نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

احادیث کے رد وقبول میں غیرمقلدین کی من مانیا ں (قسط:۳) اسلاف کے خلاف حدیث کی صحت کا دعویٰ


احادیث کے رد وقبول میں غیرمقلدین کی من مانیا ں

 اسلاف کے خلاف حدیث کی صحت کا دعویٰ 


  مفتی رب نواز حفظہ اللہ ،احمد پور شرقیہ       (قسط:۳)

مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت

شُمارہ نمبر 38 

علی زئی صاحب سلف سے ہم نوائی کا چورن بیچتے رہے ۔ مگر خود اَسلاف کی مخالفت کی پروا نہ کیا کرتے تھے۔ اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔ 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ عصرحاضر میں زبیر علی زئی نے اس کی ایک خاص سند و متن کو حسن قرار دے کر ایک ایسی بات پیش کی ہے ، جس میں ان کاکوئی سلف نہیں ہے ۔ہماری نظر اس پر پڑی تو تو ہم نے فوراً اس کی مدلل تضعیف ثابت کی لیکن زبیر علی زئی صاحب نے اسے قبول نہیں کیا ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۴۸،دار السنة للتحقیق والطباعة والنشر ) 

 سنابلی صاحب نے علی زئی کی تردیدکرتے ہوئے لکھا: 

’’ میرے خیال میں جو لوگ یزید سے متعلق ابن عساکر کی مذکورہ روایت کو صحیح یا حسن کہتے ہیں،انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے متعلق بھی محولہ روایت کو صحیح کہنا چاہیے ، بلکہ درجہ اولیٰ صحیح کہنا چاہے ، کیوں کہ یہاں صرف ایک ثقہ راوی کی مخالفت ہے اور زیر بحث روایت میں تو متعدد ثقات کی مخالفت ہے !! ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۵۲،دار السنة للتحقیق والطباعة والنشر ) 

 سنابلی صاحب مزید لکھتے ہیں: 

’’یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔ عہد رسالت سے لے کر عصر حاضر تک چودہ سو سالہ دَور میں دنیا کے کسی بھی معتبر محدث یا امام نے اس روایت کو صحیح یا حسن نہیں کہا ہے ، بلکہ اس کے برعکس متقدمین و متاخرین و معاصرین میں سے متعدد اہلِ علم نے اس روایت کو موضوع ، منقطع یا مردود قرار دیا ہے یا اس کے مردود ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۹۱،دار السنة للتحقیق والطباعة والنشر ) 

سنابلی صاحب نے آگے لکھا: 

’’ان دس اہلِ علم کے برعکس پوری چودہ سو سال اسلامی دَور میں کسی ایک محدث نے اس روایت کو صحیح یا حسن قطعاً نہیں کہا ہے ۔ اس کے برعکس حافظ زبیر علی زئی پوری دنیا میں پہلے شخص ہیں ، جنہوں نے اس روایت کو پیش کردہ سند و متن کے ساتھ حسن قرار دیا۔ حافظ موصوف کا یہ فیصلہ انہیں کے لہجہ میں ’’باطل‘‘ اور یکسر ’’ مردود ‘‘ ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۹۵،دار السنة للتحقیق والطباعة والنشر ) 

سنابلی صاحب ایک اور جگہ لکھا: 

’’سچائی یہی ہے کہ اس سند و متن کے ساتھ اس روایت کو حسن کہنے والے محترم زبیر علی زئی رحمہ اللہ پوری دنیا میں پہلے شخص ہیں۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۹۶،دار السنة للتحقیق والطباعة والنشر ) 

عجیب و غریب چالاکی ،مضحکہ خیز اور بریلوی طرز عمل 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ غور کریں کہ محترم زبیر علی زئی نے امام بخاری کے فیصلے کے خلاف جس روایت کو پیش کیاہے ، وہ بالکل وہی روایت ہے جس پر امام بخاری رحمہ اللہ نقد کر رہے ہیں اور جس پر ہم بحث کر رہے ہیں ، اس کی سند بھی وہی ہے اور مضمون بھی وہی ہے۔ حافظ موصوف نے بس اتنا کیا کہ اس روایت کو ایک دوسری کتاب سے پیش کر دیا اور قارئین کو تاثر دیا کہ یہ کوئی علیحدہ روایت ہے ، جس سے ابو ذر رضی اللہ عنہ کا صحابی رسول یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے دَور میں شام میں ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اَب قارئین خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ انتہائی عجیب و غریب بات نہیں ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ جس روایت پر نقد کر رہے ہیں ، عین اسی روایت کو دوسری کتاب سے پیش کرکے یہ باور کرایا جائے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے دعوے کے خلاف ثبوت مل رہا ہے ؟یہ تو بالکل وہی مثال ہوئی کہ بریلویوں کی کتاب ’’ فیضان سنت‘‘ میں جو یہ لکھا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں اس کتاب کو پسند فرمایا ہے ۔ اَب کوئی اہلِ حدیث اس بات کا انکار کرے تو اس انکار پر کوئی بریلوی اسی کتاب کا دوسرا ایڈیشن لا کر یہ کہے کہ : دیکھو اس میں تمہارے دعوے کے خلاف ثبوت موجود ہے !! محترم زبیر علی زئی سے درخواست ہے کہ زیر بحث روایت کو پہلے صحیح تو ثابت کریں ، اس کے بعد اسے بطور دلیل پیش کریں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے خاص اس روایت پر جرح کی ہے، لہذا جب تک آپ اس جرح کا ازالہ دیگر ائمہ نقد کے حوالوں سے پیش نہ کردیں، تب تک یہ روایت جرح کی زَد سے باہر نہیں نکل سکتی ۔اور جب تک یہ روایت جرح کی زَد سے نہیں نکل سکتی ،تب تک یہ صحیح بھی نہیں ہوسکتی ۔ اس لئے آں جناب پہلے اس روایت کو جرح کی زَد سے نکالیں اور اس پر کی گئی جرح کا ازالہ پیش کریں، ورنہ یہ روایت صحیح ثابت نہیں ہو سکے گی، بلکہ ضعیف ہی رہے گی، اور ضعیف روایت کو صحیح ثابت کرنے سے پہلے ہی بطور دلیل پیش کرنا، بلکہ اس پر کی گئی جرح ہی کے جواب میں پیش کردینا انتہائی نامعقول بات ہونے کے ساتھ ساتھ حد درجہ مضحکہ خیز بھی ہے۔ اس طرح کے طرزِ عمل کی اُمید تو عام طلبا سے بھی نہیں ہے ، پھر معلوم نہیں محترم زبیر علی زئی کیوں کر اس طرح کے جواب پر مجبور ہوئے ؟! ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۱۲۷،۱۲۸ ) 

بے سند روایت،بہت بڑا عجوبہ، بہت بڑی جسارت اور غیر محمود طرزِ عمل 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ محترم زبیر علی زئی ہر جگہ تو صحیح سند کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن یہاں آں جناب کی بے بسی کا حال یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک ثابت شدہ بات کے خلاف ایسی بات پیش کر رہے ہیں جس کا ثابت ہونابا سند ہونا تو دُور کی بات ، اس کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ہے۔ پھر موصوف نے اس بات کو بھی نظر انداز کر دیا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے نزدیک ایک ثابت شدہ چیز پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک چیز کا انکار بھی کیا ہے اور جب کوئی محدث کسی چیز کا انکار کرے توا س کے جواب میں بے سند بات پیش کرنا بہت بڑا عجوبہ ہے۔ محترم اگر آپ کو امام بخاری رحمہ اللہ کا انکار قابلِ قبول نہیں تو اس کے جواب میں کوئی باسند اور ثابت شدہ بات پیش کریں۔ ایک بے سند اور بے اَصل بات کو لے کر امام العلل امام بخاری رحمہ اللہ کے نقد و انکار کو چیلنج کرنا بہت بڑی جسارت اور غیر محمود طرزِ عمل ہے ۔ ‘‘

 ( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۱۲۸،۱۲۹ ) 

جرح مفسر کو جرح مبہم کہہ کرٹال دیا 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ محترم زبیر علی زئی امام بخاری کے اس کلام کو جرح تسلیم کرتے ہیں ،لیکن ’’مبہم جرح ‘‘ کہتے ہیں۔ حالاں کہ اصولِ حدیث کا اَدنیٰ طالب بھی سمجھ سکتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی یہ جرح بہت ہی مفسر اور واضح ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی اس جرح کے کس حصہ میں ابہام ہے ؟ یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۱۰۶،دار السنة للتحقیق والطباعة والنشر ) 

علل ِ حدیث سے متعلق اقوال محل نظر ٹھہرے 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ ہم محترم زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کسی روایت پر جرح کرتے ہوئے اپنے نزدیک ثابت شدہ چیزوں کو بنیاد بتاتے ہیں یا ……بے اَصل باتوں کی بنیاد پر بھی جرح کرتے رہتے ہیں؟ اگر آپ نفی میں جواب دیتے اور اپنی شان یہ بتلاتے ہیں کہ آپ صرف ثابت شدہ چیزوں ہی کی بنیاد پر جرح کرتے ہیں تو کیا اما م بخاری رحمہ اللہ آپ سے بھی گئے گزرے ہیں کہ وہ بے اَصل قصوں اور کہانیوں کی بنیاد پر ایک حدیث پر ذمہ دارانہ کلام کریں؟ آپ کی بات مان لینے کی صورت میں معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ جرح و تعدیل اور عللِ حدیث سے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ کے تمام تر اقوال محل ِ نظر ٹھہرتے ہیں۔ اور ان کے ہر قول کے ثبوت کی دلیل فراہم ہونا ضروری قرار پاتا ہے ،کیوں کہ احتمال ہے کہ کسی اور حدیث کو معلوم کہنے یا کسی روای کو ضعیف و مجروح کہنے میں بھی اسی طرح کی بے بنیاد باتوں کا سہارا امام بخاری رحمہ اللہ نے لیا ہو!یاد رہے کہ محدثین جب کسی حدیث کو معلوم کہتے ہیں یا کسی راوی کو ضعیف یا مجروح کہتے ہیں تو ا س کی بنیاد دیگر روایات ہی ہوتی ہیں۔ پھر یہ خطرہ صرف امام بخاری رحمہ اللہ ہی کے اقوال سے متعلق نہیں ہوگا ، بلکہ جرح و تعدیل کے تمام ائمہ کے اقوال تعلیل وتضعیف محترم زبیر علی زئی کے یہاں ان کے ذاتی تصدیق کے محتاج ہوں گے ، کیوں کہ جب امام بخاری رحمہ اللہ جیسے سلطان المحدثین بے اَصل قصوں اور کہانیوں کی بنیاد پر جرح کر رہے ہیں تو دیگر ائمہ فن سے بھی یہ چنداں مستبعد نہیں ۔ واللہ المستعان ۔ ‘‘

 ( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۱۰۸،دارالسنة للتحقیق والطباعة والنشر ) 

سنابلی صاحب آگے لکھتے ہیں: 

’’ جس چوٹی کے محدث نے اپنی کتاب صحیح میں صحت ِ حدیث کا ایسا اونچا معیار قائم کیاکہ یہ کتاب قرآن کے بعد سب سے بہتر کتاب قرار پائی ، کیا ایسے عظیم المرتبت محدث آں جناب کی نظرمیں اسی لائق رہ گئے ہیں کہ مشہور واقعات اور کہانیوں کی بنا پر جرح و تعدیل کے احکام صادر کرنے لگیں؟ امام بخاری کے ہزاروں سال بعد پیدا ہونے والوں کو تحقیق کا یہ معیار بہ خوبی معلوم ہے ، لیکن امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ کسی بات کا مشہور ہونا الگ بات اور اس کا صحیح ہونا الگ بات ہے ۔ انا للہ وانا والیہ راجعون ۔ واللہ یہ چھوٹا منہ بڑی بات اور امام بخاری رحمہ اللہ کے ساتھ بے اَدبی ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۱۰۹،دار السنة للتحقیق والطباعة والنشر ) 

چودہ سوسالہ تاریخ میں علی زئی کا ہم نوا کوئی نہیں 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ محترم زبیر علی زئی ہر جگہ جمہور کے فیصلے کو ترجیح دیتے ہیں ، لیکن یہاں پر موصوف امام بخاری رحمہ اللہ کے فیصلے کے خلاف ایسی بات کو ترجیح دے رہے ہیں ، جو جمہور تو دُور کی بات ، چودہ سو سالہ دَور میں کسی ایک کابھی موقف نہیں ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۱۳۲ ) 

من گھڑت کو صحیح کہہ دیا 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ زیر بحث روایت میں بھی شدید سے شدید تر نکارت ہے ۔ اور وہ یہ کہ ایک جلیل القدر صحابی رسول یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ جو اسلامی فوج کے کمانڈر تھے ، ان پر حسن پرستی اور اسی کی خاطر اور کی لونڈی غصب کرنے کا بے ہودہ الزام اور انتہائی گھٹیا تہمت لگائی گئی ہے۔ یہ کوئی معمولی تہمت نہیں، کیوں کہ یہ تہمت ایک جلیل القدر صحابی پر اس وقت لگ رہی جب وہ جہاد جیسے مقدس فریضے کو ادا کرنے میں مشغول تھے ، نیز ایک عام مجاہد نہیں بلکہ مجاہدین کے امیر اور کمانڈر تھے ۔ غور کریں کہ کیا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر ِ تربیت رہنے والے جلیل القدر صحابی اور جنہیں عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے گوہر شناس نے فوج کا کمانڈر منتخب کیا ہو، کیا ایسے معتمداور ذمے دار صحابی سفر جہاد جیسے مقدس فریضے کی راہ میں نہ صرف یہ کہ حسن پرستی پر آمادہ ہوں، بلکہ اس کی خاطر دوسرے کی لونڈی بھی ہڑپ کر لینے میں کوئی عار محسوس نہ کریں، بلکہ مظلوم کے گر گڑانے پر بھی یہ ہوش میں نہ آئیں ، حتی کہ ایک دوسرے صحابی انہیں تین تین بار سمجھائیں ، پھر بھی ان کی آنکھ نہ کھلے اور معاملہ اس وقت قابو میں آئے جب انہیں یزید سے متعلق ایک خوف ناک حدیث پیش کی جائے ؟! سبحان اللہ ۔ یہ پورا سیاق چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ یہ من گھڑت کہانی ہے ۔ کسی سبائی درندے اور اسلام کے دشمن نے اسے اسلامی فوج اور بالخصوص بنو اُمیہ کو بدنام کرنے کے لئے گھڑا ہے، اور اپنی عاقبت برباد کی ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۱۴۲،۱۴۳ ) 

من مانی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو مرعوب کرنے کی کوشش

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ زیادت ِ ثقہ سے متعلق بحث کو محترم زبیر علی زئی نے بہت طول دیا ہے۔ جس سے موصوف کا مضمون کافی بوجھل ہوگیا ہے۔ عام طور پر یہ طرزِ عمل ان کا ہوتا ہے جن کے پاس دلائل نہیں ہوتے تو بلاو جہ غیر متعلق تفصیلات پیش کرکے اپنے مضمون کو بوجھل کر دیتے ہیں ، 

تاکہ قارئین اتنی مفصل تحریر دیکھ کر مرعوب ہو جائیں ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۱۴۵) 

 روایت کی نکارت پر پردہ ڈالنے کی جسارت

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’زیر بحث روایت میں شدید نکارت بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ ایک جلیل القدر صحابی اور اسلامی فوج کے کمانڈر یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ پر حسن پرستی اور اسی کی خاطر دوسرے مجاہد کی لونڈی غصب کرنے کی بے ہودہ تہمت لگائی گئی ہے۔ یہ نکارت نہیں تو اور کیا ہے؟ واضح رہے کہ محترم زبیر علی زئی نے ’’ اغتصبھا ‘‘ کا ترجمہ جان بوجھ کر غلط کرکے نہ صرف یہ کہ اس نکارت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ، بلکہ یہاں آ کر اس نکارت کا یک قلم انکار کربھی کردیا ۔فیا للعجب۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۱۴۶ ) 

علی زئی دعوے کے بطلان کی ایک زبر دست دلیل 

 شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ ابو العالیہ تو صرف ابو مسلم عن ابی زر ( کی سند ) سے روایت کرتے ہیں۔‘‘ 

( علمی مقالات: ۶؍۳۸۴)

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے علی زئی کی تردید میں لکھا: 

’’اس کے بطلان کی ایک زبردست دلیل یہ بھی ہے کہ صحیح مسلم میں ابو العالیہ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت کو نقل کیا ، لیکن ’’ ابو مسلم ‘‘ کے واسطے سے نہیں ، بلکہ ’’ عبد اللہ بن الصامت ‘‘ کے حوالے سے ، چنانچہ امام مسلم رحمہ اللہ ( المتوفی : ۲۶۱ھ) نے کہا : حدثنی یحی بن حبیب الحارثی، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن بُدَیل، قال سمعت ابا العالیة یحدث عن عبد اللہ بن الصامت، عن ابی ذر ……[ صحیح مسلم (ٍ؍۴۴۸) رقم الحدیث ( ۶۴۸) ] محترم زبیر علی زئی امام ابن معین رحمہ اللہ کے کلام سے جو مطلب اَخذ کر رہے ہیں ، اس کے بطلان پر صحیح مسلم کی یہ روایت زبر دست دلیل ہے ، کیوں کہ اس میں ابو العالیہ رحمہ اللہ نے ’’ عبد اللہ بن الصامت ‘‘ کے واسطے سے ابو زر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے نہ کہ ’’ ابو مسلم ‘‘ کے واسطے سے! ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۱۶۶،۱۶۷ )

 بے سند بات موصوف کی نظر میں حجت ہو گئی 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے علی زئی کی تردید میں لکھا: 

’’ ابن عساکر کی بے سند بات موصوف کی نظر میں حجت ہو گئی ، حالاں کہ امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس بات کو معروف بھی نہیں کہا اور اس کے برعکس ائمہ فن کی شہادتیں بھی موجود ہیں ۔ مثلاً خود موصوف نے اس سے قبل ابن معین سے نقل کیا کہ وہ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ابو العالیہ کے سماع کا انکار کر رہے ہیں۔ اَب کتنی عجیب بات ہے کہ امام العلل امام بخاری رحمہ اللہ معروف کہہ کر کوئی بات کہیں تو اسے قصہ کہانی کے مشابہ قرار دے کر یکسر رَد کر دیاجائے۔اور امام ابن عساکر رحمہ اللہ بے سند بات کہیں اور دیگر ائمہ فن ا س کا انکار کریں ، اس کے باوجود بھی ابن عساکر کا قول موصوف کی نظر میں حجت و برہان کی حیثیت رکھتا ہو! یہ معمہ ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۱۶۹ )

 صحیح حدیث کو ضعیف کہنے کی جسارت 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ محترم زبیر علی زئی نے رمضان کی طاق راتوں کو بطور خاص پڑھی جانے والی دعا: ’’ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی ‘‘ کو ضعیف قرار دیا ہے اور وجہ یہ بتائی ہے : ’’ ……عبد اللہ بن بریدۃ لم یسمع من عائشه ، کما قال الدارقطنی ۔‘‘[انوار الصحیفة فی الاحادیث الضعیفة من السنن الاربعة مع الادلة ( ۲۹۷)]حالاں کہ ابن بریدہ کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی معاصرت حاصل ہے ۔ واضح رہے کہ مذکورہ دعا ہماری نظر میں ثابت ہے ، کیوں کہ انکار ِ سماع میں امام دارقطنی منفرد ہیں۔اور جمہور اُن کے برخلاف سماع کے قائل ہیں،لہذا جمہور کے فیصلے کی روشنی میں امام دار قطنی رحمہ اللہ کا قول غیر مسموع ہے۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۱۷۰ ) 

عجیب و غریب فلسفہ :ثبوت بھی اور انکار بھی

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ صریح سماع کے اثبات میں اس قول کو اگر باسند صحیح ثابت فرض کر لیا جائے، جیسا کہ زبیر علی زئی صاحب نے کیا ہے تو غور کیا جائے کہ ایک طرف صریح سماع کو باسند صحیح ثابت بھی فرض کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس کا انکار بھی کیا جارہا ہے ! یہ انتہائی عجیب و غریب فلسفہ ہے ! ۔ ‘‘ 

(حاشیہ یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۱۸۳) 

صحیح بخاری اور مشہور کتب حدیث سے دُور 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ اَب جب کہ یہ روایت اسی سند کے ساتھ صحیح بخاری میں بھی موجود ہے ، جو قرآن کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب ہے تو اسی حدیث کو صحیح بخاری بلکہ مشہور کتب حدیث سے بھی دُور کر جاکر ابن سعد کی طبقات سے نقل کیا گیا!آخر کیوں ؟!مزید یہ کہ ابن سعد سے یہ روایت پیش کرنے کے بعد اس کی سند کو صحیح ثابت کرنے پر توانائی صرف کی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ روایت اسی سند کے ساتھ صحیح بخاری میں موجود ہے تو پھر ابن سعد کی کتاب طبقات سے اسے پیش کرکے اس کی سند پر بحث کرنے کی بجائے کیا یہ آسان نہ تھا کہ صحیح بخاری سے اسے نقل کر دیا جاتا؟ ہمارے خیال سے یہ روایت اس لئے نہیں نقل کی گئی، کیوں کہ اگر صحیح بخاری سے یہ روایت نقل کرکے یہ کہا جاتا کہ امام بخاری کے دعوے کے خلاف اس روایت میں دلیل موجود ہے تو ایک بچے کے ذہن میں بھی سوال اُٹھتا کہ اگر صحیح بخاری ہی میں یہ روایت موجود ہے تو امام بخاری نے اس کے خلاف کیسے دعوی کر لیا؟ اس مصیبت سے بچنے کے لئے چالاکی یہ کی گئی کہ اسی روایت کو صحیح بخاری سے ہٹ کر بلکہ مشہور کتبِ احادیث سے بھی دُور جا کر ابن سعد سے نقل کیا گیا، تاکہ اسن سعد کا حوالہ دیکھتے ہوئے قاری ایک طرف یہ سمجھے کہ جناب نے کمال کر دیا ، آخر کتب ِرجال سے دلیل ڈھونڈ نکالی اور ساتھ میں قاری کا ذہن بھی اس طرف نہ جائے کہ یہ روایت حدیث کی کسی مشہور کتاب میں بھی ہو سکتی ہے ، پھر صحیح بخاری میں اس کے ہونے کا تو خیال ہی دل میں نہ آئے گا ۔ ہم کہتے ہیں کہ جو شخص خود کو بہت زیادہ چالاک سمجھتا ہے ، اس کی سب سے بڑی بے وقوفی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو بے وقوف سمجھتا ہے ، حالاں کہ کسی کو یہ خوش فہمی نہیں پالنی چاہیے کہ کہ ہماری چالاکی کی تہہ تک کوئی پہنچ نہیں سکتا۔ بہرحال ابن سعد کی روایت جو صحیح بخاری میں بھی مروی ہے ، اس میں امام بخاری رحمہ اللہ کے دعوے کے خلاف کچھ بھی موجود نہیں، بلکہ یہ روایت دیگر روایات سمیت امام بخاری ہی کے دعوے کی زبر دست دلیل ہے جیسا کہ وضاحت کی گئی ہے۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۱۹۷،۱۹۸ ) 

آپ کے نزدیک روایت کے صحیح ہونے سے لازم نہیں کہ کسی اور کے ہاں بھی صحیح ہو

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ رہا زبیر علی زئی صاحب کا کسی حدیث کو اپنی تحقیق سے صحیح قرار دے کر یہ استدلال کرنا کہ امام ابن عدی راوی کے ترجمہ میں صحیح احادیث بھی ذِکرکرتے ہیں تو اس تعلق سے اول تو یہ عرض ہے کہ آپ کی تحقیق میں کوئی روایت صحیح ہے تو اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ ابن عدی رحمہ اللہ کی تحقیق میں بھی یہ روایت صحیح ہے ؟ مؤدبانہ گزارش ہے کہ یہاں امام ابن عدی کی تحقیق کی بات ہو رہی ہے ، اس لئے اس مقام پر اپنی تحقیقات کو اپنے پاس ہی محفوظ رکھیں۔ ورنہ آپ دن رات کسی روایت کو صحیح کہتے رہیں ، اس سے وہ روایت صرف آپ ہی کی نظر میں صحیح ہوگی ، نہ کہ آپ کے صحیح کہنے سے امام ابن عدی رحمہ اللہ کی نظر میں بھی صحیح ہو جائے گی ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۰۲) 

اہل علم کی طرف غلط نسبتوں کا طول طویل سلسلہ 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدآگے لکھتے ہیں: 

’’ یہ معاملہ صرف یہیں پر ختم نہیں ہوجاتا ہے ، بلکہ مسئلہ تدلیس اور مسئلہ حسن لغیرہ اور مسئلہ زیادتِ ثقہ میں جس طرح سے موصوف نے اپنے موقف کو محدثین کی طرف منسوب کیا ہے ، اسے پڑھنے کے بعد اگر ٹھہر کر اس پر غور کیا جائے اور اصل مقامات سے اہلِ علم کی عبارتیں دیکھی جائیں تو واللہ ! اہل ِ علم کی طرف غلط نسبتوں کا ایک طول طویل سلسلہ نظرآتا ہے۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۰۷) 

اصولِ حدیث میں ظاہریت 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے مذکورہ عنوان قائم کرکے لکھا : 

’’ ماضی میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ فقہ و استنباط میں بس ظاہر ہی کو دیکھتے تھے اور اسی کے مطابق فیصلے صادر فرما دیتے تھے ، امت نے ان کے اس طرز ِ عمل کو پسند نہیں کیا، بلکہ انہیں اہلِ ظاہر کہا، کچھ اس طرح کی ظاہریت کا مظاہرہ اصولِ حدیث میں بھی کرتے ہیں اورمحض ظاہری سند اور بہ ظاہر اس کی صحت دیکھ کر یہ فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ حدیث صحیح ہے ۔ جو لوگ زیادتِ ثقہ کو مطلق طور پر قبول کرتے ہیں، وہ بھی اسی قبیل سے ہیں اور بعض محدثین نے اس کی صراحت بھی کی ہے۔ چنانچہ امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ (المتوفی : ۷۰۲ھ) نے کہا:……یقینا جس نے محدثین سے یا ان کی اکثریت سے یہ نقل کیا کہ جب مرسل اور مسند یا مرفوع اور موقوف یا کمی و بیشی کا تعارض ہو تو زیادتی کرنے والے کی بات پر فیصلہ ہوگا تو اس نے اس طرح کی مطلق بات کہہ کر صحیح نہیں کیا، کیوں کہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے اور محدثین کے جزئی احکامات کا مراجعہ کریں تو آپ کو میری بات کی درستی معلوم ہو جائے گی اور سب سے زیادہ جو لوگ اس طرح کے قواعد کو قاعدہ کلیہ سمجھ بیٹھے ہیں، وہ بعض اہل ِ ظاہر ہیں۔ [شرح الالمام باحادیث الاحکام لابن دقیق العید (ص :۶۰،۶۱)]عرض ہے کہ شیخ الاسلام ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے بہت ہی خوب صورت بات کہی ہے کہ ہر جگہ زیادت ِ ثقہ کو قبول کرلینا یا اسے عام قاعدہ سمجھ لینا ، اہلِ ظاہر کا کام ہے ، چنانچہ آگے ہم ایک مثال میں بیان کریں گے کہ جس میں زیادتِ ثقہ کو محدثین نے رَد کر دیا، لیکن ابن حرم ظاہری رحمہ اللہ نے اصول ِ حدیث میں بھی ظاہریت کا ثبوت دیتے ہوئے اسے قبول کر لیا ہے۔ قارئین منتظر رہیں ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۱۰) 

راوی کے اختلاط کی بابت بغیر معتبر ثبوت کے دعوی اور عبارت میں گھپلا 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ واضح رہے کہ حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اپنے دعوے کا کوئی معتبر ثبوت نہیں پیش کیا ہے کہ عبد الوہاب ثقفی نے اختلاط کے بعد روایت کرنا بند کر دیا تھا ۔ شروع شروع میں موصوف نے ’’ معجم المختلطین ‘‘ کا حوالہ دیا تھا ، لیکن ہمارے جواب میں جب اس کا حشر دیکھا تو امام ذہبی رحمہ اللہ کی وہ بات نقل کردی ،جس کی بنیاد غیر ثابت روایت تھی،لیکن موصوف نے امام ذہبی کی اصل بنیاد کو بڑی ہی ہوشیاری سے چھپا کر محض امام ذہبی رحمہ اللہ کا قول لکھ مارا۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۲۴۰ ) 

مختلف فیہ صحابیت والا حسن الحدیث ہوتا ہے،یہ ایسا اصول ہے جو کسی کتاب میں درج نہیں

شیخ زبیر علی زئی نے لکھا: 

’’ جس کے صحابی ہونے میں اختلاف ہو اور جرح مفسر ثابت نہ ہو تو وہ حسن الحدیث راوی ہوتا ہے ۔‘‘ 

( توضیح الاحکام المعروف فتاوی علمیہ :۱ ؍۴۸۴)

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے علی زئی کے کشیدہ مذکورہ اصول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: 

’’ واضح رہے کہ ہمارے نزدیک یہ کہنا کہ جس راوی کے صحابی ہونے میں اختلاف ہو ، وہ راوی کم اَزکم حسن الحدیث ضرور ہوتا ہے ، محل نظر ہے ۔ ہمیں اصول حدیث کی کسی کتاب میں یہ قاعدہ نہیں ملا ، بلکہ اس سلسلے میں زبیر علی زئی صاحب نے صرف حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی درج ذیل عبارت کا حوالہ دیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’ اسماء بنت سعید بن زید بن عمرو‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں : واما حالھا فقد ذکرت فی الصحابة وان لم یثبت لھا صحبة فمثلھا لا یسأل عن حالھا۔ جہاں تک ان کی حالت کی بات ہے تو انہیں صحابہ میں ذِکر کیا گیا ہے اور اگرچہ ان کی صحابیت ثابت نہ ہو ، پھر بھی آپ جیسے لوگوں کی حالت تعارف کی محتاج نہیں ۔ [تلخیص الحبیر (۱؍۷۴) ]حافظ ابن حجر کی اسی عبارت سے یہ اصول اخذ کیا جا رہا ہے کہ جس راوی کے صحابی ہونے میں اختلاف ہو ، وہ ثقہ یا حسن الحدیث ہوتا ہے۔ عرض ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مذکورہ بات بطور اصول نہیں کہی ہے ، بلکہ خاص ’’ اسماء بنت سعید بن زید بن عمرو‘‘ کے بارے میں ایسا کہا ہے اور یہ بات قرائن کی بنیاد پر کہی ہے ، نہ کہ صرف اس بنیاد پر کہ ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے ۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی متعدد مقامات پر مختلف فیہ صحابیت والے رواۃ کو مجہول کہا ہے ، جن پر کوئی جرح نہیں ملتی ہے ۔ [تفصیل کے لئے دیکھیں: تحفة الابرار فی تحقیق اثر مالک الدار (ص : ۵۲ تا ۸۵)] ۔ ‘‘

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۷۰)

بھونڈی مثال ، مضحکہ خیزی اورکج اندیشیاں

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’زبیر علی زئی صاحب اہلِ علم کی طرف کیا کیا باتیں منسوب کرتے ہیں؟ اس کا صرف ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔ تدلیس سے متعلق امام شافعی کی کتاب سے موصوف امام شافعی کا کلام نقل کرنے کے بعد آگے چل کر نمبر (۲) قائم کرکے لکھتے ہیں : ’’اس اثر سے معلوم ہوا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کتاب الرسالہ سے راضی( متفق ) تھے اور تدلیس کے مسئلے میں ان کی طرف سے امام شافعی پر رَد ثابت نہیں ، لہذا ان کے نزدیک بھی مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہے ، چاہے قلیل تدلیس ہو یا کثیر التدلیس ۔ ‘‘ [ انوار الطریق اَز زبیر علی زئی (ص:۱۱۱) نیز دیکھیں : نور العینین ، جدید ایڈیشن (ص : ۴۵۸)] پھر آگے چل کر نمبر(۳) قائم کرکے لکھتے ہیں: امام اسحاق بن راہویہ کے پاس امام شافعی کی کتاب الرسالہ پہنچی ، لیکن انہوں نے تدلیس کے اس مسئلے پر کوئی رَد نہیں فرمایا ، جیساکہ کسی روایت سے ثابت نہیں ہے ، لہذا معلوم ہوا کہ وہ تدلیس کے مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے موافق تھے۔‘‘ [ انوار الطریق اَز زبیر علی زئی (ص:۱۱۲) نیز دیکھیں : نور العینین، جدید ایڈیشن (ص : ۴۵۸)]قارئین!سنجیدگی سے غور کریں کہ کیا اہلِ علم کی طرف غلط نسبت کی اس سے بھونڈی مثال مل سکتی ہے ؟ ایک طرف اہلِ علم کی طرف اقوال منسوب کرنے میں یہ مضحکہ خیزی اور دوسروں کی نسبت پر کج اندیشیاں ! سبحان اللہ !۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۰۶،۲۰۷) 

زیادتِ ثقہ مطلقاً قبول نہیں ، بلکہ مدار قرائن پر ہے 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ زیادتِ ثقہ سے متعلق محدثین کے یہاں کوئی مخصوص ضابطہ یا قاعدہ کلیہ نہیں ہے، بلکہ محدثین اس کے قبول و رد کا فیصلہ قرائن کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اہلِ فن نے اس بابت مختلف اقوال نقل کئے ہیں، جن میں ایک قول یہ بھی ہے کہ زیادتِ ثقہ کو علی الاطلاق قبول کیا جائے گا، لیکن یہ قول شاذ ومتروک ہے، نیز مجہول لوگوں کی طرف منسوب ہے۔اہلِ فن نے یہ قول ذِکر تو کیا ہے،لیکن اس کے قائلین کون ہیں؟ اس بارے میں کسی ایک بھی محدث کا نام یا اس کا طرز عمل محفوظ نہیں ہے، جو اِس موقف کا حامل ہو اور اس نے اس پر عمل کیا ہو ،بلکہ بعض اہلِ علم نے تو اسے سرے سے محدثین کا موقف مانا ہی نہیں ہے، بلکہ اسے فقہاء کی طرف منسوب کیا ہے……الغرض زیادتِ ثقہ سے متعلق محدثین اور ائمہ نقد کا موقف یہی ہے کہ اس کے قبول و رد میں قرائن کا اعتبار کیا جائے گا، جیسا کہ ہم محدثین کی تصریحات پیش کریں گے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۲۰۸ ) 

زیادت ثقہ کو علی الاطلاق قبول کرنے والا کوئی نہیں مگر.... 

  شیخ زبیر علی زئی نے کہا زیادتِ ثقہ مطلقاً قبول ہے۔ شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے دعوی کیا کہ یہ موقف کسی بھی محدث کا نہیں ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: 

’’ واضح رہے کہ معاصرین میں بھی جن کبار اہلِ علم نے فن حدیث پر کام کیا ہے مثلاً علامہ البانی رحمہ اللہ ، وہ سب کے سب یہی موقف رکھتے ہیں۔ ہمیں معاصرین میں فن حدیث سے وابستہ ایک بھی معتبر علمی شخصیت ایسی نہیں ملی، جس نے زیادتِ ثقہ کو علی الاطلاق قبول کرنے والا موقف اختیار کیاہو۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۱۹) 

 عجیب و غریب وجہ ضعف 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ محترم حافظ زبیر علی زئی نے بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا، لیکن وجہ ضعف کے طور پر بڑی عجیب و غریب بات ذِکر کی ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۲۷) 

صحابی کی توہین پر مبنی روایت قبول کر لی 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ اَب دیکھنا ہے کہ محترم حافظ زبیر علی زئی کی تحقیق کیا رنگ لاتی ہے؟ کیا جس طرح موصوف نے زیادتِ ثقہ کے علی الاطلاق قبول کرنے والے مرجوح و متروک اصول کو اپنا کر یزید رضی اللہ عنہ کو مطعون کرنے والی حدیث کو بڑی فراخ دِلی سے قبول کر لیا ہے، کیا موصوف ’’ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ‘‘ سے متعلق وارد ہونے والی اس حدیث پر ایمان لائیں گے؟ واضح رہے کہ صحابی رسول یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو مطعون کرنے والی یعنی ان پر حسن پرستی اور اسی کی خاطر کسی اور کی خوب صورت لونڈی غصب کرنے اور چھیننے کا الزام لگانے والی روایت کو انہوں نے پوری فراخ دِلی سے قبول کرلیا ۔ واللہ المستعان ……ہماری نظر میں یہ روایت مردود ہے۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۲۹) 

اپنا ہی اصول نظر انداز 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ امام ذہبی رحمہ اللہ نے جس بنیاد پر مذکورہ بات کہی ہے ، وہ بنیاد ہی ثابت نہیں ، اس لئے اصل بنیاد منہدم ہونے کے سبب امام ذہبی کا قول بھی غیر معتبر ہوگیا ۔ چنانچہ خود حافظ زبیر علی زئی صاحب ایک مقام پر لکھتے ہیں:حافظ ذہبی نے بھی عمرو بن یحی کو ابن معین کی طرف منسوب غیر ثابت جرح کی وجہ سے ’’ دیوان الضعفاء والمتروکین ‘‘(۲؍۲۱۲، رقم: ۲۹۲۳) وغیرہ میں ذِکر کیا ہے۔ اور اَصل بنیاد منہدم ہونے کی وجہ سے یہ جرح بھی منہدم ہے۔ [ ماہ نامہ’’ الحدیث ‘‘(شمارہ: ۹۵، ص: ۸۲) نیز دیکھیں : علمی مقالات(۴؍۵۵۳)] عرض ہے کہ جناب! آپ یہاں اپنا یہ اصول کیوں بھول گئے؟ یہاں بھی تو حافظ ذہبی نے ابو داود کی طرف منسوب غیر ثابت قول کی بنیاد پر عبد الوہاب کے اختلاط سے متعلق مذکورہ بات کہی ہے، اور اصل بنیاد منہدم ہونے کے سبب حافظ ذہبی کی یہ بات بھی منہدم ہے۔یہ تو اختلاط کے پہلے جواب کا حشر ہوا ، دوسرے جواب کی حالت بھی اس سے بہتر نہیں ہے ۔ ‘‘

 ( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۲۴۲ )

 علی زئی کی طرف سے سند پر عجیب و غریب اعترا ض 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’زبیر علی زئی صاحب نے اس کی سند پر عجیب و غریب اعتراض کرتے ہوئے کہا: ’’ ابو غادیہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت دو راوی بیان کرر ہے ہیں ۔ (۱)ابو حفص مجہول(۲) کلثوم بن جبر : ثقہ ۔ امام حماد بن سلمہ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں ، ابو حفص (مجہول ) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے ۔ اور اس بات کی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔ ‘‘ [توضیح الاحکام : ۲؍۴۷۹)] عرض ہے : اولاً: علم حدیث کا مبتدی طالب علم بھی دیکھ سکتا ہے کہ اس سند میں ابو حفص کی متابعت موجود ہے، لہذا ابو حفص کی جہالت پر اعتراض کرنابہت بڑا عجوبہ ہے۔ حماد بن سلمہ نے صراحت نہیں کی کہ الفاظ کس کے ہیں تو امام حماد کی عدم صراحت ہی اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں کے الفاظ یکساں ہیں یا کم اَز کم دونوں میں کوئی معنوی فرق نہیں ہے ، کیوں کہ حماد بن سلمہ کا ایسا کوئی طرزِ عمل محدثین نے نہیں بتلایا ہے کہ یہ مختلف الفاظ کے ساتھ مختلف طرق کو یکجا سند و متن کے ساتھ ذِکر کر دیتے ہیں۔ اگر حماد بن سلمہ کی ایسی کوئی عادت ہوتی تو خود حماد بن سلمہ ہی مجروح قرار پاتے، جیسا کہ محمد بن عمر واقدی پر محدثین نے اس وجہ سے جرح کی ہے کہ یہ مختلف الفاظ کے ساتھ مختلف طرق میں تمام الفاظ کو اکٹھا کرکے اجتماعی سند کے ساتھ ذِکر کر دیتے ہیں۔ اگر حماد بن سلمہ کا بھی ایسا کوئی طرزِ عمل ہوتا تو محدثین ان پر گرفت ضرور کرتے، لیکن محدثین نے ان کے بارے میں ایسی کوئی صراحت نہیں کی ہے، جو اِ س بات کی دلیل ہے کہ حماد بن سلمہ کا ایسا کوئی طرزِ عمل نہیں تھا۔ لہذا جس راوی کایہ طرزِ عمل ثابت نہ ہو،اس کی کسی خاص روایت میں بغیر قوی دلیل کے یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ یہاں اس نے کئی سندیں ذِکر کرکے کسی ایک ہی کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۴۷۳ ) 

 ایسی متابعت جو خود علی زئی اصول کے مطابق بھی متابعت نہیں بن سکتی 

 شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’اس سند میں لیث بھی سعد صحاح ستہ کے مرکزی راوی اور ثقہ ، ثبت ، فقیہ اور امام مشہور تھے۔ [ تقریب (ص: ۸۱۷)] لیث بن سعد نے ابن وہب کے استاذ حیوۃ بن شریح کی متابعت تامہ کر رکھی ہے۔ والحمد للہ ۔ ‘‘ 

(ماہ نامہ الحدیث شمارہ: ۶، ص: ۷، بحوالہ یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۷۵ ۴ )

۴۳۷ )

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے علی زئی صاحب کی مذکورہ عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا : 

’’اس سند میں غور کریں! ولید بن مسلم اپنے دو استادوں سے یہ روایت نقل کرتے ہیں، ایک عبد اللہ بن لہیعہ ہیں اور دوسرے لیث بن سعد ہیں ۔ عبد اللہ بن لہیعہ بعض محققین کی نظر میں ضعیف ہیں اور زبیر علی زئی کی نظر میں یہ حسن الحدیث ہیں،مگر مدلس ہیں اور یہاں عن سے روایت کرتے ہیں ۔ اَب زبیر علی زئی ہی کے اصول کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ولید بن مسلم نے وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں : ابن لہیعہ ’’ عن ‘‘ سے روایت کرنے والے کے یا لیث بن سعد کے۔ اور اس بات کی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دونوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے ؟ افسوس ہے کہ زبیر علی زئی صاحب نے یزید کی مخالفت میں اپنا ہی اصول توڑ دیا بلکہ یہاں بڑے وثوق کے ساتھ کہا: ’’ لیث بن سعد نے ابن وہب کے استاذ حیوہ بن شریح کی متابعت ِ تامہ کر رکھی ہے۔‘‘سوال یہ ہے کہ آں جناب کو کو کیسے معلوم ہوا کہ لیث نے متابعت ِ تامہ کر رکھی ہے؟ آپ ہی کے اصول کی روشنی میں یہ صراحت کہاں ہے کہ ولید بن مسلم کے دونوں اساتذہ کے بیان کردہ الفاظ من و عن یکساں ہیں؟ معلوم ہوا کہ مذکورہ سند پر زبیر علی زئی صاحب کا اعتراض دوسرے مقام پر انہیں کے طرزِ عمل کے خلاف ہے۔ یاد رہے کہ زبیر علی زئی صاحب نے لیث بن سعد کی جو متابعت پیش کی ہے، وہ ولید بن مسلم کے تدلیسِ تسویہ سے متصف ہونے اور سند کے تمام طبقات میں سماع یا تحدیث کی صراحت نہ ہونے کے سبب ضعیف ہے ، جس کی وضاحت آگے [ اسی کتاب کا صفحہ (۵۹۸ تا ۶۰۰ ) دیکھیں ] حدیث، قسطنطنیہ پر بحث کے ضمن میں آرہی ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۴۷۵ )

علی زئی اصول میں بھی یہ متابعت ثابت نہیں

علی زئی نے دعوی کیاـ:

’’لیث بن سعد نے ابن وہب کے استاذ حیوہ بن شریح کی متابعت تامہ کر رکھی ہے۔والحمد للہ۔‘‘ 

( مشکوۃ بتحقیق زبیر علی زئی ، تحت رقم : ۳۲، بحوالہ یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ: ۵۹۹) 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے مذکورہ بات پہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: 

’’ عرض ہے کہ یہ متابعت قطعاً ثابت نہیں ،کیوں کہ ابن عساکر کی سند میں لیث بن سعد سے نیچے ضعف موجود ہے اور وہ ولید بن مسلم القرشی ہیں، جو تدلیس ِ تسویۃ کرتے تھے اور انہوں نے اپنے سے اوپر سند کے تمام طبقات میں سماع کی صراحت نہیں کی ہے ، جب کہ تدلیس ِ تسویہ سے متصف راوی کی سند صحیح ہونے کے لئے شرط ہے کہ وہ اپنے سے اوپر تمام طبقات میں سماع یا تحدیث کی صراحت کر ے، چنانچہ خود زبیر علی زئی صاحب ہی ایک مقام پر ایک دوسری روایت کو ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ اس روایت کے ایک راوی ولید بن مسلم مدلس تھے، آپ تدلیس ِ تسویہ کرتے تھے۔ تدلیس تسویہ کرنے والے راوی کی صرف وہی روایت مقبول ہوتی ہے ، جس میں وہ آخر تک سماعِ مسلسل کی تصریح نہ کرے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۵۹۹ ) 

 روایت کو ضعیف قرار دینے میں تکلفات سے کام لیا 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے شیخ زبیر علی زئی کے متعلق لکھا: 

’’ یہ روایت ان کے لئے پریشان کن ثابت ہوئی،اس لئے موصوف نے حد درجہ تکلفات سے کام لیتے ہوئے اس روایت کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی۔ ‘‘

 ( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۶۶۰ ) 

 تحقیق کی پوری کایا پلٹ گئی…… ثقہ عند الجمہور، ضعیف عند الجمہور بن گیا 

سنابلی صاحب مذکورہ عبارت کے متصل بعد لکھتے ہیں: 

  ’’اس ضمن میں موصوف نے اس کی سند کے ایک راوی عبد الرحمن بن معاویہ کے بارے میں دعوی کیا کہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے،اس لئے یہ راوی ضعیف ہے ، اس سلسلے میں موصوف نے امام ہیثمی کا قول بطور تائید پیش کیا کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے کہ اکثر نے اس راوی کو ضعیف کہا ہے۔حالاں کہ اس سے پہلے خود موصوف ہی نے امام ہیثمی کے اس قول کو مردود قراردیا تھا اور اس کے خلاف اپنی یہ تحقیق پیش کی تھی کہ جمہور نے اس راو ی کو ثقہ کہا ہے۔ [دیکھیں: تحقیقی مقالات (۳؍۳۸۵) ،نیز دیکھیں: مجلہ ’’ الحدیث ‘‘ (شمارہ: ۱۰۷، ص: ۴۸)] لیکن شاید یہ تحقیق پیش کرتے وقت انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اسی راوی نے ایک عظیم صحابی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یزید بن معاویہ کی تعریف نقل کی ہے۔ اور جوں ہی آں جناب کے سامنے میری تحریر پیش ہوئی اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس راوی نے ایک عظیم صحابی سے یزید بن معاویہ کی تعریف نقل کی ہے۔ پھر کیا تھا ؟ تحقیق کی پوری کایا پلٹ گئی اور توثیق کرنے والے جمہور کی پوری عمارت منہدم ہوگئی۔ اَب دوبارہ الیکشن ہوا ، نئے سرے سے ووٹنگ ہوئی اور اس بار ٹوٹے پھوٹے ووٹ حاصل کرکے نام نہاد جمہوریت کی تلوار اُٹھائی گئی اور  مدحِ یزید میں روایت بیان کرنے کی پاداش میں بے چارے عبد الرحمن بن معاویہ کی ثقاہت کا بڑی ہی بے دردی اور بے رحمی سے خون کر دیا گیا۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۶۶۰،۶۶۲) 

 رواۃ کی توثیق و تضعیف میں جمہوریت والا علی زئی اصول مضحکہ خیز ہے

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ محض جمہوریت اور نمبر شماری سے کسی راوی کی توثیق و تضعیف والا اصول ہی مضحکہ خیز ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۶۶۱ ) 

 سنابلی صاحب لکھتے ہیں:

’’ واضح رہے کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اکثر نے اس کی تضعیف کی ہے ، کیوں کہ ہم نے اوپر اکثر سے اس راوی کی توثیق پیش کر دی ہے ۔ والحمد للہ ۔ امام ہیثمی نے تضعیف کے قول کو اکثر کا قول قرار دیا ہے ، جس کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے اس راوی کی تضعیف کرنے والوں میں انہیں بھی شامل کر لیا ہے ، جنہوں نے اس راوی کو ثقہ کہا ہے ۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ۶۸۴ )

 سنابلی صاحب نے آگے لکھا : 

’’ یہ بھی معلوم ہوا کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ ہر جگہ جمہور کی توثیق پر اعتماد نہیں کرتے تھے ، بلکہ جو راجح موقف ہوتا تھا، اسے ترجیح دیتے تھے ، خواہ وہ جمہور کے موافق ہو یا جمہور کے خلاف۔‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۶۸۴) 

 علی زئی اصول کے تناظر میں جواب 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ زبیر علی زئی صاحب ایک مقام پر لکھتے ہیں: تنبیہ: حافظ ہیثمی لکھتے ہیں کہ ’’ وھو ضعیف عند الاکثرین ‘‘ اور وہ (قاسم ابو عبد الرحمن ) جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ ( مجمع الزوائد : ۱؍۹۶) یہ قول دو وجہ سے غلط ہے۔ (۱) تحقیق کرکے یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ قاسم مذکور جمہور کے نزدیک موثق ہے۔ (۲) خود ہیثمی بذات خوداسے ثقہ کہتے ہیں۔ کما تقدم آنفاً۔ ‘‘ [ مجلہ الحدیث (شمارہ: ۲۲ ،ص : ۹۴)]عرض ہے کہ عبد الرحمن معاویہ سے متعلق بھی حافظ ہیشمی کا قول انہیں دونوں وجوہات کی وجہ سے غلط ہے : ……۱۔ عبد الرحمن معاویہ کے بارے میں تحقیق کرکے ثابت کر دیا گیا ہے کہ یہ جمہور کے نزدیک موثق ہے ۔ ۲۔ نیزخود حافظ ہیثمی رحمہ اللہ بھی بذاتِ خود ثقہ کہتے ہیں ، جیسا کہ اس مقالے (میں ) ہم نے حوالہ پیش کیا ہے۔ ‘‘ 

( یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۶۸۶) 

 روایت کے الفاظ ہضم کر گئے 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’دَر اَصل مذکورہ حدیث کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے کہ اس حدیث کو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے صحابی رسول یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو سنائی اور اس وقت یہ شام میں تھے جیسا کہ بعض طرق میں پوری صراحت ہے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر کلام کرتے ہوئے جو کہا ہے۔ ( کما سیاتی ) اس کا ماحصل یہ ہے کہ جن دِنوں شام میں یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ تھے۔ ان دِنوں ابو ذر رضی اللہ عنہ شام گئے ہی نہیں۔ تو پھر ابو ذر رضی اللہ عنہ انہیں یہ حدیث کیسے سنا سکتے ہیں؟ یعنی امام بخاری رحمہ اللہ کے کلام کی رو سے یہ روایت اپنے بعض الفاظ کے پیشِ نظر موضوع اور من گھڑ ت ثابت ہوتی ہے لیکن ان الفاظ کو زبیر علی زئی صاحب یہاں ہضم کر گئے ۔ ‘‘ 

(حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ ۱۷،۱۸) 

علی زئی نے تحریف کر دی 

 شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدمذکورہ عبارت کے متصل بعد لکھتے ہیں: 

’’صرف یہی نہیں بلکہ اسی روایت کے بعض الفاظ سے ایک جلیل القدر صحابی رسول کی توہین بھی ہوتی ہے ۔ زبیر علی زئی صاحب نے اپنے رسالہ میں اس توہین والے جملے میں معنوی تحریف کرتے ہوئے اس کا ترجمہ ہی بدل دیا ۔ اور یہاں سرے سے وہ الفاظ ہی ذِکر نہیں کئے۔ اس لئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ روایت پورے الفاظ کے ساتھ مع ترجمہ درج کردیں ۔ ‘‘ 

(حدیث یزید محدثین کی نظر میں صفحہ۱۸) 

(جاری)


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...