مولانا ثناء اللہ صفدر صاحب حفظہ اللہ
نااہل مجتہد کے متعلق علامہ نووی رحمہ اللہ کا غضب ناک فیصلہ
"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"
مسائل کا استنباط و استخراج کرنا، قرآن وسنت سے مسائل نکالنا مجتہد کا کام ہے اس لئے ہر عربی جاننے والا مجتہد نہیں بن سکتا۔مسلم شریف میں روایت ہے۔
عن عمرو بن العاص رضی اللّٰه عنه انه سمع رسول اللّٰه صلی الله عليه وسلم قال:اذا حکم الحاکم فاجتهد ثم اصاب فله اجران،وإن اخطأ فله اجر:
اس حدیث کے تحت علامہ نووی رحمہ اللہ مسلمانوں کا اجماع نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قال العلماء: اجمع المسلمون ان هذا الحديث فی حاکم عالم اهل للحکم فان اصاب فله اجران،اجر باجتهاده، واجر باصابته.وان اخطأ فله اجر باجتهاده...قالوا:
فأما من ليس باهل للحکم فلا يحل له الحکم،فإن حکم فلا اجرله بل هو اثم ولا ينفذ حکمه سواء واقف الحق ام لا، لأن اصابته اتفاقية ليست صادرة عن اصل شرعی فهو عاص فی جميع احکامه سواء وافق الصواب ام لا، وهی مردودة کلها لايعزر فی شئ من ذالک.
(نووي شرح مسلم،ج۲،ص۷۶)
ترجمہ: یعنی تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہیں کہ یہ حدیث اس عالم، مجتہد حاکم کے متعلق ہے جس میں فیصلہ کرنے کی، فتویٰ دینے کی اہلیت و صلاحیت موجود ہو۔اب اگر ایسا ہی عالم حق کے موافق فیصلہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ اس کو دو اجر عطاء فرمائینگے ایک اس کے اجتہاد کی اور محنت کی وجہ سے اور دوسرا اس کا حق تک پہنچنے کی وجہ سے۔البتہ اگر فیصلہ کرنے میں،فتویٰ دینے میں اس نے غلطی کی پھر بھی اللہ تعالیٰ اس کی محنت کی وجہ سے ایک اجر ضرور عطاء فرمائیگا۔
آگے علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
جس میں اجتہاد اور فتویٰ کی صلاحیت موجود نہ ہو تو ایسے آدمی کیلئے فتویٰ دینا ناجائز وحرام ہیں لیکن پھر بھی اگر ایسے
نااہل آدمی نے فتویٰ دیا تو بجائے اجر ملنے کے الٹا یہ آدمی گنہگار ہوگا اور ایسے شخص کا فتویٰ وفیصلہ نافذ نہیں کیا جائیگا اگرچہ حق تک کیوں نہ پہنچے کیونکہ اس کا حق تک پہنچنا ایک اتفاقی امر ہے کسی اصل شرعی کی وجہ سے نہیں ہے اور یہ شخص تمام احکام میں گنہگار ہیں۔
علامہ نووی رحمہ اللہ آگے لکھتے ہیں کہ سنن میں ایک حدیث وارد ہے جس میں آتا ہے کہ قضاۃ تین قسم کے ہیں ہیں ان میں سے ایک جنت جائیگا اور دو جہنم جائینگے۔
پہلا وہ قاضی ہے جس نے حق کو پہچانا اور حق کے موافق ہی فیصلہ صادر کیا یہ جنت جائیگا۔دوسرا وہ قاضی ہے جو حق کو جاننے کے باوجود حق کے خلاف فیصلہ کرتا ہے یہ جہنم جائیگا اور تیسرا وہ قاضی ہے جس نے جہالت کی بنیاد پر فیصلہ صادر کیا تو یہ بھی جہنم جائیگا۔
اسکی آسان مثال ہم یوں بھی دے سکتے ہیں کہ ایک سرکاری ماہر ڈاکٹر اگر مریض کا صحیح آپریشن کرلے تو بہت خوب ورنہ اس کی محنت کے بعد اگر کسی مریض کا آپریشن ناکام ہوا،مریض مرگیا تو بھی ڈاکٹر کو قصوروار قرار نہیں دیا جائیگا، حکومت وقت نہ اس کو سزا دے گی اور نہ ہی کوئی جرمانہ اس پر عائد کیا جائیگا۔
اس کے برعکس ایک نا آدمی اگر آپریشن کرنے بیٹھ گیا اگرچہ یہ آدمی صحیح آپریشن کیوں نہ کریں لیکن حکومت وقت ضرور اس کو بیڑیا پہنا کے جیل کا مہمان بنائیگا کیونکہ یہ ناہل ہے اس میں ڈاکٹری کی شرائط وصلاحیت موجود نہیں بالکل اسی طرح غیرمقلدین بھی نااہل ڈاکٹرز جیسے ہیں ان لوگوں میں اجتہاد کی صلاحیت موجود ہی نہیں مگر اس کے باوجود قرآن وحدیث سے ازخود مسائل نکالنے کے دعویدار ہیں حالانکہ ایسے لوگوں کی اجتہاد سے دین کی تعمیر نہیں بلکہ دین کی تخریب لازم آئیگی۔
آخیر میں درد دل وخلوص کے ساتھ غیرمقلدین کو ایک درد بھرا پیغام دیتا ہوں کہ خدارا قرآن وحدیث سے بچوں کا کھیل نہ بنائیں جس طرح نااہل ڈاکٹر کو دنیا میں حکومت وقت کی جانب سے سزا ملے گی ایسے ہی نااہل مجتہدین کو روز محشر اللہ تعالیٰ کی دربار میں سزا ملے گی۔لہذا اپنے آپ کو نااہل مجتہدین کی صف سے بچاؤ ورنہ عتاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں