نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اثبات التقلید


اثبات التقلید 

 مولانا محمد حسین سواتی صاحب حفظہ اللہ جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"

معنى تقلید 

تقلید کا لغوی معنی

تقلید کا مادہ قلادة ہے۔ جب انسان کے گلے میں ہو تو ہار کہلاتا ہے، اور اگر جانور کے گلے میں ہو تو پٹہ کہلاتا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے:

اِسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً (بخاری جلد 1، صفحہ :48 و 532؛ مسلم جلد 1، صفحہ: 160)

حضرت اسماء  ؓسے ہار مانگا تھا (اور پہنا)۔

اور نیز فرمایا:

اِنْسَلَّتْ قِلَادَةٌ لِي مِنْ عُنُقِي فَوَقَعَتْ (مسند احمد جلد 2، صفحہ: 272)

میرا ہار گردن سے سرک کر نیچے گر گیا۔

اور امام ابو الفتح ناصر بن عبد المطرزیؒ  (المتوفی 616 ھ) لکھتے ہیں کہ:

تَقْلِيدُ الْهَدِيْ أَنْ يُعَلَّقَ بِعُنُقِ الْبَعِيرِ قِطْعَةُ نَعْلٍ أَوْ مَزَاوَةٍ لِيُعْلَمَ أَنَّهُ هَدْيٌ 

(المغرب جلد 2، صفحہ: 131)

قربانی جانور کی تقلید یوں ہے کہ اونٹ وغیرہ کے گلے میں جوتے یا چمڑے کا ٹکڑا باندھ دیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔

تقلید کا اصطلاحی معنی

التَّقْلِيدُ اتِّبَاعُ الْغَيْرِ عَلَى ظَنٍّ أَنَّهُ مُحِقٌّ بِلا نَظَرٍ فِي الدَّلِيلِ۔

(حسا می کی شرح نامی طبع مجتبائی دہلی، صفحہ: 190) میں ہے کہ 

تقلید غیر کی اتباع کا نام ہے۔ دلیل کی طرف دھیان کیے بغیر اس خیال سے کہ غیر اہل حق میں سے ہے۔

حضرت مولانا قاضی محمد اعلیٰ صاحب تھانویؒ تقلید کی تعریف یہ کرتے ہیں:

التَّقْلِيدُ اتِّبَاعُ الإِنسَانِ غَيْرَهُ فِيمَا يَقُولُ أَوْ يَفْعَلُ مُعْتَقِدًا لِلْحَقِيقَةِ مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ إِلَى الدَّلِيلِ كَأَنَّ هَذَا الْمُتَّبِعَ جَعَلَ قَوْلَ الْغَيْرِ أَوْ فِعْلَهُ قِلادَةً فِي عُنُقِهِ مِنْ غَيْرِ مُطَالَبَةِ دَلِيل ٍ

 (کشاف اصطلاحات الفنون، صفحہ: 1178 طبع کلکتہ)

تقلید کا معنی یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کے قول یا فعل میں محض حسنِ عقیدت سے اس کی اتباع کرے، اس کو حق سمجھتے ہوئے، بغیر دلیل کے ملاحظہ کیے ہوئے، گویا اس اتباع کرنے والے نے غیر کے قول یا اس کے فعل کو بغیر دلیل کے مطالبہ کے اپنے گلے میں ہار ڈال لیا ہے۔

خلا صہ

ان دونوں عبارات سے معلوم ہوا کہ تقلید اور اتباع دونوں ایک ہی چیز ہیں۔

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے ہیں کہ:

تقلید اور اتباع کے معنی واحد ہیں (سبیل الرشاد صفحہ: 27)۔

(مأ خوذ از خیر التنقید صفحہ: 11 تا 13)

تقلید اور اتباع میں مغایرت کا دعویٰ

بعض غیر مقلدین نے اس پر اچھا خاصا زور صرف کیا ہے کہ تقلید اور چیز ہے اور اتباع اور چیز ہے، اور ان کا خیال ہے کہ اتباع محمود و مطلوب ہے، اور تقلید مذموم اور ممنوع ہے اور کہتے ہیں کہ ہم اتباع سلف کے تو مامور ہیں مگر تقلید سلف کے مامور نہیں ہیں، اور کہتے ہیں کہ دونوں میں فرق ہے۔

چنانچہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ (المتوفی 1368 ھ/1947 ء) تحریر کرتے ہیں کہ:

ہمارا اعتقاد ہے کہ ہم اتباع سلف کے مامور ہیں، تقلید سلف کے مامور نہیں ہیں۔ تقلید اور اتباع میں بہت فرق ہے۔ تقلید محض قول بلا معرفۃ دلیل کے قبول کرنے کا نام ہے، اور اتباع علی وجہ البصیرت قبول کرنے کا نام ہے۔(اعلام الموقعین حافظ ابن القیم جلد 1، صفحہ؛ 185)

 (تقلید شخصی و سلفی صفحہ: 42)

  علمائے غیر مقلدین کے کلام سے تقلید اور اتباع کا ایک معنیٰ کا ثبوت!

چنانچہ ان کے شیخ الکل حضرت مولانا سید نذیر حسینؒ صاحب دہلوی (المتوفی 1320 ھ) فرماتے ہیں کہ:

تقلید کا معنی اہل اصول کی اصطلاح میں یہ ہیں کہ مان لینا اور عمل کرنا ساتھ قول بلا دلیل اس شخص کے جس کا قول حجت کرنا تقلید نہ ہوگی، بلکہ اس کو اتباع اور سوال کہیں گے۔اور تقلید کا معنی عرف میں یہ ہیں کہ لاعلمی کے وقت کسی اہل علم کا قول مان لینا اور اس پر عمل کرنا، اور اسی معنیٰ عرفی میں مجتہدوں کے اتباع کو تقلید بولا جاتا ہے۔ 

(معیارالحق صفحہ: 66)

اور پھر عقد الفرید کا حوالہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں۔

اور فاضل (حبیب اللہؒ) قندھاری مغتنم الحصول میں فرماتے ہیں:

تقلید اس شخص کے قول پر بلا دلیل عمل کرنا ہے جس کا قول حجت شرعیہ میں سے نہ ہو۔ رجوع کرنا آپ ﷺ اور اجماع کی طرف تقلید نہ ٹھہری، اور اسی طرح رجوع کرنا انجان کا مفتی کے قول کی طرف اور رجوع کرنا قاضی کا ثقہ آدمی کے قول کی طرف تقلید نہ ٹھہرے گی، کیونکہ یہ رجوع بحکم شرع واجب ہے۔ بلکہ مجتہد یا انجان کا رجوع کرنا اپنے جیسے آدمی کی طرف تقلید نہیں، لیکن مشہور یوں ہو گیا ہے کہ انجان مجتہد کا مقلد ہے۔

امام الحرمین نے کہا ہے کہ: اسی قول مشہور پر بڑے اصول ہیں۔اور غزالی، اور آمدی، اور ابن الحاجبؒ نے کہا ہے کہ: آپ ﷺ اور اجماع و مفتی اور گواہوں کی طرف رجوع کرنے کو اگر تقلید قرار دیا جاوے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

پس ثابت ہوا کہ آپ ﷺ  کی پیروی کو اور مجتہدین کی اتباع کو تقلید کہنا مُجَوِّز ہے۔ (انتہی بلفظہ) 

(معیار الحق صفحہ: 67)

اس مفصل عبارت سے ذیل کے اہم فوائد ثابت ہوتے ہیں:

لاعلمی کے وقت کسی مسئلہ میں مجتہدین کی طرف رجوع کرنا در حقیقت تقلید نہیں، بلکہ اتباع اور سوال ہے۔

مجتہدین کی اتباع کو تقلید بھی کہا جاتا ہے، یعنی بالمآل اتباع اور تقلید ایک ہی چیز ہے، ان میں کوئی فرق نہیں۔

لاعلم اور انجان آدمی کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں، بلکہ بحکم شرع واجب ہے، لیکن بڑے بڑے اصولیوں کے قول کے مطابق اس کو تقلید کہنے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ہے۔

جس طرح مجتہدین کی اتباع کو تقلید کہنا جائز ہے، اسی طرح آپ ﷺ کی اتباع کو بھی تقلید کہنا جائز ہے۔

اس تفصیل کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں مجتہدین کی اتباع اور تقلید کرتا ہوں، یا یہ کہے کہ میں آپ ﷺ کا مقلد ہوں، تو درست اور صحیح ہے، اس پر کوئی ملامت اور لعن طعن نہیں ہو سکتا۔

 (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ: 31)

اور جو فقہاء ان کو ایک ہی مفہوم مراد لیتے ہیں، ان پر بھی کوئی گرفت نہیں ہے۔

تقلید کا  ثبوت قرآن کریم سے

پہلی آیت

اللہ تعالٰی مومنوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ 

(پارہ 5، سورة آل عمران، آیت: 59)

اے مومنو! اللہ اور رسول ﷺ  کی اطاعت کرو اور تم میں جو صاحب امر (اور حکم) ہیں ان کی (بھی اطاعت کرو)۔

اس آیت کریمہ میں تین چیزوں کا حکم ہے:

1. اللہ تعالیٰ کی اطاعت۔

2. رسول اللہ ﷺ  کی اطاعت۔

3. اولی الامر کی اطاعت۔

پہلی دو چیزوں کے متعلق کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور آپ ﷺ  کی اطاعت کرنا تو ہر مسلمان پر فرضِ اولین ہے، اور ان کی اطاعت سے روگردانی کرنا باغی، سرکش، اور نافرمان ہی کا کام ہے۔تو پہلی دو چیزوں کی تفصیل بھی ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔البتہ تیسری چیز کے متعلق کچھ تفصیل زیر بحث ہو گی۔یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ مسلمان کو مسلم صاحب امر کی اطاعت کرنا ضروری ہے، غیر مسلم کی اطاعت نہ صرف یہ کہ ناجائز ہے، بلکہ گناہ ہے۔اور "مِنْکُمْ" کے لفظ میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرما دیا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت اس وقت ضروری ہو گی، جب وہ تم میں سے (یعنی مسلمان) ہو، اور مِنْکُمْ کا یہی معنی ہے، اس لیے کہ یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کی تصریح پہلے موجود ہے۔

یہ بات بھی اصولِ موضوعہ میں شامل ہے کہ صاحبِ امر کی بات بھی جب کہ وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول بر حق ﷺ  کی نافرمانی میں ہو تو ماننا ناجائز اور گناہ ہے۔ آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا:

إِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ  

(بخاری جلد 2، صفحہ: 1057)

جب نافرمانی کا حکم صادر کیا گیا ہو صاحبِ امر کی طرف سے، تو نہ اس کی بات سننی جائز ہے اور نہ ہی اس کی اطاعت روا ہے۔

صاحبِ  امر جب اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ  کی اطاعت کرتا ہو، تو اس صورت میں نہ صرف اس کی اطاعت ہی جائز ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی اس کی اطاعت پر مجبور کرتا ہے۔

آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا:

مَن أطاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أطاعَنِي، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصانِي  

(بخاری جلد 2، صفحہ: 1057)

کہ جس نے میرے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔

اولی الامر سے کون مراد ہیں؟

1. علماء اور فقہاء

2. امراءِ جیوش اور مطلق حکام

ان میں سے جو بھی مراد لیا جائے، ہمارا مدعی ثابت ہے، یعنی تقلید اور اتباع۔

پہلی قسم: اولی الامر سے مراد علماء اور فقہاء ہیں

حضرت جابر بن عبد اللہ b فرماتے ہیں:

أَوْلَى الأَمْرِ مِنْكُمْ الْفِقْهُ وَالْخَيْرُ (مستدرک جلد 1، صفحہ: 123)

کہ اولی الامر سے اصحابِ فقہ اور اربابِ خیر مراد ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس  ؓ سے بھی یہی تفسیر مشہور ہے:

يعني أهلُ الْفِقْهِ وَالدِّيْنِ (إلى أَنْ قَالَ) فَأَوْجَبَ اللهُ طَاعَتَهُم۔

 (مستدرک جلد 1، صفحہ: 123)

اور متعدد حضرات تابعینؒ سے مروی اور منقول ہے کہ اولی الامر سے مراد علماء اور اہل فقہ ہیں۔

حضرت عطاء بن ابی رباحؒ  (المتوفی 114 ھ) سے سند کے ساتھ منقول ہے کہ 

أُولُو الْأَمْرِ أُولُو الْعِلمِ وَالْفِقْهِ 

(دارمی صفحہ: 40 طبع ہند و طبع دمشق صفحہ: 72)

اولو الامر سے مراد اہلِ علم اور اصحابِ فقہ ہیں۔

اور امام ابوبکر الجصاص الرازیؒ (المتوفى 370 ھ) اولی الامر کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

اُخْتُلِفَ فِي تَأْوِيلِ أُولِي الْأَمْرِ، فَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رِوَايَةٌ، وَالْحَسَنِ وَعَطَاءِ وَمُجَاهِدٍ رَحِمَهُمُ اللَّهُ أَنَّهُمْ أُولُو الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ، وَعَنْ عَبَّاسٍ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ أُمَرَاءُ السَّرَايَا، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونُوا جَمِيعًا مُرَادِينَ بِالآيَةِ، لِأَنَّ الاسْمَ يَتَنَاوَلُهُمْ جَمِيعًا، لِأَنَّ الْأُمَرَاءَ يُلَوِّنَ أَمْرَ تَدْبِيرِ الْجُيُوشِ وَالسَّرَايَا قِتَالَ العَدُوِّ، وَالْعُلَمَاءُ يُلَوِّنَ حِفْظَ الشَّرِيعَةِ وَمَا يَجُوزُ وَمَا لَا يَجُوزُ۔

 (احکام القرآن جلد 2، صفحہ: 210)

اولی الامر کی تفسیر میں اختلاف کیا گیا ہے:

حضرت ابن عباس اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہم سے ایک روایت ہے، اور حضرت حسنؒ، حضرت عطاءؒ، اور حضرت مجاہدؒ  سے مروی ہے کہ اولی الامر اہلِ فقہ اور اصحابِ علم ہیں، اور حضرت ابن عباسؓ سے ایک روایت ہے اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد امراءِ جیوش ہیں، اور جائز ہے کہ اس آیت کریمہ سے دونوں مراد ہوں، کیونکہ اولی الامر کا لفظ دونوں کو شامل ہے، اس لیے کہ امراء تدبیرِ جیوش اور فوجیوں اور دشمن سے لڑائی کے کام کی سرپرستی کرتے ہیں، اور علماء حفظِ شریعت اور جائز ناجائز چیزوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔

اس عبارت سے بالکل واضح اور عیاں ہے کہ دونوں طبقے مراد لینے میں کوئی تضاد اور مضائقہ اور تعارض نہیں ہے۔

خلاصہ

حاصل  یہ ہے کہ حقیقةََ اطاعت تو علماء کی ہونی چاہیے۔ حکام کی اطاعت تو اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ علماء کے تابع اور شریعت اسلامی کے موافق فیصلے صادر کرتے ہیں۔حضرت مفتی شفیع صاحبؒ  (المتوفی 1396 ھ) فرماتے ہیں کہ 

اولی الامر کی تفسیر یہ ہے کہ اس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین، تبع تابعین رحمہم اللہ کا موقف یہ ہے کہ اس سے مراد خلفاء، علماء، اور فقہاء ہیں۔اور مولانا صدیق حسن خانؒ صاحب (رئیس اہل حدیث) بھی اس معنیٰ کو اپنی تفسیر میں قبول کرتے ہیں۔

 (جواہر الفقہ جلد 10، صفحہ: 122)

دو سری آیت

وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَیَّ (پارہ 21، سورة لقمان، آیت: 15)

ما قبل یعنی اس آیت کریمہ کے پہلے جزء میں اللہ تعالیٰ مؤمن کو پہلے حکم دیتے ہیں کہ اگر ماں باپ تجھے شرک کرنے پر مجبور کریں تو ان کی اطاعت نہ کرنا، ہاں دنیوی امور میں ان کی اطاعت کرتے رہنا۔

پھر آگے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

 جو لوگ میری اطاعت یعنی میری طرف انابت اور رجوع کرتے ہیں تو ان کے راستہ کی اتباع کر۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی مومن بندہ کو ان کی اتباع کا حکم دے رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف انابت اور رجوع کرتے ہیں۔ان کی اتباع نہ صرف یہ کہ جائز، بلکہ واجب اور ضروری ہے، اس لیے کہ "وَاتَّبِعْ" صیغہ امر ہے اور امر 

وجوب کے لیے ہوتا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں علامہ آلوسیؒ  لکھتے ہیں:

وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ بِالتَّوْحِيدِ وَالإِخْلَاصِ بِالطَّاعَةِ وَحَاصِلُهُ اتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُخْلِصِينَ 

(روح المعانی جلد 21، صفحہ: 78)

جو لوگ توحید اور اخلاص کے ساتھ اطاعت پر گامزن ہیں تو ایسے مخلصین کے راستے کی اتباع کر۔

ایک سوال  فریق ثانی سے (یعنی غیر مقلدین)

ہم پوچھتے ہیں کہ کیا ائمہ اربعہؒ اور ان کے علاوہ دیگر علماء اور ائمہ کرام سنت اور توحید پر قائم نہیں تھے؟کیا اطاعت خداوندی اور اطاعت رسول کے علمبردار نہیں تھے، اور خدا تعالیٰ اور رسول برحق کی فرمانبرداری میں اخلاص سے پیش نظر نہیں آتے تھے؟اگر یہ کہہ دیں کہ العیاذ باللہ نہ توحید و سنت پر گامزن تھے اور نہ مخلص تھے بلکہ مشرک اور ریا کار تھے، تو اس کا اثبات آپ کے ذمہ ہوگا۔اس لیے کہ مَنِ ادَّعَى فَعَلَيْهِ الْبَيَانُ۔

اور اگر موحد اور مخلص تھے، اور یقیناً ایسے ہی تھے، تو حافظ ابن تیمیہؒ کے الفاظ میں ان کی اتباع واجب نہ رہی۔

وَاتَّبِعْ سَيْلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ وَالأُمَّةُ مُنِيبَةٌ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَيَجِبُ اتِّبَاعُ سُلِهَا۔ (معارج الوصول صفحہ: 12)

 وَاتَّبِعْ سَيْلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: امت یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف ہی انابت کرتی رہی ہے تو اس کے راستوں کی اتباع واجب ہے۔

تیسری آیت

اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس عقیدے کی تردید کرتے ہوئے کہ پیغمبر بشر نہیں ہو سکتے، بیان فرماتے ہیں:

وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ 

 (پارہ 17، سورة انبیاء، آیت: 7)

ہم نے آپ سے قبل کسی پیغمبر کو نہیں بھیجا مگر مرد (اور انسان)، اہل علم سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔

اس آیت کریمہ میں معلوم ہوا کہ کم علم اور نا سمجھ کو عالم اور سمجھ دار سے پوچھنا اگر واجب نہیں تو ( فَاسْأَلُوا ) صیغہ امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کم از کم مستحب تو ہے۔ اگر وہ عالم زندہ ہے تو اس سے مشافہتہ پوچھا جائے، اور اگر وہ فوت ہو چکا ہے تو اس کے بتلائے ہوئے اصول اور ضوابط کی طرف رجوع کر لیا جائے۔

حضرت امام رازیؒ اور علامہ آلوسیؒ  اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَن جَاوَزَ التَّقْلِيدَ لِلْمُجْتَهِدِ لِهَذِهِ الآيَةِ فَقَالَ لَمَّا لَمْ يَكُنْ أَحَدُ الْمُجْتَهِدِينَ عَالِمًا وَجَبَ عَلَيْهِ الرُّجُوعُ إِلَى الْمُجْتَهِدِ الْعَالِمِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى فَاسْأَلُوا الْآيَةَ فَإِنْ لَمْ يَجِبْ فَلَا أَقَلَّ مِنَ الْجَوَازِ۔ 

(تفسير كبير جلد 19، صفحہ: 19؛ روح المعانی جلد 14، صفحہ: 148)

یقیناً بعض لوگوں نے اس آیت کی وجہ سے تقلید کا جواز ثابت کیا ہے، وہ (بقول امام رازیؒ)  یوں کہ جب مجتہدین میں سے کوئی کسی چیز کو نہیں جانتا، تو اس مجتہد پر مجتہد عالم کی طرف رجوع کرنا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم سوال کرو الخ۔ اگر رجوع واجب نہیں تو جواز سے کم کیا ہو گا! جب بعض مسائل میں مجتہد کو اپنے سے بڑے مجتہد عالم سے پوچھنا جائز ہے تو ایک عامی اور جاہل کو پوچھنا کیوں جائز نہ ہوگا!

دعوت فکر

دیکھیے قارئین کرام!

اگر آج ہمارے پاس حضرت امام بخاریؒ، حضرت امام عبد الرحمن بن ابی حاتمؒ، حضرت علامہ ذہبیؒ اور حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ موجود نہیں کہ جن سے ہم رجال کے متعلق سوال کریں، مگر امام بخاریؒ کی کتب تاریخ، امام ابی حاتمؒ کی کتاب العلل، علامہ ذہبیؒ کا تذکرہ اور میزان الاعتدال، اور حافظ ابن حجرؒ کی تہذیب اور لسان وغیرہ موجود ہیں۔جن کے مطالعہ کرنے سے رجال کی توثیق یا تضعیف پر پورا پورا اطمینان اور اعتماد ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر آج ائمہ اربعہ موجود نہیں تو ان کے معتبر تلامذہ کی کتب اور ان کے بیان کردہ اصول تو ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس لیے ہمیں ان کی طرف رجوع کرنے کے بعد قرآن و حدیث کو سمجھنے میں بہت کم ٹھوکر لگ سکتی ہے۔

بخلاف دیگر فرق باطلہ جیسے معتزلہ، خوارج، روافض، کرامیہ، جہمیہ، قادیانی، چکڑالوی، وغیرہ، انہوں نے خود تراشیدہ اصول کے مطابق اور ذہن پر بھروسہ کرنے کی بدولت قرآن و حدیث میں کتنی تحریف کی، اور قرآن و حدیث کے معانی میں بگاڑ پیدا کیا۔ اور اپنے عقائد اور فرمودہ عقائد کو ثابت کرنے میں کس قدر بھٹکے۔

الحاصل!نادان اور بے سمجھ کا اہل علم سے سوال کرنا اور پوچھنے کے بعد اس کی بات پر بھروسہ اور اطمینان کرنا اگر ناجائز ہوتا تو اللہ تعالیٰ اہل علم سے پوچھنے کا کیوں حکم دیتے؟

اور آپ ﷺ  کیوں فرماتے:

إِنَّمَا شِفَاءُ الْعیِّ السُّوالُ  

(مشکوۃ جلد 1، صفحہ: 55)

یقیناً نا واقف کا علاج اور شفاء اس میں ہے کہ وہ واقف کار سے پوچھ لے۔

حضرات ائمہ کرامؒ کا مقصد بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ لاعلم مقلد جو ایک قسم کا سائل ہوتا ہے، ہر مسئلہ کی تحقیق فقیہ اور عالم سے پوچھے اور اس پر عمل کرے۔اگر وہ مسئلہ قرآن یا حدیث میں ہو گا تو مقلد اپنے امام کی عقل، علم اور دیانت پر بھروسہ کرے گا، تاکہ خود اس سے حضرت عدی بن حاتم  رضی اللہ عنہ کی طرح سیاہ اور سفید دھاگے میں فرق نہ کر سکنے کی غلطی واقع نہ ہو جائے۔

چوتھی آیت

قیامت کے دن جب کافر دوزخ میں آگ کے شعلوں میں جل رہے ہوں گے تو اس وقت کی بات اللہ تعالیٰ نقل کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ  

(پارہ 29، سورة ملک، آیت: 10)

اور کہیں گے: اگر ہم ہوتے سنتے یا سمجھتے تو نہ ہوتے دوزخ والوں میں۔

حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ (المتوفی 1239 ھ) اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:

بعض حضرات مفسرین کرام نے نَسْمَعُ کو تقلید پر اور نَعْقِلُ کو تحقیق اور اجتہاد پر محمول کیا ہے کہ یہ دونوں نجات کے ذر یعے ہیں۔

 (تفسیر عزیزی پارہ 29، صفحہ: 13، مطبع محمدی لاہوری)

اور حضرت مولانا محمد عبد الحق حقانیؒ (المتوفی 1332 ھ) اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:

پس انسان کی فلاح کے دو ہی طریق ہیں۔ اول اور آسان یہ ہے کہ کسی ناصح اور ہادی کی بات سن کر مان لے، یہ تقلید کا مرتبہ ہے، اور قرآن مجید نے اس آیت میں اسی کو مقدم کیا ہے۔

دوم۔ یہ ہے کہ خود عقل سلیم سے غورو فکر کرے، اور یہ اجتہاد کا مرتبہ ہے۔ پھر جس کو دونوں باتیں نصیب نہ ہوں تو اس کے برباد ہونے میں کیا شک ہے؟

( تفسیر حقانی جلد 9، صفحہ: 49)

اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (المتوفی 1323 ھ) اپنے ایک وعظ میں سورۃ ملک کی اسی آیت کریمہ کی تحقیق اور تشریح میں فرماتے ہیں کہ:

نَسْمَعُ میں تقلید اور نَعْقِلُ میں تحقیق کو ذکر فرمایا، پس معلوم ہوا کہ دوزخ سے بچنے کے دو طریق ہیں۔ یا تقلید ہوگی یا تحقیق ہو گی۔

 (دعوات عبدیت جلد 5، دوسرا وعظ طریق النجاۃ، صفحہ: 8، مطبوعہ جمال پرنٹنگ پریس دہلی)

خلاصۃ الکلام

ظاہر ہوا کہ علم نہ ہونے کی وجہ سے تحقیق تو ہو نہیں سکتی، اور اگر تقلید بھی نہ ہو تو ہلاکت اور بربادی کے سوا اور کیا ہاتھ آسکتا ہے؟

سوچ لو! راہ میں خود کو پریشان نہ کرنا۔

راستہ زیست کا کہتے ہیں کہ ہموار ہیں۔

نگاہیں اُن پر پڑتی ہیں کہ جن سے کچھ تعلق ہو۔

محبت کی نظر سے ہر بشر دیکھا نہیں جاتا۔


 تقلید کا ثبوت احادیث نبویہ سے

پہلی حدیث

حضرت عرباض بن ساریہ  ؓ فرماتے ہیں کہ:

آپ ﷺ  نے ایک دن صبح کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہو کر آپ نے ایک موثر اور بلیغ تقریر ارشاد فرمائی جس سے لوگ اتنے متاثر ہوئے کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور دل میں خشیت طاری ہو گئی۔ ایک شخص نے عرض کیا  کہ "حضرت! ایسا محسوس ہوتا  ہے گویا  یہ آپ کی رخصت سے قبل کی آخری تقریر ہو۔ اس لیے ہمیں کچھ وصیت ارشاد فرما دیجیئے"۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ خدا سے ڈرتے رہنا، امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا، اگرچہ ایک حبشی غلام ہی تمہارا امیر منتخب ہو جائے۔ کیونکہ میرے بعد تمہاری زندگی کے مراحل میں بہت کچھ اختلافات پیدا ہو جائیں گے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ:

فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ۔ تَمَسَّكُوا بِهَا وَاعْتَصِمُوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ۔ 

(ترمذی جلد 2، صفحہ: 92؛ ابن ماجہ صفحہ: 5؛ ابو داؤد جلد 2، صفحہ: 279؛ مسند احمد جلد 4، صفحہ: 27؛ مسند دارمی صفحہ: 26؛ مستدرک جلد 1، ص: 95 اور مشکوۃ صفحہ: 30)

حضرت عرباض بن ساریہ ؓ (المتوفی 75 ھ) جلیل القدر صحابی ہیں، آپ کی وفات دمشق میں واقع ہوئی (تجرید اسماء الصحابہ علامہ ذہبیؒ جلد 1، صفحہ: 407)۔ اس مذکور سے سند حدیث کی تصحیح پر امام حاکمؒ اور علامہ ذہبیؒ دونوں متفق ہیں (مستدرک جلد 1، صفحہ: 96 و تلخیص علامہ ذہبیؒ جلد 1، صفحہ: 96)۔

امام ترمذیؒ (ترمذی شریف جلد 2، صفحہ: 92 میں) ایک دوسری سند کے ساتھ اس حدیث کو پیش کر کے فرماتے ہیں: 

هذا حديث حسن صحيح۔

مشہور محدث ابن حزم ظاہریؒ (غیر مقلد) اس حدیث کی تصحیح کرتے ہیں (بحوالہ تذکرۃ الحفاظ علامہ ذہبیؒ جلد 3، 

صفحہ: 325)۔

اب اس حدیث کے معنوی اور مدلول کے لحاظ سے مندرجہ ذیل امور پر غور کیجیے!

آپ ﷺ  نے اپنی وصیت میں جہاں تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا، وہاں امیر کی اطاعت کی بھی تاکید فرمائی اگر چہ وہ امیر حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اور اس سے تقلید شخصی ثابت ہوتی ہے واضح اور نمایاں طور پر۔

آپ ﷺ  نے جہاں اپنی سنت کی پیروی پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت کو تاکید بلیغ فرمائی، وہیں پر اپنے خلفاء راشدین کی سنت کو بھی بیان فرمایا کہ جس طرح داڑھوں میں مضبوط پکڑی ہوئی چیز نہیں نکل سکتی، اسی طرح فرمایا کہ میرے بعد میرے خلفاء راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو۔ آپ ﷺ  نے جس کو ایک حسی مثال سے بیان کر کے سمجھایا اور تاکید فرمائی۔

ان حضرات خلفاء راشدین کے قول و فعل کے خلاف اور بعد کو جو چیز ظاہر اور پیدا ہو گی، اس کو دین اور مذہب سمجھنا نری بدعت اور گمراہی ہے۔

اب ان مذکورہ بالا امور کو مد نظر رکھتے ہوئے استدلال اور احتجاج ملاحظہ ہو۔ ایک وقت میں خلیفہ راشد صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔

اور مسلمانوں پر ایک ہی امام کی اطاعت واجب اور ضروری ہے۔ جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں نہیں آ سکتیں، بالکل اسی طرح دو خلیفے بھی بیک وقت منتخب نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا:

إِذَا بُويِعَ لِلْخَلِيفَيْنِ فَاقْتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا  

(مسلم جلد 2، صفحہ: 128)

کہ جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو تم دوسرے کو قتل کر دو۔

حضرت عرفجہ  ؓ  فرماتے ہیں کہ میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمَرَكُمْ جَمِيعًا عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ (مسلم جلد 2، صفحہ: 128؛ مشکوۃ جلد 2، صفحہ: 220)

تمہارے پاس جو شخص آئے اور تمہیں اس شخص کے خلاف حکم دے جس پر تم سب کا اتفاق ہے، کہ تمہارے اتفاق کو اس سے ختم کر دے یا تمہارے درمیان تفریق پیدا کر دے، تو تم اس کو قتل کر دو۔

خلاصۃ الکلام

ان حدیثوں سے صاف اور واضح طور پر معلوم ہوا کہ ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے دوسرے کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے، اور اگر دوسرا اپنی منوانی پر مصر ہو تو اس کو قتل کرنا ضروری ہے۔ ایک زمانہ میں تمام علماء کے نزدیک دو خلیفوں کا ہونا ناجائز ہے۔ چاہے دار اسلام کا حلقہ کتنا ہی وسیع یا تنگ ہو۔

 (شرح مسلم جلد 2، صفحہ: 126)

تو اسی طرح خلیفہ راشد بھی ایک وقت اور ایک زمانہ میں صرف ایک ہی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ خلافت صدیقی میں تمام مسلمانوں کو حضرت ابوبکر صدیق  ؓ کو اپنا امام، اور پیشوا بنانا ضروری تھا۔اسی طرح خلافت فاروقی میں حضرت عمر فاروق ؓ کو، اور خلافت عثمانی میں حضرت عثمان  ؓ کو، اور خلافت حیدری میں حضرت علی   ؓکو امام اور پیشوا بنانا مسلمانوں کے لیے ضروری تھا۔

اعتراض

کہ خلیفہ وقت کی بیعت تو نظام عالم اور نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے ہوتی ہے، یعنی سیاسی طور پر ہوتی ہے، تو اس سے تقلید کیسی ثابت ہو سکتی ہے؟ حضرات ائمہ اربعہؒ کی بیعت تو محض امور دین میں ہوتی ہے، تو اس سے ان کی تقلید کیسی ثابت ہو سکتی ہے؟

الجواب

بخاری شریف کے حوالے سے ہم عرض کریں گے: بخاری شریف میں روایت ہے کہ آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا: کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کو شفقت کی نظر سے نہیں دیکھے گا، (ان تینوں میں سے ایک شخص یہ ہے):

رَجُلًا بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِلْدُّنْيَا (بخاری شریف جلد 1، صفحہ: 217)

ان تینوں میں سے ایک شخص وہ بھی ہو گا کہ جس نے امام وقت سے بیعت صرف حصول دنیا کے لیے کی ہو گی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیعت ہوتی ہی اُمور دین کے لیے، اور دنیا اس کے تابع ہے۔

مقصود خلافت سے اللہ تعالیٰ کی دین کی حفاظت کرنا ہے۔

اس لیے امام وقت کی تقلید اور بیعت کو جائز کہنا اور امام معین کی تقلید اور اتباع کو ناجائز کہنا ظلم عظیم ہے۔ جب پہلی چیز جائز ہے تو دوسری چیز بھی جائز ہے۔

دوسری حدیث

حضرت حذیفہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ  نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ میں کب تک تم میں زندہ رہوں گا، لہذا:

فَاقْتَدُوا بِالَّذِينَ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا 

(ترمذی جلد 2، صفحہ: 207؛ ابن ماجہ صفحہ: 10؛ مشکوۃ المصابیح صفحہ: 560)

تم میرے بعد ابو بکر اور عمر رضی الله عنہما کی اقتداء کرنا۔

اس حدیث کی امام ترمذیؒ تحسین اور فن رجال میں مہارت تامہ رکھنے والے علامہ ذہبیؒ (تلخیص المستدرک جلد 2، صفحہ: 75 میں) تصحیح کرتے ہیں۔

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ آپ ﷺ  نے تمام حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حضرت ابوبکر  ؓاور حضرت عمر  ؓکی اقتداء کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔

اور "مِنْ بَعْدِي" سے مراد ان کا زمانہ خلافت ہے۔

اور پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ بیک وقت اسلام دو خلیفوں کو تسلیم نہیں کرتا۔

تو واضح طور پر معلوم ہوا کہ عہدِ ابوبکر میں حضرت ابوبکر  ؓ  کی اقتداء اور عہدِ عمر میں حضرت عمر ؓ  کی اقتداء کی جائے، اور یہی تقلید شخصی ہے، اگر چہ ایک معین زمانہ تک ہی سہی۔

تیسری حدیث

آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا:

رَضِيتُ لَكُم مَا رَضِيَ لَكُمُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ (مستدرک جلد 2، صفحہ: 219)

میں تمہارے لیے اس چیز پر راضی ہوں جس چیز کو تمہارے لیے عبداللہ بن مسعود b  پسند کریں۔

اگر تقلید شخصی شرک ہوتی تو آپ ﷺ  حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ  کی تخصیص کیوں فرماتے؟ ان ہی کی اطاعت اور پیروی پر آمادہ نہ کرتے؟

حضرات! یہی وہ عبداللہ بن مسعود ؓ  ہیں جن کے افعال اور اقوال پر فقہ حنفی کی عمارت قائم کی گئی۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓجس چیز پر راضی ہوں اس پر آپ ﷺ بھی راضی ہیں۔

اور آپ ﷺ جس پر راضی ہو ناممکن ہے کہ پروردگار عالم اس پر ناراض ہو۔

تو نتیجہ نکلا کہ خدا تعالیٰ اور آپ ﷺ  کی رضا حضرت عبد اللہ بن مسعود   ؓ پر تھی۔ اور ان کے اقوال اور افعال پر فقہ حنفی کی عمارت قائم ہے۔

تو آپ حضرات کو مخزنِ فقہ حنفی حضرت عبد الله بن مسعود ؓ  اور اس فقہ کے معلم اور استاد حضرت امام ابو حنیفہؒ کے سامنے اپنی شکست کا اقرار کرنا چاہیے، گو:

ضروری تو نہیں کہ دیں لبوں سے داستان اپنی،

زبان اک اور بھی ہوتی ہے اظہار تمنا کی

چوتھی حدیث

حضرت جبیر بن مطعم  ؓسے روایت ہے کہ:

ایک عورت آپ ﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور آپ سے کوئی چیز دریافت کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پھر کسی وقت آنا (آپ اس وقت بیمار تھے)۔ اس عورت نے عرض کی کہ اگر میں پھر کسی وقت آؤں اور آپ کو نہ پاؤں (یعنی اگر آپ کی وفات ہو جائے) تو پھر کیا کروں؟

آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا اس عورت کے جواب میں:

فَأْتِيْ أبَا بَكْرٍ 

(بخاری جلد 2، صفحہ: 516 و مسلم جلد 2، صفحہ: 273 و مشکوۃ جلد 2، صفحہ: 555)

کہ تو ابوبکر   ؓکے پاس آنا۔

دو باتیں ظاہر ہوئیں:

1۔ حضرت ابوبکر   ؓ کی خلافت اس سے ثابت ہوئی۔

2 ۔تقلید شخصی بھی اس سے ثابت ہوئی۔ اس لیے کہ آپ ﷺ یوں بھی فرما سکتے تھے کہ آپ جس کے پاس مرضی جاؤ اور جس سے تمہارا جی چاہتا ہے پوچھ لینا۔حضرت ابوبکر ؓ  ہی سے سوال کرنے اور پوچھنے کی تلقین آپ نے کیوں کی؟ اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی آدمی سے مسئلہ پوچھنا نہ شرک فی الرسالت ہے اور نہ ہی گناہ۔بالفاظ دیگر غیر منصوص مسائل میں تقلید شخصی نہ شرک ہے اور نہ ہی گناہ۔ اختصار کی وجہ سے بہت سے دلائل کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

تَمَّتْ هَذِهِ الرِّسَالَةُ بِعَوْنِ اللَّهِ وَنَصْرِهِ۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...