نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح اور جرابوں پر مسح - ایک غلط فہمی کا ازالہ .


 شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح اور جرابوں پر مسح - ایک غلط فہمی کا ازالہ . 


بطور تمہید ، کچھ فقہی احکامات عرض کر دیتے ہیں .  " خفین " (چمڑے سے  بنے ہوے موزے ) پر مسح کے جواز پر تو ائمہ اربعہ کے مقلدین اور غیر مقلدین ، سب متفق ہیں . پھر ،  فقہاء احناف نے موزوں کی ایک قسم ایسی بتلائی ہے جو چمڑے کے بنے ہوے تو نہیں ہوتے ہیں مگر موٹے ہوتے ہیں ، اور ان میں اگر تین شرائط پائی جائیں ، تو ان پر مسح جائز ہوگا . اس قسم کو " ثخین " کہا جاتا ہے . (آج کل مختلف کمپنیوں نے اس قسم کے موزے مارکیٹ میں متعارف کرواۓ ہیں ، لیکن اس بات کی تقحیق کرنی چاہیے کہ جس کمپنی کے موزے آپ خرید رہے ہیں ، ان کی تصدیق کسی مستند  دارالافتاء نے کی ہو ) . 


موزوں کی ایک تیسری قسم ہے جس کو " منعل " کہا جاتا ہے ، یہ وہ موزے ہوتے ہیں جو نہ تو مکمل طور پر چمڑے سے  بنے ہوے ہوتے ہیں اور نہ ہی " ثخین " والی شرائط ان میں پائی جاتی ہیں ، بلکہ ان کے صرف نچلے حصے پر چمڑا لگا ہوا ہوتا  ہے . اس قسم کے موزوں (منعل) پر مسح کے جواز پر فقہاء احناف کے ہاں اختلاف ہے ، بعض جواز کے قائل ہیں ، بعض نہیں . 


عام طور پر جو جرابے ہمارے ہاں استعمال ہوتی ہیں  ، چاہے سوتی ہوں یا اونی وغیرہ  ، یہ چوںکہ مندرجہ بالا اقسام میں شامل نہیں ہوتی لہٰذا ان پر مسح ، فقہاء احناف کے ہاں تو بالکل جائز نہیں . اسی طرح شوافع ، موالک اور حنابلہ کے ہاں بھی راجح اقوال عدم جواز کے معلوم ہوتے ہیں . البتہ مسلک اہل حدیث / غیر مقلدین کے حضرات ، ان عام جرابوں پر مسح کو جائز سمجھتے ہیں . 


اب آتے ہیں اصل بات کی طرف . مفتی رفیع عثمانی رح کی کتاب " امریکہ میں مسلمان کس طرح رہیں ؟ " کے صفحہ '57' پر لکھا ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی رح ، عام جرابوں (کپڑے کی بنی ہوئی) پر مسح کے قائل تھے . اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت مدنی رح نے نہ صرف فقہ حنفی سے انحراف کیا ، بلکہ مذاہب اربعہ کے متفقہ موقف کو چھوڑ کر غیر مقلدین کی راۓ اپنا لی . (اس کتاب کے ٹائٹل اور اس صفحہ کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں ). غیر مقلدین حضرات بھی اس حوالے کو لے کر سوشل میڈیا پر شیر کرتے رہے ہیں .


لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہاں مفتی رفیع عثمانی رح سے تسامح ہوا ہے . 


یہی بات اور واقعہ ، مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے " اکابر دیوبند کیا تھے ؟ " کے صفحہ '85' پر تفصیل سے تحریر فرمایا ہے . اور لکھا ہے کہ حضرت مدنی رح ، " منعل " پر مسح کے جواز کے قائل تھے جبکہ مفتی محمد شفیع عثمانی رح ، قائل نہیں تھے . آگے مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے ایک واقعہ تحریر فرمایا ہے  (اس کتاب کے ٹائٹل اور اس صفحہ کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں ) . خیر ، معلوم ہوا کہ ، 


حضرت مدنی رح نے جو راۓ اپنائی تھی ، وہ بعض فقہاء احناف کی رہی ہے . لہٰذا ، نہ تو حضرت مدنی رح نے فقہ حنفی سے انحراف کیا ، نہ ہی غیر مقلدین کا موقف اختیار کیا . 


نوٹ : یہ تصاویر اور معلومات ، ہمیں Mufti Idrees صاحب کی پوسٹ سے ملیں  . اسی پوسٹ پر عزیر احمد الحسینی اور Zubair Khan صاحبان  کے کمنٹس سے بہت نفع ہوا ، جو انہوں نے ساری بات  اضح فرمائی . لہٰذا ہم ان کے مشکور ہیں .


------------------------------------------------------------------------------------------




تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...