نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان ایک مناظرہ

 


امام شافعی رحمہ اللہ اور امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے مناظرے کی روایات کا جائزہ


جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے جسے شیخ المعلمي اليماني صاحب نے ذکر کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: «قال سمعت الشافعي يقول: ناظرت محمد بن الحسن وعليه ثياب رقاق فجعل تنتفخ أوداجه ويصيح حتى لم يبق له زر إلا انقطع قلت: (الصواب: قال) ما كان لصاحبك أن يتكلم ولا كان لصاحبي أن يسكت، قال قلت له: نشدتك بالله هل تعلم أن صاحبي كان عالمًا بكتاب الله؟ قال: نعم، قال قلت: فهل كان عالمًا بحديث رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم؟ قال: نعم، قال قلت: أفما كان عاقلًا؟ قال: نعم، قلت: فهل كان صاحبك جاهلًا بكتاب الله؟ قال: نعم، قلت: وبما جاء عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم؟ قال: نعم، قلت: وكان عاقلًا؟ قال: نعم، قال: قلت: صاحبي فيه ثلاث خصال لا يستقيم لأحد أن يكون قاضيًا إلا بهن، - أو كلامًا هذا معن.» (التنكيل - ط المكتب الإسلامي ١/‏٣٤٩)

شیخ المعلمي اليماني صاحب نے امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کی تعریف پر مشتمل روایات کے مقابلے میں اس مناظرے کی روایت کو ترجیح دی ہے، حالانکہ یہ طرزِ ترجیح محلِ نظر ہے؛ کیونکہ یہ مناظرہ متعدد کتبِ تراجم کی زینت بنا، تاہم اس واقعے کو نقل کرنے والے مختلف تلامذہ نے اسے مختلف الفاظ،اسلوب اور مختلف تفصیلات کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس اختلافِ نقل کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس مناظرے کی روایات کے الفاظ اور جزئیات میں نمایاں اضطراب پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس واقعے کے کسی ایک متن پر مکمل اطمینان کرنا آسان نہیں رہتا۔ ذیل میں مختلف مصادر کے حوالے سے اس اضطراب کی چند بنیادی صورتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

مختصر طور پر واقعے کی نوعیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ امام محمد بن الحسن اور امام شافعی رحمہما اللہ کے درمیان اس مسئلے پر گفتگو ہوئی کہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ میں سے علمی اعتبار سے کون زیادہ بلند مقام رکھتے ہیں؟ کتاب و سنت کے علم، اقوالِ صحابہ کے اختلاف سے واقفیت، قیاس و اجتہاد کی مہارت اور منصبِ افتاء کے اعتبار سے کس کو زیادہ ترجیح حاصل ہے؟ اس مناظرے کا حاصل بعض روایات کے مطابق یہ ہے کہ امام محمد بن الحسن کے نزدیک امام مالک رحمہ اللہ کتاب و سنت کے بڑے عالم تھے، تاہم منصبِ افتاء اور اجتہادی مسائل میں فیصلہ دینے کا زیادہ حق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو حاصل تھا۔

لیکن ان روایات کا مسئلہ محض یہ نہیں کہ امام شافعی کے ایک شاگرد نے ایک بات نقل کی اور دوسرے شاگرد نے دوسری بات بیان کر دی، بلکہ صورتِ حال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ہی راوی کی روایت جب مختلف کتابوں میں نقل ہوتی ہے تو خود اس کے الفاظ اور تفصیلات میں فرق نظر آتا ہے، اور جب اسی روایت کا تقابل دوسرے طرق سے کیا جاتا ہے تو اضطراب کی نوعیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔

۱۔ گردن کی رگیں پھولنے اور بٹن ٹوٹنے کی روایت کا اضطراب

ابن عبد البر نے الانتقاء میں یونس بن عبد الأعلى کے طریق سے یہ روایت نقل کی ہے کہ یہ بحث اس قدر طویل ہو گئی کہ امام محمد بن الحسن کی گردن کی رگیں پھولنے لگیں اور ان کے کپڑوں کے بٹن ٹوٹنے لگے۔لیکن اسی مناظرے کو ابن أبي حاتم نے آداب الشافعي، ص 201-202  اور تقدمة الجرح والتعديل ص 4، 12-13 میں، أبو نعيم الأصبهاني نے حلية الأولياء، 6/329 میں (اور انہی کے واسطے سے ابن الجوزي نے مناقب أحمد ص 498 میں)، امام البيهقي نے مناقب الشافعي  1/182 میں، ابن عبد البر نے الانتقاء ص 24  میں محمد بن عبد الله بن عبد الحكم کے طریق سے، اور الهروي نے ذم الكلام 5/89-91، رقم 881 میں ربيع بن سليمان کے طریق سے امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے، مگر ان تمام روایات میں امام محمد کی گردن کی رگیں پھولنے اور قمیص کے بٹن ٹوٹنے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا معمول کی علمی گفتگو میں ایسا ہونا فطری طور پر ممکن ہے کہ کسی مناظرے کے دوران کسی عالم کی گردن کی رگیں اس طرح نمایاں ہو جائیں اور لباس کے بٹن ٹوٹ جائیں؟ یقیناً گفتگو میں شدت، علمی جوش، آواز میں بلند ہونا یا کسی مسئلے کی اہمیت کے سبب غیر معمولی کیفیت پیدا ہو جانا ایک الگ بات ہے، لیکن گردن کی رگوں کا پھول جانا اور قمیص کے بٹن ٹوٹ جانا ایک مختلف نوعیت کی کیفیت ہے، جس کے لیے غیر معمولی غصہ، شدید اضطراب یا بے قابو کیفیت کا پایا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

اگر اس پورے مناظرے کے مضمون اور طرزِ گفتگو کا مطالعہ کیا جائے تو کہیں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کسی ایسی کیفیت سے دوچار ہوئے ہوں کہ جواب دیتے ہوئے ان کی گردن کی رگیں پھولنے لگیں یا لباس کی حالت بدل جائے۔ ایسی کیفیت عموماً اس وقت پیش آتی ہے جب انسان علمی جواب دینے سے عاجز ہو جائے، شکستِ بحث کا احساس اس پر غالب آ جائے، یا اضطراب کی وجہ سے اپنے موقف کے دفاع میں بے قابو ہو جائے۔ لیکن اس مناظرے کی مجموعی تصویر اس کے برخلاف ہے۔ یہاں ایک علمی گفتگو، دلائل کے تبادلے اور ائمہ کے مقام و مرتبے کے بیان کا ذکر ہے، نہ کہ ایسی کیفیت کا جس میں کسی فریق پر اضطراب اور بے قابو ہونے کے آثار ظاہر ہوں۔

۲۔ کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کے علم میں برتری کے الفاظ کا اضطراب

ابن عبد البر نے الانتقاء میں یونس بن عبد الأعلى کے طریق سے جو روایت نقل کی ہے، اس میں صرف اتنا ذکر ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کے بڑے عالم تھے۔ اس روایت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علم یا عدمِ علم کے بارے میں کوئی صریح کلام موجود نہیں۔ لیکن جب یہی واقعہ ابن أبي حاتم نے آداب الشافعي میں، امام البيهقي نے مناقب الشافعي میں اور الخطيب البغدادي نے تاريخ بغداد میں اسی یونس بن عبد الأعلى کی سند سے نقل کیا تو اس میں ایک زائد جملہ شامل ہو گیا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کے اس علم میں اس مقام پر نہ تھے۔یعنی ابن عبد البر کی روایت میں صرف امام مالک رحمہ اللہ کے فضل اور علمی امتیاز کا ذکر ہے، لیکن دیگر بعض کتب میں اسی روایت کے ضمن میں ایسی تعبیر بھی نقل ہوئی ہے جس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کے علم میں کم تر قرار دیا گیا ہے۔

یہاں دونوں تعبیرات کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ کسی امام کو دوسرے امام پر کسی خاص فن میں فضیلت دی جائے، اور دوسری صورت یہ ہے کہ دوسرے امام کے بارے میں اس فن سے کم علمی یا عدمِ معرفت کا مفہوم پیدا کیا جائے۔ دونوں باتیں ایک ہی درجہ کی نہیں ہیں۔

اسی طرح ابن عبد الحَکَم کی روایت میں امام مالک رحمہ اللہ کے زیادہ علم والے ہونے کا ذکر تو ملتا ہے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ انہیں کتاب و سنت کا علم نہیں تھا یا وہ اس میدان میں کم علم تھے۔ اس روایت میں صرف امام مالک رحمہ اللہ کے فضل کا بیان ہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں کوئی منفی تعبیر موجود نہیں۔


یہاں ایک اہم نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ یونس بن عبد الأعلى کی بعض روایات میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ مفہوم نقل ہوا ہے کہ انہیں کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کا وہ علم حاصل نہ تھا، لیکن خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا معروف قول اس کے برخلاف ان کے اصولِ استنباط کو واضح کرتا ہے: "میں سب سے پہلے مسئلہ کتاب اللہ میں دیکھتا ہوں، پھر سنتِ رسول اللہ میں، پھر صحابہ کے اقوال میں۔ اور میں صحابہ کے قول سے باہر نہیں نکلتا (اگر ان میں اختلاف ہو تو) جس کے قول کو پسند کرتا ہوں اسے اختیار کرتا ہوں۔" لہٰذا یہ بات محلِ نظر رہتی ہے کہ جس امام کا اپنا منہجِ اجتہاد کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ اور اقوالِ صحابہ کی بنیاد پر قائم تھا، اس کے بارے میں ایسی مطلق تعبیر کیسے قبول کی جائے کہ انہیں کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کے علم سے ہی کم بہرہ قرار دیا جائے، خصوصاً جبکہ دیگر طرق میں ایسی صراحت موجود نہیں۔

مزید یہ کہ الهروي کی ذم الكلام میں ربيع بن سليمان کے طریق سے منقول روایت میں اس مناظرے کی تفصیلات مزید وسیع ہو جاتی ہیں۔ اس میں قرآن کی تفسیر، غزوات، رواۃ کے اعتبار سے کس کی سند زیادہ مضبوط ہے، اور عربی زبان کے تعلق سے بھی سوال و جواب کا ذکر آتا ہے۔ یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے درمیان متعدد علوم کے اعتبار سے موازنہ بیان کیا گیا ہے، جبکہ دیگر اکثر روایات میں ان تفصیلات کا کوئی ذکر نہیں۔

۳۔ قیاس میں مہارت کے مسئلے کے الفاظ کا اضطراب

ابن عبد البر نے ابن عبد الحَکَم کی روایت میں جو الفاظ نقل کیے ہیں، ان کے مطابق امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ نے فرمایا:

"ہمارے امام (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ) تمہارے امام (امام مالک رحمہ اللہ) سے زیادہ عالم ہیں۔ تمہارے امام (مالک رحمہ اللہ) کو اس مسئلے میں کلام نہیں کرنا چاہیے تھا، اور ہمارے امام (ابو حنیفہ رحمہ اللہ) کو خاموش نہیں رہنا چاہیے تھا۔"

لیکن یونس بن عبد الأعلى کی روایت میں اس گفتگو کی صورت بالکل مختلف بیان ہوئی ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: "ہمارے امام (امام مالک رحمہ اللہ) میں وہ تین چیزیں موجود تھیں (کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کا علم) جن کے بغیر فتویٰ دینا جائز نہیں، اگرچہ تمہارے خیال میں ان میں عقل نہ ہو۔ پھر بھی تم کہتے ہو کہ انہیں فتویٰ دینا جائز نہیں! اور تمہارے امام (ابو حنیفہ رحمہ اللہ) میں وہ تین چیزیں موجود نہیں تھیں جن کے بغیر فتویٰ جائز نہیں، لیکن چونکہ وہ بہت عقل مند تھے، اس لیے تم انہیں فتویٰ کا اہل سمجھتے ہو!"

جبکہ ربيع بن سليمان کی روایت میں قیاس کے مسئلے کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ملتا۔ وہاں یہ بحث موجود نہیں کہ قیاس میں کون زیادہ ماہر تھا، یا کس کو قیاس کا حق حاصل تھا۔ ربيع بن سليمان سے صرف اتنا منقول ہے: "امام مالک رحمہ اللہ کے لیے فتویٰ دینا حلال نہ تھا۔"

لہٰذا مختلف روایات کے تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی مناظرے کی نقل میں بعض راویوں نے قیاس اور اجتہاد کی بحث کو شامل کیا، بعض نے اسے کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کے علم کے دائرے میں بیان کیا، جبکہ بعض طرق میں یہ تفصیل بالکل موجود نہیں۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ نے اپنی روایتِ موطأ میں متعدد مقامات پر امام مالک رحمہ اللہ کے اقوال اور فقہی مذہب کو نقل کیا ہے۔ اگر امام مالک رحمہ اللہ کے بارے میں یہ تصور ہو کہ وہ فتویٰ دینے کے اہل ہی نہ تھے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ ایک ایسے امام کے اقوال اور مذہب کو اپنی کتاب میں جگہ دیں جسے وہ منصبِ افتاء کا مستحق نہ سمجھتے ہوں؟ مزید یہ کہ کیا یہ تصور قابلِ قبول ہے کہ کوئی شخص کسی امام کو علم میں دوسرے سے زیادہ بلند قرار دے، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی کہے کہ وہ فتویٰ دینے کا اہل نہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ایک ایسے شخص کو فتویٰ دینے کا اہل قرار دیا جائے جو کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے علم میں کم تر ہو، جبکہ اس شخص پر فتویٰ کو ناجائز قرار دیا جائے جو انہی علوم میں زیادہ بصیرت رکھتا ہو؟

۴۔ کس امام کو کس پر ترجیح حاصل تھی؟ روایات کے الفاظ میں اضطراب

ابن أبي حاتم کی آداب الشافعي، أبو نعيم کی حلية الأولياء اور امام البيهقي کی مناقب الشافعي میں ابن عبد الحَکَم کے طریق سے جو روایت منقول ہے، اس میں ذکر ہے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ میں سے زیادہ عالم کون ہیں؟ لیکن ابن عبد البر نے بھی ابن عبد الحَکَم ہی کے طریق سے یہی واقعہ نقل کیا ہے، مگر اس روایت میں ابتدا ہی سے یہ ذکر موجود ہے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو امام مالک رحمہ اللہ پر فضیلت دے رہے ہیں، اور یہاں کسی سوال کا ذکر نہیں۔

اسی طرح ابن عبد البر نے یونس بن عبد الأعلى کے طریق سے جو روایت نقل کی ہے، اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف سے امام مالک رحمہ اللہ کے بارے میں سوال کا ذکر ہے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کوئی ذکر نہیں۔ جبکہ ابن أبي حاتم، امام البيهقي اور الخطيب البغدادي کی یونس بن عبد الأعلى والی روایت میں اسی واقعے کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ پہلے امام مالک رحمہ اللہ کے کتاب و سنت اور اختلافِ صحابہ کے علم کا اعتراف کرتے ہیں، پھر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں اس علم میں کمی کا ذکر کرتے ہیں۔

اسی طرح ابن عبد الحَکَم اور ربيع بن سليمان کی روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ، سنتِ رسول ﷺ اور اقوالِ صحابہ کے اختلاف کے علم کے اعتبار سے امام مالک رحمہ اللہ کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر ترجیح دی گئی۔ تاہم ابن عبد البر کی یونس بن عبد الأعلى والی روایت کے الفاظ پر غور کیا جائے تو اس میں کہیں بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو کتاب و سنت سے جاہل قرار نہیں دیا گیا، بلکہ صرف امام مالک رحمہ اللہ کے علمی مقام اور فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔

۵۔ "ہمارے امام" اور "تمہارے امام" کی تعبیر کا اضطراب

اس مناظرے کی بعض روایات میں ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کی طرف یہ الفاظ منسوب کیے گئے ہیں کہ انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے لیے "ہمارے امام" (صاحبنا) اور امام مالک بن انس رحمہ اللہ کے لیے "تمہارے امام" (صاحبكم) کی تعبیر استعمال کی۔ بظاہر ان الفاظ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا امام مالک رحمہ اللہ کے ساتھ ایسا خصوصی تعلق تھا کہ گویا امام مالک ان کے زیادہ قریب اور زیادہ معروف امام تھے، جبکہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کا ان سے وہ تعلق نہ تھا۔ حالانکہ تاریخی حقیقت اس کے برخلاف ہے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کی طویل صحبت اختیار کی، ان سے حدیث حاصل کی اور تقریباً تین سال تک ان کے حلقۂ درس سے وابستہ رہے، جبکہ امام محمد بن إدريس الشافعي رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ کی صحبت تقریباً آٹھ ماہ کے قریب اختیار کی۔

لہٰذا "ہمارے امام" اور "تمہارے امام" جیسے الفاظ اگر اسی مفہوم میں لیے جائیں کہ امام مالک رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ کے زیادہ خاص امام تھے اور امام محمد رحمہ اللہ کے لیے محض ایک دوسرے مکتب کے امام تھے، تو یہ تعبیر تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

مزید برآں، ان تمام اضطرابات کے علاوہ اصل واقعے کے وقوع کے حوالے سے بھی ایک اشکال باقی رہتا ہے۔ یہ بات بعید معلوم ہوتی ہے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے علمی مرتبے کے بارے میں سوال کریں، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی صحبت حاصل نہیں کی تھی، بلکہ ان کے زمانے میں ان سے ملاقات بھی ثابت نہیں۔ ایسی صورت میں امام شافعی رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علم و منہج کے بارے میں براہِ راست وہ معرفت کیسے حاصل کر سکتے تھے جو امام محمد رحمہ اللہ کو حاصل تھی؟

اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ کے ساتھ بھی امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کا تعلق محض سماعِ حدیث تک محدود نہ تھا، بلکہ انہوں نے ان کی صحبت اختیار کی، ان سے علمی استفادہ کیا اور ان کے فقہی منہج سے واقفیت حاصل کی۔ لہٰذا یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ، جو دونوں ائمہ کے حالات، علوم اور مناہج سے براہِ راست واقف تھے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے بارے میں ایسی تعبیرات اختیار کریں جو ان کے اپنے علمی مقام اور ان کے دیگر ثابت شدہ مواقف کے خلاف ہوں۔

یہ بات واضح ہے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی منہج کی خدمت، تدوین اور اشاعت میں صرف کیا، لیکن ساتھ ہی امام مالک رحمہ اللہ سے بھی حدیث حاصل کی، ان کی صحبت اختیار کی اور ان کے علمی مقام سے واقف رہے۔ پس ان دونوں عظیم ائمہ کے درمیان تقابل کے باب میں ان کا مقام ایک ایسے شخص کا تھا جو دونوں سے براہِ راست استفادہ کر چکا تھا۔

تاہم، ان تمام اشکالات اور روایات کے اضطراب کے باوجود ایک اصولی بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ اگر بالفرض یہ واقعہ اپنی کسی صورت میں ثابت بھی مان لیا جائے تو امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر عالم پر محض اس وجہ سے کوئی ملامت نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے دو ائمہ کے علمی مقام کا تقابل کیا۔ اہلِ علم کے ہاں ائمہ کے باہمی مراتب کے بیان اور علمی فضائل کے تقابل کی روایت موجود رہی ہے، بشرطیکہ اس میں انصاف، دیانت اور علمی اصولوں کی رعایت ہو۔

بلکہ اگر تقابل کرنے والا خود امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ جیسا عالم ہو، تو اس کے قول کی نوعیت مزید قابلِ توجہ ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے براہِ راست شاگرد تھے، ان کے فقہی منہج کے سب سے بڑے ناقلین میں شمار ہوتے ہیں، اور دوسری جانب امام مالک رحمہ اللہ سے بھی حدیث حاصل کر چکے تھے۔ اس لیے اگر وہ کسی تقابل کی طرف جاتے بھی تو یہ اس شخص کا کلام ہوتا جسے دونوں ائمہ کے علوم اور مناہج سے قریب کا تعلق حاصل تھا۔

اسی معنی کی طرف حافظ شمس الدين الذهبي رحمہ اللہ نے بھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"انصاف کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی کہے: امام ابو حنیفہ اور امام مالک بن انس کتاب اللہ کے علم میں برابر تھے، البتہ پہلے (امام ابو حنیفہ) قیاس میں زیادہ ماہر تھے، اور دوسرے (امام مالک) سنت کے زیادہ عالم تھے، اور ان کے پاس بہت سے صحابۂ کرام کے اقوال کا وافر علم تھا۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ حضرت علی، حضرت ابن مسعود اور کوفہ میں مقیم صحابۂ کرام کے اقوال سے زیادہ واقف تھے۔ اللہ تعالیٰ دونوں اماموں سے راضی ہو۔ لیکن افسوس! ہم ایسے زمانے میں پہنچ گئے ہیں کہ آدمی کے لیے انصاف کی بات کہنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔"

امام شافعی رحمہ اللہ کے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے بارے میں صحیح سندوں سے منقول اقوال

اب جبکہ اس مناظرے کی مختلف روایات کے اندر موجود اضطرابات کا جائزہ لیا جا چکا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خود امام شافعی رحمہ اللہ کے ان اقوال کی طرف توجہ کی جائے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے بارے میں معتبر اسانید کے ساتھ منقول ہیں۔ ان اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فقہ، اجتہاد اور قیاس کے میدان میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کے علمی مقام کے معترف تھے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو فقہ اور قیاس کے میدان میں مقدم رکھنا

امام شافعی رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں متعدد اقوال منقول ہیں، جن سے ان کے علمی مقام اور فقہی امتیاز کا اندازہ ہوتا ہے۔

۱۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے زیادہ بڑا فقیہ ہو۔" (تاریخ بغداد ت بشار 474/15 ، سند صحیح)

یہ قول اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو فقہ کے میدان میں غیر معمولی مقام کا حامل سمجھتے تھے۔

۲۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لوگ فقہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے محتاج ہیں۔" (تاریخ بغداد ت بشار 474/15 ، الانتقاء، فضائل أبي حنيفة)

اسی طرح تاريخ بغداد میں امام شافعی رحمہ اللہ سے یہ بھی منقول ہے کہ جو شخص فقہ میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا محتاج ہے، کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے فقہ کی خاص توفیق اور بصیرت عطا فرمائی تھی۔

مزید قابلِ غور بات یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے خود امام مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی ملکہ کے معترف تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ وہ ایسے شخص تھے کہ اگر اس ستون کو سونے کا کہیں تو اپنے دلائل اور کلام کے ذریعے اسے ثابت کر سکتے ہیں۔

یہ تعبیر اگرچہ بطورِ مثال ہے، لیکن اس سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی قوتِ استدلال اور فقہی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کے امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے بارے میں اقوال

امام شافعی رحمہ اللہ کا امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے بارے میں کلام بھی ان کے فقہی مقام کی واضح شہادت دیتا ہے۔

۱۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے: "رائے (اجتہادی فقہ) کے باب میں جس شخص نے بھی گفتگو کی ہے، وہ اہلِ عراق کا محتاج ہے، اور میں نے محمد بن الحسن جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا۔" (مناقب الشافعي للآبري ١/‏٧٨)

یہاں ایک اہم نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اجتہاد اور فقہی رائے کے میدان میں اہلِ عراق کی علمی حیثیت کو تسلیم کیا، بلکہ اس میدان میں اہلِ علم کو ان کا محتاج قرار دیا۔ اس کے بعد امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے بارے میں یہ کہنا کہ "میں نے ان جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا"، ان کے فقہی مقام کی غیر معمولی تعریف ہے۔

یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ، امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ جیسے عظیم المرتبت محدثین اور فقہاء سے استفادہ کیا تھا، لیکن اجتہادی فقہ اور رائے کے میدان میں امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے مقام کو خاص طور پر نمایاں فرمایا۔

۲۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "فقہ کے معاملے میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان محمد بن الحسن کا تھا۔" (تاريخ بغداد - ت بشار ٢/‏٥٦٧)

یہ قول اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ اپنی فقہی تشکیل اور اجتہادی بصیرت میں امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے احسان کو نمایاں مقام دیتے تھے۔

۳۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے: "میں نے محمد بن الحسن کے علاوہ کوئی ایسا فقیہ نہیں دیکھا کہ جس سے کوئی قابل غور (یا) مشکل مسئلہ پوچھا گیا اور اس کا چہرہ متغیر نہ ہوا ہو۔" ( مناقب الشافعي للآبری : ص 78 )

مزید برآں طبقات المحدثين کی ایک روایت میں منقول ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام لیث بن سعد رحمہ اللہ کو امام مالک رحمہ اللہ سے بڑا فقیہ قرار دیا ہے۔ اور یہی امام لیث بن سعد رحمہ اللہ جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ملے تو ان کی فقہی بصیرت اور مشکل مسائل کو نہایت آسانی سے حل کرنے کی صلاحیت سے متاثر ہوئے۔

اس سے مقصود یہ ہے کہ خود امام شافعی رحمہ اللہ کے علمی معیار میں فقہ اور اجتہاد کے میدان میں بعض ایسے ائمہ بھی موجود تھے جنہیں وہ امام مالک رحمہ اللہ سے ممتاز سمجھتے تھے، جیسے امام لیث بن سعد رحمہ اللہ اور امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ۔ اور یہ دونوں حضرات امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہی بصیرت، قوتِ استنباط اور اجتہادی مقام کے معترف تھے۔لہٰذا اگر ایک طرف بعض اضطرابی روایات میں یہ مضمون بیان کیا جائے کہ امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ کو بعض علوم میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر مقدم قرار دے رہے ہیں، اور دوسری طرف خود امام شافعی رحمہ اللہ کے ثابت شدہ اقوال سے یہ ظاہر ہو کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن الحسن رحمہ اللہ کے فقہی مقام کو نہایت بلند سمجھتے تھے، تو اس سے اس مناظرے کی منقول تفصیلات کی صحت پر سوال پیدا ہوتا ہے۔


ماخذ: «تحويل التنكيل إلى صاحبه المعلمي، لما وقع في الأوهام والأباطيل»، از مساعد زیب و محمد رئیس۔


اعتراض نمبر 107 : کہ امام شافعی نے کہا کہ میں نے ابوحنیفہ کے اصحاب کی کتابوں میں ایک کتاب دیکھی جس کے ایک سو تیس اوراق تھے تو ان میں سے میں نے اسی اوراق ایسے شمار کیے جو کہ کتاب وسنت کے خلاف تھے۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...