نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مسئلہ تین طلاق پرمدلل و مفصل بحث باب نمبر۲۲: در متفرقات , (قسط:۱۷)


مسئلہ تین طلاق پرمدلل و مفصل بحث

 باب نمبر۲۲: در متفرقات 


 مفتی رب نواز حفظہ اللہ ، احمد پور شرقیہ     (قسط:۱۷)


شُمارہ نمبر 39 

مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت

ایک جماعت اہلِ حدیث تین طلاقوں میں سے ایک کا وقوع بھی نہیں مانتی

علامہ وحیدالزمان غیرمقلدنے ایک مجلس اور ایک طہر کی تین طلاقوں کے وقوع کے متعلق اختلاف بیان کرتے ہوئے لکھا : 

’’ ایک جماعت اہلِ حدیث اور امامیہ اور اہلِ بیت کا یہ قول ہے کہ ایک طلاق بھی نہیں پڑنے کا ۔ ‘‘ 

( تیسیرا لباری :۷؍۱۶۹، تاج کمپنی )

اس ’’جماعت اہلِ حدیث ‘‘ میں کون کون سے افراد ہیں جو ایک مجلس کی تین طلاقوں میں سے ایک طلاق بھی نہیں مانتے ۔ زیادہ نہیں تو کم اَز کم ایسے دس اہل ِ حدیث کی نشان دہی کردیں ۔ 

یاد رہے کہ اس جماعت اہلِ حدیث کی یہ رائے دونوں فریقین: اہل سنت والجماعت اور غیرمقلدین کے نزدیک احادیث کے مخالف ہے ۔یہ لوگ علامہ وحید الزمان کی تصریح کے مطابق اہلِ حدیث ہیں مگر اُن کی یہ رائے باتفاقِ فریقین سے حدیثوں کے خلاف ہے۔ 

امام اسحاق بن راہویہ کا مسلک 

غیرمقلدین کے امام علامہ وحیدالزمان نے تین طلاقوں کے وقوع کی بابت مذاہب بیان کرتے ہوئے لکھا: 

’’ اسحاق بن راہویہ قول ہے کہ اگر عورت مدخولہ ہے تو تینوں طلاق پڑ جائیں گی ،ورنہ ایک پڑے گی۔ ‘‘

 ( تیسیرا لباری :۷؍۱۶۹، تاج کمپنی )

علامہ وحید الزمان نے امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کے متعلق تصریح کی ہے کہ وہ ایک مجلس اور ایک طہر کی تین طلاقوں کو تین مانتے تھے۔یہاں غیرمقلدین سے سوال ہے کہ یہ بزرگ تمہارے ہاں اہل حدیث ہیں یا 

نہیں ؟ مقلد ہیں یا غیرمقلد ؟ 

 بیوی کی خاطر مسلک تبدیل کرنا گناہ اور مفاد پرستی ہے 

جس آدمی نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہوں غیرمقلدین اس کی مجبوری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسے غیرمقلد بننے کی پیش کش کرتے ہیں ، پھر اسے بیوی رکھنے کا فتوی تھمادیتے ہیں۔ علامہ وحید الزمان غیرمقلدنے اکٹھی تین طلاقیں دینے والوں کی بابت لکھا:

’’ اَلْاَوْلٰی لَھُمْ اَنْ یَّصِیْرُوْا اَھْلَ الْحَدِیْثِ وَیَجْعَلُوْنَ الطَّلْقَاتِ الثَّلَاثَ وَاحِدَۃً رَّجْعِیَّۃً وَّیَرْتَجِعُوْنَ۔‘‘ 

(نزل الابرار: ۲؍۳۳) 

ترجمہ: ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اہلِ حدیث بن جائیں اور تین طلاقوں کو ایک قرار دیں اور رجوع کر لیں۔ 

حالاں کہ خود غیرمقلدین نے صراحۃ ً لکھ دیا ہے کہ بیوی کی خاطر مسلک تبدیل کرنا گناہ بھی ہے اور مفاد پرستی بھی ۔

چنانچہ مولانا عبد القادر حصاروی غیرمقلد اکٹھی تین طلاقیں دینے کو کئی گناہوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

’’ آج کل اس میں کئی گناہ ظاہرہو رہے ہیں اور یہ ناجائز فعل کئی گناہوں کا مجموعہ بن رہا ہے ... طلاق ثلاثہ کی زَد سے بچنے کی نیت سے فقہی مسلک تبدیل کرنا مقلد سے غیرمقلد ہو جانا۔‘‘ 

(فتاویٰ حصاریہ : ۶؍ ۳۳۷، ناشر :عبد اللطیف ربانی مکتبہ اصحاب الحدیث اردو بازار لاہور ، طبع اول ۲۰۱۲ء)

 عمران شہزاد تارڑ غیرمقلد نے تین طلاق دینے پر تین حل بتاتے ہوئے آخر میں لکھا:

’’تیسرا حل یہ کہ مسلک تبدیل کرکے اہلِ حدیث علماء سے رجوع کر لیاجائے جو یقینی طور پر مفاد پرستی کی ایک علامت ہے ۔ ‘‘

(حلالہ سنٹر ز اورخواتین کی عصمت دری صفحہ ۲)

اسلامی فقہوں سے استفادہ کی دعوت 

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ حنفی ،مالکی، شافعی، حنبلی اور محدثین کی فقہ ،سب اسلامی فقہ ہے اور ہمارے علماء کو بغیر کسی تعصب کے اس اسلامی فقہی ذخیرے سے یکساں طور پر استفادہ کرنا چاہیے ۔اور اس عظیم اسلامی ففہی ذخیرے سے عصر حاضر کے مسائل کا جواب دیا جائے گا تو فتویٰ بہت حدتک معتدل ہوگا ۔ اور اگر آپ اس اسلامی فقہی ذخیرے کی کسی ایک شاخ میں اپنے آپ کو محدود کرلیں گے تو پھر اسی قسم کے فتاوی سامنے آئیں گے کہ جس کی مثال ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔‘‘

(صالح اور مصلح صفحہ ۴۶۳، دار الفکر الاسلامی ، طبع اول سن ؍۲۰۱۷ء )

عرض ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے جن فقہوں کو اسلامی فقہ کا نام دیا ہے ان سب میں تین طلاقوں کو تین ہی کہا جاتا ہے ۔ جب ڈاکٹرصاحب سمیت غیرمقلدین تین طلاقوں کو ایک کہتے ہیں۔ کم اَزکم ڈاکٹر صاحب کوتو اپنی اس بات کالحاظ رکھنا چاہیے تھا۔

ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ ان اسلامی فقہوں میں سے کسی ایک فقہ پر اکتفاء کریں گے تو اعتدال نہ رہے گا ۔ مگر جناب نے تو کسی ایک پر اکتفاء توکجا تو سب سے ہی منہ موڑ لیا۔ جب آپ کے بقول ایک پر اکتفاء میں بے اعتدالی ہے تو سب کو چھوڑ کر الگ جا بیٹھنے میں اعتدال کہاں سے آگیا ؟

مولانا داود ارشد غیرمقلدکے موقف پہ ایک نظر 

مولانا داود ارشد غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ہمارا موقف ہے کہ جو لوگ اہلِ حدیث حضرات کے خلاف سر گرم رہا کرتے ہیں، اور ذاتی ضرورت پڑنے پر اس قسم کے مسائل میں علماء اہلِ حدیث کی طرف رجوع کرتے ہیں اورمطلب نکل جانے پر پھر اہلِ حدیث کے خلاف خرافات میں سر گرم ہو جاتے ہیں ، انہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے تعزیری حکم کے مطابق فتویٰ دینا چاہیے۔ ‘‘ 

(دین الحق :۲؍۶۷۰)

’’ہمارا موقف‘‘ سے کیا مراد ہے ؟ صرف آپ کا ذاتی یافرقہ غیرمقلدین کا ؟اگر آپ کا ذاتی ہے تو پوری جماعت کے خلاف آپ کی رائے کیا حیثیت رکھتی ہے؟ اور اگر جماعت کا ہے تو یہ کس کس کتاب میں لکھا ہوا ہے 

پانچ، سات کتابوں کے نام تحریر کریں ۔ 

داود صاحب نے لکھا:

’’ دین میں کسی چیز کے اثبات کے لئے حنفیہ نے ادلہ اربعہ کا اصول بنایا تھا کہ دین کے مسائل ،قرآن ، حدیث ، اجماع امت اور قیاس شرعی سے ثابت ہوں گے ، گو ہمارے نزدیک اصل قرآن و حدیث ہی ہے ۔ ‘‘

( دین الحق :۲؍۶۴۳)

جب آپ کے نزدیک دلیل صرف قرآن وحدیث ہی ہے تو آیت قرآنی اورحدیث نبوی تحریر فرمائیں کہ اگر سائل غیرمقلد ہو تو اسے ایک کے وقوع کا فتوی دینا اور جب سائل مقلد ین کا کوئی فرد ہو تو ہو اسے تین طلاقوں کے وقوع کا فتوی تھمانا ۔ 

غیرمقلدین کے خلاف سر گرم رہنے والے تو خود اُن کے اپنے بھی ہیں جنہوں نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوی لگا رکھے ہیں دیکھئے رسائل اہلِ حدیث (جلد اول و دوم) وغیرہ۔اور آج بھی غیرمقلدین ایک دوسرے کے خلاف بڑی گرم جوشی دکھا رہے ہیں تو انہیں کون سا فتویٰ دیں گے ؟ 

مذکورہ بالا تمہارا موقف محض کاغذی ہے یا خارج میں اس کا وجود بھی ہے؟اگر تم نے اس موقف کے مطابق تین طلاقوں کے وقوع کے فتاویٰ دئیے ہیں تو چند ایسے مطبوعہ فتاویٰ کا ثبوت پیش کریں ۔ 

آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے موقف کو تعزیری قرار دے کر اس کا سہارا لے رہے ہیں۔ اول تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ شرعی تھا جیسا کہ ہم’’ باب :۱۵ غیرمقلدین کے چند مزید شبہات کا ازالہ‘‘ میں غیرمقلدین کے حوالہ جات نقل کر چکے ، دوسرا جب آپ کے ہاں دلیل صرف قرآن وحدیث ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے موقف پر فتوی دینا آپ کے لیے کیسے جائز ہوگیا؟ 

اگر اپنے اصول کے خلاف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات قبول کر رہے ہیں تو بتائیے انہوں نے تین طلاق کا نفاذ صرف مخالفین کے لیے کیا تھا۔ اور موافقین کے لیے دوسرا حکم تھا ؟ اگر یہی بات ہے تو ان کے موافقین اور مخالفین میں سے دس بیس کی نشاندہی کریں تاکہ پتہ چلے کون کون صحابہ ان کے ہم مذہب تھے اور کون کون م نہیں ؟اور پھر موافقین کے مذہب کا کیا نام تھا اور مخالفین کا کون سا مذہب تھا؟ 

جس مسئلہ میں دیگر ائمہ کی معیت حاصل ہو 

خواجہ محمد قاسم غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ مصنف نے ایک شرارت یہ فرمائی ہے کہ ہر وہ مسئلہ جس میں ہمارا ان سے اختلاف ہے اس کے متعلق ڈھنڈورا پیٹ دیا ہے کہ یہ غیرمقلدین کا مسلک ہے ،حالاں کہ ہم اس مسئلہ میں تنہا نہیں ہوتے بالعموم ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ بھی ہوتے ہیں ۔ ‘‘ 

( حدیث اور غیر اہلِ حدیث صفحہ ۳۴)

مسئلہ تین طلاق میں تو چاروں امام کا موقف یہی ہے کہ وہ تینوں واقع ہوجاتی ہیں اس کے باوجود غیرمقلدین اس موقف کو احناف کا مسئلہ بتلا کر رد و قدح کیا کرتے ہیں تو خواجہ صاحب کے الفاظ کی رُو سے یہ طرزعمل نسبتاً بڑی شرارت ہے۔ 

شریعت بھی بدل گئی !!

مولانا داود ارشد غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دَور خلافت میں جب لوگوں نے تینوں سے مراد تین طلاقیں دینا ہی مراد لیا تو طلاق دینے والے کی منشاء کے ماتحت شریعت بھی بدل گئی ہے، یہ ایک ایسی بات ہے جس میں حضرت مفتی صاحب نے ہماری تائید کی ہے کیوں کہ کوئی بھی بریلوی یا دیوبندی اس کا قائل نہیں بلکہ تمام کے نزدیک طلاقیں تین ہی واقع ہوں گی۔ ‘‘ 

( دین الحق :۲؍۶۶۴) 

تین کو ایک کہنا بعض اہلِ حدیث کی رائے ہے 

 مولانا عبد اللہ روپڑی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ بعض اہلِ حدیث اس طرف گئے ہیں کہ اگر ایک مجلس میں تین طلاقیں اکٹھی دے تو یہ ایک ہی طلاق ہے ۔‘‘ 

( فتاویٰ اہلِ حدیث :۲؍۴۹۵)

یہاں وضاحت کی جائے کہ بعض کس کے مقابلہ میں ہے نصف کے یا اکثر کے ؟بعض کے بالمقابل دوسرے اہلِ حدیثوں کا مسلک کیا ہے اور وہ کون کون ہیں ؟زیادہ نام تحریر نہ کر پائیں توایک درجن غیرمقلدین 

کے نام ظاہر کردیں جوایک مجلس کی تین طلاقوں کوتین مانتے ہوں۔ 

طلاق کے مسئلہ میں نرمی اور نماز کی بابت سختی کا موقف 

غیرمقلدین تین کو ایک قرار دیتے ہوئے باور کرایا کرتے ہیں اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہے مگر دوسری طرف نماز چھوڑنے والوں کے نکاح کے فسخ ہونے پر فتویٰ دے دیا تب لوگوں کی آسانی والا معاملہ پیشِ نظر نہ رہا ۔ مولانا عبد اللہ روپڑی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ تارک الصلوٰ ۃ بہت علماء کے نزدیک کافر ہو جاتا ہے اور جو شخص کافر ہو جائے اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے تو اس بنا پر طلاق کی ضرورت ہی نہ رہی ۔ ‘‘ 

( فتاویٰ اہلِ حدیث :۲؍۴۹۷)

فیصلہ نبوی بھی سیاسی ہے 

اب تک غیرمقلدین یہی کہتے رہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تین طلاق کو تین نافذ کر دینے کا فیصلہ شرعی نہیں، سیاسی تھا۔ اب مولانا عبد اللہ روپڑی غیرمقلد کی تحریر پڑھی ،وہ تو فیصلہ نبوی کو بھی سیاسی کہہ رہے ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حالتِ حیض میں طلاق دی کتب حدیث میں ہے کہ اس طلاق کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ’’ ھی واحدۃ، وہ ایک طلاق ہے ۔‘‘

 روپڑی صاحب اس روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

’’ایک روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیض میں طلاق دینے کی وجہ سے ابن عمر ؓ پر ناراض ہوگئے۔گویا اتنے بڑے جلیل القدر صحابی ؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایسی بے احتیاطی مناسب نہ تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے۔ اس سے بھی کچھ تائید ہوتی ہے کہ ھی واحدۃ والی روایت سیاست اور زجر پر محمول ہے...جیسے آئندہ طہر تک رکھنے کا حکم زجراً ہو سکتا ہے ،اس طرح اس طلاق کا نافذ کرنا بھی زجرا ً ہو سکتا ہے ۔ ‘‘ 

 ( فتاویٰ اہلِ حدیث :۲؍۵۰۷)

بیوی پاس رکھنا سزا ہے !!

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تھی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا عبد اللہ روپڑی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جلد بازی پر ناراض ہوئے کہ طہر کی انتظار نہ کی تو ابن عمر ؓ کو اس عورت کو ایک خاصی مدت تک پاس رکھنے کی سزا دی۔ ‘‘

 ( فتاویٰ اہلِ حدیث :۲؍۵۰۷)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاقوں کے نفاذ کا حکم جاری فرمایا تو غیرمقلدین نے کہا کہ چوں کہ وہ لوگوں کو جلد بازی کی سزا دینا چاہتے تھے ،اس لئے حکم دیا کہ عورت اپنے خاوند سے جدا ہے یعنی یہاں عورت کی اپنے خاوند سے جدائی کو سزاقراردیا۔ اس کے بالمقابل سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بیوی پاس رکھ کر سزا دی گئی۔ مطلب یہ کہ غیرمقلدین کے ہاں کبھی بیوی جدا کرادینا سزا ہے ، اورکبھی بیوی پاس رکھنا سزا ۔لیکن یہ عقدہ حل کرنا باقی ہے کہ بیوی پاس رکھنا سزا کیسے ہوا ؟ نیز کیا یہ سزا غیرمقلدین میں بھی نافذ و جاری ہے ؟ 

ترجیح کا مدار حدیث کی بجائے مصلحت

 مولانا عبد اللہ روپڑی غیرمقلد نے طلاق بدعی پر دو صفحات پر مشتمل بحث کی ۔ آخر میں لکھا :

’’ خلاصہ یہ کہ فریقین کے دلائل قریب قریب مساوی ہیں، اس لئے صاف فیصلہ کسی جانب نہیں ہو سکتا ۔ پس اس موقع پر مصلحت دیکھنی چاہیے ۔اگر خاوند ظالم ہے اور عورت جدائی چاہتی ہے تو جمہور کے مذہب پر عمل کیاجائے ،ورنہ مصالحت ہر صورت بہتر ہے ۔ ‘‘ 

( فتاویٰ اہلِ حدیث :۲؍۵۰۸)

غیرمقلدین دعویٰ کیاکرتے ہیں کہ اختلافی مسائل میں حق پہلو کو حدیث کی رو سے متعین کر لیا کرتے ہیں مگر یہاں روپڑی صاحب نے کسی پہلو کو حدیث سے ترجیح دینے کی بجائے مصلحت کی بنیاد پر ترجیح دی ہے ۔

 تعزیری فتاویٰ قراردینے کی رٹ 

غیرمقلدین نے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا کہ ان کا فیصلہ تعزیزی ہے ، پھر جب دوسرے صحابہ کرام کے فتاویٰ حتی کہ امام مالک رحمہ اللہ کے فتویٰ کو اپنے خلاف پایا تو ان کے بارے میں بھی کہہ دیا کہ تعزیزی ہیں۔

 چنانچہ شیخ یحیٰ عارفی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ابوہریرہ و ابن عباس رضی اللہ عنہا کے فتاویٰ میں ہم بالتفصیل یہ بات ثابت کر آئے ہیں کہ ان کے فتاویٰ جات سے ان کا تعزیری ہونا ظاہر ہے ...تو اسی طرح امام مالک کے ہاں بھی بلاتقسیم غیر مدخولہ و مدخولہ تین طلاقیں تعزیراً تین قرار پائیں گی ، نہ کہ شرعاً۔‘‘

( تحفۂ احناف صفحہ ۳۴۸)

تعزیر تو حاکم وقت جاری کیا کرتا ہے کیا یہ سب قاضی و حاکم تھے ؟ اگر غیرقاضی یا غیر حاکم بھی تعزیراً تین کے تین ہونے کا فتویٰ دے سکتا ہے تو چلیں آپ بھی تعزیراًہی ایک مجلس کی تین طلاقوں کے تین ہونے کا فتوی دے دیا کریں۔ 

 ایک ضعیف روایت 

مولانا بدیع الدین راشدی غیرمقلد نے سنن دار قطنی کے حوالہ سے روایت نقل کی:

’’ابو الجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تین طلاقیں ایک ہوتی تھیں تو کہا:ہاں۔ ‘‘ 

پھر اس کی صحت پر بحث کرتے ہوئے لکھا:

’’اگرچہ اس کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن مؤمل مکی ہے ۔اس کے متعلق تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ ضعیف الحدیث مگر شہادت و تائید کے لیے ایسی روایتیں کام آ جاتی ہیں۔‘‘

 (شرعی طلاق صفحہ ۲۹)

راشدی صاحب لکھتے ہیں:

’’یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے اور صحابی کا قول ہے مگر حکماً مرفوع ہے کیوں کہ اس میں اجتہاد کا کوئی مساغ یا دخل نہیں ہے بلکہ ایسا قطعی فیصلہ ،نبوی فیصلہ پرموقوف ہوتا ہے ‘‘ 

(شرعی طلاق صفحہ ۳۰)

ضرورت تھی تو صحابی کا ضعیف قول حجت بن گیا اور مرفوع حکمی بھی ۔ جب کہ اس میں ایک مجلس کی صراحت بھی نہیں ۔ 

یہ تقلید ہے یا ....؟

مولانا عبد الرحمن کیلانی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عمررضی اللہ عنہ کی ہم نوائی میں بسا اوقات اختلاف رکھنے کے باوجود حضرت عمررضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق فتوے دے دیا کرتے تھے ۔‘‘ 

(ایک مجلس کی تین طلاقیں اور ان کا شرعی حل صفحہ:۶۸)

غیرمقلدین تقلید اور کتاب وسنت کی پیروی دونوں کو ایک دوسرے کی ضد کہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ صحابہ کرام کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کے باوجود ان کے فیصلہ پر فتوی دینا کتاب و سنت کی پیروی کہلائے گا یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تقلید؟ 

 غصہ تقلید پر نکالا 

مولانا عبد الرحمن کیلانی غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’یہ تقلید ہی کے کرشمے ہیں کہ کتاب و سنت کے اتنے واضح اور صحیح دلائل کے باوجود آج تک یہ مسئلہ اختلافی ہی بنا ہوا ہے ۔‘‘ 

(ایک مجلس کی تین طلاقیں اور اس کا شرعی حل صفحہ۹۱) 

تین طلاق کو تین ماننے والے صحابہ کرام ، تابعین ، محدثین اور ائمہ فقہاء سب ہیں۔ کیلانی صاحب سب کو ’’ تقلید ہی کے کرشمے ‘‘ کے تحت داخل کررہے ۔ وہ تقلید پر غصہ تو نکال چکے مگر یہ خیال نہیں کیا کہ ان کی اس عبارت کے مطابق صحابہ، تابعین ، محدثین اور ائمہ سب مقلد ثابت ہوتے ہیں ۔ غیرمقلدین میں سے مولانا شرف الدین دہلوی اور شیخ زبیر علی زئی بھی تین طلاقوں کا وقوع مانتے ہیں کیا ان کا قول بھی تقلید کا کرشمہ ہے ؟ابن حزم ظاہری بھی تین ہی تسلیم کرتے ہیں اسے بھی تقلید کا کرشمہ کہیں گے ؟ 

کیلانی صاحب لکھتے ہیں:

’’اختلاف ختم نہ ہونے کی وجہ محض تقلید ہے ‘‘ 

(ایک مجلس کی تین طلاقیں اور اس کا شرعی حل صفحہ۹۸ ) 

 کیلانی صاحب لکھتے ہیں:

’’تین طلاق کو ایک ہی قرار دینا زیادہ مناسب ہے ۔ افسوس مقلدین حضرات کو بہتر رستہ قبول کرنے میں یہی تقلید روگ بنی ہوئی ہے ‘‘ 

(ایک مجلس کی تین طلاقیں اور ان کا شرعی حل صفحہ۱۰۰)

کیلانی صاحب کے بعد اَب غیرمقلدین کے ’’رانا ‘‘ کو دیکھیں ،وہ بھی مسئلہ تین طلاق کی بابت غصہ تقلید پر نکال رہے ہیں۔

رانامحمد شفیق خاں پسروری غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ اکثر لوگ جانتے ہی نہیں کہ تینوں طلاقیں ایک ساتھ دینا حرام ہے اور اس کی وجہ بھی تقلید نا سدید ہے ، فقہاء نے کہہ دیا کہ حرام تو اَب ان مقلدین کوکہاں توفیق کہ قرآن و حدیث دیکھیں ؟‘‘ 

( حلالہ کی شرعی حیثیت صفحہ ۴۱، الفلاح پبلی کیشنز لاہور ) 

اہلِ حدیث کہلوانے والے یہ لوگ تقلید پہ غصہ نکال رہے جب کہ خود چھپ چھپ کر تقلید کیا کرتے ہیں بلکہ بہت سے تو علی الاعلان بھی تقلید کی شاہراہ پر چل پڑتے ہیں۔پھر افسوس کی بات یہ کہ مدعیان اہلِ حدیث مذموم تقلید کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ 

وکیل اہل حدیث کہلائے جانے والے مصنف محمد حسین بٹالوی لکھتے ہیں : 

’’ شیخنا شیخ الکل حضرت میاں صاحب سید نذیر حسین، جن کا تمام عمر یہی عمل رہا جو اس خاکسار کا عمل ہے میاں صاحب کے بہت سے شاگرد اور ان کے دیکھنے والے زندہ ہیں وہ ایمانی شہادت دے سکتے ہیں کہ منصوصات میں ان کا عمل قرآن حدیث پر تھا اور غیرمنصوصہ مسائل میں کتب ِ فقہ :ہدایہ ، عالمگیری وغیرہ پر عمل اور فتویٰ تھا۔ ‘‘ 

(اشاعۃ السنہ ۲۳؍۱۷)

بٹالوی صاحب مذہب اہلِ حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

’’ جہاں نصوص نہ ملے وہاں صحابہ ، تابعین وائمہ مجتہدین کی تقلید کرتے ہیں خصوصاً مذہبِ حنفی کی جن کے اصول وفروع کی کتب ہم لوگوں کے مطالعہ میں رہتی ہیں اگر ہم کو عام مسلمانانِ اہلسنت سے ممتاز کرکے کوئی خصوصیت کے ساتھ خطاب دینا ہے تو اہلِ حدیث کا خطاب دیا جاوے۔ اس سے بھی زیادہ خصوصیت کرنی ہو تو اہلِ حدیث حنفی کہاجائے ‘‘

(اشاعۃ السنہ ۲۳؍۲۹۰) 

مزید حوالہ جات بندہ کے رسالہ ’’ غیرمقلد ہو کر تقلید کیوں میں؟ ‘‘ دیکھ سکتے ہیں۔اس سے زیادہ تفصیل میری دوسری کتاب ’’ زبیر علی زئی کا تعاقب ‘‘ میں ہے ۔ 

 مولانا محمداسحاق بھٹی غیر مقلد لکھتے ہیں:

’’ہمارے ہاں یہ رواج ہوگیا ہے کہ جو عالمِ دین عمرِپیری کو پہنچ جاتا ہے،ہم اس کے صرف وہ واقعات قلم وزبا ن پر لاتے ہیں جن کا تعلق ورع وعبادت، تقویٰ و تدین اور زہد وللہیت سے ہو، اورپھر اس وقت تک دم نہیں لیتے جب تک اُسے معصومین کی صف میں کھڑا نہیں کردیتے۔‘‘

(ارمغان ِ حنیف صفحہ ۲۱۹)

 بھٹی صاحب اپنے غیرمقلدین کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

’’ان حضرات کی بارگاہ پُر عصمت سے ہمیں کیا ملے گا؟ ‘‘

( ہفت اقلیم صفحہ ۲۴۹)

غیرمقلدین کے ’’حجۃ الاسلام،شیخ الاسلام ‘‘ محمد گوندلوی صاحب نے غرباء اہلِ حدیث کے متعلق لکھا:

’’انہوں نے اپنے امام کو شارع سمجھ لیا ہے۔ ‘‘

(الاصلاح صفحہ۲۱۹)

 مولانا عبد القادر حصاری غیر مقلد ’’غرباء اہلِ حدیث ‘‘کے متعلق لکھتے ہیں :

’’یہ اپنے امام کو مثل ِ معصوم سمجھتے ہیں۔‘‘

(اصلی اہل سنت کی پہچان صفحہ۲۱۳)

مولانا محب اللہ شاہ راشدی صاحب غیر مقلد نے حالتِ قومہ میں ہاتھ باندھنے والے غیر مقلدین کے بارے میں لکھا: 

’’ اس[ اپنے سربراہ ( ناقل )] کی بات کو کَالنَّقْشِ فِی الْحَجَرِبلکہ مثل وحی کے تصور کر لیتے 

ہیں اور آنکھیں بند کرکے تقلید کر لیتے ہیں ۔‘‘

(مقالاتِ راشدیہ : ۱؍۸۰) 

 ابو الاشبال شاغف غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’آج کل جماعت اہلِ حدیث کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو چکی ہے جو کچھ ناصر الدین البانی نے لکھ دیا ان کے نزدیک حرفِ آخر کی حیثیت سے من و عن قبول ہے۔ ‘‘

(مقالاتِ شاغف صفحہ۲۶۶)

کس قدر افسوس کی بات ہے ائمہ کو دین کا شارح ( تشریح کرنے والا)سمجھ کر ان کی تقلید کرنے والوں کے خلاف جو لوگ واویلا کیاکرتے تھے، اَب وہ اپنے مولویوں کو شارع و معصوم یا مثل معصوم قرار دے کر ان کی پیروی میں مست و مگن ہیں!!!

 غیرمقلدین کے فتوے سے طلاق دینے والے کو جرم کا احساس نہیں ہوتا 

مولانا عبد الرحمن کیلانی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ آج کا المیہ یہ ہے کہ یکبارگی تین طلاق کو نہ مقلدین ناجائز اور کار معصیت سمجھتے ہیں اور نہ غیرمقلد ۔غیرمقلد، ایسے شخص کو اگر طلاق رجعی کی راہ دکھا دیں تو اسے یہ کیوں معلوم ہو کہ اس نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ ‘‘ 

(ایک مجلس کی تین طلاقیں اور ان کا شرعی حل صفحہ ۱۰۲)

ہماری اسی کتاب میں کئی غیرمقلدمصنفین کی عبارات منقول ہیں کہ جن میں اعتراف ہے کہ احناف کے ہاں اکٹھی تین طلاقیں دینا گناہ ہے یہاں بھی ایک حوالہ ملاحظہ ہو ۔ 

مولانا محمد اسرائیل ندوی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ احناف کی مشہور کتاب الہدایہ میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کو بدعت کہاگیا ہے اور اس طرح طلاق دینے والے کو عاصی و گنگاربتایاگیا ہے ۔ (ہدایہ ج ۲ ص ۳۵۵،باب طلاق السنۃ ) یہ ہے وہ غیر شرعی اور بدعی طلاق جس کا عام طور پر رواج چل نکلا ہے۔ ‘‘

 ( طلاق قرآن وحدیث کی روشنی میں صفحہ۱۵،طبع سوم جون ؍۲۰۱۱ء ، ناشر: ادارہ تبلیغ اسلام جام پور )

معلوم ہوا کہ یک بار گی تین طلاقیں دینا اہلِ سنت احناف کے ہاں جرم ہے۔ہاں جو مدعیان اہلِ حدیث ایسے شخص کو رجوع کا فتوی تھما دیتے ہیں اُن کی بابت کیلانی صاحب کی تنقید بجا ہے۔

جب کسی شخص کے ذہن میں ہوکہ تین طلاقیں دینے سے ایک واقع ہوتی ہے اور ایسے بندے کو خوش آمدید کہنے والے بھی موجود ہوں تو نتیجہ کیا نکلے گا۔ ذرا سنئے :

حافظ عبد الستار حماد غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ یک بارگی طلاق ِ ثلاثہ دینا ہمارا معمول بن چکا ہے ۔ ‘‘ 

( فتاویٰ اصحاب الحدیث :۵؍۳۲۳) 

غیرثابت کفارہ پر عمل کی دعوت 

مولانا عبد الرحمن کیلانی غیرمقلد نے اقرار کیا کہ اکٹھی تین طلاق دینے والوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سزا تجویز نہیں کی مگر اس اقرار کے باوجودکیلانی صاحب نے سزا مقرر کر دی سنئے:

کیلانی صاحب لکھتے ہیں:

’’دور نبوی میں یہ جرم چوں کہ محدود پیمانہ پر تھا، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے از راہ شفقت اس کا کوئی کفارہ مقرر نہ فرمایا...اس کا کفارہ ظہار کے مطابق ہو نا چاہیے یعنی غلام آزاد کرنا یا متواتر دو ماہ کے روزے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ ‘‘

 (ایک مجلس کی تین طلاقیں اور ان کا شرعی حل :۱۰۴)

غیرمقلدین سنت عمری کو نہیں مانتے 

مولانا عبد الرحمن کیلانی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اصل سنت یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے والے کو سزا ضرور دی جانی چاہیے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس سنت کو نہ مقلد حضرات در خور اعتناء سمجھتے ہیں ، نہ اہلِ حدیث حضرات۔ ‘‘ 

(ایک مجلس کی تین طلاقیں اور ان کا شرعی حل : ۱۰۲)

 شرعی تبدیلی کا نام دینا منکرین حدیث کا نظریہ ہے 

جعفر شاہ پھلواروی (منکر حدیث) نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شرعی ترمیمات کرنے کا الزام لگاتے ہوئے 

کہا: 

’’ دَور صدیقی تک بیک مجلس تین طلاق کو طلاق رجعی قرار دیا جاتا رہا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اپنے دَور میں اسے طلاق مغلظہ قرار دیا۔ “

( اسلام آسان دین صفحہ ۱۵ بحوالہ آئینہ پرویزیت صفحہ ۷۵۸)

مولانا عبد الرحمن کیلانی غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’اب ہم اسی قبیل کی وہ ’’ شرعی ترمیمات ‘‘ درج کرتے ہیں جو پرویز صاحب نے ’’ اختلافی فیصلے ‘‘ کے عنوان کے تحت اپنی تصنیف’’ شہکار رسالت ‘‘کے صفحہ ۲۷۷ تا ۲۸۰ پر درج فرماتے ہیں اور بالآخر یہی نتیجہ پیش کیا ہے کہ سنت رسول ایک متبدل چیز ہے ۔ (۱) تطلیق ثلاثه……‘‘

(آئینہ پرویزیت صفحہ ۷۵۹) 

 کیلانی صاحب مزید لکھتے ہیں:

’’ تطلیق ثلاثہ والا صرف ایک ایسا مسئلہ ہے جو خلاف سنت ہے ۔ ہم اسے خلاف سنت کہتے ہیں لیکن ہمارے کرم فرما [ منکرین حدیث ( ناقل )]اسے شرعی تبدیلی کا نام دیتے ہیں۔ ‘‘

(آئینہ پرویزیت صفحہ ۷۷۹) 

کیلانی صاحب نے جس بات کو منکرین حدیث کا نظریہ بتایا وہی رئیس محمد ندوی غیرمقلد نے اختیار کیا ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا: 

’’ قرآنی حکم میں موصوف نے یہ ترمیم کی تین [طلاقیں (ناقل )] قرار پانے لگیں ۔ ‘‘

 ( تنویر الآفاق فی مسئلۃ الطلاق صفحہ ۴۸۷) 

 تین طلاقیں دینے والوں کو پناہ دینے پر فخر 

دَور ِ نبوی میں کسی شخص نے بیوی کو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہو گئے،یہاں تک کہ ایک بندے نے عرض کیا کہ اجازت ہو تو میں اس کو قتل کرد وں ؟(نسائی) 

لیکن غیرمقلدین یک بارگی تین طلاق دینے والوں کو پناہ دے کر فخر کرتے ہیں ۔ 

چنانچہ حکیم محمد صادق سیالکوٹی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ہمارے پاس آج تک چالیس سے زیادہ ایسے اشخاص آ چکے ہیں جنہوں نے کہا کہ وہ بیک بارگی تین طلا قیں چکے ہیں اور اب رجوع کرنا چاہتے ہیں... ہم نے ان کو رسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں پناہ دی۔ تین طلاقوں کو ایک رجعی قرار دے کر ان کے اجڑے گھروں کو بسایااور وہ اسلام کی خوبیوں کے گن گاتے اور نبی رحمت کے لیے اللھم صل علی محمد کہتے ہوئے خوش و خرم ہیں۔‘‘ 

( سبیل الرسول صفحہ ۲۶۸)

ایک وقت اور ایک ساتھ تین طلاقیں مرد کی ملکیت نہیں 

 مولانا محمد جونا گڑھی غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کا کسی کو اختیار نہیں۔ تین طلاقیں ایک ساتھ کسی کی ملکیت میں ہوتی ہی نہیں، صرف ایک طلاق ایک وقت میں اس کی ملکیت میں ہوتی ہے۔ ‘‘ 

( نکاح محمدی صفحہ ۳۱،ناشر اہل حدیث اکیڈمی مؤ ناتھ بھنجن یوپی)

اس بات کی تردید کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ غیرمقلدین کہا کرتے ہیں کہ تین طلاقیں دی جائیں تو ایک واقعی ہوتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب بقول جونا گڑھی مرد کی ملکیت میں طلاق ہے ہی ایک تو تین کو ایک کہنا کیامعنیٰ رکھتا ہے ۔

تین طلاقوں کے وجود کا انکار 

مولانا امین محمدی غیرمقلد کہتے ہیں: 

’’ اسلام کے مقرر کردہ نظام طلاق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طلاق صرف ایک ہی ہے البتہ ضرورت کی صورت میں تین مرتبہ طلاق دینے کا اختیار حاصل ہے۔ تین دفعہ ہونے کی وجہ سے تین ہیں ،ویسے طلاقیں تین نہیں ہیں ۔ ‘‘ 

(مقالہ بحوالہ جواب مقالہ صفحہ ۱۸) 

پہلے تو یہ بحث ہوتی تھی کہ تین کو تین کہنا چاہیے یا ایک ؟اب محمدی صاحب نے تو تین طلاقوں کے وجود کا ہی انکارکر دیا ہے کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ۔ یاد رہے کہ ان کی یہ رائے علمائے امت کے خلاف ہے۔ 

 مولاناامین محمد ی کی بے بسی 

مولاناامین محمد ی غیرمقلد نے حائضہ کی طلاق کا وقوع مانا۔ اَب سوال تھا کہ حالتِ حیض میں طلاق دینا منع ہونے کے باوجود واقع ہوجاتی ہے تو تین طلاقیں واقع کیوں نہیں ہوتیں؟

 امین صاحب نے اس کا یوں جواب دیا: 

’’ میں کہتا ہوں اس لیے ہوتی ہے کہ خاوند اس وقت اس عورت کا مالک ہوتا ہے۔ ‘‘ 

( مقالہ بحوالہ جواب مقالہ صفحہ۱۵۸)

امین صاحب کتنا بے بس ہو گئے ہیں !!حائضہ کی طلاق کے واقع ہونے کی وجہ شوہر کا مالک ہونا بتایا مگر اس سے بجا طور پر سوال ہوتا ہے کیا تین طلاقیں دینے والا شوہر اپنی بیوی کا مالک نہیں ہوتا؟ آخر وجہ فرق کیا ہے حائضہ کو طلاق دینے والا مالک ہے اور تین دینے والا نہیں؟ اچھا اگر شوہر تینوں طلاقیں حالتِ حیض میں دے چھوڑے ،تب توآپ کے نزدیک بھی شوہر عورت کا مالک ہے تو کیا تین کا وقوع مان لیں گے؟ 

 یہ ایک اچھی تجویز ہے 

شیخ صلاح الدین یوسف غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ بیک وقت تین طلاقیں تمام فقہی مذاہب والوں کے نزدیک بھی جائز نہیں گووہ اس کے اجراء و نفاذ کے قائل ہیں حتی کہ ستمبر ۲۰۰۱ء کے اخبارات میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش بھی شائع ہوئی ہے کہ بیک وقت تین طلاقوں کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا جائے ۔ یہ ایک اچھی تجویز ہے ۔ ‘‘ 

( طلاق ، خلع اور حلالہ صفحہ۳۸ ، ناشر : مکتبہ ضیاء الحدیث لاہور )

  صلاح الدین صاحب کا مذکورہ تجویز کو اچھا کہنا اپنی جگہ مگر یہ دعوی غلط ہے کہ تمام فقہی مذاہب کے ہاں بیک وقت تین طلاقیں دیناجائز نہیں کیوں کہ امام نووی رحمہ اللہ کی تصریح کے مطابق شافعیہ کے ہاں یہ عمل جائز ہے ۔( شرح مسلم :۲؍۴۷۶) 

بلاوجہ طلاق دینا یا لینا ممنوع ہے 

شیخ صلاح الدین یوسف غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ جیسے کسی معقول وجہ کے بغیر مرد کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ طلاق کا حق استعمال کرے۔ اسی طرح عورت کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ محض ذائقے کی تبدیلی کے لیے ،معقول سبب کے بغیر خلع کا مطالبہ کرے ۔ اگر کوئی عورت ایسا کرے گی تو اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا :جس عورت نے بغیر کسی وجہ کے اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر (جنت کی )خوشبو بھی حرام ہے ۔ ‘‘

 ( طلاق ، خلع اور حلالہ صفحہ۸۷،۸۸ ، ناشر : مکتبہ ضیاء الحدیث لاہور ) 

یہ وضاحت بھی فرما دی جائے کہ اگر کسی مردنے بلاو جہ طلاق دے دی یا کسی عورت نے بغیر وجہ کے خلع حاصل کر لیا تو طلاق وخلع واقع ہوں گے ؟ اگر یہ منع ہونے کے باوجود واقع ہو جاتے ہیں تو تین طلاقیں ممنوع ہونے کے باوجود واقع کیوں نہیں؟ غیرمقلدین کا یہ اصول کہاں تک درست ہو سکتا ہے کہ چوں کہ تین طلاقیں دینامنع ہے ،اس لئے واقع نہیں ہونی چاہئیں ۔

 بھارتی قانون 

شیخ صلاح الدین یوسف غیرمقلدنے بھارتی سپریم کورٹ کے متعلق لکھا: 

’’ قانون سازی کرکے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو قابل ِ تعزیر جرم قرار دے کر طلاق دینے والے خاوند کے لیے تین سالہ جیل کی سزا تجویز کر دی ہے جس پر وہاں عمل شروع کر دیا گیا ہے ... پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل بھی زیر بحث طریقۂ طلاق کو تعزیری جرم قرار دینے کے بارے میں سوچ بچار کر رہی ہے ۔‘‘ 

( طلاق ، خلع اور حلالہ صفحہ ، ناشر : مکتبہ ضیاء الحدیث لاہور ) 

صلاح الدین صاحب آگے عنوان قائم کرتے ہیں: 

’’ بھارتی سپریم کورٹ نے اکٹھی تین طلاق کو غیرقانونی قرار دیا دے، معاملہ قانون سازی کے لیے اسمبلی بھیجنے کی تجویز ۔ ‘‘ 

( طلاق ، خلع اور حلالہ صفحہ۷۲ ، ناشر : مکتبہ ضیاء الحدیث لاہور )

بھارت میں نیا قانون 

شیخ صلاح الدین یوسف غیرمقلد لکھتے ہیں: 

  ’’ بھارت کی قانون ساز اسمبلی نے یہ قانون بنا دیاہے کہ جو بھی مسلمان مرد ، اپنی بیوی کو ایک ہی وقت تین طلاقیں دے گا، اسے جرمانے کے علاوہ تین سال قید کی سزا ہو گی ... بھارتی حکومت کا یہ نیا قانون صحیح نہیں ۔اس سے مسلمان عورت کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی ۔ اس کا صحیح حل یہی ہے کہ اس اقدام پر مرد پر کوئی تعزیزی سزادی جائے اور ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دے کر (پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ کی طلاق میں ) خاوند کوعدت کے اندر رجوع کرنے کا اور عدت گزر جانے کی صورت میں نئے نکاح کے ذریعے سے دونوں کے درمیان تعلق بحال کرنے کا حکم دیا جائے ۔ ‘‘

 ( طلاق ، خلع اور حلالہ صفحہ۷۳ ، ناشر : مکتبہ ضیاء الحدیث لاہور )

بھارتی قانون سے متعلقہ مذکورہ بالا عبارات محض اخباری حیثیت سے ہم نے نقل کی ہیں۔ جو لوگ اخباری بیانات پڑھنے کے شائقین ہیں وہ انہیں پڑھ لیں۔ 

زبیر علی زئی کو پروپیگنڈا کا شکار قرار دینا 

غیرمقلدین کے ہاں ’’ محدث العصر ‘‘ سمجھے جانے والے مصنف شیخ زبیر علی زئی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین مانتے ہیں۔ شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں پروپیگنڈا کا شکار قرار دے دیا ۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں: 

’’طلاق کے مسئلے میں تقلید ی مذاہب نے اتنا شدید پروپیگنڈا کیا ہے کہ اچھے خاصے لوگ دھوکہ میں پڑ گئے چنانچہ بعض وہ لوگ جو تقلید سے تائب ہو گئے،وہ بھی اس مسئلے میں تقلیدی اثرات سے پوری طرح پاک نہیں ہو سکے ۔چنانچہ حافظ زبیر علی زئی صاحب رحمہ اللہ جو پہلے حنفی تھے ، بعد میں اہلِ حدیث ہوئے ۔مگر اس مسئلے میں اپنے سابقہ موقف پرقائم رہے ،بلکہ ایک مقام پر لکھ بھی دیا۔‘‘

( احکام طلاق صفحہ ۲۴۲،ناشر: ام القری پبلی کیشنز گوجرانوالہ ،اشاعت: ۲۰۲۴ء ) 

علی زئی صاحب حیات ہوتے تو سنابلی کی خاطر تواضع کرتے جیسا کہ اپنی زندگی میں خاطر تواضع کی تھی ۔ علی زئی تو نہیں رہے، البتہ ان کے معتقدین و تلامذہ موجود ہیں وہ چاہیں گے، تو اُن سے بات کر لیں گے ۔

سنابلی صاحب نے تین طلاقوں کے موقف اپنانے کوپروپیگنڈا کا نتیجہ کہا ہے۔عرض ہے کہ یہ دلائل پر مبنی موقف ہے ،پروپیگنڈا نہیں ۔ مزید یہ کہ سنابلی صاحب کو اعتراف ہے کہ علی زئی خود پروپیگنڈا کیاکرتے تھے۔ (دیکھئے یزیدبن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ ) توجو دوسروں کے ساتھ پروپیگنڈا کیاکرتا ہو ،وہ خود کسی کے پروپیگنڈا کا شکار ہو جائے ،عجیب نہیں ؟

 تین طلاقوں کے وقوع کا مسئلہ تقلیدی اثرات کا نتیجہ ہے 

اوپر شیخ کفایت اللہ سنابلی کی عبارت گزر چکی ہے کہ علی زئی نے تقلیدی اثرات سے متاثر ہو کر تین طلاقوں کے وقوع کا موقف اختیار کیا ہے ۔ 

عرض ہے کہ اگر انہوں نے تقلیدی اثرات سے متاثر ہو کر کچھ کیا ہے، توآپ سوال کر سکتے ہیں: ’’غیرمقلدہو کر تقلید کیوں ؟ ‘‘ ۔بہرحال یہ آپ لوگوں کا اپنا گھر یلو معاملہ ہے۔

  علی زئی نے تقلید کے خلاف کئی تحریریں لکھیں اور ایک مستقل کتاب ’’ دین میں تقلید کا مسئلہ ‘‘ بھی شائع کی ۔ایک جگہ انہوں نے تقلید کو شیطانی عمل کہا ۔ اور دوسری جگہ تقلید کا حلفاً انکار کیا ۔ (مقالات ) 

مگر سنابلی صاحب نے انہیں تقلیدی اثرات سے آلودہ قراردے کر تاثر دیا کہ تقلید کی مخالفت کرنے والے چھپ چھپ کر تقلید کیا کرتے ہیں۔ 

 پھر مزیدحیرت کہ سنابلی کی تصریح کے مطابق علی زئی نے تقلید بھی فقہ حنفی کی ہے۔

  مولانا شرف الدین دہلوی غیرمقلد بھی تین طلاقوں کاوقوع مانتے ہیں بلکہ انہوں نے اس مسئلہ میں مخالف کو کافی رگڑا بھی ہے۔ تفصیل فتاوی ثنائیہ جلددوم میں دیکھ سکتے ہیں۔اورہماری اسی کتاب میں بھی اپنے مقام پر باحوالہ منقول ہے ۔ 

  سنابلی صاحب ان کی بابت بھی فرما دیتے کہ یہ تقلیدی اثرات سے متاثر تھے؟ اگر ان کے متعلق کہو کہ انہوں نے تقلید کی بجائے اجتہاد کیا ہے، تو علی زئی صاحب بھی اپنے حلقہ میں مجتہد سمجھے جاتے ہیں، ان کے معتقدین بھی کہہ دیں گے کہ انہوں نے اجتہاد کیا، بلکہ ان کے ہم نوا غیرمقلدین یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے یہ نظریہ احادیث کی بنیاد پر اپنایا ہے۔

شیخ غلام مصطفی ظہیر نے اپنے بیان میں تین طلاقوں کا تین ہونا تسلیم کیا ہے۔ کیا وہ بھی تقلیدی اثرات سے متاثر تھے ؟ کس کس کو تقلیدی اثرات سے متاثر ہونے کا تمغہ سناؤ گے ؟ 

امام بخاری سمیت محدثین کرام بھی تین طلاقوں کا وقوع مانتے ہیں، جیسا کہ ہم نے باحوالہ یہ بحث مستقل دو بابوں میں ذِکر کر دی ہے ۔ توکیا انہیں بھی تقلیدی اثرات سے متاثر قرار دو گے ؟جب کہ غیرمقلدین کا یہ دعوی بھی ہے کہ محدثین کرام کسی امام و مذہب کی تقلید کے بغیر ہی براہ راست قرآن وسنت پر عمل پیرا تھے۔ 

آخرمیں ایک سوال اور بھی ہے وہ یہ کہ شیخ سنابلی کے نزدیک تین طلاقوں کا ایک ہونا احادیث کا فیصلہ ہے جب کہ علی زئی صاحب نے بقول سنابلی اس کے برخلاف تقلیدی طور پر تین کو تین مانا ہے ، تو یہ کون سی تقلید ہوئی ؟ غیرمقلدین ایسی تقلید کو شرک فی الرسالہ کاکہا کرتے ہیں ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ سنابلی کے نزدیک علی زئی صاحب شرک فی الرسالۃ کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ 

مختلف مجالس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کی جسارت 

رئیس محمد ندوی غیرمقلدلکھتے ہیں: 

’’واضح رہے کہ پوری مدت حمل یا پورے ایک طہر یا جسے حیض نہ آتا ہو اس کے لیے پورے ایک مہینے کی مدت ایک مجلس یا ایک ہی وقت کے حکم میں ہے ۔ اس لیے ان اوقات میں رجوع کے بغیر ایک طلاق کے بعد اگر دوسری تیسری طلاقیں مختلف اوقات میں دی جائیں گی تووہ طلاقیں حکماً ایک مجلس یا ایک وقت کی طلاقیں شمارہوں گی ۔مثلاً کسی نے مدت حمل میں ایک دن ایک مجلس میں ایک طلاق دی اور اس ایک طلاق سے رجوع کئے بغیر وضع حمل سے پہلے پہلی طلاق کے دو چار گھنٹے یا دو چار دنوں یا ہفتوں یا مہینوں کے بعد دوسری پھر اسی طرح کے وقفہ کے بعد تیسری طلاق بھی دے دی تو رجوع کے بغیر پوری مدت حمل میں متفرق طور پر مختلف اوقات میں دی ہوئی یہ تینوں طلاقیں صرف ایک مجلس یا ایک وقت کی تین طلاقوں کے حکم میں ہوں گی ۔ اسی طرح حیض والی مدخولہ عورت کو ایک طہر میں ایک کے بعد دوسری پھر تیسری طلاقیں رجوع کے بغیر اگر متفرق اوقات میں دی جائے تو وہ بھی ایک مجلس یا ایک وقت کی تین طلاقوں کے حکم میں ہوں گی ۔‘‘

( تنویر الآفاق فی مسئلۃ الطلاق صفحہ ۸۲ )

ندوی صاحب اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھا: 

’’ اگر کسی شخص نے ایک ہی طہر میں مختلف اوقات و مجالس میں بھی متفرق طور پر تین طلاقیں دیں تو بھی پورے طہر میں صرف ایک طلاق ہوگی ۔ ‘‘

( ۵۱۲) 

پہلے تو غیرمقلدین وغیرہ کہا کرتے تھے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہوتی ہے ۔ اب تو یہ بھی کہہ دیا کہ الگ الگ مجالس کی تین بھی ایک ہی ہے ۔ 

ندوی صاحب وغیرہ آلِ غیرمقلدیت کا دعوی ہے کہ ہم قرآن وحدیث ہی کے پابند ہیں انہیں چاہیے تھا کہ وہ اپنی اس بات پر قرآن وحدیث پیش کرتے مگر وہ ایسا نہیں کر سکے۔مزید یہ کہ سب غیرمقلدین کا مذکورہ بات پہ اتفاق بھی نہیں۔اتفاق نہ کرنے والوں میں حافظ عبد الستار حماد بھی ہیں۔

 ( فتاویٰ اصحاب الحدیث :۲؍۳۰۸)

 تین ماہ میں الگ لگ دی گئیں تین طلاقوں کا حکم 

حافظ عبد الستار حماد غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ اگر مجلس تبدیل ہو جائے، مثلاً ہر ماہ ایک طلاق دے، اس طرح تین مہینوں میں نصاب ِ طلاق( تین طلاق ) مکمل کر دے تو اس نے مکمل طور پر اپنی بیوی کو زوجیت سے فارغ کر دیا ہے۔ اگر اس انداز سے دی گئی تین طلاق کو ایک رجعی شمار کرتا ہے تو مجلس اور غیرمجلس کی تفریق بے سود اور لایعنی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے ’’ طلاق سنت کا بیان ‘‘ اس کے تحت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کی وضاحت نقل کی ہے کہ طلاق سنت حالت طہر میں ہم بستری کئے بغیر طلاق دینا ہے، پھر حیض کے بعد طہر میں طلاق دے، پھر اس طرح آئندہ حیض کے بعد طہر میں طلاق دے ۔ [نسائی ، الطلاق: ۳۴۲۳]اس میں پہلی طلاق کے بعد رجوع یا نکاح جدید کی شرط کو بیان نہیں کیا۔ ایسی شرائط محض تکلف ہیں کیوں کہ دوران عدت وہ عورت اس کی بیوی رہتی ہے اور وہ اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے وہ عورت دوران عدت بھی طلاق کامحل ہے ، ہاں تیسری طلاق کے بعد اس کا نکاح ختم ہو جائے گا ۔ اب دوران عدت رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی ۔ امام بیہقی نے اس حدیث کو بایں الفاظ نقل فرمایا ہے : ’’ طلاق سنت یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو ہر طہر میں ایک طلاق دے ۔ ‘‘ آخر ی طلاق کے بعد بیوی اس عدت کو پورا کرے جس کا للہ نے حکم دیا ہے ۔ [ سنن بیہقی ، ص: ۳۳۲، ج ۷] ہمارے مہربان نے ہر ماہ طہر میں دی ہوئی تین طلاق کو ایک رجعی شمار کرکے عدت گزرنے کے بعد جو نکاح ثانی کا مشورہ دیا ہے وہ جمہور اہلِ علم کے موقف کے بالکل خلاف ہے ۔ ‘‘ 

 ( فتاویٰ اصحاب الحدیث : ۲؍۳۰۹) 

حماد صاحب کی اس عبارت میں رئیس محمد ندوی وغیرہ کی تردید ہے جوبغیر رجوع کے الگ الگ ماہ میں دی جانے والی تین طلاقوں کو ایک رجعی قرار دیتے ہیں۔

حماد صاحب نے اپنے غیرمقلد کے موقف کی بابت کہا:

 ’’وہ جمہور اہلِ علم کے موقف کے بالکل خلاف ہے۔ ‘‘

جناب ! جس طرح مذکورہ مسئلہ جمہور کے خلاف ہے ، اسی طرح ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک کہنا بھی جمہور کے خلاف ہے ۔ 

 حافظ عبد الستار حماد غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’ ہمارے رجحان کے مطابق ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا دَور جاہلیت کی یاد گار ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدپھر لوٹ آئی ہے، اس کا دروازہ سختی سے بند کرنا چاہیے اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے بدنی سزا ہونی چاہیے ۔ ‘‘ 

( شرح بخاری : ۵؍۲۱۶)

یہ دروازہ کیسے بند ہو ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کوطلاق دینے کا شرعی طریقہ سمجھایا جائے۔یہاں اک سوال بھی ہے کہ جب غیرمقلدین اکٹھی تین طلاق دینے والوں کو ایک طلاق رجعی کہہ کر عورت سے رجوع کرنے یا نئے نکاح کا فتوی دیں گے تو لوگ کیسے اس فعل سے رکیں گے ؟ 

 طلاق کی ناجائز صورتیں

عمران شہزاد تارڑ غیرمقلد ’’ طلاق کی ناجائز صورتیں ‘‘ عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:

’’حالتِ حیض میں طلاق دینا... حالت ِطہر میں صحبت کے بعد طلاق دینا ... ایک مجلس میں تین طلاقیں ایک ساتھ دینا ... حالت ِ نفاس میں بھی طلاق دینا جائز نہیں ۔‘‘ 

(حلالہ سنٹر ز اور خواتین کی عصمت دری صفحہ ۴۶) 

اب بتایا جائے کہ یہ ناجائز طلاقیں اگر کوئی دے چھوڑے تو واقع ہو جائیں گی یا نہیں؟اگر ناجائز ہونے کے باوجود واقع ہو جائیں گی تو اکٹھی دی جانے والی تین طلاقیں واقع کیوں نہیں ہوں گی؟

دَوران عدت طلاق دینا اچھانہیں، مگر واقع ہو جاتی ہے 

حافظ عبد الستار حماد غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’اگرچہ دَوران ِ عدت دی گئی طلاق شمار تو ہو جائے گی لیکن یہ کوئی اچھا اقدام نہیں ۔ ‘‘ 

( فتاویٰ اصحاب الحدیث :۵؍۳۵۴) 

  اسی طرح ہم بھی کہتے ہیں اکٹھی تین طلاقیں دینا اچھا اقدام نہیں ،مگر کسی نے ایسی حرکت کر دی تو یہ واقع ہو جاتی ہیں۔ لہذا یہ اصول درست نہیں کہ چوں کہ تین طلاقیں اکٹھی دینا ممنوع ہے ، اس لئے واقع نہیں ہوتیں۔

قرآن وحدیث کی غلط تشریح کرنے کا طعن 

باب ’’بدعی طلاقوں کا وقوع ‘‘ میں غیرمقلدین کے حوالہ جات منقول ہو چکے کہ طلاق الحائض کا واقع ہونا حدیثوں سے ثابت ہے ۔ لیکن غیرمقلدین کا ایک طبقہ احادیث کے خلاف ایسی طلاق کو غیر واقع بتاتا ہے ۔ پھر افسوس یہ کہ یہ لوگ الٹا دوسروں کو قرآن وحدیث کی غلط تشریح کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔ 

  حدیث کا مفہوم ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی ، ان کے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ۔ آپ نے فرمایا: ’’ مرہ فلیراجعھا ‘‘ انہیں حکم دو کہ وہ رجوع کرلیں۔ (صحیح بخاری ) 

علماء کرام نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ لفظ رجوع ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو انہوں نے حالتِ حیض میں طلاق دی تھی وہ واقع ہوگئی ورنہ رجوع کرنے کا کیا مطلب ؟ یہاں تک کہ بہت سے غیرمقلدین نے بھی حدیث کی اسی طرح تشریح لکھی ہے جیسا کہ اسی باب ’’بدعی طلاقوں کا وقوع ‘‘ میں ان کے متعدد حوالہ جات منقول ہیں۔ اس کے بالمقابل شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد کی رائے بھی جان لیں ۔ وہ لکھتے ہیں: 

’’فقہی اصطلاح میں طلاق کے باب میں جب مراجعت یا رجوع کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو 

فقہاء کی اصطلاح میں اس کا خاص معنی یہ ہوتا ہے : طلاق شدہ بیوی سے رجوع کرنا۔ لیکن اس لفظ کا یہ اصطلاحی مفہوم صرف فقہاء کے کلام میں ہی مراد ہوگا اور اگر عین یہی لفظ یا اس سے ملتا جلتا لفظ قرآن و سنت میں مستعمل ہوگا، تو اس سے ائمہ کا اصطلاحی معنی مراد لینا غلط ہوگا۔ بہت سارے لوگ یہ بات سمجھ نہیں پاتے اور قرآن وحدیث کی تفسیر و تشریح غلطی کر جاتے ہیں۔‘‘

 ( احکامِ طلاق صفحہ۱۲۶ ، ناشر: ام القری پبلی کیشنز گوجوانوالہ ، اشاعت: ۲۰۲۴ء) 

 جن غیرمقلدین نے حدیث نبوی میں ’’ مرہ فلیراجعھا، انہیں حکم دو کہ وہ رجوع کرلیں۔ ‘‘کی تشریح اس طرح کی کہ یہ حدیث طلاق الحائض کے واقع ہونے کی دلیل ہے، وہ سنابلی صاحب کے بقول قرآن وحدیث کی تفسیرو تشریح غلط کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ طعن امیز عبارت لکھ تو دی مگر انجام کیا نکلا ؟ یہی کے کہ اُن کے غیرمقلدین اُمت کے سامنے قرآن و حدیث کی تعبیرات غلط پیش کر رہے ہیں۔ 

 اپنے غیرمقلدین پر حدیث کے خلاف قیاس کرنے کا الزام 

  قارئین کرام !اوپر آپ شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد کی عبارت ملاحظہ کرچکے جس میں یہ تاثر موجود ہے کہ طلاق الحائض کی بابت غیرمقلد ین نے قرآن وحدیث کی غلط تفسیر و تشریح کی ہے۔ سنابلی صاحب نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا،بلکہ یوں بھی کہا کہ طلاق الحائض کا وقوع ماننا نص کے خلاف قیاس کو گلے لگانا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: 

  ’’بعض لوگ عقلی دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالتِ حیض میں اگرچہ طلاق دینا حرام ہے ، لیکن اس کا حرام ہونا اس کے اَثر کو اور اس پر لگنے والے حکم کو ختم نہیں کر سکتا ، جیسا کہ کہ ظہار کا معاملہ ہے کہ یہ حرام ہے ، لیکن اس حرام کے ارتکاب سے اس کا اَثر ہوتا ہے اور اس سے ظہار کرنے والے کی عورت تب تک حرام ہو جاتی ہے جب تک وہ کفارہ ادا نہ کرے ۔ یہی معاملہ طلاقِ بدعی کا ہے کہ یہ اگرچہ حرام ہے ، لیکن اس کا اَثر ہوگا ۔ عرض ہے کہ ……یہ قیاس ہے اور نص کی موجودگی میں قیاس باطل ہے اور طلاقِ حیض کے عدم وقوع پر نص موجود ہے ۔‘‘ 

( احکامِ طلاق صفحہ۲۳۷ ) 

 ثلاث جدھن جد حدیث کی خلاف ورزی

ارشادِ نبوی ہے کہ تین چیزیں حقیقت بھی حقیت ہیں اور مذاق بھی حقیقت۔ نکاح ، طلاق، رجعت ۔ (الحدیث ) 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے اس حدیث کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: 

’’یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ طلاق کی نیت سے اگر کوئی شخص نکاح کر ے تو ایسا نکاح درست نہیں ہوگا۔بنابریں طلاق کی نیت سے اگرکوئی رجوع کرے تو اس کا رجوع بھی درست نہ ہوگا۔‘‘ 

 ( احکامِ طلاق صفحہ۸۶ )

 شیخ سنابلی نے ’’طلاق حسن ‘‘ کا رد کرتے ہوئے لکھا: 

’’یہ ناجائز اور حرام طلاق ہے ، کیوں کہ اس میں کتاب و سنت کی تعلیمات کے خلاف بغیر رجوع کے اگلی طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔‘‘ 

( احکامِ طلاق صفحہ۸۳ ) 

شیخ سنابلی لکھتے ہیں: 

’’اگرطلاق دینے کے بعد اس نیت سے رجوع کر رہا ہو کہ دوبارہ پھر طلاق دے گا، چنانچہ ایسے رجوع کے بعد شوہر طلاق دے ڈالے تو ایسے رجوع اور ایسی طلاق کا کوئی اعتبار نہ ہوگا ۔‘‘ 

( احکامِ طلاق صفحہ۸۴ ) 

شیخ سنابلی لکھتے ہیں: 

’’ایک طلاق دینے کے بعد جب تک آدمی رجوع نہیں کرتا ہے ،تب تک وہ دوسری طلاق نہیں دے سکتا، جیسا کہ دلائل گزر چکے ہیں۔‘‘ 

( احکامِ طلاق صفحہ۸۷ ) 

 وھزلھن جد حدیث کی خلاف ورزی 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں: 

’’اگر طلاق دینے کے بعد اس نیت سے رجوع کر رہا ہو کہ دوبارہ پھر طلاق دے گا، چنانچہ ایسے رجوع کے بعد شوہر طلاق دے ڈالے تو ایسے رجوع اور ایسی طلاق کا کوئی اعتبار نہ ہوگا ، کیوں کہ اس نیت سے رجوع جائز نہیں ہے۔‘‘ 

( احکامِ طلاق صفحہ……) 

حالاں کہ حدیث نبوی ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں حقیقت بھی حقیقت ہے اور مذاق بھی حقیقت ہے ۔اُن تین میں ایک رجوع کرنا ہے۔ مطلب یہ کہ بغیر رجوع کی نیت کے بھی رجوع ہوجاتا ہے ۔

سنابلی صاحب فقہاء کے دروازے پر 

شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:

’’ یہ بات مسلّم ہے کہ حالتِ حیض میں دی گئی طلاق کتاب وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہے اور ایک بدعی عمل ہے۔‘‘ 

( احکامِ طلاق صفحہ۹۵ )

سنابلی صاحب نے کتاب و سنت کے خلاف دی جانے والی طلاق کو ’’طلاق ِ بدعت ‘‘ تسلیم کیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی جانتے چلیں کہ ایسی طلاق کو ’’ طلاق ِ بدعت ‘‘ کا نام دینا فقہاء کی اصطلاح ہے ، جیسا کہ خود سنابلی صاحب نے لکھا: 

’’کتاب و سنت کے خلاف دی گئی طلاق کے لئے طلاق ِبدعت کی اصطلاح یہ بعد کے فقہاء کی طرف سے ہے، عہدِ رسالت میں یہ اصطلاح رائج ہی نہ تھی ۔‘‘ 

( احکامِ طلاق صفحہ۱۹۴ ) 

سنابلی صاحب کی مذکورہ عبارت لفظ بہ لفظ ان کی اسی کتاب ’’احکام ِطلاق صفحہ ۵۲۰ ‘‘ پہ بھی ہے ۔ 

(جاری)


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...