نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

"متقدمین محدثین و فقھاء میں سے ایک ثقہ ، ثبت ، امام ،فقیہ اور محدث امام ابن کاس النخعی رحمہ اللہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کے مذھب پر تھے"


"متقدمین محدثین و فقھاء میں سے ایک ثقہ ، ثبت ، امام  ،فقیہ اور محدث امام ابن کاس النخعی رحمہ اللہ  امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ  کے مذھب پر تھے"

 بہت سے غیر مقلدین حضرات کو اپ لوگ سنتے ہونگے جو کہتے ہیں کہ مقلدین کے نزدیک بڑے بڑے ائمہ حدیث و فقھاء حنفی شافعی مالکی یا حنبلی مذھب کے پاپند تھے بھلا جبال العلم ہونے کے باوجود ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کسی مذھب سے واسطہ رہیں وہ تو کسی مذھب کے مقلدین نہیں تھے اس کی حقیقت قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں 

امام ابن کاس النخعی مشھور ثقہ ثبت محدث اور فقیہ تھے 

محدثیت اور فقاھت کے باوجود یہ حنفی مذھب پر رہیں اور امام ابو حنیفہ کی فقہ پر عمل کرنے والے تھے 

امام ذھبی انکا ترجمہ بیان کرکے لکھتے ہیں کہ یہ حنفی تھے 

- عَلِيُّ بْنُ محمد بْنِ الْحَسَنِ، أَبُو الْقَاسِمِ النَّخَعِيُّ الْكُوفِيُّ الْفَقِيهُ الْحَنَفِيُّ، الْمَعْرُوفُ بِابْنِ كاس. [المتوفى: 324 هـ]

تاریخ الاسلام 7/498

 امام خطیب بغدادی انکے متعلق لکھتے ہیں 

وكان من المقدمين فِي الفقه من الكوفيين الثقات

تاریخ بغداد 13/540

کہ ابن کاس النخعی قدیم ثقہ فقھائے کوفہ میں سے تھے 

پھر انکی توثیق کرکے لکھتے ہیں 

وكان ثقة فاضلا عارفا بالفقه على مذهب أَبِي حنيفة،

یعنی یہ ثقہ اور فاضل تھے فقہ کو جاننے والے تھے اور امام ابو حنیفہ کے مذھب پر عامل تھے 

قارئین دیکھئے محدثین کے نزدیک علم حدیث میں ایک ثقہ فاضل کس طرح امام ابو حنیفہ کے مذھب پر عمل پیرا رہے ہیں 

اسی پر بس نہیں انھوں نے امام ابو حنیفہ کے مناقب پر پوری کتاب لکھی تھی جسکی صراحت امام سخاوی نے کی ہے

فافرد مناقب الإمام ابی حنیفة 

اسکے تحت امام سخاوی نے تقریبا 13 محدثین کے نام لکھے ہیں جنھوں نے امام ابو حنیفہ کے مناقب پر پوری کتابیں لکھی

ان کے ساتویں نمبر پر امام إبن کاس النخعی کا نام بھی شامل کیا ہے یہ کہہ کر کہ انھوں نے بھی امام ابو حنیفہ کے مناقب پر لطیف کتاب لکھی تھی (جوکہ آج مفقود ہے) 

الجواھر والدرر فی ترجمة شیخ الاسلام ابن حجر للإمام سخاوی باب مناقب الائمة الاربعة....

امام ذھبی کے قول کے مطابق ابن کاس النخعی نے امام شافعی (کی فقہی مذھب کے) خلاف کتاب بھی لکھی تھی

امام ذھبی لکھتے ہیں

وَلَهُ كِتَابٌ يغضُّ فِيهِ مِنَ الشَّافِعِيِّ،... تاریخ الاسلام 7/498

ھذا ما عندی واللہ اعلم بحقیقة الحال

✍️ تحریر محمد حسیب

النعمان میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...