نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اصولِ عقائد اور فروعِ عقائد: تقلید کا دائرہ اور اہلِ سنت کا متوازن موقف



اصولِ عقائد اور فروعِ عقائد: تقلید کا دائرہ اور اہلِ سنت کا متوازن موقف

 مولانا محمد جواد حقانی  صاحب حفظہ اللہ مدرس جامعہ دیوبند پشاور

"ماخوذ از مجلہ رہِ ہدایت، شمار نمبر 43"


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

اسلامی علمی روایت میں ’’تقلید‘‘ ایک ایسا موضوع ہے جس نے ہر دور کے اہلِ علم کی توجہ اپنی جانب مبذول رکھی۔ شریعت کی تفہیم، دین کے فہم میں مراتبِ اجتہاد و اتباع، اور عقیدہ و عمل کے میدان میں حجیتِ دلیل کے مباحث—یہ سب مسائل تقلید کے تصور سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ خاص طور پر جب اہلِ السنّة کی علمی تاریخ سامنے رکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عقائد و فروعات کے باب میں تقلید کے حکم نے فقہاء، متکلمین اور اصولیین کے ہاں مختلف جہات سے بحث پائی ہے۔

‎ایک طرف عوامِ مسلمان کے لیے تقلید کی ضرورت و اہمیت پر دلائل قائم کیے گئے، تو دوسری طرف اصولِ اعتقاد میں نظر و استدلال کی فرضیت کو شدت کے ساتھ بیان کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ائمۂ اشاعرہ و ماتریدیہ نے بابِ عقائد میں تقلید کے عدمِ کفایت پر روشنی ڈالی، جبکہ فقہاء نے بابِ احکامِ شرعیہ و فروعات میں تقلید کی شرعی حیثیت کو واضح کیا۔ ان متعدد زاویوں کو یکجا کیے بغیر تقلید کے مسئلے کی صحیح تصویر سامنے نہیں آتی۔

‎عہدِ جدید میں جب بعض گروہوں نے ’’تقلید‘‘ کے نام پر شبہات پیدا کیے، اور اس موضوع کو امت کے علمی ورثے سے کاٹ کر پیش کیا، تو ضرورت محسوس ہوئی کہ اس پر قدیم و جدید مصادر کی روشنی میں ایک جامع، اصولی اور تحقیقی گفتگو مرتب کی جائے۔ جس میں یہ واضح ہو کہ

‎▪︎ کیا عقائد میں تقلید معتبر ہے یا نہیں؟

‎تقلید کے معنی:

‎کسی مجتہد کو اپنی عقیدت مندی کا ہار پہنانا،یعنی اس کا معتقد ہونا،اس کو اپنا بڑا ماننا اور اس کی پیروی کرنا[غیر مقلدین سے لاجواب سوالات،شیخ الہند رح ص۔64]

‎تقلید کی تفسیر:

‎ہم رسول اللہ ﷺ کی احادیث وارشادات پر عمل کرتے ہیں اس تفسیر پر جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے 

بیان کی ہے۔[اشرف الجواب لتھانوی رحمہ اللہ]

‎جن علماء نے عقائد میں تقلید کو حرام یا ناجائز کہا ہے، ان کی بنیاد ایک خاص اصول (اصل) پر ہے۔ یہ اصول دراصل دو بنیادی دلیلوں (مقدمات) سے مل کر بنتا ہے:

‎1. مقدمہ اول: عقائد میں یقین (قطعی علم) حاصل کرنا لازم ہے

‎عقائد یعنی ایمان کے بنیادی مسائل—جیسے اللہ کی توحید، نبوت، آخرت وغیرہ—یہ وہ امور ہیں جن میں یقین ضروری ہے۔

‎ایمان شک اور ظن پر قائم نہیں ہوسکتا؛ لہٰذا عقائد کا صحیح علم قطعی ثبوت کے ساتھ ہونا چاہیے، یعنی دل مطمئن ہو، دلیل قائم ہو، اور انسان مکمل طور پر جان لے کہ یہ حق ہے۔

‎2. مقدمہ دوم: تقلید سے یقین حاصل نہیں ہوتا

‎تقلید کا مطلب ہے کہ آدمی کسی دوسرے کے قول کو بلا دلیل قبول کرے۔

‎مقلد نہ دلیل جانتا ہے، نہ سبب، نہ استدلال—اسے صرف یہ معلوم ہے کہ فلاں عالم یا امام نے یہ کہا ہے۔

‎متکلمین کے نزدیک اس طرح کا علم یقین نہیں پیدا کرتا بلکہ زیادہ سے زیادہ گمان یا ظن پیدا کرتا ہے، اور بعض اوقات تقلید شک کو بھی جنم دیتی ہے۔

‎کیونکہ مقلد جب کسی دوسرے کی بات بنا دلیل مانتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ سوال باقی رہ سکتا ہے:

‎“کیا واقعی یہ بات حق ہے؟ میں کیسے یقین کروں؟ صرف کسی کے کہنے سے؟”

‎لہٰذا ان کے نزدیک تقلید یقین کے درجے تک نہیں پہنچا سکتی۔عقائد میں یقین شرط ہے، اور  تقلید یقین تک پہنچانے والی نہیں،تو اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے:

‎“عقائد میں تقلید جائز نہیں؛ بلکہ لازم ہے کہ ہر شخص دلیل اور برہان کے ساتھ اپنے عقیدے کو جانے اور سمجھے۔”

‎امام سنوسی رح فرماتے ہیں:

‎يقول السنوسي (ت: 895هـ) في شرحه لمنظومة الزواوي وهو يقرر أنَّ التقليد لا يوصل إلى اليقين بل يورث الشك: “حاصل ما ذكر في 

التقليد في أصول العقائد أربعة أقوال:

‎الأول: أنه لا يصحّ فيها التقليد، وهو مذهب الجمهور، وبعضهم يحكي الإجماع عليه، ودليل هذا القول: أنَّا مكلَّفون بمعرفة الله تعالى ومعرفة رسله، وما يحصل للمقلد لا يسمَّى علمًا ولا معرفة، إذ المعرفة والعلم بمعنى واحدٍ، وهو الجزم الذي لا يحتمل النقيض بوجه من الوجوه، والعقد التقليديّ يحتمل النقيض والتزلزل عند تشكيك المشكك”

‎ويذكر السنوسي أنَّ التقليد يورث الشكَّ، وبوجوده لا يصحّ الإيمان، يقول: “والعقد التقليدي يحتمل النقيض والتزلزل عند تشكيك المشكك"

‎ترجمہ۔امام سنوسیؒ (متوفی 895ھ) منظومہ زواوی کی شرح میں اصولِ عقائد میں تقلید کے عدمِ کفایت پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

‎“اصولِ دین میں تقلید سے متعلق بیان کردہ بحث کا خلاصہ چار اقوال پر مشتمل ہے۔

‎ان میں پہلا قول—جو جمہور متکلمین کا مذہب ہے، بلکہ بعض نے اس پر اجماع بھی نقل کیا ہے—یہ ہے کہ عقائد میں تقلید صحیح نہیں۔ اس موقف کی دلیل یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے رسولوں کی معرفت کا مکلف ہے، اور مقلد کے پاس جو اعتقاد ہوتا ہے وہ نہ علم کہلایا جا سکتا ہے اور نہ معرفت۔ اس لیے کہ علم اور معرفت دونوں کا حقیقی مفہوم ایک ہی ہے، یعنی ایسا جزم جو کسی بھی صورت میں نقیض کے امکان کو قبول نہ کرے۔ جبکہ تقلیدی اعتقاد اپنے اندر نقیض کے احتمال کو رکھتا ہے اور کسی مشکوک کرنے والے کے اعتراض پر تزلزل کا شکار ہو جاتا ہے۔”

‎اسی ضمن میں امام سنوسیؒ اس حقیقت کی مزید تاکید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

‎“تقلیدی اعتقاد میں نقیض کا احتمال موجود ہوتا ہے، اور جب کوئی مشتبہ اعتراض کرنے والا شبہ پیش کرتا ہے تو اس میں تزلزل پیدا ہو جاتا ہے۔”

‎امام سنوسیؒ کی تصریح کے مطابق:

‎علم اور معرفت کا حقیقی مفہوم جزم قطعی ہے۔

‎ایسا جزم جو کسی بھی جہت سے نقیض (مخالفت) کے امکان کو قبول نہ کرے۔یعنی دل ایسی قوت سے تصدیق کرے کہ کوئی شبہ یا اعتراض اسے نہ ہلا سکے۔یہ معیار صرف عقلی و یقینی دلائل سے ہی حاصل ہو سکتا ہے، محض تقلید سے نہیں۔

غیر مقلدین کی اعتراضات 

تقلید اور اتباع کے موضوع پر عصرِ حاضر کے بعض حلقوں کی طرف سے متعدد اعتراضات سامنے آتے ہیں، خصوصاً انگریز کے دور میں پیدا ہونے والے غیر مقلدین کے اس گروہ کی جانب سے جو فقہ اور علمِ کلام کے مسلمہ اصولوں سے ناآشنا ہونے کے باعث تاریخی و علمی روایات پر اشکالات وارد کرتے ہیں۔

‎اعتراض اوّل:

"جب حنفیہ فقہی اصول و فروعات میں امام ابوحنیفہ کے مقلد ہیں تو عقائد اور ان کے اصول و تفریعات میں امام ابومنصور ماتریدی کی پیروی کیوں کرتے ہیں؟ کیا اس میں امام ابوحنیفہ کو چھوڑ دینا لازم نہیں آتا؟"

تحقیقی جواب:

یہ اعتراض علمِ کلام اور فقہ کے تاریخی ارتقاء سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ احناف نے عقائد کے باب میں امام ابوحنیفہ کو کبھی ترک نہیں کیا؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امام ماتریدی نے وہی منہج، اسلوب اور عقلی منطق مضبوط و منقّح صورت میں پیش کی جو اصلًا امام ابوحنیفہ سے چلی آ رہی تھی۔

امام ماتریدی کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اس علمی وراثت کو منظم کیا، اس کے مسائل کو مستحکم کیا اور حنفیہ کے علمی ذخیرے کو ایک مضبوط نظامِ علم کی شکل میں دنیا کے سامنے رکھا۔ چنانچہ بعد کے تمام احناف میں علمِ کلام کی خدمت انہی کے ذریعہ سمٹ آئی، اور جو بڑے بڑے متکلمین اور محققین پیدا ہوئے وہ یا تو براہ راست امام ماتریدی کے تلامذہ تھے یا ان کے تلامذہ کے فیض یافتہ۔

لہٰذا عقائد میں امام ماتریدی کی طرف نسبت کا لازمی مطلب امام ابوحنیفہ کی نسبت کا ختم ہو جانا نہیں، بلکہ یہ نسبت احناف کے منہج عقائد کی تدوینِ نو کا ایک تاریخی عنوان ہے۔

مولانا خلیل احمد سہارنپوری اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں:

"أَنَّا بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَشَايِخُنَا رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ وَجَمِيعُ طَائِفَتِنَا وَجَمَاعَتِنَا مُقَلِّدُونَ لِقُدْوَةِ الْأَنَامِ وَذِرْوَةِ الْإِسْلَامِ، الْإِمَامِ الْهُمَامِ، الْإِمَامِ الْأَعْظَمِ أَبِي حَنِيفَةَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفُرُوعِ، وَمُتَّبِعُونَ لِلْإِمَامِ الْهُمَامِ أَبِي الْحَسَنِ الْأَشْعَرِي وَالْإِمَامِ الْهُمَامِ أَبِي مَنْصُورٍ الْمَاتُرِيدِي رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فِي الِاعْتِقَادِ وَالْأُصُولِ."

"ہم، ہمارے مشائخ اور ہماری پوری جماعت فروعات میں امام اعظم ابو حنیفہ کے مقلد ہیں، اور اصول و اعتقادیات میں امام ابو الحسن الاشعری اور امام ابو منصور ماتریدی کے پیروکار ہیں۔"

[المہند علی المفند]

یہ نصوص واضح کرتی ہیں کہ اُمت نے ہر مقام پر اسی کو اختیار کیا جو علمی طور پر مضبوط، واضح اور مؤثر تھا۔ 

اعتراض دوم:

قارئین کرام فرقہ غیر مقلدین ایک اور اعتراض کرتے ہیں ۔کہ  عقیدے میں تو تقلید جائز نہیں ہوتی، پھر امام ابوالحسن اشعری یا امام ابومنصور ماتریدی کی پیروی کا کیا مطلب؟

الجواب :

  اس جواب کے دو پہلو ہیں۔

پہلی بات۔ 

عقائد کی دوقسمیں ہیں: (۱)اصولِ عقائد(۲) فروعِ عقائد؛ چنانچہ عقیدے میں عدم تقلید کا تعلق اصولِ عقائد کے ساتھ ہے۔ عقائد کے فروعی مسائل میں تقلید جائز ہے؛ کیوں کہ عقائد کی فروعی جزئیات و مسائل منصوص نہیں ہوتے بلکہ علماء کے اجتہادات کا نتیجہ ہوتے ہیں چنانچہ جس طرح فقہی اجتہادات میں فقہائے کرام کی پیروی کی جاتی ہے اسی طرح اِن اجتہادات میں بھی ماہرین عقائد جنہیں بالعموم اصطلاح اہل سنت میں ’’متکلمین‘‘ کہاجاتا ہے، اُن کی پیروی کی جاتی ہے۔

دوسری بات ۔

ان ائمہ کی طرف عقائد میں پیروی کا مطلب یہ نہیں کہ ان حضرات نے اپنی طرف سے عقائد گھڑے اور علمائے امت نے اس میں ان کی پیروی کرلی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان حضرات اسلامی عقائد کی تشریح و تبیین اور ان کے دفاع کے لیے اپنی زندگی بھر کی کاوشوں سے جو ایک منہج اور اسلوب وضع کیاتو بعد والوں نے اس منہج اور اسلوب کو بے حد مفید اور نافع سمجھ کر اپنالیاتو واضح ہوا کہ یہ پیروی اسلوب بیان و طرز توضیح و تشریح میں ہے ، نفس عقائد میں تقلید اور پیروی نہیں ہے۔

 یہ وہ بات ہے جس بات کو جلیل القدر فقیہ و محدث قاضی عیاض المالکی (متوفیٰ 544ھ) نے اپنی کتاب «ترتیب المدارک» میں امام ابوالحسن اشعریؒ کے حالات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے۔

 [تحریر: مولانا محمد سعید احمد پالنپوری، آج کے سلفی]

حقیقت یہ ہے کہ حنفی فقہ کی طرح حنفی عقائد بھی ایک مسلسل علمی سلسلہ ہیں—جو امام اعظم سے شروع ہوکر امام ماتریدی اور بعد کے متکلمین کے ذریعے مدون صورت میں باقی امت تک پہنچے۔

اسی بنا پر واضح ہوتا ہے کہ تقلید اور اتباع کے اعتراضات دراصل علمی اصولوں سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔

اہلِ سنت کا موقف ہمیشہ معتدل، متوازن اور دلائل سے روشن رہا ہے:

اصولِ دین میں یقین، اور فروع میں اہلِ علم کی رہنمائی۔

یہی وہ علمی منہج ہے جس نے چودہ صدیوں تک امت کے عقیدے کی حفاظت کی ہے۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...