نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ان کے شاگرد محدث امام حفص بن غیاث رحمہ اللہ نے ترک (چھوڑ) دیا تھا؟

 


کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ان کے شاگرد محدث امام حفص بن غیاث رحمہ اللہ نے ترک (چھوڑ) دیا تھا؟



صرِ حاضر میں کچھ لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی علمی شان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ امام صاحب کے اپنے شاگردوں سے تعلقات خراب تھے، ایک جھوٹا اعتراض کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امام صاحب کے مشہور شاگرد، امام حفص بن غیاث رحمہ اللہ نے اپنے استاد کو "ترک" کر دیا تھا، یعنی ان سے ہر قسم کا تعلق ختم کر لیا تھا۔

یہ اعتراض بالکل غلط اور حقیقت کے خلاف ہے۔
۱۔ اجتہادی اختلافات اور آراء کا بدلنا: ایک قدرتی بات
کچھ لوگ امامِ اعظم کے اجتہاد کرنے کے طریقے پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی مسئلے پر اپنی رائے بدل لیتے تھے۔ ایسا اعتراض کرنا ان کی اپنی کم علمی کو ظاہر کرتا ہے۔
دین کے مسائل میں ایک ہی امام کی ایک سے زیادہ آراء (رائے) ہونا کوئی برائی یا عجیب بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ شریعت میں کتنی وسعت ہے اور امام صاحب مسئلے پر کتنا گہرا غور و فکر کرتے تھے۔
ایک واضح مثال
مدینہ کے امام، امام مالک رحمہ اللہ کو دیکھ لیجیے۔ صرف "موزوں پر مسح کرنے" کے ایک ہی مسئلے پر ان سے سات مختلف روایات (آراء) ملتی ہیں۔ اس کی پوری تفصیل علامہ کوثری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب 'تأنيب الخطيب' (صفحہ ۲۳۴) کے حاشیہ میں لکھی ہے۔
اگر ایک مسئلے پر اپنی رائے کو بدلنا یا مختلف آراء رکھنا کوئی عیب ہے، تو پھر اعتراض کرنے والے باقی تین بڑے ائمہ (امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل) کے بارے میں کیا کہیں گے؟ سچی بات یہ ہے کہ علم  کا سفر کبھی ایک جگہ نہیں رکتا، حالات اور نئی دلیلوں کے سامنے آنے سے رائے بدلنا ایک بہترین علمی خوبی ہے۔

۲۔ آسان پسندی اور حفظِ حدیث بمقابلہ استنباطِ فقہ

بعض لوگ طبعاً باریک بینی کے بجائے سہولت پسندی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ائمہِ سلف میں سے ایک بڑی جماعت نے فقہ کے بجائے محض حدیث کی مجالس کو اس لیے چنا کہ حدیث کی مجلس میں صرف الفاظ کو حفظ کرنے اور روایت کرنے کا اہتمام ہوتا تھا، جبکہ فقہ قرآن و سنت کے عمیق سمندر سے مسائل کا استخراج کرنے کا نام ہے، جو حد درجہ کٹھن کام ہے۔

اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے حفظِ قرآن کا درس دینا یا یاد کرنا نسبتاً آسان ہے کہ سات سال کا بچہ بھی حافظ بن جاتا ہے، مگر تفسیرِ قرآن، ناسخ و منسوخ اور علوم التفسیر پر عبور حاصل کرنا بوڑھوں کے پتے پانی کر دیتا ہے۔ اسی طرح حدیث کو محض یاد کر لینا آسان ہے، لیکن احادیث سے احکام کا استنباط کرنا (یعنی فقہ) جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

اسی حقیقت کا اعتراف جلیل القدر محدث امام اعمش رحمہ اللہ نے اس صحیح السند روایت میں فرمایا: 

"يَا مَعْشَرَ الْفُقَهَاءِ أَنْتُمُ الْأَطِبَّاءُ وَنَحْنُ الصَّيَادِلَةُ"  (اے فقہاء کی جماعت! تمہاری مثال تو حاذق طبیبوں کی سی ہے اور ہم محدثین محض پنساری یا کیمسٹ ہیں)۔ [الكامل في ضعفاء الرجال: ۸/۲۳۸]\

  فائدہ: اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔ اس کی مفصل  تحقیق دیکھنے کے لیے "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی موبائل ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود ہمارا رسالہ "امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی حنفیت" (ص ۱۴، ۱۵) ملاحظہ فرمائیں۔

فائدہ:   پنساری دوا فراہم کرتا ہے، مگر دوا کا نسخہ اور اس کا صحیح استعمال صرف ڈاکٹر (فقیہ) ہی جانتا ہے۔ لہذا یہ قول فقہ کی عظمت پر مہرِ تصدیق ہے۔

۳۔ بطلانِ دعویٰ: امام حفص بن غیاث سے مروی روایاتِ ابی حنیفہ

مخالفین کا یہ دعویٰ کہ امام حفص بن غیاث (متوفی ۱۹۴ھ) نے امام ابوحنیفہ (متوفی ۱۵۰ھ) کو ترک کر دیا تھا، تاریخی اور روایتی اعتبار سے بالکل ساقط ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقض یہ ہے کہ امام ابوبکر بن ابی شیبہ (۱۵۹ھ - ۲۳۵ھ) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب 'مصنف ابن ابی شیبہ' میں اپنے استاد امام حفص بن غیاث سے امام ابوحنیفہ کی روایات کو جابجا نقل کیا ہے۔

اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ ابن ابی شیبہ کا اپنے استاد حفص سے یہ سماع ان کی سنِ شعور (۱۵ سے ۲۰ سال کی عمر) میں ہوا، تب بھی یہ دور ۱۷۴ھ سے ۱۸۰ھ کا بنتا ہے۔ یعنی امامِ اعظم کی وفات کے طویل عرصے بعد بھی امام حفص بن غیاث فخر کے ساتھ اپنے استادِ محترم امام ابوحنیفہ سے روایات بیان کر رہے تھے۔ اگر انہوں نے امام صاحب کو ترک کیا ہوتا، تو ان کی روایات کیوں بیان کرتے؟

اربابِ علم کے ذوق کی تسکین کے لیے 'مصنف ابن ابی شیبہ' سے تین صریح حوالہ جات من و عن پیشِ خدمت ہیں:

روایت نمبر ۱: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ حُرَّةً وَأَمَةً فِي عُقْدَةٍ فَسَدَ نِكَاحُهُمَا» [المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت: ٤/‏٣١]

روایت نمبر ۲: ٢٣٨٤٣ - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: «أَشْرَبُ نَبِيذَ الزَّبِيبِ الْمُنْقَعِ مَا دَامَ حُلْوًا عَدُوَّ اللِّسَانِ» [المصنف - ابن أبي شيبة - ت الحوت: ٥/‏٧٦]

روایت نمبر ۳: ١٦١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن أبي (حنيفة) عن حماد عن إبراهيم قال: إذا (أهلت) بعمرة فخافت فوت الحج أهلت بالحج، وقضت العمرة وعليها دم، والعمرة۔ [المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري: ٩/‏٤٢]

یہ روایات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ امام حفص بن غیاث آخری وقت تک سلسلۂ حنفیت کے وفادار رہے۔

۴۔ شبہ کا ازالہ اور امام وکیع بن جراح کی گواہی

مخالفین عموماً درج ذیل روایت پیش کر کے عام لکیر کے فقیروں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں:

٢١١٨ - وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ نا الْحَسَنُ نا يَعْقُوبُ نا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنْتُ أُجَالِسُ أَبَا حَنِيفَةَ فَرُبَّمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي الْيَوْمِ الْواحِدِ فِي الْمَسْأَلَةِ الْوَاحِدَةِ خَمْسَةَ أَقْوَالٍ يَنْتَقِلُ مِنْ قَوْلٍ إِلَى قَوْلٍ فَقُمْتُ عَنْهُ وَتَرَكْتُهُ وَطَلَبْتُ الْحَدِيثَ»

ازالہ:

امام حفص بن غیاث کا ایک مجلس میں کثرتِ آراء کو دیکھ کر فقہ کی باریک بینی کے بجائے حدیث کی مجلس کی طرف منتقل ہونا ان کی اپنی طبیعت کی جولانی اور آسان پسندی کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے "مجلسِ فقہ" سے رخ موڑا تھا، امام ابوحنیفہ کی ذات یا ان کے علم سے برائت کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس کی سب سے بڑی اور ناقابلِ تردید دلیل امام وکیع بن جراح کا وہ تاریخی قول ہے جو آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے۔

امام ابن کرامہ حنفی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے (حسبِ عادت) کہہ دیا: "ابوحنیفہ نے خطا کی!" یہ سننا تھا کہ امام وکیع جلال میں آ گئے اور فرمایا:

"ابوحنیفہ خطا کر ہی کیسے سکتے ہیں؟ حالانکہ ان کی مجلسِ شوریٰ میں امام ابو یوسف اور امام زفر جیسے قیاس و اجتہاد کے ماہرین موجود ہیں، یحییٰ بن ابی زائدہ، حفص بن غیاث، حبان اور مندل جیسے حفاظِ حدیث موجود ہیں، قاسم بن معن جیسے ماہرِ لغت موجود ہیں، اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض جیسے زہد و تقویٰ کے پہاڑ موجود ہیں۔ جس کے ہم نشین اور مشیر ایسے جبالِ علم ہوں، اس سے خطا سرزد ہونا ممکن نہیں، کیونکہ اگر وہ کہیں چوکیں گے بھی تو یہ پٹا ہوا علمی لشکر انہیں فوراً حق کی طرف پھیر دے گا!" [تاريخ بغداد ت بشار: ١٦/٣٦٥]

 علمی نکتہ اور تحقیق: اس روایت کی مفصل تحقیق کے لیے بھی ہماری ایپ "دفاع احناف لائبریری" میں موجود رسالہ "امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی حنفیت" (ص ۶۲، ۶۳) دیکھیں۔ راویِ حدیث امام ابن کرامہ رحمہ اللہ کی وفات کے بارے میں مؤرخین کے مختلف اقوال ہیں (۲۵۴ھ، ۲۵۶ھ، اور امام ابن حبان کے مطابق ۲۶۵ھ)۔ بالفرض اگر ہم ان کی وفات ۲۵۰ ہجری بھی مان لیں، تب بھی ان کی ولادت امامِ اعظم (۱۵۰ھ) کے بعد کی ہے۔ امام ابوحنیفہ کی وفات کے اتنے عرصے بعد، کوفہ کے جلیل القدر محدث امام وکیع کا امام حفص بن غیاث کو امام صاحب کے مستقل علمی بازوؤں اور ارکانِ مجلس میں شمار کرنا اس بات کی قاطع دلیل ہے کہ امام حفص کبھی بھی دائرہِ حنفیت سے خارج نہیں ہوئے تھے۔

دلیلِ قاطع: "ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً

 ہم ائمہِ سلف کی ایک اور ایسی گواہی پیش کرتے ہیں جو فقہِ حنفی کی طہارت، نفاست اور تقویٰ پر مہرِ الٰہی ہے۔ امام ابنِ ابی العوام رحمہ اللہ اپنی سندِ حسن کے ساتھ فضائلِ ابی حنیفہ میں نقل کرتے ہیں:

حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن حماد مولى بني هاشم قال: ثنا محمد بن سليمان قال: قال يحيى بن زكريا بن أبي زائدة وعمرو بن ثابت: ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً۔

مفہوم: امام محمد بن سلیمان (لوین) نقل کرتے ہیں کہ  یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور عمرو بن ثابت نے گواہی دی کہ: "ہم نے کبھی، کسی دور میں، کسی ایک بھی ایسے شخص یا محدث کو نہیں دیکھا جس نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علم اور ان کی فقہ کو اس لیے چھوڑا ہو کہ وہ دین میں زیادہ پرہیزگار، متقی یا محتاط بننا چاہتا تھا!"

سبحان اللہ! یہ ہے سیدنا امامِ اعظم کے علم کا وہ رعب اور ثقاہت جس کا اعتراف ان کے معاصرین کر رہے ہیں۔ اس گواہی کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کی مجلسِ علم سے جو کوئی بھی جڑا، وہ ان کے علم کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ ان کا علم اتنا معتبر، نافع اور شریعت کے اصولوں کے عین مطابق تھا کہ کائنات کے کسی سچے، مخلص اور پرہیزگار انسان کے دل میں کبھی یہ وہم بھی نہیں آیا کہ امام صاحب کا علم تقویٰ کے منافی ہے۔

اگر کسی نے امام صاحب سے فکری اختلاف کیا بھی، تو وہ اس کا ذاتی نظریہ، اجتہادی اختلاف یا معاصرانہ چشمک (تعصب) تو ہو سکتی ہے، لیکن تقویٰ، دیانت، یا امام صاحب میں کسی جرح و ضعف کی بنا پر کسی نے بھی ان کے علم کو خیرباد نہیں کہا۔

خلاصہ کرام :

حاصلِ بحث یہ ہے کہ امام حفص بن غیاث رحمہ اللہ چونکہ بنیادی طور پر محدث تھے، اس لیے ان کی علمی طبیعت کا میلان "حفظ و روایتِ حدیث" کی مجالس کی طرف زیادہ ہو گیا، جو کہ ایک جائز اور فطری امر تھا۔ لیکن اس میلانِ طبع کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہوں نے امام صاحب کی شاگردی، عقیدت یا ان کی فقہ کو "ترک" کر دیا تھا۔

اگر انہوں نے فقہِ حنفی کو ترک کیا ہوتا، تو امامِ اعظم کی وفات کے بعد تک کوفہ کے سب سے بڑے نقاد امام وکیع بن جراح انہیں امام صاحب کی تدوینِ فقہ کی شوریٰ کا مستقل رکن نہ بتاتے، اور نہ ہی امام ابن ابی شیبہ اپنے 'مصنف' میں ان کے واسطے سے امام ابوحنیفہ کی روایات درج کرتے۔



نکتہ :  غیر مقلدین کی کتاب  "عصر حاضر میں اجتہاد ۔۔۔" میں تاریخ بغداد کے حوالے سے چند اور روایات بھی ذکر کیں ہیں ، جن کا مدلل مفصل جواب قارئین " النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود " تانیب الخطیب : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات " نمبر وار سلسلہ میں پڑھ سکتے ہیں۔



تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...