نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام شافعی رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح :

 


 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح؟


بعض اہلِ علم کی جانب سے امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر بعض جروح منسوب کی جاتی ہیں، اور ان روایات کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں سخت منفی رائے رکھتے تھے۔

جرح نمبر 1

امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ سے منقول ہے: حدثني الربيع بن سليمان المرادي قال: سمعت الشافعي يقول: أبو حنيفة يضع أول المسألة خطأ ثم يقيس الكتاب كله عليها.

اور ایک دوسرے مقام پر منقول ہے: حدثنا أبي، حدثنا هارون بن سعيد الأيلي قال: سمعت الشافعي يقول: ما أعلم أحدا وضع الكتاب أدل على عوار قوله من أبي حنيفة.

یعنی امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے: "(امام) ابو حنیفہ پہلے مسئلے کی بنیاد ہی غلط رکھتے ہیں، پھر پوری کتاب کو اسی پر قیاس کرتے ہیں۔" (تاریخ بغداد، تحقیق بشار، 15/567)

اس روایت کے بارے میں چند نکات قابلِ غور ہیں:

جواب اول: یہاں "ابو حنیفہ" سے کون مراد ہیں؟

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مذکورہ قول میں صراحت نہیں کہ "ابو حنیفہ" سے کون شخصیت مراد ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک استاد کا نام بھی ابو حنیفہ تھا اور ان کے ایک شاگرد کی کنیت بھی ابو حنیفہ تھی۔ لہٰذا محض کنیت کی بنیاد پر یہ طے کر دینا کہ یہاں لازماً امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی مراد ہیں، محلِ نظر ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کے استاد: ابو حنیفہ بن سماک

امام شافعی رحمہ اللہ اپنے استاد ابو حنیفہ بن سماک بن الفضل الشہابی سے روایت کرتے ہیں۔ چنانچہ الرسالۃ میں ہے: قال الشافعي: أخبرني أبو حنيفة بن سماك بن الفضل الشهابي (الرسالۃ، امام شافعی، ص 450)

اسی طرح دولابی نے الکنی والأسماء میں لکھا ہے: وأبو حنيفة بن سماك بن الفضل، روى عنه الشافعي. پھر روایت کرتے ہیں: حدثنا الربيع بن سليمان الشافعي قال: أنبأنا محمد بن إدريس الشافعي قال: حدثنا أبو حنيفة بن سماك بن الفضل الشهابي. (الکنی والأسماء، 1/159-160)

امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد: ابو حنیفہ الاسوانی

امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد بھی ابو حنیفہ کے نام سے معروف تھے۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے ان کا تعارف یوں کرایا ہے:  قحزم بن عبد الله بن قحزم، أبو حنيفة الأسواني الفقيه.

پھر لکھتے ہیں: يروي عن الشافعي كثيرا من كتبه، وكان مفتيا وأصله من القبط، كتب كثيرا من كتب الشافعي وصحبه، وروى عنه عشرة أجزاء.

یعنی قحزم بن عبداللہ، جن کی کنیت ابو حنیفہ تھی، امام شافعی رحمہ اللہ سے ان کی بہت سی کتابیں روایت کرتے تھے۔ وہ مفتی بھی تھے، امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ رہے اور ان سے دس اجزاء روایت کیے۔ (الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء، ابن عبدالبر، ص 115)

لہٰذا صرف "ابو حنیفہ" کہے جانے سے یہ قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ یہاں امام نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی مراد ہیں۔

جواب دوم: بالفرض امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی مراد ہوں

اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ مذکورہ قول میں امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی مراد ہیں، تب بھی کلام کا تعلق کسی اجتہادی مسئلے سے معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ "خطا" کا امکان بالخصوص اجتہادی امور میں ہوتا ہے۔

اور اگر کسی اجتہادی مسئلے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے خطا واقع ہوئی بھی ہو تو یہ بذاتِ خود کوئی قابلِ اعتراض امر نہیں۔ حدیثِ رسول ﷺ کے مطابق مجتہد اگر اجتہاد میں درست فیصلہ کرے تو اسے دو اجر ملتے ہیں، اور اگر اجتہاد میں خطا کرے تو بھی اسے ایک اجر ملتا ہے۔

جواب سوم: امام شافعی رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی صریح تعریف

اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ مذکورہ جرح امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی کے بارے میں ہے، تو یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے بعد کے اقوال کیا ہیں؟

امام شافعی رحمہ اللہ سے صحیح سند کے ساتھ یہ قول منقول ہے: ما رأيت أحدا أفقه من أبي حنيفة یعنی: "میں نے ابو حنیفہ سے زیادہ فقیہ کسی کو نہیں دیکھا۔" (تاریخ بغداد، 15/474)

یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی مقام کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

مزید برآں، امام شافعی رحمہ اللہ اپنی کتاب الام میں امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے "رضی اللہ تعالیٰ عنہ" کے الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً: قال محمد بن الحسن - رحمه الله تعالى - وأخبرني أبو يوسف - رضي الله تعالى عنه - ... اور ایک مقام پر: قال أخبرني محمد بن الحسن أن أبا حنيفة رضي الله تعالى عنه... (الام، 6/226)

یہ اس امر کا ایک اہم قرینہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی علمی قدر و منزلت موجود تھی۔

جواب چہارم: امام شافعی رحمہ اللہ کا آخری دور تک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کرنا

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ اپنے آخری دور تک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول روایات کو بیان کرتے رہے۔ اسی طرح ان سے روایت کرنے والے ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ بھی اپنے آخری وقت تک، پھر ان سے روایت کرنے والے راوی بھی اپنے آخری وقت تک  نقل کرتے رہے۔

مثلاً امام بیہقی رحمہ اللہ السنن الکبریٰ میں روایت کرتے ہیں: أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو، ثنا أبو العباس الأصم، أنبأ الربيع بن سليمان، أنبأ الشافعي، عن محمد بن الحسن، أنبأ أبو حنيفة، عن حماد، عن إبراهيم، عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال: عقل المرأة على النصف من عقل الرجل في النفس، وفيما دونها. (السنن الكبرى، بیہقی، طبع العلمیہ، 8/167)

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ہے: وأخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو، ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أنبأ الربيع بن سليمان، أنبأ الشافعي، أنبأ محمد بن الحسن، أنبأ أبو حنيفة، عن حماد، عن إبراهيم... (السنن الكبرى، 8/59)

اور ایک اور روایت میں ہے: أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو، ثنا أبو العباس الأصم، أنبأ الربيع بن سليمان، أنبأ الشافعي، أنبأ محمد، هو ابن الحسن، أنبأ أبو حنيفة، عن حماد... (السنن الكبرى، 8/105)

ان روایات سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی علمی روایت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول آثار و اقوال کا مقام موجود تھا۔ لہٰذا ان کی بعض منقول جروح کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مجموعی علمی شخصیت کے خلاف فیصلہ کن شہادت قرار دینے سے پہلے تمام متعلقہ شواہد کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

جواب پنجم: امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کتب کی اہمیت

امام شافعی رحمہ اللہ سے باسندِ حسن یہ قول بھی منقول ہے: من لم ينظر في كتب أبي حنيفة لم يتبحر في الفقه

یعنی: "جس شخص نے ابو حنیفہ کی کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا، وہ فقہ میں گہرائی حاصل نہیں کر سکتا۔" (أخبار أبي حنيفة، ص 87)

یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی ذخیرے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔چنانچہ مذکورہ اقوال کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے لیے  عظمت، فقاہت اور ان کے علمی ذخیرے کی اہمیت پر دلالت کرنے والے اقوال موجود ہیں۔

اصل نکتہ: کیا ہر جگہ "ابو حنیفہ" سے امام نعمان بن ثابت ہی مراد ہیں؟

اب سوال یہ ہے کہ جہاں امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف "ابو حنیفہ" پر جرح منقول ہے، وہاں ہم یہ کیوں نہ کہیں کہ اس سے مراد امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی ہیں؟

اس کے جواب میں چند قرائن پیش کیے جا سکتے ہیں۔

پہلی وجہ: قول میں تعیین موجود نہیں

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مذکورہ جرح کے الفاظ میں یہ صراحت نہیں کہ "ابو حنیفہ" سے مراد نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہیں۔ چونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے استاد اور شاگرد دونوں "ابو حنیفہ" کے نام سے معروف تھے، اس لیے صرف کنیت کی بنیاد پر تعیین کرنا محتاجِ دلیل ہے۔مزید یہ کہ ان دونوں شخصیات کے بارے میں محدثین کی طرف سے ایسی صریح توثیق بھی ہمارے سامنے نہیں جس کی بنیاد پر ان کے بارے میں منقول کسی تنقیدی قول کو بلا تحقیق نظر انداز کر دیا جائے۔

دوسری وجہ: ابو حنیفہ الاسوانی کا امام شافعی رحمہ اللہ سے گہرا تعلق

جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، قحزم بن عبداللہ، جن کی کنیت ابو حنیفہ تھی، امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے مطابق وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی بہت سی کتابیں روایت کرتے تھے اور ان سے دس اجزاء نقل کیے تھے۔امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے حوالے سے ان کا ذکرتاریخ الاسلام" 591/6میں کیا ہے۔

ممکن ہے کہ قحزم سے امام شافعی رحمہ اللہ کی کسی کتاب کی نقل، کسی مسئلے کی روایت، یا کسی مسئلے میں استدلال کرتے ہوئے کوئی غلطی ہوئی ہو، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی نوعیت کی کسی غلطی کی طرف اشارہ کیا ہو۔ چونکہ قحزم خود مفتی تھے، اس لیے فقہی مسائل میں ان کے سامنے ایسے مواقع آنا بعید نہیں جن میں اجتہاد یا قیاس کی ضرورت پیش آتی ہو۔

تیسری وجہ: بعض دیگر منقول اقوال کا سیاق

امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے آداب الشافعی ومناقبہ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے ایک قول نقل کیا ہے: أبو حنيفة إذا أخطأ في مسألة قال أصحابه: لم تجب في هذه المسألة.

یعنی: "ابو حنیفہ جب کسی مسئلے میں خطا کرتے تو ان کے اصحاب کہتے: آپ نے اس مسئلے کا جواب نہیں دیا۔"

یہاں قابلِ غور امر یہ ہے کہ قول کا انداز ایک ایسی مجلس کے واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں "ابو حنیفہ" اور ان کے اصحاب موجود تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کا زمانہ نہیں پایا؛ اس لیے اگر اس واقعے کو نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کی مجلس کا واقعہ قرار دیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ واقعہ براہِ راست کیسے بیان کیا؟ بالخصوص جبکہ مذکورہ مقام پر ایسی سند بھی مذکور نہیں جو یہ واضح کرے کہ یہ واقعہ ان تک کس واسطے سے پہنچا۔ اس بنا پر یہ احتمال پیش کیا جا سکتا ہے کہ یہاں امام شافعی رحمہ اللہ کے اپنے استاد ابو حنیفہ بن سماک مراد ہوں۔

اسی طرح مسند الشافعی میں امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف ایک واقعہ منسوب ہے کہ ابو حنیفہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ اگر آدھی رات کو فجر طلوع ہو جائے تو کیا حکم ہوگا؟ تو انہوں نے جواب میں کہا: يا أعرج اسكت. یہاں بھی ایک مجلس کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اگر "ابو حنیفہ" سے نعمان بن ثابت رحمہ اللہ مراد لیے جائیں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ایسے واقعات بغیر واضح سند کے کیوں نقل کیے، جبکہ انہوں نے امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کا زمانہ پایا ہی نہیں؟

اسی طرح خطیب بغدادی رحمہ اللہ سے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول بھی منقول ہے کہ: ناظر أَبُو حنيفة رجلا، فكان يرفع صوته في مناظرته یعنی: "ابو حنیفہ جب کسی شخص سے مناظرہ کرتے تو ان کی آواز بلند ہو جاتی تھی۔"

یہاں بھی مناظرے کے مشاہدے کا سا انداز پایا جاتا ہے۔ اس لیے یہ احتمال بھی قابلِ غور ہے کہ یہاں امام شافعی رحمہ اللہ کے استاد ابو حنیفہ مراد ہوں، نہ کہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ۔

اگر خطیب بغدادی نے اسے امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کے ترجمے میں نقل کیا ہے؟

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے مذکورہ جرح کو امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کے ترجمے میں نقل کیا ہے، تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کوئی دوسرا "ابو حنیفہ" مراد ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ کسی محدث کا کسی قول کو کسی شخصیت کے ترجمے میں نقل کر دینا بذاتِ خود اس امر کی قطعی دلیل نہیں کہ قول کی اصل نسبت بھی اسی شخصیت کی طرف متعین ہے۔

ممکن ہے کہ ایک ہی کنیت رکھنے والی شخصیات کے سبب راوی یا مصنف نے کسی قول کو اپنے فہم کے مطابق کسی خاص شخصیت کے ترجمے میں درج کیا ہو۔ 

پھر امام شافعی رحمہ اللہ کی تعریف سے نعمان بن ثابت ہی کیوں مراد لیے جائیں؟

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر "ابو حنیفہ" کی کنیت مشترک ہونے کی وجہ سے جرح کے اقوال میں اشتباہ کا امکان ہے، تو پھر امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب تعریفی اقوال میں ہم کیسے کہتے ہیں کہ اس سے مراد امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی ہیں؟

اس کے جواب میں متعدد قرائن موجود ہیں۔

پہلا قرینہ: "رضی اللہ تعالیٰ عنہ" کا استعمال

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، امام شافعی رحمہ اللہ اپنی کتاب الام میں امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے لیے "رضی اللہ تعالیٰ عنہ" کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔یہ قرینہ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ وہاں مراد امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی ہیں، کیونکہ فقہی سیاق بھی اسی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

دوسرا قرینہ: فقہ کے میدان میں "ابو حنیفہ" کی شہرت

فقہ کے میدان میں "ابو حنیفہ" کا نام بالخصوص امام نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کے لیے معروف ہے۔ اس کے برعکس امام شافعی رحمہ اللہ کے استاد ابو حنیفہ بن سماک کے بارے میں ایسی شہرت اور فقہی نسبت موجود نہیں۔ لہٰذا جب قول کا سیاق فقہ، فقہی کتب اور فقہی مقام سے متعلق ہو تو امام نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کی تعیین زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے۔

تیسرا قرینہ: امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب اشعار

امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف منسوب دیوان شافعی میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مدح میں اشعار بھی منقول ہیں، جن میں انہیں امام المسلمین قرار دیا گیا ہے اور ان کی مثال مشرق و مغرب کے شہروں اور کوفہ میں نہ ہونے کا ذکر ملتا ہے۔

 اشعار کا سیاق واضح طور پر امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، کیونکہ وہ کوفہ کے عظیم فقہی امام اور امت میں اپنے فقہی مقام کے اعتبار سے معروف تھے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو تعریف کے اقوال ہیں وہ امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کے لیے ہی منقول ہیں۔

جرح 2: 

اس کے علاوہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان ایک مناظرہ بھی کتابوں میں نقل کیا گیا ہے




جرح نمبر 3:

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کی کتاب دیکھی جس میں 130 صفحات تھے اور 80 صفحات قرآن و سنت کے خلاف تھے۔ 

أخبرنا أحمد بن محمد العتيقي والحسن بن جعفر السلماسي والحسن بن علي الجوهري قالوا: أخبرنا علي بن عبد العزيز البرذعي، أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حاتم، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال: قال لي محمد بن إدريس الشافعي: نظرت في كتب لأصحاب أبي حنيفة، فإذا فيها مائة وثلاثون ورقة، فعددت منها ثمانين ورقة خلاف الكتاب والسنة. قال أبو محمد:

لأن الأصل كان خطأ فصارت الفروع ماضية على الخطأ

(تاریخ بغداد ت بشار 15/567 ، مناقب الشافعي للبيهقي ١/‏١٧٠ )

جواب 1: اس کی سند میں بھی ابن عبدالحکم رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کے بارے میں اوپر تفصیل گزر چکی ہے۔ اس کے حجت نہ ہونے کے لئے یہی کافی ہے۔

جواب 2: ابن عبدالحکم رحمۃ اللہ علیہ کبھی بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کی کتاب دیکھی اور کبھی بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب دیکھی۔ 

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: «نَظَرْتُ فِي كِتَابٍ لِأَبِي حَنِيفَةَ فِيهِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ، أَوْ ثَلَاثُونَ وَمِائَةُ وَرَقَةٍ فَوَجَدْتُ فِيهِ ثَمَانِينَ وَرَقَةً فِي الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ، وَوَجَدْتُ فِيهِ إِمَّا خِلَافًا لِكِتَابِ اللهِ أَوْ لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، أَوِ اخْتِلَافَ قَوْلٍ أَوْ تَنَاقُضٍ أَوْ اخْتِلَافَ قِيَاسٍ

(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 9/103)


یعنی دونوں اقوال میں تضاد ہے، جو اس قول کے ضعف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جواب 3: امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب اور مثال کے طور پر کوئی مسئلہ ذکر کیوں نہیں کیا جو قرآن و سنت کے خلاف ہو تاکہ تحقیق کی جا سکے کہ واقعی وہ بات قرآن و سنت کے خلاف ہے بھی یا نہیں۔

جواب 4: امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے خود اپنے کئی مسائل سے آخر عمر میں رجوع کر لیا تھا، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ خود پہلے اپنے اقوال کو قرآن و سنت کے خلاف سمجھتے تھے؟

جواب 5: قول سے ظاہر ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی کتاب تھی جس میں صرف 130 صفحات تھے، یعنی کسی مجہول شاگرد کی کتاب سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر کیسے اعتراض ہو سکتا ہے جبکہ یہ واضح نہیں کہ وہ کتاب کس شاگرد کی تھی اور اس میں کون سے مسائل غلط تھے۔

جواب 6: اگر وہ کتاب کا نام ظاہر کر دیا جاتا تو ممکن ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد یا ان کے شاگرد کے شاگرد اس کا جواب لکھ دیتے یا کم سے کم غلط بات سے رجوع کر لیتے، لیکن ایسا کچھ نہیں ملتا۔

جواب 7: ابن عبدالحکم رحمۃ اللہ علیہ نے تو خود امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے رد میں کتاب لکھی ہے، پھر ایک راوی کی بات امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف تو اعتراض کے طور پر پیش کی جائے لیکن امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف پیش نہ کی جائے، ایسا دوہرا معیار کیوں؟

جرح 3:

حَدَّثَنَا الساجي، حَدَّثني أَحْمَد بْن مدرك الرازي سمعت حرملة يقول: سَمعتُ الشافعي يقول رأيت أبا حنيفة في النوم وعليه ثياب وسخة، وَهو يقول مالي ولك يا شافعي مالي ولك يا شافعي.


امام شافعیؒ نے فرمایا: “میں نے خواب میں امام ابو حنیفہؒ کو دیکھا، اُن کے کپڑے میلے تھے، اور وہ بار بار کہہ رہے تھے: ‘اے شافعی! میرا اور تمہارا کیا واسطہ؟ میرا اور تمہارا کیا واسطہ؟’”

( الكامل في ضعفاء الرجال ٣/‏٤٠٧ )

جواب:  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 46 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں کہ امام شافعی نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ابو حنیفہ کو میلّے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ 


حاصل کلام:

غرض ابن عبدالحکم رحمۃ اللہ علیہ یا کسی اور واسطے سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف جرح مقبول نہیں کیونکہ

1۔ ایک تو وضاحت نہیں کہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کون مراد ہیں۔ 

2۔ دوسری بات کئی اقوال جو ہم نے یہاں نقل نہیں کیے، وہ اپنے معنی کے لحاظ سے ہی غیر واضح ہیں (یعنی ان سے معلوم نہیں ہوتا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے کہنے کا مقصد کیا ہے)۔ 

3۔ تیسرا، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق و تعریف منقول ہے اور اس صورت میں توثیق ہی مقدم ہوگی کیونکہ توثیق واضح ہے اور جرح غیر مفسر اور غیر واضح۔


 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



















"امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ، امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں"


امام شافعی رحمہ اللہ جو خود مجتہد اور محدث ہیں جن کے بلند مرتبے پر سب متفق ہیں، وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کیا احترام اور عزت کرتے ہیں؟   قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر21 : "امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ، امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں"

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...