مفتی رب نواز حفظہ اللہ ، احمد پور شرقیہ
مدعیان اہلِ حدیث مذموم تقلید کی دلدل میں
قرآن وحدیث کے خلاف تقلید کرنا
"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"
مولانا عبدالحق غزنوی نے مولانا ثناء اللہ امر تسری کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ناسخ و منسوخ ،تقدیر ،معجزات، کرامات ،صفات باری ،دیدار الہی ،میزان ،عذاب قبر ، عرش ،لوح محفوظ ،دابۃ الارض ،طلو ع الشمس ازمغرب وغیر ہ وغیر ہ جو اہل سنت میں مسائل اعتقادیہ اجماعیہ ہیں اور آیات قرآنیہ ان پر شاہد ہیں اور علماء اہل سنت نے اپنی تفاسیر میں بالا تفاق جن آیات کی تفاسیر ان مسائل کے ساتھ کی ہے انہوں نے ان سب آیتوں کو بتقلید کفرہٗ یونان و فرقہ ضالہ معتزلہ و قدریہ و جہمیہ خذلھم اللہ محرف و مبدل کر کے سبیل مو منین کو چھوڑ کراپنے آپ کو ویتبع غیر سبیل المومنین نوله ماتولی و نصلہ جھنم وسآ ء ت مصیرا کا مصداق بنایا ۔‘‘
(الاربعین صفحہ ۵مشمولہ رسائل اہلِ حدیث جلد اول)
غزنوی صاحب نے امر تسری صاحب کے متعلق یہ بھی لکھا ہے:
’’تفسیر نبوی جس سے دیدار الٰہی اور مذہب اہل سنت و جماعت ثابت ہوتا تھا، چھوڑ کر جہمیہ و معتزلہ وغیرہ منکرین دیدار الٰہی کامقلد ہو گیا۔‘‘
(الاربعین صفحہ ۱۶)
غزنوی صاحب ان کے متعلق مزید لکھتے ہیں:
’’افسوس ہے برخلاف آیات کریمہ و اجماع ائمہ کے جا بجا اپنی تفسیر میں عر ش کی تفسیر بتقلید قفال حکومت اور بادشاہت کے ساتھ کرتا ہے، اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ عرش کے انکار سے تو کفر تک نوبت پہنچتی ہے۔‘‘
(الاربعین صفحہ ۱۷)
آگے پڑھیے ،لکھتے ہیں:
’’آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ اور اہل سلام کو چھوڑ کر قفال کا مقلد بن کر عرش سے انکاری ہو۔ا‘‘
(الاربعین صفحہ ۱۸)
یہ بھی پڑھیے:
’’چوں کہ مصنف تفسیر ثنائی کے نیچر کے خلاف ہے لہذا صریح حدیث سے خلاف کیا اور اس تفسیرسے ابو علی جبائی معتزلی کا مقلد ہوا۔‘‘
(الاربعین صفحہ ۱۹)
پڑھتے جائیے :
’’مصنف تفسیر ثنائی نے بتقلید فرقہ ضالہ معتزلہ برخلاف تفسیر نبوی وہ معنی کیاہے جس سے عذاب قبر اور سوال نکیر و منکر ثبوت تک نہ پہنچے۔ ‘‘
(الاربعین صفحہ ۲۰)
وکیل اہل حدیث کہلائے جانے والے مصنف مولانا محمد حسین بٹالوی نے امر تسری صاحب کے متعلق لکھا:
’’احادیث صحیحہ نبویہ مفسرہ قرآن کو چھوڑ کر بہ تقلید معتزلہ ونیچر یہ قرآن کی تفسیر رائے سے کرتا ہے‘‘۔
(الاربعین صفحہ ۴۴)
مولانا عبدالمنان نور پوری لکھتے ہیں:
’’بعض اوقات اہلِ حدیث بھی تقلید کی دعوت دینا شروع کر دیتے ہیں کوئی مسئلہ بیان کیا جائے، قرآن کی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا جائے تو کہا جاتا ہے فلاں صاحب نے یہ فتوی دیا ہے، کیا یہ تقلید نہیں ؟دوسروں کے متعلق تو تقلید کا مسئلہ پوچھتا ہے اور خود وہ تقلید کر رہا ہے۔ ‘‘
(مقالات نور پوری صفحہ ۱۵۸)
مولانا عبدالقادر حصاری نے جماعت غرباء اہلِ حدیث کے ’’ امام ‘‘عبدالوہاب کے باطل عقیدہ اور ان کی تقلید کرنے والے اہلِ حدیثوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا :
’’یہ خلاصہ ہے ان کے اس اصول اور عقیدہ کا جو سرا سر باطل اور نقل و عقل کے بالکل خلاف ہے بلکہ یہ تقلید اور یہ عقیدہ تمام مقلدین کے اصول اور عقیدہ سے بھی بدترین ہے۔ ‘‘
(اصلی اہل سنت کی پہچان صفحہ ۲۱۵)
امام اہلِ حدیث وحید الزمان لکھتے ہیں:
وَکذلک لا باس بتتبع الرخص ۔۔۔واختیار قول اهل المدینة فی الغناء واختیار قول اهل الکوفة فی النبیذواختیار قول اهل مکة فی المتعة اذاجتهد وعرف ان الحق معهم او قلد احدامنهم و منع الشیخ ابن القیم عنه تحکم بحت لا دلیل علیه ۔‘‘
اور اسی طرح رخصتیں(سہولیات )تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں یعنی گانے کے جواز میں اہل مدنیہ کا قول اختیار کرنے میں، نبیذ میں اہل کوفہ کا قول اختیار کرنے میں اور متعہ کے جواز میں اہل مکہ کا قول اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ وہ اجتہاد کرے اور جان لے کہ حق ان کے ساتھ ہے یا ان میں سے کسی کی تقلید کر لے اور شیخ ابن قیم کا اس سے منع کرنا محض سینہ زوری ہے اس کے منع ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
(ھدیة المھدی جلد ۱صفحہ ۱۱۲)
وحید الزمان صاحب دوسری صورت لکھ رہے ہیں کہ کوئی شخص گانا اور متعہ کو جائز قرار دینے والوں کی تقلید کرلے تو ان کی تقلید میں اس کے لیے گانا سننا اور متعہ کرنا جائز ہو گا۔
گانا اور متعہ از روئے حدیث ممنوع ہیں اس کے باوجود امام اہلِ حدیث وحیدالزمان کا سہولیات کے حصول کے لیے ان کو کسی کی تقلید کی وجہ سے جائز قرار دینا تقلید محمود ہے یا مذموم ؟اس کا فیصلہ مدعیان اہلِ حدیث کریں۔
مدعیان اہلِ حدیث کا نااہل اور گمراہوں کی تقلید
وکیل اہل حدیث مولانامحمد حسین بٹالوی نے اہل سنت اوراہلِ حدیث کی تقلید میں فرق بیان کرتے ہوئے لکھا:
’’ایسے اندھا دھند احادیث پر عمل کرنے والے محققوں اور مذاہب مشہورہ کے مقلدوں میں سر موفرق نہیں ہے ہاں یہ فرق ہے کہ وہ ائمہ مجتہدین مسلم الاجتھادکے مقلد ہیں اور یہ غیر مجتہدین کے مقلد ۔یہ مقلد نام کے محقق جیسے احادیث غیر صحیحہ کے تسلیم میں بے ضبطی کر رہے ہیں ویسے ہی احادیث صحیحہ وحسنہ لائق عمل کو رد کرنے میں بے ضبط ہو رہے ہیں۔‘‘
(اشاعۃ السنۃ جلد ۱۱بحوالہ تجلیات صفدر جلد ۳ صفحہ ۳۱۳)
مولانا رسول خاں بنگلوری فرماتے ہیں:
’’افسوس صدافسوس ان حضرات علماء پر ہے جو ہلِ حدیث کے علما ء کہلا کر ایک خود پسند کے مقلد بن گئے ہیں افسوس کہ آج کل ائمہ دین کی تقلید سے تو وحشت ونفرت ہو رہی ہے اور گمراہوں کی تقلید اختیار کی ہے۔‘‘
(اشاعۃ السنۃ جلد ۲۳ صفحہ ۴۱)
وکیل ااہلِ حدیث محمد حسین بٹالوی نے مولانا ثناء اللہ امر تسری کے متعلق لکھا:
’’وہ ابو مسلم جاحظ معتزلی کا مقلد ہے“
(اشاعۃ السنۃ جلد ۲۲ صفحہ ۲۷۱)
بٹالوی صاحب ہی لکھتے ہیں:
’’مولوی ثناء اللہ……معتزلہ اور ان کے دام افتادہ متکلمین مفسرین کا مقلد و پیرو ہے۔ ‘‘
(اشاعۃ السنۃ جلد ۲۳ صفحہ ۳۲۲)
مولانا عبدالحق غزنوی نے مولانا ثناء اللہ امر تسری کے متعلق لکھا :
’’چوں کہ تفاسیر اہل اسلام کے مطابق تفسیر کرنے سے ناسخ و منسوخ کا مسئلہ ثابت ہوتا تھا اس واسطے اہل سنت کی تفاسیر کو چھوڑ کر ابو مسلم اصفہا نی معتزلی کا مقلد بنا‘‘۔
(الاربعین صفحہ ۸ مشمولہ رسائل اہلحدیث جلد اول)
غزنوی صاحب ہی لکھتے ہیں:
’’افسوس ہے کہ اس مولوی فاضل نے تمام تفاسیر مسلمہ اہل اسلام کو چھوڑ کر ایک معتزلی ملحد مزاج آدمی کا مقلد بن کر اپنی تفسیر میں اکثر اس کے اقوال کو اختیار کیا ہے۔ ‘‘
(الاربعین صفحہ۸)
غزنوی صاحب مزید انکشاف فرماتے ہیں:
’’مصنف تفسیر ثنائی نے برخلاف تمام تفاسیر اہل سنت و جماعت کے ابو مسلم اصفہانی معتزلی کی تقلید کر کے عقدت ایمانکم سے خاوند اور بیوی مراد لی ہے۔ ‘‘
(اربعین صفحہ ۱۱)
آگے پڑھیئے،غزنوی صاحب لکھتے ہیں:
’’اہل سنت کی تفاسیر چھوڑ کر ابو مسلم اصفہانی معتزلی کا مقلد بنا۔‘‘
(الاربعین صفحہ ۱۱)
غزنوی صاحب ہی لکھتے ہیں:
’’مصنف تفسیر ثنائی نے تمام اہل سنت کو چھوڑ کر ابو مسلم اصفہانی ملحد مزاج معتزلی کے قول کی تقلید اختیار کی ہے ‘‘۔
(الاربعین صفحہ ۱۵)
غزنوی صاحب نے ان کے متعلق یہ بھی لکھا ہے:
’’فلاسفہ اور نیچریوں اور معتزلہ کا مقلد ہے۔ ‘‘
(الاربعین صفحہ ۵)
بہت سے اہلِ حدیث کہلائے جانے والے حضرات ہیں جو گمراہوں کی تقلید کرنے والے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے مقلدہیں دیکھئے ! ،اشاعۃ السنۃ جلد ۲۳ صفحہ ۵۴۔ ۶۵۔ ۷۰۔ ۷۱۔ ۷۲۔ ۷۷۔ ۸۸۔ ۹۳۔ ۹۵وغیرہ۔
اختصا ر کے پیش نظر ہم نے صفحات نمبر در ج کر دئیے ہیں، بطور نمونہ ایک اقتباس بھی نقل کرتے ہیں:
وکیل اہلِ حدیث محمد حسین بٹالوی نے مولاناعبدالعزیز رحیم آبادی کے متعلق لکھا:
’’وہ ثناء اللہ کے دھوکہ میں آ کر اس کی تقلید سے بعض غلط باتوں کو بھی صحیح سمجھ کر اس مصرعہ کے مصداق ہو رہے ہیں فعین الرضامن کل عیب کلیلۃ۔‘‘
(اشاعۃ السنۃ جلد ۲۳ صفحہ ۶۵)
قیام حجت کے بعد تقلید پہ قائم رہنا
اہلِ حدیثوں میں یہ تقلید اختیار کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں مثلاََ۔
اوپر آپ اہلِ حدیث ہی کی زبانی پڑھ چکے ہیں کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری گمراہ فرقوں اور لوگوں کے مقلد رہے، علمائے وقت نے انہیں سمجھانے کے لئے متعدد کتب اربعین ، فیصلہ مکہ ،فیصلہ حجازیہ ،فتنہ ثنائیہ وغیرہ لکھیں مگر وہ اسی تقلیدی روش پر ڈٹے رہے ۔
مولانا عبدالمجید سوہدری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’بہرحال اگر علماء (سمجھانے پر)بضد تھے تو مرحوم (امرتسری)بھی کسی صورت جھکنے پر آمادہ نہ ہوئے۔‘‘
(سیرۃ ثنائی صفحہ ۴۵۱)
غربائے اہلِ حدیث والے اپنے امتیازی مسائل میں اپنے علماء کے مقلد ہیں ان میں سے کئی مسائل ایسے ہیں کہ علماء کرام نے از روئے دلائل ان مسائل کا غلط ہونا ثابت کر دیاہے مگر وہ انہی پہ اڑے ہوئے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک جن کی وہ تقلید کرتے ہیں شارع ہیں یا مثلِ معصوم ہیں۔
مدعیان اہلِ حدیث کے’’ حجۃ الاسلام ‘‘ مولانامحمدگوندلوی لکھتے ہیں:
’’اہلِ حدیث میں امامت دہلویہ ہے، اب اس نے آہستہ آہستہ تقلید کی صورت اختیار کرلی ہے جس سے اہلِ حدیث ہمیشہ منع کرتے آئے ہیں، ان کے معتقدین سوائے اپنے امام کے کسی مسئلہ میں دوسرے عالم سے مسئلہ پوچھ کر عمل کرنے کو تیار نہیں، انہوں نے اپنے امام کو شارع سمجھ لیا ہے اس امامت کے خیال کو اتنا درجہ دیا ہے کہ اس وجہ سے دوسروں سے اتنا تعصب کرتے ہیں جتنا افتراق کی وجہ سے ایک فرقہ کو دوسرے فرقہ سے ہوتا ہے۔‘‘
(الاصلاح،ص:۲۱۹)
مولانا عبدالقادر حصاروی نے غرباء اہلِ حدیث متعلق لکھا:
’’اپنے مقرر کردہ امام کی تقلید کرنا بھی ان کا شیوہ ہے اور یہ اپنے امام کو مثل معصوم سمجھتے ہیں۔‘‘
(اصلی اہلسنت کی پہچان،ص:۲۱۳)
مولانا عبدالجلیل سامرودی لکھتے ہیں:
’’مولانا (داؤد)رازصاحب نے بھی اس روایت کا اقرار تو کر لیا مگر ترجمہ میں وہی اندھی تقلید سے کام لیا جو ایک اہلِ حدیث کی شان سے بعید ہے۔ ‘‘
(صحیفہ اہل ِحدیث کراچی یکم جمادی الاولی ۱۳۷۷ھ صفحہ ۹)
امام اہلِ حدیث وحید الزمان کے علم میں ہے کہ از روئے حدیث متعہ اور گانا دونوں حرام ہیں مگر وہ بطور تقلید متعہ کرنے اور گانے سننے کو فقہ محمدی قرار دیتے ہیں جیسا کہ اوپر ان کی کتاب’’ هدیة المهدی من الفقه المحمدی جلد ۱صفحہ ۱۱۲ کے حوالہ سے مذکور ہو چکا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں