نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کسی محدث یا کسی راوی کا کسی کمزور یا موضوع حدیثیں نقل کرنا اس راوی یا محدث پر جرح نہیں ہے، مگر یہ کہ کسی دلیل سے ثابت ہوجائے کہ اس نے خود وہ حدیث گھڑی ہو .

 

 کسی محدث یا کسی راوی کا کسی کمزور یا موضوع حدیثیں نقل کرنا اس راوی یا محدث پر جرح نہیں ہے،  مگر یہ کہ کسی دلیل سے ثابت ہوجائے کہ اس نے خود وہ حدیث گھڑی ہو ۔

چنانچہ ، امام ترمذی ؒ (م۲۷۹؁ھ)مشہور ثقہ ، حافظ ، اور صاحب السنن ہیں ، ان کی کتاب ’سنن الترمذی‘  صحاح ستہ میں داخل ہے ،   لیکن غیر مقلدین کے محدث، البانی صاحب کی تحقیق میں ترمذی میں ’۱۶‘ موضوع اور من گھڑت حدیثیں ہیں ، دیکھئے :       (سنن ترمذی بتحقیق البانی : حدیث : ۱۷۲،۸۰۱، ۱۸۵۹، ۲۴۹۴، ۲۵۰۵، ۲۶۴۸، ۲۶۸۱، ۲۷۱۴، ۲۷۶۲، ۲۸۸۸، ۳۵۷۰، ۳۶۸۴، ۳۷۰۹، ۳۹۲۳، ۳۹۲۸، ۳۹۳۹)

اور زبیر علی زئی کے نزدیک بھی سنن ترمذی میں’۴‘ حدیثیں موضوع ہیں۔ (انوار الصحیفہ : ضعیف سنن ترمذی : حدیث نمبر ۱۷۲، ۳۰۵۹، ۳۵۴۹، ۳۷۰۹)

ثابت ہوا کہ اہل حدیثوں کے نزدیک امام ترمذی ؒ نے موضوع حدیثیں اپنی کتاب میں نقل کی ہیں ، لیکن موضوع حدیثیں نقل کرنے کے باجود، کوئی ایک غیر مقلد، اہل حدیث بھی امام ترمذیؒ پر جرح نہیں کرتا۔

اسی طرح امام ابن ماجہؒ (م۲۷۳؁ھ)مشہور حافظ الحدیث، ثقہ، اور صاحب السنن ہیں ، ان کی کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ بھی صحاح ستہ میں داخل ہے ۔

لیکن البانی صاحب نےابن ماجہ کی ’۴۲‘ حدیثوں کو موضوع قرار دیا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ بتحقیق البانی :  حدیث نمبر ۴۹، ۵۵، ۶۵، ۱۴۱، ۲۲۲، ۲۴۸، ۴۲۴، ۷۱۲، ۸۹۶، ۱۲۴۲، ۱۳۱۶، ۱۳۷۳، ۱۳۸۸، ۱۴۳۷، ۱۴۶۱، ۱۴۸۱، ۱۷۴۹، ۱۷۷۷، ۱۷۸۲، ۱۷۹۷، ۲۱۵۲، ۲۳۰۷، ۲۳۷۳، ۲۵۱۴، ۲۶۱۳، ۲۷۳۶، ۲۷۶۸، ۲۷۷۰، ۲۷۸۰، ۳۱۱۷، ۳۲۲۱، ۳۳۱۸، ۳۳۳۰، ۳۳۵۲، ۳۳۵۸، ۳۵۶۸، ۴۰۵۴، ۴۰۵۷، ۴۰۸۷، ۴۰۹۴، ۴۲۹۷، ۴۳۱۳)

جبکہ زبیر علی زئی نے ،ابن ماجہ کی ‘۲۷‘روایت کو موضوع و من گھڑت بتایا ہے ۔  (انوار الصحیفہ : ضعیف ابن ماجہ : حدیث نمبر : ۴۹، ۵۵، ۶۵، ۱۴۱، ۲۴۸، ۲۶۳، ۴۲۴، ۶۵۷، ۷۵۰، ۱۱۲۹، ۱۲۴۲، ۱۳۱۶، ۱۳۸۸، ۱۴۶۱، ۱۴۶۲، ۱۴۸۵، ۱۷۹۷، ۲۰۳۷، ۲۲۲۵، ۲۳۰۷، ۲۷۶۸، ۲۷۷۰، ۲۷۸۰، ۳۳۵۸، ۳۵۶۸، ۴۰۵۴، ۴۳۱۳)

اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اہل حدیثوں کے نزدیک ابن ماجہ ؒ نے اپنی سنن میں کئی موضوع حدیثیں نقل کی ہیں ، جس کو رسول اللہ ﷺ نے بیان نہیں کیا ہے ۔ لیکن اہل حدیث حضرت ابن ماجہ ؒ پر موضوع حدیثیں نقل کرنے کی وجہ سے کوئی جرح یا لب کشائی کریں گے ؟


ماخوذ الاجماع - شمارہ نمبر 2 

 پیشکش :   النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...