امام العصرعلامہ کشمیری کااسلوب نگارش
محمدسفیان عطاء
مدرس جامعہ رحیمیہ عابدیہ،
ڈیرہ غازی خان
اس تحریر سے خدانخواستہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ایسے لوگ حضرت شاہ صاحب کے اسلوب نگارش پر قلم اٹھانےکی جرأت کررہے ہیں۔حاشاکلا چہ نسبت خاک راباعالمِ پاک۔
اس عنوان سےہمارا مقصود،محض فضلاء اہل علم اور ارباب تحقیق کو توجہ دلانا ہے،کہ وہ اس عنوان کو مستقل طور پر اپنا موضوع تحقیق بنائیں، اوراس پر تفصیل سے لکھیں۔
شاہ صاحب کی ہر تحریر علوم و معارف کا گنجینہ ہوتی ہے۔جس کے حقائق و دقائق کایہ عالم ہے،کہ ان کے ایک ایک جملہ پر حضرت تھانوی مستقل رسالہ لکھ سکتےتھے،تبھی تو حضرت موصوف انہیں حجة الاسلام قرار دیتے تھے۔شاہ صاحب کی تحریرات اس کی بین گواہ ہیں، کہ ان کی طرف جومقولہ منسوب ہے،اس کی صحت میں کوئی اشکال نہیں،فرماتے تھے ،کہ رمضان میں بمشکل ایک بار تلاوت قرآن کرپاتاہوں،کہ صدیوں کے علوم ومعارف اپنےتمام ترتنوع ،اقسام ،اختلاف اورتوسع کےساتھ ان پرآواردہوتے،اس پرمستزادان کااخاذذہن،قوت استنباط واستخراج،وسعت فکر! اللہ اللہ کیا عالم ہوگا۔
یقینااگراکابرکی خواہش پرشرح بخاری و ترمذی پرانہیں قلم اٹھانامیسرآجاتا،تو ماضی کی علمی یادگاریں قصہ پارینہ بن جاتیں۔علمی مقام ومرتبہ کے تعین میں،بڑے بڑے نام ان کےبعد لئےجاتے۔"کم ترک الاول للاخر" دھرایاجاتا،اور "واخرین منهم لمایلحقوابهم" کی تفسیر سامنے آتی۔
هيهات لايأتي الزمان بمثله،إن الزمان بمثله لبخيل
افسوس کہ یہ فقیر انشائی اسلوب ، ذخیرہ الفاظ اور شاہ صاحب کے مقام و مرتبہ کے تعین کے لیے ضروری مواد سے تہی دامن ہے۔اور اسی شعر پر اکتفا کرتا ہے .
تمنيت أن القلب كان لساني: يبوح بشئ يحتويه جناني:
فإنني إذامارمت اظهارفضلكم: تقصرعنه منطقي وبياني
شاہ صاحب رحمہ اللہ نے 1338 ہجری میں بعمر 46 سال ،فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر ایک رسالہ بنام "فصل الخطاب"لکھا، جس میں انہوں نے اپنےبحرمواج کے ترجمان قلم سیال سے فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر، شارع علیہ السلام کی غرض تک پہچنے کی سعی کی مناظرانہ غرض انکے پیش نظرنہ تھی۔
(کتاب مذکور،ص: 7،مطبوعہ دارالبشائرالاسلامیہ،2010)
کتاب میں انہوں نے موضوع پر آنے والی جملہ روایات کے الفاظ وجملوں کا باہمی ربط، ان پر وارد ہونے والے نحوی ،منطقی، بیانی، فقہی، حدیثی روایتاودرایتا، لفظی معنوی اشکالات تعارض اور تناقض کا حل پیش کیا ہے۔اوراپنے مشہورمقولہ "فإن الحديث إذالم تجمع طرقه،لاينكشف مراده"(فيض الباري (432/1: کو چمکتےسورج کی طرح عیاں کیاہے۔ اور انہی علوم میں اپنی اجتہادی صلاحیتوں سے استخراج اور استنباط سے متعدد نئی مباحث کو چھیڑا ہے۔شایدعلامہ کوثری مرحوم نے اسی کتاب کو پڑھ کرکہاہوگا۔کہ "ابن ھمام کےبعدکوئی شخص سوائے امام العصر کےایسانہیں آیا،جواحادیث نبویہ سے نادرمباحث پیش کرسکتا ہو"۔
موضوعِ تحقیق کی وسعت کااندازہ اس سے ہوسکتاہے،کہ شاہ صاحب نے ان مباحث پر گفتگو کی ہے:
]قرات سے مراد فاتحہ کی قرات ہے،یاسورت آخرکی،یادونوں کی، ان کا حکم شرعی اباحت ہے،یاوجوب،یہ حکم شرعی دونوں کاہے،یاایک کا،حکم میں یکسانیت ہےیانہیں،حکم شرعی کاتعلق امام سے ہے،مقتدی سے ہے،منفردسے ہے،یاسب سے ،یابعض سے [
اس موضوع پر روات حدیث کے یہاں ملنے والے تمام الفاظ کونقل کرتےہوئے،ان پرمحاکمہ ،ادلہ موافق و مخالف کابیان،تعارض وتناقض کاحل پیش کرتے ہوئے،محققین ائمہ مجتہدین،ائمہ فقہ ،تفسیر ، حدیث،رجال،ادب،اصول، منطق کی نقول کی روشنی میں، معانی راجحہ ومرجوحہ کاتعین کرتے ہوئے،ان کے تعین پر قرآن وحدیث،اشعارومحاورات اورادلہ عقلیہ کےساتھ اپنے فیض خاطرسے لطیف استنباطات کوپیش کیاہے۔بلاشبہ علامہ کی تحریرات پڑھ کریہ خیال آتاہے،کہ اپنےاپنے زمانہ کے علوم مختلفہ کےگنےچنےائمہ فن محققین کے دماغ خودمیں سموئے اس نابغہ جہاں نے قلم اٹھایاہوگا۔
وليس على الله بمستنكر:أن يجمع العالم في واحد
"فصل الخطاب"کی ایک مختصر فصل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تحریر علوم انوری کی تقریب کےلئے رقم کی گئ ہے۔اس میں بین القوسین عبارات ہماری طرف سے بغرض تسہیل وتفہیم پیش کی گئی ہیں۔
فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر، حدیث عبادہ میں ایک جملہ ہے:
]لاتفعلوإلابأم القران،فإنه لاصلاة لمن لم يقرأبها[ اس کی توضیح کرتےہوئےحضرت علامہ کشمیری فرماتے ہیں، کہ :
]]فصل : ويحتمل أن يكون الاستثناء للإباحة. ثم قوله : فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها : تعليم لحكم آخر مستقل من حيث كونهم مصلين، لا من حيث كونهم مقتدين، أراد الإخبار بهذا وبهذا، وهو وجوبها في الصلاةالمطلقة، ولعل ضمير الشأن يأتي لمثل هذا، وعلمان خير من علم.
والإباحة على تقدير كون القصر للقلب، أو للتعيين أظهر، ولا ينافيه قصر الإفراد أيضاً .والباء في قوله : إلا بأم القرآن داخلة على المفعول به، والمراد الاقتصار عليها، بخلاف قوله : فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها أي لم يأت بها في جملة القراءة - ونظيره في تعليم أمرين قوله تعالى : وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى) أشكل وجهه، والوجه فيه أن قوله : وتزودوا أمر ، وقوله : فإن خير الزاد التقوى تعليم أمر آخر، وحكم ثان لهم، فقد كانوا أخذوا السؤال زاداً، فعلمهم أن يتزودوا، وأن خير الزاد التقوى والمراد بها معناها المعروف.
ففي الدر المنثور : وأخرج عبد بن حميد عن قتادة : وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى ، قال : كان ناس من أهل اليمن يحجون، ولا يتزودون، فأمرهم الله بالزاد والنفقة في سبيل الله ، وأخبرهم أن خير الزاد التقوى.
وأخرج الترمذي والحاكم عن أنس قال: جاء رجل، فقال:
يا رسول الله، إني أريد سفراً، فزودني فقال: زودك الله التقوى، قال : زدني، قال : وغفر ذنبك، قال: زدني بأبي أنت وأمي، قال:ويسر لك الخير حيثما كنت .وأخرج الترمذي وحسنه، والنسائي وابن ماجه، والحاكم وصححه، عن أبي هريرة، قال: جاء رجل إلى رسول الله ﷺ يريد سفراً ، فقال : أوصني، قال: أوصيك بتقوى الله، والتكبير على كل شرف .... إلخ . وليس المعنى أن خير زاد يكون هو ما يتقى به عن السؤال.وفي قنوت الوتر على مختار الحنفية وهما سورتان من مصحف ابن مسعود، وأبي، كما في الكنز و الإتقان: نرجو رحمتك، ونخشى عذابك، إن عذابك بالكفار ملحق فهذا وجه، وأكثر ما يقع هذا فيما يريد المتكلم مسايرة الواقعة، وإفادة ما عنده. نبه عليه في أحكام القرآن في قوله تعالى: يَتَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا شَهَدَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ [[
عبارت کاحاصل یہ ہے،کہ "اس بات کا احتمال ہے، کہ یہاں "لاتفعلواإلابأم القران"میں استثناء اباحت کے لیے ہو اور اگلا جملہ "فإنه لاصلاة لمن لم يقرأبها" مستقل طور پر ایک نئےحکم پر مشتمل ہو.کیونکہ مخاطب جماعت دو حیثیتیں رکھتی تھی،ایک حیثیت مقتدی کی تھی،دوسری مطلق نمازی ہونے کی۔ چنانچہ ان دونوں حیثیتوں کا اعتبار کرتے ہوئے دو حکم دیے گئے۔ ایک یہ بتایا گیا کہ مقتدی کی حیثیت سے قرات فاتحہ مباح ہے۔اوردوسرایہ کہ مطلق مصلی کی حیثیت سے قرات فاتحہ واجب ہے۔ شاید ضمیر شان اسی چیز کا فائدہ دے رہی ہے۔ )شاہ صاحب نے ص: 132پرائمہ نحوو بلاغت کی نقول پیش کی ہیں،کہ ضمیرشان تاکیدکافائدہ دیتی ہے،اورتاکید کااستعمال تب ہوتاہے،جب مخاطب اور متکلم میں اختلاف ہوتاہے۔( اور دو علم ایک علم سے بہتر ہیں۔) دو جملوں کے ایک حکم سے متعلق ہونے سے بہتر ہے کہ اان کو دو مستقل احکام سے متعلق کیا جائے.(
)اور چونکہ یہاں پر نفی و استثناءکے ساتھ جملہ استعمال ہوا ہے .جو کہ علم البیان میں قصر کی علامت قرارپاتی ہے۔ اور قصر کی تین اقسام ہیں تو علامہ فرماتے ہیں کہ تینوں اقسام یہاں پر مراد لی جا سکتی ہیں(چنانچہ یہاں پر قصرِ قلب ) گویا مخاطب، وجوب قرات کا قائل تھا،متعدد صحابہ کااقتداءنبوی میں فاتحہ پڑھنا، بعض کے التزام کاپتادیتا ہے، تو شارع علیہ السلام نے اس کے اعتقاد کے برعکس اباحت کا حکم دیا( اورقصرِ تعیین کی صورت)جس میں مخاطب حکمِ وجوب و اباحت کے درمیان متردد تھے،بعض صحابہ کا فاتحہ پڑھنا،بعض کانہ پڑھناان کےترددکی علامت ہے(میں حکم اباحت مرادہونااظہرہے،۔ اور بصورت قصرِ افراد، اگرچہ حکمِ اباحت؛ اظہر نہیں،لیکن اسکے مرادہونے کے منافی بھی نہیں،) چنانچہ قصر افراد کی صورت میں، مخاطب فاتحہ اور غیر فاتحہ دونوں پڑھنےکا اعتقاد رکھتےتھے۔جیساکہ روایت میں ہے،کہ مقتدی نے سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھی، تو شارع نے صرف فاتحہ کاتعین کیا( اور پہلے جملے میں باء چونکہ مفعول پر داخل ہے، اس لیے فقط فاتحہ ہی مراد ہے)جن روایات میں فقط فاتحہ کی اجازت مصرح ہے، وہ اس کی دلیل ہیں۔ اور دوسرے جملے میں فی الجملہ قرات فاتحہ مراد ہے ۔ کیونکہ یہاں نفی کمال مراد ہے نفی صحت مراد نہیں ہے ، جو تبھی درست ہو سکتی ہے، کہ یہاں وجوب فاتحہ مراد لی جائے، کیونکہ فاتحہ ترک کرنے کے ساتھ کسی نے دوسری آیات کی قرات کرلی، تو فرض کی ادائیگی ہو جائے گی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس جملہ میں قرات فاتحہ سے مراد فی الجملہ وجوب قرات فاتحہ ہے، اور نفی کا جملہ کمال نفی کے لئے ہے ، نفی صحت کے لئے نہیں۔ ورنہ ترک فاتحہ مع قرات سورت سے نمازنہ ہوتی۔ نیز علامہ ابن القیم نے بھی "بدائع الفوائد"میں یہی معنی مرد لیا ہے، جسے حضرت شاه صاحب نے صفحہ: 53 پر نقل کیا ہے۔ نیز جس طرح یہ دونوں جملے لفظا مستقل ہیں، ویسے معنی بھی مستقل ہیں، چنانچہ ایک میں اباحت دوسرے میں وجوب ہے ایک میں اقتصار ، دوسرے میں غير اقتصار معنی مراد ہے(اور اس بات کی نظیر کہ اس طرح کےجملوں )یعنی بظاہرعلت معلول کافائدہ دیتے جملوں( میں دونوں جملے مستقل معنی وحکم رکھتےہوں۔ قران مجید میں ارشاد ہے "وتزودوا،فإن خيرالزادالتقوى)" اب اس میں دونوں جملے علت و معلول ہونے کا خیال دیتے ہیں،لیکن( پہلے جملے کی طرح،دوسرا بھی مستقل الگ جملہ ہے۔چنانچہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ لوگ بغیر زاد راہ لیے حج کو جاتے تھے۔اورلوگوں سے، ضرورت پڑنےپرمانگنے کوہی بطورزادِراہ بنائےہوئےتھے، تو قران مجید نے ان کو نصیحت کی کہ وہ زاد راہ لیا کریں اور ساتھ ہی ایک افادہ فرمایا کہ بہترین زاد راہ تقوی ہے۔ اور تقوی سے یہاں مراد تقوی عن السوال نہیں ہے، بلکہ تقوی معروف) یعنی گناہوں سے بچنا( ہے۔) اور ظاہر ہے اس معنی کے لحاظ سے یہ پہلے جملے کی تعلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا،اگرچہ موہم ضرور ہے(
)رہی تقوی کے اس معنی میں مرادہونے کی دلیل، تو("در منثور" میں قتادہ سے مروی ہے کہ یمن کے لوگ حج کیا کرتے تھے اور زاد راہ نہیں لیا کرتے تھے تو اللہ تعالی نے ان کو حکم دیا کہ زاد راہ اور نفقہ لیا کریں اور یہ خبر دی کہ بہترین زاد راہ تقوی ہے ۔)چنانچہ راوی کا اسلوب بیان اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ یہاں پر دونوں جملے مستقل ہیں ،اورمستقل حکم رکھتے ہیں(
"ترمذی" و"مستدرک" میں حضرت انس رض سے روایت ہے، کہ" ایک شخص نے سفر کا ارادہ کیا تو اس نے رسول اللہ سے کہا کہ مجھے زاد راہ دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا کہ" زودك الله التقوى"۔
)تو اس جملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقوی معروف کے لیے تزود کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اور یہ اس بات کے دلیل ہے کہ زاد راہ کے لیے تقوی معروف کو استعمال کیا گیا ہے(
اسی طرح ترمذی،نسائی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رض سے حدیث صحیح نقل کی ہے کہ" ایک شخص رسول اللہ کے پاس آیا اس کا سفر کا ارادہ تھا، اس نے آپ سے نصیحت چاہی، تو آپ نے اسے تقوی کی نصیحت کی۔)"اس سے معلوم ہوا کہ آیت قرانی کا دوسرا حصہ تقوی معروف کے معنی میں لیا جا سکتا ہے جبکہ شان نزول کے مطابق آیت کا حصہ اولی زاد سفر معروف معنوں میں مراد لیا گیا ہے جس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ دونوں جملے بظاہرعلت معلول نظرآتے ہیں،اورایک حکم سے مرتبط معلوم ہوتےہیں، لیکن اپنی حقیقت میں یہ دو مستقل جملے ہیں)(اسی طرح ایک نظیر( دعاء قنوت ہے۔ جو کہ حنفیہ کے مختار مسلک کے مطابق ابن مسعود وابی بن کعب کے مصحف کے مطابق دو سورتیں تھیں۔ جیسا کہ "کنز" اور "اتقان" میں ہے۔)پیش نظررہے،کہ حنفیہ کے یہاں دعاء قنوت کےقران ِمنسوخ ہونے،یادوسورتیں ہونےکوعلامہ نے افادہ مزیدکےطورپرپیش کیاہے۔علامہ کے دعوی، صحت دعویٰ یادلیلِ دعویٰ میں اان امورکاکوئی تعلق نہیں)(چنانچہ اس دعا میں ہے
"نرجو رحمتك ونخشى عذابك،إن عذابك بالكفارملحق" اب اس دعا کاآخری جملہ ماقبل جملےسے علت و معلول کے ربط سے مرتبط نظر آرہا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے لحاظ سے یہ دو مستقل جملے ہیں، کیونکہ پہلے میں مسلمان عذاب سے پناہ مانگ رہےہیں۔اور دوسرےمیں کفارکےمعذب ہونے کی بات ہے۔( یہ حدیث کی ایک توجیہ ہے، عموما اس طرح کااسلوب ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں پر متکلم ایک واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اپنی طرف سے کوئی اضافی فائدہ بیان کرنا چاہتا ہے جیسا کہ "احکام القران" میں آیت "یاایھا الذین آمنواشهادة بينكم" کے تحت اس پر تنبیہ کی گئی ہے۔
) توخلاصہ یہ ہے،کہ حدیث عبادہ میں دونوں جملے مستقل حکم رکھتے ہیں،پہلاجملہ اباحت اور دوسرا وجوب پر دلالت کرتاہے( ۔
چنانچہ شاہ صاحب نے حدیث کے اس جملہ کی تشریح میں :
1. علم معانی) مبحث قصر(
2. علم بیان)اسلوب بیان(
3. علم نحو)ضمیرشان(
4. علم فقہ)فقہی حکم کاتعین)
5. علم منطق)علت ومعلول(
6. علم اللسان والمحاورة)بیان محاورہ،وتعیین معنی تقوی(
7. اصول فقہ)احکام مختلفہ کے مابین رفع تعارض پیش کرنا،درست معانی کاتعین کرنا(
8. علم حدیث روایت)نقل روایت مع الحکم علیہ(
9. علم درایت)تفہیم روایت بالطریق الاجتہادی(
10. علم المصاحف )ابن مسعودوابی(
11. علم تفسیر )آیات مذکورہ کی تفسیر)
12. علم الناسخ والمنسوخ (دعاء قنوت سےاستدلال(
سے استفادہ کرتے ہوئےیہ چند سطری مبحث ان حوالجات سے پیش کیاہے:
1. "قران مجید"
1. "احکام القران"
2. "در منثور"
3. "الاتقان فی علوم القران"
4. "ترمذی"
5. ""نسائی"
6. "ابن ماجہ"
7. "مستدرک"
8. " کنزالعمال"
انصاف یہ ہے،کہ شاہ صاحب کی تعریف میں جوکہاگیا،شاہ صاحب اس مقام عالی سے کہیں اوپرہیں،جومثالیں کبار اہل علم کے نام سے ان کےلئے پیش کی گیں۔ان میں وسعت کی بڑی گنجائش ابھی باقی ہے۔فرحمة الله عليه واسعة
کتاب کی یہ ایک چندسطری "فصل"اس مناظرے کی ناطق شاہدہے،جس میں شاہ صاحب نے میرٹھ کے اہل حدیث عالم،غالبا مولانا احمداللہ یاحمیداللہ میرٹھی صاحب سےاس طرزپرمناظرہ کیا،کہ مسلسل دو تین گھنٹے فاتحہ خلف الامام کی روایات پرکلام کرتے رہے،اورپھران سے جوابی تقریر کرنے کوفرمایا،تووہ مبہوت ہوگئے،کہ مجھے توکچھ یادتک نہیں۔)تصویرانور(یقیناسچ کہاگیاہے،کہ شاہ صاحب کی تحریر سمجھنے کے لئے اسے سینکڑوں بارپڑھناپڑتاہے۔اوربلاشبہ اگر کسی کی زندگی کاکل سرمایہ اس جیسی کتاب ہو،تواسے طبقات الفقہاء والمحدثین میں ذکردوام میسرہوجائے۔أولئك آبائي فجئني بمثلهم: إذاجمعتناياجريرالمجامع
فائدہ:
حضرت شاہ صاحب کے ایک معاصر مولاناعبداللہ صاحب روپڑی نے "فصل الخطاب"کی تردید میں ایک حاشیہ "الکتاب المستطاب" کے نام سے لکھا۔جس میں انہوں نےشاہ صاحب پرغیرعلمی رویہ اپنایا،لفظی معنوی رکیک جملے کسے ہیں،اس سے صرفِ نظرکرتےہوئے،زیرِبحث فصل میں ان کے نقودملاحظہ ہوں۔بین القوسین عبارات ان کی نقل کی گئ ہیں۔ساتھ میں مخصراشاراتی جوابات عرض کئےگئےہیں۔
)روایت کودو مختلف معانی پرمحمول کرنا مولاناانورشاہ کی اختراع ہے(
حالانکہ یہ کوشش ادلہ مختلفہ کے مابین رفع تعارض وتطبیق کی ایک صورت تھی.اوراس جواب کی پرایک جزءپرعلامہ نے معقول ومنقول ادلہ ثابتہ پیش کی ہیں۔
)تقوی کا معنی لغوی مرادہویاشرعی،دونوں صورتوں میں استدلال درست نہیں۔اجلہ مفسرین نے تقوی عن السوال مرادلیاہے۔تقوی کے معنی کے تعین پرمولاناانورشاہ نے جو روایات نقل کی ہیں،وہ بےمحل ہیں(
علامہ کی پیش کردہ احادیث کے مقابلہ میں اقوال علماءکوترجیح دے رہےہیں،اورقران کی تفسیر میں حدیث کی اولیت سے انہیں ذہول ہوگیاہے.
)دونوں صورتوں میں یعنی معنی لغوی و شرعی مرادہونےکی صورت میں جملہ ثانیہ خبرِ مستقل نہیں ہے(
یہ محض دعویٰ ہے،جوشاہ صاحب کے ادلہ کے پیش قابل ذکر بھی نہیں۔
)مولاناانورشاہ نے "ان عذابک بالکفارملحق" کوایک الگ سورت قراردینےکاوہم دیاہے۔اوریہ غلط ہے۔سورت "اللہم ایاک نعبد" سے شروع ہوتی ہے۔جیساکہ "کنز" و"اتقان" میں ہے۔(
حالانکہ شاہ صاحب نے اپنے استدلال کا متعلقہ حصہ نقل کیاہے۔ان کی عبارت میں کہیں یہ نہیں ،کہ یہ جملہ مستقل سورت ہے۔سورت قنوت ایک ہو،یادو،ان کے استدلال میں کوئی فرق نہیں پڑتا،انہوں افادہ مزیدکےطورپریہ لکھ دیاہے،کہ قنوت، حنفیہ کے یہاں دو سورتیں ہیں۔
)زیر بحث حدیث میں دوسرے جملہ میں فاءتعلیلیہ ہے،جب کہ دعاء قنوت میں فاءتعلیلیہ نہیں،لہذااستدلال درست نہیں۔قیاس، قیاس مع الفارق ہے(.
حالانکہ حضرت شاہ صاحب نے یہاں فاء تعلیلیہ کاذکرہی نہیں کیا،اورنہ علت پرفاءکاداخل ہونا ضروری ہے۔اورنہ صحت استدلال میں اسے کوئی دخل ہے۔
بلکہ آیات قرنیہ سے معلوم ہوتاہے،کہ علت پرفاءکاداخل ہونا ضروری نہیں۔
چنانچہ محی الدین درویش نے لکھاہے) ":وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ( الواو عاطفة، واستغفروا الله،فعل وفاعل ومفعول به )إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ( ان واسمها وخبراها، والجملة تعليلية لا محل لها"
(297/1اعراب القران وبيانه(
یعنی "وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ،إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ" میں دوسرا جملہ علت ہے۔
اسی طرح سورت نوح کی تفسیر میں رقم کرتے ہیں:
"(فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّارًا) الفاء عاطفة وقلت فعل وفاعل واستغفروا فعل أمر مبني على حذف النون والواو فاعل وربكم مفعول به وإن واسمها وجملة كان خبرها واسم كان مستتر تقديره هو وغفارا خبرها وجملة استغفروا مقول القول وجملة إنه كان غفارا لا محل لها لأنها تعليل للاستغفار" (ایضا: 227/10)
یعنی "فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّارًا" میں دوسراجملہ علت ہے۔
نیز اس آیت کے دوسرے جملہ میں جملہ تعلیل میں ضمیرشان بھی آئی ہے۔شاہ صاحب نے لکھا،کہ ضمیرِشان، مخاطب کے اعتقاد کےبرعکس مواقع پر لائی جاتی ہے۔چنانچہ مفسرین نے لکھا،کہ قوم نوح کہتی تھی،کہ ہمارے ان معاصی کے باوجود ہماری توبہ کیسے قبول ہوسکتی ہے،تو اس پریہ ارشاد ہوا،رازی لکھتے ہیں:
"وهاهنا سُؤَالَاتٌ:الْأَوَّلُ: أَنَّ نُوحًا عليه السلام أَمَرَ الْكُفَّارَ قَبْلَ هَذِهِ الْآيَةِ بِالْعِبَادَةِ وَالتَّقْوَى وَالطَّاعَةِ، فَأَيُّ فَائِدَةٍ فِي أَنْ أَمَرَهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ بِالِاسْتِغْفَارِ؟ الْجَوَابُ: أَنَّهُ لَمَّا أَمَرَهُمْ بِالْعِبَادَةِ قَالُوا لَهُ: إِنْ كَانَ الدِّينُ الْقَدِيمُ الَّذِي كُنَّا عَلَيْهِ حَقًّا فَلِمَ تَأْمُرُنَا بِتَرْكِهِ، وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا فَكَيْفَ يَقْبَلُنَا بَعْدَ أَنْ عَصَيْنَاهُ، فَقَالَ نُوحٌ عليه السلام: إِنَّكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ عَصَيْتُمُوهُ وَلَكِنِ اسْتَغْفِرُوهُ مِنْ تِلْكَ الذُّنُوبِ، فَإِنَّهُ سُبْحَانَهُ كَانَ غَفَّارًا)" التفسیرالرازی:652/30)
ثابت ہوا،کہ حدیث عبادہ میں ضمیرِشان کی بابت علامہ کااستدلال صرف ائمہ بلاغت پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن مجید سے بھی مؤیدہے۔
(مصحف ابن مسعود کا حوالہ کذب ہے،ہم کئ بارکہہ چکے،کہ انورشاہ کی نقل قابل اعتمادنہیں ہے)
گویا مصحف ابی میں موجودگئِ حوالہ تسلیم کرلیاگیاہے۔اور حضرت شاہ صاحب کے حوالہءِ دلیل کے لئے اتنا بھی کافی ہے۔کہ انہوں نے اپنے موقف پردوحوالے دیے۔ان میں سے ایک میں وہ حوالہ موجودہے۔
واقعہ یہ ہے،کہ اگریہ حوالہ ناقد کونہیں ملا،توعلمی رزانت کاتقاضاتھا،کہ وہ کہتے،کہ ایسا حوالہ موجودنہیں۔ملتانہیں،مل نہیں سکا.زیادہ سے زیادہ یہ کہ مولاناانورشاہ سے تسامح ہوا،کہ مصحف ابن مسعود کی بجائے مصحف ابن عباس لکھناتھا۔(علامہ سیوطی نے "الدر المنثور" میں اس کاتذکرہ کیاہے)۔وغیرہ
نیز "کذب"ایک شرعی اصطلاح ہے۔اس کے اطلاق کےلئے جن شرعی ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے۔امیدکی جاتی ہے،کہ ناقدمرحوم نے ان کا خیال کیاہوگا۔
رہا مصحف ابن مسعودمیں دعاء قنوت کاوجودو عدم وجود !تواس سلسلہ میں گزارش یہ ہے،کہ مصحف ابن مسعود کے متعدد نسخے تھے،جوباہم مختلف فیہ تھے۔چنانچہ "الفہرست" میں ابن ندیم نے،اور"الاتقان" میں سیوطی نے مصحف ابن مسعودکےجومندرجات نقل کیےہیں،ان میں کمی بیشی اور ترتیب کااختلاف موجودہے۔
ابن ندیم کہتے ہیں،کہ انہوں نے مصحف ابن مسعودکے متعدد نسخے دیکھے ہیں،کوئی سے دو بھی آپس میں موافقت نہ رکھتے تھے۔ایک نسخہ میں توفاتحہ بھی موجودتھی۔(ابن ندیم،الفہرست29/1:)
ان دو حوالوں سے یہ بات سامنے آتی ہے،کہ اگر مولاناانورشاہ کی نظر میں ایسا مصحف گزرا،جوناقدکی نظر میں نہ آسکا،تویہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔
نیزمتعدداہل علم نے تصریح کی ہے،کہ ابن مسعود ، ابی بن کعب اور زیدبن ثابت کے مصاحف میں یکسانیت تھی۔چنانچہ ڈاکٹر مصطفی اعظمی، ایک عالم قرزی سے نقل کرتےہیں،کہ 'انہوں نے ابن مسعود،ابی بن کعب اور زیدبن ثابت کے زیر استعمال مصاحف ملاحظہ کئے،توان میں کوئی اختلاف نہ تھا( تاریخ النص القرانی، ص 149)
مصحف ابی میں دعاء قنوت کے وجودکااقرارتوں ناقد کوبھی ہے،اس لئےاس پرحوالجات کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔
اگرسطوربالاکےپیش نظر حضرت شاہ صاحب نے یہ لکھ دیا،کہ مصحف ابن مسعودمیں بھی دعاء قنوت موجودتھی،تواس پر اعتراض کرنا،
خودقابلِ اصلاح ہے۔
ذیل کی سطور کوبہت سے لکیرکےفقیر تاویل قراردیں گے،اس لئےاس سلسلہ کا واضح حوالہ بھی قارئین کےلئے پیش خدمت ہے۔علامہ سیوطی
"الدرالمنثور" میں رقمطراز ہیں:
"وَزعم عبيد أَنه بلغه أَنَّهُمَا سورتان من الْقُرْآن فِي مصحف ابْن مَسْعُود" (الدرالمنثور: 696/8)
(احکام القران کا حوالہ دینا مولاناانورشاہ کو چنداں مفید نہیں، بلکہ وہ مولاناکے برخلاف ہے)
اس پر عرض یہ ہے،کہ ناقد نے یہ سمجھا ہے کہ حضرت شاہ صاحب نے "احکام القران" کا حوالہ اس بات پر دیا ہے کہ حدیث عبادہ میں موجود جملے الگ الگ ہیں، مقتدی اور مطلق نمازی کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں۔ اور پھر انہوں نے یہ خلاصہ نکالا کہ یہ "احکام القران" کا حوالہ حضرت شاہ صاحب کے برخلاف ہے، کیونکہ اس حوالے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پوری تین آیات باہمی ارتباط کی وجہ سے ایک جگہ نقل کی گئ ہیں۔ تو ویسے حدیث عبادہ کے دونوں جملے بھی اپس میں ایک ہی حکم سے متعلق ہیں۔
حالانکہ شاہ صاحب نے"احکام القران" کا حوالہ "افادہ مزید"کےفائدہ کےحوالہ سے دیا،کہ بسا اوقات افادہ مزید کی خاطر ایک ہی سیاق عبارت میں ماقبل سے مختلف فائدہ کا تذکرہ کردیا جاتا ہے۔چنانچہ ابن عربی نے اس آیت کی تفسیر میں "من بعد الصلاة" کے تحت لکھا :
"الرابع - من بعد صلاتهما ، على أنهما كافران ! وقد روى في الصحيح أن النبي صلى الله عليه وسلم حلف المتلاعنين بعد العصر .وروى بعدالظهر۔
وفي الصحيح : من حلف على يمين بعد العصر لقى الله سبحانه وهو عليه غضبان .وهذا على طريق التغليظ بالزمان) "(احکام القران724/2:)
اس عبارت کا اخری جملہ شاہ صاحب کا محل استدلال ہے۔کہ یہ الفاظ 'من بعد الصلاة" بطور تغلیظ آئے ہیں، ورنہ استحلاف میں )اور وہ بھی کفارسے( ان کو کوئی دخل نہیں۔
یہی بات امام جصاص نےمزیدوضاحت سے لکھی،وہ استحلاف میں وارد شدہ متعدد روایات جو زمان و مکان کے تعین پر دلالت کرتی ہیں، نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَيْسَ فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ مَسْنُونٌ. وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِأَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَدْ كَانَ يَجْلِسُ هُنَاكَ، فَلِذَلِكَ كَانَ يَقَعُ الِاسْتِحْلَافُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، وَالْيَمِينُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ أَعْظَمُ مَأْثَمًا إذَا كَانَتْ كَاذِبَةً لِحُرْمَةِ الْمَوْضِعِ، فَلَا دَلَالَةَ فِيهِ عَلَى أَنَّهُ يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ(احکام القران،جصاص616/2:)
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ شاہ صاحب کا یہ حوالہ بھی درست ہے۔اوردلیل حوالہ بھی۔
اللہ تعالی ہمیں شاہ صاحب کے علوم ومعارف سمجھنے، ان سے استفادہ کرنے کی سعادت سے نوازیں۔آخرمیں اہل علم کےلئےچندایک عناوین برائے تحقیق پیش خدمت ہیں:
1. علامہ کشمیری وعلامہ نیموی کی حدیثی خدمات کا تقابل کئی جہات سے ممکن ہے۔فقہ الحدیث پر،رجال پر،استنباط واستخراج پر۔
2. علامہ کشمیری کے اسلوب تحریروتقریرکاتقابلی مطالعہ۔ مشترک و مختلف عناوین فقیہہ وحدیثیہ لئےجاسکتےہیں،نیزایک ایک حدیث ، مبحث ،راوی کا تقابلی مطالعہ کرکے مضامین بھی لکھے جاسکتےہیں۔
3. علامہ کی کتب کے متنوع مآخذپرمستقل مقالہ لکھاجاسکتاہے۔نیزایک ایک کتاب پربھی یہ کام بصورت مضامین ہوسکتاہے۔
4. شاہ صاحب کا منطق / فلسفہ/ علوم قرآن /حدیث /فقہی آراءمختارہ/ ادب وشاعری میں معاصرین،یامتقدمین سے تقابلی مطالعہ کیاجاسکتاہے۔مذکورہ علوم میں ان کی اجتہادی واختلافی آراء پرکام کیاجاسکتاہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں