{اجماع معلوم اور اجماع مجہول کا حیلہ}
کفایت اللہ سنابلی صاحب نے اجماع کی ایک خود ساختہ تقسیم کی ہے، جس کو وہ ”اجماع معلوم“ اور ”اجماع مجہول“ کہتے ہیں۔
اجماع معلوم سے مراد ان کی اجماع قطعی ہے، لیکن اجماع مجہول سے مراد ان کی اجماع ظنی ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اجماع ظنی (سکوتی) کو اجماع مجہول سے تعبیر کر دیا۔
(احکامِ طلاق، ص 302)
ظاہر ہے یہ کارنامہ انہوں نے اس لیے انجام دیا کہ مسئلۂ طلاقِ ثلاثہ پر جو اہلِ علم کا اجماع ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی شمار ہوتی ہیں، اس کو یہ کہہ کر اڑا دیا جائے کہ:
’’رہی بات اجماعِ مجہول (اجماعِ ظنی) کی حجیت کے اعتبار سے تو یہ اس درجہ میں حجت ہے کہ کسی مجتہد کو اس پر اطمینان ہو تو وہ اس پر اعتماد کر سکتا ہے، اس کے سہارے فتویٰ دے سکتا ہے، بالخصوص اگر اس کا تعلق صحابہ و تابعین سے ہو تو نصوص کے فہم میں اسے ترجیح دینا ہی اقربُ الصواب ہے۔ لیکن بہرحال یہ ایسی حجت نہیں ہے کہ دوسروں پر اسے مسلط کیا جائے اور دوسروں کے لیے بھی لازم الاتباع قرار دیا جائے۔‘‘
(احکامِ طلاق، ص 302)
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اجماعِ ظنی مجہول کی قبیل میں سے ہے تو کوئی مجتہد اس کا اعتبار ہی کیوں کرے؟
اجماع کی یہ حیثیت بھی کہ کفایت اللہ سنابلی صاحب نے کیوں چھوڑی؟ کیا آپ کسی مجہول بات کو اصولِ حدیث یا کسی اور قسم کی خبر میں یہ کہہ کر قبول کریں گے کہ: ’’جو صاحبِ علم اس پر مطمئن ہو وہ اس کے مطابق فتویٰ دے دے، البتہ دوسروں پر اسے لازم نہیں‘‘؟
اور پھر یہ بھی بتاؤ کہ اجماعِ ظنی کو ’اجماعِ مجہول‘ سلف میں سے کس نے کہا ہے؟
جبکہ مجہولیت ایک عیب ہے، اور مسائل کے باب میں ظنّیت کوئی عیب نہیں۔
● زبیر علی زئی نے کہا:
’’اجماع شرعی دلیل ہے بلکہ خبرِ واحد سے بڑی چیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خبرِ واحد میں غلط تاویل کی جاسکتی ہے جیسا کہ ماتریدیہ اور مبتدعین کا طرزِ عمل ہے، لیکن اجماع میں ایسی تاویل قطعا نہیں ہو سکتی بلکہ اجماع سے ایک مفہوم یقینی طور پر متعین ہو جاتا ہے۔‘‘
(مقالات، 5/115)
اب یہاں دیکھیں:
غیر مقلدین کے سرچشمہ زبیر علی زئی صاحب نے اجماع کو خبرِ واحد سے اوپر رکھا، اور خبرِ واحد ظنی ہوتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ زبیر علی زئی نے کفایت اللہ کو جھوٹا کہا ہے اور سخت تنقید کی ہے، لیکن اس اصولی مسئلے میں ایسی صریح غلطی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایک طرف کفایت اللہ اجماعِ ظنی کو مجہول کہہ رہے ہیں،
اور دوسری طرف زبیر علی زئی اجماع کو خبر واحد پر فوقیت دے رہے ہیں۔
اب ان دونوں میں سچا کون؟ یہ ایک اصولی اختلاف ہے۔
● مولانا اسماعیل سلفی غیر مقلد نے ’’ظن‘‘ کے تعلق سے پورا ایک باب باندھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں:
’ان تصریحات کی روشنی میں ظن کا عرفی مفہوم واضح ہو جاتا ہے کہ یہ لفظ علم و یقین کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اور شک و تخمین کے مفہوم میں بھی۔ انحصار قرائن پر ہے، جیسے قرائن ہوں گے ویسے ہی معانی میں استعمال ہوگا۔‘‘
(حجیتِ حدیث، ص 31)
مولانا اسماعیل سلفی نے ظنی دلائل کی قبولیت کے لیے قرائن کو بنیاد بنایا — جیسے قرائن ویسی ظنیت — (احناف کا بھی یہی موقف ہے)۔
تو ہم غیر مقلدین سے پوچھتے ہیں:
کیا مسئلۂ طلاقِ ثلاثہ میں آپ کو اجماع کے لیے کوئی قرینہ نہیں دِکھا؟
سامنے سے یہی کہیں گے کہ ’’قرائن سرے سے ہیں ہی نہیں‘‘۔ تو عرض ہے:
پھر سنابلی صاحب کو بار بار یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑی کہ:
’’چار مذہب کا متفقہ فیصلہ بھی غلط ہو سکتا ہے‘‘
(احکامِ طلاق، ص 28)
اور پھر ایک جگہ بڑی سینہ زوری سے کہا:
’’ان چاروں اماموں کا کسی مسئلے پر متفق ہو جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہی حق ہے، کیونکہ ان چاروں کا اتفاق اجماعِ قطعی تو دور کی بات، اجماعِ ظنی بھی نہیں کہ اسے دلیل کی حیثیت دی جائے۔‘‘
(احکامِ طلاق، ص 809–810)
ائمہ اربعہ کے اتفاق کی اہمیت کیا ہوتی ہے، اس پر ہم بعد میں روشنی ڈالیں گے، لیکن اس سے پہلے کفایت اللہ صاحب کے طرزِ عمل پر غور کر لو۔
سنابلی صاحب نے شیخ البانی کی ایک عبارت نقل کی جس میں انہوں نے کہا کہ:
’’کیا ان سب کے باوجود یہ جائز ہوگا کہ اس محکم (واضح و غیر منسوخ) علم کو چھوڑ دیا جائے جس پر مسلمانوں کا ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ کے ابتدائی دور میں اجماع تھا۔۔۔؟ اللہ کی قسم! یہ اسلام کی فقہی تاریخ کا عجوبہ ہے۔‘‘
(السلسلة الضعیفہ 3/272)
یہ حدیث صحیح مسلم کی ہے جس کی صحت پر پوری امت کا اتفاق ہے۔(احکامِ طلاق، ص 343)
شیخ البانی نے تو بخاری و مسلم کی کئی احادیث کو ضعیف کہا، لیکن یہاں سنابلی صاحب نے اس اختلاف کو اجماع کی صحت میں مضر نہیں سمجھا۔
مگر ائمہ اربعہ کا اتفاق انہیں دلیل تو کیا، دلیلِ ظنی کے بھی لائق نہیں لگتا۔
اور اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوا کہ غیر مقلدین حضرت عمرؓ کے فیصلے کو ان کا منفرد اجتہاد باور کرا کر اسلامی فقہ کی تاریخ کا عجوبہ قرار دیتے ہیں — سبحان اللہ!
کسی شاعر نے خوب کہا ہے:
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی:
وہ تیرگی، جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی:
● شیخ رفیق طاہر غیر مقلد اور اجماع
رفیق طاہر صاحب نے کفایت اللہ کے خلاف اجماع کی دو تقسیمات بیان کیں، جو درست بھی ہیں:
.1اجماعِ قولی
.2اجماعِ سکوتی
لیکن انہوں نے بھی ان میں سے کسی کو ’’ظنی‘‘ کہہ کر ’’مجہول‘‘ نہیں کہا۔(آسان اصولِ فقہ، ص 91)
● ائمہ اربعہ کا اتفاق
اہل سنت میں 90٪ مسلمان فقہی اعتبار سے چاروں مذاہب میں سے کسی ایک سے وابستہ ہیں۔
اتنے بڑے طبقے کا کسی مسئلے پر جمع ہو جانا بذاتِ خود ’’سبیلِ المؤمنین‘‘ کی واضح دلیل ہے۔
آیتِ کریمہ:
وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ… وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ…
(النساء: 115)
اور حدیث:
”إن أمتي لن تجتمع على ضلالة“
اور”علیکم بالسواد الأعظم“
یہ سب اسی مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔
الغرض غیر مقلدین کو اجماع کی قدر و حیثیت کہاں سے سمجھ آئے، جب کہ انہیں اپنی ’’ڈیڑھ اینٹ کی مسجد‘‘ الگ بنانی ہے۔
¤ یہ اعتراض غیر مقلدین نے اسلام دشمن لابی کو سکھایا! ❗️¤
برصغیر میں انگریز کے ناپاک قدم پڑنے کے بعد عالمِ اسلام بہت سی مشکلات سے گزرا۔ جہاں انگریز نے مسلمانوں کی سیاسی و عسکری طاقت کو ختم کیا، وہیں انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنے کے لیے کچھ ایسی جماعتیں تشکیل دیں جن کے ذریعے وہ اپنی divide and rule پالیسی کے تحت اسلام کے قلعے کو کمزور کریں۔ انگریز نے اپنے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کو کھڑا کیا اور پھر مجاہدین کی قیادت کرنے والے علماء پر کفر کے فتوے احمد رضا خان سے لگوائے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے فقہی اختلافات کو ہوا دینے کے لیے ایک جماعت "اہلِ حدیث" کے نام سے کھڑی کر دی۔
انہوں نے بہت سے فروعاتی مسائل میں ایسے اختلاف پیدا کیے جنہیں امت کے مجتہدین خیرالقرون ہی میں حل کر چکے تھے۔ مگر غیر مقلدانہ فکر نے انہیں اس طرح پیش کیا کہ گویا صرف انہی کا استنباط درست اور باقی سب غلط ہیں۔ ان کے نزدیک غلطی صرف ان کے علاوہ سب مجتہدین سے ہی ہو سکتی ہے، اور ان غلطیوں کی نشاندہی کرنے کا حق بھی صرف انہی کو ہے! نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان آپس میں شدید انتشار کا شکار ہوئے۔
انہی فتنہ انگیز مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے جس سے ہندوستان کے لگ بھگ 30 کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی—اور وہ مسئلہ ہے "تحلیلِ نکاح" (جسے عرف میں حلالہ کہا جاتا ہے)۔
غیر مقلدین کا نعرہ: "عورتوں کی عزت حلالے کی چوکھٹ پر نیلام!"
مشہور متعصب غیر مقلد "عالم" کفایت اللہ سنابلی لکھتے ہیں:"تقلیدی حضرات کا تعصب اتنا خطرناک رہا ہے کہ ان لوگوں نے مسلمان عورتوں کی آبرو کو حلالے کی چوکھٹ پر نیلام کرنا تو گوارا کر لیا، لیکن اس کی حقیقت کو کبھی ابھارنے نہیں دیا کہ چاروں مذہب کا متفق فتویٰ بھی غلط ہو سکتا ہے۔"
(احکامِ طلاق)
مسلمان عورتوں کی عزت کو "نیلام" کرنے والا یہ جملہ غیر مقلدین کا گھڑا ہوا نعرہ ہے—اور یہی نعرہ اسلام دشمن لابی نے پوری طاقت سے استعمال کیا۔ اس پر فلمیں بنیں، جیسے The Conversion، اور بے شمار ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلیں۔ مین اسٹریم میڈیا پر بیٹھے دلال بھی اسے مسلسل اچھالتے رہے۔
مگر اس پروپیگنڈے کا فائدہ غیر مقلدین نے بھی خوب اٹھایا۔ جن لوگوں نے غصے میں تین طلاقیں دے دیں، وہ انہی کے پاس جا کر "بیوی حلال" کرواتے—کہ جی یہ تو ایک ہی طلاق ہوئی ہے! دوسری طرف لبرل اور اسلام دشمن طاقتوں نے بھی اسی بیانیے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ لہٰذا میں پورے حق کے ساتھ کہتا ہوں کہ غیر مقلدین اور اسلام دشمن لابی کے فائدے اس مسئلے میں ایک جیسے ہی ہیں۔
اگر تحلیل کی نیت سے نکاح زنا ہے … تو ان ائمہ کے بارے میں بھی کچھ کہو؟
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ "تحلیل کی نیت سے نکاح عورت کی عزت نیلام کرنا ہے"—تو آئیے دیکھتے ہیں کہ سلف کیا کہتے تھے؟
1۔ امام ابو الزنادؒ
اگر دوسرا شوہر پہلی نیت رکھے مگر پہلا شوہر اور عورت اس نیت سے بے خبر ہوں تو نکاح میں کوئی حرج نہیں، اور عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔(الاستذکار 5/449)
۔ امام لیث بن سعدؒ
اگر کسی نے تین طلاق والی عورت سے نکاح کیا، صحبت کی، اور پھر ہمدردی کے طور پر اسے چھوڑ دیا تاکہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے—اور یہ نیت عورت یا پہلے شوہر کو نہ بتائے—تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔(مختصر اختلاف العلماء 1/480)
۔ قاسم، سالم، عروہ، شعبی، ربیعہ، یحییٰ بن سعید وغیرہ
ان سب کے نزدیک تحلیل کی نیت سے نکاح بلا علمِ زوجین جائز ہے اور اس پر ثواب تک ہے۔
(التمہید 7/188؛ الاستذکار 5/449)
اب غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ:
❗ کیا یہ سب بھی "عورتوں کی عزت نیلام" کرنے والے تھے؟
❗ برصغیر میں اس نعرے کی آڑ میں جو زہر پھیلایا جا رہا ہے، اس کا ذمہ دار کون؟
سنابلی صاحب کا اعتراف: چاروں مذاہب کا اتفاق موجود ہے
سنابلی صاحب لکھتے ہیں:
"چاروں مذہب کا متفق فتویٰ بھی غلط ہو سکتا ہے"
یعنی وہ خود مان رہے ہیں کہ ائمہ اربعہ کا اس مسئلے پر اتفاق موجود ہے!
تو پھر سرکشی کس بات کی؟
یہ امتِ مسلمہ کے وہ ائمہ ہیں جن کی فقہ پر آج پوری امت عمل کر رہی ہے—اسی کو اجماع امت کہا جاتا ہے۔
اجماع کی تعریف — معتبر اسلاف کی زبانی
امام الحرمین الجوینیؒ
امت یا اس کے علماء کا کسی شرعی حکم پر اتفاق اجماع ہے۔
(التخلیص 3/5)
امام غزالیؒ
امتِ محمدیہ کا دینی معاملات پر متفق ہونا اجماع کہلاتا ہے۔
(المستصفی 1/173)
امام فخرالدین رازیؒ
امتِ محمد کے اہلِ حل و عقد کا کسی معاملے پر اتفاق اجماع ہے۔
(المحصول 2/3)
❗ سوال:
کیا ائمہ اربعہ اس امت کے اہلِ حل و عقد مجتہدوں میں شامل نہیں؟
اگر ان کا متفقہ فیصلہ معتبر نہیں—تو پھر تم کس اجماع کے قائل ہو؟
غیر مقلدین کا پروپیگنڈا کفار نے اپنا لیا
غیر مقلدین کا بنایا ہوا نعرہ: "عورتوں کی عزت حلالے کی چوکھٹ پر نیلام"
آج وہی نعرہ:
✔ ہندو انتہا پسند
✔ لبرل
✔ اسلام مخالف میڈیا
✔ مرتد
✔ BJP
سب کے ایجنڈے کا حصہ بن چکا ہے۔کیا غیر مقلدین کو یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے؟
اگر اس سے ان کا مسلک تھوڑا بہت پھیل بھی جائے، تو ایسی لعنتی ترقی کا فائدہ کیا؟
4نکات میں سنابلی کے 900صفحہ سمٹ جاتےہیں
"کفایت اللہ سنابلی نے کہا:
چنانچہ جس دورمیں بھی کی مجتہد نے تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی دینے کی کوشش کی تقلیدی برادری ان پر چڑھ دوڑی ہے اور انہیں جیل میں ڈالنے سےلیکر جلا وطنی تک جوکچھ بھی بن پڑا ان کے خلاف کیا۔(حکم طلاق)
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
● اسلام کی کسی صدی میں تین طلاق کو تین کہنے والوں پر بھی کوئی آفت آئی ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں آئی، تو کیوں نہیں آئی؟ اس کی وجہ کیا ہے؟
● جیل میں ڈالنا یا جلا وطن کرنا عوام کا حق ہے یا عوام پر حکمرانی کرنے والے حاکم کا؟ اگر حاکم کی نظر میں تین طلاق کو ایک کہنا جرم تھا تو آپ کسی ایسے حاکم کا نام لیں جو خود تین طلاق کو ایک مانتا ہو اور تین کہنے والوں کو سزا سناتا ہو۔
● اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ دورِ حاضر کے غیر مقلدین سے پہلے، ماضی میں اگر کسی عالم نے تین طلاق کو ایک ہونے کا فتویٰ دے بھی دیا تو یہ اس کا تفرد اور اس کی غلطی شمار کی جاتی تھی، جس کی اسے سزا بھی ملتی تھی۔
● اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غیر مقلدین کا اپنا موقف جمہور علمائے امت کے مقابلے میں شاذ اور مجروح ہے۔ اسی وجہ سے اگر کوئی تین کو ایک کہنے کا فتویٰ دیتا تو اس پر قانونی کارروائی کی جاتی تھی۔
🔹 کیا ائمہ اربعہ کا کسی مسئلہ پر اتفاق کرنا ظنّیت اور مجہول خبر کے درجے میں بھی قابلِ قبول نہیں…!؟
کفایت اللہ سنابلی غیر مقلد ’’محقق‘‘ کی کتاب احکامِ طلاق پر رد کا سلسلہ کافی عرصے سے مؤخر تھا۔ یہ اس سلسلے کی پانچویں قسط آپ کے سامنے ہے۔ موصوف نے کئی منفرد دعوے کیے ہیں، جن میں سے ایک عجیب و غریب دعویٰ یہ ہے:
"ائمہ اربعہ کا کسی مسئلہ پر جمع ہو جانا، اجماعِ قطعی تو کیا—اجماعِ ظنی کی حیثیت بھی نہیں رکھتا کہ اسے دلیل کا درجہ دیا جائے" (استغفرُاللہ)
(احکامِ طلاق، ص 808)
اور صفحہ 302 پر وہ ’’اجماعِ مجہول‘‘ کو ’’اجماعِ ظنی‘‘ کہتے ہیں۔
مطلب یہ کہ ائمہ اربعہ کے وہ مسائل جن پر یہ چاروں ائمہ اتفاق رکھتے ہیں، ان کے نزدیک ’’اجماعِ مجہول‘‘ ہیں جو ظنیت کے درجے میں بھی قبول نہیں اور جنہیں دلیل کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ جن کی امامت، صداقت، ثقاہت اور علمی تواتر مسلم ہے، وہ ان کے نزدیک ’’مجہول‘‘ اور ’’ظنی‘‘ کہلاتے ہیں…!
کتاب کے عنوان ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ مذموم دعویٰ انہوں نے اس لیے کیا کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی ہونے پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے—اور یہی اس مسئلے کی اہمیت اور اس کے حق ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ یہ اتفاق واضح طور پر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ان ائمہ کا مجموعی علمی سرمایہ امت میں ایک منفرد اور مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ اصولی طور پر ان کا اتفاق ’’اجماع‘‘ کی تعریف پر مکمل طور پر منطبق نہیں ہوتا، مگر ان کے فتاویٰ کو عملی فقہ میں غیر معمولی اتھارٹی حاصل ہے۔ امتِ مسلمہ کے جمِ غفیر کی پیروی انہیں ائمہ کے اجتہاد کی بنیاد پر ہے۔ ان ائمہ کا علمی مقام اس قدر بلند ہے کہ ان کے اقوال اور فتاویٰ آج بھی لاکھوں مسلمانوں کے لیے مقتدا و رہنما ہیں۔
ائمہ اربعہ کی علمی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ متقدمین علماء نے ان کے متفقہ اور مختلف فیہ مسائل کو یکجا کرنے کی خصوصی کوششیں کیں۔ اگر ان کا کسی مسئلے پر ’’اکھٹا ہونا‘‘ ظنیت کے درجے میں بھی قبول نہیں، اور وہ ایسے ہی ہیں جیسے چند مجہول لوگوں کی باتیں—تو پھر ان کے اتفاق و اختلاف کو فقہ کی کتب میں اتنے اہتمام کے ساتھ کیو ں جمع کیا گیا؟
خود غیر مقلدین کی کتاب فقہ الحدیث اٹھا کر دیکھ لیں—ہر مسئلے پر ائمہ اربعہ کی آراء نقل کی گئی ہیں اور کئی جگہ فقہاء کے اجماع کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ لیکن یہ باتیں اس ’’محقق‘‘ کی جوتی کی نوک پر ہی ہوں گی؛ اس لیے اسلامی علمی روایت سے اس اتفاق کی اہمیت کی چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
▪️ امام الوزیر ابن ہبیرہ (وفات 560ھ)
انہوں نے اپنی کتاب الإفصاح عن معاني الصحاح میں ائمہ اربعہ کے اختلاف اور اتفاق دونوں کو جمع کیا ہے۔
اگر ان کا اتفاق کسی درجے کی بھی حیثیت نہ رکھتا تو علماء اسے جمع کیوں کرتے؟ کیا وہ مجہولین کی باتیں جمع کر رہے تھے؟
ابن ہبیرہ خلافتِ عباسیہ کے وزیرِ اعظم تھے—یہ اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ غیر مقلدین کی فکر اس علمی روایت سے بے تعلق اور نئی گمراہ فکر ہے۔
▪️ امام صدرالدین دمشقی
انہوں نے اپنی مشہور کتاب رحمة الأمة في اختلاف الأئمة میں ائمہ اربعہ کے اتفاق و اختلاف دونوں کو جمع کیا۔
کیا یہ بھی ’’مجہولین‘‘ کی باتیں یکجا کر گئے؟
اگر فقہی کتب میں ائمہ اربعہ کی آراء کو جس اہتمام سے جمع کیا گیا ہے، انہیں اکٹھا کیا جائے تو ضخیم ذخیرہ تیار ہو جائے۔
▪️ فقہ المذاہب الاربعہ — عبدالرحمن الجزیری
مصر کی وزارتِ اوقاف میں چیف انسپکٹر اور بعد میں جامعہ ازہر کے پروفیسر۔
ان کی کتاب الفقه على المذاهب الأربعة ائمہ اربعہ کے اتفاقات کو باقاعدہ جمع کرتی ہے۔
سوال:
یہ غیر معمولی شخصیات ائمہ اربعہ کے اتفاق کو جمع کیوں کرتی رہیں؟
کیا کفایت اللہ اینڈ پارٹی اس کا جواب دیں گے؟
▪️ امام ذہبی رحمہ اللہ
ائمہ اربعہ کے اتفاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"حق شاذ و نادر ہی اس بات میں پایا جاتا ہے جس کے خلاف ائمہ اجتہادِ اربعہ کا اتفاق ہو۔ حالانکہ ہم مانتے ہیں کہ ان کا اتفاق اجماعِ امت نہیں ہوتا۔ لیکن کسی ایسے مسئلے میں جس پر وہ متفق ہوں، ہم یہ کہنے سے ڈرتے ہیں کہ حق اس کے خلاف ہے۔"
(سیر أعلام النبلاء 7/117)
یعنی امام ذہبی کے نزدیک ان کا اتفاق تقریباً حجتِ قطعی کی حیثیت رکھتا ہے۔
پھر کیسے کوئی محقق اس کو ’’ظنی‘‘ اور ’’مجہول‘‘ قرار دینے کی جسارت کر سکتا ہے؟
▪️ امام ابن قدامہ المقدسی (وفات 620ھ)
المغنی میں فرماتے ہیں:"سلفِ امت میں اللہ نے ایسے بڑے بڑے ائمہ پیدا کیے جن کے ذریعے اسلام کے قواعد مضبوط ہوئے۔ ان کا اتفاق حجتِ قاطع ہے اور ان کا اختلاف وسیع رحمت ہے۔"
ابن قدامہ کے نزدیک سلف (جس میں ائمہ اربعہ بھی شامل ہیں) کا اتفاق حجتِ قاطع ہے۔یہ عبارت خود ہی کفایت اللہ کے موقف کو باطل کر دیتی ہے۔
▪️ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ
اگرچہ وہ تین طلاق کے مسئلے میں ایک منفرد رائے رکھتے ہیں، لیکن فرماتے ہیں:
"اگر کوئی شخص کہے کہ میں ان چار ائمہ میں سے کسی ایک کا پابند نہیں — تو یہ ٹھیک ہے۔ لیکن اگر کہے کہ میں ان چاروں ائمہ کا پابند نہیں اور ان سب کی مخالفت کرتا ہوں — تو وہ یقیناً غلطی پر ہے، کیونکہ عام شرعی مسائل میں حق ان چاروں ائمہ سے باہر نہیں جاتا۔"
(مختصر الفتاویٰ المصریة 1/135)
یعنی ان چاروں ائمہ کا علمی دائرہ حق سے باہر نہیں جاتا۔
پھر کوئی ان کے اتفاق کو ’’مجہول‘‘ کیسے کہہ سکتا ہے؟
کفایت اللہ کی کتاب احکام الطلاق کا پورا منہج ہی اہلِ سنت کے اجماع کو کالعدم قرار دینے پر قائم ہے
یہ طریقہ تاریخِ اسلام میں کبھی نظر نہیں آتا نہ فقہاء میں، نہ محدثین میں، نہ اصولیین میں ایسی حماقت بس ظاہری لوگو کی طرف سے دیکھنے کو ملتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں