نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلیدی زندگی علامہ ابن تیمیہ سے مطلق تقلید کا جواز



علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلیدی زندگی 

علامہ ابن تیمیہ سے مطلق تقلید کا جواز 

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"

 مفتی رب نواز حفظہ اللہ ، احمدپور شرقیہ 


علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ بَلْ غَایَتُه مَا یُقَالُ اِنَّه یَسُوْغُ اَوْ یَنْبَغِیْ اَوْ یَجِبُ عَلَی الْعَامِیْ اَنْ یُّقَلِّدَ وَاحِدًا لَا بِعَیْنِه مِنْ غََیْرِ تَعُیُّنِ زَیْدٍ وَلَا عَمْر وٍ ۔ ( مجموع فتاویٰ :۲۲؍۲۴۹)

شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد نے اس کا ترجمہ یوں کیا : 

’’زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عامی کے لئے زید و عمرو کے تعین کے بغیر کسی ایک غیرمعین کی تقلیدجائز،بہتریا واجب ہے۔ ‘‘ 

( بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم صفحہ ۳۰)

 علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ وَُهنَا یَنْبَغِیْ تَقْلِیْدُ اَحْمَدَ بِقَوْلِه اَلطَّلَاقُ وَ الْعِتَاقُ لَیْسَا مِنَ اْلاِیْمَانِ ، یہاں (امام ) احمد کے قول طلاق اور عتاق ایمان میں سے نہیں ، کی تقلید مناسب ہے۔ ‘‘ 

( فتاویٰ ابن تیمیہ :۳۵؍۲۸۵)

جناب فیض اللہ ناصر غیرمقلد نے فتاوی ابن تیمیہ ۲۲؍۲۴۹ کے حوالہ سے لکھا:

’’ تقلید تو ایسے شخص پر واجب ہے جو عامی (جاہل ) ہو اور وہ بھی بغیر تعیین ِ امام کے۔ عامی کے لیے بھی اس لیے کہ وہ حدیث کے مطالب و مفاہیم کی معرفت سے قاصر ہوتا ہے ۔ ‘‘ 

(ماہ نامہ ’’الاحیاء لاہور اگست؍۲۰۱۲ء مطابق رمضان ؍۱۴۳۳ھ صفحہ ۴۶) 

ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ علامہ ابن تیمیہ کے قول میں یا تیسری قسم میں عوام کی تقلید کا جو ذِکر آیا ہے ۔ درحقیقت یہ اتباع ہے کیوں کہ عامی نے اس وقت : ’’ فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون یعنی جاننے والوں سے پوچھ لو اگر تمہیں علم نہیں ۔‘‘ کے حکم پر عمل کیا لیکن اگر اصطلاحی طور پر اس کا نام تقلید ہی رکھا جائے تو کوئی حرج نہ ہونا چاہیے ۔ ‘‘ 

( تقلید کا حکم صفحہ ۵۴) 

علامہ ابن تیمیہ کی طرف سے اقراری مقلد ہونے کاثبوت 

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ فَاِنِّیْ قَدْ کَتَبْتُ مَنْسِکًا فِیْ اَوَائِلِ عُمْرِیْ فَذَکَرْتُ فِیْهِ اَدْعَیًَة کَثِیْرَۃً وَّ قَلَّدْتُّ فِی الْاَحْکَامِ مَنْ اتَّبَعْتُه قَبْلِیْ مِنَ الْعُلَمَآءِ وَکَتَبْتُ فِیْ َهذَا مَا تَبَیَّنَ لِیْ مِنْ سُنَِّة رَسُوْلِ اللَّٰه صَلَّی اللِّٰه عَلَیَْه وَسَلَّمَ ۔‘‘

(فتاویٰ ابن تیمیہ :۲۶؍۹۸)

بلاشبہ میں نے اپنی ابتدائی عمر میں منسک پر کتاب لکھی تھی اس میں بہت سی دعائیں ذکر کی تھیں اور احکام میں اپنے سے پہلے والے علمائے متبوعین کی تقلیدکی تھی اور اب اس (کتاب ) میں وہ لکھا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے معلوم ہوا۔ 

علامہ ابن تیمیہ کے’’ حنبلی مقلد‘‘ ہونے پر غیرمقلدین کی گواہیاں 

پاک و ہند کے غیرمقلدین بھی حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو حنبلی مقلد تسلیم کرتے ہیں ۔ اس پر غیرمقلدین کی گواہیاں نقل کرتے ہیں ۔مگر اس سے پہلے یہ بھی جانتے چلیں کہ اُن کے والد محترم بھی ’’حنبلی المسلک ‘‘ مقلد تھے ۔ 

چنانچہ صفی احمد مدنی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے والد محترم نامور عالم شہاب الدین عبد الحلیم ابن تیمیہ عالم و محدث حنبلی فقیہ اور صاحب ِ درس و افتاء تھے ۔ ‘‘ 

( مقدمہ العقیدۃ الواسطیة صفحہ۵ ، ترجمہ و حواشی صفی احمد مدنی ، ناشر: شریف غالب بن محمد الیمانی اسلامک ریسرچ اکیڈمی )

یعنی علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ حنبلی گھرانہ کے فرد ہیں۔اُن کے والد کا مسلک جان لینے کے بعد اَب خود ابن تیمیہ کے مقلد ہونے پہ حوالہ جات ملاحظہ ہوں ! 

مولانا ابو الاشبال شاغف غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ ابن تیمیہ نے اگر اس روایت پر جرح کی ہے تو ان کی یہ جرح مقبول نہیں بلکہ مردود ہے کیوں کہ ان کے امام جن کی وہ تقلیدکرتے ہیں یعنی امام احمد بخاری شریف کی صحت کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ‘‘

 ( مقالات ِشاغف صفحہ ۳۵۲)

مولانا محمد اسماعیل سلفی غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ امام ابن تیمیہ کی حنبلیت۔ ‘‘ 

( تحریک آزادی ٔ فکر صفحہ ۲۳۱)

سلفی صاحب ہی لکھتے ہیں:

’’ علامہ مرغینانی صاحبِ ہدایہ ، کاسانی مولف بدائع والصنائع اور علامہ سرخسی ، قاضی خان، نسفی ابن قدامہ ، ابن تیمیہ ، علامہ ابو اسحاق ، ابراہیم بن علی بن یوسف صاحب مہذب، اسی طرح زرقانی اور باجی، ابن رشد، شاطبی وغیرہم سب اپنے ائمہ کے مذاہب کو روایت اور درایت کی روشنی میں ثابت کرتے ہیں ان کے طریق استدلال سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کے محقق ہونے میں شبہ نہیں کیاجا سکتا ۔‘‘ 

( تحریک آزادئ فکر صفحہ ۱۹۸)

مولانا فضل حسین بہاری غیرمقلد ، میاں نذیر حسین دہلوی کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:

’’ شیخ ابن تیمیہ اور شیخ ابن قیم کے تذکرہ پر فرماتے ہیں کہ باوجود اس تبحر علمی کے ذرا سی رسی حنبلیت کی لگی رہ گئی ہے ۔‘‘ 

( الحیات بعد الممات صفحہ ۳۷۲)

اسی طرح کی بات مولانا محمد اسحاق بھٹی غیر مقلد نے میاں نذیر حسین دہلوی کے حالات میں لکھی، بھٹی صاحب کے الفاظ یہ ہیں: 

’’ وہ امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کے بہت مداح ہیں اور ان سے استفادہ فرماتے ہیں لیکن ساتھ ہی فرماتے ہیں اس تبحر علمی کے باوجود ذرا سی رسی حنبلیت کی لگی رہ گئی ہے ۔ ‘‘ 

 ( دبستان حدیث صفحہ ۸۳)

غیرمقلدین کے ’’خاتم المحدثین ‘‘نواب صدیق حسن خان نے حافظ ابن تیمیہ کو ’’شیخ الحنابلۃ ‘‘ لکھا ہے ۔ 

(الجُنّة فی اسوۃ الحسنة بالسنة صفحہ ۳۸ ) 

غیرمقلدین کی کتاب میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے متعلق لکھاہے : 

’’ افضل علماء حنابلہ میں سے تھے ۔ ‘‘ 

( مآثر صدیقی حصہ سوم صفحہ ۱۵۱)

غیرمقلدین کے رسالہ صحیفہ اہلِ حدیث میں لکھا ہے :

’’ شیخ عبد القادر جیلانی حنبلی مسلک کے پیرو تھے ، فقہ اسلام کے چاروں مسالک میں سے حنبلی مسلک کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ یہ توحید باری تعالیٰ کے تنزیہی تصور پرمضبوط اعتقاد رکھنے کی تعلیم دیتا ہے ، اس مسلک کے ماننے والوں میں امام ابن تیمیہ ، امام جوزی اور شیخ عبد القادر جیلانی عالم اسلام کے درخشندہ ستارے ہیں ، اگرچہ اہلِ تصوف نے شاہ عبد القادر جیلانی کو سلسلہ صوفیاء میں شمار کیا ہے لیکن ان کی کتاب غنیۃ الطالبین حنبلی فقہ کی کتاب ہے۔ ‘‘ 

 ( صحیفہ اہلِ حدیث :۱۶؍ربیع الثانی ۱۳۹۰ھ صفحہ ۱۸) 

آلِ غیرمقلدیت کے پرچہ میں’’مکتوبات شاہ ولی اللہ ‘‘ کے حوالہ سے حافظ ابن تیمیہ کو’’ حنبلی مذہب کے اصول و فروع کے تنقیح کنندہ محقق ‘‘ لکھا ہے۔

 ( الاعتصام اشاعتِ خاص بیاد بھوجیانی صفحہ ۶۸۸)

شیخ ابو زکی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’امام ابن تیمیہ حنبلی مسلک کے پیرو کار تھے لیکن بعض مسائل میں فقہ حنبلی سے اختلاف بھی رکھتے تھے۔‘‘ 

( فقہی مسلک کی حقیقت صفحہ ۱۳۸)

 علامہ عبد الرشید عراقی غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ جہاں تک امام ابن تیمیہ کا تعلق ہے انہوں نے بیشتر مسائل میں امام احمد بن حنبل ( م ۲۴۱ھ) کے مذہب و اصول پر فتویٰ دیا ہے ۔ ‘‘ 

( کاروانِ حدیث صفحہ ۲۷۲)

 عراقی صاحب نے حافظ محمد گوندلوی کے تذکرہ میں لکھا: 

’’ مدینہ منورہ کے قیام کے دَوران آپ سے دریافت کیا گیا کہ امام ابن تیمیہ ؒ اور حافظ ابن حجر عسقلانی میں سے کس کو دوسرے پہ فضیلت حاصل ہے ؟ حافظ صاحب نے فرمایا : علوم عقلیہ میں امام ابن تیمیہ ؒ ابن حجرؒ سے زیادہ عالم ہیں اور علوم نقلیہ بمثل اسماء الرجال ،تاریخ، اصول حدیث، جرح و تعدیل ، نقد و نظر کے اعتبار سے ابن حجرؒ امام ابن تیمیہ ؒ پر فوقیت رکھتے ہیں ۔ امام ابن تیمیہ ؒ حنبلی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور حافظ ابن حجرؒ شافعی مذہب سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں حنبلی مسلک کے طلباء کی اکثریت تھی، اس لئے ان کو حافظ صاحب کی یہ بات ناگوار گزری چنانچہ یہ بات رئیس الجامعہ شیخ ابن باز ؒ تک پہنچی تو انہوں نے اس سلسلہ میں حافظ صاحب کو محاضرے کو دعوت دی ۔ سامعین میں جامعہ اسلامیہ کے اساتذہ و طلباء اور کئی علمی شخصیات موجود تھیں ۔ حضرت العلام حافظ نے ساڑھے تین گھنٹے مفصل و مدلل بحث فرمائی، محاضرہ کا موضوع ایمان تھا ۔ آپ نے امام ابن تیمیہ ؒ اور ابن حجر ؒ کی تصانیف سے عبارتیں پیش کیں اور اس کے بعد ان کا تقابل کرکے اپنے موضوع کو ثابت کرنے کا حق ادا کر دیا ۔ ‘‘ 

( چالیس علمائے اہلِ حدیث صفحہ ۳۴۹)

مسئلہ تراویح میں کسی حنفی نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا حوالہ دیا تومولانا بدیع الدین راشدی غیرمقلداس سے یوں مخاطب ہوئے: 

’’ آپ نے ان کو چھوڑ کر ابن تیمیہ کا سہارا کیوں لیا؟ اور حنفی گھر چھوڑ کر حنبلی جنگل میں کیوں چھپ رہے ہو؟۔‘‘ 

( تصحیح آٹھ رکعت تراویح صفحہ ۳۷)

مذکورہ عبارت میں ’’ حنبلی جنگل ‘‘ لفظوں پہ غور رہے ۔ 

شیخ محمد عارف اثری غیرمقلد (مدرس بحرالعلوم السلفیة میر پور خاص سندھ ) نے شیخ بدیع الدین راشدی غیرمقلد کی کسی کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا: 

’’اس کے بعد شاہ صاحب نے حنابلہ کے چوٹی کے علماء کا ذِکر کیا ہے ۔(۱) امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (۲)امام ابن القیم ....‘‘

(مجلہ بحر العلوم میر پور خاص ،شیخ العرب والعجم نمبرصفحہ ۴۴۰) 

میاں محمد خالد انصاری بھوپالی غیرمقلد نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھا: 

’’ آپ کے مسلک کے مطابق متاخرین میں علامہ ابن تیمیہ و شمس الائمہ امام ابن قیم رحمہما اللہ کے وجود مقدس ممتاز ترین ہیں ۔‘‘

( سیرت امام شافعی صفحہ ۳۳۱بحوالہ علمائے اہلِ حدیث کا ذوقِ تصوف صفحہ ۱۸۵)

مولانا محمد جونا گڑھی غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’بعض حنبلی حضرات بھی اسی کے قائل ہیں جیسے کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ ۔ ‘‘ 

 ( نکاح محمدی صفحہ ۲۰،ناشر اہل حدیث اکیڈمی مؤ ناتھ بھنجن یوپی)

شرح عقیدہ واسطیہ میں ’’ عقیدہ کے مؤلف کا مختصر تعارف ‘‘ عنوان کے تحت لکھا ہے : 

’’ ابن تیمیہ جو باعتبار شہر ’’ الحرانی ‘‘ اورباعتبار مسلک ’’ حنبلی ‘‘ ہیں ۔ ‘‘ 

( شرح عقیدہ واسطیہ سوالا وجوابا صفحہ ۱۰، ترتیب وتسہیل الشیخ عبد العزیز الحمد السمان ، ترجمہ محمد اختر صدیق ، طبع مکتبہ اسلامیہ )

حکیم فیض عالم صدیقی غیر مقلد لکھتے ہیں: 

’’ امام ابن تیمیہ حنبلی کہتے ہیں۔ ‘‘ 

( اختلاف ِ امت کا المیہ صفحہ ۴۸)

حافظ سید رشید احمد ارشد (ایم اے ) اپنے مضمون ’’ شیخ ابن کثیر اورا ُن کی تفسیر ‘‘ میں لکھتے ہیں: 

’’ کثرت تصنیف و تالیف کی وجہ سے آخر عمر میں آپ کی بینائی جاتی رہی تھی ۔ آپ شافعی المذہب تھے مگر امام ابن تیمیہ کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے بعض دفعہ حنبلی مسلک پر بھی عمل کرتے تھے۔ ‘‘ 

( ہفت روزہ اہلِ حدیث لاہور ۱۹؍ ستمبر ۱۹۸۰ء صفحہ ۸) 

ہفت روزہ اہلِ حدیث کی اس عبارت کے مطابق علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایسے حنبلی المسلک تھے کہ ان کی وجہ سے دوسرے پر حنبلیت کا اثر پڑا ۔ 

ڈاکٹر عبدا لکبیر محسن (پروفیسر آف عربی گورنمنٹ اصغر مال کالج راولپنڈی ) لکھتے ہیں: 

  ’’ وہ تو خود حنبلی تھے لیکن میں نے ہمیشہ انہیں تمام دیگر مسالک اہلِ سنت ، شافعیہ ، مالکیہ اور حنفیہ کی آراء کا احترام سے ذِکر کرتے ہی پایا ہے ۔ائمہ مشائخ اور اکابرین کا ذِکر نہایت توقیر و اکرام سے کرتے ہیں اور عموماً ان کے اسمائے گرامی کے ساتھ رحمہم اللہ اور بسا اوقات رضی اللہ عنہم لکھتے ہیں ۔ ‘‘ 

 (مقدمہ مترجم ، فتاویٰ ابن تیمیہ مترجم جلد ۱۰ صفحہ ۶)

مولانا محمد یحی گوندلوی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’قاضی مالکی نے ساتھ ہی کہا کہ جو آدمی ابن تیمیہ کے عقائد کو قبول کرے گا ، اسے موت اور ضبط جائیداد کی سزا دی جائے گی ۔ اس حکم کی ایک نقل نائب دمشق کو بھی بھیجی جسے شیخ شمس الدین محمد بن شہاب حنبلی ( ۷۲۷ھ ) نے جامع مسجد دمشق میں پڑھ کر سنایا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ حکم سنتے ہی سزا سے ڈر کر بہت سے حنابلہ نے شوافع ہونے کا اعلان کر دیا ۔ ‘‘ 

( مقلدین ائمہ کی عدالت میں صفحہ ۲۲۷، ادارہ مطبوعاتِ سلفیہ راولپنڈی، طبع خامس :۲۰۰۲ء)

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر غیرمقلد نے ’’قرآن مجید میں مجاز کا استعمال‘‘ عنوان قائم کرکے لکھا :

’’مالکیہ میں ابن خویز منداد ، شوافع میں سے ابن القاص ، حنابلہ میں سے ابن حامد ، ابوالحسن 

التمیمی ، ابن تیمیہ ، ابن قیم ، ظاہریہ میں سے ان کے امام داود ظاہری رحمہم اللہ قرآن مجید میں مجاز کا انکار کیا ہے کہ قرآن کل کا کل حق ہے اور حق وہی ہے جو حقیقت ہے ۔ ‘‘ 

( مقالات عقیدہ اور منہج صفحہ۲۵۱ ، دار الفکر الاسلامی لاہور ، طبع اول : جنوری ؍۲۰۲۵ء) 

 مولانا اللہ بخش ملتانی صاحب غیرمقلد نے حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے متعلق کہا: 

’’ سلف و خلف میں ان کی نظیر نہیں‘‘

حوالہ پہلے گزر چکا ۔حالاں کہ وہ مقلد ہیں،جب کہ غیرمقلدین تقلید کو بنیادی اختلاف کہتے ہیں ۔

چنانچہ آلِ غیرمقلدیت کے لکھاری فضل اکبر کشمیری لکھتے ہیں:

’’ اہلِ حدیث کا آلِ تقلید کے ساتھ ایمان ، عقائد او راصول کے بعد ایک بنیادی اختلاف مسئلہ تقلید شخصی پر ہے ۔ ‘‘ 

( پیش ِ لفظ دین میں تقلید کا مسئلہ صفحہ ۴)

آلِ غیرمقلدیت کے ایک اور سپو ت شیخ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:

’’ اہلِ حدیث اور اہلِ تقلید کے درمیان ایک بنیادی اختلاف مسئلہ تقلید ہے ۔ ‘‘

( دین میں تقلید کا مسئلہ صفحہ ۷)

مولانا محمد یحی گوندلوی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’مسئلہ تقلید اہلِ حدیث اور اہلِ تقلید کے درمیان ایک اصولی حیثیت رکھتا ہے ۔ ‘‘ 

(ابتدائیہ مقلدین ائمہ کی عدالت میں صفحہ ۶، ادارہ مطبوعاتِ سلفیہ راولپنڈی، طبع خامس : ۲۰۰۲ء)

 علامہ ابن تیمیہ کی تقلید میں تین کو ایک کہا گیا 

مولانا عمر فاروق سعیدی غیرمقلد نے شیخ البانی غیرمقلد کے حوالہ سے لکھا: 

’’ مصر اور شام وغیرہ میں جب اس حکم کو قانون بنایا گیا تو اتباع سنت اور احیائے سنت کی غرض سے نہیں بلکہ بربنائے مصلحت اور ابن تیمیہ کی تقلید میں ایسا کیا گیا ہے۔ ‘‘ 

(شرح ابو داود:۲؍ ۶۸۲) 

سعیدی صاحب نے مصر وشام والوں کو علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کا طعنہ دے دیا مگر یہ نہیں بتایا کہ پاک و ہند کے اہلِ حدیث کہلوانے بھی چُھپ چُھپ کر علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کیاکرتے ہیں۔ ثبوت کے لیے آگے آنے والا عنوان’’ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مقلدین ‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔

 علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مقلدین 

اہلِ حدیث کہلوانے والوں کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ یہ مسئلہ تین طلاق میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتے ہیں۔مولانا داود ارشد غیرمقلد نے اس کی تردید کرتے ہوئے لکھا: 

’’ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ ‘‘ 

( تحفہ حنفیہ صفحہ ۴۸۲) 

  داود صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اہلِ حدیث ہونے کے دعوے دار اپنے علما ء کے اعتراف کے مطابق حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کیا کرتے ہیں۔ثبوت حاضر ہیں ۔

غیرمقلدین کی کتاب میں لکھا ہے : 

’’ بعض علمائے اہلِ حدیث امام ابن تیمیہ ؒ اور امام ابن قیم ؒ سے اتنا متاثر ہیں کہ ان کے خیالات کو مقلدانہ طور پر مانتے ہیں۔ ‘

‘ ( تذکرہ حافظ محمد گوندلوی صفحہ ۱۱۹ مرتب شاہد فاروق ناگی ) 

شیخ عنایت اللہ اثری غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ غزنوی بزرگ خصوصاًاور دیگر اہلِ حدیث عموما ً امام ابن تیمیہ کی عملاً تقلید کیا کرتے ہیں۔ ‘‘ 

( العطر البلیغ صفحہ ۱۵۹ مشمولہ رسائل اہلِ حدیث جلددوم )

امام آلِ غیرمقلدیت وحید الزمان لکھتے ہیں:

’’ بعضے اہلِ حدیث ایسے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ؒ اور شافعیؒ کی تقلید سے بھاگے لیکن ابن تیمیہ اور ابنِ قیم اور شوکانی اور مولوی اسماعیل دہلوی اور نواب صدیق حسن خان مرحوم کی تقلید اندھا دھند کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے فَرَّ مِنَ الْمَطَرِ وَ قَامَ تَحْتَ الْمِیْزَابِ ‘‘ 

( لغات الحدیث ۱؍۲۱ ، د خ)

’’فَرَّ مِنَ الْمَطَرِ وَ قَامَ تَحْتَ الْمِیْزَابِ ‘‘ کا ترجمہ یہ ہے : بارش سے بھاگا اور پرنالہ کے نیچے کھڑا ہوگیا ۔ 

وحید الزمان صاحب اپنے اہلِ حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’ حرمتِ سماع اورمزامیر میں ابن تیمیہ اور ابن قیم کے مقلدبن جاتے ہیں ...عجیب بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی اور علماء سلف کی نسبت تو کہتے ہیں کہ وہ معصوم عن الخطا نہ تھے انہوں نے بہت سے مسائل میں خطا کی اور جب یہ کہو کہ ابن تیمیہ یا ابن قیم یا شاہ ولی اللہ یا مولانا اسماعیل یا قاضی شوکانی یانواب صدیق حسن خان مرحوم نے اس مسئلہ میں خطا کی تو فورا کان کھڑے کرکے چراغ پا ہو جاتے ہیں گویا ان متاخرین کو معصوم عن الخطا سمجھتے ہیں یہ تو وہ مثال ہے فَرَّ مِنَ الْمَطَرِ وَ قَامَ تَحْتَ الْمِیْزَابِ ‘‘ 

( لغات الحدیث :۲؍۱۵۰، س )

 وحیدالزمان صاحب لکھتے ہیں:

’’ ہمارے اہلِ حدیث بھائیوں نے ابن ِ تیمیہ اور ابن قیم اور شوکانی اور شاہ ولی اللہ صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید نور اللہ مرقدہم کو دین کا ٹھیکے دار بنا رکھا ہے جہاں کسی مسلمان نے ان بزرگوں کے خلاف کسی قول کو اختیار کیا بس اس کے پیچھے پڑگئے ، برا بھلا کہنے لگے ۔ بھائیو! ذرا تو غور کرو اور انصاف سے کام لو جب تم نے امام ابوحنیفہ اور شافعی کی تقلید چھوڑی تو ابن تیمیہ اور ابن قیم اور شوکانی جواُن سے متاخر ہیں ان کی تقلید کی کیا ضرورت ہے ؟‘‘

(لغات الحدیث ۲؍۱۲ صب)

 وحید الزمان صاحب دوسری کتاب میں لکھتے ہیں:

’’ اس وقت میں جو ایک جماعت اہلِ حدیث کہلاتی ہے وہ باوجود دعویٰ اتباع سنت کبھی کبھی اپنے علماء جیسے ابن تیمیہ ،شاہ ولی اللہ اور شوکانی اورمولانا اسماعیل شہید ہیں ایسے مقلد بن جاتے ہیں کہ ان کی رائے کے خلاف دلیل بیان کرنے والے کی دلیل نہیں سنتے ۔‘‘

 ( تیسیرا لباری :۶؍۴۹۹طبع نعمانی کتب خانہ ) 

وحید الزمان صاحب آلِ غیرمقلدیت کی تصریحات کے مطابق ’’ اہلِ حدیث ‘‘ تھے ۔حوالہ جات کے لیے بندہ کی کتاب ’’ زبیر علی زئی کا تعاقب ‘‘ حاشیہ : ۹۸ وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔

داود ارشد صاحب بھی وحید الزمان کو اہلِ حدیث مانتے ہیں۔ ( تحفہ حنفیہ صفحہ ۳۰۴، دین الحق: ۱؍۶۸۰) 

نیز داود صاحب نے علامہ وحید الزمان کو اپنے اسلاف میں شمار کیا ہے ۔ ( حدیث اور اہلِ تقلید :۱؍۱۶۲)

اہلِ حدیث کو کسی نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مقلد کہا تو داو د صاحب اسے فورا ً جھوٹ کہنے لگ گئے۔ جب کہ ان کے اپنوں نے بھی ڈنکے کی چوٹ اہلِ حدیث کو علامہ ابن تیمیہ کا مقلد کہہ دیا ہے اَب دیکھتے ہیں کہ داود صاحب اپنے غیرمقلدین کے متعلق کیا فیصلہ کرتے ہیں ؟؟ 

فتوائے تکفیر میں علامہ ابن تیمیہ کی تقلید 

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر غیرمقلدنے ڈاکٹر اسرار صاحب کے نظریہ وحدۃ الوجود پہ بحث کرتے ہوئے آخر میں لکھا: 

’’رہے وہ لوگ [ شیخ زبیر علی زئی وغیرہ آلِ غیرمقلدیت (ناقل )] جو ڈاکٹرصاحب کی توجیہ و تاویل کی بنا پر ان کے ایمان کی نفی کرتے ہیں تو ان کے ضمن میں خیال رہے کہ اولاً: انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے پیش کردہ نظریے کو درست طور پر سمجھا ہی نہیں ، جبھی تو وہ انہیں شیخ ابن عربی کا ہم خیال گردانتے ہوئے تکفیر سے نیچے کی بات ہی نہیں کرتے بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ انہوں نے شیخ ابن عربی کو بھی نہیں سمجھا اور وہ محض شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید میں شیخ ابن عربی پر فتوے لگاتے ہیں، ورنہ شیخ ابن عربی کی دقیق عبارتیں سمجھنا ان کے بس سے باہر ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ کل کا کل فلسفہ ہے اور آج کل علماء کا فلسفے کاذوق اور مطالعہ نہ ہونے کے برابر ہے ،لہذا انہیں فلسفیانہ مباحث سمجھ ہی نہیں آتے کہ اس فن کی بنیادی اصطلاحات سے ہی واقف نہیں ہیں ۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ ایک عالم دین فلسفے کا عالم نہیں ہے ،تو وہ عالم دین پھر بھی کہلائے گا کہ اس اِس سے اُس کے عالم دین ہونے کی نفی لازم نہیں آتی ۔ ہم تو صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ عالم دین ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ وہ فلسفہ کا بھی عالم ہو ۔ اوریہی معاصر سلفی علماء کی کمی ہے کہ فلسفے کا علم بھی حاصل نہیں کرتے اور فلسفیانہ مباحث میں سطحی بحثیں کرکے یہ توقع رکھتے ہیں کہ لوگ ان کی بات کو قبول کریں تو یہ ممکن نہیں ہے ۔ مولانا حنیف ندوی رحمہ اللہ اس سلسلے کی آخری کڑی تھے جواِن مسائل کو سمجھتے تھے ۔ اور اَب تو ان کو سمجھنے والے بھی نہیں رہے ۔‘‘

 ( مقالات عقیدہ اور منہج صفحہ ۱۱۰ ، دار الفکر الاسلامی لاہور ، طبع اول : جنوری ؍۲۰۲۵ء)

ڈاکٹر صاحب نے اس عبارت میں تسلیم کیا ہے کہ سلفی علماء نے شیخ ابن عربی پر فتوی تکفیر(کفر کا فتوی ) لگانے میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید کی ہے ۔ اور اہلِ علم جانتے ہیں کہ کسی فروعی مسئلہ میں تقلید کی بہ نسبت فتوائے تکفیر میں تقلید کرنا کئی گنا بھاری ہے ۔ مگر مدعیان اہلِ حدیث نے یہ بھاری تقلید پہ قبول کر لی ۔ پھر صرف اسی پہ بس نہیں خود ڈاکٹر صاحب نے اس بھاری تقلید کرنے کی اجازت دے دی ہے جیسا کہ ’’ علامہ ابن تیمیہ کی تقلید کرنے کی اجازت ‘‘ عنوان کے تحت آرہا ہے ان شاء اللہ ۔ 

فتوائے تکفیر میں علامہ ابن تیمیہ کی تقلید کرنے کی اجازت 

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’جس فن میں آپ نقد کرنے بیٹھے ہیں ، پہلے اس کی ابجد سے تو واقف ہو جائیں ورنہ تو آپ کی نقد اہلِ فن کے نزدیک مذاق بن کر رہ جائے گی ۔ اگر آپ کو متعلقہ فن میں درک حاصل نہیں ہے یعنی فلسفہ اورکلام میں تو پھر آپ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تقلید میں شیخ ابن عربی پر نقد کر لیں ،اس میں بھی حرج نہیں ۔ لیکن جو آپ نہیں ہیں یعنی فلسفہ و کلام کے ماہر تو برائے مہربانی بتکلف وہ بننے کی کوشش نہ کریں ۔ صرف اپنے بڑوں کی تقلید میں ان کا کالم نقل کر دیا کریں اور ان پر اعتماد کا اظہا ر کر دیا کریں ۔ ‘‘ 

( مقالات عقیدہ اور منہج صفحہ ۸۳ ، دار الفکر الاسلامی لاہور ، طبع اول : جنوری ؍۲۰۲۵ء)

علامہ ابن تیمیہ کی رائے پہ فتوی 

غیرمقلدین کے رسالہ الاعتصام میں میاں محمد جمیل ( پرنسپل ابوہریرہ شریعہ کالج لاہور ) کا مضمون ’’ حج اور اس کے مسائل ‘‘ شائع ہوا ۔ اس میں انہوں نے ایک مقام پر لکھا: 

’’ جس عورت کو طوافِ زیارہ سے قبل حیض آ جائے ور اس کے لئے پاک ہونے تک وہاں ٹھہرنا ممکن نہ ہو۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے میں وہ اسی حالت میں طواف کر لے کیوں کہ اس کی مجبوری ہے۔ (بحوالہ فتاوی ارکان اسلام اَز علامہ العثیمین ، ص : ۵۳۱) طوافِ زیارہ سے فارغ ہو کر واپس منی پہنچنا ہے ۔‘‘

( ہفت روزہ الاعتصام لاہور ، ۸ ؍ذی قعدہ ۱۴۴۰ھ صفحہ ۱۸)

 کچھ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کے متعلق

حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگردوں میں علامہ ذہبی رحمہ اللہ بھی ہیں مگر وہ نواب صدیق حسن خان اور مولانا شرف الدین دہلوی کی تصریح کے مطابق مسئلہ تین طلاق میں ان کے شدید مخالف تھے ۔

( التاج المکلل صفحہ ۲۸۸۔فتاویٰ ثنائیہ : ۲؍۲۲۰)

جیسا کہ ’’باب : ۵ ،سلف صالحین کا مسلک ‘‘میں ہم نقل کر چکے ہیں۔ 

البتہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ اس مسئلہ میں اپنے استاد کے حامی رہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا تذکرہ آیا ہے تو اس مسئلہ میں ان کے حامی شاگرد حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کے متعلق بھی کچھ باتیں عرض کر دیتے ہیں۔

 حافظ ابن قیم ؒ کے نزدیک تقلیدکرنے کی گنجائش ہے 

شیخ عبد العزیز بن باز( سعودی عرب) لکھتے ہیں:

’’ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بوقت ضرورت اس شخص کی تقلید کی گنجائش ہے جو علم و فضل اور استقامت عقیدہ میں معروف ہو جیسا کہ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب اعلام الموقعین میں بیان کیا ہے ۔ ‘‘ 

( مقالات و فتاویٰ صفحہ ۱۴۵)

حافظ ابن قیم ؒ کے نزدیک تقلیدکرنا ناگزیر ہے 

شیخ البانی لکھتے ہیں: 

’’حق یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ جو شخص معرفت دلیل سے عاجز ہے اسی پر تقلید واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔ اس کی تائید میں ابن قیم کا کلام بھی بحث کے آخر میں آرہا ہے جیسے کہ ایک عالم شخص بھی بعض اوقات بعض مسائل میں تقلید پر مجبور ہو جاتا ہے، بلکہ جب وہ اس مسئلہ میں اللہ و رسول کی طرف سے کوئی نص معلوم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور اس میں اپنے سے زیادہ صاحب علم کے قول کے سوا اسے کچھ نہ مل سکے تو مجبورا ً اس کی تقلید کرے گا جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے بعض مسائل میں کیا ہے، اسی لیے اما م ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ اہلِ علم کا عمل ہے اور واجب ہے ،تقلید مجبور و مضطر کے لیے مباح ہے۔‘‘ 

(حجیت ِ حدیث صفحہ ۷۶،مترجم حافظ عبد الرشید اظہر)

حافظ ابن قیم کے ہاں تقلید کی مناسب ترین صورت 

مولانا محمد اسماعیل سلفی غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ اگرمقلد قرآن ، حدیث کے خلاف مسائل چھوڑنے پر آمادہ ہو جائے تو یہ تقلید کی قابلِ برداشت اور مناسب ترین صورت ہے میاں [نذیر حسین دہلوی ( ناقل ) ]صاحب اور حافظ ابن قیم نے اسے گوارہ فرمایا ہے۔ ‘‘ 

( تحریک آزادی ٔ فکر صفحہ ۹۶۴) 

حافظ ابن قیم ؒ کے نزدیک تقلید کارِ ثواب ہے 

اوپر ملاحظہ فرما چکے کہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ حنبلی ہیں، ان کے نزدیک تقلید کرنے کی گنجائش ہے ، تقلید قابلِ برداشت چیز ہے ۔اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے نزدیک تقلید نہ صرف گنجائش اور برداشت کے درجہ کی چیز ہے بلکہ یہ کارِ ثواب ہے ۔ 

چنانچہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ خود ہی لکھتے ہیں:

’’وَاَمَّا تَقْلِیْدُ مَنْ بَذَلَ جُْهدَہٗ فِیْ اتِّبَاعِ مَااَنْزَلَ اللُّٰه وَخَفِیَ عَلَیِْه بَعْضُه فَقَلَّدَ فَیْه مَنْ ُهوَ اَعْلَمُ مِنُْه فَٰهذَا مَحَمُوْدٌ غَیْرُ مَذْمُوْمٍ وَمَاْجُوْرٌ غَیْرُماْزُوْرٍ۔

( اعلام الموقعین :۲؍۱۸۸ )

بہرحال جو شخص اللہ کے نازل کردہ کی اتباع میں کوشش خرچ کرتا ہے اور اس پر کچھ چیزیں مخفی رہ جائیں ان میں وہ اپنے سے زیادہ علم والے کی تقلید کرتا ہے تو ایسا شخص قابلِ تعریف ہے ،نہ کہ قابل مذمت۔اسے اجر دیا جائے گا، نہ کہ گناہ ہوگا۔

حافظ ابن قیم کے نزدیک فوت شدہ مجتہد کی تقلید راجح ہے 

وحید الزمان غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ وَلَایَجُوْزُ تَقْلِیْدُ الْمُجْتَِهدِ الْمَیِّتِ وَ حَکٰی بَعْضُُهمُ الْاِجْمَاعَ عَلَیِْه وَقِیْلَ یَجُوْزُ وَرَجَّحَُه الشَّیْخُ ابْنُ الْقَیِّمِ لِاَنَّ الْقَوْلَ لَایَمُوْتُ وَتَقْلِیْدُ السَّلَفِ لِاَقْوَالِ الصَّحَابَِة وَالتَّابِعِیْنَ تَدُلُّ عَلٰی جَوَازِہٖ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ مَنْ کَانَ مُتَّبِعًا فَلْیَسْتَنَّ بِمَنْ مَّاتَ ‘‘

(هدیة المهدی من الفقه المحمدی:۱۱۲ ) 

ترجمہ:اور فوت شدہ مجتہد کی تقلید جائز نہیں ہے اور بعض نے تو اس پر اجماع کی حکایت بیان کی ہے اور کہا گیا ہے کہ جائز ہے اس لیے کہ [مجتہد اگرچہ فوت ہو جاتا ہے مگر (ناقل)] اس کا قول تو فوت نہیں ہوتا اور اسے ابن قیم نے راجح قرار دیا ہے ۔اسلاف کا صحابہ و تابعین کی تقلید کرنا اس کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ اور ابن مسعود نے فرمایا: جوشخص اتباع کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ ان کی پیروی کرے جو فوت ہو گئے ہیں۔

 حافظ ابن قیم کا ہوبہو اپنے استاد کی پیروی کرنا 

نواب صدیق حسن خان غیرمقلدنے اپنے بزرگ قاضی شوکانی غیرمقلد سے حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کے متعلق نقل کیا: 

’’ وَغَلَبَ عَلَیْهٖ حُبَّ ابْنِ تَیْمِیَّة حَتّٰی کَانَ لَایَخْرُجُ عَنْ شَیْ ءٍ مِّنْ اَقْوَالهِٖ بَلْ یَنْتَصِرُ لَهٗ فِیْ جَمِیْعِ ذٰلِکَ ‘‘ ( التاج المکلل صفحہ ۴۱۸بحوالہ غیرمقلدین کی ڈائری صفحہ ۲۱۱)

ترجمہ: ان پر ابن تیمیہ کی محبت کا ایسا غلبہ تھا کہ وہ ان کے کسی قول سے باہر نہیں ہوتے تھے ، بلکہ ہرہربات میں وہ ان کی حمایت ہی کرتے تھے ۔ 

علامہ عبد الرشید عراقی غیر مقلد نے ان کے بارے میں لکھا:

’’ آپ نے تمام عمر کسی مسئلہ میں بھی شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ سے اختلاف نہیں کیا۔‘‘

( کاروانِ حدیث صفحہ ۳۰۸) 

غیرمقلدین یہاں اپنا تجزیہ پیش کریں۔ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا یہ طرز عمل تقلید ہے یا اجتہاد ؟ اگر تقلید ہے تو وہ سب سے بڑے مقلد ثابت ہوں گے کہ کسی ایک مسئلہ میں بھی اپنے مقتدا و استاد سے خروج نہیں کیا اور اگر ان کے عمل کو اجتہاد کا نام دیں تو سوال ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں کوئی ایک مجتہدایسا بتادیں جس کے سارے اجتہادی مسائل کسی دوسرے امام کے موافق ہوں، کیا ایسی کوئی ایک مثال پائی جاتی ہے ؟ 

 حافظ ابن قیم ؒحنبلی المسلک ہیں

مولانا محمد ابو القاسم بنارسی غیرمقلد لکھتے ہیں :

’’حافظ ابن قیم حنبلی المتوفی ۷۵۱؁ھ۔ ‘‘ 

(فتاوی ثنائیہ:۱؍۵۴۸، اسلامک پبلشنگ شیش محل روڈ لاہور)

مولانا ابو زکی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ امام ابن تیمیہ ، امام ابن قیم بھی مسلک کے لحاظ سے حنبلی تھے ۔محمد بن عبد الوہاب نجدی بھی حنبلی تھے ۔ حنبلی مسلک کے پیرو کار سعودی عرب میں موجود ہیں اور سعودی حکومت کا سرکاری مذہب بھی حنبلی ہے ۔‘‘ 

( فقہی مسلک کی حقیقت صفحہ ۷۲)

ایک صاحب نے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کے متعلق لکھا: 

’’ مسلک حنبلی پرعامل تھے……آپ ابن قیم جوزیہ کے نام سے مشہور ہیں ۔‘‘

 ( طب ِ نبوی مترجم ، حالات حافظ ابن قیم صفحہ ۷، ترجمہ: حکیم عزیز الرحمن اعظمی ،تصحیح و تقدیم: مختار احمد ندوی ،ناشر: مکتبہ محمدیہ اردو بازار لاہور )  


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...