اعتراض نمبر ۲۱: اگر جان بوجھ کر تشہد کے بعد گوز مار دے یا بات چیت کرے تو اس کی نماز پوری ہو جائے گی۔
اعتراض نمبر ۲۱:
إن تعمد الحدث في هذه الحالة أو تكلم ...... تمت صلوته (هدايه يوسفي جلد اول ص ١١٦ باب الحدث)
یعنی اگر جان بوجھ کر تشہد کے بعد گوز مار دے یا بات چیت کرے تو اس کی نماز پوری ہو جائے گی۔ (گویا ہوا نکال دینا سلام کے قائم مقام ہے) (درایت محمدی ص ۹۴، ہدایت محمدی ص ۷)
جواب:
تمہارا یہ اعتراض ہدایہ پر نہیں، امام اعظم پر نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ اس مسئلہ کی سند حدیث میں موجود ہے۔
افسوس کہ علمائے غیر مقلدین یا تو دیدہ دانستہ عوام کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں یا ان کو کتب فقہ کی سمجھ نہیں۔ یہی بے سمجھی ان کو اعتراض کرنے پر دلیر کرتی ہے۔ چنانچہ اسی اعتراض میں معترض نے یہ سمجھا ہے کہ ہوا نکال دینا فقہاء کے نزدیک سلام کے قائم مقام ہے۔ نعوذ باللہ من سوء الفہم۔ ہرگز نہیں۔ اگر قصداً ایسا کرے تو گناہ گار ہے اور اس کی نماز مکروہ تحریمی، جس کا دوبارہ پڑھنا اس پر واجب ہے۔ یہ اس لیے کہ اس نے سلام کہہ کر نماز سے باہر آنا تھا اور یہ سلام اس پر واجب تھا۔ چونکہ اس نے واجب (سلام) کو ترک کیا اس لیے گناہ گار بھی ہوا اور نماز کا اعادہ بھی لازم ہوا۔ یہ خیال کہ حنفیہ ایسی نماز کو بلا کراہت تحریمی جائز کہتے ہیں یا اس فعل کو جائز رکھتے ہیں، صریح افترا ہے۔
نواب صدیق حسن نے کشف الاقتباس میں اس اعتراض کو خوب رد کیا ہے۔ غیر مقلدین اپنے بزرگ کی اس کتاب میں اس اعتراض کا جواب دیکھ کر معترض کے علم اور تعصب کا اندازہ کریں کہ ہوا نکالنے کو سلام کے قائم مقام سمجھنے والا کس قدر فقاہت سے بے نصیب ہے۔
اب سنیے وہ حدیث جس کا میں نے پہلے ذکر کیا تھا۔
ابو داؤد، ترمذی اور طحطاوی نے روایت کیا ہے:
جس وقت امام قعدہ میں بیٹھ گیا اور سلام سے پہلے اس نے حدث کیا تو فرماتے ہیں کہ اس کی اور جو لوگ اس کے پیچھے تھے سب کی نماز پوری ہوگئی۔
علامہ علی قاری نے اپنے رسالہ "تشييد الفقهاء الحنفية" میں کتنی حدیثیں اس بارے میں لکھی ہیں، جو دیکھنا چاہے وہ عمدۃ الرعایہ شرح وقایہ ص ۱۸۵ دیکھ لے۔
اب معترض اپنے ایمان کی فکر کرے کہ اہل حدیث ہونے کا دعویٰ بھی رکھتا ہے اور حضور علیہ السلام پر اعتراض بھی۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں