نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام عبد الله بن يزيد أبو عبد الرحمن المقرئ القرشي متوفی 213 ھ سے منقول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات کا جائزہ :



امام ابو عبدالرحمن المقرئ سے منقول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات کا جائزہ : 


اعتراض نمبر 1

قال ابن أبي حاتم رحمه الله في «الجرح والتعديل»:

أنا إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني كتب إليّ عن أبي عبد الرحمن المقريء قال: كان أبو حنيفة يحدثنا فإذا فرغ من الحديث قال: هذا الذي سمعتم كله ريح وباطل. أهـ.

ابو عبدالرحمن المقری کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ ہمیں حدیث سناتے اور جب اس سے فارغ ہوتے تو کہتے: یہ جو تم سب نے سنا ہے یہ سب ریح وباطل ہے


اعتراض نمبر 2 :

قال الخطيب رحمه الله (ج١٣ ص٤٢٥):

أخبرني ابن الفضل أخبرنا دعلج بن أحمد أخبرنا أحمد بن علي الأبار حدثني محمد بن غيلان حدثنا المقريء  قال سمعت أبا حنيفة يقول: عامة ما أحدثكم به خطأ.

قال ابن عدي (ج٧ ص٢٤٧٣):

ثناه عبد الله بن محمد بن عبد العزيز حدثني محمود بن غيلان ثنا المقريء سمعت أبا حنيفة يقول: ما رأيت أفضل من عطاء وعامة ما أحدثكم خطأ.

قال أبو بكر الخطيب (ج١٣ ص٤٢٥):

أخبرني الحسن بن أبي طالب حدثنا عبيد الله بن محمد بن حبابة حدثنا عبد الله بن محمد البغوي حدثنا ابن المقريء حدثنا أبي قال سمعت أبا حنيفة يقول: ما رأيت أفضل من عطاء وعامة ما أحدثكم به خطأ. اهـ.


        ابوحنیفہ نے کہا کہ میں تم سے جو بیان کرتا ہوں اس کا اکثر خطا ہوتا ہے۔


جواب :  اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 25 : ابوحنیفہ نے کہا کہ میں تم سے جو بیان کرتا ہوں اس کا اکثر خطا ہوتا ہے۔



اعتراض نمبر 3 :

قال ابن عدي (ج٧ ص٢٤٧٥):

ثنا عبد الملك ثنا يحيى بن عبدك قال سمعت المقريء يقول: حدثنا أبو حنيفة وكان مرجئًا، يمد بها صوته عاليًا، قيل للمقريء: فأنت لم تروي عنه وكان مرجئًا؟ قال: إني أبيع اللحم مع العظام. أهـ.

أَخْبَرَنَا ابن رزق، قَالَ أَخْبَرَنَا جَعْفَر الخلدي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابن عَبْد الله بن سُلَيْمَان الحَضْرَمِيّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن يزيد المُقْرِئ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: دعاني أَبُو حنيفة إلى الإرجاء، فأبيت

حَدَّثَنَا عَبد اللَّهِ بْنُ عَبد الحميد، حَدَّثَنا ابْن أبي بزة سَمِعت المقري يَقُول، حَدَّثَنا أَبُو حنيفة وكان مرجئا ودعاني إِلَى الإرجاء فأبيت عَلَيْهِ.

 امام المقرئ نے کہا کہ ہمیں ابو حنیفہ حدیث بیان کرتے تھے ، اور وہ مرجئہ میں سے تھے اور ارجاء کی طرف دعوت دیتے تھے لیکن میں نے اس سے انکار کیا۔

جواب : 

پہلی بات تو یہ کہ اس قول میں جرح جیسا کچھ نہیں. اگر امام مقرئ کا مقصد جرح ہوتا یا انکے نزدیک امام ابو حنیفہ کا عقیدہ بدعت ہوتا تو وہ آخری عمر تک ان سے روایت ہی کیوں کرتے ؟

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام مقرئ کے نزدیک اگرچہ ارجاء کا عقیدے میں انہیں شاید امام ابو حنیفہ سے اختلاف تھا لیکن اس اختلاف کے باوجود وہ ان سے روایت کرنے کو صحیح تسلیم کرتے تھے. اور ان پر ذاتی حملہ کرنے کے بجائے انہوں نے استاد کا احترام رکھتے ہوئے ان سے روایت حدیث کو ترجیح دی.

جہاں تک بات ہے " گوشت کے ساتھ ہڈی بیچنے" والے جملہ کی تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ امام مقرئ اختلاف کے باوجود فائدہ مند علم کو رد نہیں کرتے تھے . کیونکہ امام مقرئ کے نزدیک امام ابو حنیفہ سے روایت کرنے میں کوئی شرعی عذر مانع نہیں تھا ، اور چونکہ امام ابو حنیفہ فقہ اور حدیث میں انکے نزدیک قابل اعتماد تھے اس لئے اختلاف کے باوجود وہ ہمیشہ ان سے روایت کرتے رہے وہ بھی بغیر کسی جرح کے یا تنقید کے .

 رہی بات ارجاء کی تو امام ابو حنیفہ کا عقیدہ اہل سنت کے مطابق تھا جیسا کہ امام شہرستانی نے الملل والنحل میں اور امام عبد القاہر بغدادی نے الفرق بین الفرق میں وضاحت کی ہے.

بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جن محدثین کے نزدیک ارجاء کا عقیدہ بدعت تھا وہ بھی اسے راوی کی عدالت کے مانع نہیں مانتے تھے. اس لئے اگرچہ امام بخاری کسی راوی کو ارجاء کا عقیدہ رکھنے والا بھی کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی صحیح بخاری میں اس سے روایت بھی لاتے ہیں جیسا کہ ایوب بن عائذ اور يحيى الوحاظی دونوں کی طرف امام بخاری نے ارجاء کی نسبت بھی کی ہے اور ساتھ ہی ان سے صحیح بخاری میں روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ راوی کی بدعت اسکے ثقہ ہونے کے منافی نہیں.

ٹھیک اسی طرح امام مقرئ کا قول امام ابو حنیفہ کی علمی اور دینی عظمت کے منافی نہیں. بلکہ انکا طریقہ بتا رہا ہے کہ علم کی طلب میں وسعت ظرف اور اختلافات کو برداشت کرنا ضروری ہے اور بڑے حضرات اپنے طرزِ عمل سے آنے والے لوگوں کے لئے اصول اور طریقہ طے کر دیتے ہیں. اور یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ امام ابو حنیفہ کا مرجئہ ہونا اہل السنۃ کے دائرے میں ہی آتا ہے.




مرجئہ اہل سنت اور مرجئہ اہل بدعت 

  امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر جرح: ایک تحقیقی جائزہ 


اعتراض نمبر 40 : مرجئہ اہل سنت اور مرجئہ اہل بدعت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر جرح: ایک تحقیقی جائزہ



2۔ امام ابو عبدالرحمن المقری ، آخر دم تک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت بیان کرتے رہے ہیں ،
 اگر امام صاحب حدیث مبارکہ کو باطل کہتے تھے تو ثقہ محدث ابو عبدالرحمن المقری ان سے روایت کیوں بیان کرتے ؟


امام عبد الله بن يزيد أبو عبد الرحمن المقرئ القرشي متوفی 213 ھ   کی جلالتِ قدر اور امامِ اعظمؒ سے ان کا آخری دم تک والہانہ علمی تعلق


علمِ حدیث کے گلستان میں امام عبد اللہ بن یزید المقرئؒ (متوفی 213ھ) وہ تناور درخت ہیں جن کی جڑیں ثقاہت کی زمین میں پیوست اور شاخیں آفاقِ عالم تک پھیلی ہوئی ہیں۔ آپ  فنِ قرآت اور حدیث کے وہ امام ہیں جن سے روایت کرنا محدثین کے لیے باعثِ صد افتخار رہا ہے۔اربابِ نقد و نظر پر یہ حقیقت مخفی نہیں کہ بعض معترضین نے علمِ جرح و تعدیل کے لبادے میں یہ شوشہ چھوڑنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ امام المقرئؒ نے شاید آخری عمر میں امامِ اعظمؒ سے روایات بیان کرنا ترک کر دیا تھا، یا ان کی مرویات میں کوئی تذبذب پایا جاتا تھا۔ لیکن جب ہم فنِ اسماء الرجال کی کسوٹی پر ان کے آخری دور کے تلامذہ اور ان کی مرویات کو پرکھتے ہیں، تو یہ تمام خود ساختہ مفروضے خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتے ہیں۔

ذیل میں ہم ٹھوس علمی دلائل اور مستند مرویات سے یہ ثابت کریں گے کہ امام المقرئؒ نے آخری سانس تک امامِ اعظمؒ کی علمی امانت کو نہ صرف سینے سے لگائے رکھا بلکہ اسے پوری دیانت کے ساتھ اپنے جلیل القدر شاگردوں کو منتقل فرمایا۔

1۔ ثقہ محدث بشر بن موسیٰؒ کی روایت: ایک روشن ثبوت

امام المقرئؒ کے تلامذہ میں بشر بن موسیٰ بن صالح الاسدی البغدادیؒ (پیدائش 190ھ - وفات 288ھ) کا مقام و مرتبہ سیر اعلام النبلاء (ج 13، ص 352) میں "المحدث الثقہ" کے طور پر مسلم ہے۔ تاریخی تقویم کے لحاظ سے دیکھیے کہ امام المقرئؒ کی وفات 213ھ میں ہوئی، اور اس وقت بشر بن موسیٰؒ کی عمر 23 سال تھی۔ یہ وہ عمر ہے جب طالبِ علم اپنے استاد کے علوم کو کمالِ پختگی کے ساتھ اخذ کرتا ہے۔ بشر بن موسیٰؒ کا امام المقرئؒ کے واسطے سے امام ابوحنیفہؒ کی احادیث بیان کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ امام المقرئؒ اپنی وفات سے چند سال قبل بھی اپنی مجلسِ حدیث میں امام صاحبؒ کو یاد فرما رہے تھے۔

المعجم الکبیر للطبرانی (4/96) کی روایت ملاحظہ ہو

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»

امام ذہبیؒ جیسے نقادِ وقت نے "سیر اعلام النبلاء" (ج 10، ص 168) میں امام المقرئؒ کے ترجمے میں بشر بن موسیٰؒ ہی کے واسطے سے امام ابوحنیفہؒ کی یہ روایت نقل کی ہے:

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُدَامَةَ، وَابْنُ البُخَارِيِّ إِجَازَةً، قَالاَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ بنُ البَنَّاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ القَطِيْعِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بنُ مُوْسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ المُقْرِئُ، عَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أنَّه رَآهُ يُصَلِّي فِي قَمِيْصٍ خَفِيْفٍ، لَيْسَ عَلَيْهِ إِزَارٌ، وَلاَ رِدَاءٌ. قَالَ: وَلاَ أَظُنُّهُ صَلَّى فِيْهِ إِلاَّ لِيُرِيَنَا أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِالصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الوَاحِدِ 

اس روایت پر محشی کا یہ لکھنا کہ "إسناده صحيح، وهو في مسند أبي حنيفة"، اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ امام المقرئؒ کا امام صاحبؒ سے مرویات نقل کرنا محدثین کے نزدیک ایک مسلمہ اور صحیح امر تھا۔ اگر امام المقرئؒ کے نزدیک امام صاحبؒ سے نقل کردہ مواد میں کوئی "خلل" ہوتا، تو امام ذہبیؒ جیسا جرح و تعدیل کا شہسوار اسے اپنی کتاب میں بطورِ نمونہِ روایت کبھی پیش نہ کرتا۔ امام ذہبیؒ کا امام المقرئؒ کے تذکرے میں امام ابوحنیفہؒ کی روایت کو بطورِ مثال لانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک امام صاحبؒ سے یہ مرویات بالکل ثابت ہیں اور ان پر ہونے والے اعتراضات کی کوئی علمی بنیاد نہیں۔


2. امام عبداللہ بن احمد (ابنِ ابی مسرہ) کی شہادت 

ایک اور معتبر نام ابو یحییٰ عبداللہ بن احمد بن ابی مسرہ المکیؒ (متوفی 279ھ) کا ہے۔ آپ کا شمار امام المقرئؒ کے ان شاگردوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ان کے آخری دور میں استفادہ کیا۔ مسند ابی عوانہ (4/205، رقم 6503) میں روایت ہے:

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، قثنا الْمُقْرِئُ، قثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ۔۔۔ الخ 

( مسند أبي عوانة دار المعرفة 4/205 : رقم 6503 )

ابنِ ابی مسرہؒ کا امام المقرئؒ سے امام صاحبؒ کی روایت نقل کرنا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ امام المقرئؒ نے عمر بھر امامِ اعظمؒ کے علم کی شمع کو فروزاں رکھا۔

حرفِ آخر: 

مذکورہ بالا تمام شواہد اس بات کو روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیتی ہے کہ امام المقرئؒ کا امام ابوحنیفہؒ سے علمی رشتہ ایک پختہ اور دائمی تعلق تھا جو ان کی حیات کے آخری لمحات تک برقرار رہا۔ وہ تمام روایات جو امام صاحبؒ پر اعتراض کی غرض سے گھڑی گئی ہیں کہ امام المقرئؒ ان سے روایات بیان کرنا پسند نہیں کرتے تھے، وہ ان جیتے جاگتے حقائق کے سامنے محض "تارِ عنکبوت" (مکڑی کا جالا) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ امام المقرئؒ کے آخری دور کے تلامذہ کا امام صاحبؒ کی روایات کو پوری دنیا میں پھیلانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ:

"فقہِ حنفی کی بنیادیں کتاب و سنت کی ٹھوس چٹانوں پر قائم ہیں اور اسے گرانے کی ہر کوشش خود معترض کے علمی وقار کو خاک میں ملا دیتی ہے۔"


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...