نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قرآن کریم سے تقلید کا ثبوت


قرآن کریم سے تقلید کا ثبوت 

 مولانا عبد الرحمٰن عابد صاحب حفظہ اللہ

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"

 

 ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے تقلید کے ثبوت کے لیے قرآنی دلائل کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کے مطابق تقلید کی جواز اور شرعی حیثیت واضح کرتے ہیں ان شاء اللہ تعالی۔

دلیل اول: سورة النساء، آیت ۵۹

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور تمہارے درمیان اولی الامر کی اطاعت کرو۔ اگر تم کسی معاملے میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ سب سے بہتر اور خوبصورت طریقہ ہے۔

 استدلال  :

اس آیت میں لفظ "اطیعوا" صیغہ امر میں آیا ہے، جو اطاعت اور اتباع کی وجوب کی دلیل ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر واضح مسئلہ ہو، تو اس کا رجوع اولی الامر یعنی مجتہدین اور فقیہ حضرات کی طرف کیا جائے۔ اس طرح قرآن مجید تقلید کی شرعی حیثیت کو واضح کرتا ہے۔

 قاعدہ  : جمع کی نسبت جب جمع کی طرف آتا ہے وہاں اس کی تقسیم آحاد ہی کی ہوگی (یہی قاعدہ اصول کی کتابوں میں تو ہے ہی امین اللہ پشاوری صاحب نے بھی (الحق الصریح ج1ص72 و 125) وغیرہ میں بھی کیا ہے)

جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 "فَاغْسِلُوا وُجُوْهَكُمْ"

یہاں لفظ "فاغسلوا" جمع میں اور "وجوهكم" بھی جمع میں ہے، جس کا مطلب یہ نہیں ہر ہر شخص  سب کے لیے غسل کرے، بلکہ ہر شخص اپنے حصے پر عمل کرے۔ اسی طرح آس آیت میں بھی "اطیعوا" اور "اولی الامر" کا صیغہ جمع آیا ہے، اور جمع کی نسبت جب جمع کی طرف آجاۓ تو وہاں معنی آحاد کی لےجائیگی۔ جس سے یہ معلوم ہوا  کہ تقلید شخصی ہر شخص پر لازم ہے۔

 اولی الامر  : مجتہدین اور فقیہ حضرات:

قرآن کریم کی وضاحت کے مطابق:

 "وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ" (النساء: ۸۳)

اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اولی الامر وہ لوگ ہیں جو مسائل کا استنباط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یعنی مجتہدین اور فقیہ حضرات۔

 دلیل دوم  : روایات صحابہؓ و تابعینؒ:

حضرت ابن عباسؓ اور حضرت جابر بن عبداللهؓ سے منقول ہے کہ  اولی الامر سے مراد فقیہ اور علماء ہیں۔

 امام حاکمؒ لکھتے ہیں:

 "أطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ" کا مطلب ہے: اولی الفقه والخیر۔

 (المستدرک على الصحیحین: ۱۲۳/۱)

امام ابوبکر جصاص الرازیؒ لکھتے ہیں:

 صحابہؓ و تابعینؒ نے فرمایا: اولی الامر سے مراد علم و فقہ والے ہیں۔

 (احکام القرآن: ۲۱۰/۲)

فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں:

 "لا نزاع أنّ جماعة من الصحابة والتابعين حملوا قوله: و أولي الأمر منكم على العلماء"

یعنی صحابہ و تابعین کا اتفاق ہے کہ اولی الامر سے مراد علما و مجتہدین ہیں۔

 نتیجہ  :

قرآن کریم اور روایات صحابہ و تابعین کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ:

1. تقلید کی شرعی وجوب قرآن اور سنت سے ثابت ہے۔

2. "اطیعوا الله واطیعوا الرسول و اولی الامر" آیت میں اولی الامر سے مراد مجتہدین و فقیہ حضرات ہیں۔

3. تقلید ہر مسلمان پر شخصی طور پر لازم ہے اور یہ اطاعت کے معنی میں آتی ہے۔

4. صحابہ و تابعین کے اجماع سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تقلید کا عمل شرعی طور پر جائز اور لازم ہے۔

 غیر مقلدین کے گھر سےحوالہ جات

غیرمقلدین کےگھر سے اب چند الزامی حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے بھی اولوا الامر سے مراد فقہاء کرام لئےہیں:

1. امین اللہ پشاوری صاحب غیر مقلد لکھتےہیں:

"ابن عباسؓ کے نزدیک اولی الامر سے مراد اہل فقہ اور دین ہیں۔ مجاہد، عطا، حسن بصری اور دیگر کے نزدیک دین سے مراد علما ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد تمام اہل حل و عقد، امراء اور علماء ہیں کیونکہ علماء اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کے بیان کنندہ ہیں، لیکن شارع نہیں۔ سلف کے زمانے میں اکثر والیان علماء یا فقہاء ہی ہوتے تھے۔"

(تفسیر حکمۃالقرآن، ج۴، ص۸)

2. صبغة اللہ شیرانی محمدی غیر مقلدلکھتےہیں:

"اولی الامر یعنی مسلمان حکمران یا اہل علم..."

(اقامة المیزان، ص۳۱)

3. حافظ صلاح الدین یوسف غیر مقلدلکھتےہیں:

"اولی الامر سے مراد بعض کے نزدیک امراء و حکام اور بعض کے نزدیک علماء و فقہاء ہیں۔ دونوں کی مراد ممکن ہے۔"

(تفسیر احسن البیان، ص۲۴۵)

 قاعدہ  : تفسیر صحابی

امام حاکمؒ فرماتے ہیں:

"تفسیر الصحابی عندهما مسند"

یعنی صحابی کی تفسیر معتبر ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ بھی یہی فرماتے ہیں:

"تفسیر الصحابی عندهما مسند"

(العجاب فی بیان الاسباب، ج۱، ص۱۰۱)

نواب صدیق حسن خان صاحب غیر مقلد لکھتے ہیں:

"ولذا جزم الحاکم بأن التفسیر الصحابی مطلقا فی حکم المرفوع"

(مقدّمہ: فتح البیان فی مقاصد القرآن )

"الحاکم نے جزم کیا کہ صحابی کی تفسیر مطلقاً مرفوع (یعنی قطعی) ہے۔"

اس قاعدے کے مطابق، خود غیر مقلدین بھی بیان کرتے ہیں کہ آیت میں اولی الامر سے مراد فقہاء و مجتہدین ہیں۔

 الفاظ اور اصطلاحات کا واضح فرق  

لفظ عالم سے مراد مجتہد کامل ہے۔

امام رازیؒ کے مطابق:

اطیعوا الله سے مراد قرآن، اطیعوا الرسول سے مراد سنت، واولی الامر سے مراد اجماع، فان تنازعتم سے مراد قیاس۔(تفسیر الجمل علی الجمالین، تحت هذہ الآیة)

 غیر مقلدین کے اعتراضات کی وضاحت  

 اعتراض  : . "آیت میں شخصی تقلید کا ذکر نہیں"

 جواب  : جب جمع کی نسبت جمع کی طرف  ہو تو تقسیم افراد پر واجب ہے۔یہاں تقلید شخص کا استدلال بالکل صحیح ہے۔

 اعتراض: "آیت میں تین ہستیوں کا ذکر ہے (اللہ، رسول ﷺ، اولی الامر)"  تو اللہ و رسول کے لئے  تو تقلید و اتباع کو فرض جبکہ مجتہد کی واجب قرار دیتےہیں یہ فرق کیوں؟

 جواب  : اثبات مختلف درجوں سے ہے؛ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت قطعی الثبوت و قطعی الدلالۃ ہے اور فرض، اولی الامر کی اطاعت قطعی الثبوت اگرچہ۔ہے لیکن قطعی الدلالة نہیں تو اسلۓ واجب ہے۔

 اعتراض   : "اطاعت سے تقلید کیسے ثابت؟"

 جواب  : تقلید اور اطاعت مترادف ہیں، اور مفسرین نے اسی معانی میں استعمال کیا ہے۔

 خطاب کی نوعیت  

آیت میں "فان تنازعتم" کے بعد خطاب خصوصی ہے، مجتہدین کے لیے، نہ کہ عوام کے لیے۔

شیخ سلیمان الجملؒ فرماتے ہیں:

 خطاب مستقل اور مجتہدین کے لیے ہے، عوام کو اجازت نہیں کہ مجتہد کے حکم میں اختلاف کریں۔

(تفسیر الجمل علی الجمالین)

امام رازی الجصاصؒ فرماتے ہیں:

 یہ خطاب عوام کے لیے نہیں، بلکہ مجتہدین کے لیے ہے تاکہ اختلاف کی صورت میں قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں۔

(احکام القرآن)

نواب صدیق حسن خان بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خطاب مستقل  مجتہدین کے لیے متوجہ ہے، عوام اس میں داخل نہیں۔

(فتح البیان)


 نتیجہ  :

1. غیر مقلدین نے خود حوالہ جات سے اولی الامر = مجتہدین و فقہاء کو ثابت کیا۔

2. تقلید اور اتباع کے درمیان لغوی اور اصطلاحی مترادف تعلق ہے۔

3. خطاب "فان تنازعتم" عوام کے لیے نہیں، بلکہ مجتہدین کے لیے ہے۔

4. عوام کے لیے تقلید ہر صورت میں واجب ہے، اور اختلاف کی صورت میں مجتہدین کی طرف رجوع لازمی ہے۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...