نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نہ میں امام نہ میں مقتدی



نہ میں امام نہ میں مقتدی 

 مفتی مفتی محمد نعیم بزاز  صاحب عفی عنہ خادم التدریس و رفیق دار الافتاء  جامعہ فیض الغفور و مبارک محمدی کراچی

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"

غیر مقلدیت کی حقیقت میں غور کر کے یہ عنوان قائم کیا گیا ہے کیونکہ غیر مقلد کی حیثیت نہ امام کی ہے اور نہ مقتدی کی تقلید کی مختصر اور جامع تعریف ہے کہ ناواقف آدمی کا کسی جاننے والے پر اعتماد کر کے اس کے قول یا فعل پر عمل کرنا اور دلیل کا مطالبہ نہ کرنا تقلید کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قرآن وسنت سے جو مختلف المعانی احکام ثابت ہورہے ہیں ان میں سے کوئی ایک معنی متعین کرنے کے لیے اپنی رائے استعمال نہ کرنا بلکہ سلف صالحین مجتہدین کی رائے اور فہم پر اعتماد کرنا واضح رہے کہ تقلید صرف ان مسائل اور احکام میں کی جاتی ہے جن کے بارے میں قرآن وسنت میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہوتا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی اجتہادی رائے کی تقلید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہوتی تھی اسی طرح شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں :

 صحابہ مختلف شہروں میں پھیل گئے اور ہر علاقے میں ایک ہی صحابی کی تقلید ہوتی تھی . ثم انهم تفرقوا في البلاد وصار کل واحد مقتدی ناحییة من النواحی 

(الانصاف ص3)

یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کسی فرد بشر پر مخفی نہیں کہ غیر مقلد بھی کسی نہ کسی درجہ میں تقلید کرتا ہے اس لیے کہ امام نوویؒ نے شرح مہذب میں فرمایا ہے کہ ٣٠٠ صدی ہجری کے بعد اجتہاد کا دروازہ بند ہوچکا ہے اب اتباع کرنا اپنے سے گزشتہ حضرات کی ہر ایک پر لازم ہوچکی ہے اس کے بغیر منزل مقصود و مطلوب تک رسائی ممکن نہیں تقلید قرآن وحدیث اجماع امت سے ثابت ہے اس کا انکار صرف عنادی کر سکتا ہے سنجیدہ طبقہ ہرگز نہیں اس لئے یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ امام اعظم ابو حنیفہؒ کی تقلید کیوں کرتے ہو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید کرو جواباً عرض ہےکہ ہم سمجھتے ہیں کہ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب حضرات اللہ و رسول کی اطاعت میں ہم سے بہت آگے تھے ان کا تقوی ورع  للہیت اخلاص امانتداری دیانتداری اخلاق حمیدہ اوصاف جمیلہ کا غیر بھی قائل تھا اس لیے ہمیں یقین ہے کہ یہ حضرات اللہ ورسول کی مراد ہمیں ٹھیک ٹھیک بتائینگے پھر ہمارا ان کی پیروی کرنا ایک وسیلہ کے درجہ میں ہے مجتہد کی حیثیت شارح کی ہوتی ہے حقیقت میں تو اللہ ورسول کے اوامر کا امتثال ہے ، فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا اب اگر کوئی یہ کہے کہ سجدہ تو اللہ کو کرنا ہوتا ہے حضرت آدم علیہ السلام کو کیوں کیا ۔ اعتراض بے جا ہے اس لیے کہ حضرت آدم علیہ السلام ایک ذریعہ تھے حکم تو اللہ کا تھا اس لیے حقیقت میں سجدہ اللہ کو ہی ہوا ۔  ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید راہ نجات ہے ایک وقت میں چاروں ائمہ رحمہم اللہ تعالیٰ کی تقلید مشکل ہے اس کو اس طرح سمجھئے کہ ایک علاقہ میں چار مساجد ہیں اب اگر ایک ہی مسجد میں چار رکعات عصر پڑھی گئی تو نماز درست کہلائے گی لیکن اگر چاروں مساجد میں سے ہر ایک مسجد میں ایک ایک رکعت عصر کی پڑھی گئی تو کوئی بھی اس نماز کو درست نہیں کہے گا معلوم ہوا کہ ایک وقت میں ایک امام کے پیچھے چار رکعات پڑھنا اور ایک وقت میں ایک امام کی تقلید ضروری ہے۔ قرآن کریم میں ہے 

لو کنانسمع او نعقل ما كنا فی اصحاب السعير  (سورة الملك )

ترجمہ:ا  گر ہم سن لیتے یا سمجھ لیتے تو ہم جہنم والوں میں سے نہ ہو تے 

مفسرین نے نسمع سے تقلید اور نعقل سے اجتہاد مراد لیا ہے اب جو لوگ نہ تقلید کرتے ہیں اور نہ ہی ان میں اجتہاد کی صلاحیت ہے ان کو غور کرنا چاہیئے ۔ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے اسی پر اجماع امت ہے قاضی القضاة امام ابو یوسفؒ  فرماتے ہیں کہ حدیث کی معرفت کی طرف رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے عوام پر لازم ہے کہ وہ فقہاء کرام کی تقلید کریں۔

وعن ابی يوسف ان على العامي الاقتدأ باالفقهاء لعدم الاهتدأ فى حقه الى معرفة الاحاديث 

(الهداية١/٢٤٤)  

مطلق اجتہاد  مطلق تقلید ضروریات دین میں سے ہے اس کا انکار کفر کو مستلزم ہے اور ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید فی زماننا واجب ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی بھی تقلید نہ کرنا بدعت نری حماقت ضلالت و گمراہی ہے ۔

وهذه الطائفة الناجية قد اجتمعت اليوم في المذاهب الاربعه الحنفيون والمالكيون والشافعيون والحنبليون ومن كان خارجا من هذه المذاهب الاربعة في

ذلك الزمان فهو من اهل البدعة والنار .

( بحوالہ فقہ حنفی کی امتیازی شان ؛تفسیر مظہری ٢/٦٤)

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ  مرزائی بننے والے لوگ پہلے غیر مقلد تھے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں منجملہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مرزائی قادیانی مولوی محمد حسین بٹالوی کا کلاس فیلو تھا وہ اس کی بڑی عزت کرتے تھے ان کا رسالہ اشاعۃ السنہ ہر پڑھے لکھے غیر مقلد کے پاس جاتا تھا۔ مولوی محمد حسین کی علمی لیاقت و استعداد کا عالم یہ تھا کہ غیر مقلدین کے تمام فرقوں کے علماء اور عوام بالاتفاق ان کی کتابوں کو غلط قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

یہ بات بھی ذہن نشین فرمالیں کہ ائمہ اربعہ صحابہ و تابعین کے تلامذہ ہیں ان حضرات سے خطا ممکن ہے۔ انبیا کرام علیہم السلام کی طرح معصوم عن الخطا نہیں . حافظ ذہبی  ؒ فرماتے ہیں ۔

كل مجتهد يخطئ ويُصيب اذا اصاب فله اجران واذا اخطأ فله اجر واحد . سوا قول رسول الله صلى الله عليه وسلم فانه مؤید باالوحی 

خیال ہے کہ اس موضوع پر گراں قدر خدمات مناظر اسلام وکیل احناف مسلم مناظر حضرت مولانا محمد امین صفدر اکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی ہیں۔ نو وارد با ذوق احباب حضرت  ؒکی کتب کا ضرور مطالعہ کریں حضرتؒ کے بارے میں استاد محترم شیخ الحدیث والتفسیر حضرت اقدس مفتی محمد زرولی خان نور اللہ مرقدہ فرمایا کرتے :

”مولانا امین میدان مناظرہ کے امام و مجتہد اور شہوار اور دین اسلام کے اعجاز کا ایک مظہر تھے ۔“


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...