں :
’’ شیخ محمد نا صر الدین الالبانی رحمہ اللہ کا تد لیس کے بارے میں عجیب و غریب مو قف تھا... بلکہ شیخ البانی نے ابو قلابہ کی معنعن حدیث پر ہاتھ صاف کر لیا۔ البانی نے کہا : اس کی سند ابو قلابہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے اور وہ تد لیس کے ساتھ مذکور ہے...‘‘
( علمی مقالا ت : ۳ ؍ ۳۱۷)
افسانے کی بنیاد پر جر ح
شیخ ابو الا شبال شا غف غیر مقلد لکھتے ہیں:
’’ گویا البانی صاحب نے جو اختلاط کی بنیاد پر اس کی اسناد کو ضعیف قرار دیا وہ صرف افسانوی حد تک ہے ۔ اس کی کوئی صحیح بنیاد نہیں، لہٰذا ان کی تقلید کر نے والے بے عقل ثابت ہوئے اور محدثین کرام کی تصریحات کی روشنی میں اس کی اسناد صحیح ثابت ہوئیں وللہ الحمد ۔ اگر شیخ البانی کے مقلدین خامہ فرسائی کرنا چاہیں تو وہ حق نمک ادا کرلیں ان کے تمام شکوک و شبہات کو بفضلہ تعالیٰ رفع کر دیا جائے گا۔‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۲۶۹، اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
تنبیہ: البانی کی تقلید کرنے والے نام نہاد اہلِ حدیث ہیں جیسا کہ خود شا غف صاحب کی زبانی آگے آرہا ہےان شاءاللہ ۔
صحیح بخاری کی احادیث کو ضعیف و منکر کہنے کی جرأت
شیخ البانی لکھتے ہیں:
’’ اما انه سبق لی ان ضعفت احادیث البخاری فھذا الحقیقة یجب الاعتراف بھا ولا یجوز انکارھا ذلک الاسباب کثیرا جدا۔ ‘‘
( فتاوی الشیخ الالبانی صفحہ ۵۲۴)
اس عبارت میں کہا گیا ہے کہ اگر بخاری کی حدیثوں کومیں ضعیف قرار دوں تو یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف کرنا واجب ہے اور اس کا انکار جائز نہیں یعنی البانی کے نزدیک بخاری کی حدیثوں کو ضعیف کہنا واجب ہے ۔
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ البانی نے اپنے آخری دَور میں بھی (سلسلہ ضعیفہ کی چودھویں جلد میں ) صحیح بخاری کی کئی احادیث کو ضعیف و منکر قرار دیا ۔ ‘‘
(علمی مقالات: ۶؍۱۵۰)
علی زئی نے اپنے غیرمقلدین کی بابت لکھا:
’’ ان لوگوں کا منہج درج ذیل باتوں پر مشتمل ہے : ۱: صحیح بخاری میں ضعیف و منکر روایات بھی موجودہیں ، جیسا کہ البانی صاحب کا حوالہ گزر چکا ہے ۔ ‘‘
(علمی مقالات: ۶؍۱۵۱)
علی زئی صاحب اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں:
’’ شیخ البانی رحمہ اللہ ، وغیرہ معاصرین اور ان سے پہلے لوگوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم پر جو بھی جرح کی ہے ، وہ جرح سرے سے مردود ہے ۔ علمی میدان میں اس جرح کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ‘‘
( صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ مشمولہ صحیح بخاری کا دفاع صفحہ ۲۴۷)
غلط اورمردود جرح کے بل بوتے حدیث بخاری کی تضعیف
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ صحیح بخاری کی مسؤلہ حدیث بلحاظ سند و اصول حدیث حسن لذاتہ ہے ۔ شیخ البانی کا اس پر جرح کرنا غلط اور مردود ہے ۔‘‘
( صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ مشمولہ صحیح بخاری کا دفاع صفحہ ۳۳۹)
البانی نے بخاری و مسلم کی حدیثوں پر جرح کا دروازہ کھول دیا
ابو الا شبال شاغف بہاری غیر مقلد لکھتے ہیں:
’’امت مسلمہ کا مسلّمہ قاعدہ یہ تھا کہ صحیحین کی صحت پر ساری امت متفق ہے جیسا کہ اصول ِ حدیث کی اکثر کتابوں میں مرقوم حتی کہ صاحبِ مشکوۃ نے باعلان یہ کہا: ’’ وقسمت کل باب غالبا علی حصول ثلاثة اولھا مااخرجه الشیخان او احدھما ، واکتفیت بھما وان اشترک فیه الغیر لعلو درجتھما فی الررایة۔ ‘‘ اوربعضوں نے یوں کہا ہے ک”ہ ولا اذکرمعھا غیرھما لعلو شانھما ‘‘ لیکن شیخ ناصر الدین البانی نے خرقِ اجماع کیا یا اتفاق امت مسلمہ کو پارا پارا کرنے کی کوشش لاشعوری طور پر خدمت ِ حدیث کے نام پر کرتے ہوئے صحیحین کی بہت سی حدیثوں کو ضعیفہ و موضوعہ کے اندر داخل فرما کر جہلائے عصر کے لئے راہ ہموار کر دی کہ وہ صحیحین کی حدیثوں کو بھی قبول کرنے کے لئے ناصرالدین البانی کی تصحیح کوضروری سمجھنے لگے ۔ بعضوں نے بلوغ المرام کی تخریج کرتے ہوئے صحیحین کی حدیثوں کے ساتھ بھی ’’صححه الالبانی ‘‘ کی تک بندی کو ضروری خیال کیا وغیرہ ذلک۔ناصر الدین البانی سنت کی خدمت کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ مقلدین کی ایک جماعت تیار کر دی جواُن کے خلاف کوئی بات سننا گوارہ نہیں کرتی ۔‘‘
(مقالاتِ شاغف صفحہ ۲۶۶، اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
اکثر و بیشتر طلبہ البانی کی اقتداء میں بخاری و مسلم کی حدیثوں کو ضعیف کہتے ہیں
مولانا ابو الاشبال شاغف غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اکثر و بیشتر طلبہ آج کل شیخ البانی مرحوم کے تصحیح و تضعیف پر قانع ہیں۔ یہاں تک صحیحین کی بعض روایتوں جن کو البانی صاحب نے غلط فہمی کی بناء پر احادیث ِ ضعیفہ میں داخل کر دیا ہے، کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ صحیحین میں بھی ضعیف روایتیں ہیں اور جب مطالبہ کیا جاتا ہے تو انہی روایتوں کو پیش کرتے ہیں جنہیں البانی صاحب نے سلسلہ احادیث ضعیفہ وغیرہ میں شامل کر دیا ہے۔ اور جب ان ناسمجھوں کو سمجھایا جاتا ہے کہ البانی صاحب سے غلطی ہوئی ہے انہوں نے خرق اجماع کا ارتکاب کیا ،امت مسلمہ اس پر مجتمع ہے کہ صحیحین خاص کر بخاری شریف میں کوئی حدیث ضعیف نہیں ہے تو فورًا جواب دیتے ہیں کہ البانی صاحب سے قبل دار قطنی، ابو علی جیانی وغیرہ نے صحیحین کی روایتوں پرنقد کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ صحیحین قابل ِ نقد ہیں۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۹۳، اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
البانی کی اتباع میں بخاری و مسلم کی حدیثوں کو ضعیف کہنے والے صرف طلبہ ہی بلکہ کئی نامی گرامی لکھاری
بھی ہیں اُن میں سے ایک محرر نجم اللہ نامی بھی ہے ۔ چنانچہ شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’جناب نجم اللہ صاحب کا امام ذہبی وعلامہ البانی کی تقلید میں صحیحین پر طعن کرنا کہ ’’اور شروط سماع نہ ہوں تو بھی روایت مردود ہوگی۔‘‘ غلط ومردود ہے۔‘‘
(توضیح الاحکام: ۲؍۱۵۲)
بخاری و مسلم کی حدیثوں کو ضعیف کہنے والے کا اعزاز!!!
ابو الا شبال شا غف غیر مقلد نے لکھا:
’’ہند وپاک کے بعض اَن پڑھ اور ناسمجھ اہلِ حدیث اور دنیا بھر میں ان کے معتقدین اس زعم میں مبتلا ہیں کہ امام بخاری بھی شیخ البانی سے کم درجہ رکھتے تھے ۔بقیہ کتب ستہ کے مصنفین کے متعلق نہ معلوم ان لوگوں کی رائے کیا ہے ، اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ دَر اصل یہ غلطی ان عوام الناس کو اس لئے لگی ہے کہ شیخ البانی سے بعض ایسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جو اس کا باعث بنی ہیں مثلا شیخ البا نی نے بخاری و مسلم کی بعض روایتوں کو سلسلہ ضعیفہ اور مو ضوعہ میں درج کر دیا ۔ بقیہ کتب ستہ میں سے ۴ کو دو حصو ں میں تقسیم کر کے صحیح اور ضعیف کے نام سے اسناد حذف کر کے شائع کر ادیا۔ جہلا ء نے سمجھ لیا کہ آج تک اس ٹکر کا کوئی محدث گزرا ہی نہیں، لہٰذ ا کسی حدیث کو صحیح ماننے کے لیے شیخ البا نی کی تصحیح لازمی ہے۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف ص ۳۶۲،۳۶۳... اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
بغیر تحقیق کے حدیث بخاری کو ضعیف قراردیا
شیخ البانی نے بخاری کی حدیث ﴿ان امتی یاتون یوم القیامة غرا محجلین من آثار الوضوء....،میرے امتی قیامت کے دن آئیں گے ان کے وضو کے اعظاء چمک رہے ہوں گے ﴾کو البانی نے ضعیف کہا ۔ البانی کی تضعیف پر مولانا ابوالاشبال شاغف غیرمقلد نے تبصرہ کیا ۔آخر میں لکھا:
’’ان معروضات کے بعد واضح ہوگیا کہ شیخ البانی نے محض اپنے سے قبل والے بعض علماء کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو مدرج قرار دے کر سلسلہ احادیث ضعیفہ و موضوعہ میں لکھ دیا۔ تحقیق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۳۶۵... اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
صحیح مسلم کی حدیثوں پہ حملہ اور روایات پہ نقد و تنقید
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ شیخ البانی نے صحیح مسلم کی صحیح روایات پر حملہ کیا۔ ‘‘
(علمی مقالات: ۶؍۲۱۰)
شیخ ارشاد الحق اثری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’علامہ البانی نے صحیح مسلم کی بعض احادیث پر تنقید کی تو اس کا جواب شیخ محمود سعید نے ’’ تنبیه المسلم علی تعدی الالبانی علی صحیح مسلم ‘‘ کے نام سے دیا۔ ‘‘
( پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ صفحہ ۱۴،سن اشاعت: ۲۰۰۷ء ، ناشر: ادارۃ العلوم الاسلامیہ منٹگمری بازار فیصل آباد )
اثری صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’ علامہ البانی نے صحیح مسلم کی بعض روایات پر نقد کیا۔ ان میں نقد کا ایک سبب یہی ابو الزبیر کی تدلیس ہے ۔ جس کے جواب میں کوثری المشرب شیخ محمود سعید محمد فرح نے ’’ تنبیه المسلم‘‘ میں ان انتقادات کو خلاف ِ اجماع قرار دیا ہے ۔ ‘‘
( مقالاتِ اثری :۱؍۱۶۹)
ان عبارتوں میں اتنا اعتراف تو ہے کہ شیخ البانی نے صحیح مسلم کی حدیثوں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں ضعیف قرار دے دیاالبتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کتنی احادیث ہیں جن پر البانی نے ضعف کی چھاپ لگائی۔اس کے لئے اگلا عنوان ’’ صحیح مسلم کی تیس سے زائد حدیثوں پہ ضعف کی چھاپ ‘‘ دیکھئے ۔
صحیح مسلم کی تیس سے زائد حدیثوں پہ ضعف کی چھاپ
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد کا ایک ویڈیوبیان وائرل ہے جس میں شیخ البانی کی بابت کسی نے چند سوالات کئے اور علی زئی نے ان کا جواب دیا ۔ ذیل میں وہ سوالات و جوابات ملاحظہ ہوں :
آدمی:’’ البانی صاحب کے بارے میں میں نے سنا ہے کہ انہوں نے صحیح مسلم کی بارہ روایتوں کے ساتھ اختلاف کیا ہے۔ ‘‘
علی زئی: ’’تیس سے اوپر ضعیف قرار دیا ہے انہوں نے ۔‘‘
آدمی :’’ لیکن بعد میں رجوع کیا ہے انہوں نے ؟‘‘
علی زئی : ’’نہیں کیا، وہ مرتے مرتے بھی امام بخاری کی جو صحیح بخاری ہے اس کی کئی روایتوں کو ضعیف قرار دیا ہے ۔‘‘
آدمی:اس کی وجہ کیا تھی؟‘‘
علی زئی : منہج کی غلطی ہے ، خامی ہے ...‘‘
(زبیر علی زئی کا ویڈیو کلپ )
پچاس ضعیف حدیثوں کو صحیح قراردینے کی کاوش
ابومحمد خرم شہزاد محمدی غیر مقلدنے ایک کتاب ’’ الصحیفة فی الاحادیث الضعیفة من سلسلة الاحادیث الصحیحة للالبانی ‘‘ لکھی ۔ اس کی ابتداء میں غیرمقلدین کے ہاں ’’ محدث العصر ‘‘ کا لقب پانے والے مصنف شیخ زبیر علی زئی کی تحریر ہے ۔ وہ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ ہمارے دوست جناب ابو محمد خرم شہزاد صاحب نے اپنی استطاعت کے مطابق شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سلسلہ صحیحہ کا مطالعہ کیا تو کئی روایات کو تحقیق کے بعد ضعیف پایا، جن میں سے پچاس روایتیں اس مجموعہ میں پیش خدمت ہیں ۔ راویوں پر کلام وغیرہ میں اُن سے بعض مقامات پر اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ’’ الصحیفة فی الاحادیث الضعیفة‘‘ میں مذکور تمام روایات اپنے شواہد و متابعات کے ساتھ ضعیف ہی ہیں اور انہیں صحیح یا حسن قرار دینا غلط ہے۔‘‘
( الصحیفة فی الاحادیث الضعیفةصفحہ ۸ ،بحوالہ اشاعۃ الحدیث حضرو ، اشاعت خاص بیاد شیخ زبیر علی زئی صفحہ ۱۰۶)
البا نی کی بات کو ’’ حر ف آخر ‘‘ کا درجہ دینا
غیر مقلد ین کے اعتراف کے مطابق البانی حدیث میں من مانیا ں کرتے ہیں۔ مگر افسوس ان کے حلقہ کے لوگ ان کی بات کو ’’ حر فِ آخر ‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی پیروی کیا کر تے ہیں۔
چنانچہ ابوالاشبال شا غف غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ آج کل جما عت اہلحدیث کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو چکی ہے جو نا صر الد ین البا نی کی تقلید کو واجب سمجھتی ہے اور جو کچھ نا صرالدین البانی نے لکھ دیا ان کے نز دیک حر فِ آخر کی حیثیت سے من وعن قابلِ قبول ہے۔ ‘‘
( مقالا ت شا غف صفحہ ۲۶۶)
شاغف صاحب لکھتے ہیں:
’’اس وقت کے نوجوان طبقہ شیخ ناصرالدین البانی اور دوسرے بہت سے علماء کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔اور جو کچھ ایسے حضرات کے قلم و زبان سے نکلا جو ترک ِ تقلید کے قائل ہیں وہ حق ہو گیا ۔ ‘‘
( مقالاتِ شاغف صفحہ ۲۶۵، اہتمام : بیت الحکمت لاہور، اشاعت: ۲۰۰۶ء )
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں :
’’ شیخ ابن باز کا یہ قول اہلِ حدیث اور شیخ البا نی کے اند ھا دھند مؤ ید ین کے خلا ف پیش کیا گیا۔‘‘
(علمی مقالا ت : ۴؍ ۲۴۴)
غیرمقلدین کااحادیث کی تصحیح و تضعیف میں البانی پر اعتماد
غیرمقلدعلماء کے اعتراف کے مطابق شیخ البانی احادیث کے ردو قبول میں من مانی کرتے رہے۔ بات صرف ان تک محدود نہیں رہی، بلکہ غیرمقلدین نے احادیث کی تصحیح و تضعیف میں اُن کی رائے کو سینے سے لگایا ۔ یہاں تک کہ اپنی کتب میں مذکور احادیث کی صحت و ضعف پہ بھی البانی کا حکم لگایا ۔مدعیان اہلِ حدیث کی ایک درجن سے زائد کتب میری نظر سے گزری ہیں جن میں حدیثوں پر تحکیم البانی کی ہے۔یہاں ہم اپنے اس دعوی کی صداقت کے لئے خود غیرمقلد مصنفین کی گواہیاں نقل کر دیتے ہیں ۔
مولانا ارشاد الحق اثری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ ہفت روزہ اہلِ حدیث کی جلد نمبر ۲۶ میں بھی اسی حوالے سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنے کو بدعت قرار دیا گیا۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق کا تمام تر مدار علامہ البانی حفظہ اللہ کی تحقیق پر رکھا ہے۔ چنانچہ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ( ج ۲ ص۱۴۶،رقم : ۵۹۵) میں یہ بحث دیکھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح علامہ البانی نے ان احادیث کو ضعیف الترمذی ، ضعیف ابی داود اور ضعیف ابن ماجہ میں ذِکر کیا ہے جن کا حوالہ خود مولانا جاوید صاحب نے بھی دیا ہے ۔ ‘‘
( مقالاتِ اثری :۱؍۲۶۱،۲۶۲)
اثری صاحب آگے لکھتے ہیں:
’’یہ ہیں وہ شواہد و متابعات جن کی بنا پر حافظ ابن حجر ؒ نے مجوعی طور پر اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ مگر ہمارے مولانا جاوید صاحب علامہ البانی کی اتباع میں ان سے متفق نہیں ، اَب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس پر حسن حدیث کی تعریف صادق آتی ہے یا نہیں۔ یہ بات تو کسی صاحب ِ علم پرخفی نہیں کہ حسن لغیرہ کی تعریف میں یہی کہا گیا ہے کہ اس کے راوی متہم بالکذب نہ ہوں ۔ وہ روایت شاذ نہ ہو اور اگر ضعف راوی کے مجہول ہونے یا ضعیف ہونے کی بناء پر ہو اور وہ متعدد اسانید سے مروی ہو یا اس کے اسی درجہ کے شواہد ہوں تو وہ روایت حسن لغیر ہ ہوگی ۔ امام ترمذی ؒ نے بھی حسن کی تعریف میں انہی شرائط کا ذِکر کیا ہے ۔ بنابریں جب حضرت عمرؓ ، حضرت ابن عباس ؓ کی دوسندوں سے مروی حدیث اور حضرت یزید ؓ بن سعید کی حدیث جو بوجہ ضعف راوی فردا فراد ًا ضعیف ہیں مگر ان کے راوی کذاب اور متروک نہیں ، نہ ہی وہ شاذ ہیں تو ان کے مجموعہ کو حسن نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے ؟۔ ‘‘
( مقالاتِ اثری :۱؍۲۶۴)
اس عبارت میں جاوید سے مراد جاوید اقبال سیالکوٹی غیرمقلد ہیں۔
محمد سرور عاصم (مدیر مکتبہ اسلامیہ لاہور ، فیصل آباد ) لکھتے ہیں:
’’ ہر روایت پر صحت و ضعف کے اعتبار سے محدث العصر علامہ ناصرالدین البانی رحمہ
اللہ کا حکم لگایا ہے ۔ اگر کہیں علامہ البانی رحمہ اللہ کا حکم نہیں ملا تو محدث حافظ زبیر علی رحمہ اللہ کا حکم لگا دیا گیا ہے ۔ ‘‘
( عرض ناشر فقہ السنہ : ۱؍۳۲)
تنبیہ: شیخ زبیر علی زئی بھی احادیث کے رد و قبول میں من مانی کیا کرتے تھے ، جیسا کہ خود ان کے اپنے غیرمقلدین نے اس کا اعتراف کیا ہے۔حوالہ جات آگے منقول ہوں گے ان شاء اللہ۔
مولانا عبد السلام بن محمد غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’میں نے پوری کوشش کی ہے کہ صرف ثابت شدہ احادیث نقل کروں ، اس کے لیے شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی کتب مسند احمد اور دوسری کتب حدیث جدید طبعات کے محققین کی تحقیق سے رہنمائی لی ہے اور اکثر ان کی تصحیح یا تحسین کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ ‘‘
(مقدمہ تفسیرالقرآن الکریم : ۱؍۱۸)
محمد سرور عاصم غیرمقلد نے ’’ الادب المفرد للبخاری ‘‘کے متعلق لکھا :
’’ چوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے الجامع الصحیح کی طرح اس کتاب میں صحت حدیث کا باقاعدہ اہتمام نہیں کیا لہذا ادارے نے ہرروایت پر صحت و سقم کے اعتبار سے محدث العصر علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا حکم لگا دیا ہے ۔ ‘‘
( عرض ناشر ، الادب المفرد مترجم صفحہ ۳۸ ، ترجمہ ارشد کمال )
مولانا ارشاد الحق اثری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اس کا ترجمہ محترم مولانا ارشد کمال نے کیا ہے ... شیخ البانی رحمہ اللہ نے احادیث پر جو حکم لگایا ہے اسے بھی ترجمہ کا حصہ بنا دیا ہے ۔یوں ترجمہ کی افادیث سہ چند ہوگئی ہے۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء ‘‘
(تقدیم الادب المفرد مترجم صفحہ ۴۴)
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر غیرمقلد اپنی کتاب ’’ صالح اور مصلح ‘‘ کی بابت لکھتے ہیں:
’’ احادیث کی صحت و ضعف میں علامہ البانی رحمہ اللہ کے حکم پر اعتماد کیا گیا ہے ۔ ‘‘
( صالح اور مصلح صفحہ ۱۸)
غیرمقلدین کی طرف سے شائع کردہ ابن خزیمہ میں ’’عرض ناشر‘‘ کے تحت مذکور ہے :
’’ یاد رہے کہ تخریج کرتے ہوئے علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کو راجح قرار دیا گیا ہے۔‘‘
( صحیح ابن خزیمہ مترجم صفحہ ۵۱ ، ترجمہ محمد اجمل بھٹی ، ناشر: انصار السنۃ پبلی کیشنز لاہور )
احادیث کی تصحیح و تضعیف میں من مانیاں کرنے والے شیخ البانی کو غیرمقلدین کا خراجِ تحسین
اوپر غیرمقلدین کی عبارتیں پیش ہو چکیں کہ شیخ البانی احادیث کے رد وقبول میں من مانیاں کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ بخاری و مسلم کی حدیثوں کو بھی ضعیف کہنے سے نہیں چُوکے۔ غیرمقلدین میں شیخ مذکور کی کتنی مقبولیت ہے؟ انہوں نے انہیں احادیث میں من مانیاں کرنے کے باوجود کس قدر خراج تحسین پیش کیا ۔اس کی ایک جھلک ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
شیخ محمد احمد اثری غیرمقلد ( جامعہ سراج العلوم بونڈ یہاڑ یوپی ہند) لکھتے ہیں:
’’ بیسیویں صدی کے بے نظیر محدث علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ ۔‘‘
( تاثرات تمام المنة مترجم صفحہ ۳، اشاعت اول ۲۰۰۴ء ،ناشر: مرکزی مکتبہ اہل حدیث صدر بازار مؤ ناتھ بھنجن یوپی الہند )
شیخ جمال احمد مدنی غیرمقلدنے ایک بزرگ کا بیان نقل کیا:
’’ عصر حاضر میں علامہ محمد ناصرالدین البانی جیسا کوئی دوسرا عالم نہیں ۔‘‘
( تمام المنة مترجم صفحہ ۱۵)
شیخ جمال نے لکھا:
’’ فضیلۃ الشیخ حمود بن عبد اللہ تویجری رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عصر حاضر میں شیخ البانی سنت کے لئے سنگ میل کا درجہ رکھتے ہیں ان کے خلاف زبان طعن دراز کرنا سنت پر طعن و تشنیع کے لئے راہ ہموار کرنا ہے ۔
( تمام المنة مترجم صفحہ۱۶)
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’عصر ِ حاضر میں محدث کبیر محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ ‘ ‘
(حاجی کے شب وروز صفحہ ۸)
علی زئی نے دوسری جگہ شیخ البانی کو’’محدث العصر اور امام المحدثین ‘‘ کہا ہے ۔
(حاشیہ عبادات میں بدعات : ۱۲۹)
علی زئی مزید لکھتے ہیں:
’’الشیخ الامام ، مھدث الدیار الشامیة و مجدد علم التخریج و التحقیق فی عصرنا ، محمد ناصر الدین الالبانی السلفی رحمه اللہ ۔‘‘
( اشاعۃ الحدیث حضرو ،اشاعتِ خاص بیاد شیخ زبیر علی زئی صفحہ۶۲۹)
مولانا ارشاد الحق اثری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’عصر حاضر کے نام ور محدث علامہ ناصرالدین البانی حفظہ اللہ۔ ‘‘
( مقالاتِ اثری :۱؍۲۴۴)
اثری صاحب نے بعینہ یہی عبارت اپنی کتاب ’’ پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ صفحہ ۲۰۹،سن اشاعت: ۲۰۰۷ء ، ناشر: ادارۃ العلوم الاسلامیہ منٹگمری بازار فیصل آباد‘‘ میں لکھی ہے ۔
مولانا محمد خبیب اثری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ امام البانی ایسی نابغہ روز گار شخصیات اور ان کے علوم کا وجود امت محمدیہ پر رب العالمین کا احسانِ عظیم ہے ۔ اور ایسے لوگ صدیوں بعد بھی خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں۔ امام صاحب نے صحیح اور ضعیف احادیث کے درمیان جو خطِ امتیاز کھینچا اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دکھایا ۔ یہ موحدین کے لئے بہت بڑا تحفہ (ہے )جب کہ مبتدعین کے لئے زہر ِ ہلاہل ہے اور﴿ لیحق الحق و یبطل الباطل﴾ کا مصداق ہے ۔ ‘‘
(مقالات ِ اثریہ صفحہ ۵۱۲، ناشر: ادارۃ العلوم الاثریۃ منٹگمری بازار فیصل آباد ، تاریخ طباعت: جون؍ ۲۰۱۲ء ، تقدیم مولانا محمد ارشاد الحق اثری )
مولانا صادق خلیل غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ حضرت الشیخ علامہ محمد ناصرالدین البانی فن رجال تخریجِ احادیث میں بلا مبالغہ اتنے اونچے مقام پر فائز ہیں کہ کوئی ان کی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتا ۔ ‘‘
( مقدمہ ریاض الصالحین مترجم صفحہ ۱۳)
ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اس عصر کے بے مثال محدث اور مجدد دین ،امام العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی ؒ۔‘‘
( مقدمہ سنن نسائی مترجم : ۱؍۶۹)
شیخ محمد عزیز شمس غیرمقلد ہیں:
’’ عصر حاضر میں علوم ِ حدیث کے مجدد شیخ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ جن کی تحقیقات سے آج ساری دنیا مستفید ہو رہی ہے …… ۔‘‘
( اشاعۃ الحدیث حضرو ،اشاعتِ خاص بیاد شیخ زبیر علی زئی صفحہ ۱۷۵)
مقالہ نگار عبد المنان لکھتے ہیں:
’’ علامہ ناصر الدین البانی کا شمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے علم حدیث کی تاریخ کے دھارے کا رخ بدل دیا ۔‘‘
( تحقیق ِ حدیث میں شیخ البانی اور حافظ زبیر علی زئی کے معیارات کا تقابلی مطالعہ صفحہ ۳)
مقتدی حسن ازہری غیرمقلد ( جامعہ سلفیہ بنارس ) نے شیخ البانی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی کے متعلق لکھا:
’’ جن علماء کی تحریریں اس موضوع پر مؤثر و مقبول ہیں، ان میں دو نام بہت نمایاں ہیں۔ پہلا محدث شام علامہ محمد ناصر الدین کا اور دوسرا شیخ الحدیث علامہ محمد اسماعیل گوجرانوالہ مرحوم کا۔ آئندہ صفحات میں ہم انہیں دونوں شخصیتوں کی تحریر یں پیش کر رہے ہیں۔ ان کا شمار فن حدیث کی اساطین اور سنت نبوی کے نکتہ شناس کی صفِ اول میں ہوتا ہے ، میری کیا بساط کہ ان کے مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالوں ، ان کی فنی مہارت، علم حدیث سے شغف، اس کی خدمت کے لئے عظیم قربانیاں ، حب نبوی میں ڈوبا ہوا ان کا اسلوب، دفاع عن السنۃ کی راہ میں رواں اور شگفتہ قلم اور سیرت و عمل کے میدان میں محدثین کرام کی سادگی و قناعت اور فرائض و سنن کا غیر معمولی جتن ان کے نمایاں اوصاف ہیں۔ ‘‘
( حجیت ِ حدیث صفحہ ۱۸، ناشر: ادارۃ البحوث الاسلامیة والدعوۃ والافتاء بالجامعة السلفیة بنارس ، اشاعت اول: ۱۴۰۵ھ )
ابو حماد عبد الغفار مدنی (جدہ ،سعودی عرب ) لکھتے ہیں:
’’ آپ عصر حاضر کے محدث کبیر ، مفسر ، کتاب و سنت کے داعی ، منہج سلف کے علمبردار تھے۔ ‘‘
( سخن ہائے مترجم :سلفیت تعارف و حقیقت صفحہ ۹)
پروفیسر ڈاکٹر خالد ظفر اللہ غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ ناصر الدین و الملة، آیت من آیات اللہ، بقیة السلف کی صحیح تصویر ،عمل بالسنۃ کی زندہ تعبیر ، محدث دَوراں ، محقق زمان ، عصر رواں کے فقہ السنہ کے امام علامہ ناصر الدین البانی ۔ ‘‘
( کچھ مصنف کے بارے میں :قبروں پر مساجداور اسلام صفحہ ۷،اشاعت: جنوری ۲۰۰۵ء ،مکتبہ
اسلامیہ )
ایک صاحب نے لکھا:
’’ نام ور عالم دین اور عظیم محدث اور مفسر علامۃ ناصر الدین البانی حفظہ اللہ ۔ ‘‘
( پیش لفظ :اسلامی عقیدہ تقریر شیخ البانی صفحہ ۲)
ابو عدنان منیر قمر غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ زیر نظر کتاب ’’ مختصر قیام رمضان ‘‘کے مؤلف محدثِ عصر و فقیہ دہر علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ خدمت حدیث میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے ،خصوصاً دَور ِ حاضر کی کمیاب بلکہ نایاب شخصیت کے مالک تھے۔ ‘‘
(تقدیم ، مختصر قیام رمضان صفحہ ۲، ترجمہ و تعلیق شیخ ابو کلیم مقصود الحسن فیضی ... تقدیم و مراجعہ شیخ ابو عدنان محمد منیر قمر ، ناشر توحید پبلی کیشنز بنگلور انڈیا ، طبع دوم : ۲۰۱۳ء )
احمد مجتبی نذیر عالم مدنی غیرمقلدنے البانی کی کتاب ’’ تراویح اور اعتکاف ‘‘ کے مقدمہ میں لکھا :
’’ محدث عصر ، فقیہ دَوراں ،مزاج شناس شریعت حقہ ، امام محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ ۔ ‘‘
( تقدیم تراویح اور اعتکاف صفحہ ۵)
عبد المالک مجاہد غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ عصر حاضر کامحدث جلیل ،امام جرح و تعدیل شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ ایسا ہی گوہر بے مثال تھا جس کی آب و تاب نے مشرق و مغرب کومنور کر دیا ۔ ‘‘
( عرض ِ ناشر: محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ صفحہ ۱۱ )
شیخ عبد اللہ الباری فتح اللہ غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات سے علمی دنیا سونی ہوگئی۔ اُمت مسلمہ ایک ایسے مجدد سے محرومی پر سوگوار ہے جو صدیوں بعد اس دنیا میں آیا تھا ۔ اس صدی کے علماء میں علامہ سب سے قد آور شخصیت کے مالک تھے۔ ‘‘
( مقدمہ صفۃ صلوٰۃ النبی مترجم طبع انڈیا صفحہ ۸۴)
غیرمقلدین کے فتاویٰ میں لکھا ہے :
’’آپ کو علم ِ حدیث میں خصوصاً اسماء الرجال میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ممالک عربیہ میں آپ کی علمی قابلیت مُسلَّم و مشہور ہے کہ علم ِحدیث میں ان سے زیادہ تحقیق کسی کو نہیں ۔ ‘‘
( فتاویٰ علمائے حدیث :۳؍۱۷۶)
فائدہ : شیخ البانی نے بخاری و مسلم کی جن حدیثوں پر جرح کرکے ضعیف قرار دیا اور بخاری و مسلم کے جن جن راویوں کو ضعیف باور کرایاان کی باحوالہ نشان دہی ہم آئندہ صفحات میں کریں گے ان شاء اللہ۔
(جاری)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں