۲۔ آسان پسندی اور حفظِ حدیث بمقابلہ استنباطِ فقہ
بعض لوگ طبعاً باریک بینی کے بجائے سہولت پسندی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ائمہِ سلف میں سے ایک بڑی جماعت نے فقہ کے بجائے محض حدیث کی مجالس کو اس لیے چنا کہ حدیث کی مجلس میں صرف الفاظ کو حفظ کرنے اور روایت کرنے کا اہتمام ہوتا تھا، جبکہ فقہ قرآن و سنت کے عمیق سمندر سے مسائل کا استخراج کرنے کا نام ہے، جو حد درجہ کٹھن کام ہے۔
اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے حفظِ قرآن کا درس دینا یا یاد کرنا نسبتاً آسان ہے کہ سات سال کا بچہ بھی حافظ بن جاتا ہے، مگر تفسیرِ قرآن، ناسخ و منسوخ اور علوم التفسیر پر عبور حاصل کرنا بوڑھوں کے پتے پانی کر دیتا ہے۔ اسی طرح حدیث کو محض یاد کر لینا آسان ہے، لیکن احادیث سے احکام کا استنباط کرنا (یعنی فقہ) جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
اسی حقیقت کا اعتراف جلیل القدر محدث امام اعمش رحمہ اللہ نے اس صحیح السند روایت میں فرمایا:
"يَا مَعْشَرَ الْفُقَهَاءِ أَنْتُمُ الْأَطِبَّاءُ وَنَحْنُ الصَّيَادِلَةُ" (اے فقہاء کی جماعت! تمہاری مثال تو حاذق طبیبوں کی سی ہے اور ہم محدثین محض پنساری یا کیمسٹ ہیں)۔ [الكامل في ضعفاء الرجال: ۸/۲۳۸]\
فائدہ: اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔ اس کی مفصل تحقیق دیکھنے کے لیے "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی موبائل ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود ہمارا رسالہ "امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی حنفیت" (ص ۱۴، ۱۵) ملاحظہ فرمائیں۔
فائدہ: پنساری دوا فراہم کرتا ہے، مگر دوا کا نسخہ اور اس کا صحیح استعمال صرف ڈاکٹر (فقیہ) ہی جانتا ہے۔ لہذا یہ قول فقہ کی عظمت پر مہرِ تصدیق ہے۔
۳۔ بطلانِ دعویٰ: امام حفص بن غیاث سے مروی روایاتِ ابی حنیفہ
مخالفین کا یہ دعویٰ کہ امام حفص بن غیاث (متوفی ۱۹۴ھ) نے امام ابوحنیفہ (متوفی ۱۵۰ھ) کو ترک کر دیا تھا، تاریخی اور روایتی اعتبار سے بالکل ساقط ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقض یہ ہے کہ امام ابوبکر بن ابی شیبہ (۱۵۹ھ - ۲۳۵ھ) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب 'مصنف ابن ابی شیبہ' میں اپنے استاد امام حفص بن غیاث سے امام ابوحنیفہ کی روایات کو جابجا نقل کیا ہے۔
اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ ابن ابی شیبہ کا اپنے استاد حفص سے یہ سماع ان کی سنِ شعور (۱۵ سے ۲۰ سال کی عمر) میں ہوا، تب بھی یہ دور ۱۷۴ھ سے ۱۸۰ھ کا بنتا ہے۔ یعنی امامِ اعظم کی وفات کے طویل عرصے بعد بھی امام حفص بن غیاث فخر کے ساتھ اپنے استادِ محترم امام ابوحنیفہ سے روایات بیان کر رہے تھے۔ اگر انہوں نے امام صاحب کو ترک کیا ہوتا، تو ان کی روایات کیوں بیان کرتے؟
اربابِ علم کے ذوق کی تسکین کے لیے 'مصنف ابن ابی شیبہ' سے تین صریح حوالہ جات من و عن پیشِ خدمت ہیں:
روایت نمبر ۱: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ حُرَّةً وَأَمَةً فِي عُقْدَةٍ فَسَدَ نِكَاحُهُمَا» [المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت: ٤/٣١]
روایت نمبر ۲: ٢٣٨٤٣ - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: «أَشْرَبُ نَبِيذَ الزَّبِيبِ الْمُنْقَعِ مَا دَامَ حُلْوًا عَدُوَّ اللِّسَانِ» [المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت: ٥/٧٦]
روایت نمبر ۳: ١٦١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن أبي (حنيفة) عن حماد عن إبراهيم قال: إذا (أهلت) بعمرة فخافت فوت الحج أهلت بالحج، وقضت العمرة وعليها دم، والعمرة۔ [المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري: ٩/٤٢]
یہ روایات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ امام حفص بن غیاث آخری وقت تک سلسلۂ حنفیت کے وفادار رہے۔
۴۔ شبہ کا ازالہ اور امام وکیع بن جراح کی گواہی
مخالفین عموماً درج ذیل روایت پیش کر کے عام لکیر کے فقیروں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں:
٢١١٨ - وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ نا الْحَسَنُ نا يَعْقُوبُ نا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنْتُ أُجَالِسُ أَبَا حَنِيفَةَ فَرُبَّمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي الْيَوْمِ الْواحِدِ فِي الْمَسْأَلَةِ الْوَاحِدَةِ خَمْسَةَ أَقْوَالٍ يَنْتَقِلُ مِنْ قَوْلٍ إِلَى قَوْلٍ فَقُمْتُ عَنْهُ وَتَرَكْتُهُ وَطَلَبْتُ الْحَدِيثَ»
ازالہ:
امام حفص بن غیاث کا ایک مجلس میں کثرتِ آراء کو دیکھ کر فقہ کی باریک بینی کے بجائے حدیث کی مجلس کی طرف منتقل ہونا ان کی اپنی طبیعت کی جولانی اور آسان پسندی کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے "مجلسِ فقہ" سے رخ موڑا تھا، امام ابوحنیفہ کی ذات یا ان کے علم سے برائت کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس کی سب سے بڑی اور ناقابلِ تردید دلیل امام وکیع بن جراح کا وہ تاریخی قول ہے جو آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے۔
امام ابن کرامہ حنفی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے (حسبِ عادت) کہہ دیا: "ابوحنیفہ نے خطا کی!" یہ سننا تھا کہ امام وکیع جلال میں آ گئے اور فرمایا:
"ابوحنیفہ خطا کر ہی کیسے سکتے ہیں؟ حالانکہ ان کی مجلسِ شوریٰ میں امام ابو یوسف اور امام زفر جیسے قیاس و اجتہاد کے ماہرین موجود ہیں، یحییٰ بن ابی زائدہ، حفص بن غیاث، حبان اور مندل جیسے حفاظِ حدیث موجود ہیں، قاسم بن معن جیسے ماہرِ لغت موجود ہیں، اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے زہد و تقویٰ کے پہاڑ موجود ہیں۔ جس کے ہم نشین اور مشیر ایسے جبالِ علم ہوں، اس سے خطا سرزد ہونا ممکن نہیں، کیونکہ اگر وہ کہیں چوکیں گے بھی تو یہ پٹا ہوا علمی لشکر انہیں فوراً حق کی طرف پھیر دے گا!" [تاريخ بغداد ت بشار: ١٦/٣٦٥]
علمی نکتہ اور تحقیق: اس روایت کی مفصل تحقیق کے لیے بھی ہماری ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود رسالہ "امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی حنفیت" (ص ۶۲، ۶۳) دیکھیں۔ راویِ حدیث امام ابن کرامہ رحمہ اللہ کی وفات کے بارے میں مؤرخین کے مختلف اقوال ہیں (۲۵۴ھ، ۲۵۶ھ، اور امام ابن حبان کے مطابق ۲۶۵ھ)۔ بالفرض اگر ہم ان کی وفات ۲۵۰ ہجری بھی مان لیں، تب بھی ان کی ولادت امامِ اعظم (۱۵۰ھ) کے بعد کی ہے۔ امام ابوحنیفہ کی وفات کے اتنے عرصے بعد، کوفہ کے جلیل القدر محدث امام وکیع کا امام حفص بن غیاث کو امام صاحب کے مستقل علمی بازوؤں اور ارکانِ مجلس میں شمار کرنا اس بات کی قاطع دلیل ہے کہ امام حفص کبھی بھی دائرہِ حنفیت سے خارج نہیں ہوئے تھے۔
دلیلِ قاطع: "ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً"
ہم ائمہِ سلف کی ایک اور ایسی گواہی پیش کرتے ہیں جو فقہِ حنفی کی طہارت، نفاست اور تقویٰ پر مہرِ الٰہی ہے۔ امام ابنِ ابی العوام رحمہ اللہ اپنی سندِ حسن کے ساتھ فضائلِ ابی حنیفہ میں نقل کرتے ہیں:
حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن حماد مولى بني هاشم قال: ثنا محمد بن سليمان قال: قال يحيى بن زكريا بن أبي زائدة وعمرو بن ثابت: ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً۔
مفہوم: امام محمد بن سلیمان (لوین) نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور عمرو بن ثابت نے گواہی دی کہ: "ہم نے کبھی، کسی دور میں، کسی ایک بھی ایسے شخص یا محدث کو نہیں دیکھا جس نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علم اور ان کی فقہ کو اس لیے چھوڑا ہو کہ وہ دین میں زیادہ پرہیزگار، متقی یا محتاط بننا چاہتا تھا!"
سبحان اللہ! یہ ہے سیدنا امامِ اعظم کے علم کا وہ رعب اور ثقاہت جس کا اعتراف ان کے معاصرین کر رہے ہیں۔ اس گواہی کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کی مجلسِ علم سے جو کوئی بھی جڑا، وہ ان کے علم کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ ان کا علم اتنا معتبر، نافع اور شریعت کے اصولوں کے عین مطابق تھا کہ کائنات کے کسی سچے، مخلص اور پرہیزگار انسان کے دل میں کبھی یہ وہم بھی نہیں آیا کہ امام صاحب کا علم تقویٰ کے منافی ہے۔
اگر کسی نے امام صاحب سے فکری اختلاف کیا بھی، تو وہ اس کا ذاتی نظریہ، اجتہادی اختلاف یا معاصرانہ چشمک (تعصب) تو ہو سکتی ہے، لیکن تقویٰ، دیانت، یا امام صاحب میں کسی جرح و ضعف کی بنا پر کسی نے بھی ان کے علم کو خیرباد نہیں کہا۔
خلاصہ کرام :
حاصلِ بحث یہ ہے کہ امام حفص بن غیاث رحمہ اللہ چونکہ بنیادی طور پر محدث تھے، اس لیے ان کی علمی طبیعت کا میلان "حفظ و روایتِ حدیث" کی مجالس کی طرف زیادہ ہو گیا، جو کہ ایک جائز اور فطری امر تھا۔ لیکن اس میلانِ طبع کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہوں نے امام صاحب کی شاگردی، عقیدت یا ان کی فقہ کو "ترک" کر دیا تھا۔
اگر انہوں نے فقہِ حنفی کو ترک کیا ہوتا، تو امامِ اعظم کی وفات کے بعد تک کوفہ کے سب سے بڑے نقاد امام وکیع بن جراح انہیں امام صاحب کی تدوینِ فقہ کی شوریٰ کا مستقل رکن نہ بتاتے، اور نہ ہی امام ابن ابی شیبہ اپنے 'مصنف' میں ان کے واسطے سے امام ابوحنیفہ کی روایات درج کرتے۔
نکتہ : غیر مقلدین کی کتاب "عصر حاضر میں اجتہاد ۔۔۔" میں تاریخ بغداد کے حوالے سے چند اور روایات بھی ذکر کیں ہیں ، جن کا مدلل مفصل جواب قارئین " النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود " تانیب الخطیب : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات " نمبر وار سلسلہ میں پڑھ سکتے ہیں۔



تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں