کتاب الآثار امام ابو یوسف ؒ (م۱۸۲ھ) سے ثابت ہے۔
تحقیق :
مولانا ظہور احمد الحسینی حفظہ اللہ
حاشیہ
: مفتی ا ابن اسماعیل المدنی
ماخوذ : الاجماع شمارہ نمبر 4
پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز
سکین اور دیگر مضامین کیلئے دیکھیں مجلہ الاجماع جو ہماری موبائل ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود ہیں، نیز اس ایپ میں رد غیر مقلدیت و سلفیت پر (1000) ایک ہزار سے زائد گرانقدر PDF کتب ہیں
کتاب الآثار امام ابو یوسف
ؒ (م۱۸۲ھ)
سے ثابت ہے ،یہ کتاب ’’کتاب الآثار‘‘دراصل امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کی تصنیف
ِحدیث ہے ،جس کو آپ ؒ سے آپ کے کئی شاگردوں نے روایت کیا ہے ،جن میں سے ایک امام
ابویوسف ؒ بھی ہیں ۔ اور امام ابویوسف ؒ سے کئی لوگوں نے اس کتاب کو روایت کیا ہے ،جن
میں سے ایک ان کے بیٹے امام ،فقیہ ،قاضی یوسف بن ابی یوسف ؒ (م۱۹۸ھ)
ہیں ۔
- امام
عبدالقادر القرشی ؒ (م ۷۷۵ھ)
فرماتے ہیں کہ :
’’وروی
کتاب الآثار عن ابیہ عن أبی حنیفۃ وہو مجلد ضخم ‘‘
امام یوسف بن ابی یوسف ؒ(م
۱۹۸ھ)
نے اپنے والد سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ ؒ سے ’’کتاب الآثار ‘‘روایت کیا
ہے جو ایک ضخیم جلد میں ہے ۔(الجواہر المضیہ ج:۲ص:۲۳۵)اور کتاب الآثار بروایت ابو
یوسف کے موجودہ نسخے میں بھی تصریح ہے کہ اس کتاب کو امام ابو یوسف ؒ سے ان کے بیٹے
یوسف بن ابی یوسف نے روایت کیا ہے ۔(ص:۱)
اور امام یوسف بن ابی یوسف ؒ(م۱۸۰ھ)صدوق
،ثقہ اور محدثین میں سے ہیں،چنانچہ :
۱) ثقہ
امام، ابو بکر محمد بن خلف بن ابی یحیی المعروف
وکیع القاضی ؒ(م ۳۱۰ھ)
اپنی مشہور کتاب ’’اخبار القضاۃ‘‘
[1] میں
کہتے ہیں کہ :
اخبرنی
ابراہیم بن ابی عثمان قال :حدثنی عبداللہ بن عبدالکریم أبوعبداللہ الحواری
قال:کان یوسف بن ابی یوسف عفیفا ًمامونا ًصدوقا ًقرأ علیہ أبویوسف أکثر کتبہ
،وکان أعلم بتدبیر القضاء وأضبط لہ من أبی یوسف ،ولم یکن لہ اقتناع فی النظر
ولا الحفظ ۔
ابو عبداللہ الحواری ؒ کہتے
ہیں کہ امام یوسف بن ابی یوسف ؒ پاکدامن قابل اعتماد صدوق امام ابو یوسف ؒ نے اپنی
اکثر کتابیں انہیں پڑھائیں ،اور امام یوسف بن ابی یوسف ؒ قضاء کے انتظامات کو امام
ابویوسف سے زیادہ جاننے اور یاد رکھنے والے تھے ،ان کی مہارت اور حافظے کی کوئی حد
نہیں تھی ۔(اخبار القضاۃج:۳ص:۲۵۷)
اسکین :
معلوم ہواکہ اما م یوسف بن
ابی یوسف ؒ صدوق مامون ہیں ۔[2]
۲) حافظ
خلیفہ بن خیاط ؒ (م ۲۴۰ھ)[جو
ائمہ جرح وتعدیل میں سے ہیں،ذکر من یعتمد قولہ فی
الجرح والتعدیل ص:۱۸۸]نے
قاضی یوسف بن ابی یوسف ؒ کو بغداد کے محدثین میں شمار کیا ہے ۔ (الطبقات
للحافظ خلیفہ ص:۶۱۴)
اسکین :
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ
قاضی یوسف بن ابی یوسف ؒ (م ۱۹۸ھ)صدوق
،محدث اور مامون ہیں ۔لہذا زبیر علی زئی صاحب کا انہیں مجہول کہنا مردود ہے ۔
اسی طرح کتاب ’’کتاب
الآثار‘‘ کو امام ابو یوسف ؒسے امام عمر وبن ابی عمرو
ؒ(م۲۳۸ھ)نے
بھی روایت کیا ہے ،ان کو روایت کردہ نسخہ ’’کتاب
الآثار‘‘ کوامام ابو المؤید الخوارزمی ؒ (م ۶۶۵ھ)نے
نسخہ ء ابی یوسف کے نام سے نقل کیاہے اوراس نسخے تک اپنی سند بھی ذکر کی ہے۔ (جامع
المسانید ج:۱ص:۷۵)[3]
حافظ ذہبی ؒ نے بھی اپنی معجم
میں امام ابویوسف ؒکے نسخے ’کتاب الآثار ‘‘(جس کو آپ ؒ سے عمر وبن ابی عمرو ؒ نے
روایت کیا ہے ان )سے ایک حدیث اپنی سند سے نقل کی ہے ۔(معجم الشیوخ الکبیر للذہبی
ج:۱ص:۴۰۰)[4] جو کہ موجودہ کتاب الآثار
بروایت ابو یوسف حدیث نمبر:۱۸
پر موجودہے ۔
ایک اعتراض اور اس کا جواب :
زبیر علی زئی صاحب ایک بار
پھر احناف سے تعصب اور حسد کا ثبوت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کتاب الآثار للقاضی ابویوسف
کی عمروبن ابی عمرو ؒ والی سند کو امام خوارزمی ؒ نے اپنی طرف گھڑ لی ہے ۔(نعوذ باللہ
)۔(مقالات زبیر علی زئی ج:۱ص:۵۴۶)
مختصر عرض یہ ہے کہ بقول
غیر مقلدین اگر امام خوارزمی ؒ نے عمر وبن ابی عمرو والی سند کو اپنی طرف گھڑ لیا ہے
تو فرقہ اہل حدیث کے لوگوں سے گزارش ہے کہ یہی فتوی امام ذہبی ؒ پر بھی لگائیے کیونکہ
انہوں نے بھی کتاب الآثار للقاضی ابویوسف کو عمرو بن ابی عمرو کی سند سے روایت کیا
ہے ۔دیکھئے (ص: ۳۳)
ورنہ تسلیم کریں کہ امام خوارزمی
ؒ (م ۶۶۵ھ)
ثقہ وصدوق ہیں ۔[5]
[1] اعتراض
:
زبیر علی زئی غیر مقلد صاحب
انتہائی جہالت سے کام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اخبار القضاۃ قاضی محمد بن خلف بن حیان
ؒ سے منسوب ہے ۔(مقالات ج:۱ص:۵۴۶)
الجواب :
صرف اخبار القضاۃ کی کتاب کی سند
نہ ہونے کی وجہ سے ،علی زئی صاحب اس کتا ب کو قاضی وکیع ؒ کی طرف منسوب کرنا مردود
ہے ، کیونکہ یہ کتاب اہل علم کے درمیان مشہور ومعروف ہے ،بلکہ امام دارقطنی ؒ (م
۳۸۵ھ)اور
امام جمال الدین ابو الحسن القفطی ؒ (م ۶۴۶ھ)فرماتے
ہیں کہ ’’ولہ مصنفات کثیرۃ فی اخبار القضاۃ ‘‘ ان
کی قاضیوں کی خبروں کے بارے میں بہت سی تصانیف ہیں ۔(انباہ
الرواۃ علی انباہ النحاۃ ج۳ص:۱۲۴،تاریخ
بغداد ج:۵ص:۲۳۷) تاج الدین ابن الساعی ؒ(م
۶۷۴ھ)نے
بھی أخبار القضاۃ کو قاضی وکیع ؒ کی تصنیف بتایا ہے ۔(الدر الثمین فی اسماء المصنفین
ص:۳۱۰)
نوٹ:
یاد رہے کہ قاضی وکیع ؒ کی
وفات ۳۱۰ھ میں
ہوئی اور امام دارقطنی ؒ (م ۳۸۵ھ)کی
پیدائش ۳۰۶ھ میں
ہوئی ہے۔ اورجو کتاب اہل علم کے درمیان مشہور ومعروف ہو ،تو محدثین کے نزدیک اب اس
کتاب کی سند دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی ۔(النکت علی کتاب ابن الصلاح لا بن حجر:ج۱:
ص ۲۷۱)غیر مقلدین کا بھی یہی موقف ہے ۔ (یزید بن معاویہ پرالزامات کا تحقیقی
جواب ص:۱۱۴،۳۶۲،۳۶۳)
بلکہ زبیر علی زئی صاحب خود
شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی کتاب غنیۃ الطالبین کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’غنیۃ
الطالبین کتاب کے بارے میں علماء کرام کا اختلاف ہے لیکن حفظ ذہبی ؒ اور ابن رجب ؒ
دونوں اس کو شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی کتاب قرار دیتے ہیں اوریہی راجح ہے‘‘ ۔
تنبیہ :
مروجہ غنیۃ الطالبین کے نسخے
کی صحیح اور متصل سند میرے علم میں نہیں ہے ۔واللہ اعلم ۔(فتاوی علمیہ ج:۲ ص:۴۲۱)
قارئین کرام ! غور فرمائیے
،اپنی من پسند کی کتاب کی صحیح و متصل سند نہ ہونے کے باوجود صر ف علماء کے کہنے پر
زبیر صاحب کہتے ہیں کہ راجح یہی ہے کہ غنیۃ الطالبین شیخ عبدالقادر جیلا نی ؒ کی کتاب
ہے۔حالانکہ یہی تصریح اخبار القضاۃ کتاب کے بارے میں بھی موجود تھی ،(جسکی تفصیل اوپر
گزر چکی )لیکن شاید زبیر علی صاحب کو ’’اخبار القضاۃ ‘‘ للقاضی وکیع کو غیر ثابت کرنا
تھا ،اس لئے انہوں نے اپنا ہی اصول بھلادیا اور دوغلی پالیسی کا ثبوت دیا ۔(اللہ ان
کی خطا کو معاف فرمائے ۔۔۔۔آمین)
الغرض صحیح اور راجح یہی ہے
کہ اخبار القضاۃ للقاضی وکیع کی
ہی تصنیف ہے ۔
[2] اخبار
القضاۃ کی سند پر اعتراض کرتے ہوئے زبیر علی زئی صاحب کہتے ہیں کہ ابراہیم ابن ابی
عثمان اور عبداللہ بن عبد الکریم دونوں بہ لحاظ جرح وتعدیل نا معلوم ہیں۔لہذایہ توثیق
مردود ہے ۔ (مقالات ج:۱ص:۵۴۶)
الجواب :
ابراہیم بن ابی عثمان ؒسے
مراد ابو اسحق ابراہیم بن ابی عثمان سعید البغدادی ؒ (م ۲۵۳ھ)صحیح
مسلم کے راوی ہیں اور ثقہ ،حافظ ہیں۔(تقریب رقم :۱۷۹)
البتہ ابوعبداللہ عبداللہ
بن عبدالکریم الحواری ؒ کی توثیق نہیں مل سکی ۔لیکن ان کی توثیق نہ ملنے کی وجہ سے
زبیر علی زئی صاحب کا یہ کہنا ہے کہ ’’ابو عبداللہ الحواری کی طرف سے قاضی یوسف بن
ابی یوسف ؒ کی یہ توثیق مردود ہے ‘‘۔خود علماء اہل حدیث کے اصول سے صحیح نہیں ہے ۔
کیونکہ اہل حدیث مسلک کے محد
ث ارشاد الحق اثری صاحب ایک مجہول راوی ’’ابوسعیدالرواس ‘‘ کے بارے میں تحریر
کرتے ہیں کہ علامہ ذہبی ؒ ،حافظ ابن حجر اور علامہ عجمی کے حوالے سے ابو سعید الرواص
پر اعتماد بھی اس کا مؤید ہے کہ وہ ناقابل اعتماد نہیں ،بلکہ (ارشاد الحق اثری صاحب
احتجاج کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ )شیخ ابو غدؒہ تو کہتے ہیں کہ ایسے حاملین علم کے بارے
میں تعدیل وتوثیق تلاش کرنے کی ضرورت نہیں،ان پر جرح نہ ہونا ہی کافی ہے ۔(ہفت روضہ
اعتصام ص:۲۰،۲۸
اکتوبر-۳ نومبر :۲۰۱۱،۲۹ذی
قعدہ :۱۴۳۲ھ)
نوٹ :
یاد رہے کہ ابو عبداللہ الحواری
ؒبھی حاملین علم میں سے ہیں ،جیسا کہ ان کے متعدد اقوال سے معلوم ہوتا ہے ،جس کو ثقہ
امام ،حافظ ،محدث ،قاضی وکیع ؒ (م ۳۰۶ھ)نے
کئی جگہ ذکر فرماکر اس پر اعتماد کیا ہے۔(اخبار القضاۃ ج:۲ص:۱۷۱،۲۶۷، ج:۳ص:۲۶۷،۲۸۹،۲۹۰،۳۰۴)
خود غیر مقلد ین کے اصول سے
معلوم ہوا ،ابو عبد اللہ الحواری ؒ جیسے حاملین علم کی توثیق تلاش کرے کی ضرورت نہیں
ہے ان پر جرح نہ ہونا ہی کافی ہے ۔
لہذا زبیر صاحب کا اعتراض
مردود ہے ۔
[3] امام خوارزمی ؒ (م
۶۶۵ھ)فرماتے
ہیں کہ :
أما المسند الحادی عشر الذی یرویہ أبویوسف
یعقوب بن ابراہیم القاضی عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ویسمی نسخۃ ابی یوسف (فقد أخبرنی
)بہ المشائخ الصدر الکبیر العلامۃ أستاذ دارالخلافۃ والامامۃأبو محمد یوسف بن
أبی الفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی والشیخ أبومحمد ابراہیم بن محمود بن سالم
(و)الشیخ أبوعبداللہ محمد بن علی بن بقا وآخرون اذنا ً (قالوا أخبرنا )المشائخ
الثلاثۃ أبوالفرج عبدالرحمن علی بن الجوزی (و)أبو القاسم ذاکر بن کامل (و)أبو
القاسم یح بن اسد بن نوش اذناً(قالوا أخبرنا )القاضی أبوبکر محمد ابن عبدالباقی
بن محمد بن عبداللہ الانصاری اجازۃ (قال أخبرنا) أبومحمد الحسن الجوہری قال
(أخبرنا )أبوبکر محمدالابہری (قال حدثنا )أبو عروبۃ الحسین بن محمد بن مودود
الحرانی (قال حدثنا )جدی عمرو بن ابی عمرو قال (حدثنا) أبویوسف یعقوب بن ابراہیم
القاضی رحمہ اللہ تعالی ۔۔۔۔(جامع المسانید ج:۱ص:۷۵) اسکین ملاحظہ فرمائے
اس سند کے روات کی تحقیق درج ذیل ہے :
۱) امام
خطیب ابو المؤید محمد بن محمود الخوارزمی ؒ (م ۶۶۵ھ) صدوق
ہیں ۔
امام ذہبی ؒ (۷۴۸ھ) اور
امام عبدالقادر القرشی ؒ (م۷۷۶ھ)
آپؒ کو امام،خطیب کہتے ہیں ۔حافظ قاسم بن قطلوبغاؒ
(م ۸۷۶ھ)
نے بھی آپ کو امام کہا ہے ۔علامہ مصطفی حاجی خلیفہ ؒ (م۱۰۶۷ھ)
آپ کو تعارف یوں کراتے ہیں کہ :
الشیخ
الامام ابو المؤید محمد بن محمود بن محمد بن الحسن الخوارزمی الحنفی الخطیب ۔
علامہ خیر الدین زرکلی ؒ آپؒ کو فقیہ کہتے ہیں۔ (تاریخ الاسلام ج:۱۴ص:۷۹۰،جواہر المضیہ ج:۲ص:۱۳۲،تاج التراجم ص:۲۷۸،سلم الوصول ج:۳ص:۳۶۱،الاعلام للزرکلی ج:۷ص:۸۷)
اعتراض :
زبیر علی زئی صاحب کہتے ہیں
کہ خوارزمی ؒ کی ثقاہت وعدالت نہ معلوم ہے ۔(نور العینین ص:۴۲)
الجواب :
زبیر علی زئی صاحب ایک راوی
عباس بن یوسف ؒ (م۳۱۴ھ)کی
تحقیق میں لکھتے ہیں کہ :عباس بن یوسف ؒ (م۳۱۴ھ)
کے متعلق خطیب بغدادی اور ابن الجوزی نے کہا : وہ نیک اور دیندار تھے ۔ان سے ان کے
شاگردوں کی ایک جماعت نے روایات بیان کی ہیں ۔تیسری صدی ہجری کے بعد مشہور عالم پر
اگر کوئی جرح نہ ہو،تو اس کی توثیق کی صراحت ضروری نہیں ہے ۔بلکہ علم ،فقاہت ،نیکی
اور دینداری کے ساتھ مشہور ہونے کا یہی مطلب ہے کہ ایسے شخص کی حدیث حسن درجے سے کبھی
نہیں گرتی اور اس کا مقام کم از کم صدوق ضرور ہوتا ہے ۔(اضواء المصابیح ص:۲۵۱)
لیجئے !خود زبیر علی زئی مانتے
ہیں کہ اگر تیسری صدی ہجری کے بعد مشہور عالم پر اگر کوئی جرح نہ ہو تو اس کی توثیق
کی صراحت ضروری نہیں ،بلکہ علم ،فقاہت ،نیکی اور دینداری کے ساتھ مشہور ہونے کا یہی
مطلب ہے کہ ایسے شخص کی حدیث حسن درجے کی ہوتی ہے ۔
اور امام ابو المؤید ؒ کے
بارے میں امام عبدالقادر القرشی ؒ ،حافظ ذہبی ؒ ،حافظ قاسم بن قطلوبغا ؒ وغیرہ کے اقوال
گزر چکے ، جن سے امام خوارزمیؒ کا علمی مقام ،شہرت اور فقاہت ظاہر ہے ۔
لہذا زبیر علی زئی صاحب کا
اعتراض خود ان کے اصول سے مردود ہے اور امام خوارزمیؒ حسن الحدیث ہیں ۔
(۲) امام یوسف بن عبدالرحمن بن الجوزی ؒ ؒ (م ۶۵۶ھ)
مشہور ثقہ ،حافظ الحدیث اور امام ہیں ۔ امام خوارزمیؒ خود اپنے استاذ کی تعریف کرتے
ہوئے کہتے ہیں کہ:
المشائخ الصدر الکبیر العلامۃ أستاذ دارالخلافۃ
والامامۃ ۔(جامع المسانید ج:۱ ص:۷۵)
امام ذہبیؒ (م۷۴۸ھ)کہتے
ہیں کہ:
کان
اماما کبیرا وصدرا معظما ،عارفا بالمذہب ،کثیر المحفوظ ،حسن المشارکۃ فی العلوم
،ملیح الوعظ ،حلو العبارۃ ،ذا سمت ووقار وجلالۃ وحرمۃ وافرۃ۔
وہ بڑے امام ،بڑے وزیر ،مذہب کی
معرفت رکھنے والے ،خوب حافظے والے ،علوم میں اچھی
دسترس رکھنے والے ،شیریں بیان ،شہرت ،وقار ،بزرگی اور نہایت قابل محترم شخصیت
کے حامل تھے ۔(تاریخ الاسلام ج:۱۴ص:۸۵۴)، حافظ
صلاح الدین الصفادی ؒ ؒ( ۷۶۳ھ)نے
بھی آپ کے بارے میں تقریباً یہی الفاظ کہے ہیں ۔(الوافی بالوفیات ج:۲۹ص:۱۰۴) سیر اعلام النبلاء
ج:۲۳ص:
۳۷۳پر
امام ذہبی ؒ نے آپ کی مزید تعریف کی ہے ،امام ابن الدبیثی
ؒ (م۶۳۷ھ)
آپ کو فاضل اور امام احمدؒ کے مذہب اور وعظ کی معرفت والا قرار دیا ہے ،اورحافظ ابو
محمد الدمیاطی ؒ (م ۷۰۵ھ)نے
بھی آپ کی تعریف کی ہے ۔اور حافظ ابوبکر ابن نقطۃ
ؒ (م ۶۲۹ھ)
فقیہ،حسن الوعظ کہتے ہیں ۔(المحتاج الیہ
من تاریخ ابن المختصر الدبیثی للذہبی ،ص:۳۸۲،رقم ۱۴۲۹) ابن رجب ؒ(م ۷۹۵ھ)بھی
آپ کو ’’الفقیہ الاصولی ،الوعظ الصاحب الشہیر
‘‘ قرار
دیتے ہیں ۔(ذیل طبقات الحنابلہ ج:۴ص:۲۱)،ابن
مفلح ؒ (م ۸۸۴ھ)المقصد
الارشد فی ذکر اصحاب الامام احمد میں فرماتے ہیں کہ ’’الفقیہ
الاصولی الواعظ الشہیر ‘‘(ج:۳ص:۱۳۸)۔امام ابن المبراد ؒ (م
۹۰۹ھ)’’الحافظ
بن الحافظ ‘‘کہتے ہیں ۔(تذکرۃ الحفاظ وتبصرۃ الایقاظ ص:۲۷۶)،نواب
صدیق حسن خانصاحب ؒ نے بھی آپ کی تعریف کی ہے ۔(التاج المکلل ص:۲۳۵)معلوم ہوا کہ آپ کوثقہ ،امام
،حافظ الحدیث ہیں ۔ح
حافظ یو سف بن الجوزی ؒ(۶۵۶ھ)کے
متابع امام خوارزمی ؒ دو اور علماء کے نام ذکر فرمائے ہیں ۔
۱) امام
،محدث ،فقیہ ابو محمد ابراہیم بن محمد بن سالم ؒ (م ۶۴۸ھ)
ہیں ،جن کو امام ذہبی ؒ نے’’ الشیخ الامام،المقریٔ ،الفقیہ
،المحدث ،مسند بغداد اوروکان صالحا دینا فاضلا دائم البشر‘‘ قرار دیا ہے ۔(تاریخ
الاسلام ج:۱۴ص:۵۹۲،سیر اعلام النبلاء ج:۲۳ص:۲۳۵)،امام
ابن الدبیثی ؒ(م ۶۳۷ھ)کہتے
ہیں کہ ان میں کوئی خرابی نہیں ہے۔(المحتاج الیہ من تاریخ ابن المختصر الدبیثی للذہبی
،ص:۱۳۳،رقم
۴۷۱) ابو طیب المکی الفاسی ؒ (م۸۳۲ھ) نے کہا کہ ’’کان صالحا دینا فاضلا
دائم البشر عالی الروایۃ ‘‘۔(ذیل
التقیید فی رواۃ السنن والاسانید ج:۱ص؛۴۵۴)اور بھی کئی علماء نے آپ
کی توثیق و تعریف کی ہے ۔
معلوم ہواکہ آپ ؒ بھی ثقہ
محدث ہیں ۔
۱۱) ابو
عبداللہ محمد بن علی بن بقاء ؒ (م ۶۵۲ھ)
ہیں ،جنکا ترجمہ تاریخ الاسلام ج:۱۴ص:۷۳۳ پر
موجود ہے ،اور آپ ؒ کو اما م خوارزمی ؒ نے شیخ کہا ہے ۔(جامع المسانید ج:۱ص:۷۵)اور شیخ کہنا غیرمقلدین کے
راوی کی توثیق کرنا ہے ۔(دوماہی الاجماع مجلہ شمارہ نمبر:۲ص:۱۱۰) لہذا
آپ ؒ بھی اس جگہ معتبر ہیں ۔
(۳) امام
ابن الجوزی ؒ (م ۵۹۷ھ)بھی
ثقہ ،مشہور امام حافظ الحدیث ،مفسر ،محدث اور مؤرخ تھے ۔ (تاریخ الاسلام ج:۱۲ص:۱۱۰۰،کتاب الثقات للقاسم ج:۶ص:۲۸۴ھ)، ابن الجوزی ؒ کے متابع میں
بھی امام خوارزمی ؒ دو اور علماء کے نام ذکر فرمائے ہیں:
۱) امام
ابوالقاسم ذاکر بن کامل ؒ (م ۵۹۱ھ)
ہیں ،جوکہ ثقہ راوی ہیں ۔(تاریخ الاسلام
ج:۱۲
ص: ۹۵۸،کتاب الثقات للقاسم ج:۴ص:۲۰۸)
۱۱) ابو
القاسم یحیی بن اسد ؒ ہیں ،لیکن ان کی توثیق نہیں مل سکی ۔چونکہ ان کے متابع میں دو
دو ثقہ راوی موجود ہیں، لہذا وہ یہاں پر مقبول ہیں ۔
(۴) امام
قاضی ابوبکر محمد بن عبدالباقی ؒ الانصاری ؒ (م ۵۳۵ھ)
ثقہ ،مضبوط شیخ ہیں ۔(تاریخ الاسلام ج:۱۱ص:۶۳۹، المنتظم لابن الجوزی ج:۱۸ص:۱۴،احادیث الشیوخ الثقات ج:۱ص:۱۹۱،تحقیق
شیخ شریف حاتم بن عارف )
(۵) محدث
ابو محمد حسن بن علی الجوہری ؒ (م ۴۵۴ھ)بھی
ثقہ ،امام ہیں ۔(تاریخ بغداد ج:۷ص: ۴۰۴،سیر اعلام النبلاء ج:۱۸ص:۴۱۷)
(۶) امام
ابوبکر محمد بن عبداللہ الابھری
ؒ (م ۳۷۵ھ)کو
بھی کئی علماء نے ثقہ کہا ہے ۔(تاریخ الاسلام ج:۸ص:۴۱۹،کتاب الثقات للقاسم ج:۸ص:۳۸۲،الدلیل المغنی لشیوخ الامام
ابی الحسن الدارقطنی ص:۴۱۷)
(۷) حافظ
ابو عروبہ حسین بن محمد مودود الحرانی ؒ (م ۳۱۵ھ)
کو حافظ ذہبی ؒ ،ثقہ حافظ ،امام ،شریف ،صادق قرار دیا ہے۔مزید توثیق کے لئے دیکھیں
(تاریخ الاسلام ج:۷ص:۳۳۹،سیر اعلام النبلاء ج:۱۴ ص:۵۱۰،کتاب الثقات للقاسم ج:۳ص:۴۴۰)
(۸) عمرو
بن ابی عمرو ؒ بھی ثقہ ہیں ۔
اعتراض :
زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں
کہ اس میں ابوعروبہ کی طرف منسوب دادا عمرو بن ابی عمرو نامعلوم ہیں اور باقی سند میں
بھی نظر ہے۔ (مقالات زبیر علی زئی ج:۱ص:۵۴۶)
الجواب :
عمرو بن ابی عمر و جن کا پورا
نام عمرو بن سعید بن زادان ؒ ہے ۔(کتاب المعجم لابن المقری ص:۳۸۰ ) ان کی حدیث کو امام ابو نعیم
ؒ (م۴۳۰ھ)
نے صحیح اور امام ذہبی ؒ (م ۷۴۸ھ)نے
عالیا ً جداً بہت زیادہ اعلی کہا ہے ۔(مسندامام ابو حنیفہ بروایت ابو نعیم ص:۲۵۶،اثارۃ الفوائد للعلائی ج:۱ص:۳۸۶)اور کسی حدیث کی تصحیح وتحسین
،غیر مقلدین کے نزدیک اس حدیث کے ہرہر راوی کی توثیق ہوتی ہے ۔(دیکھئے، ص: ۲)
لہذا خود زبیر علی زئی صاحب
کے اصول سے عمرو بن ابی عمرو ؒ ،امام ابو نعیم ؒ اور امام ذہبی ؒ کے نزدیک ثقہ ہیں
۔تو ان پر زبیر علی زئی کا اعتراض باطل ومردود ہے ۔نیزان کو قول ’’باقی سند میں بھی
نظر ‘‘کی حقیقت بھی آپ حضرات ملاحظہ فرماچکے ہیں ۔
(۹) امام
ابو یوسف ؒ (م ۱۸۲ھ)
مشہور حافظ الحدیث اور ثقہ فقیہ ومجتہد ہیں ۔(تلامذہ امام ابو حنیفہ ؒ کا محدثانہ
مقام ص:۱۴۱)
اس تحقیق سے معلوم ہو اکہ
امام ابو یوسف ؒ سے ان کی کتاب حسن سند کے ساتھ ثابت ہے ۔واللہ اعلم
[4] امام ذہبی ؒ(م ۷۴۸ھ)
فرماتے ہیں کہ :
اخبرنا
عبدالعزیز بن محمد الفقیہ ،انا ابن خلیل ،انا عبدالخالق بن الصابونی ،وعبدالرحمن
بن نصر اللہ ۔قالا :انا قراتکین بن اسعد ،انا الحسن بن علی ،انا محمد بن عبداللہ
القاضی الابہری ،نا أبوعروبۃ بحران نا جدی لامی عمر وبن ابی عمرو ،نا ابویوسف
القاضی ،نا ابوحنیفۃ عن عطاء بن ابی رباح عن ابن عباس انہ قال :لا وضوء فی القبلۃ
۔(معجم الشیوخ الکبیر للذہبی ج:۱ص:۴۰۰،مناقب
الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ ص:۷۵) مناقب
الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ کا اسکین ملاحظہ فرمائے
روات کی تحقیق یہ ہے :
۱) اما
م ذہبی ؒ کے تعارف کی ضرورت نہیں ،وہ مشہور، ثقہ ،حافظ الحدیث اور ائمہ جرح وتعدیل
میں سے ہیں ۔
۲) فقیہ
ابو عمر عبدالعزیز بن محمد العقیلی ؒ(م ۷۱۱ھ)
بھی ثقہ ہیں ۔حافظ ؒ ان کو’’ العلامہ الفقیہ صدر
معظم کثیر الاشتغال بالعلم‘‘ کہتے ہیں ۔(معجم الشیوخ
الکبیر للذہبی ج:۱ص:۴۰۰)
۳) ابن
خلیل ؒ سے مراد امام یوسف بن خلیل ابو الحجاج الدمشقی ؒ (۶۴۸ھ)جو
کہ ثقہ ہیں صدوق ہیں ۔(تاریخ الاسلام ج:۱۴ص:۶۱۰،سیر اعلام النبلاء ج:۲۳ص:۱۵۱)
۴) امام
عبدالخالق بن عبدالوہاب الصابونی ؒ (م ۵۹۲ھ)بھی
ثقہ ہیں ۔ (سیر اعلام النبلاء ج:۲۱ص:۲۷۴،کتاب الثقات للقاسم ج:۶ص:۲۱۱)اسی طرح ان کے متابع میں موجود
شیخ ابوالقاسم عبدالرحمن بن نصر اللہ ؒ (م ۵۹۲ھ)
بھی مقبول ہیں ۔ (التکملہ لوفیات النقلۃ ج:۱ص:۲۳۹)
۵) قراتکین
بن الاسعد (م ۵۲۴ھ)بھی
ثقہ ہیں ۔
امام ابوالقاسم بن عساکر
ؒ (م ۵۷۱ھ)اور
امام عبدالرحمن بن عساکر ؒ (م۶۲۰ھ)نے
بھی آپ کی روایت کو حسن صحیح کہا ہے ۔(ذم
من لایعمل بعملہ ج:۱ص:۳۱،کتاب الاربعین فی مناقب امہات
المؤمنین رحمۃ اللہ علیہن اجمعین ص:۸۲،۸۳) اور حافظ النعال البغدادی
ؒ (م ۶۵۹ھ)نے
بھی آپ کی حدیث کو صحیح کہا ہے ۔(مشیخۃ النعال
البغدادی ص:۱۲۹)اور
کسی حدیث کی تصحیح وتحسین غیر مقلدین کے نزدیک اس حدیث کے ہر ہر راوی کی توثیق ہوتی
ہے ۔(دیکھئے، ص: ۲)
لہذا قراتکین
بن الاسعد (م ۵۲۴ھ)بھی
ثقہ ہیں ۔
۶) محدث
ابو محمدحسن بن علی الجوہری ؒ (م ۴۵۴ھ)
۷) امام
ابو بکر محمد بن عبداللہ الابھریؒ
(م ۳۷۵ھ)
۸) حافظ
ابو عروبہ حسین بن محمد مودود الحرانی ؒ (م ۳۱۵ھ)
۹) عمرو
بن ابی عمرو ؒ
۱۰) امام
ابو یوسف ؒ (م ۱۸۲ھ)
وغیرہ کی توثیق گزر چکی ۔لہذا یہ سند صحیح ہے ۔
نیز’’ لا وضوء فی القبلۃ
‘‘والی یہ روایت کتاب الآثار للقاضی ابو یوسف ص:۵ پر بھی موجود ہے۔
اسکین : کتاب الآثار للقاضی
ابو یوسف
پس ثابت ہوا کہ کتا ب الآثار
امام ابویوسف ؒ سے سنداً بھی ثابت ہے ۔واللہ اعلم ۔
[5] امام
خوازمی ؒ (م ۶۶۵ھ)
نے جس سند سے کتاب الآثار للقاضی یوسف کو روایت کیا ہے ، اسی سند سے کتاب الآثار
للامام محمد کو روایت کیا ہے ،چنانچہ ،امام خوارزمی ؒ کہتے ہیں کہ :
أما
المسند الثانی عشرالذی یرویہ محمد بن الحسن الشیبانی عن ابی حنیفۃ ویسمی نسخۃ محمد
عن ابی حنیفۃ (فأخبرنا بہ ) ہؤلاء المشائخ الثلاثۃ اذنا ً باسنادہم الی ابی محمد
الجوہر ی (عن ) ابی بکر الابہری (عن ) ابی عروبۃ الحرانی (عن ) جدہ (عن ) محمد بن
الحسن رحمہ اللہ ۔(جامع المسانید ج:۱ص:۷۵)
اسکین :
اور تفصیل گزر چکی کہ کتاب
الآثار للقاضی ابویوسف تک امام خوارزمی ؒ کی سند بالکل صحیح ہے ۔تو اسی سے یہ بات
بھی ثابت ہوگئی کہ کتاب الآثار للامام محمد کی سند بھی صحیح اور معتبر ہے ۔یعنی کتاب
الآثار للقاضی ابویوسف کی طرح کتاب الآثار للامام محمد بھی ثابت ہے ۔
ماخوذ : الاجماع شمارہ نمبر 4
پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز
سکین اور دیگر مضامین کیلئے دیکھیں مجلہ الاجماع جو ہماری موبائل ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود ہیں، نیز اس ایپ میں رد غیر مقلدیت و سلفیت پر (1000) ایک ہزار سے زائد گرانقدر PDF کتب ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں