نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تقلید دلائل شرعیہ کی روشنی میں مع مدعیان اہلِ حدیث کی تائیدی عبارات


تقلید دلائل شرعیہ کی روشنی میں 

مع مدعیان اہلِ حدیث کی تائیدی عبارات 

 مفتی رب نواز حفظہ اللہ ، مدیر اعلیٰ مجلہ ’’ الفتحیه‘‘ احمد پور شرقیہ 

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"


تقلید کا ثبوت قرآن سے 

  شیخ ناصر الدین البانی نے ’’دلیل سمجھنے سے عاجز آدمی کے لیے تقلید کا جواز ‘‘ عنوان قائم کرکے لکھا:

’’ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ ہر شخص تو اس معنی میں عالم نہیں ہو سکتا (کہ وہ کتاب و سنت میں فہم میں پیدا کر لے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ ٹھیک ہے مگر اس میں نزاع کس کا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فاسئلوا اهل  الذکر ان کنتم لا تعلمون (اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھو ) نیز فرمایا : فسئل به خبیرا ( کسی خبردار سے پوچھ ) آنحضرت علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا جنہوں نے بے علمی میں فتویٰ دیا تھا الا سئلوا حین جهلوافانما شفاء العی السوال ( جب انہیں علم نہ تھا تو انہوں نے پوچھ کیوں نہ لیا( علم سے ) عاجز کی شفا سوال ہے۔ ‘‘

(حجیت ِ حدیث صفحہ۷۴)

کتاب میں لکھا ہے : 

’’ابن عبد البر کی جو بحث پیچھے گزر چکی ہے اس کے بعد وہ فرماتے ہیں: یہ سب خواص کے لیے ہے عوام کے لیے جب کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے تو انہیں اپنے علماء کی تقلید کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے چونکہ عامۃ الناس پر مواقع حجت ظاہر نہیں ہوتے اور وہ عدم فہم کی وجہ سے اس کے علم تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ ...علماء کا اس میں اختلاف نہیں ہے عامۃ الناس پر اپنے علماء کی تقلید ضروری ہے اللہ کے اس فرمان میں وہی مراد ہیں فاسئلوا اهل الذکرالخ ‘‘ 

(حجیت ِ حدیث ، البانی صفحہ ۷۵] 

شیخ فضل حسین بہاری غیر مقلد لکھتے ہیں :

’’ تقلید مباح بھی ان علماء کے لیے ہے جو مجتہد نہ ہوں …… یہ تقلید بہ سبب شرط ان کنتم لاتعلمون کے مختص ہے حالت لا علمی کے ساتھ۔‘‘

(الحیات بعد الممات صفحہ ۲۱۵)

شیخ البانی لکھتے ہیں: 

’’تقلید کی حرمت کی دلیل مجھے معلوم نہیں ہے بلکہ جس کے پاس علم نہیں ہے ،اس کا تقلید کے بغیر چارہ نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون [النحل : ۴۲] اہلِ ذکر سے سوال کرو ، اگر تم نہیں جانتے۔‘‘ 

( فتاوی البانیہ صفحہ ۱۲۴) 

ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس لکھتے ہیں: 

’’ علامہ ابن تیمیہ کے قول میں یا تیسری قسم میں عوام کی تقلید کا جو ذِکر آیا ہے ۔ درحقیقت یہ اتباع ہے کیوں کہ عامی نے اس وقت : ’’ فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون یعنی جاننے والوں سے پوچھ لو اگر تمہیں علم نہیں ۔‘‘ کے حکم پر عمل کیا لیکن اگر اصطلاحی طور پر اس کا نام تقلید ہی رکھا جائے تو کوئی حرج نہ ہونا چاہیے ۔ ‘‘ 

( تقلید کا حکم صفحہ ۵۴) 

مثلاً محمد بن صالح العثیمین فرماتے ہیں: 

 ’’ تقلید دو جگہ ہوتی ہے : اول :...مقلد ایسا عامی آدمی ہو جو بذاتِ خود حکم کو پہچاننے کی طاقت نہ رکھتا ہو، اس کا فرض تقلید ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون﴾ [النحل : ۴۳] ’’ پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے دریافت کر لو۔ ‘‘ وہ اس کی تقلید کرے جس کو وہ علم اور تقویٰ کے لحاظ سے سب سے بہتر سمجھتا ہے۔ اگر اس کے نزدیک دو شخص برابر ہوں تو اسے ان کے درمیان اختیار ہے۔ دوم : .... مجتہد کے لیے ایسا واقعہ پیش آئے جو فی الفور ( فیصلہ ) کا تقاضا کرے ، اور اس کے بارے میں غور و فکر پر قادر نہ ہو اس صورت میں اس کے لیے تقلید جائز ہے ،بعض نے تقلید کے جواز کے لیے شرط لگائی ہے کہ وہ مسئلہ ان اصول دین میں سے نہ ہو جن پر اعتقاد رکھنا واجب ہے، اس لیے کہ عقائد میں ٹھوس بات کا ہو نا ضروری ہے، اور تقلید صرف ظن کا فائدہ دیتی ہے۔ راحج بات یہ ہے کہ بے شک یہ شرط نہیں ہے ، کیوں کہ ارشاد باری تعالیٰ عام ہے : ﴿فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴾[النحل : ۴۳] یہ آیت رسالت کے اثبات کے بیان میں ہے، اور وہ اصول دین میں سے ہے۔ اس لیے کہ عامی آدمی حق کو دلائل کے ساتھ پہچاننے کی طاقت نہیں رکھتا، تو جب بذاتِ خود اس پر حق کو پہچاننا مشکل ہو جائے تو صرف تقلید باقی بچتی ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿فاتقوا الله ما استطعتم ﴾ [التغابن: ۱۶] پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔ ‘‘ 

(الاصول من علم الاصول مترجم: ۱۰۱طبع مکتبہ قدوسیہ ، اہتمام طباعت ابو بکر قدوسی)

اس عبارت میں کہا گیا ہے کہ عقائد میں بھی تقلید کرنا درست اور قرآنی حکم کی پیروی ہے۔

محمد بن صالح مذکور کے لیے غیرمقلدلکھاری بہت زیادہ عقیدت کا اظہار کیا کرتے ہیں۔

محمد رحمت اللہ خان غیرمقلد نے ’’عالم اسلام کے کبار علماء ‘‘ کا عنوان قائم کرکے تیسرے نمبر پر ان کا نام لکھاہے عبارت ملاحظہ ہو: 

’’ (۳) شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ ‘‘

(تلاش حق کا سفر صفحہ۱۵۰طبع بنگلور انڈیا)

غیر مقلدین کے رسالہ ’’السنہ ‘‘ میں لکھاہے : ’’ عالم عرب کے مشہور عالم دین علامہ فقیہ فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمن رحمہ اللہ ‘‘ (السنہ شمارہ : ۳۴رمضان ۱۴۳۲ھ صفحہ ۲۹)

شیخ زبیر علی زئی نے لکھا : 

’’ سعودی عرب کے مشہور مفتی شیخ محمد بن صالح ابن العثیمین رحمہ اللہ ‘‘

 ( علمی مقالات :۳؍۱۷۲)

شیخ بو زکی لکھتے ہیں: 

’’ عامی شخص (Layman)کے لیے کسی صاحب علم کی پیروی اور تقلید ضروری ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون ( الانبیاء ، آیت: ۷) اس آیت کا سیاق و سباق اگرچہ دوسرا ہے لیکن اس سے یہ واضح حکم نکلتا ہے کہ جس معاملے میں کسی شخص کو خود علم نہ ہو وہ اہلِ علم سے پوچھ لیا کرے۔ اس لیے عام لوگوں کا علماء سے شرعی مسائل پوچھنا اور ان پر عمل کرنا بالکل جائز اور درست ہے اور اسے تقلید محمود بھی کہا جاتا ہے جس کے صحیح ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے ۔ ‘‘

(فقہی مسلک کی حقیقت صفحہ ۹۲،۹۳)

 میاں صاحب نے مولانا محمد حسین بٹالوی کے ساتھ مل کر مسئلہ تقلید پر ’’ــمعیار الحق‘‘ نامی کتاب تحریر کی ۔اس میں لکھا ہے :

’’جس آیت کے حکم سے تقلید ثابت ہے تو وہ اسی صورت میں ہے جب کہ لاعلمی ہو ،قال الله تعالیٰ فاسئلو اهل الذکر ان کنتم لاتعلمون یعنی پس سوال کر و اہل ذکر سے اگر نہ جانتے ہو تم اور یہی آیت دلیل ہے وجوب تقلید پر۔‘‘

(معیار الحق صفحہ ۷۴)

 میاں نذیر حسین دہلوی کو مدعیان اہلِ حدیث شیخ الکل فی الکل کہتے ہیں ،اور انہیں’’ہیرو‘‘بھی کہاہے۔ (الحیات بعد الممات صفحہ ۲،۴)

شیخ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:

’’سرخیل اہلِ حدیث،المحدث ،الفقیہ سید نذیر حسین الدہلوی رحمہ اللہ۔ ‘‘

(توضیح الاحکام جلد ۲ صفحہ ۲۰۰)

ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس لکھتے ہیں: 

’’ علامہ ابن تیمیہ کے قول میں یا تیسری قسم میں عوام کی تقلید کا جو ذِکر آیا ہے ۔ درحقیقت یہ اتباع ہے کیوں کہ عامی نے اس وقت : ’’ فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون یعنی جاننے والوں سے پوچھ لو اگر تمہیں علم نہیں ۔‘‘ کے حکم پر عمل کیا لیکن اگر اصطلاحی طور پر اس کا نام تقلید ہی رکھا جائے تو کوئی حرج نہ ہونا چاہیے ۔ ‘‘ 

( تقلید کا حکم صفحہ ۵۴)

تقلید کا ثبوت حدیث سے 

مولانا محمد حسین بٹالوی نے حدیث سے تقلید کا ثبوت دیتے ہوئے لکھا :

’’حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ ایک شخص کے سر میں زخم پہنچا اور اس نے کسی صحابی سے پوچھا کہ مجھے تیمم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس نے کہا کہ جائز نہیں۔ تو اس نے غسل کیا اور وہ ہلاک ہوگیا جس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط فتویٰ دینے والے مفتی کو بد دعا دی اور اس پر خفگی ظاہر کی، مگر فتویٰ پوچھنے والے کے حق میں نہ فرمایا کہ اُس نے کیوں قول بلا دلیل کی تقلید کر لی، اس استدلال کی حاضرین نے تحسین کی۔‘‘ 

(اشاعۃ السنۃ جلد۲۳ صفحہ۱۳۰)

بٹالوی صاحب نے ایک مجلس میں لوگوں کو تقلید کا ثبوت پیش کیا، اس کی کار گزاری بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

’’پھر کتاب مسلّم الثبوت سے یہ حاشیہ میں نے پڑھ کر سنایا : اجمع المسلمون علی ان من اسلم فله ان یقلد من شآء من العلماء…… پھر کہا یہ اجماع بھی معیار الحق صفحہ۱۴۲ میں منقول ہے۔‘‘ 

(اشاعۃ السنۃ جلد۲۳ صفحہ۱۲۹)

عربی عبارت کا ترجمہ یہ ہے: مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرلے وہ علماء میں سے جس کی تقلید کرنا چاہے اس کے لئے جائز ہے۔

تقلید کو حدیث واجماع سے ثابت کرنے والی بٹالوی صاحب کی مذکورہ بالا عبارات بھی اسی ’’نوٹ‘‘ ہی کا اقتباس ہیں، جس نوٹ میں انہوں نے تقلید کو کلمہ واذان سے اور منکرین کو دیہاتی سکھ اور متعصب ہندو سے تشبیہ دی ہے۔ یاد رہے کہ مطلق تقلید کے جواز سے بٹالوی صاحب کا رجوع میری معلومات کے مطابق ثابت نہیں ، البتہ یہ بات ضرور ملتی ہے کہ وہ آخر عمر میں تقلید کو مانتے تھے۔ محمد عبد العظیم حیدر آبادی صاحب غیر مقلد، بٹالوی صاحب کے متعلق لکھتے ہیں:

’’وہ آج ایک لانبی (لمبی) عمر گذار کر تقلید کو واجب یا جائز سمجھنے لگے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ یہ اقرار حنفیت کا کیوں اس کے لئے ناجائز ہے، مولوی صاحب بٹالوی سے استدعا ہے کہ اگر وہ کوئی دلیل تقلید شخصی کے وجوب یا جواز پر رکھتے ہیں تو براہِ کرم پیش کر کے رفاہِ عام سے اجرِ عظیم حاصل کریں۔‘‘

(اہلحدیث امرتسر ۲۵ ربیع الثانی ۱۳۲۸؁ھ)

اس تحریر کا عکس مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی صاحب کی کتاب ’’تاریخ ختم نبوۃ صفحہ۳۹۹‘‘ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ 

بٹالوی صاحب کے نظریہ تقلید کو جاننے کے لئے مزید عبارات دیکھنا چاہیں تو حاشیہ نمبر۱۳ ملاحظہ فرمائیں۔ 

 ٭……. شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں:

’’مؤلف نے اس دعوے پر آیا ت اور حدیث اور بزعم خود اجماع نقل کیا ان سے مطلق تقلید وقت لاعلمی کے ثابت ہوتی ہے۔ ‘‘

(معیار الحق صفحہ ۹۶)

میاں صاحب مان گئے ہیں کہ’’ مطلق تقلید ‘‘حدیث بلکہ قرآن سے بھی ثابت ہے ۔ 

 ٭…… نواب صدیق حسن خان تقلید کوحدیث سے ثابت شدہ مانتے ہیں چنانچہ انہوں نے لکھا: 

’’ وجب علی العامی تقلیده والاخذبفتواه وقداستفاض الخبر عن النبی صلی الله تعالی علیه وسلم انه لمّابعث معاذا الی الیمن قال معاذ...‘‘

(لقطة العجلان صفحہ ۱۳۷بحوالہ الکلام المفید صفحہ ...) 

ترجمہ :عامی آدمی پر مجتہدکی تقلید اس کے فتوی کو لینا واجب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مستفیض اور مشہور حدیث آئی ہے کہ جب آپ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن کی طرف روانہ کیا تو فرمایا ائے معاذ ...(آگے مکمل حدیث بیان کی ) 

 ٭……مولانا فضل الرحمن بن میاں محمد نے مسئلہ تقلید پر بحث کرتے ہوئے لکھا:

’’مولانا [ ثنا ء اللہ امرتسری (ناقل )] اس مسئلہ کو حل کرنے میں اپنی عادت محمودہ کے مطابق قرآن وحدیث اور کتب ِفقہ کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ ایک عامی کے لیے تقلید تو جائز ہے لیکن تخصیص جائز نہیں ۔‘‘

(حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری صفحہ ۹۸)

 ٭……بخاری میں حدیث ہے کہ قبر میں مجرم میت کوہتھوڑوں سے مارتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ لَادَرَیْتَ وَتَلَیْتَ... نہ تو نے خود غور کیااور نہ ہی عالموں کی پیروی کی ۔‘‘ 

(ترجمہ وحیدالزمان )

علامہ وحید الزمان نے اس حدیث کی شرح میں لکھا :

’’یعنی نہ مجتہد ہوا نہ مقلد ...سب باتیں تحقیق کرکے مقلد بنتاتواس آفت (عذاب ِ قبر ) میں کاہے کو گرفتار ہوتا ۔‘‘

(تیسیرالباری جلد۲صفحہ ۲۹۶طبع تاج کمپنی ) 

موصوف دوسری جگہ لکھتے ہیں ۔

’’ایک روایت میں یوں ہے :وَلَا تَلَیْتَ یعنی نہ خود سمجھا اور نہ سمجھنے والے کی تقلید کی جیسے پیغمبر یا مجتہد کی۔‘‘

(لغات الحدیث جلد ۱ صفحہ ۵۷:الف) 

 ٭…… مولانا محمد حسین بٹالوی نے احباب کے مجمع میں دوران ِمباحثہ دعوی کیا کہ تقلید دورِنبوی سے ثابت ہے، اورپھر اس کو حدیث نبوی سے ثابت کر دکھایا۔

چنانچہ وہ اسی مباحثہ کی کار گزاری بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’پھر یہ دعوی کیا کہ بے علم کا علمائے وقت کی بلاتحقیق تقلید کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے چلا آتا ہے ۔اس کی مثال میں وہ مختصر بیان کیا جوحدیث صحیح میں آچکا ہے کہ ایک شخص کے سرمیں زخم پہنچا اور اس نے کسی صحابی سے پوچھاکہ مجھے تیمم کرناجائز ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا کہ جائز نہیں ۔تواس نے غسل کیا اور وہ ہلاک ہوا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط فتوی دینے والے مفتی کو بددعا دی اوراس پر خفگی ظاہر کی مگرفتوی پوچھنے والے کے حق میں نہ فرمایاکہاس نے کیوں قول بلا دلیل کی تقلید کیوں کرلی ۔اس استدلال کی حاضرین نے تحسین کی ۔‘‘

(اشاعۃ السنۃ جلد ۲۳صفحہ ۱۲۹)

مجلس کے حاضرین میں حافظ حمید اللہ اورمولوی سید احمد حسن شامل ہیں۔(اشاعۃ السنہ جلد۲۳صفحہ ۱۲۸)

 تقلید کا ثبوت صحابہ کرام سے 

علامہ وحید الزمان حجِ تمتع کی بحث میں لکھتے ہیں: 

’’ معاویہ نے بہ تقلید عثمان منع کیا تھا اور عثمان نے حضرت عمرؓ کی تقلید کی تھی جیسے اوپر گذر چکا ۔‘‘

(لغات الحدیث ۳؍۶۵،ع)

وحیدالزمان صاحب نے لکھا :

’’عثمان نے حضرت عمر ؓ کی تقلید کی تھی جیسے اوپر گزرچکا۔ ‘‘

(لغات الحدیث : ۳؍۶۵، ع)

وحیدالزمان صاحب ہی لکھتے ہیں :

’’ حضرت عثمان ؓ شاید حضرت عمر ؓ کی تقلیدسے تمتع (حج کی ایک قِسم ہے ،ناقل ) کو بُرا سمجھے۔‘‘ 

(تیسیرالباری ۲؍۴۶۴تاج کمپنی )

اسی کتاب میں چند صفحات کے بعد لکھتے ہیں:

’’حضرت عثمان ؓنے ان(سیدناعمررضی اللہ عنہ ،ناقل)کی تقلید کی تھی۔‘‘

(تیسیرالباری ۲؍۴۷۰ )

علامہ صاحب اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں :

’’حضرت عثمان نے بھی جب حضرت عمر ؓ کی تقلید میں تمتع سے منع کیا تو حضرت علی ؓ نے 

اعلانیہ تمتع کیا۔ ‘‘

(رفع العجاجۃ عن سنن ابن ماجہ ۲؍۶۱۵)

حیدالزمان صاحب کے نزدیک تقلید کرنا بُرا فعل ہے مگر اس کے باوجود وہ صحابہ کرام کی طرف تقلید کو منسوب کرتے ہیں۔ 

چنانچہ وہ حجِ تمتع کی بحث میں لکھتے ہیں: 

’’ معاویہ نے بہ تقلید عثمان منع کیا تھا اور عثمان نے حضرت عمرؓ کی تقلید کی تھی جیسے اوپر گذر چکا ‘‘

(لغات الحدیث ۳؍۶۵،ع)

کتاب میں لکھا ہے :

’’اور اس پر علماء کا اجماع ہے کہ اندھے آدمی کے لیے ضروری ہے کہ جب اس پر جہت قبلہ کا پتہ چلانا مشکل ہو جائے تو ایسے شخص کی تقلید کرے جس کی قبلہ کے بارے میں معرفت پر اسے وثوق سے اعتماد ہے۔ پس ایسے ہی وہ شخص جس کے پاس علم نہیں ہے یا وہ آنکھ نہیں ہے جس سے وہ دین کی معرفت حاصل کر سکے، اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ کسی عالم کی تقلید کرے۔ ‘‘ 

[حجیت ِ حدیث ، البانی:۷۵] 

٭…… مولانامحمد حسین بٹالوی نے ایک مجمع میں ’’تقلید ‘‘کو حدیث سے ثابت کیا اور پھر اس کی کارگزاری بیان کرتے ہوئے جوکچھ کہا اس کی ابتدائی عبارت یہ ہے :

’’بے علم کا علمائے وقت کی بلا تحقیق تقلید کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے اس وقت تک چلا آتا ہے۔‘‘

(اشاعۃ السنۃجلد ۲۳صفحہ ۱۲۹)

دورِنبوی میں تقلیدکرنے والے لوگ عموما صحابہ کرام تھے ۔

بٹالوی صاحب ہی لکھتے ہیں:

’’ہم احادیث صحیحہ سے ثابت کر دکھائیں گے کہ عوام کا تقلید ِ خواص کرنا یعنی خواص کا عوام کو جواب مسائل بلاذکر ِدلیل دینا اور عوام کا پیروی خواص بغیر سننے دلیل کے کرناآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پایا گیا ہے ۔آنحضرت نے اس عمل کو سُنا اور منع نہ کیا ،جس سے آفتاب کی مانندثابت ہوگاکہ مطلق تقلید سے انکار کرنا اور تقلید کا لفظ سُن کر ہی چونک پڑنا عالم کاکام نہیں اورجوشخص ایسا کرے وہ عالم نہیں،جاہل ہے ۔اگروہ کچھ کتابیں پڑھا ہے یا مولوی وفاضل کا خطاب حاصل کرچکا ہے توبھی وہ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاکا مصداق ہے یعنی چارپائے بروکتابے چند۔‘‘

(اشاعۃ السنۃجلد۲۳صفحہ ۳۳۴)

بٹالوی صاحب نے مذکورہ عبارت میں چند باتیں فرمائی ہیں ۔ا۔تقلید احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہے ۔۲۔دور ِنبوی میں لوگ (صحابہ )تقلید کرتے تھے ۔۳۔تقلید کا منکر جاہل ہے اور اگر وہ نام کا عالم ہے تو بھی وہ اس گدھے کی طرح ہے جس پرکتابیں لاد دی گئی ہوں۔عبرت ،عبرت ،عبرت ۔

 ٭……نواب صدیق حسن خان صاحب غیرمقلد کی کتاب ’’ لقطة العجلان صفحہ ۱۳۷‘‘کی عبارت پچھلے صفحات میں ہم نقل کر آئے ہیں کہ انہوں نے حدیث ِ معاذ رضی اللہ عنہ سے تقلید کا واجب ہونا ذکر کیا ۔اور یہ بات توواضح ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی رائے کو قبول کرنے والے صحابہ اور تابعین ہی تھے ۔ 

٭……علامہ وحیدالزمان نے سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا:

’’زید بن ثابت کے مذہب پر فتوی دیتے تھے جس میں کوئی نص ِ صریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ پاتے تھے۔ ‘‘

(رفع العجاجہ جلد ۱صفحہ ۱۱۴)

وحید الزمان صاحب اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں :

’’حضرت عثمان نے بھی جب حضرت عمر ؓ کی تقلید میں تمتع سے منع کیا تو حضرت علیؓ نے اعلانیہ تمتع کیا ‘‘

(رفع العجاجہ جلد ۲صفحہ ۶۱۵) 

وحید الزمان صاحب ایک اور کتا ب میں لکھتے ہیں ۔

’’حضرت عثمان ؓ شاید حضرت عمر ؓ کی تقلید سے تمتع کو بُرا سمجھے۔ ‘‘

(تیسیر الباری جلد ۲صٖفحہ ۴۶۴) 

چند صفحات بعد لکھتے ہیں۔

’’حضرت عثمان ؓ نے ان (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ )کی تقلید کی تھی ۔‘‘

(تیسیر الباری جلد۲صفحہ ۴۷۰)

وحید الزمان صاحب ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں:

’’معاویہ نے بہ تقلید عثمان (حج ِ تمتع )سے منع کیا تھا اور عثمان نے حضرت عمرؓکی تقلید کی تھی‘‘

(لغات الحدیث جلد ۳صفحہ ۶۵:ع) 

علامہ وحیدالزمان نے اپنی مزعومہ فقہ نبوی پیش کرتے ہوئے لکھا :

’’ لِاَنَّ الصَّحَابَةَ لَایُنْکِرُوْنَِ عَلٰی مَنْ قَلَّدَ بَعْضَهُمْ فِیْ مَسَائِلَ وَقَلَّدَ الْآخَرِیْنَ فِیْ الْاُخْرٰی ۔‘‘

(ہدیۃ المہدی جلد ۱صفحہ ۱۱۲)

ترجمہ: صحابہ اس شخص پرانکا ر نہیں کرتے تھے جو چندمسائل میں بعض کی تقلید کرتا اور دیگر مسائل میں دوسرے بعض کی تقلید کرتا ۔ 

علامہ وحیدالزمان کا مسلک ملاحظہ ہو۔ 

مولانا محمد اسماعیل سلفی لکھتے ہیں : 

’’بعض اہلِ حدیث نے بھی مروجہ فقہ کی روش پر بعض کتب تصنیف فرمائیں جیسے نواب وحید الزمان ،نواب صدیق حسن خان۔‘‘

(مقدمہ احسن البیان صفحہ ۱۸، بحوالہ حدیث اور اہل ِتقلید جلد۱صفحہ ۱۲۴ )

علامہ وحیدالزمان کا شمار انہی لوگوں میں ہے جو خود کو اہلِ حدیث کہا کرتے ہیں ثبوت کے لئے ہماری کتاب 

’’زبیرعلی زئی کا تعاقب‘‘کاحاشیہ ۹۸۔۱۰۰ دیکھاجاسکتا ہے ۔

علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں:

’’ وَلَایَجُوْزُ تَقْلِیْدُ الْمُجْتَهدِ الْمَیِّتِ وَ حَکٰی بَعْضهُُمُ الْاِجْمَاعَ عَلَیهِْ وَقِیْلَ یَجُوْزُ وَرَجَّحَهُ الشَّیْخُ ابْنُ الْقَیِّمِ لِاَنَّ الْقَوْلَ لَایَمُوْتُ وَتَقْلِیْدُ السَّلَفِ لِاَقْوَالِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِیْنَ تَدُلُّ عَلٰی جَوَازهِٖ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ مَنْ کَانَ مُتَّبِعًا فَلْیَسْتَنَّ بِمَنْ مَّاتَ۔‘‘ 

(ھدیۃ المھدی من الفقہ المحمدی:۱۱۲ )

ترجمہ:اور فوت شدہ مجتہد کی تقلید جائز نہیں ہے اور بعض نے تو اس پر اجماع کی حکایت بیان کی ہے اور کہا گیا ہے کہ جائز ہے اس لیے کہ [مجتہد اگرچہ فوت ہو جاتا ہے مگر (ناقل)] اس کا قول تو فوت نہیں ہوتا اور اسے ابن قیم نے راجح قرار دیا ہے ۔اسلاف کا صحابہ و تابعین کی تقلید کرنا اس کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ اور ابن مسعود نے فرمایا: جوشخص اتباع کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ ان کی پیروی کرے جو فوت ہو گئے ہیں۔

 علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں:

’’حضرت عثمان نے ان (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ )کی تقلید کی تھی۔ ‘‘

(تیسیرا لباری جلد ۲ صفحہ ۴۷۰)

مزید معلومات کے لیے تیسیرا لباری جلد ۲صفحہ ۴۶۴، رفع العجا جہ جلد ۲ صفحہ۶۱۵،الجنۃ صفحہ۶۸۔ الدین الخالص صفحہ ۵۶۶ وغیرہ دیکھیں۔

شیخ زبیر علی زئی لکھتے ہیں: 

’’ مسعودیوں نے بھی صحابۂ کرام کی توہین کی ہے مثلاً فرقۂ مسعودیہ کے امام دوم محمد اشتیاق نے کہا: ’’ حضرت ابو موسیٰ اور حضرت حذیفہ اس مسئلہ میں حضرت ابن مسعود کی تقلید کر رہے ہیں۔ ‘‘ ( نماز کے سلسلہ میں یوسف لدھیانوی کے چند اعتراضات اوران کے جوابات ص ۳۰) یاد رہے کہ مسعودیوں کے نزدیک تقلید شرک ہے ۔ 

دیکھئے التحقیق فی جواب التقلید ( ص ۵) ‘‘ 

( علمی مقالات :۳؍۵۶۲، طبع مکتبہ اسلامیہ )

 تقلید کا ثبوت اجماع سے 

٭……شیخ .محمد بن ابراہیم وزیر یمانی لکھتے ہیں :

’’ اَمَّااِجْمَاعُ الصَّحَابةَِ عَلٰی تَقْرِیْرِ الْعَوَامِ عَلٰی التَّقْلِیْدِ فَلِا َنهَّ اِجْمَاعٌ فِعْلِیٌّ لَالَفْظِیٌّ ۔‘‘صحابہ کے اجماع لفظی سے نہیں البتہ اجماع فعلی سے یہ ثابت ہے کہ عوام کو تقلید پر برقرار کھا جائے گا۔

(الروض الباسم جلد ۱صفحہ ۱۰۹)

نواب صدیق حسن خان نے یمانی مذکور کو ’’تارک ِتقلید ‘‘کہا ہے ۔(التاج المکلل صفحہ:۲۸۷)

٭…… میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں :

’’کل صحابہ ؓ اور تمام مؤمنین کا قرون ِ اولی میں اس پر اجماع ثابت ہوا کہ کبھی ایک مجتہد کی تقلیدکرتے اور کبھی دوسرے مجتہدکی۔ ‘‘

(معیار الحق صفحہ۱۴۳دوسرانسخہ ۱۵۷)

میاں صاحب مزید لکھتے ہیں :

’’تقلید بطریق عدم ِ تعین کے یہی ہے سبیل مؤمنین کی ،اعنی صحابہ اور تابعین اورمجتہدین کی۔ ‘‘

(معیار الحق صفحہ ۱۶۴)

 میاں نذیر حسین دہلوی لکھتے ہیں:

’’کل صحابہ اور تمام مومنین کا قرون اولیٰ میں اس پر اجماع ثابت ہوا کہ کبھی ایک مجتہد کی تقلید کرتے اورکبھی دوسرے مجتہد کی۔ ‘‘

(معیار الحق صفحہ ۴۳)

شیخ ابو القاسم محمد حسین حافظہ آبادی نے تقلید کی حمایت میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے نقل کیا :

’’مذاہب اربعہ کی تقلید جو مدون ہیں باجماع امت جا ئز ہے اور اس میں کسی معتدبہ شخص کا خلاف نہیں اور اس میں بہت مصلحتیں ہیں خصوصاًایسے زمانہ میں جب کہ ہر ایک شخص اپنی ہی رائے کو پسند کرتا ہے اور اسی کی پیروی کرتا ہے۔ ‘‘

(اشاعۃ السنۃ ،جلد ۲۲، صفحہ ۲۸۱)

 مزید دیکھئے ۔تاریخ اہلِ حدیث صفحہ ۱۴۷۔

تنبیہ: یہ مضمون بندہ کی زیر ترتیب کتاب ’’ مدعیان اہلِ حدیث سے تقلید کا ثبوت ‘‘ سے ماخوذ ہے ۔ مزید تفصیل اس کتاب میں بیان ہوگی ان شاء اللہ ۔  

جمع وترتیب :مفتی  محمد زبیر الرحمن غفرلہ  ۱۷/۵/۱۴۴۷ بمطابق ۹/۱۱/۲۰۲۵ بروز اتوار 

بادلیل بات کو بغیر مطالبہ دلیل کے ماننا

تقلید باب تفعیل کا مصدر ہے، اس کے لغوی معنی ہیں: ہار پہنانا۔ اور اصطلاح میں تقلید کے معنی ہیں کسی مجتہد کو اپنی عقیدت مندی کا ہار پہنانا یعنی اس کا معتقد ہونا ، اس کو اپنا بڑا بنانا ، اور اس کی پیروی کرنا۔ 

[ایضاح الادلہ : ص۲۰۱،ط: شیخ الہند اکیڈمی  یوپی]

وضاحت : اس سے معلوم ہے ہوا کہ تقلید کے معنی یہ نہیں کہ اپنی گردن میں پٹہ ڈالنا اور اندھا بن کر دوسرے کی طرف چلتے رہنا ورنہ لغت کے خلا ف ہونا لازم آئیگا۔

تقلید کی دو قسمیں :

تقلید مطلق :  کسی عالم اور مجتہد  کو معین کئے بغیر کسی بھی عالم اور مجتہد سے مسئلہ معلوم کرکے عمل کرنا۔

[ مقدمۃ اعلاء السنن فوائد فی علوم الفقہ ص:۲۵،ط: ادارۃ القرآن کراتشی]  

تقلید شخصی : اس کے معنی ہیں ائمہ مجتہدین میں سے کسی معین امام کی پیروی کرنا اور دین کی تبیین و تشریح میں اس پر مکمل اعتماد کرنا۔

 [ایضاح الادلہ : ص۲۰۱،ط: شیخ الہند اکیڈمی  یوپی]

وضاحت : ائمہ اربعہ  ؒ  کے مذاہب کی تدوین سے پہلے  تقلید مطلق پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا اس لئے کہ وہ دیانت وامانت کادور  تھا ۔[ مقدمۃ اعلاء السنن فوائد فی علوم الفقہ ص:۲۵،ط: ادارۃ القرآن کراتشی]  لیکن چوتھی ہجری کے بعد دیانت وامانت کے فقدان کی وجہ سےانہی چاروں مذاہب کے اندر تقلید شخصی کا انحصار ہوا اور عملا  اس پر اجماع  ہوگیا ۔

[ طحطاوی علی الدر ۱۰/۵۸۹ کتاب الذبائح،ط: دار الکتب العلمیہ بیروت، حجۃ اللہ البالغۃ۱/۲۸۶، ط: دار الکتب العلمیہ بیروت]

نیز اس پر بھی اجماع ہےکہ ائمہ اربعہ  ؒ  کے مذاہب کے علاوہ کسی اور مذہب پر عمل کرنا نادرست ہے۔

[ خلاصة التحقیق فی بیان حکم التقلید والتلفیق ۔ص۵ ط: الحقیقة ترکیا،الاشباہ 

والنظائر۱/۱۴۳]

ایک مذہب کو متعین کرنا ضروری قرار دیا گیا:   

تعین مذہب اس لئے ضروری قرار دی گئی  ہے تاکہ کوئی اپنی نفس کی خواہشوں کی وجہ سے مذاہب کی رخصتوں کو نہ چنےاور حلال وحرام اور وجوب وجواز کے درمیان تخییر کا پہلو نہ اپنائےجس کا نتیجہ شرعی تکلیف کو چھوڑنے میں نمودار ہوگا۔

[المجموع شرح المہذب ۱/۵۵ ط: المنیریہ، مقدمۃ اعلاء السنن فوائد فی علوم الفقہ ص:۲۶،ط: ادارۃ القرآن کراتشی]

ائمہ اربعہ ﷭ کے درمیان حلال وحرام کا فرق :

چاروں ائمہ﷭  کے درمیان حلال وحرام کا فرق ان مسائل میں ہرگز نہیں ہیں جو صراحتا قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں بلکہ وہ مسائل جن کی صراحت قرآن وسنت میں نہ ہو یا ان کے متعلق روایات مختلف ہوں یا اس میں ایسا لفظ وارد ہو جس کے کئے معنی ہویا کوئی اور سبب اختلاف ہو تو ان وجوہ کی بنا پر ہر ایک کی غور وفکر کا نتیجہ مختلف نظر آتا ہے ،چونکہ ہرایک کی نیت خیر کی ہوتی ہے تو باوجود اختلاف کے وہ بر حق ہیں اور عنداللہ ماجور ومثاب ہیں ۔

[صحیح البخاری/کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة الرقم ۷۵۶۳]

تقلید شخصی کا حکم :

تقلید شخصی فی نفسہ جائز ہے اور اختلاف کی صورت میں راجح   کو افضل ماننا فی زماننا واجب ہے ۔ 

[ایضاح الادلہ : ص۲۲۲،ط: شیخ الہند اکیڈمی  یوپی]

تقلید کے لئے ائمہ اربعہ ﷭کے بجائے صحابہ   کاانتخاب کیوں  نہیں ؟

اس سوال کے کئی جوابات دئیے گئے ہیں ، اس کا ایک مختصر سا جواب یہ ہے کہ حضراتِ صحابہ کرام  کے مذاہب مدون نہیں ہوئے تھے  اور نہ ہی ان کی کتابیں مرتب ہوئی تھیں ، جبکہ حضراتِ ائمہ اربعہ ﷭ اور ان کے خاص تلامذہ  وغیرہ نے قرآن واحادیث اور اقوال صحابہ وغیرہ کی روشنی میں مسائل مرتب ومدون کردئیے تھے ، اس لیے حضراتِ ائمہ مجتہدین ﷭ میں سے کسی ایک کی تقلید کی جاتی ہے ۔تفصیل کے لئے ملاحظہ 

ہو   ۔۔۔ منہاج السنہ ۲/۹۰،۹۱   ط:بولاق مصر۔

 کیا ائمہ اربعہ ﷭ نے اپنی تقلید کرنے سے منع کیاہے؟

ائمہ اربعہ  ﷭  نے اپنی تقلید کرنے سے صرف ان مسائل میں منع کیا ہےکہ  جن میں ان کا کوئی قول قرآن وسنت کےخلاف ہو ۔

جیسا کہ امام شاہ ولی اللہ  ؒ نے اس کی وضاحت عقد الجید میں کی ہے ۔۔۔سئل أبو حنيفة رحمه الله تعالى إذا قلت قولاً وكتاب الله يخالفه؟ قال: اتركوا قولى بكتاب الله. فقيل: إذا كان خبر رسول الله ﷺ  يخالفه؟ قال: اتركوا قولي بخبر رسول الله ﷺ فقيل: اذا كان قول الصحابة يخالفه؟ قال: اتركوا قولي بقول الصحابة۔۔۔ص:۵۷ 

قال الشافعي رحمه الله: إذا صح الحديث فهو مذهبي، وإذا رأيتم كلامي يخالف الحديث فاعملوا بالحديث واضربوا بكلامي الحائط

وقال مالك رحمه الله: ما من أحد إلا ومأخوذ من كلامه ومردود عليه إلا رسول الله ﷺ. وقال أبو حنيفة رحمه الله لا ينبغي لمن لم يعرف دليلي أن يفتي بكلامي. وقال أحمد: لا تقلدني ولا تقلدن مالكاً ولا غيره، وخذ الأحكام من حيث أخذوا من الكتاب والسنة۔ [عقد الجید ص،۶۷،۶۸، ط:دارالکتب بشاور،وایضا فی مقدمۃ اعلاء السنن فوائد فی علوم الفقہ ص:۲۲،ط: ادارۃ القرآن کراتشی]

تقلید کے رد میں تو قرآن کریم کی کئی آیات نازل ہوئی ہیں ۔۔۔؟!

قرآن کریم میں جس قدر آیات تقلید کے رد میں نازل ہوئی ہے اس سے مراد وہ تقلید مذموم ہے جس میں حکم خداوندی وارشاد نبوی ﷺ کے خلاف ہونا لازم آتا ہو ، جبکہ ائمہ اربعہ﷭  کی تقلید مأجور ہیں ،شرعی اصولوں کے موافق ہیں  اور قرآن وسنت سے متصادم بھی نہیں ہیں ۔

[ ایضاح الادلہ : ص۲۱۴،۲۱۵ ،ط: شیخ الہند اکیڈمی  یوپی،  مقدمۃ اعلاء السنن فوائد فی علوم الفقہ ص: ۱۳ ،ط: 

ادارۃ القرآن کراتشی] 

حاصل بحث: 

مسائل شرعیہ فرعیہ میں کسی امام مجتہد کی تقلید کرنا امر مبغوض نہیں بلکہ فی زمانناامر لابد ہےاور ائمہ اربعہ اور ان کے تلامذہ ﷭  نے دین سے زائد کسی امر کو بیان نہیں کیا بلکہ شرعی اصولوں کے مطابق قرآن وسنت سے مسائل کے استخراج واستنباط کا عظیم فریضہ سرانجام دیاجوکہ رہتی دنیاتک قائم ودائم رہے گا۔فجزاھم اللہ خیرا واحسن الجزاء کما یلیق بشانہ

اب اگر کوئی اپنی عاقبت کو برباد کرنے کے لئے ائمہ اربعہ ﷭ پر یا ان کے اتباع کرنے والوں پر سب وشتم یا لعن طعن کریگا تو وہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارے گا ۔ 

خدا کا کر خوف دل میں گلچیں لگا نہ بلبل کے گھر میں آتش    

وبال سے اس کے لگ اُٹھےگی ہر اِک شجر اور حجرمیں آتش


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...