نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیا امام کے پیچھے قِراءَت کرنی ہے؟ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے حدیث پیش کی جاتی ہے کہ انہوں نے امام کے پیچھے قِراءَت کرنے کا حکم دیا ؟

 


کیا امام کے پیچھے قِراءَت کرنی ہے؟

حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے حدیث پیش کی جاتی ہے کہ انہوں نے امام کے پیچھے قِراءَت کرنے کا حکم دیا


جواب - حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے امام کے پیچھے قِراءَت کرنے یا نہ کرنے کو لے کر اضطراب پایا جاتا ہے، اس تعلق سے الگ الگ احادیث میں الگ الگ احکام منقول ہیں۔


حدیث 1 - امام کے پیچھے قِراءَت نہ کرنے کا حکم۔ (مصنف عبد الرزاق)

حدیث 2 - امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم۔ (سنن دار قطنی، سنن بیہقی)

حدیث 3 - امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورۃ بھی پڑھنے کا حکم۔ (سنن بیہقی، مصنف ابن ابی شَیْبَہ)

حدیث 4 - امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ دل میں پڑھنے کا حکم۔ (سنن بیہقی،  قرأت خلف الامام للبيهقي )


ان مختلف احادیث میں چونکہ اضطراب ہے یعنی کسی روایت سے کوئی حکم معلوم ہوتا ہے اور کسی روایت سے دوسرا حکم معلوم ہوتا ہے اس لیے یہ روایات ضعیف ٹھہرتی ہیں اور احادیث میں اضطراب اس کے ضعیف ہونے کی نشانی ہے۔ اس لیے امام ابن عبد البر نے اپنی کتاب ’التمہید‘ میں فرمایا کہ “اس باب میں حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے کوئی ایسی چیز ثابت نہیں جو یقینی ہو بلکہ اس بارے میں ان سے روایات میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ (اور مضطرب روایت ضعیف حدیث کی قسم ہے)


تنبیہ - یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ دل میں کچھ پڑھنا قِراءَت کے حکم میں نہیں ہے۔ امام ابن عبد البر ’تمہید جلد 11 صفحہ 46‘ میں فرماتے ہیں ‘دل میں پڑھنا جبکہ زبان کو حرکت نہ دی جائے حقیقت میں قِراءَت نہیں ہے، بلکہ وہ صرف دل کا کلام ہے۔ وہ ایسا عمل نہیں جس سے کسی ایسے فرض کی ادائیگی ہو جائے جس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔



تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...