مسئلہ تین طلاق پر مدلل و مفصل بحث
مفتی رب نواز صاحب حفظہ اللہ (قسط:۱۴)
مسئلہ تین طلاق پر مدلل و مفصل بحث
یک بارگی تین طلاقیں دیناجائز بھی ہے، اور نہیں بھی
مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت
شُمارہ نمبر 36
پہلی رائے :
حافظ عبد الستار حماد غیرمقلد نے حدیث عویمر عجلانی کی شرح میں لکھا :
’’ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یک بار گی تین طلاقیں دی جا سکتی ہیں ، لیکن کیا تینوں نافذ ہوں گی یا ایک ؟ اس حدیث سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا ۔ ‘‘
( شرح بخاری :۵؍۲۱۳)
دوسری رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے قرآن کریم کی آیت : ﴿الطلاق مرتان﴾ کی وضاحت میں لکھا:
’’ یہ آیت تو اس بات کی زبر دست دلیل ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں دینا حرام اور ناجائز ہے ۔‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ ۴۵۱ ، ناشر: ام القری پبلی کیشنز گوجوانوالہ ، اشاعت: ۲۰۲۴ء)
تین کے ایک ہونے کا سب سے پہلے فتوی ابن تیمیہ نے دیا۔یہ پروپیگنڈا ہے ،اور حقیقت بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’بعض لوگ یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ تین طلاقوں کے ایک ہونے کا فتوی سب سے پہلے ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے دیا ہے ، ان سے قبل کسی نے یہ فتوی نہیں دیا ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۴۳۲ )
دوسری رائے :
مولانا شرف الدین ہلوی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اصل بات یہ ہے کہ مجیب مرحوم نے جو لکھا ہے کہ تین طلاق، مجلس ِ واحد کی محدثین کے نزدیک ایک کے حکم میں ہیں یہ مسلک سات سو سال کے بعد کے محدثین کا ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کے فتویٰ کے پابند اور ان کے معتقد ہیں ۔ یہ فتوی شیخ الاسلام نے ساتویں صدی ہجری کے اخیر یا اوائل آٹھویں میں دیا تھا تو اس وقت کے علمائے اسلام نے ان کی سخت مخالفت کی تھی۔ ‘‘
(فتاویٰ ثنائیہ: ۲؍۲۱۹)
طلاق الحائض کی بابت حدیث بخاری قابل استدلال ہے، اور ضعیف بھی
پہلی رائے :
غیرمقلدین کے ایک فریق کی تحقیق ہے کہ حالتِ حیض میں دی جانے والی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے اس پر جو دلائل پیش کئے ،اُن میں صحیح بخاری کی حدیث بھی ہے ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’حسبت علی بتطلیقة ‘‘یعنی جو طلاق میں نے حالتِ حیض میں دی تھی اسے شمار کیا گیا ہے ۔ اس حدیث سے جن غیرمقلدین نے استدلال کیا ہے، اُن میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں۔
حافظ محمد امین ۔ ( حاشیہ نسائی مترجم : ۵؍۲۸۸)
مولانا عمر فاروق سعیدی ۔ ( شرح ابو داود مترجم : ۲؍۶۶۹)
حافظ عبد الستار حماد ۔ ( فتاوی اصحاب الحدیث : ۲؍۳۱۵)
مولانا عبد المنان نوری ۔ ( احکام ومسائل :۲؍۴۷۶)
شیخ زبیر علی زئی ۔ ( موطا مالک مترجم صفحہ ۳۲۰، تحت حدیث : ۲۳۳)
شیخ ندیم ظہیر ۔ ( اشاعت الحدیث حضرو ، شمارہ : ۱۴۱صفحہ ۹)
حافظ عمران ایوب لاہوری ۔ ( طلاق کی کتاب صفحہ ۹۰)
مولانا مبشر احمد ربانی ۔ ( آپ کے مسائل اور ان کا حل :۳؍۴۹۳)
مولانا عبد المنان راسخ ۔ ( فوائد سنن دارمی :۲؍۱۹۵، تحت حدیث: ۲۳۰۸)
ان سب کی عبارات بندہ نے اپنی اسی کتاب میں ’’ طلاق بدعی کا وقوع‘‘ باب میں نقل کردی ہیں۔ والحمد للہ
دوسری رائے :
ان سب کے برعکس شیخ کفایت اللہ سنابلی ہندی غیرمقلدنے بخاری کی حدیث ’’حسبت علی بتطلیقة ‘‘ کو ضعیف کہا ہے۔ وہ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہ روایت معلق ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۳۲ )
سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’ماقبل میں ہم نے واضح کر دیا ہے کہ صحیح بخاری میں یہ روایت معلق ہے اور اس کی کوئی موصول سند دستیاب نہیں ، لیکن اگر اس کی موصول سند مل بھی جائے تو بھی یہ روایت شاذ ہونے کے سبب ضعیف ہی ہوگی ۔ ‘‘
( احکام طلاق صفحہ ۱۵۱)
سنابلی صاحب دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
’’صحیح بخاری میں موجود یہ روایت معلق ہے ، امام ابو نعیم نے اسے موصول بیان کیا ہے ، مگر اس کی سند دستیاب نہیں ہے ۔ ماقبل میں ’’ تعلیق البخاری عن شیوخه‘‘ پر تفصیل پیش کی جا چکی ہے ۔ محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک یہ معلقات بھی منقطع ہیں ۔ اگر اس قول کو ترجیح دی جائے تو ظاہر ہے کہ معمر بن راشد کی متصل اور صحیحین کی شرط پر صحیح روایت کے خلاف ’’عبد الوارث ‘‘ کی اس معلق روایت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۱۵۴)
سنابلی صاحب کے نزدیک بخاری کی یہ حدیث نہ صرف ضعیف ہے بلکہ ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہے ۔
زیادتی ذِکر نہ کرنا شاذ ہونے کی دلیل ہے ،اور نہیں بھی
کسی راوی کاحدیث روایت کرتے ہوئے اضافی جملہ بیان کرنااس جملہ کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے یا وہ مقبول ہے؟ اس کے متعلق غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں۔
پہلی رائے :
بخاری میں حدیث ہے ،سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’حسبت علی بتطلیقة ‘‘یعنی جو طلاق میں نے حالتِ حیض میں دی تھی اسے شمار کیا گیا ہے ۔‘‘
بخاری کی اس حدیث کے متعلق شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’امام ابن القیم رحمہ اللہ نے زیر ِ بحث روایت کو اس بنیاد پر شاذ بتلایا ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں میں سعید بن جبیر کے علاوہ کسی نے بھی طلاق شمار کئے جانے کی بات نقل نہیں کی ہے ، لکھتے ہیں ……ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ الفاظ نقل کرنے میں سعید بن جبیر منفرد ہیں اور نافع ، انس بن سیرین ، یونس بن جبیر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کے دیگر تمام تلامذہ نے ان کی مخالفت کی ہے اور طلاق شمار کیے جانے والی بات کاذِکر نہیں کیا ہے ۔ ‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ ۱۵۶)
سنابلی صاحب نے آگے لکھا:
’’ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے یہاں بخاری کی معلق روایت کو اس بنیاد پر شاذ بتلایا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں میں سعید بن جبیر کے علاوہ کسی نے بھی طلاق شمار کئے جانے کی بات نقل نہیں کی ہے ، یعنی یہ شاذ ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۱۵۶)
سنابلی صاحب اگلے صفحہ پرلکھتے ہیں:
’ ’ الغرض مسلم کی کسی بھی روایت میں سعید بن جبیر والے الفاظ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی نہیں ہیں ۔ بہرحال علامہ البانی کے شاگرد ’’ ابو بکر رعد بن عبد العزیز حسین بکر النعمیی‘‘نے بھی ان الفاظ کو شاذ قرار دیا ہے ۔ ‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۱۵۷)
ان عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ سعید بن جبیر نے اس زیادتی کو بیان کیا ،باقیوں نے اسے نقل نہیں کیا ،اس لئے یہ شاذ ہے ۔
دوسری رائے :
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ محمد بن یحی الصفار (راوی ) کے زبر دست تفرد والی اس روایت کے بارے میں مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ علانیہ لکھتے ہیں: ’’ الغرض اس حدیث پر اعتراضات کی تمام شقیں باطل ہیں۔ امام بیہقی اور علامہ سیوطی اور علامہ علی متقی حنفی کا فیصلہ ہی صحیح ہے کہ اس کی سند بالکل صحیح ہے۔ اور یہ زیادت متعدد طرق سے مروی ہے اور صحیح ہے۔ ‘‘ ( توضیح الکلام جدید ص ۳۶۰) معلوم ہوا کہ بہت سے ثقہ راوی اگر کوئی زیادت متن میں ذِکر نہ کریں اور صرف ایک(ثقہ و صدوق) راوی وہ زیادت ذِکر کرے تو مولانا اثری اور امام بیہقی کے نزدیک وہ سند صحیح ہوتی ہے والحمد اللہ۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں مگر خبیب صاحب اس کے بالکل مخالف سمت پر تیزی سے رواں دواں ہیں ۔ ‘‘
( علمی مقالات : ۲؍۲۵۱)
علی زئی صاحب زیادت ثقہ کے قبول ہونے کی مثالیں بیان کرتے ہوئے ہفتم مثال بخاری کی حدیث ذِکر کی ہے جس میں یہ جملہ بھی ہے کہ دو لڑکیاں اشعار پڑھ رہی تھیں۔ علی زئی نے اس کے ذیل میں لکھا:
’’ اس حدیث کو جب امام ابو اسامہ حماد بن اُسامہ رحمہ اللہ نے ہشام بن عروہ سے اس سند و متن سے روایت کیا تو حدیث میں درج ذیل اضافہ بھی بیان کیا: ’’ ولیستا بمغنیتین ‘‘ وہ دونوں (بچیاں) مغنیہ نہ تھیں ۔ ( صحیح بخاری : ۹۵۲، صحیح مسلم : ۸۹۲، دار السلام : ۲۰۶۱) یہ اضافہ اگرچہ دوسرے راوی بیان نہیں کرتے مگر ثقہ کی زیادت مقبول ہونے کے اصول سے یہ اضافہ صحیح ہے اور اس حدیث سے غامدی گروپ کا استدلال باطل ہو جاتا ہے ۔ ‘‘
( علمی مقالات صفحہ ۲؍۲۵۵،۲۵۶)
علی زئی نے مولانا عبد الرحمن مبارک پور ی غیرمقلد کی کتاب ’’ ابکار المنن صفحہ ۸۰ سے نقل کیا:
’’ ثقہ کی زیادتی تو اس وقت شاذ ہوتی ہے جب وہ دوسرے ثقہ راویوں کے منافی ہو اور اگر منافی نہ ہوتو وہ مقبول ہوتی ہے اور یہی محققین کا مذہب ہے ……اس حدیث میں اُسامہ بن زید کی زیادتی (اضافہ ) دوسرے راویوں کے منافی نہیں ہے پس یہ زیادت بغیر کسی شک کے مقبول ہے ۔ ‘‘
( علمی مقالات صفحہ ۲؍۲۵۹)
علی زئی صاحب نے اپنے غیرمقلدین :شیخ خبیب اثری وغیرہ کی تردید کرتے ہوئے لکھا:
’’ صحیح مسلم کی حدیث[ اذا قرأ فانصتوا، جب امام قرا ء ت کرے تو تم خاموش رہو۔ (ناقل )] کو ضعیف قرار دینے والوں کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ اگر اُسامہ بن زید اللیثی کی زیادت مقبول ہے تو سلیمان التیمی کی زیادت کیو ں مقبول نہیں ؟!‘‘
( علمی مقالات صفحہ ۲؍۲۵۹)
علی زئی صاحب کی ان عبارات کا حاصل یہ ہے کہ اگر ثقہ راوی حدیث میں کوئی زیادت ؍ اضافی جملہ روایت کرے تو وہ شاذ نہیں، صحیح ہی ہے ۔
ثقہ راوی کی زیادت ضعیف ہوتی ہے، اور مقبول بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد ایک روایت کو ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’چوتھی علت: ابو اسحاق سے امام اعمش کے علاوہ ان کے دوسرے سات شاگردوں نے بھی یہ روایت بیان کی ہے لیکن ان ساتوں میں سے کسی نے بھی تین طلاقوں کا ذِکر نہیں کیا ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۶۲۰ )
دوسری رائے :
اس کے برعکس طاؤس کی زیادت کو قبول کرلیا ۔چنانچہ لکھتے ہیں:
’’جب ثقہ اور حافظ راوی کسی حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہو اس کی حدیث صحیح ہوتی ہے ۔ ‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ۲۸۵)
حُسِبَتْ عَلیَّ بِتَطْلِیْقَۃٍ میں حاسب کی بابت اختلاف
بخاری میں حدیث ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تھی اس طلاق کے متعلق بخاری میں ہی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ’’حسبت علی بتطلیقة ‘‘ہے کہ اس طلاق کو مجھ پر شمار کیا گیا ۔
پہلی رائے :
اس جملہ ’’حسبت علی بتطلیقة ‘‘ کے متعلق غیرمقلدین کا ایک گروہ کہتا ہے کہ حاسب یعنی طلاق کو شمار کرنے والے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’یہ طلاق شمار کرنے والے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی تھے جیسا کہ اسی حدیث کے دیگر الفاظ میں صراحت ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں اس کے فورًا بعد والی رویت میں یہ الفاظ ہیں: قال ابن عمر :فراجعتھا وحسبت لھا التطلیقة التی طلقتھا، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر میں نے اپنی بیوی کو واپس لے لیا اور اسے جو طلاق دی تھی، اسے میں نے شمار کیا ۔ ‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ۱۵۶ )
دوسری رائے :
جب کہ اس کے بالمقابل غیرمقلد ین کا دوسرا فریق کہتاہے کہ شمار کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
مولانا صفی الرحمن مبارک پوری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’﴿وَحُسِبَتْ عَلیَّ بِتَطْلِیْقَۃٍ﴾ فعل صیغہ ٔ مجہول ہے اور حاسب سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے ۔ ‘‘
( اتحاف الکرام شرح بلوغ المرام اردو:۲؍ز۶۹۸، مترجم مولانا عبد الوکیل علوی ، دار السلام لاہور )
تیسری رائے :
خواجہ محمد قاسم غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ حُسِبَت کا فاعل نہ جانے کون ہے ؟ ۔ ‘‘
( ایک مجلس کی تین طلاقیں صفحہ ۴۹)
اختلاف کے عدم ِ علم پر دعویٰ اجماع صحیح ہے، اور غلط بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’یاد رہے کہ اختلاف کے عدمِ علم پر دعوائے اجماع کی شروعات معتزلہ اور جہمیہ کی طرف سے ہوئی ہے ، اور اس کے پیچھے ان کا مقصد یہ تھا کہ اس کے سہارے کتاب و سنت کا رَد کیا جائے ۔‘‘
(احکامِ طلاق صفحہ ۲۲۸ )
دوسری رائے :
اس کے برعکس شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد نے مغنی ابن قدامہ کے حوالہ سے صحابہ کرام کے متعلق لکھا:
’’ ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہیں ہوا، لہذا اس پر اجماع ہے۔ ‘‘
( توضیح الاحکام :۱؍۲۲۱، اشاعت: اکتوبر ؍۲۰۰۹ء )
خود سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’ ہمارے علم کی حد تک کسی بھی ناقد امام نے ان پر کوئی جرح نہیں کی، اسی لئے امام ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں بالاتفاق حجت قرار دیا ہے۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۲۶۵ )
صحابہ کرام کے بعد اجماع کا وقوع ہوسکتا ہے، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’جہاں تک امکانِ وقوع کی بات ہے تو اس سلسلے میں سب سے معتدل قول ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ہے کہ صحابہ کی جماعت میں اس طرح کے اجماع کاحقیقی انعقاد تو بہت ممکن ہے ، لیکن صحابہ کرام کے بعد اَدوار میں اس طرح کے اجماع کا حقیقی انعقاد کافی مشکل ہے ، کیوں کہ عہد صحابہ کے بعد زمین کے بہتے سارے حصوں میں علماء ومجتہدین وجود میں آگئے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال و فتاویٰ کو جمع کرنے اور انہیں بیان کرنے کااہتمام تھا، بعد کے علماء و مجتہدین کے ساتھ یہ معاملہ نہیں رہا۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ساتھ یہی موقف امام ابن حبان ، امام ابن حزم اور علامہ رازی رحمہم اللہ وغیرہ کا بھی ہے ، امام احمد رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ظاہر ہوتا ہے ۔ بلکہ امام احمد رحمہ اللہ تو اس طرح کے معاملے میں لفظِ اجماع کے استعمال ہی کو درست نہیں جانتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں صرف اختلاف سے لاعلمی کی صراحت کی جائے اور اجماع کا لفظ استعمال نہ کیا جائے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۲۱۰ )
دوسری رائے :
غیرمقلدین کے دوسرے گروہ کی رائے ہے کہ صحابہ کرام کے زمانہ کے بعد بھی کسی بات پر امت کااجماع ہو سکتا ہے ۔
حافظ عبد الغفو ر غیرمقلد (خطیب جامع مسجد اہلِ حدیث سرگودھا ) لکھتے ہیں:
’’جملہ محدثین روایت مسلم کو سندا ً اور متناً صحیح تسلیم کرتے ہیں کیوں کہ مسلم کی صحت پر اہلِ سنت کا اتفاق ہے۔ ‘‘
(البیان المحکم صفحہ ۲۵)
خود سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’ صحیح مسلم کی احادیث کے صحیح و مقبول ہونے پر امت کا اجماع ہے ۔ ‘‘
(احکام طلاق صفحہ ۳۴۳)
صحیح مسلم کی حدیثوں کی صحت پر اجماع کا جو دعوی کیا گیا، وہ صحابہ کرام کے دَور بلکہ خیرالقرون کے بھی
بعد ہی متصور ہو سکتا ہے۔ گویا یہاں مان لیا گیاکہ صحابہ کرام کے بعد بھی کسی بات پر اجماع قائم ہو سکتا ہے ۔
بغیر نص کے اجماع منعقد ہوتا ہے، اور نہیں بھی
کسی مسئلہ کے اجماعی ہونے کے لئے نص (قرآن وحدیث ) کا ہونا ضروری ہے یا نص کے بغیربھی اجماع قائم ہو سکتا ہے اس میں غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں :
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ واضح رہے کہ بغیر نص کے حقیقی اجماع کا انعقاد ناممکن ہے، اسی لئے اجماع ِ قطعی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ نص بھی موجود ہوتی ہے۔ ‘‘
(احکام ِ طلاق صفحہ ۲۲۸)
دوسری رائے :
اس کے بالمقابل جب خودکو ضرورت پڑی تو بغیر نص کے اجماع کا وجود مان لیا۔چنانچہ لکھتے ہیں:
’’ یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے جس کی صحت پر پوری امت کا اتفاق ہے ، یعنی اس کی احادیث باجماع امت صحیح و ثابت ہیں۔ خود امام مسلم رحمہ اللہ نے وضاحت کردی ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب صحیح مسلم میں وہی احادیث درج کی ہیں، جن کی صحت پر محدثین کا اجماع تھا۔‘‘
(احکام ِ طلاق صفحہ ۲۵۷)
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ بہت سے مسائل صرف اجماع سے ثابت ہیں مثلاً نومولود کے پاس اذان دینا ……شاذ روایت کا ضعیف و مردود ہونا وغیرہ۔ ‘‘
( علمی مقالات :۵؍۱۰۹)
علی زئی صاحب نے مزید لکھا:
’’ بہت سے مسائل میں سے صرف چالیس (۴۰) ایسے مسائل پیشِ خدمت ہیں جو ہمارے علم کے مطابق صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں ۔‘‘
( علمی مقالات :۵؍۱۱۱)
اختلاف کامعلوم نہ ہونا اجماع کی دلیل ہے ،اور نہیں بھی
کسی مسئلہ کی بابت یہ معلوم ہو کہ اس سے اختلاف کرنے والا کوئی نہیں۔ توکیا صرف اختلاف کرنے والے کا معلوم نہ ہونا اس مسئلہ کی اجماعی ہونے کی دلیل ہے یا نہیں ؟اس میں غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی لکھتے ہیں:
’’رہی بات دعوائے اجماع کی تو اس تحریر میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ معلوم اور قطعی اجماع نہیں بلکہ یہ اجماع مجہول ہے جو اختلاف سے لا علمی کی عمارت پر کھڑا ہے اور اختلاف کا عدمِ علم اختلاف کے عدم وجود پر دلالت نہیں کرتا ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۲۳۲ )
دوسری رائے :
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو فاتحہ خلف الامام کے قائل و فاعل تھے اور ان کا کوئی مخالف معلوم نہیں ہے ، لہذا فاتحہ خلف الامام کے جواز پر گویااجماع سکوتی ہے ۔ ‘‘
( فاتحہ خلف الامام صفحہ ۹۶، مکتبہ اسلامیہ ، اشاعت: ۲۰۰۷ء )
خود سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’ ہمارے علم کی حد تک کسی بھی ناقد امام نے ان پر کوئی جرح نہیں کی، اسی لئے امام ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں بالاتفاق حجت قرار دیا ہے۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۲۶۵ )
امام احمد کا قول ’’ مجھے اختلاف معلوم نہیں ‘‘ اجماع کی دلیل ہے، اور نہیں بھی
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کسی مسئلہ کی بابت اگر یہ فرمائیں کہ مجھے اس میں اختلاف معلوم نہیں تو یہ اجماع کی دلیل ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’بطور ِمثال عرض ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ سے سات لوگوں کی جانب سے بھینس کی قربانی کا سوال ہوا تو انہوں نے جواب دیا : ’’ لااعرف خلاف ھذا ۔( مسائل احمد وابن راھویه ، ت الجامعة الاسلامیة (۸؍۴۰۲۷) مجھے اس کے خلاف کوئی قول معلوم نہیں ۔ ‘‘ یہاں امام احمد رحمہ اللہ نے اختلاف کی عدم معرفت کی بنیاد پر اجماع و اتفاق کا دعوی نہیں کیا، کیوں اس مسئلے میں اختلاف کا عدمِ علم اس بات کومستلزم نہیں کہ اختلاف کا وجود ہی نہ ہو ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ۲۲۹ )
دوسری رائے :
سنابلی صاحب کے برعکس شیخ ابویحی نورپوری غیرمقلد اسے اجماع سمجھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ’’ اہلِ علم کا اتفاق ‘‘ عنوان قائم کرکے لکھا:
’’ امام اہلِ سنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (۱۶۴، ۲۴۱ھ) سے پوچھا گیا کہ کیا بھینس کی قربانی کے سات حصے ہو سکتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : لا اعرف خلاف ھذا ، مجھے اس میں کسی اختلاف کا علم نہیں ۔ (مسائل الامام احمد و اسحاق بروایة الکوسج ، رقم المسئلة : ۲۸۶۵) امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے بھی اس بارے میں امام احمد رحمہ اللہ کی موافقت کی ہے ۔ ‘‘
( بھینس کی قربانی صفحہ ۳)
ثبوت کے لئے کتاب دکھانا ضروری ہے، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’جو لوگ بھی یہ روایت پیش کرتے یں ان پر لازم ہے کہ وہ کرابیسی کی یہ کتاب لا کر
اس میں یہ روایت دکھائیں یاکم اَز کم ماضی کے کسی معتبر عالم سے بھی یہ ثابت کریں کہ انہوں نے بھی کرابیسی کی کتاب سے یہ روایت نقل کی ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۲۸۸)
دوسری رائے :
اس کے برعکس دوسرارخ دیکھئے ۔ سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’ ابن المغلس رحمہ اللہ یہ امام داود ظاہری کے شاگرد ہیں ۔ اور ابن المغلس رحمہ اللہ صاحبِ تصنیفات ہیں ، بلکہ فقہ پر بھی ان کی ایک کتاب الموضح کے نام سے ہے ۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ابن القیم رحمہ اللہ نے ان کی یہ بات ان کی کتاب سے نقل کی ہے ، لہذا یہ فتوی بھی ثابت ہے ۔‘‘
( احکام الطلاق صفحہ ۴۳۹ )
سنابلی صاحب نے حافظ ابن قیم رحمہ اللہ سے نقل کیا:
’’ اسے محمد بن مقاتل الرازی رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے، ان سے یہ قول امام طحاوی نے نقل کیا ہے ۔‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ ۳۹۸ )
مگر سنابلی صاحب نے نہ تو اصل کتاب پیش کی اور نہ ہی کوئی معتبر نقل۔
اطاعت اچھی بات ہی کی پیروی ہے، اور حرام بات کی بھی
پہلی رائے :
مسئلہ تقلید پر بحث میں غیرمقلدین اطاعت اور تقلید میں فرق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اطاعت اچھی وجائز بات ماننے کو کہتے ہیں جب کہ تقلید غلط اورناجائز بات کی پیروی کو۔ثبوت کے لئے مسئلہ تقلید پر لکھی گئی کتابیں دیکھ سکتے ہیں ۔
مولانا محمد یحی گوندلوی غیرمقلدنے اطیعوا اللہ و اطیعوالرسول واولی الامرمنکم کی وضاحت میں لکھا:
’’ اس آیت میں اطاعت کا حکم ہے ، تقلید کا نہیں اور یہ گزر چکا ہے کہ اطاعت اور تقلید باہم متضاد ہیں۔ لہذا اس آیت سے تقلید کا حکم کشید کرنا غلط ہے ۔ ‘‘
( مقلدین ائمہ کی عدالت میں صفحہ ۳۶، ادارہ مطبوعاتِ سلفیہ راولپنڈی، طبع خامس :۲۰۰۲ء)
دوسری رائے :
لیکن اس کے برعکس شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے شیطان کی پیروی پر اطاعت کالفظ تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک روایت درج کی کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے کہا:
’’ عمک عصی اللہ فاندمه و اطاع الشیطان فلم یجعل له مخرجا۔[ سنن سعید بن منصور ، ت الاعظمی (۱؍۳۰۰، رقم : ۱۰۶۵)، واسنادہ صحیح ، ومن طریق سعید بن منصور اخرجه ابن بطة فی ابطال الحیل (ص: ۴۸) ، وقد صرح الاعمش عندہ بالسماع ]…… تمہارے چچا نے اللہ کی نافرمانی کی تو اللہ نے انہیں شرمندہ کیا اور شیطان کی اطاعت کی، اس لئے ان کی خاطر کوئی راستہ پیدا نہیں کیا ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۲۷۳ )
دورِ نبوی اور صدیقی میں کیا جانے والاکام اجماعی عمل ہے، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
کفایت اللہ سنابلی نے روایت نقل کی کہ دورِنبوی ، دورصدیقی اور دورعمری کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک سمجھا جاتا رہا۔ پھر اسے ’’اجماعی مسئلہ ‘‘ قراردیتے ہوئے لکھا:
’’ اوپر صحیح مسلم کی حدیث پیش کی جا چکی ہے کہ عہد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں اس بات پر اجماع تھا کہ ایک وقت کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوں گی۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۳۹۸ )
دوسری رائے :
اس کے بالمقابل دوسرا رُخ بھی ملاحظہ ہو۔ صحیح مسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ عہد رسالت میں ، عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی سالوں میں میں متعہ کیاجاتا رہا ۔ (الحدیث )
سنابلی صاحب نے صحیح مسلم کی اس حدیث میں مذکور’’ متعہ ‘‘کو اجماعی کہنے کی بجائے بعض کا عمل قرار دیا چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ ہم جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کے سبب یہ بھی مانتے ہیں کہ عہد رسالت ، عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں لوگوں کامتعہ پر عمل تھا ... جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ہم منسوخ اور اس پر بعض لوگوں کا عمل مانتے ہیں، کیوں کہ اس کے منسوخ ہونے کا ثبوت موجود ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ بعض صحابہ نسخ سے آگاہ ہونے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتے تھے ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۳۹۰ )
کسی محدث کا راوی کوضعیف کہنا مقبول جرح ہے، اور نہیں بھی
محدثین کا کسی راوی کو ضعیف کہنا قابل قبول جرح ہے یا نہیں ؟اس میں غیرمقلدین کی دو رائے ہیں ۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے محمد بن راشد پر جرح کرتے ہوئے لکھا :
’’امام دارقطنی رحمہ اللہ ( المتوفی: ۳۸۵ھ) نے کہا ... محمد بن راشد محدثین کی نظرمیں ضعیف ہے ... امام بیہقی رحمہ اللہ ( المتوفی : ۴۵۸ھ) نے کہا: محمد بن راشد ضعیف ہے ۔‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ ۴۹۷ )
سنابلی صاحب دوسری جگہ ایک راوی کو ضعیف بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’امام ابن حزم رحمہ اللہ (المتوفی: ۴۵۶ھ) نے کہا: صفوان ضعیف ہے ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ۵۲۲)
دوسری رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’رہی یہ بات ابن عیینہ نے کہا:’’ کنا نتقی حدیث داود بن حصین ‘‘ ہم ان کی حدیث سے بچتے تھے اور عبد الرحمن بن الحکم نے کہا: کانوا یضعفونه ،لوگ ان کی تضعیف کرتے تھے ۔‘‘ تو یہ مفسر کلام نہیں ہے اور اس سے مراد مذکورہ دونوں قسم میں سے کسی قسم والی جرح ہے جس کا جواب دیا چکا ہے ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۳۹۸ )
دَور ِصحابہ میں قیاس تھا ہی نہیں ،اور تھا بھی سہی
پہلی رائے :
مولانا محمد یحی گوندلوی غیرمقلدلکھتے ہیں:
’’امام ابن حزم کے الفاظ میں قیاس پر عمل اور تقلید چوتھی قرن کی پیدا وار ہیں اور پھر قیاس اور تقلید دونوں لازم ملزوم ہیں یعنی جب سے قیاس آیا تو تقلید بھی ساتھ آئی ۔ ‘‘
( مقلدین ائمہ کی عدالت میں صفحہ ۱۵۷، ادارہ مطبوعاتِ سلفیہ راولپنڈی، طبع خامس :۲۰۰۲ء)
دوسری رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا:
’’اسی پرقیاس کرتے ہوئے دوسری طلاق کے لئے بتاتے۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ۲۲۷ )
عدمِ ذِکر کو ترجیح ہے، اورنہیں بھی
صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے لعان کیا ہے ، لعان سے فراغت کے بعدتین طلاقیں دے دیں ۔ ( صحیح بخاری ،رقم : ۵۲۵۹)
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے اس حدیث کاجواب دیتے ہوئے لکھا :
’’ان تینوں صحابہ کی کسی بھی روایت میں لعان کے بعد طلاق کاذِکر نہیں ہے ، جو اِس بات کی زبر دست دلیل ہے کہ یہ لعان طلاق کا محتاج نہیں ۔‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ۴۶۹ )
دوسری رائے :
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلدلکھتے ہیں:
’’ عدم ِ ذکر نفی ذِکر کی دلیل نہیں ہوتا۔ ‘‘
( نور العینین صفحہ ۹۵)
شیخ ابو القاسم محمد محفوظ اعوان غیرمقلدلکھتے ہیں:
’’کسی چیز کے عدم ِذکر سے اس کا عدم وجود لازم نہیں آتا ۔ ‘‘
( المنتقی لابن جارود مترجم صفحہ۱۷۴، انصار السنۃ پبلی کیشنز لاہور)
دوضعیف سندیں مل کر حسن لغیر ہ کے درجہ میں ہوجاتی ہیں ،اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ابن اسحاق نے عن سے روایت کیا ہے ۔ لیکن امام مالک نے ان کی متابعت کر دی ہے ، اس کی سند ضعیف ہے ، مگر دونوں سندیں مل کر روایت حسن لغیرہ ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۴۷۰ )
دوسری رائے :
لیکن اس کے برعکس دوسرے مقام پر سنابلی صاحب ایک اثر کو ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ دکتور مسفر الدمینی نے بھی یہی تحقیق پیش کی ہے کہ یہ بکثرت تدلیس کرنے والے ہیں ، اس لئے ان کا شمار تیسرے طبقے میں ہی ہوگا ۔ امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اسی طریق کی ایک دوسری سند پیش کی ہے جس میں قتادہ کے بعد خلاص نامی راوی کا واسطہ ہے ...عرض ہے کہ اس میں بھی سعید بن ابی عروبہ کا عنعنہ موجود ہے ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۵۸۰ )
یہاں دو سندوں کو حسن لغیر ہ کا درجہ نہیں دیا۔
بداخلاق بیوی کو طلاق دینے کی بابت حدیث صحیح ہی ہے، اور ضعیف بھی
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے ’’المستدرک للحاکم ط الہند ۲؍۳۰۲ رقم:۳۱۸۱‘‘سے حدیث نقل کی :
’’تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جو اللہ سے دعا کرتے ہیں تو اللہ ان کی دعا قبول نہیں کرتا:
ایک وہ شخص جس کی بیوی بد اخلاق ہو پھر بھی وہ اسے طلاق نہیں دیتا ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۷۳ )
اس حدیث کی صحت و ضعف کے حوالہ سے غیرمقلدین میں اختلاف ہے ۔
پہلی رائے :
غیرمقلدین کے ہاں ’’امام المحدثین ‘‘ کا لقب پانے والے مصنف شیخ البانی کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے ۔ چنانچہ شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۷۳ )
سنابلی صاحب نے البانی کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا:
’’ عصر حاضر کے عظیم محدث علامہ البانی رحمہ اللہ ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۳۳۲ )
دوسری رائے :
اس کے برعکس کئی غیرمقلدین نے اسے ضعیف کہاہے ۔ چنانچہ شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد علامہ اسحا ق الحوینی حفظہ اللہ نے اسے مرفوعاً اور موقوفاً ہر طرح سے ضعیف قرار دیا ہے جیسا کہ ان کے ایک صوتی درس میں ان کا بیان ریکارڈ ہے۔ اسی طرح علامہ البانی رحمہ اللہ کے ایک دوسرے شاگرد علامہ مقبل بن الہادی رحمہ اللہ نے بھی اسے مطلقا ً ضعیف قرار دیا ہے ۔ دیکھیں احادیث معلة ظاہرھا الصحة ص: (۲۷۰ )ہماری نظر میں شاگرد حضرات کی تحقیق ہی راجح ہے ۔ اوریہ روایت ضعیف ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۷۳ )
گواہوں کے موجودگی کے بغیر طلاق نہیں ہوتی ،اور ہوتی بھی ہے
طلاق کے وقوع کے لئے بوقت طلاق گواہوں کا ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟ اس سلسلے میں غیرمقلدین کی مختلف رائے ہیں ۔ ایک فریق کی رائے ہے کہ گواہوں کی موجودگی کے بغیر دی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی،
جب کہ دوسرے گروہ کی تحقیق یہ ہے کہ طلاق دینے کے وقت گواہ نہ ہوں تو بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
پہلی رائے :
علامہ احمد شاکر غیرمقلد کی رائے ہے کہ بغیر گواہوں کے دی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’بعض اہلِ علم کا ماننا ہے کہ طلاق کے وقت گواہ بھی شرط ہے ۔ اگر بغیر گواہ کے طلاق دی گئی تو وہ طلاق واقع ہی نہیں ہوگی ۔ امام عطاء بن ابی رباح ،عبد الملک بن جریج ، علامہ احمد شاکر، ابن حزم رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۸۸ )
دوسری رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ہمارے نزدیک اس سلسلے میں راجح بات یہ ہے کہ گواہی واجب مانیں یا مستحب ۔ بہرصورت طلاق کے وقوع پر اس کا کوئی اَثر نہیں پڑتا ، اس کی دلیل یہ حدیث ہے : امام ابوداود رحمہ اللہ ( المتوفی : ۲۷۵ھ ) نے کہا .... مطرف بن عبد اللہ سے روایت ہے: عمران بن حصین رضی اللہ عنہاسے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دے ، پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کر لے اوراپنی طلاق اور رجعت کے لئے کسی کسی کو گواہ نہ بنائے تو انہوں نے کہا کہ تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف رجعت کی ، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لئے گواہ بناؤ اورپھر اس طرح نہ کرنا۔[ سنن ابی داود ( ۲؍۲۵۷) و صححه الالبانی ۔] سنن بیہقی کی روایت میں ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: فلیشھدالآن [ السنن الکبری (۷؍۳۷۳ ) واسنادہ صحیح ، وابن سیرین سمع عمران کما قال ابن معین ، وروایته عنه فی صحیح مسلم ]’’ یہ شخص اَب گواہ بنا لے ۔‘‘ اس حدیث میں صحابی رسول نے بغیر گواہی کے دی گئی طلاق کو غیر واقع نہیں کہا ۔ بلکہ یہ کہا : اس پر اَب گواہ بنا لو اور اسے سنت قرار دیا جو حکما مرفوع ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عین طلاق کے وقت گواہ بنا ضروری نہیں ، بلکہ بعد میں بھی گواہ بنایا جا سکتا ہے ،لہذا اس سے طلاق پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۸۸،۸۹ )
خلافِ سنت دی گئی طلاق واقع ہوتی ہے، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدکا حوالہ اوپر گزرا ہے کہ گواہوں کی موجودگی کی بغیر دی جانے والی طلاق خلافِ سنت ہے ۔اس میں یہ بات بھی ہے کہ خلافِ سنت ہونے کے باوجود طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔
دوسری رائے :
لیکن اس کے برعکس سنابلی صاحب یوں بھی کہتے ہیں کہ خلاف ِ سنت دی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ حالت ِ حیض میں دی گئی طلاق کتاب و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے اور ایک بدعی عمل ہے توبدعی اعمال کے بارے میں کتاب و سنت میں ایک اصول موجود ہے کہ یہ مردود و ناقابل اعتبار ہوتے ہیں ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۹۵ )
علامہ وحید الزمان غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اہلِ حدیث کا راجح مذہب یہ ہے کہ طلاق اسی صورت میں پڑتی ہے جب سنت کے موافق ایسے طہر میں طلاق دے جس میں وطی نہ کی ہو ۔ اور جو شخص خلافِ سنت طلاق دے یا تینوں طلاق ایک ہی بار دے دے یا سخت غصہ کی حالت میں طلاق دے…… تو ان سب صورتوں میں طلاق واقع نہ ہوگی۔ ‘‘
( لغات الحدیث :۱؍۲۵، ب )
ابن عمر شرعی مسئلہ میں والد کی رعایت کرتے تھے، اور نہیں بھی
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ صرف سنت نبوی ہی کی پیروی کرتے تھے یاخلاف ِسنت اپنے والد محترم
کی بھی ۔اس کے متعلق غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خود بھی یہ ثابت ہے کہ وہ طلاق ِ حیض کو واقع نہیں مانتے تھے ، اوردوسری طرف ان کے والد عمر رضی اللہ عنہ نے سرکاری طور پر لوگوں کی تادیب و تعزیز کے لئے تین طلاقوں کو نافذ کر دیا تھا ، اس لئے ظاہر ہے کہ ان کی طرف سے تین طلاقوں کے وقوع کا فتوی اپنے والد کے سرکاری فرمان کی رعایت میں لوگوں کی تادیب و توبیخ ہی کے لئے تھا ۔ اس بابت بھی مزید تفصیل آگے آرہی ہے ۔ دیکھئے ،ص: ۱۱۰تا ۱۱۹۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۹۳،۹۴ )
سنابلی صاحب آگے لکھتے ہیں:
’’ در اَصل طلاق سے متعلق عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دو فتوے ہیں : ایک یہ طلا قِ بدعت واقع نہیں ہوگی ۔ مثلا : بیک وقت تین طلاقیں ایک ہی ہوں گی ، اسی طرح حالتِ حیض میں دی گئی طلاق کا شمار نہیں ہوگا ۔ یہی ان کا اصلی اور شرعی فتوی ہے ۔ لیکن ان کے والد نے جب طلاق ِ بدعت کو بھی تعزیزا نافذ کرنے کا فرمان جاری کیا تو اس کی رعایت میں وہ طلاق بدعت کے وقوع کا فتوی دیتے، یعنی بیک وقت تین طلاقوں کو تین بتلاتے اور طلاق ِ حیض کو بھی شمار کرتے۔ یہ ان کا اصلی فتوی نہیں تھا ، بلکہ سرکاری فرمان کے تحت عارضی فتوی تھا ۔ اس کی مزید وضاحت آگے آرہی ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۱۸ )
سنابلی صاحب نے یوں بھی لکھا:
’’ خلاصہ یہ کہ جب اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی روایت کردہ صریح حدیث کے خلا ف موقف اپنا سکتی ہیں تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طلاق سے متعلق اپنی حدیث کے خلاف تو بدرجہ ٔ اولیٰ فتوی دے سکتے ہیں ،کیوں کہ ان کے والد نے طلاق ِ بدعت کے وقوع کا قانون ہی بنا دیا
تھا ۔ ‘‘
( احکام طلاق صفحہ ۲۱۹)
دوسری رائے :
مولانا محمد یحی گوندلوی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ عبد اللہ بن عمر ؓ: آپ سنت نبوی کے ایسے محب تھے کہ سنت کی اتباع میں اپنے باپ کے حکم کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور اپنے بیٹے سے قطع کلامی کرلیتے تھے ۔ حج کے باب میں یہ واقعہ کس قدر مشہور ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا : کیا حج تمتع جائز ہے ؟ تو انہوں نے جواز کا فتوی دیا ۔ سائل نے کہنے لگا: تمہارا باپ (خلیفہ ثانی ) تو اس سے منع کرتا ہے اور تم اس کے جواز کا فتوی دیتے ہو ۔ اس موقع پر انہوں نے جو جواب دیا وہ[سنابلی جیسے غیر (ناقل )] مقلدین کو غور وفکر کی دعوت دیتا ہے : امر ابی یتبع ام امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اتباع میرے باپ کی ہوگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔ ‘‘ ( مقلدین ائمہ کی عدالت میں صفحہ ۹۳)
اعمش کی تدلیس وجہ ضعف ہے، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’یہ روایت ضعیف ہے ، اس میں تین علتیں ہیں : اول : اعمش عن سے روایت کر رہے ہیں اور یہ تیسرے طبقے کے مدلس ہیں ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۵۶۸ )
دوسری رائے :
اس کے برعکس دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے ۔ اور کئی محققین کی نظر میں یہ روایت صحیح ہے مگر اس کی سند میں اعمش کا عنعنہ ہے ، لیکن اعمش نے یہاں ’’ عن المسیب بن رافع ، عن زید بن وھب ‘‘ کے طریق سے روایت کیا ہے اور زید بن وہب امام اعمش کے استاذ ہے ، اس لئے امام اعمش کو تدلیس کرنی ہوتی تو المسیب بن رافع کو ساقط کرکرکے روایت کرتے جیسا کہ عبد الرزاق کی سند میں انہوں نے المسیب بن رافع کو ساقط کرکے زید بن وہب سے روایت کیا ہے ۔ لیکن یہاں وہ المسیب بن رافع کے واسطے سے زید بن وہب سے روایت کر رہے ہیں جس سے اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے اس سند میں تدلیس نہیں کی ہے۔‘‘ ( احکام ِ طلاق صفحہ۵۰۸ )
تنبیہ: امام اعمش رحمہ اللہ کی تدلیس مضر ہے یا نہیں؟ اس میں دیگر غیرمقلدین بھی مختلف ہیں۔ کچھ کے ہاں مضر ہے، اور کچھ کے ہاں نہیں ۔ مگر ہم نے صرف سنابلی کے حوالوں پر اکتفاء کیا ہے ۔
ولم یرھا شیئا صحیح ہے ،اور نہیں بھی
ایک روایت ہے جس میں ولم یرھا شیئا جملہ ہے۔ طلاق الحائض کو واقع نہ ماننے والے لوگ اس کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی طلاق کو کچھ نہ سمجھا یعنی اسے واقع خیال نہیں کیا ۔ اس روایت کی صحت و ضعف میں غیرمقلدین کا اختلاف ہے ۔
پہلی رائے :
ایک فریق کی رائے ہے کہ یہ روایت صحیح ہے ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’سند کے اعتبار سے بھی یہ حدیث بالکل صحیح ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۰۲ )
سنابلی صاحب نے آگے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے تصحیح کا حوالہ نقل کرکے لکھا:
’’ علامہ البانی رحمہ اللہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا یہ فیصلہ نقل کرنے کے بعد اس کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں : وھو الحق الذی لا ریب فیه ، یہی بات حق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ علامہ الصنعانی رحمہ اللہ ( (المتوفی : ۱۱۸۲ھ ) نے کہا: واسنادہ علی شرط الصحیح ، اس کی سند صحیح کی شرط پر ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۰۳ )
دوسری رائے :
جب کہ غیرمقلدین کے دوسرے گروہ کی تحقیق کے مطابق یہ روایت ضعیف ہے ۔
مولانا عبد المنان نور پوری غیرمقلدنے اسے ’’بہ تقدیر صحت ۔ ‘‘ کہہ کر اس کی صحت کو مشکوک قرار دیا۔ ( احکام و مسائل :۲؍۴۷۶)
نور پوری صاحب کی عبارت اگلے عنوان ’’ ولم یرھا شیئاقابل تاویل ہے، اور نہیں بھی‘‘ کے تحت آرہی ہے ، ان شاء اللہ ۔
ولم یرھا شیئا قابل تاویل ہے، اور نہیں بھی
طلاق الحائض کے متعلق روایت ہے جس میں ولم یرھا شیئا کے الفاظ ہیں ۔ یہ الفاظ قابل تاویل ہیں یا نہیں ؟ اس میں غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں ۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ان اہلِ علم نے ظاہری معنی کے اعتراف کے بعد اس کی تاویل کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن اس تاویل کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۱۰۲)
سنابلی صاحب نے آگے لکھا:
’’امام ابن حزم رحمہ اللہ (المتوفی : ۴۵۶ھ) نے کہا: یہ سند حد درجہ صحیح ہے ، اس میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۰۲ )
دوسری رائے :
اس کے برعکس غیرمقلدین کا دوسرا گروہ اس روایت میں تاویل کرکے پہلے فریق کے برعکس مطلب نکالتا ہے ۔
مولانا عبد المنان نور پوری غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ رہی روایت وَلَمْ یَرَھَا شَیْئاً ‘‘ بتقدیر صحت اس کا معنی ہوگا: ’’ وَلَمْ یَرَھَا شَیْئًا یَمْنَعُ الطَّلَاقَ ‘‘ تاکہ دونوں روایتوں میں تطبیق ہو جائے تو پہلی طلاق در حیض بھی واقع ہو چکی ہے ۔ ‘‘
( احکام و مسائل :۲؍۴۷۶)
سکوت ابی داود معتبر ہے ،اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ جس روایت پر امام ابوداود سکوت کریں ،وہ ان کے نزدیک حجت ہوتی ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۴۸۰ )
دوسری رائے :
مولانا ثناء اللہ امرتسری غیرمقلدکہتے ہیں :
’’ ابو داود کا اصول ہے کہ جس حدیث پر سکوت کرے وہ صحیح ہے۔ ‘‘
( سیرت ثنائی صفحہ ۳۳۵)
تنبیہ: اور بھی کئی غیرمقلدین نے لکھا ہے کہ جس حدیث پر امام ابو داود رحمہ اللہ سکوت اختیار کریں، وہ ان کے نزدیک صحیح ہوتی ہے ۔ حوالہ جات بندہ نے اپنی اسی کتاب میں تین طلاقوں کے تین ہونے پر حدیث ابی داود کے تحت نقل کر دئیے ہیں۔
فاعلین معلوم نہ ہوں تو بات معتبر ہے ،اور نہیں بھی
جب کسی کتاب میں مجہول لوگوں کی طرف سے کسی راوی پرجرح منسوب ہو تو کیا وہ جرح قابل اعتبار ہے یا نہیں ؟ اس میں غیرمقلدین کا طرز عمل دو طرح کا ہے ۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے ایک راوی پر جرح کرتے ہوئے لکھا :
’’امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی: ۲۵۶ھ) نے کہا: ترکوہ ،لوگوں نے اسے ترک کر دیا ہے ۔‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ ۵۱۰ )
یہاں متروک قرار دینے والے لوگوں کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کون ہیں؟ مگر سنابلی صاحب نے اس کو بطور جرح کے پیش کر دیا ہے ۔
دوسری رائے :
اس کے برعکس دوسری رائے یہ ہے کہ نامعلوم جارحین کی جرح کا کوئی اعتبار نہیں ۔
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں :
’’ حافظ ابن عبد البر نے بعض مجہول لوگوں سے ’’ ضعفوہ ‘‘ کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ضعیف قرار دینے والے لوگ کون ہیں؟ہمیں معلوم نہیں۔‘‘
( توضیح الاحکام : ۱؍۵۹۷، ۵۹۸)
مولانا ارشاد الحق اثری غیرمقلد لکھتے ہیں :
’’ سوال یہ ہے کہ غیرہ من اھل العلم کون ہیں ؟کیا اہل علم نے جارح مبہم کی جرح کااعتبار کیاہے ؟‘‘
(توضیح الکلام صفحہ ۳۰۹)
عطاء خراسانی ثقہ ہے، اور ضعیف بھی
تین طلاقوں کے تین ہونے کی ایک حدیث عطاء خراسانی کی سند سے مروی ہے۔اس راوی کے متعلق غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں۔ بعض نے ضعیف کہا، اور بعض نے ثقہ ۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اس روایت کی تمام سندوں میں عطاء الخراسانی موجود ہیں جن کے سبب یہ سندیں ضعیف ہیں ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۸۵ )
سنابلی نے دوسری جگہ لکھا :
’’ عطاء الخراسانی کے ضعف کے سبب بھی یہ روایت ضعیف و منکر ہے ۔ ‘‘
( احکام طلاق صفحہ ۱۹۲)
دوسری رائے :
شیخ ارشاد الحق اثری غیرمقلد لکھتے ہیں :
’’ عطاء خراسانی ... صحیح مسلم کے راوی اور صدوق ہیں۔‘‘
( توضیح الکلام صفحہ ۶۱۲)
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ عطاء بن ابی مسلم الخراسانی :قال ابن عراق الکنانی : الجمھور علی توثیقه ۔(تنزیه الشریعة :۲؍۳۷۲، ح ۲۸)
ترجمہ: عطاء بن ابی مسلم الخراسانی : ابن عراق الکنانی نے کہا: جمہور اس کی توثیق پہ قائم ہیں۔
( علمی مقالات :۳؍۳۵۷)
حافظہ پر جرح ’’جرح مفسر ‘‘ہے ،اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے عطاء الخراسانی کے متعلق لکھا:
’’ ان کے حافظے پر مفسر جرح موجود ہے ، لہذا یہ روایت ضعیف و منکر ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۹۲ )
سنابلی صاحب نے عطاء الخراسانی کے مزید متعلق لکھا :
’’ کئی محدثین نے ان کے حافظے پرجرح کی ہے اور یہ سب جرح مفسر ہے ۔ اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا ہے کہ ان کاحافظہ کمزور تھا، اور ایسا راوی اگر معروف و مشہور روایت کوتنہاہی الگ انداز سے بیان کرے تو اس کا منفرد بیان قطعاً قابلِ قبول نہیں ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس روایت کو محدثین نے بالاتفاق ضعیف قرار دیاہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۸۸ )
سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’سندمیں موجود ’’محمد بن راشد ‘‘ اگرچے سچے ہیں ،مگر ان کے حافظے پر جرح ہوئی ، چنانچہ .... ۔‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ۴۹۷ )
سنابلی صاحب دوسری جگہ حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ روایت ضعیف ہے ، سند میں موجود ’’ محمد بن راشد ‘‘ اگرچہ سجے ہیں ، مگر ان کے حافظے پر جرح ہوئی ہے ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ۵۱۹ )
سنابلی صاحب نے ایک راوی کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے ’’صدوق ‘‘ہونانقل کرکے لکھا :
’’اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان کا ضبط اور حافظہ بھی ٹھیک رہا ہو ، اور اصطلاحی ثقہ و صدوق ہونے کے لئے راوی کا دیانت دار ہونے کے ساتھ ساتھ ضابط ہونا بھی ضروری ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۵۶۰ )
دوسری رائے :
اس کے برعکس سنابلی صاحب نے یوں بھی لکھا:
’ ’ ان ائمہ کے اقوال سے پتا چلا کہ یہ راوی عادل اور سچا ہے صرف حافظے کے لحاظ سے اس پرجرح ہے ، یہی خلاصہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے ، چنانچہ کہا: وعبد اللہ بن المؤمل لم یطعن علیه احد الا من سوء حفظه ، عبد اللہ بن مومل پر سوئے حفظ کے علاوہ کسی نے بھی کوئی اور جرح نہیں کی ہے ۔ ‘‘ [الاستذکار لابن عبد البر (۴؍۲۳) ]لہذا یہ راوی جب عادل و سچا ہے اور اس کی روایت ساقط نہیں ہے تو اس کی اپنے استاد ابن ابی ملیکہ کے واسطے سے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث صحیح ہے ... البتہ ... سائل کانام ابوالجوزا ء بتایا ہے تو عبد اللہ بن مؤمل کی غلطی ہے جو اُن کے سُوئے حفظ کا نتیجہ ہے ،
اس کے علاوہ باقی ان کی پوری روایت صحیح ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۲۸۰ )
ایک کی توثیق سے جہالت رفع ہوجاتی ہے، اور نہیں بھی
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ابو یزید الخولانی کی توثیق میں مروان بن محمد الطاطری کے اس قول کے علاوہ کسی بھی امام کا قول نہیں ملتا ہے ، حتی کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی اسے ثقات میں ذِکر نہیں کیا ہے ، لیکن اہلِ علم نے محض مروان بن محمد الطاطری کی اس تعدیل کے سبب اسے صدوق مانا ہے اور مذکورہ حدیث کو حسن تسلیم کیا ہے ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۳۱۷ )
دوسری رائے :
دوسرا رخ ملاحظہ ہو۔ سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’اسے ابن حبان نے ثقات میں ذِکر کیا ہے۔ اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے ، لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ ۵۸۴ )
کتاب و سنت میں رجوع کالفظ لغوی ہی ہے، اور اصطلاحی بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’فقہی اصطلاح میں طلاق کے باب میں جب مراجعت یا رجوع کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو فقہاء کی اصطلاح میں اس کا خاص معنی یہ ہوتا ہے : طلاق شدہ بیوی سے رجوع کرنا ۔ لیکن اس لفظ کا یہ اصطلاحی مفہوم صرف فقہاء کے کلام میں ہی مراد ہوگا اور اگر عین یہی لفظ یا اس سے ملتا جلتا لفظ قرآن و سنت میں مستعمل ہوگا تو اس سے ائمہ کا اصطلاحی معنی مراد لینا غلط ہوگا ۔ بہت سارے لوگ یہ بات سمجھ نہیں پاتے اور قرآن وحدیث کی تفسیر و تشریح غلطی کر جاتے ہیں ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۲۶ )
دوسری رائے :
اَب دوسرا رخ ملاحظہ ہو۔
سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’معلوم ہوا کہ کتاب و سنت میں رجوع کا لفظ صرف طلاق کے بعد والے اصطلاحی رجوع کرے لئے ہی نہیں آتا ہے ، بلکہ اور دیگر معانی کے لئے بھی آتا ہے۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۲۸ )
طلاق الحائض کے وقوع کی حدیث صحیح بھی ہے، اور نہیں بھی
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے سنن دارقطنی سے حدیث نقل کی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی ۔ یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا:
’’ وہ اپنی بیوی کو واپس لے لیں ، پھر اس کی عدت میں طلاق دیں اور یہ جو پہلی بار انہوں نے طلاق دی ہے ، اسے شمار کیا جائے گا۔ ‘‘
اس حدیث کی صحت کے متعلق غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں ۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد مذکورہ حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہ روایت ضعیف ہے ، کیوں کہ عامر شعبی یہاں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے کوئی روایت بیان نہیں کر رہے ، بلکہ براہ راست عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا واقعہ بیان کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ واقعہ ان کے دَور کا نہیں ہے ، اس لئے ان کی بیان کردہ یہ روایت مرسل ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ ۱۷۴ )
دوسری رائے :
لیکن اس کے برعکس شیخ البانی غیرمقلد کی تحقیق میں یہ حدیث صحیح ہے ۔
سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
’’اس واضح ارسال و انقطاع کے باوجود بھی اس روایت کے بارے میں علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا : وھذا اسناد صحیح رجاله ثقات علی شرط الشیخین ۔[ ارواء الغلیل للالبانی (۷؍۱۳۱) یہ سند صحیح ہے ،اس کے رجال شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۱۷۵ )
ابن شہاب زہری کا عنعنہ ضعف کا سبب نہیں ، اور ہے بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے عن معمر عن الزھری عن سالم الخ سند سے روایت نقل کرکے اس کے متعلق حاشیہ میں لکھا :
’’ اسنادہ صحیح۔‘‘
( احکام ِ طلاق صفحہ ۲۲۴ )
سنابلی صاحب نے ابن شھاب عن ابن عباس سے دو رواتیں نقل کیں، اور حاشیہ میں دونوں کے متعلق لکھا:
’’ اسنادہ صحیح۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۴۱۹ )
سنابلی صاحب نے ابن شھاب عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان کی سند کو ’’ اسنادہ صحیح ‘‘ کہا ۔ ( احکامِ طلاق صفحہ۵۴۳ )
سنابلی صاحب نے اپنی کتاب میں عن معمر عن الزھری عن سالم عن ابن عمر سندسے حدیث نقل کی ۔پھر اس کے متعلق حاشیہ میں لکھا:
’’ اسنادہ صحیح ‘‘
( احکام طلاق صفحہ ۵۴۹)
مطلب یہ ہے کہ سنابلی صاحب کے نزدیک زہری کا عن سے روایت بیان کرنا ضعف کا باعث نہیں ،
روایت اس کے باوجود صحیح ہی ہوتی ہے ۔
دوسری رائے :
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ میری تحقیق میں راجح یہی ہے کہ امام زہری مدلس ہیں ،لہٰذا یہ سند ضعیف ہے ۔ ‘‘
( القول المتین صفحہ ۲۰، مکتبۃ الحدیث اٹک ، اشاعت:جنوری ؍ ۲۰۰۴ء )
علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فاتحہ خلف الامام کا حکم مروی ہے ، لیکن اس کی سند امام زہری کے عنعنہ کی وجہ سے معلول ہے ، لہذا میں اس ضعیف روایت سے استدلال نہیں کرتا ۔ ‘‘
( فاتحہ خلف الامام صفحہ ۷۲، مکتبہ اسلامیہ ، اشاعت: ۲۰۰۷ء )
علی زئی صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’ اگرچہ اس کے تمام راوی صحیحین کے راوی ہیں مگر یہ سند امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے کیوں کہ ان پر تدلیس کا الزام ثابت ہے، لہذا اس اَثر کے ذِکر کرنے سے اجتناب کر رہاہوں کیوں کہ یہ میری شرط پر نہیں ہے۔ ‘‘
( فاتحہ خلف الامام صفحہ ۹۰ )
شیخ غلام مصطفی ظہیر غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ یاد رہے کہ طیوریات (۲؍۷۴۰) والی روایت امام زہری رحمہ اللہ کی ’’ تدلیس ‘‘ کی وجہ سے ضعیف ہے ۔‘‘
(نکاح ِ متعہ تا قیامت حرام ہے صفحہ : ۴۴)
دورِ نبوی اور دورصدیقی میں کیا جانے والا عمل اجماع ہے، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عہد رسالت میں بیک وقت دی گئی تین
طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلاف میں بھی اسی بات پر اجماع ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۴۰۷ )
سنابلی صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’ تین طلاقوں کے ایک ہونے پر اجماع ہوا ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۳۳۰ )
دوسری رائے :
صحیح مسلم میں متعہ کی بابت حدیث ہے جس کا مفہوم ہے ۔ صحابی فرماتے ہیں کہ ہم دور نبوی اور دور ِ صدیقی میں متعہ کرتے رہے ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلدنے اس متعہ والی اس حدیث کی بابت لکھا :
’’ہم جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کے سبب یہ بھی مانتے ہیں کہ عہد رسالت ، عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں لوگوں کامتعہ پر عمل تھا ... جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ہم منسوخ اور اس پر بعض لوگوں کا عمل مانتے ہیں ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۳۹۰ )
دورِ نبوی اور دور صدیقی میں کئے جانے والے متعہ کے عمل کوسنابلی صاحب اجماعی کہنے کی بجائے بعض لوگوں کا عمل باور کرارہے ہیں ۔
سفیان ثوری کی تدلیس وجہ ضعف ہی ہے اور نہیں بھی
اگر سفیان ثوری کسی حدیث کو عن کہہ کر بیان کرے تو وہ روایت عن کی وجہ سے ضعیف ہوتی ہے یا نہیں ؟ اس میں غیرمقلدین کی دو رائیں ہیں۔
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد نے عن سفیان الثوری عن عبد اللہ بن شریک العامری سند سے روایت نقل کرکے حاشیہ میں لکھا:
’’ اسنادہ حسن ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۵۵۱،۵۵۲ )
مزید تفصیل کے لئے سنابلی صاحب کی کتاب ’’ انوار البدر ‘‘ دیکھیں۔
دوسری رائے :
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ سفیان ثوری کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ ( ثقہ امام فقیہ ، مجتہد امیر المومنین فی الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ ) مدلس بھی تھے اور ضعفاء وغیرہم سے تدلیس کرتے تھے ،لہذا غیر صحیحین میں ان کی معنعن روایت عدم ِ متابعت و عدم ِ تصریح ِ سماع کی صورت میں ضعیف و مردود ہوتی ہے ……یہی تحقیق راجح و صحیح ہے ۔ راقم الحروف نے اسے نور العینین (طبع جدید ص ۱۳۴، ۱۳۸) اور التاسیس فی مسئلۃ التدلیس (مطبوعہ ماہ نامہ محدث لاہور جنوری ۱۹۹۶ء ج ۲۷ عد ۴، ماہ نامہ الحدیث حضرو: ۳۳) میں اختیار کیا ہے ۔ ‘‘
(توضیح الاحکام :۱؍۵۷۰)
صحیح مسلم کی حدیثوں کے صحیح ہونے پر اجماع ہے ، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ محدثین کے نزدیک اس روایت کے قبول ہونے کی زبر دست دلیل یہی ہے کہ امام مسلم نے اسے اپنی صحیح مسلم میں روایت کیا ہے اور صحیح مسلم کی احادیث کے صحیح و مقبول ہونے پر امت کا اجماع ہے ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۳۴۳ )
دوسری رائے :
مولانامحمد گوندلوی غیرمقلد نے صحیح مسلم کی ایک حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے لکھا :
’’ بعض حنفیہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ’’ صحیحین میں جو مدلسین کی روایات ہیں ،وہ
سماع پر محمول ہیں ‘‘ مگر یہ قاعدہ ان احادیث میں چلتا ہے جہاں تنقید نہ ہوئی ہو ۔ یہ قاعدہ ہر جگہ جاری نہیں رہتا۔ اور حدیث زیر بحث پر تنقید ہوچکی ہے۔‘‘
( خیر الکلام صفحہ ۳۰۵، ناشر: مکتبہ نعمانیہ اردو بازار گوجرانوالہ ، اشاعت: جنوری ؍۲۰۰۲ء )
نافع بن عجیر ثقہ راوی ہے، اورضعیف بھی
مسئلہ تین طلاق کی ایک حدیث سیدنا نافع بن عجیر کی سند سے مروی ہے ۔ اس راوی کی بابت غیرمقلدین کا اختلاف ہے کہ یہ ثقہ ہے یا ضعیف ؟
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانه کے بارے میں امام ابن القیم رحمہ اللہ (المتوفی: ۷۵۱ھ) نے کہا : یہ مجہول ہے اس کی حالت کا کچھ پتہ نہیں ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۵۰۴ )
دوسری رائے :
شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں :
’’ نافع بن عجیرکو ابن حبان نے کتاب الثقات (۵؍۴۶۹)میں ذکر کیااور حاکم نے مستدرک (۳؍۲۱۱ح ۴۹۳۹) میں اور ابوداود نے اُن کی حدیث کو صحیح کہا۔ ابو القاسم البغوی، ابو نعیم الاصبہانی، ابو موسیٰ اور ابن حجر عسقلانی وغیرہم نے اُنہیں صحابہ میں ذکر کیا۔دیکھئے الاصابہ ( ۳ ؍ ۵۴۵ ت ۸۶۶۱) خلاصہ یہ کہ نافع بن عجیر یا تو صحابی تھے یا ثقہ و صدوق تابعی تھے،رحمہ اللہ۔ اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ اُن راویوں کو مجہول و مستور قرار دے کر اس حدیث کو رَد کر دینا غلط ہے۔‘‘
( توضیح الاحکام : ۱؍ ۵۹۸)
طلاق بتہ کے بعد رجوع ہو سکتا ہے، اور نہیں بھی
اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے تو اس کے بعد اسے رجوع کا حق ہے یا نہیں ؟ اس میں غیرمقلدین
کی آراء مختلف ہیں۔
پہلی رائے :
غیرمقلدین کی طرف سے شائع کردہ مؤطامالک مترجم میں لکھا ہے :
’’اہلِ حدیث حضرات کے نزدیک طلاق بتہ سے ایک رجعی طلاق واقع ہوگی ۔‘‘
(المؤطا :۲؍۴۵۹ ،تحت حدیث:۱۱۳۵،ترجمہ و تخریج و شرح حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم حفظہ اللہ ، تحقیقی افادات : علامہ ناصرالدین البانی، ڈاکٹر سلیم الہلالی ، احمد علی سلیمان المصری ، نظرثانی : حافظ عبداللہ رفیق و حافظ حامد محمود الخضری ، تقریظ: شیخ الحدیث عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ ،اسلامی اکادمی ۱۷۔الفضل مارکیٹ اردو بازار لاہور )
دوسری رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’عہدِ رسالت میں طلاق ِ بتہ صرف اس طلاق کو کہا جاتا تھا جو سنت کے مطابق تیسری بار دی جاتی تھی جو طلاق بائن بینونة کبری ہوتی تھی ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۴۰۵ )
پہلی طلاق سے رجوع کئے بغیر دوسری و تیسری طلاق دینا جائز ہے ، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ایک طلاق دینے کے بعد جب تک آدمی رجوع نہیں کرتا تب تک وہ دوسری طلاق نہیں دے سکتا ۔‘‘
( احکامِ طلاق صفحہ۸۷ )
دوسری رائے :
کسی نے سوال کیا:
’’ بغیر رجوع کئے ایک آدمی تین طلاقیں وقفہ وقفہ سے دے سکتا ہے ؟ ( قاسم بن سرور) ‘‘
مولانا عبد المنان نور پوری غیرمقلدنے اس کا یوں جواب دیا :
’’ہاں دے سکتا ہے ۔‘‘
( احکام و مسائل :۲؍۴۷۷)
رجوع کے بغیر دوسری اور تیسری طلاق واقع ہے، اور نہیں بھی
پہلی رائے :
شیخ کفایت اللہ سنابلی غیرمقلد لکھتے ہیں:
’’ اگر کسی نے سابقہ طلاق سے رجوع کے بغیر دوسری طلاق دی تو یہ ناجائز اور بدعی ہوگی اور اس کا کوئی اعتبار نہ ہوگا ۔
( احکام طلاق صفحہ ۸۷)
سنابلی صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’ایک مرتبہ طلاق کے بعد بغیر رجوع کے دوسری مرتبہ طلاق دینے کی گنجائش نہیں ہے ۔ لہذا اگر کسی نے ایک مرتبہ طلاق کے بعد رجوع کے بغیر دوسری مرتبہ طلاق دے دی تو اس آیت کی خلاف ورزی ہوئی ۔‘‘
( احکام ِطلاق صفحہ ۲۴۵ )
دوسری رائے :
کسی نے سوال کیا :
’’ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو دن میں یکے بعد دیگرے تین دفعہ طلاق کہہ دے۔ کیا رجوع کے لئے حلالہ کرانا فرض ہو جاتا ہے ؟ (نصیر احمد، عالم چوک گوجرانوالہ )‘‘
مولانا عبد المنان نور پوری غیرمقلدنے اس سوال کے جواب میں لکھا:
’’ صورتِ مسؤلہ میں چوں کہ تین طلاقیں الگ الگ متعدد مجلسوں میں دی گئی ہیں۔ اس لئے تینوں ہی واقع ہو چکی ہیں ۔ لہذا یہ عورت اپنے میاں کے لئے حلال نہیں حتی کہ وہ کسی اور مرد کے ساتھ نکاح کرے ، پھر دوسرا خاوند اپنے اختیار سے بلا جبر و اکراہ اسے طلاق دے دے تو پھر وہ پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے بشرطیہ کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم رکھنے کا عزم و ظن رکھیں ۔ ‘‘
( احکام و مسائل : ۲؍۴۹۱)
کسی نے سوال کیا:
’’ بغیر رجوع کئے ایک آدمی تین طلاقیں وقفہ وقفہ سے دے سکتا ہے ؟ ( قاسم بن سرور) ‘‘
مولانا عبد المنان نور پوری غیرمقلدنے اس کا یوں جواب دیا :
’’ہاں دے سکتا ہے، اور اس طرح دی ہوئی تین طلاقیں بھی تین ہی واقع ہوجائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿الطلاق مرتن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ﴾ [ البقرۃ : ۲۲۹] طلاق (رجعی )دو بار ہے ، پھریا تو سیدھی طرح اپنے پاس رکھا جائے یا اچھے طریقے سے اسے رخصت کر دیا جائے ۔ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿فان طلھقا فلاتحل له من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ﴾[ پھر اگر مرد (تیسری ) طلاق بھی دے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لئے حلال نہ رہے گی ، حتی کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے ۔ ] یہ دونوں آیتیں عام ہیں ، مطلق ہیں درمیان میں رجوع کی کوئی تخصیص و تقیید کہیں وارد نہیں ہوئی ۔‘‘
( احکام و مسائل :۲؍۴۷۷)
نورپوری صاحب نے دوسری جگہ لکھا :
’’ دونوں آیتیں عام اور مطلق ہیں ۔ درمیان میں رجوع اور عدم رجوع والی دونوں صورتوں کو متناول اور شامل ہیں ۔ ان آیتوں کو پہلی صورت کے ساتھ خاص کرنے والی کوئی صحیح دلیل اس فقیر الی اللہ الغنی کی نظر سے نہیں گزری ۔‘‘
( احکام و مسائل :۲؍۴۷۶)
(جاری)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں