غیر مقلدین کے دوہرے معیار کا علمی و اصولی جائزہ : حدیث میں تقلید پر اجر، فقہ میں تقلید پر شرک؟
غیرمقلدین سے ہمارے چند سوالات
یہ بات اپنی جگہ اہم ہے اور اس میں ایک اصولی حقیقت کی طرف اشارہ موجود ہے، لیکن اسی تحریر کی روشنی میں غیر مقلدین کے طرزِ عمل پر چند نہایت بنیادی اور سنجیدہ سوالات خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں، جن کا جواب آج تک علمی سطح پر تسلی بخش انداز میں نہیں دیا جا سکا۔
پہلا بنیادی سوال: غیر مقلد عامی کس بنیاد پر علی زئی و البانی کی بات مانتا ہے؟
سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ ایک غیر مقلد عامی جب شیخ زبیر علی زئی یا علامہ البانی کی تحقیق کو اختیار کرتا ہے تو کیا وہ اس تحقیق کو دلائل کے تفصیلی فہم اور براہِ راست استدلال کے بعد قبول کرتا ہے، یا محض اعتماد اور رجوع کی بنیاد پر؟ ظاہر ہے کہ عامی نہ اصولِ حدیث کا ماہر ہوتا ہے، نہ جرح و تعدیل کے دقائق سے واقف، اور نہ ہی اس کے پاس یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ خود دلائل کا موازنہ کر سکے۔ وہ محض اس اعتماد پر کسی محقق کی بات مان لیتا ہے۔ اگر یہی حقیقت ہے تو پھر یہ بات صاف طور پر تقلید کے زمرے میں آتی ہے، خواہ اس کا نام کچھ بھی رکھا جائے۔
اگر غیر مقلد عامی کے لیے زبیر علی زئی صاحب کی بات ماننا "اجر" ہے، تو کسی مسلمان کے لیے امامِ اعظم ابوحنیفہؒ کی بات ماننا "شرک" کیسے ہو گیا؟ کیا زبیر صاحب، امام صاحب سے زیادہ معتبر یا صاحبِ علم ہیں؟
حدیث میں اجتہادی اختلاف رحمت، فقہ میں جرم کیوں؟
صلاح الدین یوسف صاحب نے جو وجہ بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ علی زئی اور البانی کسی کے مقلد نہیں، اس لیے ان کی بات مان لینا درست ہے۔ لیکن اگر یہی معیار ہے تو پھر یہی بات امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے بارے میں کیوں تسلیم نہیں کی جاتی؟ یہ تمام ائمہ بھی کسی کے مقلد نہیں تھے، بلکہ مجتہد مطلق تھے، ان کے بھی اپنے اصول تھے، اور انہی اصولوں کے اطلاق میں باہمی اختلاف پیدا ہوا۔ اگر ان اصولوں کے اختلاف کو حدیث کے باب میں رحمت اور اجتہادی اختلاف کہا جاتا ہے تو فقہ کے باب میں اسی اختلاف کو شرک اور بدعت کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ اگر ایک غیر مقلد، زبیر علی زئی کے "تطبیقی اختلاف" کو رحمت سمجھتا ہے، تو اسے ائمہ اربعہ کے "فقہی اختلاف" پر سیخ پا کیوں ہونا چاہیے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ جدید دور کے محققین کی "رائے" تو دین ہے، مگر سلفِ صالحین کا "اجتہاد" بدعت قرار پائے؟
ائمۂ مجتہدین اور غیر مقلد محققین: اصول میں مساوات یا امتیاز؟
یہاں ایک اور نہایت اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر غیر مقلد عامی حدیث کے باب میں علی زئی یا البانی کی تقلید کر کے عنداللہ ماجور ہے، جیسا کہ خود غیر مقلدین کے علماء تسلیم کرتے ہیں، تو پھر فقہ کے باب میں ایک مقلد اگر ائمۂ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی پیروی کرے تو وہ عنداللہ ماجور کیوں نہیں ہوتا؟ اس پر شرک، جمود، تقلیدِ اعمیٰ اور بدعت کے فتوے کیوں صادر کیے جاتے ہیں؟ آخر یہ فرق کس اصول کے تحت پیدا کیا گیا ہے؟
ضعیف حدیث پر عمل: غیر مقلد قبولیت اور احناف پر اعتراض
اسی سے جڑا ہوا ایک اور تضاد یہ ہے کہ اگر علی زئی یا البانی پر اعتماد کرتے ہوئے کسی ضعیف حدیث پر عمل کرنا بھی درست اور موجبِ اجر ہے، تو پھر احناف پر ضعیف حدیث کے طعنے کس بنیاد پر مارے جاتے ہیں؟ اگر اعتماد اور اجتہاد کی بنیاد پر عمل قابلِ قبول ہے تو یہ اصول سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ احناف کو برا بھلا کہنا، ان پر حدیث دشمنی کے الزامات لگانا اور انہیں کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرنا آخر کس انصاف کے تحت جائز قرار پاتی ہے؟ اگر کوئی حدیث کسی کے نزدیک ضعیف ہے اور احناف کے نزدیک قابلِ عمل، تو صلاح الدین صاحب کے اپنے اصول کے مطابق احناف بھی "ماجور" ہونے چاہئیں، نہ کہ "مطعون"۔
حدیث میں تقلید پر اجر، فقہ میں تقلید پر شرک؟
ان تمام سوالات کا خلاصہ ایک ہی نکتے میں آ جاتا ہے کہ آخر یہ دہرا معیار کیوں؟ ایک ہی طرزِ عمل حدیث کے باب میں باعثِ اجر اور فقہ کے باب میں باعثِ جرم کیسے بن جاتا ہے؟ ایک ہی اصول اگر ایک جگہ رحمت ہے تو دوسری جگہ بدعت کیوں؟ جب تک اس بنیادی تضاد کا علمی اور دیانت دارانہ جواب نہیں دیا جاتا، اس وقت تک غیر مقلدین کا یہ طرزِ استدلال نہ اصولی طور پر مضبوط کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی منصفانہ۔
خلاصہِ کلام :
غیر مقلدین نے درحقیقت ائمہ اربعہ کی تقلید چھڑا کر اپنے چند مخصوص معاصرین کی تقلید میں امت کو جکڑ لیا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ:
پیروی اگر البانی کی ہو تو "اتباعِ سنت"، اور اگر امام شافعی کی ہو تو "اندھی تقلید"؟
غیر مقلدین کے اس رویے پر وہی شعر صادق آتا ہے:
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں