نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غیر مقلدین اور جہاد


غیر مقلدین اور جہاد

مولانا ثناء اللہ صفدر صاحب حفظہ اللہ 

مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت

شُمارہ نمبر 35

غیر مقلدین کے ساتھ جتنے بھی مسائل میں ہمارا اختلاف ہیں ان تمام میں ہم دفاعی پوزیشن کو سنبھال لئے ہوئے ہیں کیونکہ ہمارا مذہبِ حنفی  12سوسال سے چلا آرہاہے جبکہ غیرمقلدین 1857 کے بعد پیداہوئےہیں۔یقین کیجئے یہ حضرات اپنی تاریخ پیدائش سے لیکر اب تک فقہ حنفی اور ائمہ کرام کو مطعون بنانے کیلئےایڑی چھوٹی کازورلگاتے آرہے ہیں۔لیکن بالاخر شکست انکی مقدر میں لکھی جاچکی ہیں۔

جہادکےحوالےسے بحمداللہ احناف کےکارنامے پورےعالم میں مشہورہے مگرغیرمقلدین اس مسئلےمیں بھی کوشش یہ کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح احناف کوبدنام کیاجائے،اسی لئےیہ حضرات احناف کے بعض جید علمائے کرام پہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ جہادباور مسلمانوں کے مخالف تھےانگریزوں سے باقاعدہ تنخواہ وصول کرتے تھےکہتے ہیں کہ جہاد توہم نےکیا تھااور اُس وقت انگریز کے خلاف فتویٰ جہاد بھی ہمارے علمائے کرام نےدیا تھا۔

آئیں:آج ہم غیر مقلدین کے 1857 کےجنگ آزادی کی پوری کہانی اور روس وامریکہ کا افغانستان پر یلغار کے وقت ان حضرات کاجہادی صفوف میں مجاہدین کے ساتھ سیاہ کارنامے تفصیل کے ساتھ ذکر کریں گے  تاکہ پتہ چلےجہاد کون کرتاتھا،مجاہدین کون تھے اورباغی کون؟

غیر مقلدین نےجنگ آزادی 1857میں یہ کردار اداکیاکہ ایک طرف تو مسلمانوں کے ساتھ ملےجلے رہےاور فتویٰ جھاد پردستخط بھی کردیا مگردلی طور پر انگریزوں کا پوراپورا ساتھ دیا۔پروفیسرایوب قادری صاحب لکھتے ہیں کہ انہوں نے دستخط کرنےکے باوجودسرکارانگریز کے وفادار رہے،انہوں نےانگریزوں کو چھپایا، جاسوسی  کے فرائض سرانجام دئےاورتحریک آزادی کی مخالفت کی،ان میں یہ حضرات ہیں:شیخ الکل میاں سید محمد نزیر حسین،شمس العلماءمولوی ضیاء الدین،مولوی سید محبوب علی جعفری،مفتی صدرالدین،مولوی حفیظ اللّٰہ خان۔(جنگ آزادی ص409)

اور مشہور غیرمقلدعالم نواب صدیق حسن صاحب لکھتےہیں  :

”زمانہ غدرہندوستان میں ہمارے سب چھوٹے بڑےسرکار انگریز کےخیرخوارہے۔“

(ترجمان وہابیہ ص5)

دیکھئےصاف اقرارکررہاہے کہ ہمارے تمام حضرات چاہے چھوٹے ہو یا بڑے سارے کےسارے انگریزکے وفاداررہے۔آگےمقلدین پرکس انداز سےطعن کررہاہے نواب صاحب لکھتے ہیں کہ:

”اور اگرکوئی بدخواہ بداندیش سلطنت برٹش کاہوگا تووہی شخص کوہوگا جو آزادگی مذہب کو ناپسند کرتا ہےاور ایک مذہب خاص پرجو باپ دادوں کے وقت سےچلا آتاہےجماہواہے۔“

( ترجمان وہابیہ ص5)

اب ظاہر بات ہے کسی خاص مذہب کا التزام مقلدین یعنی احناف ہی کرتےہیں،نواب صدیق حسن خان صاحب نے اقرارکرہی کیا کہ انگریز کےبدخواہ اور مخالف مذہبی یعنی احناف ہی رہےہیں۔ 

مشہور وہابی عالم مولوی محمد حسین بٹالوی نے" رسائل الاقتصاد فی مسائل الجھاد" کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس کی سب غیر مقلدین نےتائیدکی،اس میں انگریزوں کے خلاف جھاد کوحرام قراردیا،جنگ آزادی لڑنے والے مجاہدین کو باغی، مذہبی دیوانےاور دوزخی قرار دیا اوراپنی جماعت کی انگریز کے ساتھ وفاداری کابارباراعلان کیا،یہ رسالہ آج بھی چھپاہواملتاہے۔مولوی عبد المجید خادم سوہدروی غیرمقلد لکھتےہیں کہ:

” مولوی محمد حسین بٹالوی نےحکومت کی خدمت بھی کی اور انعام میں جاگیر پائی۔“

( فتاویٰ ثنائیہ ص372)

یہاں تک تو1857ء کے جنگ آزادی کی کہانی تھی۔اب آتے ہیں روس اور امریکہ کے ساتھ  جہاد  کی طرف۔میرےسامنےاس وقت مشہور جرنلسٹ صحافی عبد الرحیم مسلم دوست غیرمقلدکی کتاب بنام "گوانتانامو کی ٹوٹی زنجیریں" پڑی ہوئی ہے ۔موصوف افغانستان صوبہ ننگرہارضلع کوٹ کے رہنے والے ہیں۔ 37 کتابوں کے مصنف ہیں۔آپ پشاورکےخفیہ عقوبت خانوں سےلیکر باگرام قندہار اورگونتانامو کے سخت جیلوں میں ساڑے تین سال قیدوبندگزار چکےہیں۔ موصوف روس جہاد کے حوالے سے غیرمقلدین کے متعلق لکھتے ہیں کہ تاریخ کے اس طول و عرض میں مطابق1405ھ قمری سال "الجماعۃ السلفیہ" کے نام ایک چھوٹی سی جماعت کی بنیاد رکھی گئی کچھ عرصہ بعد میں یہ نام تبدیل کرکے جماعۃ الدعوۃ رکھ دیا۔مسلم دوست صاحب لکھتے ہیں کہ ہم بھی اُن لوگوں میں سے تھے جو جماعۃ الدعوہ کے اس خوبصورت نام سےدھوکہ کھاکر اسمیں شامل ہوئے تھے لیکن اس تنظیم نے عرب ممالک سےکتابوں، مدرسوں،اسلامی دعوت،مسجدوں،بیواؤں،یتیموں اور دوسری فلاحی کاموں کے نام پر بہت سا پیسہ اکٹھا کیا اور اس ساری رقم کواپنےاپنے ذاتی اکاؤنٹوں میں جمع کیا۔یہ الفاظ قابل غور ہے کہ 

ساری رقم کواپنےاپنے ذاتی اکاؤنٹوں میں جمع کیا۔ جی ہاں ان کامقصدہی ریال اور ڈالرجمع کرناہےنہ کہ جہاد۔

آگے جماعۃ الدعوہ کے تین افراد کے متعلق ایک انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

حکومت کیلئے سمگلنگ،سیاسی قتل اور جاسوسی کے تمام امور اس مثلث خبیثہ کےسپرد تھے۔یہاں تک کہ یہودی پلان میں(مشہور عرب مجاہد) شیخ عبداللہ عزام رحمہ اللہ کےقتل کا منصوبہ بھی اس تنظیم کو سونپ دیاگیاتھا۔جسکی چند دن ہی میں شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللّٰہ کوریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں شہید کردیاگیا۔

( گوانتانامو کی روٹی زنجیریں ص19تاص23)

یہاں تک روس کےساتھ جھاد میں غیرمقلدین کےکرتوت تھے۔

اب آتے ہیں حالًا قابض یعنی امریکہ کے ساتھ جہاد  کے وقت میں انکی بدنام کارگزاری کی طرف۔ غیر مقلد صحافی جناب عبد الرحیم مسلم دوست صاحب لکھتے ہیں :

” امریکہ نے افغانستان پر حملے سے پہلے پاکستان کوکہاکہ ہمیں ایسے افغانوں کی نشاندھی کیجئے جو افغانستان میں ہمارے لئے کام کریں یہ بات ہمیں جماعۃ الدعوۃ کےقریبی اور کلیدی اشخاص نے بتائی ہے،ایجنسوں نےاپنی کٹھ پُتلی جماعت جماعہ الدعوۃ کےکچھ مخلص افراد کی فہرست امریکہ کے حوالےکی، امریکہ نےان افرادکو اپنےخفیہ اداروں میں متعین کیا۔انہوں نے اُنہیں یقین دلایا کہ ہم تمہارے لئے کام کریں گے۔“

آگے لکھتے ہیں :

” انہوں نے امریکہ سے ایک سو پچاس ملین ڈالر سینکڑوں سٹیلائٹ فون اوردوسرےوسائل حاصل کئے۔ افغانستان پرامریکی حملےکے وقت پاکستانی اور افغانی جماعۃ الدعوۃ والےدوسرے دھوکوں اور فریب کےعلاوہ عرب اوردوسرےغیرملکی افراد کےپکڑنے کیلئے متحریک ہوئےاور یوں ڈالرحاصل کرنے کیلئے مسلم فروشی کی تجارت کا نیاباب کھولا۔

افغانی جماعۃ الدعوۃ اور پاکستانی جماعۃ الدعوۃ نےآپس میں مل کرعربوں اوردوسرے غیر ملکیوں کے ساتھ تین طرح کی چال چلائی،بعضوں کوبتایا کہ ٹیلی فون کے ذریعےاپنے اپنے گھروں سے بڑی رقم طلب کریں اور یوں اُنہیں حکومت کے ذریعے ایئر پورٹ کے مخصوص دروازوں اوردوسرے راستوں سےنکال دیا جبکہ غریب اورنادارعربوں کو امریکہ کے حوالہ کیا۔“

( گوانتانامو کی روٹی زنجیریں ص24تا25)

یہ ہے نام نہاد اہلحدیث حضرات کی جہاد،جماعۃ الدعوۃ جیسے خوبصورت نام سےنوجوانوں کوورغلاتےہیں جسکی درحقیقت ان حضرات کی سعی وکوشش جہادللہ نہیں بلکہ جھادللریال والدنانیرہی ہے۔

آگے یہ غیرمقلدصحافی" جماعۃ الدعوۃ کیلئے گوانتانامو میں بددعائیں" کے نام سے ایک عنوان قائم کرکےلکھتےہیں کہ:

”قیدی ہمیشہ پورے خلوص کےساتھ دعائیں مانگتے اور نمازمیں قنوت نازلہ پڑھتے۔تمام کفار،مشرکین اورعرب وعجم کےمنافقین،جاسوسی اداروں، جاسوسوں اور اُن لوگوں کو بددعائیں دیتےجومسلمانوں سےخیانت کے مرتکب ہوئے اوربےگناہ لوگوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا....افغانی جماعۃالدعوۃ نے سینکڑوں عرب اوردیگربےگناہ افرادامریکیوں پر فروخت کئےاور پاکستانی جماعۃ الدعوۃ نےابوزبیدہ،یاسرالجزائری اور دیگر عرب اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھےاورانہیں امریکیوں پرفروخت کیا۔

لشکر طیبہ (جسے پاکستان میں اب جماعۃ الدعوۃ کہاجاتا ہے) کے بعض افرادجواُن کی خیانتوں کی وجہ سے ان سے الگ ہوئے انہوں نے ہمیں بتایا کہ ابو زبیدہ کےپاس ایک ارب اٹھارہ کروڑروپےتھے جواس نےلشکرطیبہ یعنی جماعۃ الدعوۃ کے پاس امانت رکھےتھے لشکرطیبہ نےیہ رقم بھی ہضم کرلی مزیدستم یہ کہ امریکہ  وپاکستانی انٹیلی جنس ادارے اورمشرف حکومت سے بھی انکےعوض بڑی مقدار میں روپے وصول کئےاوریوں بڑی خیانت کے مرتکب ہوئے۔“

 ( گوانتانامو کی ٹوٹی زنجیریں ص159)

اس کے علاوہ آج کل امریکہ کی سرپرستی میں داعش کے نام سے غیرمقلدین ہی طالبان کے خلاف لڑتے ہیں بلکہ جلال آباد میں سینکڑوں علماء کرام اور عوام الناس کو شہید کرچکے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس فتنہ سے امت مسلمہ کو نجات نصیب فرمائے۔آمین 


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...