اعتراض نمبر ۱۲ : اگر حرام پرندوں کی بیٹ کپڑے پر پھیلی کی چوڑائی سے بھی زیادہ لگی ہوئی ہو پھر بھی نماز ہو جائے گی۔
اعتراض نمبر ۱۲
إن أصابه خرء ما لا يؤكل لحمه من الطيور أكثر من قدر الدرهم أجزأت الصلاة فيه عند أبي حنيفة وأبي يوسف. (هدايه يوسفي جلد اول ص ۷۳ باب الانجاس) یعنی اگر حرام پرندوں کی بیٹ کپڑے پر پھیلی کی چوڑائی سے بھی زیادہ لگی ہوئی ہو پھر بھی نماز ہو جائے گی۔ امام ابو حنیفہ کی فقہ یہی ہے اور امام ابو یوسف بھی ان کے ساتھ متفق ہیں۔ (درایت محمدی، ص ۹۲، ہدایت محمدی ص ۶)
جواب:
حرام جانوروں کی بیٹ امام صاحب کے نزدیک نجاست مخففہ ہے اس لیے قدرِ درہم سے زیادہ لگ جانے پر بھی نماز ہو جائے گی۔ اگر معترض کے پاس اس کے مغلظ ہونے اور اس کے لگ جانے سے نماز ناجائز ہونے کی دلیل ہے تو پیش کرے۔ اگر نہیں، اور یقیناً نہیں، تو ائمہ مجتہدین پر بے جا طعن سے توبہ لازم ہے۔
سنیے! فقہاء علیہم الرحمہ نے ایک اصول لکھا ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط ہے، وہ یہ ہے:
المشقة تجلب التيسير
کہ مشقت آسانی کو کھینچتی ہے، یعنی تکلیف اور مشقت کے وقت شرعاً تخفیف ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ
اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، تنگی کا نہیں۔
اور فرمایا:
وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ
یعنی اللہ تعالیٰ نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں کی۔
حدیث پاک میں ہے:
أحب الدين إلى الله الحنيفية السمحة (رواه البخاري تعليقًا)
اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ترین دین، سہولت پر مبنی دینِ حنیف ہے۔
اور بخاری شریف میں مرفوعاً آیا ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا:
الدين يسر
دین آسان ہے۔
حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں:
وقد يستفاد من هذه الإشارة إلى الأخذ بالرخصة الشرعية
اس حدیث میں اشارۃً مستفاد ہے کہ رخصتِ شرعیہ پر عمل کرنا درست ہے۔
اشباہ والنظائر کے ص ۹۶ میں لکھا ہے:
کہ عبادات میں اسبابِ تخفیف سات ہیں: سفر، مرض، جبر، نسیان، جہل، عسر اور عمومِ بلوٰی۔
معلوم ہوا کہ عمومِ بلوٰی اور عسر بھی اسبابِ تخفیف میں سے ہیں۔ اس کی مثال میں صاحبِ اشباہ والنظائر فرماتے ہیں:
كالصلوة مع النجاسة المعفو عنها كما دون ربع الثوب من مخففة وقدر الدرهم من المغلظة
جیسے نماز اس نجاست کے ساتھ جو معاف ہے، یعنی نجاستِ مخففہ سے ربعِ ثوب سے کم اور نجاستِ مغلظہ سے قدرِ درہم کے ساتھ۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں