نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض : ابوحنیفہ نے کہا کہ میں تم سے جو بیان کرتا ہوں اس کا اکثر خطا ہوتا ہے۔


امام ابو حنیفہؒ سے منسوب قول "میں جو کچھ تمہیں بیان کرتا ہوں اس میں اکثر خطا ہوتی ہے" - ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ

اس مضمون میں ہم اس قول کے جملہ دستیاب طُرُق، ان کے مختلف الفاظ و روایات، اسانید کے اضطراب و اختلاف، اور ان سے مستفاد ہونے والے ممکنہ معانی و مفاہیم کا قدرے تفصیل کے ساتھ جائزہ لیں گے۔

اس ضمن میں ہماری طرف سے 3 جوابات معروض ہوں گے۔ اوّل، ان حضرات کے اعتراض کے جواب میں جو ان روایات سے یہ استدلال کرنا چاہتے ہیں کہ امامِ اعظم ابو حنیفہؒ خود اپنی خطا کا معترف تھے، اور بناءً علیہ ان کے اقوال و آراء کو حجت و قابلِ اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوم، ایک جوابِ الزامی ہوگا۔ اس کے بعد ایک جوابِ تطبیقی بھی پیش کیا جائے گا، جو دراصل فقہائے احناف کے معروف منہجِ استدلال کا نمایاں امتیاز ہے؛ یعنی مختلف اقوال و روایات کے مابین، حتی الامکان، تطبیق و توفیق پیدا کرنا اور بظاہر متعارض نصوص کو ایسے محمل پر محمول کرنا جس سے ان کے درمیان موافقت و ہم آہنگی قائم ہو جائے۔

پہلا جواب

زیرِ بحث اعتراض کا خلاصہ

معترضین کا مدارِ استدلال اس امر پر ہے کہ چونکہ امامِ اعظم ابو حنیفہؒ نے خود اپنی زبانِ مبارک سے یہ اعتراف فرمایا ہے کہ ان کی اکثر مرویات میں خطا واقع ہوتی ہے، اس لیے ان کی منقولات و مرویات پر اعتماد و استناد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

ہماری غرض یہ واضح کرنا ہے کہ مذکورہ روایت میں وارد یہ اضافہ  نہ سند کے اعتبار سے صحیح  ہے، اور نہ متن کے اعتبار سے ؛ بلکہ  اس کے متن میں اضطراب و اختلاف پایا جاتا ہے۔ اور اصولِ محدثین کی رو سے محض صحتِ سند، صحتِ روایت کے لیے کافی نہیں، بلکہ متن کا محفوظ، غیر مضطرب اور شاذ و معلول نہ ہونا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ اگر کسی روایت کی سند کو بفرضِ صحت صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے، لیکن اس کے متن میں ایسا اضطراب ثابت ہو جس سے روایت کے اصل مفہوم اور منقول الفاظ میں عدمِ ثبات ظاہر ہو، تو محدثین کے اصول کے مطابق ایسی روایت ضعف سے خالی نہیں رہتی۔

اسی اصول کی تصریح اہلِ فن نے متعدد مقامات پر فرمائی ہے، چنانچہ التقریب والتیسیر للنووی (۱/۴۵)، تدریب الراوي في شرح تقریب النواوي (۱/۳۰۸)، اور الیواقیت والدرر شرح شرح نخبۃ الفکر (۲/۹۸) میں اس کی تفصیل مذکور ہے۔

اصل روایت: امام ابو حنیفہؒ کا حضرت عطاءؒ کی فضیلت میں قول

سب سے پہلے وہ بنیادی اور معتبر روایت ملاحظہ ہو جو امام ابو حنیفہؒ کے جلیل القدر شاگرد امام ابو عبدالرحمٰن المقرئ (عبداللہ بن یزید بن عبدالرحمٰن الاہوازی البصری المکی) سے منقول ہے:

"حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ قَالَ: ثنا الْمُقْرِئُ قَالَ: ثنا أَبُو حَنِيفَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءٍ"

ترجمہ: میں نے (تابعین میں سے) حضرت عطاءؒ سے افضل کسی آدمی کو نہیں دیکھا۔

(أخبار مکہ للفاکہي، ط ٢، ٢/‏٣٢١)

یہی قول امام صاحبؒ کے دیگر شاگردوں نے بھی نقل کیا ہے:

"وَذَكَرَ عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُخَلَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ"

اور: "وَحَدَّثَنَا حَكَمُ بْنُ مُنْذِرٍ، نا يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَدَّامٍ الْفَقِيهُ الْعَبْدُ الصَّالِحُ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ الصَّيْرَفِيُّ، سَنَةَ سِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى الْحِمَّانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَلَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْذَبَ مِنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ" (جامع بیان العلم وفضلہ، ٢/‏١٠٩٥)

یہ روایت اپنی اصل اور بنیادی صورت کے اعتبار سے ایک مسلم اور غیر متنازع امر کی ترجمانی کرتی ہے، اور وہ یہ کہ امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک حضرت عطاء بن ابی رباحؒ جملہ تابعین میں افضل و اشرف مقام رکھتے تھے۔ چنانچہ روایت کا یہ حصہ بذاتِ خود امامِ اعظمؒ کے علم و دیانت، دقتِ نظر اور انصاف پسندی پر دلالت کرتا ہے۔ مزید برآں، اسی روایت میں امام صاحبؒ جابر الجعفی کو صراحتاً کذّاب قرار دیتے ہیں، جو اس امر کی روشن دلیل ہے کہ آپؒ محض روایت نقل کرنے والے نہ تھے، بلکہ رواۃ کے احوال، صدق و کذب اور مراتبِ اعتبار سے بھی پوری بصیرت رکھتے تھے۔

تین طرق کا تقابلی بیان

مذکورہ بالا اصل روایت کے علاوہ بعض طرق میں اسی قول کو ایک زائد جملے کے ساتھ نقل کیا گیا ہے؛ تاہم یہ زائد عبارت نہ صرف سند کے اعتبار سے محلِ کلام ہے، بلکہ مختلف روایات کے مابین اس کے الفاظ میں بھی واضح اضطراب پایا جاتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان طرق کو الگ الگ ملاحظہ کیا جائے، تاکہ اصل روایت اور اس پر وارد ہونے والے اضافے کے درمیان امتیاز پوری طرح واضح ہو سکے۔

پہلا طریق: امام ابن عدیؒ اپنی کتاب الکامل (٨/‏٢٣٧) میں یہ روایت نقل کرتے ہیں: "حَدَّثَنَاهُ عَبد اللَّهِ بْنُ مُحَمد بْن عَبد الْعَزِيز، حَدَّثني مَحْمُود بن غيلان، حَدَّثَنا المقري سَمِعت أَبَا حنيفة يَقُول ما رأيت أفضل من عَطَاء وعامة ما أحدثكم خطا."

 ثقہ راوی امام ابو القاسم البغویؒ روایت کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا: "میں نے عطاءؒ سے افضل کسی شخص کو نہیں دیکھا، اور جو کچھ میں تم لوگوں سے بیان کرتا ہوں، اس کا اکثر حصہ خطا پر مبنی ہوتا ہے۔"

دوسرا طریق: مسند ابن الجعد (۱/۲۹۲، رقم: ۱۹۷۸) میں بھی یہی ثقہ راوی، امام ابو القاسم البغویؒ، اسی روایت کو قدرے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کرتے ہیں: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، نَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَفْضَلَ مِنْ عَطَاءٍ، وَعَامَّةُ مَا حَدَّثَكُمْ بِهِ خَطَأٌ

اس روایت میں سابقہ طریق کے «أُحَدِّثُكُمْ» کے بجائے «حَدَّثَكُمْ» کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ اگر اس قراءت کو ملحوظ رکھا جائے تو عبارت کا مفہوم یہ ہوگا: ’’میں نے عطاءؒ سے افضل کسی کو نہیں دیکھا، اور جو کچھ عطاءؒ نے تم سے بیان کیا ہے، اس کا اکثر حصہ خطا پر مبنی ہے۔‘‘

پس محض ایک لفظ کے اختلاف سے کلام کا مرجع اور مفہوم یکسر تبدیل ہو جاتا ہے؛ ایک قراءت میں نسبت خود امام ابو حنیفہؒ کی طرف ہوتی ہے، جبکہ دوسری قراءت میں حضرت عطاءؒ کی طرف۔ یہی اختلاف اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ روایت کے یہ الفاظ ضبط و نقل کے اعتبار سے کس قدر غیر مستقر ہیں۔

تیسرا طریق : 

اسی طرح حاکمِ کبیر، ابو احمد محمد بن محمد بن احمد بن اسحاقؒ، اس روایت کو یوں نقل کرتے ہیں: أخبرنا أبو القاسم البغوي نا محمود يعني ابن غيلان نا المقريء يعني عبد الله بن يزيد عن أبي حنيفة قال: ما رأيت أفضل من عطاء ما أحدثكم خطأ

اس نقل کے مطابق عبارت کا مفہوم یہ بنتا ہے: ’’میں نے عطاءؒ سے افضل کسی کو نہیں دیکھا؛ میں تم سے خطا کی بات بیان نہیں کرتا۔‘‘ (الحاكم الكبير، الأسامي والكنى، تحقيق: يوسف بن محمد الدخيل، ص. ١٤٢٩) البتہ یہاں لفظ «خَطَأ» کے اعراب  کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیونکہ اعراب کے اختلاف سے عبارت کے مفہوم اور مراد میں تفاوت پیدا ہونے کا احتمال موجود ہے۔ تاہم چونکہ زیرِ بحث مقام پر ہمارا مقصود معترض کے استدلال کو اسی کے مسلّم کردہ مفہوم کے مطابق پرکھنا ہے، اس لیے فی الحال ہم وہی معنی اختیار کرتے ہیں جس پر معترض کا مدارِ اعتراض قائم ہے، تاکہ اصلِ نزاع کسی دوسرے پہلو کی طرف منتقل نہ ہو۔

تینوں طرق کے باہمی اختلاف پر ایک نظر

اب ذرا غور کیجیے کہ یہ تینوں روایات ایک ہی ثقہ راوی، یعنی امام ابو القاسم البغویؒ، سے منقول ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے الفاظ میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے۔ کہیں «أُحَدِّثُكُمْ» کے الفاظ ہیں، جن سے خطا کی نسبت خود امام ابو حنیفہؒ کی طرف ہوتی ہے؛ کہیں «حَدَّثَكُمْ بِهِ» ہے، جس سے حضرت عطاءؒ مراد قرار پاتے ہیں؛ اور کہیں ایسی تعبیر منقول ہے جس سے خود امام ابو حنیفہؒ کی جانب سے خطا کی نسبت کی نفی مفہوم ہوتی ہے۔

گویا ایک ہی واقعے کی نقل میں کبھی خطا کا منبع امامِ اعظمؒ کو قرار دیا جا رہا ہے، کبھی حضرت عطاءؒ کی طرف اس کی نسبت ہو رہی ہے، اور کبھی خود امام صاحبؒ سے اس نسبت کی نفی مستفاد ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ دعویٰ کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے کہ روایت کا مذکورہ زائد حصہ اپنے الفاظ کے ساتھ محفوظ و مضبوط طور پر منقول ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان مختلف طرق کے تقابل سے خود متن کے عدمِ استقرار اور اضطراب کی کیفیت نمایاں ہو جاتی ہے۔

اسانید کا تقابلی جائزہ اور ان میں پایا جانے والا اضطراب

متن کے اختلاف ہی پر بس نہیں، بلکہ اس زائد جملے کی سند کے طرق میں بھی اضطراب کی ایک قابلِ توجہ صورت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ ثقہ راوی محمود بن غیلانؒ سے یہ قول کبھی امام ابو عبد الرحمن المقرئؒ کے واسطے سے منقول ہوا ہے اور کبھی ان کے فرزند، محمد بن عبد اللہ المقرئؒ، کے واسطے سے۔ پہلی صورت الأسامي والكنى لأبي أحمد الحاكم (۳/۶۴) میں مذکور ہے، جبکہ دوسری صورت تاريخ بغداد وذيوله (۱۳/۴۰۳) میں منقول ہے۔ دوسرے طریق میں مذکور راوی، محمد بن عبد اللہ بن یزید المقرئؒ، کا امام ابو حنیفہؒ سے سماع ثابت نہیں۔ پس جب ایک ہی روایت کی نقل میں ثقہ رواۃ کی جانب سے بھی ضبط و نقل کے اختلافات واقع ہو جائیں، اور روایت کے الفاظ نیز اسانید دونوں اعتبار سے ایک متعین اور محفوظ صورت پر قائم نہ رہیں، تو ایسے مضطرب اور غیر مستقر نقل کو بنیاد بنا کر امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے خلاف کوئی قطعی حکم صادر کرنا کس طرح قرینِ تحقیق و انصاف ہو سکتا ہے؟

متن کی نکارت: عقلی و منطقی پہلو

بالفرض اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہؒ خود یہ الفاظ فرمایا کرتے تھے: «ما رأيت أفضل من عطاء، وعامة ما أحدثكم خطأ» اور اس عبارت کو کسی تاویل و توجیہ کے بغیر، نہ سیاق و سباق کی رعایت کرتے ہوئے، بعینہٖ اسی معنی پر محمول کیا جائے جو معترضین اس سے اخذ کرنا چاہتے ہیں، تب بھی یہ مفہوم عقلاً و منطقاً متعدد وجوہ سے محلِ نظر اور قابلِ تأمل ہے۔

اوّل: دونوں جملوں کے مابین عدمِ مناسبت

ایک ہی سیاق میں پہلے یہ فرمایا جائے: «ما رأيت أفضل من عطاء»

یعنی: ’’میں نے عطاءؒ سے افضل کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘

اور اس کے فوراً بعد یہ کہا جائے: «وعامة ما أحدثكم خطأ»

یعنی: ’’جو کچھ میں تم سے بیان کرتا ہوں، اس کا اکثر حصہ خطا پر مبنی ہے۔‘‘

تو طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں جملوں کے مابین مناسبت اور ربطِ کلام کیا ہے؟ ایک طرف حضرت عطاءؒ کی ایسی عظیم فضیلت بیان کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف، بقولِ معترضین، اپنے ہی بیان کردہ اقوال و روایات کے ایک بڑے حصے کو خطا قرار دیا جا رہا ہے۔

بالخصوص یہ معنی اس شخصیت کے حق میں کس قدر بعید معلوم ہوتے ہیں جس کی فقاہت، علمی جلالت اور دقتِ نظر کا اعتراف خود اس کے مخالفین تک کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ محض الفاظ کے ایک محتمل مفہوم کو اختیار کرکے، سیاقِ کلام اور متکلم کے علمی مقام و طرزِ عمل سے قطعِ نظر کرنا، اصولِ فہم و استدلال کے اعتبار سے محلِ تأمل ہے۔

دوم: ائمۂ رجال و تراجم کا طرزِ نقل

مزید قابلِ غور امر یہ ہے کہ امام ذہبیؒ، امام ابن حجرؒ اور امام مِزّیؒ جیسے ائمۂ رجال و تراجم نے امام ابو حنیفہؒ اور حضرت عطاءؒ کے تراجم میں اس قول کا صرف پہلا حصہ: «ما رأيت أفضل من عطاء» نقل کیا ہے، جبکہ «وعامة ما أحدثكم خطأ» کے الفاظ ان کی نقل میں موجود نہیں۔ اگر مذکورہ اضافہ ان ائمہ کے نزدیک اسی معنی میں ثابت، محفوظ اور قابلِ اعتماد ہوتا جس معنی پر بعد کے معترضین اس کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں، تو یہ امام صاحبؒ کے منہجِ روایت اور علمی مقام سے متعلق ایک نہایت اہم اور مؤثر امر تھا، جس کا ذکر ان کے تراجم میں بعید از توقع نہ تھا۔ لیکن ان ائمہ نے صرف: «ما رأيت أفضل من عطاء» پر اکتفا کیا۔ کم از کم اس قدر قرینہ ضرور حاصل ہوتا ہے کہ مذکورہ زائد جملہ ان کے نزدیک اس معنی میں ثابت و محفوظ نہ تھا جس معنی پر بعد کے معترضین اسے محمول کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہی امر اس زائد عبارت کے ثبوت و دلالت، دونوں کے بارے میں مزید توقف کا موجب ہے۔

سوم: امام المقرئؒ کا طرزِ عمل

اس روایت کے رواۃ میں امام ابو عبد الرحمن المقرئؒ کا نام بھی آتا ہے، جو امام ابو حنیفہؒ سے براہِ راست روایت کرنے والوں میں ہیں۔ اگر مذکورہ قول کا مفہوم واقعی یہ تھا کہ امام ابو حنیفہؒ اپنی بیان کردہ روایات کے ایک بڑے حصے میں خطا کیا کرتے تھے، تو پھر امام المقرئؒ نے آخر عمر تک ان سے روایات کیوں  نقل فرمائیں؟ خصوصاً جبکہ ان منقولات میں حدیث اور فقہ دونوں سے متعلق روایات پائی جاتی ہیں۔ اگر امام المقرئؒ کے نزدیک امام صاحبؒ کی مرویات کا ایک بڑا حصہ ناقابلِ اعتماد تھا، تو ان سے مسلسل روایت کرنے کا یہ طرزِ عمل خود ایک قابلِ غور امر بن جاتا ہے۔

مزید یہ کہ اگر امام المقرئؒ کو یہ علم تھا کہ امام ابو حنیفہؒ کی اکثر مرویات خطا پر مشتمل ہیں، اور اس کے باوجود وہ ان سے متواتر طور پر روایت کرتے رہے، تو ائمۂ نقد و رجال نے ان کے اس طرزِ عمل کو موجبِ جرح کیوں قرار نہیں دیا؟ حالانکہ ائمۂ رجال نے خود امام المقرئؒ کو ثقہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا خود راوی کے عملی طرزِ تعامل کو بھی روایت کے مفہوم کی تعیین میں یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

امام المقرئؒ کا تاعمر امام ابو حنیفہؒ سے روایت کرنا

اس امر کے شواہد بھی موجود ہیں کہ امام ابو عبد الرحمن المقرئؒ نے امام ابو حنیفہؒ سے محض ایک آدھ روایت نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اپنی زندگی کے آخری زمانے تک ان سے روایت کرتے رہے۔

پہلی شہادت

امام المقرئؒ (متوفیٰ ۲۱۳ھ) کے شاگرد، ثقہ محدث بشر بن موسیٰ بن صالح الاسدی البغدادیؒ (پیدائش ۱۹۰ھ، وفات ۲۸۸ھ، سیر أعلام النبلاء، ۱۳/۳۵۲) اپنے استاذ امام المقرئؒ کے واسطے سے امام ابو حنیفہؒ سے روایت کرتے ہیں: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»

(المعجم الكبير للطبراني، ۴/۹۶)

اسی طرح امام ذہبیؒ نے امام المقرئؒ کے ترجمے میں ایک دوسری روایت بھی بشر بن موسیٰؒ، المقرئؒ اور امام ابو حنیفہؒ کے واسطے سے نقل کی ہے: أَخْبَرَنَا ابْنُ قُدَامَةَ، وَابْنُ البُخَارِيِّ إِجَازَةً، قَالاَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ بنُ البَنَّاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ القَطِيعِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بنُ مُوْسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ المُقْرِئُ، عَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أنَّه رَآهُ يُصَلِّي فِي قَمِيْصٍ خَفِيْفٍ، لَيْسَ عَلَيْهِ إِزَارٌ، وَلاَ رِدَاءٌ. قَالَ: وَلاَ أَظُنُّهُ صَلَّى فِيْهِ إِلاَّ لِيُرِيَنَا أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِالصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الوَاحِدِ

اور اس روایت کے تحت محشی نے لکھا ہے: «إسناده صحيح، وهو في "مسند" أبي حنيفة برقم (٨١)» (سیر أعلام النبلاء، ط الرسالۃ، ۱۰/۱۶۸)

دوسری شہادت

امام المقرئؒ کے ایک اور شاگرد، الامام، المحدث، المسند ابو یحییٰ عبد اللہ بن احمد بن ابی مسرہؒ (متوفیٰ ۲۷۹ھ)، جو امام المقرئؒ کے آخری دور کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں، ان کے واسطے سے امام ابو حنیفہؒ سے روایت کرتے ہیں: وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، قثنا الْمُقْرِئُ، قثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ... (مسند أبي عوانة، دار المعرفة، ۴/۲۰۵، رقم: ۶۵۰۳)

پس یہ امر واضح ہوتا ہے کہ اگر مذکورہ زائد عبارت کو بعینہٖ اس معنی میں تسلیم کر لیا جائے کہ امام ابو حنیفہؒ اپنی بیان کردہ روایات کے ایک بڑے حصے کو خود خطا قرار دیتے تھے، تو امام المقرئؒ جیسے ثقہ محدث کا اس کے باوجود ان سے مسلسل حدیث روایت کرتے رہنا ایک قابلِ غور اشکال ضرور پیدا کرتا ہے۔ یہ قرینہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس قول کو اس ظاہری اور مطلق مفہوم پر محمول کرنا محتاجِ مزید تحقیق ہے۔

الزامی جواب: امام سفیان ثوریؒ کے مشابہ قول کا تقابل

اس مقام پر بطورِ الزام ایک نہایت اہم نظیر امام سفیان ثوریؒ کے کلام سے بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ 

امام احمد بن حنبلؒ کے صاحبزادے عبد اللہ اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں: حَدثنِي أبي قَالَ حَدثنَا زيد بن الْحباب قَالَ قَالَ سُفْيَان الثَّوْريّ: إِن قلت إِنِّي أحدثكُم كَمَا سَمِعت فقد كذبت

یعنی امام سفیان ثوریؒ نے فرمایا : ’’اگر میں یہ کہوں کہ میں تمہیں بالکل اسی طرح حدیث بیان کرتا ہوں جس طرح میں نے اسے سنا تھا، تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

اس روایت کی سند صحیح ہے اور العلل ومعرفة الرجال لأحمد، رواية ابنه عبد الله (۱/۵۳۸) اور الجامع لعلوم الإمام أحمد (۱۷/۱۵۷) میں مذکور ہے۔ اب اگر ہم معترضین کے اختیار کردہ اسی اصول کو یہاں بھی بطورِ الزام جاری کریں، جس کے تحت امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب خطا کے الفاظ کو ان کے ظاہر پر محمول کرکے ان کے مقامِ روایت پر طعن کیا جاتا ہے، تو پھر یہی طرزِ استدلال امام سفیان ثوریؒ کے بارے میں اختیار کرنا بھی لازم آئے گا۔ اگر لفظ «كَذَبْتُ» کو اسی متشدد طرزِ استدلال پر محمول کیا جائے جس پر بعض معترضین امام ابو حنیفہؒ کے قول «خطأ» کو محمول کرتے ہیں، تو لازم آئے گا کہ امام سفیان ثوریؒ خود اپنے بارے میں اعتراف فرما رہے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں۔ بلکہ امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب قول میں تو صرف خطا کا لفظ ہے، جبکہ امام سفیان ثوریؒ کے قول میں صراحتاً کذبت کا لفظ موجود ہے۔

تو کیا اب غیر مقلدین امام سفیان ثوریؒ کے بارے میں کہیں گے چونکہ وہ اپنی ہر روایت کو جیسا سنا ویسا بیان نہیں کرتے تھے اسکا مطلب وہ حدیث رسول میں جھوٹ بولتے تھے ؟

کیا اس بنا پر ان کی مرویات کو ناقابلِ اعتماد قرار دے کر صحیحین کی ان احادیث کو بھی ضعیف قرار دیں گے جو امام سفیان ثوریؒ کے واسطے سے مروی ہیں؟

ہم تمام ائمۂ سلف کا احترام کرتے ہیں اور ان کے بارے میں حسنِ ظن کو اصول بناتے ہیں۔ چنانچہ امام سفیان ثوریؒ کے اس کلام کو ہم ان کی عدالت و صداقت کے منافی قرار نہیں دیتے، بلکہ اس کی صحیح اور قرینِ قیاس توجیہ یہی کرتے ہیں کہ وہ اپنی روایت میں لفظ بہ لفظ نقل کی ضمانت نہیں دے رہے۔ انسانی حافظے کے تقاضے، روایت بالمعنی اور نقلِ حدیث کے فطری احوال کے پیشِ نظر وہ یہ فرما رہے ہیں کہ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ جو کچھ میں تم سے بیان کرتا ہوں وہ بعینہٖ انہی الفاظ میں ہے جنہیں میں نے اپنے شیخ سے سنا تھا، تو میرا یہ دعویٰ درست نہ ہوگا۔

پس «فقد كذبت» سے مراد یہ نہیں کہ معاذ اللہ امام سفیان ثوریؒ عمداً جھوٹ بولا کرتے تھے، بلکہ مراد یہ ہے کہ ایسا دعویٰ کرنا ہی خلافِ واقع ہوگا۔ اس تاویل کے بغیر تو ان کے حفظ، روایت اور عدالت کے بارے میں وہی اشکالات لازم آئیں گے جنہیں معترضین امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

اور جب ہم امام سفیان ثوریؒ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے ان کے کلام کو اس کے مناسب اور قرینِ حال معنی پر محمول کرتے ہیں، تو امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں بھی یہی منہج اختیار کرنا عین انصاف ہے۔

لہٰذا بالفرض اگر «عامة ما أحدثكم خطأ» والا قول امام ابو حنیفہؒ سے ثابت بھی مان لیا جائے، تب بھی اس کا یہ لازم نہیں کہ امام صاحبؒ اپنی مرویات کو ناقابلِ اعتماد قرار دے رہے تھے یا اپنی ذات سے کثرتِ خطا کا ایسا اعتراف فرما رہے تھے جو ان کی روایات و فقاہت کو ساقط کر دے۔ بلکہ اسے بھی ایک متواضع، محتاط اور صاحبِ علم امام کے اس طرزِ کلام پر محمول کیا جا سکتا ہے جس میں وہ اپنی رائے اور نقل کو خطا و سَہو کے امکان سے منزہ قرار نہیں دیتے، یا لفظ بہ لفظ نقل کی ضمانت کا دعویٰ نہیں کرتے۔

تطبیقی جواب

 قطعِ نظر از صحتِ روایت کے، معترض جو یہاں قطعیت کے ساتھ امام ابو حنیفہؒ ہی کو خطا کار قرار دے رہا ہے، ذیل میں ہم واضح کرتے ہیں کہ امر ایسا نہیں، کیونکہ ان تینوں روایات میں غور و تامل کرنے سے مختلف مفاہیم اور متعدد احتمالات مستنبط ہو سکتے ہیں۔

پہلے قول، یعنی خطیب بغدادیؒ کی منقولہ روایت میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں: "عامة ما أحدثكم خطأ"، یعنی: "جو کچھ میں تمہیں بیان کرتا ہوں، اس میں اکثر خطا واقع ہوتی ہے۔"

اس کلام کے مفہوم میں متعدد احتمالات متصور ہیں:

اوّل احتمال: یہ کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ اپنی ذاتِ گرامی کی طرف سے یہ بیان فرما رہے ہوں کہ جو روایات آپؒ اپنے سامعین کے سامنے بیان فرماتے ہیں، ان میں بعض اوقات سہو و خطا واقع ہو جاتی ہے۔

دوم احتمال: یہ کہ اس کلام سے مراد یہ ہو کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ حضرت عطاءؒ سے جو کچھ نقل فرما رہے ہیں، اس میں حضرت عطاءؒ سے واقع ہونے والی کسی خطا کو ہی روایت فرما رہے ہوں؛ یعنی کلام کا تعلق امام ابو حنیفہؒ کی اپنی خطا سے نہ ہو، بلکہ حضرت عطاءؒ کی طرف منسوب کسی خطا کی روایت سے ہو۔

سوم احتمال: یہ کہ اس کلام سے مراد مطلقاً حضرت امام ابو حنیفہؒ کی تمام مرویات میں خطا کا وقوع نہ ہو، بلکہ اس خاص مجلس یا موقع کی بعض روایات کے متعلق یہ کلام فرمایا گیا ہو، جس میں آپؒ یہ روایات سامعین کے سامنے بیان فرما رہے تھے؛ پس اس کلام کو ہر روایت اور ہر موقع پر عمومیت کے ساتھ محمول کرنا درست نہ ہوگا۔

دوسرے قول (مسند ابن الجعدؒ) میں ہے: "عامة ما حدثكم به خطأ" ( جو کچھ انہوں نے تم سے بیان کیا ہے، اس کا اکثر حصہ خطا ہے) اس کلام کے مفہوم میں بھی متعدد احتمالات متصور ہیں:

اوّل احتمال: یہ کہ اس کلام میں حضرت عطاء رحمہ اللہ سے منقول جملہ مرویات یا ان کی بعض روایات میں واقع ہونے والی خطا کی طرف اشارہ ہو۔

دوم احتمال: یہ کہ کلام کا تعلق حضرت عطاء رحمہ اللہ کی ذات سے نہ ہو، بلکہ ان رواۃ سے ہو جنہوں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے روایت کی؛ یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بعض مخصوص رواۃ کی طرف اشارہ فرما رہے ہوں کہ انہوں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے جو کچھ روایت کیا، اس نقل میں خطا واقع ہوئی ہے۔

سوم احتمال: یہ کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کلام اسی خاص مجلس میں بیان کی جانے والی روایات کے متعلق ہو؛ یعنی اس وقت جو کچھ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے منقول کرکے سامعین کو بیان کیا جارہا تھا، اس میں اکثر مقامات پر خطا یا اشتباہ واقع ہوا ہو۔ پس اس جملے کو حضرت عطاء رحمہ اللہ کی تمام مرویات پر بلا قرینہ عام کرنا درست نہ ہوگا۔

دونوں اقوال میں لفظِ «خطا» کے مفہوم کا نکتہ

دونوں اقوال میں لفظِ «خطا» کے متعلق جو احتمالات ذکر کیے گئے ہیں، ان کا حاصل یہ ہے کہ اس خطا کی نسبت یا تو خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف ہوگی یا حضرت عطاء رحمہ اللہ کی طرف۔

اگر بالفرض یہ احتمال اختیار کیا جائے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ کی کسی خطا کی طرف اشارہ فرما رہے تھے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امام صاحب رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ کی جلالت و فضیلت کے منکر تھے۔ بلکہ خود اسی کلام میں فرماتے ہیں: «ما رأيت أفضل من عطاء»، یعنی میں نے عطاء سے افضل کسی کو نہیں دیکھا۔ پس حضرت عطاء رحمہ اللہ کی فضیلت و بزرگی اپنی جگہ مسلم ہے، البتہ کسی خاص مقام پر ان سے کسی اجتہادی خطا، کسی مرجوح فقہی قول، یا کسی شاذ رائے کا صدور ممکن ہے۔

چنانچہ اس صورت میں کلام کا مفہوم یہ ہوگا کہ: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے افضل کسی کو نہیں دیکھا، لیکن جو بات میں تم سے اس مقام پر بیان کر رہا ہوں، وہ درست نہیں، بلکہ اس میں خطا واقع ہوئی ہے۔ 

اسی طرح اگر دوسرے احتمال کے مطابق لفظِ «خطا» کی نسبت خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف ہو،  تو اس صورت میں بھی اسے فوراً اور قطعاً امام صاحب رحمہ اللہ کی تمام مرویات میں کثرتِ خطا کا اعتراف قرار دینا ضروری نہیں۔ بلکہ اس کا ایک احتمال یہ بھی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے تلامذہ کی آزمائش اور ان کی قوتِ فہم و ضبط کو جانچنے کے لیے عمداً ایسی بات بیان فرمائی ہو جسے وہ غلط قرار دے رہے ہوں۔

خصوصاً امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہی مجالس کے بارے میں یہ امر ملحوظ رہنا چاہیے کہ آپ رحمہ اللہ اپنے تلامذہ کی علمی قابلیت، قوتِ فہم اور ملکۂ تمییز کو پرکھنے کے لیے ایک ہی مسئلے میں متعدد اقوال اور مختلف احتمالات ان کے سامنے پیش فرمایا کرتے تھے۔ ایک ہی مسئلے پر بسا اوقات کئی روز تک بحث و مذاکرہ جاری رہتا، مختلف وجوہ و احتمالات ذکر کیے جاتے، پھر غور و مناقشہ کے بعد صحیح اور راجح قول متعین کیا جاتا۔ اس کی تائید زفر رحمہ اللہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: كنا نختلف إلى أبي حنيفة، ومعنا أبو يوسف، ومحمد بن الحسن، فكنا نكتب عنه، قال زفر فقال يوما أبو حنيفة لأبي يوسف: ويحك يا يعقوب لا تكتب كل ما تسمعه مني، فإني قد أرى الرأي اليوم فأتركه غدا، وأرى الرأي غدا وأتركه بعد غد.

یعنی ہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ہمارے ساتھ ابو یوسف اور محمد بن حسن رحمہما اللہ بھی ہوتے اور ہم آپ سے مسائل لکھا کرتے تھے۔ ایک روز امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے فرمایا: اے یعقوب! جو کچھ تم مجھ سے سنتے ہو، اسے سب نہ لکھا کرو؛ کیونکہ بسا اوقات آج میں ایک رائے قائم کرتا ہوں اور کل اسے ترک کر دیتا ہوں، اور کل ایک رائے قائم کرتا ہوں اور پرسوں اسے چھوڑ دیتا ہوں(تاريخ ابن معين - رواية الدوري ٣/‏٥٠٤)۔

یہ روایت اس امر کو واضح کرتی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہی مجالس میں زیرِ بحث آنے والی ہر رائے کو آپ کا آخری اور حتمی موقف سمجھنا درست نہ تھا۔ بلکہ ایک ہی مسئلے میں غور و فکر، نظرِ ثانی، اختلافِ وجوہ اور متعدد آراء کا پیش آنا خود اس فقہی منہج کا حصہ تھا۔ لہٰذا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ رحمہ اللہ تلامذہ کے سامنے بعض آراء محض بحث و مذاکرہ، امتحانِ فہم اور قوتِ تمییز کی آزمائش کے لیے پیش فرماتے ہوں، جن میں سے بعد ازاں کسی ایک قول کو اختیار فرمایا جاتا ہو۔

لہٰذا اگر «عامة ما أحدثكم خطأ» جیسے الفاظ کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ احتمال بھی بعید نہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے تلامذہ کی علمی آزمائش کے لیے کوئی قول عمداً غلط بیان فرمایا ہو، تاکہ ان کی قوتِ فہم و تمییز کا امتحان ہو۔ خصوصاً جبکہ امام صاحب رحمہ اللہ کی فقہی مجالس میں محض تلقین و قبول کا طریقہ نہ تھا، بلکہ سوال، جواب، اعتراض، مناقشہ اور متعدد احتمالات کے ذریعے مسئلے کی تہ تک پہنچنے کا منہج تھا۔

 یہ احتمال اس لیے بھی قابلِ ذکر ہے کہ ائمۂ حدیث و روایت کے ہاں راویوں اور طلبہ کے امتحان کے لیے کبھی کبھی جان بوجھ کر کسی سند یا متن میں تغیر پیدا کرکے ان کے حفظ و ضبط کو آزمانا معروف طریقہ رہا ہے۔

خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی اس معنی کی ایک مثال منقول ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں: وأخبرني محمد ابن المنذر قال: حدثنا عثمان بن سعيد قال: حدثنا أبو الربيع الزهراني قال: سمعت حماد بن زيد يقول: سمعت أبا حنيفة يقول: لم أكد ألقى شيخا إلا أدخلت عليه ما ليس من حديثه إلا هشام بن عروة.

یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں شاید ہی کسی شیخ سے ملا ہوں مگر میں نے اس کے سامنے ایسی بات بیان کی جو اس کی حدیث میں سے نہ تھی، سوائے ہشام بن عروہ کے۔(المجروحين لابن حبان ت زاید 3/72  )

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شیخ یا راوی کے سامنے ایسی بات بیان کرنا جو اس کی مرویات میں سے نہ ہو، کبھی محض اس کے امتحان اور قوتِ حفظ کو جانچنے کے لیے بھی کیا جاتا تھا۔ لہٰذا اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے تلامذہ سے فرمایا ہو کہ جو کچھ میں تمہیں بیان کر رہا ہوں اس میں خطا ہے، تو یہ احتمال بھی بعید نہیں کہ اس میں ان کی آزمائش اور علمی امتحان کی کوئی غرض کارفرما ہو۔

اس طرزِ امتحان کی نظائر ائمۂ حدیث کے ہاں بھی ملتی ہیں۔ چنانچہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے امام ابو نعیم رحمہ اللہ کے سامنے ان کی بعض احادیث پیش کیں اور ان کے درمیان ایسی روایات بھی داخل کردیں جو دراصل امام ابو نعیم کی مرویات میں سے نہ تھیں، تاکہ ان کے حفظ و ضبط کو آزمایا جائے۔ جب امام ابو نعیم رحمہ اللہ نے ان کو پہچان لیا تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے واضح کیا کہ مقصود محض ان کا امتحان لینا تھا (المجروحين - ابن حبان - ج ١ - الصفحة ٣٣ ، اس روایت کی سند صحیح ہے (دروس للشيخ أبي إسحاق الحويني ١/‏٣ )۔

اسی طرح امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام شعبہ رحمہ اللہ راوی کے حفظ کو جانچنے کے لیے کبھی حدیث میں کچھ اضافہ کرکے اس کا امتحان لیتے تھے؛ اگر راوی اس تبدیلی کو قبول کر لیتا تو معلوم ہوتا کہ وہ حافظ نہیں، اور اگر اس کی مخالفت کرتا اور صحیح بات کی طرف متوجہ کرتا تو اس کے ضبط و حفظ کا علم ہوجاتا۔

بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے بغداد تشریف لانے کے موقع پر بھی ان کے امتحان کے لیے متعدد احادیث کی اسانید و متون میں دانستہ تغیر کیا گیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو پہچان لیا اور صحیح اسانید و متون کی نشان دہی فرمائی (النكت على كتاب ابن الصلاح، ابن حجر، 2/867) ۔ یہ واقعہ بھی اس امر کی تائید کرتا ہے کہ ائمۂ حدیث کے ہاں کسی راوی یا محدث کو جان بوجھ کر مختلف یا غلط صورت میں روایت پیش کرنا محض تحریف یا تدلیس کے معنی میں نہیں ہوتا تھا، بلکہ کبھی یہ ایک معروف علمی طریقۂ امتحان بھی ہوتا تھا۔

لہٰذا اگر «عامة ما أحدثكم خطأ» کو اس احتمال پر محمول کیا جائے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اپنے تلامذہ کو ان کے حفظ و فہم کی آزمائش کے لیے کوئی بات عمداً خلافِ واقع بیان فرمائی، تو یہ معنی بھی سیاق و نظائر کی روشنی میں قابلِ احتمال ہے۔ ایسی صورت میں اس عبارت کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اپنی مرویات میں کثرتِ خطا کے اعتراف پر محمول کرنا لازم نہیں رہتا۔

رہی تیسری روایت، جو حاکم کبیرؒ سے منقول ہے، تو اس کے الفاظ پہلے دونوں طرق کے مقابلے میں ایک بالکل مختلف جہت اختیار کرتے ہیں۔

الأسامي والكنى (تحقیق یوسف بن محمد الدخیل، ص ۱۴۲۹) کے ایک نسخے میں لفظ «عامة» موجود نہیں، بلکہ عبارت: «ما أحدثكم خطأ» کے الفاظ سے منقول ہے۔ اسی طرح متعصب غالی سلفی، جناب مقبل وادعی صاحب نے بھی اسے اسی صورت میں نقل کیا ہے۔ (نشر الصحيفة ، ۱/۳۷۸) بلکہ «ما أحدثكم خطأ» کی ترکیب اپنے سیاق کے اعتبار سے ایک ایسے مفہوم کی بھی متحمل ہے جس میں امام صاحبؒ اپنی نسبت سے خطا کی نفی فرما رہے ہوں؛ یعنی مفہوم یہ ہو کہ ’’جو کچھ میں تم سے بیان کرتا ہوں، وہ خطا نہیں۔‘‘ بالخصوص جب اسے امام صاحبؒ کی اپنی صفائی اور مذکورہ الزام کی نفی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ واللہ أعلم بالصواب۔

تینوں اقوال میں تطبیق

اب اگر ان تمام طرق، الفاظ اور قرائن کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو تینوں اقوال کے مابین ایک معقول تطبیق کی صورت پیدا ہوتی ہے۔

امام صاحبؒ نے حضرت عطاءؒ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: «ما رأيت أفضل من عطاء»

یعنی: ’’میں نے عطاءؒ سے افضل کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘ لیکن ساتھ ہی ان کی بعض مرویات میں واقع ہونے والی خطا کی طرف بھی اپنے تلامذہ کو متنبہ فرمایا۔ اس تطبیق کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حضرت عطاءؒ نے اپنی عمر کے آخری حصے میں اختلاط یا تغیر کا سامنا کیا تھا۔یعقوب بن سفیانؒ کہتے ہیں کہ:  حدثني محمد بن عبد الرحيم، قال: قال علي: كان عطاء اختلط بآخره فتركه ابن جريج وقيس بن سعد

 علی بن مدینیؒ نے فرمایا: عطاء اپنے آخری زمانے میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، چنانچہ ابن جریجؒ اور قیس بن سعدؒ نے ان سے روایت لینا چھوڑ دیا تھا۔ (المعرفة والتاريخ، ۲/۱۵۳)

اسی طرح یعقوب بن سفیانؒ ہی سے منقول ہے کہ انہوں نے سلیمان بن حربؒ کو اپنے بعض شیوخ کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے قیس بن سعدؒ کو حضرت عطاءؒ کی مجلس سے کنارہ کش ہوتے دیکھا۔ جب اس کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ عطاءؒ بھولنے لگے تھے یا ان کی حالت متغیر ہو گئی تھی، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ان سے جو کچھ انہوں نے سماع کیا تھا، وہ بھی ضائع ہو جائے۔

تاہم امام ذہبیؒ نے اس روایت کے تحت وضاحت فرمائی کہ یہاں ’’ترک‘‘ سے مراد اصطلاحی ترکِ روایت نہیں، بلکہ غالباً مراد یہ ہے کہ ان دونوں حضرات نے حضرت عطاءؒ سے لکھنا موقوف کر دیا تھا؛ کیونکہ حضرت عطاءؒ بہرحال ثقہ اور قابلِ اعتماد راوی تھے۔ (ميزان الاعتدال، ۳/۷۰)

لہٰذا حضرت عطاءؒ کی آخری عمر میں بعض روایات میں اختلاط یا خطا واقع ہوئی، تو امام صاحبؒ کا یہ فرمان کہ ’’میں نے عطاءؒ سے افضل کسی کو نہیں دیکھا‘‘ اور ساتھ ہی بعض روایات کی خطا کی طرف توجہ دلانا، دونوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔ فضیلت و ثقاہت اپنی جگہ، اور کسی خاص دور یا بعض معین روایات میں اختلاط و خطا کا وقوع اپنی جگہ۔ اس صورت میں پہلے دونوں اقوال کی بھی ایک قابلِ فہم تطبیق ہو جاتی ہے۔

رہی تیسری روایت، تو اگر اس کے الفاظ «ما أحدثكم خطأ» کو اس معنی میں لیا جائے کہ ’’میں جو کچھ تم سے بیان کرتا ہوں، اسے خطا کے طور پر بیان نہیں کر رہا‘‘، تو اس کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ امام صاحبؒ اپنے تلامذہ کو کسی روایت میں واقع ہونے والی خطا سے محض اس لیے آگاہ فرما رہے تھے کہ وہ صحیح اور غلط کے مابین امتیاز کر سکیں۔ اور اس تطبیق کی تائید خود امام المقرئؒ کے طرزِ عمل سے بھی ہوتی ہے، جو امام ابو حنیفہؒ سے آخری دور تک روایات نقل کرتے رہے۔ اگر وہ امام صاحبؒ کے بیان کو مطلقاً غیر معتبر سمجھتے یا ان کی اکثر مرویات کو خطا پر مبنی سمجھتے، تو ان کا یہ مسلسل تعلقِ روایت بہرحال ایک قابلِ توجہ اشکال پیدا کرتا۔

پس معترضین نے اس کلام کو اس کے وسیع تر سیاق اور امام صاحبؒ کے منہجِ تعلیم و تربیت سے الگ کرکے دیکھا، اور یوں ایک محتمل عبارت سے ایک قطعی مفہوم اخذ کر لیا؛ حالانکہ مجموعۂ طرق پر نظر کرنے سے متعدد وجوہِ تطبیق سامنے آتی ہیں۔

حاصل یہ کہ اس ایک روایت میں بھی امام ابو حنیفہؒ کے کلام کی مختلف جہتیں بیک وقت ملحوظ ہو سکتی ہیں: ایک طرف حضرت عطاءؒ کی عظمت و فضیلت کا اعتراف، دوسری طرف حضرت عطاءؒ کی بعض مرویات میں واقع ہونے والی خطا یا اختلاط سے تلامذہ کو آگاہ کرنا، اور تیسری طرف اپنے بیان کے صحیح محل و مفہوم کی طرف ان کی رہنمائی۔ اس اعتبار سے ایک ہی کلام میں امام صاحبؒ کے علمی ذوق، دقتِ نظر، تربیتی منہج اور روایت کے نقد و امتیاز، سب کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔

خلاصۂ بحث

اس تفصیلی بحث کے اختتام پر چند امور بطورِ خلاصہ سامنے آتے ہیں:

اوّل: امام ابو حنیفہؒ سے منقول اصل اور محفوظ روایت حضرت عطاءؒ کی فضیلت کے بیان پر مشتمل ہے، یعنی: «ما رأيت أفضل من عطاء» اور اس اصل روایت میں مذکورہ زائد الفاظ موجود نہیں۔

دوم: وہ زائد جملہ جس میں امام ابو حنیفہؒ کی طرف یہ منسوب کیا جاتا ہے کہ «عامة ما أحدثكم خطأ»، مختلف طرق میں مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہوا ہے۔ کہیں متکلم خود امام ابو حنیفہؒ ہیں، کہیں ضمیر کا مرجع مختلف معلوم ہوتا ہے، اور کہیں «عامة» کا لفظ ہی موجود نہیں۔ اس اختلاف سے کم از کم یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ اس زیادت کا متن یکساں اور قطعی طور پر محفوظ نہیں رہا۔

سوم: محض متن ہی نہیں، بلکہ اس زائد روایت کی اسانید میں بھی اختلاف اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ ایک ہی روایت کی نسبت میں رواۃ اور واسطوں کے اختلاف سے اس زیادت کے ضبط و ثبوت پر مزید کلام پیدا ہوتا ہے۔

چہارم: امام ابو عبد الرحمن المقرئؒ کا امام ابو حنیفہؒ سے اپنی زندگی کے آخری حصے تک روایات نقل کرتے رہنا اس امر کا ایک اہم قرینہ ہے کہ مذکورہ عبارت کو اس کے ظاہری اور مطلق مفہوم پر محمول کرنا محلِ نظر ہے۔ اگر اس سے یہ مفہوم لازم آتا کہ امام صاحبؒ اپنی مرویات کے ایک بڑے حصے کو ناقابلِ اعتماد قرار دے رہے تھے، تو امام المقرئؒ جیسے ثقہ محدث کا ان سے مسلسل استفادہ و روایت ایک قابلِ توجہ اشکال پیدا کرتا ہے۔

پنجم: بالفرض اگر اس زیادت کو ثابت مان بھی لیا جائے اور اس میں کسی قسم کی تاویل نہ کی جائے، تب بھی اسے فوراً امام ابو حنیفہؒ کے علم، صداقت یا روایت کے عدمِ اعتبار پر محمول کرنا لازم نہیں۔ امام سفیان ثوریؒ سے منقول مشابہ کلام کی روشنی میں اسے علمی تواضع، روایت بالمعنی، بشری تقاضوں اور لفظ بہ لفظ نقل کی عدمِ ضمانت کے اظہار پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے۔

ششم: تاہم ان تمام جوابات میں زیادہ جامع اور قرائن سے مؤید تطبیقی جواب یہ ہے کہ مختلف طرق کے الفاظ کو یکجا کرکے دیکھا جائے۔ اس صورت میں ممکن ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے حضرت عطاءؒ کی عظمت و فضیلت کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی آخری عمر میں واقع ہونے والے اختلاط یا بعض روایات میں پیدا ہونے والی خطا کی اپنے تلامذہ کو نشاندہی فرمائی ہو، تاکہ وہ صحیح اور غیر محفوظ روایت کے درمیان امتیاز کر سکیں۔

پس روایت کے تمام طرق کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ مفہوم زیادہ قرینِ احتیاط معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ کا مقصد اپنی ذات یا اپنی تمام مرویات کو خطاکار قرار دینا نہ تھا، بلکہ روایت کے کسی خاص پہلو کی طرف اپنے تلامذہ کو متنبہ کرنا تھا۔

واللہ أعلم بالصواب۔


مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود

اعتراض نمبر 43 : امام ابو عبدالرحمن المقرئ سے منقول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات کا جائزہ :

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...