مسئلہ تین طلاق پرمدلل و مفصل بحث
باب نمبر :۲۱
غیر مقلدین کی غلط بیانیاں
مفتی رب نواز حفظہ اللہ ، احمد پور شرقیہ (قسط:۱۶)
شُمارہ نمبر 38
مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت
ویسے تو غیرمقلدین کی کتابوں میں غلط بیانیاں کافی تعداد میں ہیں مگر ہم یہاں صرف اُن غلطیوں کو سامنے لاتے ہیں جو مسئلہ تین طلاق پر لکھی گئی کتابوں اور تحریروں میں موجود ہیں۔ اُن میں بہت سی فاش غلطیاں ہیں اور متعدد غلطیوں پر تو خود اُن کے اپنے علماء کی گواہیاں ثبت ہیں جیسا کہ قارئین آئندہ صفحات کے مطالعہ سے جان لیں گے ان شاء اللہ ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت
شیخ یحی عارفی غیرمقلد نے مسلم کی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تحت لکھا:
’’یہ فیصلہ (تین طلاق کے ایک ہونے کا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سماعت فرماتے رہے ۔ ‘‘
( تحفۂ احناف صفحہ ۲۳۸)
قوسین میں ’’ تین طلاق کے ایک ہونے کا ‘‘ جملہ بھی عارفی صاحب کا ہے۔ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہا حافظ ابن حزم ظاہری اور مولانا شرف الدین دہلوی غیرمقلد کی تصریحات کے مطابق سرے سے مرفوع حدیث ہے ہی نہیں۔ مزید یہ کہنا کہ تین کو ایک کہنے کا فیصلہ آپ خود سماعت فرماتے رہے کہیں بھی حدیث میں مذکور نہیں۔ چنانچہ مولانا شرف الدین دہلوی نے حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہا کے جواب میں لکھا:
’’ اس میں یہ تفصیل نہیں ہے کہ یہ تین طلاقوں والے مقدمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ ہوتا تھا اور یہ کسی روایت میں نہیں ہے، وَ اِذْ لَیْسَ فَلَیْسَ ۔‘‘
( فتاویٰ ثنائیہ :۲؍۲۱۶)
حکیم صفدر عثمانی غیرمقلدنے فریق مخالف کو جواب دیتے ہوئے لکھا :
’’یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان ہے ...کیوں کہ اس حدیث میں کوئی ایک حرف بھی ایسا نہیں ہے ۔‘‘
(احسن الابحاث صفحہ ۳۱)
کیا یہ عبارت حرف بہ حرف عارفی صاحب پر سچی نہیں آ رہی ؟
اکثر صحابہ وتابعین کی طرف تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کی نسبت
شیخ محمد انور محمد قاسم سلفی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اکثر صحابہ کرام اور تابعین اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم اور موجودہ دور کے اکثر کبار علماء ، اور محدثین کا مسلک یہی ہے کہ ( ایک ہی وقت میں ) تین طلاقیں دینے کی صورت میں صرف ایک رجعی طلاق واقعی ہوگی اورباقی دو طلاقیں مردود (ناقابل قبول ) ہوں گی۔ ‘‘
( اولاد کی اسلامی تربیت صفحہ۲۷۶، ۲۷۷…… اشاعت: ۲۰۱۱ء ،مکتبہ قدوسیہ لاہور )
سلفی صاحب کا اکثر صحابہ و تابعین کی طرف تین طلاقوں کو ایک قراردینے کی نسبت کرنا غلط ہے ۔ صحابہ کرام تو تین طلاقوں کو تین ہی مانتے ہیں جیسا کہ ہم مستقل باب میں خود غیرمقلد مصنفین کی عبارات نقل کر چکے ہیں ۔اور تابعین کا مسلک بھی تین کو تین قرار دینے کا ہے ۔
اسی طرح سلفی صاحب کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ دَور ِ حاضر کے اکثر کبار علماء اور محدثین کا مسلک تین کو ایک کہنے کا ہے ۔ کیوں کہ اس زمانہ میں بھی تین کو تین کہنے والوں کی اکثریت ہے۔
تضاد بیانی کا غلط الزام
شیخ یحیٰ عارفی غیرمقلدنے ’’ حائضہ کی طلاق کا حکم اور جھنگوی کا تضاد ‘‘ عنوان قائم کرکے لکھا:
’’ جھنگوی صاحب نے حائضہ کی طلاق کی بحث کے ضمن یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ اہلِ حدیث حضرات حائضہ عورت کی طلاق کو نافذ نہیں مانتے پھر خود ہی اپنی بات کی تردید کرتے ہوئے تحفہ ، ص: ۲۳،۲۴ پرمولانا شمس الحق عظیم آبادی، علامہ امیر یمانی ، قاضی شوکانی اورمولانا عبد الرحمن مبارک پوری ، عبد اللہ روپڑی رحمۃ اللہ علیہم کے حوالے سے لکھتا ہے وہ طلاق حائض کو نافذ مانتے ہیں ۔دیکھئے ! تناقض و تعارض میں جھنگوی کتنا اونچا مقام رکھتا ہے ۔ ‘‘ ( تحفۂ احناف صفحہ ۱۲۲)
تناقض و تعارض جھنگوی صاحب کا نہیں بلکہ غیرمقلدین کا ہے کیوں کہ ان کا ایک گروہ حائضہ عورت کو دی گئی طلاق کو واقع نہیں مانتا، جب کہ دوسرا گروہ ایسی طلاق کے وقوع کا قائل ہے۔ حوالہ جات کے لئے ہماری اسی کتاب کا باب:۱۸ ’’ غیرمقلدین کی تضاد بیاناں ‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ حیرت ہے کہ جو غیرمقلدین تضادبیانی کر رہے ہیں، عارفی صاحب انہیں تو کچھ نہیں کہتے اور جنہوں نے اس تضاد بیانی کو ظاہر کردیا، انہیں تناقض و تعارض کا طعنہ دے رہے ہیں!!!
علامہ ابن حزم ایک مجلس کی تین کو ایک بھی نہیں مانتے
علامہ وحیدالزمان غیرمقلدنے ایک مجلس اور ایک طہر کی تین طلاقوں کے وقوع کی بابت اختلاف بیان کرتے ہوئے لکھا :
’’ امام ابن حزم اور ایک جماعت اہلِ حدیث اور امامیہ اور اہلِ بیت کا یہ قول ہے کہ ایک طلاق بھی نہیں پڑنے کا۔ اوراسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ اگر عورت مدخولہ ہے تو تینوں طلاق پڑ جائیں گ ورنہ ایک پڑے گی۔ ‘‘
( تیسیرا لباری :۷؍۱۶۹، تاج کمپنی )
علامہ ابن حزم ظاہری ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی مانتے ہیں ان کی کتاب ’’ المحلی ‘‘ دیکھ لیں ۔ اُن کا موقف ہم نے اپنی اسی کتاب میں اپنے مقام پر نقل کردیا ہے ،لہذا یہ کہنا کہ ’’وہ اکٹھی دی جانے والی تین طلاقوں میں سے ایک بھی نہیں مانتے ‘‘اُن پر غلط الزام ہے ۔
علامہ صاحب کے بقول ایک جماعت اہلِ حدیث کے ہاں تین طلاقیں دینے کی صورت میں ایک طلاق بھی واقع نہیں ہوتی۔ سوال ہے کہ اس جگہ اہلِ حدیث سے مراد اس کے حقیقی مصداق محدثین ہیں یا انگریز سے اہلِ حدیث نام الاٹ کرانے والا غیرمقلد فرقہ ؟بہرحال اس کا مصداق جو بھی ہوں،اس میں کون کون علماء و مصنفین شامل ہیں ؟چند کے نام پیش کئے جائیں ۔پھر یہ بھی وضاحت مطلوب ہے کہ تمہارے نزدیک اس جماعت
اہلِ حدیث کی رائے تینوں طلاقوں کے کالعدم ہونے کی حدیثوں کے موافق ہے یا مخالف؟
اسی طرح اُن اہلِ بیت کے افراد بھی نامزد کرنے چاہئیں جو علامہ صاحب کے بقول تین طلاقیں دینے کی صورت میں کسی ایک کو بھی واقع نہیں مانتے ۔غیرمقلدین کی طرف سے کبھی دعوی کیا جاتا ہے کہ اہلِ بیت تین کو ایک مانتے ہیں ، اور یہاں کہا گیا کہ وہ ایک بھی نہیں مانتے ۔
اہلِ حدیث ابوداود کی حدیث رکانہ سے استدلال نہیں کرتے
شیخ یحیٰ عارفی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اہلِ حدیث حضرات ابوداود کی ضعیف روایت سے قطعاً استدلال نہیں کرتے بلکہ جس حدیث رکانہ سے اہلِ حدیث استدلال کرتے ہیں وہ ابوداود میں مذکورہی نہیں بلکہ مسند احمد میں ہے ۔‘‘
( تحفۂ احناف صفحہ ۲۴۵)
حالاں کہ غیرمقلدین ابوداودکی مذکور حدیث رکانہ سے استدلال کیاکرتے ہیں۔ مثلا ًدیکھئے خواجہ محمد قاسم کی کتاب(تین طلاقیں ایک مجلس کی ایک ہوتی ہے صفحہ ۵۷)
مولانا عبد الغفور (خطیب جامع مسجد مبارک سرگودھا ) لکھتے ہیں:
’’ وہ ذخیرہ حدیث جن میں مسلک اہلِ حدیث کی تائید میں احادیث موجود ہیں... ابوداد ،مشکوۃ ،بلوغ المرام ... وغیرہم ۔‘‘ ( البیان المحکم صفحہ ۹۶)
تنبیہ: رئیس محمدندوی غیرمقلدنے مصنف عبد الرزاق کی روایت نقل کرکے لکھا:
’’مندرجہ بالا تحریر میں ’ ’بعض بن رافع ‘‘ والی جو مرفوع حدیث ہم نے پیش کی ہے اس کی سند میں امام بن جریج وابن عباس وابن عباس کے مابین دورواۃ کا واسطہ ہے بعض بنی ابی رافع اور عکرمہ ۔ ابن جریج و عکرمہ کا ثقہ و معتبر ہونا واضح حقیقت ہے لیکن ان دونوں کے درمیانی راوی ’’بعض بنی ابی رافع ‘‘ کا نام نہیں بتلایا گیاہے یعنی کہ موصوف مجہول ہیں اور اس طبقے کے مجہول راوی کی متابعت اگر قوی الاسناد روایت ہو جائے تو وہ معتبر ہے ۔‘‘
(تنویر الآفاق فی مسئلۃ الطلاق صفحہ ۱۱۵)
ندوی صاحب بعض بنی ابی رافع کی روایت کو اپنی کتاب میں لائے ہیں اور اس پر وارد ہونے پر اعتراض کے رفع کرنے کی بزعمِ خود کوشش بھی کی اگرچہ اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے اس لئے کہ وہ جس روایت کو قوی الاسناد قرار دے کر کمزور کو تقویت دے رہے ،وہ روایت بذاتِ خود ضعیف ہے ،جیساکہ ’’باب : ۱۲، غیرمقلدین کے مزعومہ دلائل ‘‘میں باحوالہ بحث سے آپ جان سکتے ہیں۔ ابو داود کی سند میں بھی یہی’’بعض بنی ابی رافع ‘‘ ہے۔
مولانا ابو بلال جھنگوی صاحب پر غلط الزام
شیخ یحیٰ عارفی غیرمقلد’’محدث روپڑی پر ایک الزام ‘‘ عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:
’’ جھنگوی نے یہ الزام دیا ہے کہ : ایک مجلس کی تین طلاق میں ہم اہل ِ حدیث بخاری وغیرہ کے خلاف ہیں ۔ ‘‘ ( فتاویٰ اہلِ حدیث :۱؍۷) جواب =فتاویٰ اہلِ حدیث کے محولہ صفحہ سے بسیارتلاش کے باوجود بھی نہیں ملا۔‘‘
( تحفۂ احناف صفحہ ۳۵۴)
حالاں کہ روپڑی صاحب کی مذکورہ عبارت محولہ صفحہ پر موجود ہے۔ دیکھئے فتاوی اہلِ حدیث، کتاب الایمان مطبوعہ ادارہ احیاء السنۃ ڈی بلاک سرگودھا ۔ مگر عارفی صاحب کو بسیار تلاش کے باوجود نہیں ملا عجیب!!!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت
حافظ عبد الغفور غیرمقلد (خطیب جامع مسجد اہلِ حدیث سرگودھا ) لکھتے ہیں:
’’اگر کوئی شخص جلد بازی میں اکٹھی تین طلاقیں دے دیتا ہے تو نبی علیہ السلام نے بھی اسے ایک طلاق رجعی قرار دیا ہے ۔ شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق دیا ہے ۔ (مسلم باب طلاق الثلاث)‘‘
(البیان المحکم صفحہ ۱۹)
صحیح مسلم میں ایسی کوئی حدیث نہیں ،جس میں یہ مضمون ہوکہ اکٹھی تین طلاق دینے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قرار دیا ہو۔ جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ مولانا شرف الدین دہلوی کے اعتراف کے مطابق مرفوع نہیں یعنی حدیث نبوی نہیں،بلکہ بعض صحابہ کا فعل ہے ۔ مزید یہ کہ اس میں مجلس واحد کے الفاظ بھی
نہیں ۔مولانا دہلوی صاحب کے الفاظ اگلے عنوان کے تحت(فتاویٰ ثنائیہ: ۲؍۲۱۹ )سے منقول ہیں ۔
حدیث مسلم کی طرف اکٹھی تین طلاقوں کو منسوب کرنا ...؟
حافظ عبد الغفور غیرمقلد (خطیب جامع مسجد اہلِ حدیث سرگودھا ) لکھتے ہیں:
’’مسلم کی مرفوع صحیح حدیث کے مطابق جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھی تین طلاق کو ایک قرار دیا تو اس کو تسلیم کیا جائے گا۔ ‘‘
(البیان المحکم صفحہ ۹۴ )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھی تین طلاق کو ایک قرار دیا ہو ،صحیح مسلم میں ایسی کوئی حدیث نہیں۔
حافظ عبد الغفور غیرمقلد (خطیب جامع مسجد اہلِ حدیث سرگودھا ) لکھتے ہیں:
’’مسلم کی صحیح حدیث کے مقابلے میں ایسی کوئی صحیح صریح مرفوع حدیث موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس واحد کی تین طلاق کو تین قرار دیا ہو۔ ‘‘
(البیان المحکم صفحہ ۹۵)
سرگودھوی صاحب تاثر دے رہے ہیں کہ حدیث ِ مسلم صریح مرفوع ہے اور اس میں مجلس واحد کی بات ہے جب کہ اس کے مقابلہ میں ایسی کوئی حدیث نہیں جو صریح ہو، مرفوع ہو، اور اس میں مجلس واحد کی قید ہو۔ عرض ہے کہ مولانا شرف الدین دہلوی غیرمقلد نے صحیح مسلم کی محولہ بالا مذکورہ روایت کی بابت لکھا :
’’ ابن عباس کی مسلم کی حدیث مذکور مرفوع نہیں ، یہ بعض صحابہ کافعل ہے جس کو نسخ کا علم نہ تھا۔‘‘
(فتاویٰ ثنائیہ: ۲؍۲۱۹ )
بخاری کی طرف منسوب غلط حوالہ
حکیم فیض عالم صدیقی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی پوری خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سالوں میں یک بارگی تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں ۔ (بخاری )‘‘
( اختلاف امت کا المیہ صفحہ ۸۵ ، بحوالہ مجلہ پیغام حق فیصل آباد ،جون ؍۲۰۱۴ء صفحہ ۲۳)
حکیم صادق سیالکوٹی غیرمقلد نے روایت ابن عباس’’ کَانَ الطَّلَاقُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ اَبِیْ بَکْرٍ ...‘‘ لکھ کر حوالہ ’’ صحیح بخاری ‘‘ دیا ہے ۔
( سبیل الرسول صفحہ ۲۶۸)
دونوں حکیموں کا اِس حدیث کو بخاری کی طرف منسوب کرنا غلط ہے۔ غیرمقلدین سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حدیث کو بخاری سے دکھائیں۔( تحفہ اہلِ حدیث صفحہ۳۷)
مگر کیسے دکھاتے ؟ بخاری میں ہوتی توپیش کرتے، اس لئے انہیں مجبوراً ماننا پڑا کہ یہ حدیث بخاری میں نہیں۔چنانچہ مولانا داود ارشد غیرمقلد نے لکھا:
’’ یہ روایت بخاری میں نہیں۔ ‘‘
(حاشیہ سبیل الرسول صفحہ ۱۸۳)
اسی طرح غیرمقلدین کے ’’استاذ الاساتذہ ‘‘مولانا عبد الغفار محمدی نے کہا:
’’واقعی یہ روایت بخاری شریف میں نہیں ہے ۔ ‘‘
( ۳۵۰ سوالات صفحہ ۵۷۴)
ایسی کوئی طلاق نہیں جس سے جدائی واقع ہوجائے
مولانا امین محمدی غیرمقلدکہتے ہیں:
’’ شریعت نے طلاق کے معاملہ میں ایسی کوئی صورت نہیں رکھی کہ پہلی مرتبہ میں میاں بیوی میں جدائی ہوجائے۔ انسان غلطی کر بیٹھتا ہے اور جب جذبات ٹھنڈے ہوتے ہیں تو ا س کو غلطی کا احساس ہوجاتا ہے۔ ‘‘
( مقالہ بحوالہ جواب مقالہ صفحہ ۲۲)
محمدی صاحب کا شریعت کی طرف اپنی مذکورہ بات منسوب کرنا غلط ہے کیوں کہ طلاق کی بعض صورتیں خود غیرمقلدین کے ہاں بھی ایسی ہیں جن میں رجوع نہیں ہوتا ۔
مولانا سید عبد الحفیظ لکھتے ہیں :
’’ جب طلاق قبل خلوتِ صحیحہ کے دی جائے تو عدت نہیں ہوتی پس بکر کا نکاح صحیح ہوا۔ ‘‘
(فتاویٰ نذیریہ :۳؍۲۱)
اس فتوے پہ غیرمقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی کی تصدیق ہے ۔
علامہ وحیدالزمان غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’باقی الفاظ جیسے فراقا ، تسریح ، خلیه ، بریه وغیرہ ان سے طلاق جب ہی پڑے گا کہ خاوند کی نیت طلاق کی ہو کیوں کہ ان الفاظ کے معنی سوا طلاق کے اور بھی آئے ہیں .... غیرمدخولہ عورت ایک ہی طلاق سے بائن ہو جاتی ہے ، دوسرے طلاق کا محل نہیں رہتی ۔ ‘‘
( تیسیرا لباری :۷؍۱۷۴، تاج کمپنی )
عمران شہزاد تارڑ غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’شریعت اسلامیہ میں جس عورت کو طلاق بتہ مل گئی ہو ، اس کے لیے حکم ہے کہ اس کے بعد وہ پہلے خاوند سے دوبارہ اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی جب تک وہ کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح نہ کر لے اور اس کے پاس ہی نہ رہے ، پھر اگر اتفاق سے ان کے درمیان نباہ نہ ہو سکے اور وہ بھی طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو عدت گزارنے کے بعد وہ پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے ۔ ‘‘
(حلالہ سنٹرز اورخواتین کی عصمت دری صفحہ ۹)
تارڑصاحب مزید لکھتے ہیں:
’’تین صورتوں میں رجوع کی اجازت نہیں ہے۔ وہ عورت جسے تیسری مرتبہ طلاق دی جا چکی ہو... وہ عورت جس نے از خود طلاق ( بصورت خلع ) حاصل کی ہو... وہ عورت جسے قبل از صحبت طلاق دی جائے ۔ ‘‘
(حلالہ سنٹر ز اورخواتین کی عصمت دری صفحہ ۵۸)
محمد اقبال کیلانی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ خلع میں صرف ایک طلاق سے میاں بیوی میں مکمل علیحدگی واقع ہو جاتی ہے ۔ ‘‘
( کتاب الطلاق صفحہ ۸۲)
الگ الگ طہروں میں طلاقیں دینا بھی کتاب اللہ کے ساتھ مذاق !؟
مولانا امین محمدی غیرمقلد کہتے ہیں:
’’ بعض لوگ ہر طہر میں الگ الگ طلاق کے قائل ہیں حقیقت میں یہ بھی کتاب اللہ کے ساتھ مذاق ہے ۔‘‘
( مقالہ بحوالہ جواب مقالہ صفحہ ۱۵۸)
محمدی صاحب کا یہ دعوی بھی غلط ہے ۔ حافظ عبد الستار حماد غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے ’’ طلاق سنت کا بیان ‘‘ اس کے تحت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کی وضاحت نقل کی ہے کہ طلاق سنت حالت طہر میں ہم بستری کئے بغیر طلاق دینا ہے ، پھر حیض کے بعد طہر میں طلاق دے، پھر اس طرح آئندہ حیض کے بعد طہر میں طلاق دے ۔ [ نسائی ، الطلاق: ۳۴۲۳]اس میں پہلی طلاق کے بعد رجوع یا نکاح جدید کی شرط کو بیان نہیں کیا۔ ایسی شرائط محض تکلف ہیں کیوں کہ دوران عدت وہ عورت اس کی بیوی رہتی ہے اور وہ اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے ،وہ عورت دوران عدت بھی طلاق کامحل ہے۔ ‘‘
(فتاویٰ اصحاب الحدیث : ۲؍۳۰۹)
حدیث نبوی کی طرف غلط انتساب
مولانا امین محمدی غیرمقلد نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا والے قصہ پر بحث کرتے ہوئے کہا:
’’ حضرت فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں تو خرچہ نہ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے گئی، تو آپ نے بھی فرمایا کہ تیرا خرچہ
اس کے ذمہ نہیں ہے ...‘‘
( مقالہ بحوالہ جواب مقالہ صفحہ ۱۴۶)
حضرت مولانا حافظ عبد القدوس دام ظلہ اس پر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’حیرانگی کی بات ہے کہ کس قدر دیدہ و دلیری کے ساتھ جناب امین محمدی صاحب نے کہہ دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیسری طلاق کے بعد خاوند کے ذمہ خرچ نہیں۔ ہماری گذارش ہے کہ نسائی شریف کا جو حوالہ محمدی صاحب نے دیا ہے صرف اسی میں نہیں بلکہ ذخیر احادیث میں سے کسی حدیث میں یہ الفاظ ثابت کر دیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیسری طلاق کے بعد خاوند کے ذمہ خرچ نہیں تو ہم محمدی صاحب کو غلط بیانی کرنے والا نہیں کہیں گے اور اگر ثابت نہ کرسکیں اور یقینا نہ کر سکیں گے تو پھر مَنْ کَذَبَ عَلیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ (الحدیث ) کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان الفاظ کی حضور علیہ السلام کی جانب نسبت کرنے کی وجہ سے سرعام معافی مانگیں ۔‘‘
( جواب ِ مقالہ صفحہ ۱۴۷)
حالت ِ حیض میں طلاق کے واقع نہ ہونے کی نسبت کو نص قرار دینے کی غلطی
رئیس محمد ندوی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ہم کہتے ہیں کہ نصوص کتاب و سنت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بحالت حیض عورت کو دی ہوئی طلاق نہیں پڑتی اسی کو عام اہلِ حدیث اہلِ علم کی طرح روضہ ندیہ کے مصنف نے بھی اختیار کیا ہے۔اس کی مفصل بحث ہماری مبسوط کتاب تنویر الآفاق میں ہے ،اس کا مطالعہ کرکے ناظرین کرام تشفی حاصل کریں۔ ‘ ‘
( ضمیر کا بحران صفحہ۳۴۹، ناشر: ادارۃ البحوث الاسلامیۃ ، جامعہ سلفیہ بنارس ، اشاعت: جنوری ؍ ۱۹۹۷ء )
ندوی صاحب نے دعویٰ کیا کہ کتاب و سنت کے نصوص میں حائضہ کی طلاق کا واقع نہ ہونا مذکور ہے۔عرض ہے کہ قرآن میں ایسی کوئی نص موجود نہیں ،اگر ہے تو پیش کریں ۔ اورحدیثوں میں تو اس کے برعکس مسئلہ بیان ہوا کہ حالتِ حیض میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ خود غیرمقلدین کی اکثریت نے تسلیم کیا کہ از روئے احادیث طلاق الحائض کا واقع ہونا ہی صحیح موقف ہے ۔حوالہ جات ہم نے اپنی اسی کتاب کے باب ... طلاق بدعی کا وقوع میں نقل کر دئیے ہیں۔
مسئلہ تین طلاق میں فقہی اختلاف ہے
عمران شہزاد تارڑ غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’فقہی اختلافات کی بناء پر ایک آدمی کنفیوز ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی اکاؤنٹ ہوتی ہیں یا ایک ۔ ‘‘
(حلالہ سنٹر ز اورخواتین کی عصمت دری صفحہ ۱)
فقہی اختلاف کو ’’کنفیوز ‘‘ کا سبب قرار دینا غلط ہے ،کیوں کہ چاروں فقہی مذاہب تین کے تین ہونے پر متفق ہیں ۔بلکہ مولانا شرف الدین دہلوی غیرمقلد کی تصریح کے مطابق سات صدیوں تک تین کے تین ہونے پر اتفاق رہاہے ۔ ( فتاویٰ ثنائیہ :۲؍۲۱۹)
حدیث مسلم کو کسی نے مضطرب نہیں کہا
عمران شہزاد تارڑ غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’یہ دعویٰ بھی بالکل بودا ہے کہ حدیث صحیح مسلم مضطرب ہے ! کیوں کہ یہ بات کسی بھی اہلِ علم نے ذکر نہیں کی ۔‘‘
(حلالہ سنٹر ز اورخواتین کی عصمت دری صفحہ ۵۶)
تارڑ صاحب کایہ دعویٰ بھی غلط ہے ۔مولانا شرف الدین دہلوی غیرمقلد اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ اس میں اضطراب بھی بتایا ، تفصیل شرح صحیح مسلم نووی ، فتح الباری وغیرہ مطولات میں ہے۔ ‘‘
( فتاویٰ ثنائیہ : ۲؍۲۱۹)
نسائی اور سنن الکبری کی طرف منسوب غلط حوالہ
مولانا محمد جونا گڑھی غیرمقلد نے ’’ ایک ساتھ تین طلاقوں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کرادیا ‘‘ عنوان قائم کرکے لکھا:
’’اسی لئے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایسا ہوا کہ کسی نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو آپ سخت تر غضب ناک ہو کر کھڑے ہوگئے اور غصے سے فرمانے لگے : ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظھرکم ( نسائی ) کیا میری موجودگی میں خدا کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جا نے لگا؟ اس قدر غصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا کہ ایک صحابی مجمع میں سے تڑپ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا اقتلہ۔اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں تو میں اس کی گردن اڑادوں !!! پھر اسے حکم دیا کہ جا رجوع کر لے، اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں تو تین طلاقیں دے چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا :ہاں معلوم ہے تین دے چکا، رجوع کر لے ۔ فانما تلک واحدۃ ایسی تین ایک ہی ہیں... اے دیوبند والو! ہمت ہے تو اس کے مقابلے کی کوئی حدیث پیش کرو کہ جس میں ہو کہ ایسی ایک ساتھ دی ہوئی تین طلاقیں تین ہو جاتی ہیں۔‘‘
( نکاح محمدی صفحہ ۲۹،۳۰...ناشر اہل حدیث اکیڈمی مؤ ناتھ بھنجن یوپی)
رجوع کرانے کی بات پر حاشیہ میں یہ حوالہ دیاگیا ہے۔
’’نسائی ج۲ صفحہ ۸۲عن محمود بن لبید :باب الثلاث المجموعة و مافیه من التغلیظ ؍کتاب سنن الکبری للنسائی صفحہ ۳۳۹باب طلاق الثلاث المجموعة وما فیه من التغلیظ ‘‘
حالاں کہ رجوع کرا دینے کی بات نہ نسائی میں ہے اور نہ ہی سنن الکبری میں ۔مناسب ہوگا کہ جونا گڑھی صاحب کی تردید میں ہم خود اُن کے ہم مسلک مولانا صفی الرحمن مبارک پوری غیرمقلد کی تحریر پیش کر دیں۔ انہوں نے حدیث محمود بن لبید (نسائی ) کے تحت لکھا:
’’ یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ دفعۃً تین طلاق دینا حرام ہے۔ اس میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رجوع کی اجازت دی یا نہیں ؟ اِس حدیث سے طلاق کے بارے میں مختلف مذاہب میں سے کسی کی تائید نہیں ہوتی ۔ ‘‘
( اتحاف الکرام شرح بلوغ المرام اردو:۲؍۷۰۰، مترجم مولانا عبد الوکیل علوی ، دار السلام لاہور)
اس سے معلوم ہوا کہ اس حدیث میں رجوع کی کوئی بات نہیں۔البتہ یہ کہنا کہ’’اِس حدیث سے طلاق کے بارے میں مختلف مذاہب میں سے کسی کی تائید نہیں ہوتی ۔ ‘‘محل تامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے پتہ چلتا ہے کہ ایسی طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، ورنہ اگرایک مجلس کی تین طلاقوں میں رجوع کی گنجائش ہوتی توآپ ناراض نہ ہوتے ۔
طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں ائمہ اربعہ کا اتفاق نہیں
شیخ بد یع الدین راشدی غیرمقلدنے طلاقِ ثلاثہ پر بات کرتے ہوئے لکھا:
’’ ائمہ اربعہ کا بھی اتفاق نہیں ہے ۔ ‘‘
( تنقید ِسدید صفحہ ۲۷۲)
راشدی صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’ اجماع اربعہ کا دعوی بھی غلط ہے ۔ ‘‘
( تنقید سدید صفحہ ۳۱۰)
راشدی صاحب کامذکورہ دعویٰ غلط ہے ۔ہم مستقل باب قائم کرکے ائمہ اربعہ کا مسلک خود غیرمقلدین کی زبانی نقل کر چکے ہیں کہ وہ تین طلاقوں کے وقوع کے قائل ہیں۔یہاں بھی ایک حوالہ ملاحظہ ہو ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے ائمہ اربعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:
’’بعض مسائل ایسے بھی ہیں جن میں ان چاروں نے ایک ہی طرح کا فتوی دیا ہے ... طلاق ثلاثہ کامسئلہ ان ہی میں سے ایک ہے۔‘‘
( احکام طلاق صفحہ ۵۹۸،۵۹۹،ناشر: ام القری پبلی کیشنز گوجرانوالہ ،اشاعت: ۲۰۲۴ء )
حدیث مسلم پر بیسیوں اعتراضات اور بیسیوں تاویلات کا الزام
مولانا عبد القادر حصاری غیرمقلد نے صحیح مسلم میں واقع مسئلہ تین طلاق کی روایت ابن عباس کے متعلق لکھا:
ٍ ’’ ہمارے مخالفین اس پر بیسیوں اعتراضات کرتے ہیں اور بیسیوں تاویلیں کرتے ہیں جو سب مردود اور باطل ہیں۔‘‘
(فتاویٰ حصاریہ :۶؍۳۴۶)
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث پر روایۃ اور درایۃ بحث کرنے والے محدثین ہیں اور محدثین سے عقیدت کا دعوی تو غیرمقلدین کو بھی ہے بلکہ وہ انہیں اپنا ہم مذہب غیرمقلد و اہلِ حدیث کہا کرتے ہیں ۔لہذا حصاری صاحب کے الزام کی زَد میں وہ محدثین آتے ہیں جنہیں غیرمقلدین اپنا ہم مذہب غیرمقلد کہا کرتے ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ حصاری صاحب کے بقول اس حدیث پر بیسیوں اعتراضات کئے گئے اور بیسیوں تاویلیں بھی کی گئیں ۔حصاری صاحب کے عقیدت مندوں ؍ غیرمقلدین کو چاہیے کہ وہ اس دعویٰ کا ثبوت پیش کریں۔ ہماری معلومات کے مطابق حصاری صاحب کا مذکورہ دعویٰ غلط ہے۔ نہ تو اس حدیث پر بیسیوں اعتراضات کئے گئے اور نہ ہی بیسیوں تاویلیں ۔
تیسری بات بھی ہم عرض کر دیں کہ اس حدیث کے قریبا ًایک درجن جواب غیرمقلدین کے بیہقی وقت مولانا شرف الدین دہلوی نے فتاویٰ ثنائیہ جلددوم میں دئیے ہیں تو ان کی بابت کیا کہیں گے؟ کیا انہوں نے بھی اس حدیث کو مخالف سمجھ کر اس پہ اعتراضات کیے اور تاویلوں کی بوچھاڑ بھی ؟؟
اکٹھی تین طلاقیں دینا کسی کے نزدیک جائز نہیں کا غلط دعویٰ
غیرمقلدین کی طرف سے شائع کردہ مؤطامالک مترجم میں لکھا ہے :
’’اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ ایک وقت میں ایک سے زائد طلاقیں دینا حرام ہے۔‘‘
(المؤطا :۲؍۴۵۷ ،ترجمہ و تخریج و شرح حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم حفظہ اللہ ، تحقیقی افادات : علامہ ناصر الدین البانی، ڈاکٹر سلیم الہلالی ، احمد علی سلیمان المصری ،نظرثانی : حافظ عبداللہ رفیق و حافظ حامد محمود الخضری ، تقریظ: شیخ الحدیث عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ ،اسلامی اکادمی ۱۷۔الفضل مارکیٹ اردو بازار لاہور )
شیخ صلاح الدین یوسف غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ بیک وقت تین طلاقیں تمام فقہی مذاہب والوں کے نزدیک بھی جائز نہیں۔ ‘‘
( طلاق ، خلع اور حلالہ صفحہ۳۸، ناشر : مکتبہ ضیاء الحدیث لاہور )
صلاح الدین صاحب اپنی اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’ تمام مکاتب ِ فکر متفق ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا ناجائز ہے ، لیکن عوام جہالت کی وجہ سے غصے میں اسلام کی اس اہم ہدایت کی پروا نہیں کرتے اور ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیتے ہیں ۔ ‘‘
( طلاق ، خلع اور حلالہ صفحہ۴۲ ، ناشر : مکتبہ ضیاء الحدیث لاہور )
شیخ صلاح الدین وغیرہ کا یہ دعوی غلط ہے کہ کسی فقہی مذہب میں اکٹھی تین طلاقیں دینا جائز نہیں ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”بیک وقت تین طلاقوں کا جمع کرنا ہمارے ( شوافع ) کے نزدیک حرام نہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ تین طلاقیں الگ الگ تفریق کرکے دینی چاہئیں ۔ اور احمد اور ابو ثور بھی اسی کے قائل ہیں ۔“
(شرح مسلم :۲؍۴۷۶)
رئیس محمد ندوی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اس حدیث کا ایک مفہوم بقول امام شافعی یہ ہے کہ بیک وقت طلاق ثلاثہ دینی ممنوع و محظور نہیں بلکہ بلا کراہت مباح و حلال ہے ۔ ‘‘
( تنویر الآفاق فی مسئلۃ الطلاق صفحہ ۳۸۸)
مولانا داود ارشد غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’بقول امام شافعی ؒ اس حدیث کا ایک مفہوم مخالف یہ بھی ہے کہ ایک دم تین طلاقیں دینا بلا کراہت مباح وحلال ہیں۔ ‘‘
( دین الحق صفحہ۷۰۰،ناشر: مکتبہ غزنویہ لاہور ، تاریخِ اشاعت: دسمبر ؍ ۲۰۰۱ ء )
شیخ یحی عارفی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ امام شافعی کے نزدیک یک بارگی تین طلاقیں دینا سنت ہے۔ ان کے ہاں مدخولہ و غیر مدخولہ کا کوئی فرق نہیں ۔ یعنی شافعیہ کا موقف عام ہے ، اسی طرح ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ کا موقف بھی عام ہے ۔ ‘‘
( تحفۂ احناف صفحہ ۲۸۵)
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ امام بخاری رحمہ اللہ کی تبویب کے پیشِ نظر ان کا موقف بھی امام شافعی رحمہ اللہ جیسا ظاہر ہوتا ہے کہ ایک وقت میں تین طلاقیں دینا جائز ہے ۔ ‘‘
( احکام طلاق صفحہ ۲۴۶)
جمہور کی طرف تین کے وقوع کی نسبت کو غلط قرار دینے کی جسارت
شیخ صلاح الدین یوسف غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اس کو جمہور فقہاء کا متفقہ فیصلہ بتلانا ہی غلط ہے ... در اَصل اپنی بات کومؤکد کرنے کے لیے یوں ہی اس کو ’’ جمہور کی رائے ‘‘ کہہ دیا جاتا ہے ، یا اجماع کا دعویٰ کر دیا جاتاہے۔‘‘
( طلاق ، خلع اور حلالہ صفحہ۴۹ ، ناشر : مکتبہ ضیاء الحدیث لاہور )
علامہ بد الدین ابو عبد اللہ محمد بن علی البعلی ( المتوفی :۷۷۷ھ) فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں جو بیوی کو ہم بستری سے پہلے دی جائیں یابعد کو دی جائیں دونوں صورتوں کا حکم ائمہ دین ؒ کے نزدیک ایک ہی ہے وہ یہ کہ وہ بیوی اس خاوند پرحرام ہو جاتی ہے وھو قول اکثر العلماء اور اکثر علماء کایہی قول ہے ۔
(مختصر فتاویٰ المصریۃ صفحہ ۲۳۶، بحوالہ عمدۃ الاثاث صفحہ۳۵)
حافظ ابن القیم ؒ لکھتے ہیں کہ امام ابو الحسن علی بن عبد اللہ بن ابراہیم اللخمی المشطی نے’’ کتاب الوثائق الکبیر ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس جیسی کتاب اس باب میں نہیں لکھی گئی ۔اس کتاب میں موصوف لکھتے ہیں:
الجمھور من العلماء علی انه یلزمه الثلاث وبه القضاء وعلیه الفتوی وھو الحق الذی لا شک فیه ۔ ( اغاثة اللھفان جلد ۱ صفحہ ۳۲۶)
ترجمہ: جمہور علماء اس پر متفق ہیں کہ تین طلاقیں اس پر لازم ہیں یہی فیصلہ ہے اور اسی پر فتوی ہے اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک نہیں ۔
علامہ امیر یمانی محمدبن اسماعیل (المتوفی :۱۱۸۲ھ) فرماتے ہیں :
”فقہاء اربعہ اورجمہور سلف و خلف کا یہی مسلک ہے ۔“
( سبل السلام : ۳؍۲۱۴،بحوالہ عمدۃ الاثاث صفحہ ۳۷)
مولانا شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں:
’’ ائمہ اربعہ اورجمہور علمائے اسلام کا یہی مذہب ہے کہ تینوں واقع ہو جاتی ہیں۔ ‘‘
( عون المعبود صفحہ ۲۲۹، بحوالہ عمدۃ الآثاث صفحہ۳۷)
ہماری اسی کتاب میں کئی غیرمقلدین کے حوالے مذکور ہیں کہ تین کو تین ماننے والے جمہور ہیں بلکہ متعدد غیرمقلد علماء نے اس مسئلہ کو اجماعی بھی تسلیم کیا ۔ ہماری اس کتاب کا باب ...دیکھئے ۔
مسئلہ تین طلاق کی بابت زبیر علی زئی کی طرف سکوت کی غلط نسبت
ابو عمر سوہدری غیرمقلدنے شیخ زبیر علی زئی کے متعلق لکھا :
’’شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک چوتھے دن کی قربانی ثابت نہیں۔ اسی طرح آپ رحمہ اللہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کے مسئلے پر سکوت اختیار کرتے۔ ‘‘
(ماہ نامہ اشاعت الحدیث حضروخصوصی اشاعت حافظ زبیر علی زئی صفحہ۵۰۹)
مسئلہ تین طلاق میں زبیرعلی زئی کا یہی موقف ہے کہ تینوں واقع ہو جاتی ہیں ، جیسا کہ باب نمبر :۱۰ میں باحوالہ مذکور ہے ۔ وہاں جز علی بن محمد الحمیری صفحہ ۳۷ کے حاشیہ سے علی زئی صاحب کی عبارت منقول ہے کہ تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر صحابہ کرام کا اجماع ہے اور کتاب وسنت میں اس اجماع کے خلاف کوئی بات نہیں ہے ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے بھی تسلیم کیا ہے کہ شیخ زبیر علی زئی کا موقف تین طلاقوں کو تین قرار دینے کا ہے ۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’بعض وہ لوگ جو تقلید سے تائب ہو گئے،وہ بھی اس مسئلے میں تقلیدی اثرات سے پوری طرح پاک نہیں ہو سکے ۔چنانچہ حافظ زبیر علی زئی صاحب رحمہ اللہ جو پہلے حنفی تھے ، بعد میں اہلِ حدیث ہوئے ۔مگر اس مسئلے میں اپنے سابقہ موقف پرقائم رہے ،بلکہ ایک مقام پر لکھ بھی دیا۔‘‘
( احکام طلاق صفحہ ۲۴۲،ناشر: ام القری پبلی کیشنز گوجرانوالہ ،اشاعت: ۲۰۲۴ء )
پھر سنابلی صاحب نے شیخ زبیر علی زئی کی عبارت ’’جزء علی بن محمد الحمیری صفحہ ۸، حاشیہ: ۴۳ ‘‘سے نقل کرکے یوں ترجمہ کیا:
’’ اسی مفہوم (یعنی بیک زبان تین طلاقیں دینے سے تین طلاقوں کے وقوع کا ) فتوی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر سحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور طلاقِ ثلاثہ کو واقع ماننے میں ان کا کوئی مخالف نہیں ملتا،لہذا یہ اجماعی بات ہے اور کتاب و سنت میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اِس کے خلاف ہو ۔ ‘‘
( احکام طلاق صفحہ ۲۴۲، ناشر: ام القری پبلی کیشنز گوجرانوالہ ، سن اشاعت: ۲۰۲۴ء )
قوسین کے الفاظ بھی سنابلی کے ہیں۔
)جاری)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں