نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تقلید کا ثبوت غیر مقلدین سے


تقلید  کا ثبوت غیر مقلدین سے 

 مفتی رب نواز صاحب حفظہ اللہ 

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"

ِ تقلید کی عام فہم تعریف یہ ہے : قرآن وسنت پر ائمہ کرام کی تشریحات کے مطابق عمل کرنا تقلید ہے۔ 

غیرمقلدین کے شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری نے تقلید کی پانچ تعریفیں نقل کرنے کے بعد آخر میں لکھا :

’’ ان سب تعریفات کا مفہوم مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے یوں ادا کیا ہے : تقلید کہتے ہیں کسی کا قول محض اس حُسنِ ظن پر مان لینا کہ یہ دلیل کے موافق بتلاوے گا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا ‘‘

 ( فتاویٰ ثنائیہ :۱؍۲۶۰ ) 

  اہلِ حدیث کہلانے والے لوگ عمومًا تقلید کا انکار کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ تقلید سے اپنا پلہ چھڑا نہیں سکے۔اس کی تفصیل تو میری کتابوں:’’ زبیر علی زئی کا تعاقب ‘‘...اور ... ’’غیرمقلد ہو کر تقلید ہوکر کیوں ؟‘‘ میں دیکھیں تاہم دو چار حوالے یہاں بھی درج کر دیتا ہوں۔ 

مولانا حماد الحق نعیم صاحب غیرمقلد نے الاعتصام کا اداریہ لکھا اور اس کاعنوان ’’قابلِ تقلید ‘‘ قائم کیا ہے۔ اس کے تحت اہلِ حدیث کے طرز عمل کولائق اتباع کہاہے۔

 ( ہفت روزہ الاعتصام لاہور ۱۶ صفر ۱۴۴۰ھ صفحہ ۳)

نواب صدیق حسن خان غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ عوام میں ایمان تو عصر نبوت ہی سے تقلیدی چلا آ رہا ہے ۔ ‘‘ 

( ابقاء المنن صفحہ ۶۳)

نواب صاحب ہی لکھتے ہیں:

’’عامی اور مقلد جاہل جو قرآن و حدیث کے دلائل نہ جاننے کی بنا پر کتاب و سنت پر براہِ راست عمل نہیں کر سکتا اور کتب فقہ سے بھی منتفع نہیں ہو سکتا، اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ ٔ کار نہیں کہ وہ مسائل میں قول غیر کو قبول کرے۔ یاد رہے محقق علماء نے اگرچہ ایسے انسان کے لیے اس کی جہالت کی وجہ سے تقلید کو جائز قرار دیا ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ کسی خاص مذہب کی اس انداز میں تقلید نہ شروع کردے کہ دوسرے مذاہب سے وابستہ علماء کی بات کو غلط سمجھے۔

( ابقاء المنن  صفحہ ۶۳،۶۴)

نواب صاحب نے اگرچہ خاص مذہب کی مشروط تقلید کہ دوسرے مذاہب والوں کو غلط سمجھنے لگے کو تسلیم نہیں کیا تاہم مطلق تقلید کو جائز قرار دیا ہے۔ 

کسی صاحب نے کہا کہ اہلِ حدیث تقلید شخصی کو شرک کہتے ہیں ۔ اہلِ حدیث ہونے کے دعوے دار مولانا واصل واسطی صاحب نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: 

’’اہل حدیث لوگ ہر تقلید کو شرک نہیں کہتے، بلکہ اس کی بعض صورتوں کو شرک سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہم ذیل میں اپنے اکابر کی چند عبارات پیش کرتے ہیں اور احباب سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ غور و تامل سے اس پر نظر فرمائیں گے۔ ‘‘

(عقیدۂ سلف پر اعتراضات کاعلمی جائزہ: ۲۷)

اس کے بعد انہوں نے اپنے تین اکابر: نواب صدیق حسن خان (ابقاء المنن : ۶۳)، میاں نذیر حسین دہلوی( معیار الحق: ۸۰) اور مولانا محمد گوندلوی صاحب ( الاصلاح ۱؍۱۵۹)کی عبارتیں پیش کرکے لکھا :

’’اب جب تین بڑے مشائخ اور بزرگوں کی عبارتوں سے ثابت ہوگیا کہ اہلِ حدیث ہر تقلید شخصی کو شرک اور ہر تقلید کو حرام نہیں کہتے تو ہم کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ لکھنا کہ اہلِ حدیث کا دعویٰ ہے کہ ائمہ مجتہدین کی تقلید شخصی شرک ہے ، ان پر افتراء محض ہے جس پر کم از کم استغفار کا ورد ضرور کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ روز قیامت باعث شرمندگی بن جائے ‘‘

 (عقیدۂ سلف پر اعتراضات کا علمی جائزہ: ۲۹)

اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ اہل ِ حدیث ہونے کے دعوے دار اب اپنے آپ کواعلانیہ ’’ تقلیدی ‘‘ کہہ کر تقلید کے انکار کی نسبت کو افتراء قرار دے رہے ہیں۔ 

یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ اہلِ حدیث کہلانے والوں میں تقلید کی وجہ سے فرقے بھی بن گئے ہیں ۔ 

چنانچہ حکیم خالد سیف اللہ محمدی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’اہلِ حدیث پہلے بھی کئی فرقوں میں تقسیم ہیں۔ امامیہ ، غیرامامیہ۔جھنڈوی، غیر جھنڈوی۔ مرکزی، غیرمرکزی۔ جہادی، غیر جہادی۔ روپڑی، غزنوی، ثنائی۔ اب دعائی اور غیر دعائی بھی قائم ہو گئے ہیں ‘‘

 ( فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کی اہمیت صفحہ۵)

 حکیم صاحب آگے لکھتے ہیں:

’’اب اہلِ حدیث بھی اپنے قریبی اور مانوس علماء کی بات کو فوقیت دے کر در اصل تقلید کے پھندے میں پھنس کر کئی فرقوں میں تقسیم ہو کر باہمی لڑائی جھگڑا اور دوسرے اہلِ حدیث کو بدعتی کہنے کا مفتی اور مبلغ بن بیٹھا ہے ‘‘ 

( فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کی اہمیت صفحہ۵)

بندہ کا مستقبل میں ایک ایسی کتاب مزید لکھنے کا ارادہ ہے جس میں تقلید کی حمایت میں غیرمقلدین کی عبارات کو یک جا جمع کیاجائے گا ان شاء اللہ ۔ 


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...