اعتراض : غیر مقلدین یہ شوشہ چھوڑتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد ، جناب امام داود الطائی رحمہ اللہ نے فقہ حنفی کو ترک کر دیا تھا اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر تنقید کی۔
انوارِ حنفیت اور فریبِ جاہلیت: امام داؤد الطائی کے زہد اور حنفی وابستگی کا محققانہ جائزہ
اعتراض : غیر مقلدین یہ شوشہ چھوڑتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد ، جناب امام داود الطائی رحمہ اللہ نے فقہ حنفی کو ترک کر دیا تھا اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر تنقید کی۔
تعصب کی دھند جب عقلِ سلیم کو اپنی لپیٹ میں لے لے، تو پھر انسان کو دن کے اجالے میں بھی تاریکی دکھائی دینے لگتی ہے۔ عہدِ حاضر کے "غیر مقلدین" (نام نہاد فرقہ اہلحدیث) کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، جو امامِ اعظم، سراجِ امت، سیدنا امام ابوحنیفہ النعمان رحمہ اللہ کی ذاتِ گرامی اور ان کے جلیل القدر تلامذہ کے مابین قائم علمی و روحانی رشتوں کو داغدار کرنے کے لیے نت نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔
انہی من گھڑت شوشوں اور علمی خیانتوں میں سے ایک یہ ہے کہ امامِ اعظم کے انتہائی ذہین شاگرد، زہد و ورع کے کوہِ گراں، سیدنا امام داؤد بن نصیر الطائی رحمہ اللہ (توفی 165ھ) نے فقہِ حنفی کو (معاذ اللہ) بغض و نفرت کی بنا پر ترک کر دیا تھا اور امام صاحب پر تنقید کی تھی۔
ہم ان کے پیش کردہ اقتباس کا ذرہ ذرہ کر کے علمی، لغوی اور جرح و تعدیل کے میزان پر محاسبہ کریں گے تاکہ ان کا دجل و فریب طشت از بام ہو سکے۔
سب سے پہلے غیر مقلدین نام نہاد فرقہ اہلحدیث کا اقتباس ، محترم قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ۔
"بعضوں نے تو صرف مجلس چھوڑنے پر اکتفا نہ کیا ، بلکہ امام صاحب کو ہدف تنقید بھی بنایا۔ مثال کے طور پر امام داؤد الطائی رحمہ اللہ شروع میں تو امام صاحب کی صحبت میں رہے‘ لیکن جلد ہی ان پر زہد و ورع کا غلبہ ہوا تو انہوں نے امام صاحب کی مجلس چھوڑ دی۔ خطیب بغدادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’ أخبرنا الحسن بن أبی طالب أخبرنا علی بن عمرو الحریری أن علی بن محمد بن کاس النخعی حدثھم قال حدثنا أحمد بن أبی أحمد الختلی حدثنا محمد بن اسحاق البکائی حدثنا الولید ابن عقبۃ الشیبانی قال لم یکن فی حلقۃ أبی حنیفۃ أرفع صوتا من داؤد الطائی ثم إنہ تزھد واعتزلھم وأقبل علی العبادۃ۔ ‘‘[1]
’’ہمیں حسن بن أبی طالب نے خبر دی‘ انہوں نے کہا‘ ہمیں علی بن عمرو حریری نے خبر دی کہ علی بن محمدبن کاس نخعی نے انہیں بیان کیا‘ انہوں نے کہا‘ ہمیں أحمد بن أبی أحمد ختلی نے بیان کیاہے‘ انہوں نے کہا‘ ہمیں محمد بن اسحاق بکائی نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا‘ ہمیں ولید بن عقبہ شیبانی نے بیان کیا: امام أبو حنیفہ رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں داؤد طائی رحمہ اللہ سے زیادہ اونچی آواز والا کوئی شخص نہ تھا۔ پھر اس پر زہد طاری ہوگیا تو اس نے امام صاحب اور آپ کے شاگردوں کی مجلس کو چھوڑ دیا اور عبادت کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو گیا۔
خطیب بغدادی رحمہ اللہ ہی کی ایک اور روایت کے الفاظ ہیں : ’’أخبرنا محمد بن أحمد بن رزق أخبر جعفر بن محمد بن نصیر الخلدی حدثنا محمد بن عبد اللّٰہ ابن سلیمان الحضرمی حدثنا عبد اللّٰہ بن أحمد بن شبویہ قال سمعت علی بن المدینی یقول سمعت ابن عیینۃ یقول کان داؤد الطائی ممن علم وفقہ قال وکان یختلف إلی أبی حنیفۃ حتی نفد فی ذلک الکلام قال فأخذ حصاۃ فحذف بھا انسانا فقال لہ یا أبا سلیمان طال لسانک وطالت یدک؟ قال فاختلف بعد ذلک سنۃ لا یسأل ولا یجیب فلما علم أنہ یصبر عمد إلی کتبہ فغرقھا فی الفرات ثم أقبل علی العبادۃ وتخلی۔ "
ہمیں محمد بن أحمد بن رزق نے خبر دی‘ انہوں نے کہا‘ ہمیں جعفر بن محمد بن نصیر خلدی نے خبر دی‘ انہوں نے کہا‘ ہمیں محمد بن عبد اللہ بن سلیمان حضرمی نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا‘ ہمیں عبد اللہ بن أحمد بن شبویہ نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا‘ میں نے علی بن مدینی رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابن عیینہ رحمہ اللہ سے سنا‘ وہ فرما رہے تھے: داؤد طائی رحمہ اللہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے علم و فقاہت حاصل کی اور وہ امام أبو حنیفہ رحمہ اللہ سے بڑھ چڑھ کر اختلاف کرتے تھے یہاں تک کہ جس مسئلے کے بارے میں امام صاحب رحمہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دیتے تو امام داؤد طائی رحمہ اللہ (غصے سے)کچھ کنکریاں لے کر کسی انسان پر پھینک دیتے۔ ایک دفعہ امام صاحب نے داؤد طائی رحمہ اللہ کو کہا: تمہاری زبان کے ساتھ ساتھ تمہارے ہاتھ بھی لمبے ہو گئے ہیں ؟راوی کہتے ہیں : اس کے بعد بھی وہ ایک سال تک اختلاف کرتے رہے لیکن اس طرح کہ نہ توکوئی سوال کرتے تھے اور نہ ہی کسی مسئلے کا جواب دیتے تھے۔ پس جب امام صاحب کو معلوم ہو گیاکہ وہ صبر بھی کر سکتے ہیں تو وہ ان کتابوں کی طرف متوجہ ہوئے جو انہوں نے امام صاحب سے لکھی تھیں اور انہیں دریائے فرات میں پھینک دیا۔ ‘‘ ( عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد جلد 2 - صفحہ 274 ، 275 )
غیر مقلدین کے اقتباس کا متن اور ان کی علمی خیانتوں کا پردہ چاک
مخالفین نے خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے حوالے سے روایات پیش کر کے یہ باور کرانے کی مذموم کوشش کی ہے کہ امام داؤد الطائی رحمہ اللہ نے امام صاحب پر تنقید کی اور غصے میں آ کر کتبِ فقہ فرات میں بہا دیں۔ چلیے، ان کی پیش کردہ روایات میں چھپی 6 عظیم خیانتوں کا کچا چٹھا کھولتے ہیں:
خیانت نمبر 1: لغتِ عرب اور محاورے سے ناواقفیت یا دانستہ تحریف
مخالفین نے روایت کے الفاظ: وكان يختلف إلى أبي حنيفة کا ترجمہ یہ کیا: "وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بڑھ چڑھ کر اختلاف کرتے تھے"۔
سبحان اللہ! علمِ لغت کا ایسا جنازہ تو کسی جاہل نے بھی نہ اٹھایا ہو گا۔ لغتِ عرب کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ جب فعل "اختلف" کا صلہ "إلیٰ" کے ساتھ آئے، تو اس کا معنی "اختلاف کرنا" نہیں ہوتا، بلکہ "آمد و رفت رکھنا، بار بار آنا جانا یا کثرت سے مجلس میں شریک ہونا" ہوتا ہے۔
چنانچہ لغتِ عرب سے اس کی دندان شکن مثال ملاحظہ فرمائیں:
■ فكانت أمه تختلف إليه وترضعه حتى فطمته وعَقِل (موسوعة التفسير المأثور: 8/ 435)
ترجمہ: "پس ان (حضرت ابراہیم علیہ السلام) کی والدہ (غار میں) ان کے پاس آتی جاتی تھیں اور انہیں دودھ پلاتی تھیں یہاں تک کہ ان کا دودھ چھڑا دیا گیا اور وہ سمجھدار ہو گئے۔"
اب اگر یہاں غیر مقلدین کی "تحقیقی موشگافی" کو تسلیم کیا جائے، تو ترجمہ یہ بنے گا کہ "ان کی والدہ غار میں ان سے بڑھ چڑھ کر اختلاف کرتی تھیں اور دودھ پلاتی تھیں!" عقل کا دامن چھوڑنے والوں سے کوئی پوچھے کہ دودھ پیتے بچے سے کون سی ماں "بڑھ چڑھ کر اختلاف" کرتی ہے؟
صحیح ترجمہ:
وكان يختلف إلى أبي حنيفة حتى نفذ في ذلك الكلام
"امام داؤد الطائی رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس (کثرت سے) آتے جاتے رہتے تھے، یہاں تک کہ وہ اس کلام (یعنی فقہ و اجتہاد) میں راسخ اور ماہر ہو گئے۔"
پس ثابت ہوا کہ وہ فقہِ حنفی کے رسوخ یافتہ فقیہ بنے، نہ کہ دشمن۔
خیانت نمبر 2: ضمیر کے مرجع کو بدلنا
عبارت ہے: حتى نفذ في ذلك الكلام۔ مخالفین نے ترجمہ مارا: "یہاں تک کہ جس مسئلے کے بارے میں امام صاحب اپنا فیصلہ صادر فرما دیتے..."۔
یہ محض وہم اور تحریف ہے۔ لفظ "نفذ" کی ضمیر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف جا ہی نہیں سکتی۔ اس کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ امام داؤد الطائی رحمہ اللہ خود اس علمِ فقہ میں "ناَفِذ" یعنی صاحبِ رسوخ و مہارت ہو گئے۔
خیانت نمبر 3: بے بنیاد منظر کشی
روایت میں ہے کہ امام داؤد الطائی نے کسی کو کنکری ماری، جس پر امامِ اعظم نے بطور شفیق استاد اور مربی کے انہیں ٹوکا کہ: "یا أبا سليمان طال لسانك وطالت يدك؟" (اے ابو سلیمان! تمہاری زبان اور ہاتھ دونوں لمبے ہو گئے ہیں؟)۔
مخالفین نے یہاں اپنے پاس سے غصے اور اختلاف کا تڑکا لگایا۔ اول تو روایت میں یہ صراحت ہی نہیں کہ کنکری کس کو اور کیوں ماری گئی؟ دوم، اگر داؤد الطائی کو (بقولِ مخالفین) علمی اختلاف تھا، تو وہ دلیل دیتے، کنکریاں کیوں مارتے؟ معلوم ہوا کہ یہ ایک مجلسی واقعہ تھا جہاں استاد نے شاگرد کی تادیب فرمائی۔ امام داؤد الطائی رحمہ اللہ چونکہ صاحبِ دل تھے، انہوں نے استاد محترم کی اس تادیب کو دل پر لیا اور یہیں سے ان کی زندگی کا رخ زہد و ورع کی طرف مڑ گیا کہ مجھے اب اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہیے۔
انہوں نے مجلس کو چھوڑا نہیں، بلکہ پورے ایک سال تک اسی مجلس میں خاموشی سے بیٹھ کر اپنے نفس کی تربیت کی، نہ سوال کرتے تھے نہ جواب دیتے تھے، تاکہ نفس کا کبر ٹوٹ جائے۔
خیانت نمبر 4: صریح تضاد بیانی
مخالفین لکھتے ہیں: "اس کے بعد بھی وہ ایک سال تک اختلاف کرتے رہے لیکن اس طرح کہ نہ تو کوئی سوال کرتے تھے اور نہ ہی کسی مسئلے کا جواب دیتے تھے۔" عقل کے ان اندھوں سے کوئی پوچھے کہ جب ایک انسان ایک سال تک نہ کوئی سوال کر رہا ہے اور نہ جواب دے رہا ہے، تو وہ "اختلاف" کیسے کر رہا ہے؟ کیا وہ اشاروں کی زبان میں اختلاف کر رہے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ اختلاف نہیں بلکہ خاموشی کے ساتھ تزکیہِ نفس فرما رہے تھے۔
خیانت نمبر 5: کتب کو فرات میں بہانے کی اصل حقیقت اور تلبیسِ ابلیس
مخالفین یہ راگ الاپتے ہیں کہ انہوں نے فقہ سے ناراض ہو کر کتب فرات میں بہا دیں۔ مگر یہ ادھوری روایت پیش کر کے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اسی خطیب بغدادی کی روایت کے آخری حصے میں مذکور ہے کہ امام زائدہ رحمہ اللہ ان کے پاس آئے اور سورہ روم کی آیت الم غلبت الروم کی تفسیر پوچھی، تو امام داؤد الطائی نے فرمایا کہ میں نے اب تفسیر کرنا بھی چھوڑ دی ہے۔
نیز امام صیمری رحمہ اللہ کی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے:
كَانَ دَاوُد الطَّائِي يجالسنا عِنْد أبي حنيفَة حَتَّى برع فِي الرَّأْي ثمَّ رفض ذَلِك ورفض الحَدِيث وَكَانَ قد أَكثر مِنْهُ وَلزِمَ الْعِبَادَة والتوحش من النَّاس ( أخبار أبي حنيفة وأصحابه ١/١٢١ — الصيمري ، قطع نظر اس روایت کی اسنادی حیثیت کیا ہے ، چونکہ یہ روایت تاریخ بغداد کی صحیح روایت کو ہی تقویت دے رہی ہے جسے خود غیر مقلدین نے پیش کیا ہے ، لہذا ہم اسے پیش کر رہے ہیں )
ترجمہ: "امام داؤد الطائی امام ابوحنیفہ کے پاس ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے یہاں تک کہ وہ رائے (فقہ) میں ماہر ہو گئے، پھر انہوں نے اسے بھی چھوڑ دیا اور حدیث کو بھی چھوڑ دیا (یعنی درس و تدریس ترک کر دی) حالانکہ انہوں نے کثرت سے حدیث لکھی تھی، اور وہ عبادت اور گوشہ نشینی میں مشغول ہو گئے۔"
اب ہم غیر مقلدین کے گلے میں یہ سوال ڈالتے ہیں کہ اگر انہوں نے فقہِ حنفی سے نفرت کی وجہ سے کتب بہائی تھیں، تو کیا معاذ اللہ انہوں نے قرآن کی تفسیر اور حدیثِ رسول سے بھی نفرت کی وجہ سے انہیں ترک کیا تھا؟ اصل بات یہ ہے کہ وہ یکسو ہو کر صوفی اور زاہد بننا چاہتے تھے، انہوں نے درس و تدریس، افتاء اور مناظرے کی مجالس کو ترک کیا تھا، نہ کہ علمِ دین کو۔
امام داؤد الطائی کے حنفی ہونے اور امام صاحب سے وابستگی کے قاطع دلائل
امام داؤد الطائی رحمہ اللہ کا دائرہِ حنفیت میں شامل رہنا اور امام صاحب کا معتمدِ خاص ہونا کتبِ تواریخ و رجال سے سورج کی طرح روشن ہے۔ ذیل میں چند محکم دلائل پیشِ خدمت ہیں:
1. امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی عظیم الشان گواہی
امامِ جلیل، وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی مجلس میں جب کسی نے کہا کہ "ابوحنیفہ نے خطا کی" تو امام وکیع جلال میں آ گئے اور جو تاریخی جملہ ارشاد فرمایا، وہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے:
"ابوحنیفہ خطا کر ہی کیسے سکتے ہیں؟ حالانکہ ان کی مجلسِ شوریٰ میں امام ابو یوسف اور امام زفر جیسے قیاس و اجتہاد کے ماہرین موجود ہیں، یحییٰ بن ابی زائدہ، حفص بن غیاث، حبان اور مندل جیسے حفاظِ حدیث موجود ہیں، قاسم بن معن جیسے ماہرِ لغت موجود ہیں، اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے زہد و تقویٰ کے پہاڑ موجود ہیں۔ جس کے ہم نشین اور مشیر ایسے جبالِ علم ہوں، اس سے خطا سرزد ہونا ممکن نہیں..." (تاريخ بغداد ت بشار: 16/365)
علمی نکتہ اور تحقیق: اس روایت کی مفصل تحقیق کے لیے بھی ہماری ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود رسالہ "امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی حنفیت" (ص ۶۲، ۶۳) دیکھیں۔ راویِ حدیث امام ابن کرامہ رحمہ اللہ کی وفات کے بارے میں مؤرخین کے مختلف اقوال ہیں (۲۵۴ھ، ۲۵۶ھ، اور امام ابن حبان کے مطابق ۲۶۵ھ)۔ بالفرض اگر ہم ان کی وفات ۲۵۰ ہجری بھی مان لیں، تب بھی ان کی ولادت امامِ اعظم (۱۵۰ھ) کے بعد کی ہے۔ امام ابوحنیفہ کی وفات کے اتنے عرصے بعد، جناب امام داود الطائی رحمہ اللہ کو امام صاحب کے مستقل علمی بازوؤں اور ارکانِ مجلس میں شمار کرنا اس بات کی قاطع دلیل ہے کہ امام حفص کبھی بھی دائرہِ حنفیت سے خارج نہیں ہوئے تھے۔
2. امام داؤد الطائی کا آخری عمر تک امام صاحب سے روایتِ حدیث کرنا
اگر امام داؤد الطائی نے امام صاحب کو ترک کر دیا ہوتا تو وہ ان سے احادیث کی روایت کبھی نہ کرتے۔ جبکہ مسانیدِ امام ابوحنیفہ ان کی مرویات سے بھری پڑی ہیں۔ نمونے کے طور پر چند اسانید پیشِ خدمت ہیں:
پہلی روایت (سند صحیح):
مصعب بن المقدام عن داود الطائي عن أبي حنيفة قال أخبرني عطاء أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: «إذا ارتفعت النجوم ارتفعت العاهة عن كل بلد». (حلية الأولياء: 7/367)
دوسری روایت (سند حسن):
مصعب بن المقدام عن داود الطائي عن أبي حنيفة عن علقمة بن مرثد عن أبي بردة عن أبيه عن النبي ﷺ قال: «نهيتكم عن زيارة القبور...» الحديث بطوله. (حلية الأولياء: 7/367)
تیسری روایت (سند حسن):
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُقْرِئِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَا مُصْعَبٌ، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ «كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُحْرِمٌ» (مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم: 1/276)
یہ تمام روایات ثبوت ہیں کہ مُصْعَبٌ بْنُ الْمِقْدَامِ (متوفی 203ھ) امام داؤد الطائی سے اور وہ امام ابوحنیفہ سے روایات نقل کر رہے ہیں، جو ترک کے نظریے پر کاری ضرب ہے۔
3. ائمہ اسلاف کی گواہی کہ وہ "اصحابِ ابوحنیفہ" میں سے تھے
احناف کے علاوہ دیگر مکاتبِ فکر کے اکابرینِ علم و تاریخ نے بھی امام داؤد الطائی کو ابوحنیفہ کے ارشد تلامذہ میں شمار کیا ہے:
امام ابو اسحاق الشیرازی الشافعی (ت 476ھ) لکھتے ہیں:
وَمِنْهُم داود الطَّائِي: كَانَ من أَصْحَاب أبي حنيفة ثمَّ غلب عَلَيْهِ الزّهْد فَاشْتغلَ بِهِ (طبقات الفقهاء: 1/135)
حافظ ابو نعیم الاصبہانی (ت 430ھ) رقمطراز ہیں:
أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ نُصَيْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الطَّائِيِّ، كَانَ مِنْ أَقْرَانِهِ فِي الْفِقْهِ، ثُمَّ اشْتَغَلَ بِالْعِبَادَةِ (مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم: 1/102)
الزامی جواب: کیا سفیان بن عیینہ بھی متروک ہیں؟
مخالفین جس روایت سے امام داؤد الطائی کا گوشہ نشین ہونا اور لوگوں کو اپنے پاس آنے سے منع کرنا دلیل بناتے ہیں، اسی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:
جئت أنا وابن عيينة داود الطائي فقال: جئتمانى مرة فلا تعودا إلى... ثم قال: ويحك صم الدنيا واجعل الفطر موتك، واجتنب الناس غير تارک لجماعتهم. (حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة ٧/٣٤٢)
ابو اسامہ فرماتے ہیں کہ میں اور امام سفیان بن عیینہ، داؤد الطائی کے پاس آئے۔ تو انہوں نے ہمیں سختی سے منع کیا کہ دوبارہ میرے پاس مت آنا۔ تو کیا غیر مقلدین کے خود ساختہ اصول کے مطابق امام سفیان بن عیینہ بھی معاذ اللہ متروک یا داؤد الطائی کے نزدیک ناپسندیدہ قرار پائیں گے؟ ہرگز نہیں! یہ زہد کا اپنا ایک خاص رنگ اور مزاج ہوتا تھا۔
دلیلِ قاطع: "ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً"
ہم ائمہِ سلف کی ایک اور ایسی گواہی پیش کرتے ہیں جو فقہِ حنفی کی طہارت، نفاست اور تقویٰ پر مہرِ الٰہی ہے۔ امام ابنِ ابی العوام رحمہ اللہ اپنی سندِ حسن کے ساتھ فضائلِ ابی حنیفہ میں نقل کرتے ہیں:
حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن حماد مولى بني هاشم قال: ثنا محمد بن سليمان قال: قال يحيى بن زكريا بن أبي زائدة وعمرو بن ثابت: ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً۔
مفہوم: امام محمد بن سلیمان (لوین) نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور عمرو بن ثابت نے گواہی دی کہ: "ہم نے کبھی، کسی دور میں، کسی ایک بھی ایسے شخص یا محدث کو نہیں دیکھا جس نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علم اور ان کی فقہ کو اس لیے چھوڑا ہو کہ وہ دین میں زیادہ پرہیزگار، متقی یا محتاط بننا چاہتا تھا!"
سبحان اللہ! یہ ہے سیدنا امامِ اعظم کے علم کا وہ رعب اور ثقاہت جس کا اعتراف ان کے معاصرین کر رہے ہیں۔ اس گواہی کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کی مجلسِ علم سے جو کوئی بھی جڑا، وہ ان کے علم کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ ان کا علم اتنا معتبر، نافع اور شریعت کے اصولوں کے عین مطابق تھا کہ کائنات کے کسی سچے، مخلص اور پرہیزگار انسان کے دل میں کبھی یہ وہم بھی نہیں آیا کہ امام صاحب کا علم تقویٰ کے منافی ہے۔
اگر کسی نے امام صاحب سے فکری اختلاف کیا بھی، تو وہ اس کا ذاتی نظریہ، اجتہادی اختلاف یا معاصرانہ چشمک (تعصب) تو ہو سکتی ہے، لیکن تقویٰ، دیانت، یا امام صاحب میں کسی جرح و ضعف کی بنا پر کسی نے بھی ان کے علم کو خیرباد نہیں کہا۔
اگر کسی نے امام صاحب سے فکری اختلاف کیا بھی، تو وہ اس کا ذاتی نظریہ، اجتہادی اختلاف یا معاصرانہ چشمک (تعصب) تو ہو سکتی ہے، لیکن تقویٰ، دیانت، یا امام صاحب میں کسی جرح و ضعف کی بنا پر کسی نے بھی ان کے علم کو خیرباد نہیں کہا۔
خلاصہ کلام
سیدنا امام داؤد الطائی رحمہ اللہ نہ تو امامِ اعظم سے ناراض تھے اور نہ ہی انہوں نے فقہِ حنفی کو بغض کی بنا پر ترک کیا تھا، بلکہ انہوں نے سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی طرح زہدِ کامل کو اختیار کر لیا تھا اور دنیاوی علائق سے کٹ گئے تھے۔ جس طرح شیعہ روافض سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے زہد و گوشہ نشینی کو خلفائے راشدین کے خلاف پراپیگینڈا بنا کر پیش کرتے ہیں، بالکل اسی طرح روافض کے یہ چھوٹے بھائی (غیر مقلدین) امام داؤد الطائی کے زہد کو امام صاحب کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ سچ فرمایا کسی دانا نے: "پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا"۔
امام داؤد الطائی نے فقہِ حنفی پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تھا، بلکہ انہوں نے فقہ، تفسیر اور حدیث کی مجالس میں درس و تدریس کا منصب چھوڑا تھا تاکہ یکسو ہو کر معبودِ حقیقی کی بندگی کر سکیں۔ یہی تفصیل محققِ عصر دکتور عصام محمد الحاج علی نے اپنی کتاب "داود بن نصير الطائي الفقيہ الزاھد" میں تفصیل سے لکھی ہے۔
نکتہ : غیر مقلدین کی کتاب "عصر حاضر میں اجتہاد ۔۔۔" میں تاریخ بغداد کے حوالے سے چند اور روایات بھی ذکر کیں ہیں ، جن کا مدلل مفصل جواب قارئین " النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود " تانیب الخطیب : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات " نمبر وار سلسلہ میں پڑھ سکتے ہیں۔



تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں