نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مسئلۂ تقلید پر علمی،تحقیقی و اُصولی گفتگو


مسئلۂ تقلید پر  علمی،تحقیقی و اُصولی گفتگو

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"

 مولانا عبد الرحمٰن عابد صاحب حفظہ اللہ 


ہمارا آج کا زیرقلم موضوع “مسئلۂ تقلید” سے متعلق ہے۔ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے غیرمقلدین کے ساتھ سب سے زیادہ اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ اس کو بجا طور پر "اُمّ المسائل" بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اسی سے بہت سے فروعی مسائل جنم لیتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ دیگر موضوعات اہم نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر اختلافات کی اصل جڑ یہی مسئلہ ہے۔

مدعی کون؟ مدعی علیہ کون؟

ہر مناظرہ میں ایک مدّعی ہوتا ہے اور دوسرا مدّعی علیہ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ “تقلید” کے مسئلے میں مدّعی کون ہے اور مدّعی علیہ کون؟یہ مسئلہ “ذو جهتین” یعنی دو پہلو رکھتا ہے:

1= ایک جانب ہم اہلِ سنت مدعی ہیں کہ مسائلِ اجتہادیہ میں تقلید واجب ہے۔

2=  دوسری جانب غیرمقلدین بھی من وجہٍ(ایک وجہ سے) مدّعی ہیں کیونکہ وہ تقلید کو بدعت یا شرک قرار دیتے ہیں۔ اگر وہ شرک و بدعت یعنی عدم جواز کہنے سے رجوع کر لیں تو اُن پر کوئی اعتراض باقی نہ رہے۔

اہلِ سنت والجماعت کا دعویٰ

اہلِ سنت والجماعت کا دعویٰ یہ ہے کہ:

"مسائلِ اجتہادیہ میں غیرمجتہد پر ایسے مجتہد کی تقلید واجب ہے جس کا مجتہد ہونا دلیلِ شرعی (یعنی اجماع) سے ثابت ہو، اور جس کا مذہب مکمل، مدوّن اور متواتر ہو۔"

نوٹ 1:

ہمارے دلائل چار ہیں:

(۱) قرآن، (۲) سنت، (۳) اجماع، (۴) قیاس شرعی

نوٹ 2:

ہم ہر فن میں اسی کے ماہر کی پیروی کرتے ہیں، اسی کو تقلید کہتے ہیں۔

نوٹ 3:

مناظرے میں دعویٰ مختصر لکھا جاتا ہے، لہٰذا وہاں یہ مختصر جملہ لکھا جائے گا:

"مسائلِ اجتہادیہ میں غیرمجتہد پر مجتہد کی تقلید واجب ہے۔"

پھر اس کی تشریح و توضیح میں اوپر تفصیلی بات لکھی جائے گی۔

دعویٰ کے مفردات کی تعریف

1 ۔ مسائلِ اجتہادیہ کی اقسام

مسائلِ اجتہاد  وہ ہیں جن میں اجتہاد کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ تین قسموں کے ہیں:

(۱) مسائلِ غیرمنصوصہ

وہ جن کا قرآن و سنت میں صراحتاً ذکر نہیں۔

مثلاً:  فون پر طلاق کا حکم؟

جہاز میں نماز کا طریقہ؟

فون پر نکاح واقع ہوتا ہے یا نہیں؟

مکھی  شربت یا چائے میں گر جائے تو کیا حکم ہے؟

انجکشن سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ وغیرہ۔

ایسے مسائل میں مجتہد قرآن و حدیث میں نظیر تلاش کرتا ہے، علت نکالتا ہے، پھر اس کے مطابق حکم لگاتا ہے۔

(۲) مسائلِ منصوصہ متعارضہ

وہ مسائل جن پر نص تو ہے مگر نصوص میں تعارض ہے۔مثلاً: رفع الیدین،آمین بالجہر،  دونوں کے ثبوت میں احادیث موجود ہیں۔ یہاں مجتہد کی ذمہ داری تطبیق پیش کرنا ہے، اور غیرمجتہد کی ذمہ داری تقلید کرنا۔

(۳) مسائلِ منصوصہ غیرمتعارضہ محتمله

نص موجود ہے، تعارض نہیں، مگر معنی میں احتمال ہے۔

مثلاً قرآن میں لفظ قُرُوءَ جو “طُهر” اور “حیض” دونوں معنی میں آتا ہے۔ یہاں مجتہد دلیل سے معنی متعین کرتا ہے، اور غیرمجتہد اس کی تقلید کرتا ہے۔

(۴)منصوصہ غیرمتعارضہ غیر محتمله 

جیسے: "أقیموا الصلوٰۃ وآتوا الزکاۃ"

ان میں نہ اجتہاد ہے نہ تقلید۔

اعتراضات اور اس کےجوابات:

اگر کوئی غیرمقلد دعوی میں تنقیحات بطرزِ اعتراض کرے کہ”لکھو کہ امام ابوحنیفہؒ کی تقلید واجب ہے“ یعنی امام ابوحنیفہؒ کا نام بھی لکھو تو جواب یہ ہے کہ ہم نے یہ دعوی تو نہیں کہا کہ دنیا میں بس صرف امام ابوحنیفہؒ کی تقلید ہی واجب ہے؟!بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہر غیرمجتہد پر کسی بھی معتبر مجتہد کی تقلید واجب ہے۔ ہم نے صرف امام ابوحنیفہؒ ہی کی تقلید کی وجوب کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔

 نوٹ:

 غیرمقلدین (فی زماننا )ا مطلق تقلید نہیں مانتے تو اس لیے غیرمقلدین کے ساتھ بحث “مطلق تقلید” پر ہو گی، نہ کہ شخصی تقلید پر۔

 امام ابوحنیفہؒ غیرمقلدین کےنزدیک بھی مجتہد ہے 

بعض غیرمقلدین ضد میں آکر امام ابوحنیفہؒ کو بھی مجتہد ماننے کیلۓ تیار نہیں جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک مجتہد کی پہچان دلیلِ شرعی سے ہوتی ہے، یعنی اجماع سے۔امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں امت کا اجماع ہے کہ وہ مجتہد تھے۔ خود غیرمقلدین کے اکابرین نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔غیرمقلدین علمائے کرام کے چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:

نذیر حسین دہلوی صاحب نے (معیار الحق ص29)

امین اللہ پشاوری صاحب نے (التحقیق السدید196)

ابوعمار سمیع اللہ صاحب نے (چاروں اماموں کا مذہب ص144)

ابراہیم سیالکوٹی صاحب نے (تاریخ اہلحدیث ص96)

نواب صدیق حسن خان صاحب نے  (الاحتواء علی مسئلة الاستواء، مندرج مجموعہ رسائلِ عقیدہ ج3ص163) میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کو مجتہد  مانا ہے۔تقریباً اکثر غیرمقلدین کے اکابرین نے امام ابو حنیفہؒ کی امامت و اجتہاد کو مانا ہے۔بلکہ امین اللہ پشاوری صاحب نے تو دوسری کتاب میں یہاں تک لکھا ہے کہ:

"احناف اور پوری امت کا اتفاق ہے کہ یہ علماء مجتہدین تھے"

(الحق الصریح ج1ص470)

اور مجتہد کا ہونا بھی وہ جس کا مذہب  مکمل ہو اصول کےاعتبار سے مدوّن ہو ان کے مسائل اور متواتر آتا چلا رہا ہو۔اگرچہ ان ائمہ اربعہؒ کے علاوہ اور بھی مجتہد تھے لیکن ان کے مذہب مدون نہیں ہیں بلکہ معدوم ہیں اس  لیے  اب ان چار فقہاء کرام کی تقلید ہوتی ہیں ۔تو اب اگر کوئی غیرمقلد کہے کہ آپ حضرت ابوبکرصدیقؓ یا کسی اور کو مجتہد مانتے ہو یا نہیں،اگر مانتے ہو تو ان کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟تو جواب یہی ہوگا کہ ان کے مذہب مکمل آپ پیش کردے تقلید ہم  کرینگے۔

اعتراض :

تقلید کو آپ نے واجب قرار دیا ہے تو یہی بات آپ لوگ اپنے امام امام ابوحنیفہؒ صاحب سے پیش فرمائیں!

جواب :

تقلید کا حکم قرآن سے ہے، یہ منصوصی مسئلہ ہے۔تقلید بذاتِ خود منصوصی مسئلۂ ہے، اجتہادی نہیں جبکہ میں نے دعوی میں ہی لکھا ہے کہ میں اجتھادی مسئلہ میں تقلید کرتا ہوں لہذا امام ابوحنیفہؒ سے اُصولا دکھانے کا مکلّف نہیں ہوں (ہاں تقلید کا قول ثابت ہے جس کا حوالہ آگے آرہا ہے ان شاء اللہ)

اعتراض :

"فلاں چیز امام سے لا کر دکھاؤ اور فلاں!"

جواب:

میں نے پہلےکہا تھا کہ میں اجتھادی مسئلہ میں تقلید کرتا ہوں تو آپ یہ فلاں چیزیں اجتھادی مسائل کےزمرے میں ثابت فرمائیں تقلید کرنا میرا کام ہے۔

 ثانیا : مدّعی سے دلیل مانگی جا سکتی ہے، مگر خاص دلیل مانگنا باطل ہے۔

ہم دلائل چار مانتے ہیں صرف خاص امام ابوحنیفہؒ سے دلیل کا مطالبہ کرنا اُصولی طور پر غلط ہے۔جیسا کہ "البینة علی المدّ عی"تو مدّعی سے دلیل و گواہ کا مطالبہ جائز ہے، مگر یہ کہنا کہ “صرف زید” یا “صرف بکر” گواہی دے، یہ غلط ہے۔

اعتراض :

"مقلد کے لئے قرآن و حدیث حجت نہیں وہ تو صرف اپنے اما م کا قول پیش کرےگا!"

جواب :

یہ غیرمقلدین کا دھوکہ ہے کہ غلط رنگ دےرہا ہے۔قرآن و حدیث مقلد پر بھی حجت ہیں مگر ان سے براہ راست استنباط صرف مجتہد کرتا ہے۔ایک ہوتا ہے حجیّت اور دوسرا ہے استدلال۔تو حجیّت تو مقلدین و امام دونوں کے لئے  ہیں البتہ استدلال صرف امام ہی کرے گا۔مقلد ان دلائل کو اپنے امام کے فہم کے ذریعے لیتا ہے   اور یہی اتباع و تقلید ہے۔مقلد کےلئے یہ جائز نہیں کہ ڈارک بغیر کسی فہم کے امت کےخلاف کوئی استدلال کرے۔تو غیرمقلدین کی اس چالاکی پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔

دلچسپ بات :

خود غیرمقلدین کے بڑے محققین (زبیر علی زئی، امین اللہ پشاوری، عبدالجبار کھنڈیلوی وغیرہ) نے لکھا ہے کہ دیوبندی/حنفی چاروں دلائل (قرآن، حدیث، اجماع، قیاس) مانتے ہیں۔چنانچہ زبیرعلیزئی غیرمقلد کہتا ہے کہ

"دیوبندیوں کے نزدیک دلیل صرف ادلہ اربعہ(قرآن،حدیث،اجماع اور اجتہاد)کا ہی نام ہے"

(تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص99)

اسی طرح امین اللہ پشاوری صاحب کےشاگردرشید شیخ عبدالرحمن آفریدی صاحب بھی لکھےہیں؛

"آپ لوگوں کے دلایل تو چارہیں قرآن و حدیث جماع و قیاس۔۔۔الخ 

(مسنون تراویح اتہ رکعات دی ص48 پشتو)

خلاصہ یہ کہ استنباط مجتہد کا کام ہے اور حجیّت سب  کے لیے ہے۔

اعتراض:

غیرمقلدین یہ شوشہ بھی چھوڑتے ہیں  کہ "نصوص میں تقلید نہ کرنا اور اجتہادی مسائل میں تقلید کرنا یہ تقسیم کہاں سے آئی؟امام صاحبؒ سے پیش کرے"

جواب :

یہ تقسیم بذاتِ خود قرآن سے ثابت ہے۔نص کے مقابلے میں کسی کی بات ماننا قرآن کریم نے مشرکین کا طریقہ بتایا ہے اور اس کے علاوہ (یعنی غیرمنصوص مسائل میں) اہلِ علم کی پیروی کا حکم خود اللہ ہی نے دیا ہے  جس کی تفصیل آگے آرہی ہیں ان شاء اللہ ۔ لہذا آپ کا یہ خاص مطالبہ قرآن کریم کی رُو سے باطل و مردود ہے الحمدللہ۔

تقلید کے اقسام اور اس کے متعلق اعتراضات اور ان کے جوابات

یہ  ساری بحث تقلید کے متعلق تھی،اب یہ بھی جان لو کہ تقلید کی دو قسمیں ہیں:

1. تقلیدِ محمود

2. تقلیدِ مذموم

 تقلید محمود

اس سے مراد یہ ہے کہ کسی کی تقلید شریعت کے تابع ہو؛ یعنی قرآن و سنت کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی عالمِ شریعت کی پیروی کی جائے۔

 تقلید مذموم :

اس سے مراد یہ ہے کہ کسی کی پیروی ناروا، غیرشرعی یا واضح خلافِ سنت امور میں کی جائے۔اسی طرح "اتباع" کی مثال بھی یہی ہے:

اتباعِ محمود :

اگر کسی کی اتباع شرعی امور میں شریعت کے تابع ہو تو یہ اتباعِ محمود ہے۔

اتباعِ مذموم :

اور اگر کسی کی اتباع غیر شرعی طریقے سے ہو تو یہ اتباع مذموم ہے۔لہٰذا تقلیدِ محمود و اتباعِ محمود جائز ہیں، اور تقلیدِ مذموم و اتباعِ مذموم ناجائز۔

مثال:

"دودھ " کا ااطلاق کتی، گدھی، بھینس اور گائے سب کی  دودھ پر ہوتا ہے؛ مگر اس لفظ کا اطلاق ایک ہونے سے تمام کے دودھ کا حکم ایک نہیں ہوجاتا۔ حلال جانوروں کا دودھ حلال ہے اور حرام جانوروں کا دودھ حرام۔اسی طرح تقلید کا لفظ اگرچہ ایک ہے، تاہم حلال تقلید حلال ہے اور حرام تقلید حرام۔

اعتراضاتِ غیر مقلدین

غیر مقلدین خصوصاً امین اللہ پشاوری صاحب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تقسیم (تقلید محمود و مذموم) بدعت اور خودساختہ ہے۔(التحقیق السدید: ص 13، اتباع الرسول: ص 53)

جواب:

غیر مقلدین جب تعصب میں آتے ہیں تو حقائق سے انکار کرنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ تقسیم نہ صرف اسلافِ امت سے ثابت ہے بلکہ خود غیر مقلدین کے بڑے علماء نے بھی یہی تقسیم ذکر کی ہے۔

لہٰذا امین اللہ پشاوری غیرمقلد وأعوانه کو چاہیے کہ پہلے اپنے ہی اکابر کو مبتدعین کی فہرست میں شامل کر دے۔چند حوالہ جات انہی کےگھر سے ملاحظہ فرماۓ:

غیر مقلدین کے اکابر کے واضح اعترافات

1 — صبغة اللہ محمدی شیرانی غیرمقلد لکھتے ہیں:

“تقلید احکامِ شریعت میں دو قسم پر ہے: ایک جائز و محمود، دوسری ناجائز و مذموم۔”

(اقامۃ المیزان، ص 168)

2 — شیخ عبدالسلام رستمی صاحب غیرمقلد فرماتے ہیں:

“اہلِ علم نے تقلید کے چار قسمیں لکھی ہیں:

(1) تقلیدِ محمود (2) تقلیدِ مذموم، (3) مطلق تقلید (4) تقلیدِ شخصی”

(تفسیر احسن الکلام 1/553)

اسی طرح ایک اور کتاب میں بھی ان سے تقلیدِ محمود کا ذکر منسوب ہے۔ دیکھے:

(رسالۃ التنقید علی من أفرط فی التقلید ص 21)

اور دوسری کتاب میں بھی ایسی تقسیم ذکر کی ہے اور ایک قسم تقلید محمود کا بھی ذکر کیا ہے دیکھے (البرہان فی مشکلات القرآن 1/346)

3 — ابراہیم سیالکوٹی غیرمقلد:

انہوں نے بھی تقلید کے اقسام تفصیل سے بیان کیے ہیں۔دیکھے: 

(تاریخ اہل حدیث، ص 146-147)

4 — ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد:

انہوں نے بھی اپنے فتاویٰ میں تقلید کے اقسام شامل کیے ہیں۔دیکھے :

(فتاویٰ ثنائیہ 1/254)

5 — ڈاکٹر شفیق الرحمن غیرمقلد:

انہوں نے بھی تقلید کے اقسام بنائے اور ایک قسم کو محمود کہا۔دیکھے

(اہل سنت کا منہجِ تعامل، ص 263)

نوٹ : اس کتاب پر شیخ عبدالسلام صاحب و عبدالعزیز نورستانی صاحب غیرمقلدین کی تقریظ بھی ہے۔

آمدم برسرمقصد :

ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ من وجہٍ علمائے احناف تقلید کے وجوب میں مدعی ہیں، اور من وجہٍ غیرمقلدین تقلید کے شرک، بدعت یا حرمت کے مدعی ہیں۔

احناف کثّراللّٰه سوادهم تقلید کا وجوب میں مدّعی ہیں جبکہ غیرمقلدین کا دعوی تقلید بدعت یا شرک میں مدّعی ہے

نوٹ: یہاں "غیرمقلدین" سے مراد نہ صرف موجودہ اہل حدیث ہیں بلکہ تمام وہ گروہ بھی شامل ہیں جو مذاہبِ اربعہ کے اجماعی اصولِ تقلید سے خارج ہیں، جیسے جماعت المسلمین (حقیقت میں جماعت المفسدین)، منکرین حدیث، حزب اللہ وغیرہ۔

﴿ تنقیحات بر دعوٰی غیرمقلدین ﴾

غیرمقلدین کا موقف جگہ جگہ بدلتا ہے:کتاب لکھتے وقت ایک بات،منبر پر دوسری،مناظرے میں 

تیسری۔مناظرے میں جب ان سے پوچھا جائے کہ “تقلید کا شرعی حکم کیا ہے؟”تو کبھی کہتے ہیں "ثابت نہیں"، کبھی "بدعت"، کبھی "شرک"۔جب یہ لوگ مناظرے کی میدان میں لکھتےہیں تق اس قدر لکھتےہیں کہ تقلید ثابت نہیں۔تو آپ ان سے کہیں گے کہ حکمِ شرعی لگائیں۔تو آپ کو کہیں گے کہ یہ"ثابت نہیں" کیا یہ حکم نہیں؟ تو آپ ان کو کہیں گے کہ یہ حکمِ منطقی ضرور ہے جبکہ میں آپ سے حکم شرعی کا مطالبہ کررہا ہوں  یعنی یہ حرام ہے یا بدعت ہے شرک ہے کیا ہے؟

﴿اہم سوالات﴾

غیرمقلدین سے چند اہم سوالات کیے جائیں:

1 — آپ کن مسائل میں تقلید کو شرک و بدعت کہتے ہیں؟اجتہادی مسائل میں یا عقائد میں؟

(اس میں فایدہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ جس تقلید کی نفی پر کوئی دلیلِ شرعی یا تائید ہیش کرینگے مثلا۔ تو وہ اجتھادی نہیں بلکہ فی العقائد الباطلہ میں پیش کرےگا ۔تو جواب یوں ہی ہوگا کہ میں خود بھی باطل عقائد میں تقلید نہیں کرتا لہذا یہ میرےموقف کےخلاف نہیں۔

2 — شرک یا بدعت کس پر ہے؟مطلق تقلید پر یا تقلیدِ شخصی پر؟

 (جس شق پر بھی آپ کو فتوی لگاۓ تو اس شق کا مطالبہ کریں اور ساتھ ہی اس پر شرک یا بدعت کا فتوی لگانے پر وہی حکم کا مطالبہ بھی ساتھ ساتھ کروگے)

3 — تقلید شرک ہے یا بدعت؟ اور دلیل؟(فیها فوائد کثیرة کم لا یخفی علی اولی الألباب)

4 — شرک اور بدعت میں فرق بیان کریں!

5 — شرک کو بدعت یا بدعت کو شرک کہنا کیا حکم رکھتا ہے؟

6 — اگر آپ کے اکابر تقلید کو "بدعت" کہتے ہیں تو جو اسے "شرک" کہتے ہیں وہ کیا ہیں؟

7 — کیا آپ مسلمان مجتہد کی تقلید کو شرک کہتے ہیں یا مشرک کی؟

8 — جو مسلمان مسائلِ اجتھادی میں عوام کےلئے کسی مجتہد کی تقلید کو واجب یا جائز کہے تو اس کا حکم؟

9 — تقلید مجتہد کے لیے شرک ہے یا عوام کے لیے؟

10 — کیا تقلید و اتباع ایک ہی چیز ہیں یا جدا؟

 ﴿اختلاف اور افتراق کا فرق ﴾

اختلاف: راستے جدا، منزل ایک = جائز

افتراق: راستے جدا، منزل بھی جدا = گمراہی

چاروں مذاہبِ فقہیہ میں اختلاف ہے، افتراق نہیں؛

سب کی منزل شریعت ہے، الحمدللہ۔

﴿ تعریفاتِ تقلید﴾

تقلید کی تعریف عوامی انداز میں بھی ہونی چاہیے تاکہ عوام بھی اس کو سمجھ سکیں۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“التقلید اتباع الروایة دلالةً”

(عقدالجید، ص 75)

ماہرِ شریعت کی رہنمائی میں قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔

اعتراض:  یہ تعریف امام ابو حنیفہؒ سے دکھائیے۔

جواب: میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہم مسائلِ اجتہادیہ میں مجتہد کی تقلید کرتے ہیں۔ کیا یہ تعریفات مسائلِ اجتہادیہ میں داخل ہے؟

ثانیاً: اسی بنیاد پر تو میں بھی آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ نماز، زکوٰۃ وغیرہ کی تعریف قرآن و حدیث سے صراحتاً دکھائیں، تو کیا آپ دکھا سکتےہیں؟ ہم شریعت پر عمل کرتے ہیں مگر ماہرِ شریعت کی رہنمائی میں۔

مثال

جیسے ایک امام ہے اور باقی مقتدی ہیں۔ امام بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے، اور مقتدی بھی اللہ کو سجدہ کرتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ امام براہِ راست کرتا ہے اور مقتدی امام کی رہنمائی میں کرتے ہیں۔اگر کوئی پاگل اٹھ کر یہ کہہ دے کہ ’’امام تو اللہ کو سجدہ کرتا ہے مگر مقتدی امام کو سجدہ کرتے ہیں‘‘ تو لوگ اسے احمق ہی کہیں گے۔

بعینہٖ یہی مثال مقلد  و  امام مجتہد کی ہے۔ مقلد بھی شریعت پر عمل کرتا ہے، امام بھی شریعت پر عمل کرتا ہے؛ فرق یہ ہے کہ امام براہِ راست عمل کرتا ہے اور مقلد اس کی فقہی رہنمائی میں۔

اسی طرح اگر کوئی یہ کہے کہ امام ابو حنیفہؒ تو ٹھیک تھے مگر یہ مقلدین ان کے اقوال پر عمل کرتے ہیں، شریعت پر نہیں تو کیا ایسے شخص کو ہم دماغی مریض نہ کہیں گے؟ (یقیناً کہیں گے!)

تقلید: لغوی و اصطلاحی

اشتقاق : تقلید، قِلادۃ سے ماخوذ ہے۔

جب قِلادۃ انسان کے ساتھ ہو تو معنی ’’ہار‘‘ ہے، اور جب حیوان کے ساتھ ہو تو معنی ’’ پٹہ‘‘۔

دلیل :  بخاری شریف میں ہے: «أنها استعارت من أسماء قلادة»یعنی سیدہ عائشہؓ نے سیدہ اسماءؓ سے ہار لیا۔

اور جانور کے نسبت ہو تو امام بخاریؒ نے باب باندھا: «باب تقلید الغنم»

پس مراد پٹہ ہے۔

نوٹ: شرعی احکام میں دارومدار لغوی معنی پر نہیں بلکہ شرعی و اصطلاحی معنی پر ہوتا ہے۔ورنہ صلوٰۃ لغت میں ’’سرین ہلانے‘‘ کو کہتے ہیں؛ تو کیا سرین ہلانے سے نماز ادا ہو جائے گی؟ ہرگز نہیں۔اس لئے غیرمقلدین اگر لغوی تعریف مانگیں تو انہیں مثالیں دے کر سمجھا دیں کہ محض  لغت کے پیچھے پڑنا جہالت ہے۔

لغوی و عرفی معنی کا قانون

علامہ سیوطیؒ نے ایک قاعدہ ذکر فرمایا ہیں کہ جب لغوی اور اصطلاحی معنی میں تصادم آجاۓ تو وہاں عرفی معنی کا اعتبار کیا جاۓ گا۔چنانچہ فرماتےہیں:

"وَلَوْ كانَ فِي أَحَدِهِما عُرْفِيَّةٌ، وَالآخَرِ لُغَوِيَّةٌ، فَالْحَمْلُ عَلَى العُرْفِيَّةِ أَوْلَى"

ترجمہ: اور اگر دونوں میں سے ایک معنی عُرفی ہو اور دوسرا لغوی، تو عُرفی معنی کو ترجیح دینا زیادہ مناسب ہے۔"

یہی اصول امین اللہ پشاوری صاحب غیرمقلد بھی لکھتے ہیں کہ تصادم کے وقت لغت نہیں بلکہ اصطلاح معتبر ہے۔( تفسیر حکمۃ القرآن )

غیرمقلدین کے اعتراضات اور جوابات

اعتراض : اگر تقلید کا معنی ’’ہار‘‘ ہے تو کیا آپ عورت ہیں کہ ہار پہنیں؟

جواب : ہار صرف عورتیں نہیں پہنتیں، خوشی و تقریب میں مردوں کو بھی پہنایا جاتا ہے۔

اعتراض : تقلید کا معنی پٹہ ہے، تو آپ پٹہ اپنے گلے میں ڈالتے ہیں؟

جواب:

۱—لفظ تقلید بابِ تفعیل سے ہے جو متعدّی ہے۔ یعنی ہم نے اپنے گلے میں نہیں ڈالا، بلکہ جس کی تقلید کی جا رہی ہے اُس کےگلے میں اعتماد کی ہار ڈالا ہےاگر ہم سے یہ معنی متعلق کردیتے ہو تو لیجۓ قول و اجتہاد  کو قلادہ کی طرح اپنے اوپر ڈال دیا ہے۔

۲—بخاری میں ہے کہ حضرت بی بی عائشہؓ سے اسماءؓ کا قلادہ (ہار) گم ہو گیا(بخاری شریف ج2ص659)

تو کیا نعوذباللہ وہ پٹہ پہن رہی تھیں؟ عقل کہاں ہے؟

اعتراض : تقلید تو جانوروں کا کام ہے، انسانوں کا نہیں۔

جواب : ایمان تازہ کریں!

رسول اللہ ﷺ نے بھی تقلید کی ہے چنانچہ نبی کریمﷺ نےخود فرمایا:

«وقلّدتُ هديي» (بخاری ج2ص631 اقرأکمپنی)

یعنی میں نے اپنے قربانی کے جانوروں کو قلادہ پہنایا۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے :۔

قَلَّدَ النَّبِیُّ ﷺاَلٗھَدٗیَ(بخاری ج1ص230)

تو جب نبی ﷺ کے عمل سے تقلید ثابت ہے تو یہ عیب نہیں، کیونکہ شرع کے ماتحت ہے۔جس چیز کو نبی ﷺ نے کیا ہو اسے جانوروں کا عمل کہنا دراصل کس پر حملہ ہے؟ العیاذباللہ۔

اصطلاحی تعریف

تقلید کی چند اصطلاحی تعریفات ملاحظہ فرماۓ:

 «التقلید اتباع الغیر علی ظنٍّ أنه محقٌّ بلا نظرٍ فی الدلیل»

(النامی شرح الحسامی ص190، نورالانوار ص216،نظامی حاشیہ ص193)

یعنی کسی حق پرست عالم کی دلیل والے قول کو بغیر دلیل مانگے قبول کرنا۔(اس حسنِ ظن پر مان لینا کہ یہ حق مسئلہ ہی دکھاۓگا اسی کو تقلید ہی کہا جاتا ہے۔

2=  مفتی رشیداحمد لدھیانویؒ فرماتےہیں:

"اس تسلیم و عمل کو اس مسئلہ کی دلیل معلوم ہونے پر معلق نہ کرنا۔ لیکن وہ دلیل اگراس وقت معلوم ہوتا یا بعد میں معلوم ہوجاۓ تو یک تقلید کےمنافی نہیں غرضیکہ تقلید میں مطالبہ دلیل شامل نہیں اور علم بالدلیل اس کےمعارض نہیں"

(احسن الفتاوی ج1ص408)

3= اور تقلید کی تعریف نورالانوار کی حاشیہ میں یوں درج ہیں:

" اَلتَّقْلِيدُ: اِتِّباعُ الرَّجُلِ غَيْرَهُ فِيما سَمِعَهُ يَقُولُ أَوْ فِعْلِهِ، عَلَى زَعْمِ أَنَّهُ مُحِقٌّ، بِلا نَظَرٍ فِي الدَّلِيلِ۔"

تقلید یہ ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کی بات یا عمل کی صرف اس وجہ سے پیروی کرے کہ اس کا گمان ہے کہ وہ حق پر ہے، بغیر اس کے کہ دلیل میں کوئی نظر و فکر کرے۔"

4= علم الاصول کی کتاب میں یہ تقلید کی تعریف بھی درج ہے:

اَلتَّقْلِيدُ: اِتِّباعُ الإِنْسانِ غَيْرَهُ فِيمَا يَقُولُ أَوْ يَفْعَلُ، مُعْتَقِدًا لِلْحَقِّيَّةِ فِيهِ، مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَتَأَمُّلٍ فِي الدَّلِيلِ۔

(المولوی ج1ص380 و کتاب التعریفات ص48)

تقلید یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کی بات یا عمل کی پیروی اس عقیدے کے ساتھ کرے کہ وہ حق پر ہے، بغیر اس کے کہ دلیل میں کوئی غور و فکر کرے۔"

نوٹ: "بلا دلیل" یا "من غیرنظر و تأمل" کا مطلب یہ نہیں کہ دلیل سرےسے ہوتی ہی نہیں، مراد یہ ہے کہ مقلد دلیل مانگنے کا پابند نہیں ہوتا، اگر دلیل بعد میں معلوم ہو جائے تو بھی تقلید کے خلاف نہیں۔

5= علامہ جرجانیؒ تقلید ک تعریف یوں نقل کرتےہیں:

"التَّقْلِيدُ عِبَارَةٌ عَنْ قَبُولِ الْغَيْرِ بِلا حُجَّةٍ "

 (کتاب التعریفات ص48)

نوٹ: اس تعریف میں"بلاحجة" جارمجرور کا تعلق "قبول" سےہے نا کہ"قول" کے ساتھ یعنی قائل کےساتھ دلیل تو ہوگی لیکن سائل اس کو بلامطالبہ دلیل بات مانےگی۔

غیرمقلدین کے اپنے گھر سے تقلید کی تعریف

غیرمقلدین کے شیخ الاسلام  ثناء اللہ امرتسری صاحب غیرمقلد لکھتےہیں:

" تقلید کہتےہیں کسی کا قول محض اس حسنِ ظن پر مان لینا کہ یہ دلیل کےماافق بتلاۓگا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا"

(فتاوی ثنائیہ ج1ص261)

 امین اللہ پشاوری غیرمقلد کہتےہیں:

"تقلیدِ ممدوح یہ ہے کہ جاہل شخص جو دلیل نہ سمجھتا ہو، ایک عالم کےپیچھے چل پڑے۔(دوسری تعریف یوں کرتےہیں) یا کوئی شخص قرآن و حدیث سے مسئلہ نہ پائے تو عالم کی اتباع کرے۔(تیسری تعریف یوں کرتےہیں) یا کوئی حادثہ پیش آئے جس کا حکم قرآن و حدیث میں نہ ملے تو اہلِ علم کی طرف رجوع کرے۔

(د تقلید حقیقت او د مقلدینو اقسام ص14  و التحقیق السدید ص13)

غیرمقلدین کے مایہ ناز شیخ عبدالسلام رستمی صاحب تقلید کی تعریف یوں کرتےہیں:

"تقلیدِ محمود یہ ہے کہ ایک شخص جس نے قرآن وحدیث میں کوشش کی لیکن بعض مسائل مخفی رھے تو آپ اس میں تقلید کرے اس شخص کی جس کا علم زیادہ ھو اس کو ابن قیمؒ نے تقلید محمود کہا ہے"

( د تقلید شرعی حیثیت ص22)

اور مزید ایک صفحہ بعدلکھتےہیں:

"عام شخص کی تقلیدِ محمود"

اس کے بعد لکھتے ہیں : 

" ایک اور تقلید عام شخص کا ہے جو نصوص کو نہیں جانتا اس کو عام شخص کہتا ہے اس پر لازم ہے کہ عالم سے لیں"(ص23)

۸۔ غیرمقلدین کے شیخ الکل فی الکل نذیر حسین دہلوی صاحب تقلید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں:

  " معنی تقلید کی عرف عام میں یہ ہیں کہ وقتِ لاعلمی کے کسی اہلِ علم کا قول مان لینا اور اس پر عمل کرنا۔ اور اسی معنی عرفی سے مجتہدوں کی اتباع کو تقلید بولا جاتا ہے"

(معیار الحق، ص: ۷۲)

۹۔ صبغة اللہ محمدی شیرانی غیرمقلد تقلید کی تعریف اس طرح نقل کرتے ہیں:

  "فقہاء کی اصطلاح میں اس کی معنی ہیں:

 "اَلتَّقْلِيدُ: اِتِّباعُ الرَّجُلِ غَيْرَهُ فِيما سَمِعَهُ يَقُولُ أَوْ فِعْلِهِ، عَلَى زَعْمِ أَنَّهُ مُحِقٌّ، بِلا نَظَرٍ فِي الدَّلِيلِ"(قمر الاقمار، حاشیہ نورالانوار، مبحث افعال النبی ﷺ، ص: ۲۱۶؛ )

دیکھے ( اقامة المیزان، ص: ۱۰۰ ناشر: مکتبہ محمدیہ گنج پشاور)

اسی کے سلسلے میں وہ مزید فرماتے ہیں:

  "تقلید احکام شریعت میں دو قسم پر ہے: ایک جائز و محمود دوسری ناجائز و مذموم۔ تقلید جائز و محمود یہ ہے کہ ہرزمانے اور ہرعلاقے کی عوام جو اجتہاد پر قدرت نہیں رکھتے، حالانکہ احکام شرع پر عمل کرنے کی وہ بھی مخاطب اور مکلف ہیں تو یہ ماہر عالمِ شرع سے بلا تخصیص مذهب خاص دینی مسائل دریافت کریں اور وہ عالم اپنی تحقیق کے مطابق بتاۓ گا۔۔۔۔۔ یہ تقلید جسے تقلیدِ عام یا تقلید مطلق کہتےہیں "

(اقامة المیزان، ص: ۱۶۸-۱۶۹)

۱۰۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب غیرمقلد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

  "تقلید کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ جو شخص براہ راست  قرآن و حدیث کا مطلب 

سمجھنے، ان کے ظاہری تعارض کو رفع کرنے، یا ناسخ و منسوخ وغیرہ کا فیصلہ کرنے کی اہلیت اپنی اندر نہیں پاتا، وہ کسی مجتہد سے تفصیلی دلائل کا مطالبہ کیے بغیر اس کے علم پر اعتماد اور اس کے فتوے پر عمل کر لیتا ہے"

(اہل سنت کا منہج تعامل، ص: ۲۶۵)

ان تمام بحثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ تقلید کا مطلب ہے کسی عالم کی بات کو بلا دلیل تسلیم کرنا۔

تقلید کے عملی مظاہر اور صحابہؓ کے انھونے:

دلیل ۱: التقلید فی زمن الصحابة

حضرت عثمان غنیؓ نے جمعہ کے تیسرے اذان کا آغاز کیا، اور باقی صحابہ کرامؓ نے نہ اس سے دلیل طلب کی، نہ اعتراض کیا، بلکہ اسے قبول کیا اور اس پر عمل کیا۔ یہ واضح مثال ہے کہ بلا دلیل کسی عالم کی بات ماننا تقلید ہے، اور الحمدللہ صحابہؓ میں اس کے کئی مظاہر ملتے ہیں۔

دلیل ۲: قرآن پاک کے جمع ہونے کا عمل

حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مشورہ دیا کہ قرآن کو ایک مصحف میں جمع کریں۔ سب صحابہ کرامؓ نے اسے قبول کیا، کسی نے دلیل طلب نہ کی۔ بلا دلیل کسی معتبر کی بات ماننا تقلید ہے اور صحابہؓ میں یہ موجود تھی۔

دلیل ۳  : عام مسلمانوں کی نماز

دنیا بھر کے عوام مسلمان نماز پڑھتے ہیں، حالانکہ ہر رکن کی دلیل سب کے لیے معلوم نہیں۔ یہ بھی بلا دلیل عمل ہے اور تقلید کے زمرے میں آتا ہے۔

دلیل ۴: غیرمسلمان کا اسلام قبول کرنا

ایک غیرمسلمان جس کا نام رحمت مسیح تھا، مسلمانوں کے اخلاق و تعلیمات دیکھ کر اسلام قبول کرتا ہے، کلمہ ہڑھ کر مسلمان ہوتا ہے، اب اس کےبعد نا کلمہ و عمل پر دلیل مانگا اور نا میں نے اس کو دلائل دی تو اس کے باوجود وہ آیا تھا کافر۔۔ اور جارہا  ہے مسلمان ہونے کی حالت میں جبکہ غیرمقلدین کےاُصول کے مطابق یہ شخص سنگل مشرک آیا تھا اور اب جارہا ہے "ڈبل مشرک"، کیونکہ جاتے وقت  تقلید بھی شروع کی یعنی بلامطالبہ دلیل کلمہ و اسلام لایا۔

دلیل ۵: قرآن پاک کی تلاوت

دنیا کے عوام مسلمان قرآن تلاوت کرتے ہیں، حالانکہ صحیح ادائیگی کے لیے دلیل نہیں جانتے۔ نا یہ جانتےہیں کہ فلاں کلمہ مرفوع کیوں ہے منصوب کیوں ہے وغیرہ۔ یہ بھی بلا دلیل  عمل ہے (اگرچہ نفس الامر میں اس پر دلیل ہے لیکن اس کو دلیل یاد نہیں اور نہ دلیل کا مطالبہ کرتےہیں)اور تقلید کے زمرے میں آتا ہے، اور انہیں اس کا ثواب بھی حاصل ہوتا ہے الحمدللہ

دلیل ۶: حج کے اعمال

عام مسلمان حج کے تمام ارکان ادا کرتے ہیں، حالانکہ ہر عمل کی دلیل سب کو معلوم نہیں۔ یہ بھی بلا دلیل تقلید ہے، لیکن غیرمقلدین اسے شرک اور کفر قرار دیتے ہیں،  جبکہ ہمارے نزدیک حاجی صاحب حج سے واپسی پر گناہ سے پاک آیا لیکن غیرمقلدین کےنزدیک وہ ڈبل مشرک ہوکر آیا العیاذباللہ۔

غیرمقلدین کے موقفِ تکفیر کے خلاف دو تحقیقی واقعات

اوّل : تقلید کو شرک قرار دینے کا باطل دعویٰ اور اس کا عقلی و نقلی بطلان

استاذی و استاذ المناظرین وکیل احناف ترجمان علماء دیوبند حضرت مفتی محمد ندیم المحمودی حفظہ اللہ نے فرمایا:

ایک علمی نشست میں ایک غیرمقلد معترض سے مسئلۂ تقلید پر گفتگو ہوئی۔ میں نے اس سے سوال کیا:

"کیا تمہارے نزدیک تقلید شرک ہے؟"اس نے بلا توقف جواب دیا: "ہاں، تقلید سراسر شرک ہے۔"

میں نے اس کے سامنے ایک اصولی سوال رکھا:"کیا نکاح گواہوں کے بغیر منعقد ہوجاتا ہے؟"

اس نے فوراً جواب دیا کہ نہیں؛ کیونکہ صحیح حدیث میں وارد ہے:

  «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِشُهُودٍ»

(سنن الترمذی، کتاب النکاح، باب ما جاء لا نکاح إلا ببینه) 

میں نے کہا: "پس مسئلہ آسان ہوا۔

میں نے ایک اہم سوال اٹھایا:

"کیا تم پیدائشی غیرمقلد ہو؟"

ظاہر ہے، جواب نفی میں تھا۔ میں نے کہا:

"تمہارے والدین کا نکاح بلاشبہ ایسے گواہوں کے زیرِ نگرانی ہوا ہوگا جو حنفی المسلک تھے۔

اور تمہارے نزدیک تو احناف 'مشرک' ہیں۔ اب بتاؤ کیا مشرک کی گواہی معتبر ہوتی ہے؟"

اگر اس کا جواب نفی میں ہے   اور ضرور نفی میں ہے ، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:

تمہارے باپ کا تمہاری ماں سے نکاح ثابت ہی نہیں ہوتا، تمہارا نسب بھی غیر ثابت اور محلِّ شک بن جاتا ہے۔جب میں نے یہ نتیجہ بیان کیا تو وہ سخت برہم ہوا اور زبان احتیاط سے استعمال کرنے کو کہا۔

میں نے جواب دیا کہ:

"اصل خرابی اور گندگی تو تم نے عقیدہ بناکر پھیلائی ہے، اس کا منطقی نتیجہ بھی ویسا ہی نکلا ہے۔"

دوم: مشرک باپ اور مسلمان ماں—غیرمقلدین کا فکری انحراف

اسی نوعیت کا ایک سوال ایک دوسرے غیرمقلد کے سامنے رکھا گیا۔ اس نے اپنے والد کے بارے میں کہا:

"میرا باپ تو حنفی تھا، البتہ میری والدہ نے آخر عمر میں غیرمقلد مذہب اختیار کرلیا تھا۔"

میں نے اس سے پوچھا:

"ایک مشرک(مقلد،بقول ان کے) مرد کا مسلمان عورت سے نکاح کیسے درست ہوسکتا ہے؟"

اس نے ایک عجیب استدلال پیش کیا:

"بعض صحابہ کرامؓ کے والد بھی مشرک تھے۔"

میں نے اسے علمی طور پر متنبہ کیا:

"یہ قیاسِ باطل ہے۔ کیونکہ صحابہ کرامؓ کے والدین مشرک ہونے کا زمانہ وہ تھا جب نکاح و کفارے اور احکامِ معاملات کے شرعی احکام ابھی نازل نہیں ہوئے تھے۔بعد ازاں جب احکامِ شریعت مکمل ہوئے تو واضح حکم نازل ہوا:"

  وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتّٰی يُؤْمِنُوا (البقرہ: 221) 

یعنی مشرک مردوں کے ساتھ نکاح کی اجازت ہرگز نہیں۔

یوں غیرمقلدین کا یہ استدلال نہ صرف لغو ہوگیا بلکہ نصوصِ قطعیہ کے خلاف بھی درہم برہم ہوا الحمدللہ۔

آخر میں ، میں نے کہا:

"یہ گروہ علمی جہالت میں اس درجہ مبتلا ہے کہ بنیادی نصوص اور احکام میں بھی صحیح فہم سے عاجز ہے۔"

اتباع اور تقلید ایک ہی ہیں

تمہید

دینِ اسلام میں اطاعت و پیروی کے لیے ’’اتباع‘‘ اور ’’تقلید‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ہمارے نزدیک ان دونوں الفاظ میں کوئی حقیقی فرق موجود نہیں۔لیکن غیرمقلدین نے اپنی ذاتی ذہنی تقسیم اور بے دلیل تشریحات کی بنیاد پر ان دونوں میں مصنوعی فرق پیدا کیا ہے—جو نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ حدیث سے، نہ لغت سے، نہ فقہاء و محدثین کے استعمال سے۔

یہ باب اسی باطل تقسیم کے رد میں ایک علمی و تحقیقی گفتگو ہے۔

غیرمقلدین کا دعویٰ اور اس کی حقیقت

غیرمقلدین یہ دعویٰ کرتے ہیں:

"تقلید کا مطلب ہے بے دلیل کسی کی بات ماننا اور اتباع کا مطلب ہے دلیل کے ساتھ کسی کی بات ماننا۔"

یہ دعویٰ نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ قرآن و حدیث کے واضح نصوص کے بھی خلاف ہے۔

ایک واقعہ

استاذمحترم حضرت مفتی محمد ندیم المحمودی حفظہ اللہ فرماتےہیں:

حیات آباد میں میری ایک غیرمقلد سے گفتگو ہوئی۔اس نے بڑے اعتماد سے کہا:

  “تقلید یعنی کسی کی بے دلیل بات ماننا اور اتباع یعنی دلیل والی بات ماننا۔”

میں نے پوچھا:

“اس تعریف پر تمہارے پاس کیا دلیل ہے؟”

جواب آیا:

“ابن قیم اور قاضی شوکانی نے لکھا ہے۔”

میں نے کہا:

“اب تم خود ہی سوچو!

جس چیز کو تم نے ’’بے دلیل بات ماننا‘‘ یعنی تقلید کہا ہے،اب اپنی دلیل میں تم ’’بے دلیل ابن قیم اور شوکانی‘‘ کو پیش کر رہے ہو!اگر دلیل قرآن و حدیث ہوتی تو ایک بات تھی۔ابن قیم اور شوکانی کیا قرآن و حدیث ہیں؟”وہ خاموش ہوگیا۔درحقیقت اس نے خود اپنی ہی تعریف کے تحت تقلید کر ڈالی۔

اتباع کو جائز اور تقلید کو ناجائز کہنا خود اُن کی دلیل کے خلاف

اس نے بات کو گھما کر کہا:

  “ہم ابن قیم وغیرہ کی اتباع کرتے ہیں، تقلید نہیں۔”

میں نے کہا:

“تو قرآن سے ثابت کرو کہاتباعِ غیراللہ جائز، اور تقلیدِ غیراللہ ناجائز ہے۔”

اس نے سورۂ اعراف کی آیت پیش کی:

  ﴿اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ﴾

میں نے کہا:  “اب غور کرو! ابن قیم اور شوکانی ماسوی اللہ میں شامل ہیں یا نہیں؟”

کہنے لگا:  “ہاں، شامل ہیں۔”

میں نے کہا: “تو قرآن کہہ رہا ہے:

غیراللہ کی اتباع نہ کرو اور تم وہی کر رہے ہو! پھر ابن قیم و شوکانی کی باتیں کیوں مانتے ہو؟”وہ سوچ میں پڑ گیا اور مسکرا کر رہ گیا۔کیونکہ بات واضح تھی۔

قرآن سے ثابت : اتباع دلیل کے ساتھ خاص نہیں

غیرمقلدین کہتے ہیں:

  “اتباع دلیل کے ساتھ بات ماننے کو کہتے ہیں۔”

لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے:

  ﴿بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا﴾ (البقرہ: 170)

“ہم تو اس طریقے کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔”

سوال یہ ہے:

کیا مشرکین کے شرک پر کوئی شرعی دلیل تھی؟ہرگز نہیں!پھر بھی قرآن نے اس بے دلیل پیروی کے لیے لفظ اتباع استعمال کیا۔یہ آیت غیرمقلدین کے دعویٰ کو قرآن ہی کی دلیل سے باطل ثابت کر دیتی ہے۔

حدیث سے بھی غیرمقلدین کا دعویٰ باطل

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

  “العاجزُ مَن أتبعَ نفسَه هواها…”(مسنداحمد)

”عاجز وہ ہے جو اپنے نفس اور خواہشات کی اتباع کرے…“

سوال:  کیا خواہشات کی پیروی کے لیے کوئی شرعی دلیل ہوتی ہے؟بالکل نہیں۔پھر بھی حدیث میں ’’اتباع‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اتباع صرف بادلیل پیروی کو نہیں کہتے۔

لغوی و اصطلاحی دلائل : تقلید اور اتباع میں کوئی فرق نہیں

علماء نے تقلید کی تعریف یوں کی ہے:

1. اَلتَّقْلِیْدُ: اِتِّبَاعُ الْغَیْرِ عَلٰی ظَنٍّ…الخ

2. اِتِّبَاعُ الرِّوَایَةِ دَلَالَةً۔۔۔

ان تعریفات میں صاف طور پر تقلید کی تعریف اتباع سے کی گئی ہے۔

اصولِ تعریف کا مسلمہ قاعدہ ہے:

  جس شے کی تعریف جس شے سے کی جائے، دونوں حقیقتاً ایک ہوتے ہیں۔

لہٰذا:

 تقلید = اتباع

 اتباع = تقلید

پس ثابت ہوا کہ اتباع و تقلید ایک ہی ہے الحمدللہ

غیرمقلدین کی بنائی ہوئی تقسیم لغت، شریعت، اصول اور عقل چاروں کے خلاف ہے۔


نتیجہ

مندرجہ بالا دلائل سے ثابت ہوا کہ:

تقلید اور اتباع حقیقت میں ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں۔قرآن، حدیث، لغت اور فقہاء کے ہاں ان دونوں میں مصنوعی فرق سرے سے موجود ہی نہیں۔غیرمقلدین کا ’’اتباع جائز، تقلید ناجائز‘‘ کا نعرہ عقل و نقل دونوں کے لحاظ سے باطل ہے۔اُن کا یہ فرق محض ذہنی اختراع، بے دلیل دعویٰ اور تعبیرِ فاسد ہے۔قدم قدم پہ جو بھی ملا رہنما نہیں ہوتا۔جو بے دلیل راہ دکھائے، وہ راستہ نہیں ہوتا۔

غیرمقلدین کے گھرسے شہادت

اتباع اور تقلید ایک ہی ہیں:

1۔ غیرمقلدین کے شیخ الکل فی الکل مولوی نذیر حسین دہلوی صراحتاً تقلید و اتباع کو ایک ہی حقیقت قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

  “معنی تقلید عرف میں یہ ہے کہ وقتِ لاعلمی کے کسی اہلِ علم کے قول کو مان لینا اور اس پر عمل کرنا۔

اور اسی معنی عرفی سے مجتہدین کی اتباع کو تقلید کہنا جایز ہے۔”

(معیار الحق، ص72)

2۔ اسی مقام پر وہ مزید لکھتے ہیں:

  “پس ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کو اور مجتہدین کی اتباع کو تقلید کہنا جائز ہے۔”

(معیار الحق، ص72)

غیرمقلدین کے “مجتہد العصر” کہلانے والے امین اللہ پشاوری بھی تقلید و اتباع کو ایک قرار دینے پر مجبور ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

  “میں تقلید کی تعریف یوں کرتا ہوں… کہ آپ جو فرماتے ہیں میں اسی کا تابع ہوں…”

(التحقیق السدید، ص118)

یہ ان کے اپنے مسلک کے خلاف ایک واضح اعتراف ہے۔

یہی پشاوری صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

 ”احناف صرف ایک امام کی تقلید لازم سمجھتے ہیں، باقی مذاہب اتباع و تقلید کو ناجائز کہتے ہیں۔“

(تحفۃ المناظر، ص86)

یہاں بھی انہوں نے اتباع اور تقلید کو ایک ہی معنی میں استعمال کیا ہے۔

 شاہ ولی اللہؒ کے حوالے سے امین اللہ پشاوری صاحب لکھتے ہیں:

"فاعلم ان الصحابة لایقلدون الا صاحب الشرع"

”صحابہ کرامؓ نبی کریم ﷺ کی " اتباع" کرتے تھے اور کسی اور کی تقلید نہیں کرتے تھے۔”

(تحفۃ المناظر، ص122)

حالانکہ اصل عبارت ”لَا یُقَلِّدُوْنَ” ہے، اور انہوں نے اس کا ترجمہ “اتباع” کیا ہے۔یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خود غیرمقلدین بھی تقلید و اتباع کو ایک ہی معنی میں لیتے ہیں۔

رئیس ندوی غیرمقلد لکھتے ہیں:

”امام ابوحنیفہ اور ان کے متبعین و مقلدین کا مرجی ہونا ایک اجماعی مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔“

(مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جایزہ، ص542)

یہاں متبعین اور مقلدین ایک ہی معنوں میں استعمال کرکے اپنے مذہب کی عمارت لاشعوری میں گرادی۔

غیرمقلدین کےمعتمد علیہ شخصیت سلطان المعصومی صاحب لکھتے ہیں:

  “جس ہستی کی تقلید اور اتباع سب پر فرض ہے…”

(روسی مسلمان، ص68)

یہ صاف اعلان ہے کہ “تقلید = اتباع”۔ ایک ہی ہے

حسین بٹالوی صاحب غیرمقلد کے حوالے سے  حافظ صلاح الدین یوسف صاحب غیرمقلد لکھتےہیں کہ:

  ”عوام کا علماء سے کتاب و سنت کا حکم پوچھ کر اس پر عمل کرنا تقلید نہیں بلکہ اتباع ہے۔یہ ایک اصطلاح یا لفظی نزاع ہے جس کو وہ اتباع کہتے ہیں، اسی کا دوسرے تقلید نام رکہتے ہیں۔“

(صراطِ مستقیم، ص38)

یعنی حقیقت میں دونوں ایک چیز ہیں، صرف نام کا اختلاف ہے۔

شیخ عبدالسلام رستمی صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:

  “سلف کی اصطلاح میں تقلید کے لفظ سے اتباع بھی مراد تھی۔”

(تقلید کی شرعی حیثیت، ص49)

تو جب سلف تقلید کو اتباع کے معنی میں استعمال کرتے تھے، غیرمقلدین کا اس سے انکار سراسر تضاد ہے۔ پھر اپنے آپ کو سلفی کس منہ سےکہتےہیں؟

تقلید کی تعریف پر اعتراضات اور ان کے جوابات

اعتراض : تقلید کی تعریف میں “بِلَا نَظَرٍ فِی الدَّلِیل” آتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ مقلد دلیل کے بغیر بات مانتا ہے۔

جواب :یہ غلط فہمی ہے۔“الدلیل” میں الف لام عہد ذہنی ہے جس سے مراد دلیل تفصیلی ہے، یعنی وہ تحقیق و دلیلِ تفصیلی جو صرف مجتہد کے منصب کی چیز ہے۔عام شخص کے لیے یہ لازم نہیں۔تو یہ نفس دلیل کی نفی نہیں بلکہ مجتھد کےذھن میں جو دلیلِ تفصیلی و تحقیقِ استدلالی ہے اس کی نفی ہے جیسا کہ غیرمقلد محقق ڈاکٹر شفیق الرحمن بھی مانتے ہیں:

  ”وہ (مقلد،ناقل) کسی مجتہد سے تفصیلی دلائل کا مطالبہ کئے بغیر اس کے علم پر اعتماد اور اس کےفتوی پر عمل کرلیتا ہے۔“

(منہجِ تعامل اہل سنت، ص265)

یعنی ”بلا دلیل“ کا مطلب ”بلا مطالبہ دلیل تفصیلی“ہے۔

اعتراض: اگر دلیل نہیں بتائی جاتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اماموں کے پاس دلیل ہی نہیں۔

جواب :یہ جہالت ہے۔صحابہ کرامؓ کے ہزاروں فتاویٰ موجود ہیں، جن میں انہوں نے نہ دلیل بیان کی، نہ سائل نے دلیل پوچھی، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہؓ کے پاس دلیل نہیں تھی؟ (معاذ اللہ)

غیرمقلد مؤرخ اسحاق بھٹی لکھتے ہیں:

  “صحابہؓ بلا حجت نبی کریم ﷺ کے فرامین پر عمل کرتے تھے۔”

(برصغیر میں علم فقہ، ص23–24)

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ کے اقوال حجت نہ تھے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ صحابہ کرامؓ دلیل کا مطالبہ نہ کرتےتھے۔

علماء کی طرف رجوع خود تقلید ہے غیرمقلدین کا دھوکہ

غیرمقلدین  فالرجوع الی العلماء کا حوالہ لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ علماء کی طرف رجوع تقلید نہیں۔ لیکن “فواتح الرحموت” میں پوری وضاحت ہے:

  “محض رجوع تقلید نہیں،لیکن جب اس کے بعد اس کے قول پر عمل کیا جائے تو یہی تقلید ہے۔”

غیرمقلدین نے اس عبارت کا ترجمہ جان بوجھ کر بدل دیا، جس سے ان کا علمی خیانت کرنا ثابت ہوتا ہے۔

ابن امیر الحاجؒ کی تعریف پر اعتراض

غیرمقلدین کہتے ہیں کہ ابن امیر الحاجؒ نے تقلید کی تعریف یوں کی ہے کہ:

  “کسی ایسے شخص کے قول پر عمل کرنا جس کا قول شریعت میں حجت نہ ہو۔”

اس اعتراض کا جواب بھی خود ان کے محقق عبدالسلام رستمی صاحب دے چکے ہیں:

  ”یہ تعریف جامع و مانع نہیں۔“

(البرہان، جلد 1، ص346)

نتیجہ

ان تمام حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ:

خود غیرمقلدین کے اکابر ان کے مفسر ان کے محدث ان کے محقق ان کے مصنف تمام مانتے ہیں کہ:

”اتباع اور تقلید حقیقت میں ایک ہی چیز ہے ، فرق صرف لفظی ہے، معنوی نہیں۔“

 اس کے باوجود عوام کو دھوکے میں رکھنے کے لیے یہ فرق گھڑتے ہیں، حالانکہ تحقیق کی روشنی میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...