نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

’’ہشام بن حسان عن حسن البصری‘‘ کی سند متصل ہے۔

 


’’ہشام بن حسان عن حسن البصری‘‘ کی سند متصل ہے۔

مولانا نذیر الدین قاسمی

ماخوذ : الاجماع شمارہ نمبر 3

پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز

سکین اور دیگر مضامین کیلئے دیکھیں مجلہ الاجماع  جو ہماری موبائل ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود ہیں، نیز اس ایپ میں رد غیر مقلدیت و سلفیت پر (1000) ایک ہزار سے زائد گرانقدر PDF کتب  ہیں

بعض محدثین کی رائے ہے کہ’’ ہشام بن حسان عن حسن البصری‘‘ کی سند مرسل ہے،کیونکہ ہشام بن حسانؒ حسن البصری ؒ سے ارسال کرتے تھے ۔

حالانکہ تحقیق کی روشنی میں ہشام بن حسان ؒ ۱۴۸؁ھ) کا نہ صرف یہ کہ حسن بصری ؒ         ۱۱۰؁ھ) کو دیکھنا ثابت ہے ،بلکہ ان سے سماع بھی ثابت ہے ۔

تحقیق ملاحظہ فرمائیں :

۱)           امام عبدالرزاق الصنعانی ؒ ۲۱۱؁ھ) کہتے ہیں کہ:

              عبدالرزاق عن ہشام بن حسان قال رأیت الحسن وابن سیرین ۔۔۔۔۔۔۔

ہشام بن حسان ؒ کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصریؒ اور ابن سیرین ؒ کو دیکھا ہے۔(مصنف عبد الرزاق حدیث نمبر:۱۴۱۲،واسنادہ صحیح )   ثابت ہواکہ ہشام بن حسان ؒ نے حسن بصری ؒ کو دیکھا ہے ۔

۲)          امام ابوبکر احمد بن ہارون الرویانی ؒ ۳۰۷؁ھ) کہتے ہیں کہ:

              نا محمد بن بشار نا یحی وابن ابی عدی عن ہشام بن حسان نا الحسن عن عبداللہ بن مغفل قال : نہی رسول اللہ ﷺ عن الترجل الا غباً۔ (مسند الرویانی ج:۲ص:۸۷حدیث نمبر :۸۷۰،واسنادہ صحیح )

اس سند پر غور کریں !حافظ ہشام بن حسان ؒ کہتے ہیں کہ حسن بصری ؒ  نے ہم سے بیان کیا ہے ،یعنی انہوں  نے حسن بصری ؒ سے سماع کی تصریح کردی ہے ۔

 اسی طرح ،

۳)           امام عبداللہ محمد بن اسحق الفاکہی ؒ (م ۲۷۲ھ) فرماتے ہیں کہ :

              حدثنا سلمۃ بن شبیب قال ثنا زید بن حباب قال ثنا محمد بن سواء البصری عن ہشام بن حسان قال :سمعت الحسن البصری رضی اللہ عنہ وسئل عن الرجل یکون فی المسجد فیجد الریح قال :لا بأس أن یرسلہا ۔

(اخبار المکان للفاکہی ج:۲ص:۱۳۰،حدیث نمبر:۱۲۹۳،اخبار المکان کے محقق شیخ عبدالملک بن عبداللہ بن دویش اس کی سند کو حسن کہتے ہیں )

 تو ثابت ہوا کہ ہشام بن حسان ؒ کا سماع حضرت حسن بصری ؒ سے ثابت ہے ۔ لہذا صحیح اور راجح یہی ہے کہ ’’ہشام بن حسان عن الحسن ‘‘کی سند متصل ہے ۔

ماخوذ : الاجماع شمارہ نمبر 3

پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز

سکین اور دیگر مضامین کیلئے دیکھیں مجلہ الاجماع  جو ہماری موبائل ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود ہیں، نیز اس ایپ میں رد غیر مقلدیت و سلفیت پر (1000) ایک ہزار سے زائد گرانقدر PDF کتب  ہیں

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...