مفتی عادل زمان فاروقی صاحب حفظہ اللہ
کیا آج کے دور میں مجتہد پیدا ہوسکتا ہے؟ حقیقت یا وہم؟
"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"
آج کا زمانہ نفس پرستی کا زمانہ ہے ہر ایک اپنے نفس کے خواہشات کے تابع رہ کر چلتا ہے قرآن و حدیث پر تب چلتا ہے جب اس کےلیے حکم آسان ہو انسانھ کی چاہت یہ ہے کہ قرآن و حدیث اس کے نفس کے تابع ہو قرآن و حدیث کو تختہ مشق بنا کر خود تحقیق کرتا ہے ماہرین پراعتماد نہیں کرتا تو پھرگمراہی کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا جہاں دین کے بنیادی عقائد و حقائق کو عقلِ ناقص، منطقِ مغربی، اور تحقیق کے نام پر تشکیک کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ آج کے بہت سے پڑھے لکھے لوگ دین کی بات کو اس وقت قبول کرتے ہیں جب ان کی عقل اُس کی تصدیق کرے۔ یہ تحقیق نہیں تشکیک ہے ان اہلِ شک کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ “ہر چیز پر سوال کرو، کسی کی تقلید مت کرو، خود تحقیق کرو۔”
حالانکہ یہی جملہ دراصل “تحقیق کے لبادے میں تشکیک” ہے۔ ائمہ اربعہ کی تقلید پر امت کا اجماع ہے لیکن اس دور میں نو وارد کے قسم کے نام نہاد محققین اعتراض کرتے ہیں کیا چاروں اماموں کے بعد کوئی مجتہد مطلق پیدا نہیں ہوا اور اب کوئی مجتہد پیدا ہوسکتا ہے یا نہیں اس دور میں بھی مجتہد ہونا چاہیے میرا ان سے سوال یہ ہے کہ آج اپ مجتہد کے پیدا ہونے کا راگ لاپ رہے ہو تو جو مجتہدین گزرے ہیں آپ تو ان کو بھی نہیں مانتے ۔ آپ تو تقلید کو شرک کہتے ہیں پھر یہ سوال عبث ہے اس سوال کا تعلق تاریخ کے ساتھ ہے تاریخ پر ان کی نظر نہیں سطحی سا مطالعہ ہوتا ہے اور اپنے آپ کو محقق سمجھ بیھٹتے ہیں ان کا یہ اعتراض جہالت پر مبنی ہے ائمہ اربعہ کی تقلید پر امت کا اجماع ہے علامہ زین العابدین ابن نجیم مصری رحمہ اللہ ( المتوفی :970ھ) فرماتے ہیں :
وما خالف الائمّة الاربعة مخالف للاجماع ۔
( الاشباہ والنظائر لابن نجیم المصری : ص، 108)
ترجمہ : ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کی مخالفت کرنے والا اجماع امت کا مخالف ہے ۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (المتوفی : 1176ھ ) فرماتے ہیں :
ان هذہ المذاهب الاربعة المدوّنة المحرّر ة قد اجتمعت الامّة او من یّعتدّ
به منها علی جواز تقلیدها الی یومنا هذا ۔
( حجة الله البالغه ، ج، 1, ص، 325)
ترجمہ : یہ مذاہب اربعہ جو مدون و مرتب ہوگۓ ہیں ۔پوری امت نے یا امت کے اکثر قابل اعتماد حضرات نے ان مذاہب اربعہ جو کہ مشہور ہیں (حنفیہ ، مالکیہ، شافعیہ، اور حنبلیہ میں سے کسی ایک ) کی تقلید کے جواز پر اجماع کرلیا ہے اور یہ اجماع آج تک باقی ہے ۔
مشہور مفسر قرآن قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ ( المتوفی :1225 ھ ) فرماتے ہیں :
فان اهل السّنّة قد افترق بعد القرون الثّلاثة او الاربعة علی اربعة مذاهب ولم یبق مذهب فی فروع المسائل سوی هذہ الاربعة فقد انعقد الاجماع المرکّب علی بطلان قول یخالف کلّهم ۔
(تفسیر مظہری ، سورة آل عمران ، تحت ، آیت 64)
ترجمہ : تیسری یا چوتھی صدی کے فروعی مسائل میں اہل السنت والجماعت کے چار مذاہب رہ گئے ، کوئی پانچواں مذہب باقی نہیں رہا گویا اس امر پر اجماع ہوگیا کہ جو قول ان چاروں کے خلاف ہوگا وہ باطل ہوگا۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب الانصاف فی بیان سبب الاختلاف میں علامہ نووی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب شرح مہذب میں لکھا ہے کہ تین سو ہجری کے بعد مجتہد مطلق پیدا نہیں ہوا ۔ اس دور میں مجتہد مطلق کیوں پیدا نہیں ہوسکتا اس کو سمجھنے کے لیے محال کی تعریف اور اس کی اقسام سمجھنی ہونگی ۔
علامہ سید شریف جرجانی رحمہ اللہ المتوفی 816 ہجری نے اپنی مایہ ناز کتاب کتاب التعریفات میں محال کی تعریف نقل کی ہے :
المحال مایمتنع وجوده فی الخارج ، محال وہ ہے جس کا ہونا نا ممکن ہو۔
محال کی تین قسمیں ہیں :
۱: محال عقلی
۲: محال شرعی
۳: محال عادی
محال عقلی : وہ ہے جس کا وجود عقلا ناممکن ہو عقل اس کے وجود کو تسلیم نہ کرے ۔ مثال کے طور پر ایک چیز آگ بھی ہو اور پانی بھی ہو عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی ایک چیز روشنی بھی ہو اور اندھیرا بھی ہو ایک آدمی زندہ بھی ہو اور مردہ بھی ہو عقل نہیں مانتی کسی چیز کا بیک وقت موجود اور معدوم ہونا ۔
محال شرعی: وہ ہے جس کا وقوع شرعا ناممکن ہو یعنی شریعت اس کے وقوع کو تسلیم نہ کرے۔
مثال : دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا ، کافر کا جنت میں جانا ، مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوی نبوت ، بغیر وضو نماز پڑھنا ، شراب کا پینا ، یہ تمام محال شرعی ہے ۔ ان کو شریعت نے منع کر دیا ہے ان کا وجود شرعا ممنوع ہے ۔
محال عادی : وہ چیز جس کا وقوع عادتا محال ہو ، عام طور پر لوگوں کی عادت میں نہ ہوتا ہو ۔
مثال : ایک آدمی اتنا دوڑے کہ پانچ سو کلو میٹر فی گھنٹہ اس کی رفتار ہو ، مردہ کا زندہ ہونا ، چاند کا دو ٹکڑے ہونا ، آگ میں ڈالنے کے باوجود بدن کا سلامت رہنا ، سوکھی لکڑی کا عصا زندہ اژدہا بن جانا ، عقلا ممکن ہو لیکن عادتا محال ہو ۔
آمدم بر سر مطلب :
اس تمہید کے بعد جواب کا سمجھنا آسان ہوگا مجتہد مطلق اب نہیں ہوسکتا یہ نہ محال عقلی ہے نہ محال شرعی ہے بلکہ محال عادی ہے مجتہد مطلق کے اب محال ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اب لوگوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ قرآن پر نظر ہو دس لاکھ احادیث کا حافظ ہو موضوع اور صحیح کو الگ بھی کرسکتا ہوسارے علوم اس کے پاس ہوں اصول اور فروع بھی اپنے نکالے اب یہ تمام صلاحیتیں مفقود ہیں اب جو پہلے علمی سرمایہ ہے اس پر اعتماد کی ضرورت ہے یہ جدید محققین اکابرواسلاف پر بد اعتمادی اور بد گمانی پیدا کرتےہیں آج کے دور میں نیا "امامِ مجتہد" بننے کی بات دراصل ائمہ اربعہ سے بے نیازی کی راہ ہے اور یہ امت میں انتشار، گمراہی اور تقلیدِ نفس کا دروازہ کھولتی ہے۔ آسان حل یہ ہے کہ تقلید کی جائے اور گمراہی سے اپنے آپ کو محفوظ کیا جائے۔
استاذ محترم متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ مسئلہ تقلید میں لکھتے ہیں کہ اگر تقلید بڑوں پر اعتماد والا مزاج بن جائے تو بعد والے پہلے والوں سے جڑ جائیں گے جس سے امت امت واحدہ بن جائے گی ترک تقلید سے فرقہ واریت جنم لیتی ہے جبکہ تقلید سے فرقے ختم ہوجائیں گے تقلید سے آسانیاں جبکہ ترک تقلید سے مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ عوام الناس کے لیے ہر ہر مسئلے کی مکمل تحقیق کرنا انتہائی مشکل کام ہے جبکہ بڑوں پر اعتماد کرتے ہوۓ ان کی بات مان لینا تقلید کرنا آسان کام ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس اور گمراہ کرنے والوں کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے اکابر و اسلاف کے منہج پر استقامت عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں