نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

احکامِ طلاق — از کفایتُ اللہ سنابلی کا جائزہ ، کیا ایک مجلس کی تین طلاق کا مسئلہ ہر دور میں مختلف فیہ رہا ہے؟


 احکامِ طلاق — از کفایتُ اللہ سنابلی کا جائزہ 


کیا ایک مجلس کی تین طلاق کا مسئلہ ہر دور میں  مختلف فیہ رہا ہے؟ 


کفایت اللہ سنابلی صاحب نے اپنی کتاب احکامِ طلاق صفحہ  581پر ایک عنوان کے تحت لکھتے ہیں:

📌 ہر دور میں تین طلاق کو ایک قرار دینے کا فتوی!

بعض لوگ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ تین طلاق کے ایک ہونے کا فتویٰ سب سے پہلے امام ابن تیمیہ نے دیا تھا، اس سے قبل کسی نے یہ فتویٰ نہیں دیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں تین طلاق کے ایک ہونے کا فتویٰ دینے والے اہلِ علم موجود رہے ہیں جیسا کہ متعدد اہلِ علم نے صراحت کی ہے۔

(اور دلیل کے طور پر ساتویں صدی ہجری سے امام ابن السعی کی تاریخ سے محمد بن قاسم بن ہیبت اللہ شافعی کا اپنا موقف پیش کیا گیا۔

◾محمد بن القاسم بن هبة الله التّكريتي کا تعارف۔ 

امام ذہبی لکھتے ہیں:

"فقيهٌ، إمام، مفتٍ، صالحٌ، أعاد بالنّظاميّة ببغداد، ثمّ درّس بالقيصرية ببغداد. "وكان حمقًا،" تيّاهًا، يحطّ رتبته بكثرة دعاويه، وقد أخرج مرة من بغداد، وجرت له أمور. 

(تاریخ اسلام لذہبی 210/45)

یہ ایک (شافعی) فقیہ، امام، مفتی اور نیک شخص تھے، جنہوں نے بغداد کی نظامیہ میں معاون کے طور پر کام کیا، پھر بغداد کی قیصریہ میں تدریس کا فریضہ انجام دیا۔ وہ "احمق تھے، بہت فخر" کرنے والے تھے، اور بہت زیادہ دعووں کی وجہ سے ان کا رتبہ کم ہو گیا تھا۔ ایک بار انہیں بغداد سے نکال دیا گیا تھا، اور ان کے ساتھ کئی معاملات پیش آئے۔

حافظ ذہبی جیسے عظیم مؤرخ اور محدث نے انہیں "احمق" کہا، جو اس رائے کی وجہ سے ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان کی امامت کے باوجود، یہ احمق تھے۔ یہ تنقید اس بات کی دلیل ہے کہ یہ رائے معتبر نہیں سمجھی جاتی تھی تو اس احمقانہ رائے کو جید اہلِ علم کے مقابلے میں پیش کرنے کا کیا مطلب ہے؟

اس پر فائدہ چڑھاتے ہوئے سنابلی صاحب نے لکھا:

"امام محمد بن قاسم بن ہیبت اللہ کے معاصرین نے انہیں معمولی تکلیف دی لیکن ان کی وفات کے کئی سال بعد پیدا ہوئے بعض مقلدین نے ان کے فتوے کے سبب ان پر عجوبہ نگاری وغیرہ کی تہمت لگائی۔ یہ ساری تہمتیں مسلکی تعصب کی وجہ سے ہیں، نیز بے دلیل اور بے سند ہیں لہٰذا باطل و مردود۔"

(احکام طلاق صفحہ نمبر 584)

اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ سنابلی صاحب اپنی کتاب احکام طلاق صفحہ نمبر 28 پر یہ لکھ چکے ہیں کہ:

"چنانچہ جس دور میں بھی کسی مجتہد نے تین طلاق کے ایک ہونے کا فتویٰ دینے کی کوشش کی تو تقلیدی برادری ان پر چڑھ دوڑی اور انہیں جیل میں ڈالنے سے لے کر جلاوطنی تک جو کچھ بن پڑا ان کے خلاف کیا۔" (صفحہ 28)


محمد بن القاسم بن ہبۃ اللہ التکریتی کی جلاوطنی اور ان کی احمقانہ حرکت سنابلی صاحب کے علم میں تھی۔ اس بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہیں امام ذہبی بھی تقلید کے ہتھے نہ چڑھ جائیں، اس لیے اس مشہور بات کو مقلدین کی تہمت بول کر جان چھوڑنا ہی بہتر سمجھا۔

"محمد بن قاسم" کے ساتھ جو ہوا اس کا علم سنابلی کو تھا لیکن انہوں نے غیر محققانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے کتمانِ حق کیا یا پھر جہالت کا مظاہرہ۔ سنابلی صاحب کی پارٹی (iplus) سے ہمارا مطالبہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں جس کسی نے بھی تین طلاق کا ایک ہونے کا فتویٰ دیا تو اہل سنت کے علماء بشمول امام ذہبی، جنہیں یہ "تقلیدی برادری" کہہ رہے ہیں، ان پر چڑھ دوڑ ہے۔ تو کیا کوئی ایسا واقعہ یہ پیش کر سکتے ہیں کہ جس نے تین طلاق کو ایک قرار دیا ہو اور وہ ریاستی سطح پر مقبول بھی ہوا ہو؟ (ابن تیمیہ سے پہلے) 

اگر نہیں تو آپ اپنے فرقے کی عمر بہ زبانِ حال خود بتا رہے ہیں۔

ایک طرف تو غیر مقلدین کو صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ اربعہ کی رائے کا اعتبار نہیں، دوسری طرف ایک "احمق" شخص، جس کو اپنے منفرد دعووں کی وجہ سے بغداد سے نکال دیا گیا، اس کی رائے کو اجماع کے مقابلے میں پیش کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اہل علم ہر زمانے میں تین طلاق کو ایک مانتے رہے ہیں۔

اور پھر اس کتاب پر دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ "احکام طلاق" کی "عرب و عجم" کے علماء نے بہت تعریف کی ہے۔طلاق کے موضوع پر ایسی انسائیکلوپیڈیا کتاب آج تک منظرِ عام پر نہیں آئی۔۔۔!ایک اصولی بات مدنظر رکھی جائے کہ کسی بھی مسئلہ میں اجماع کے لیے "مطلق اتفاق" کی ضرورت نہیں۔ اہلِ حل و عقد مجتہدین کا کسی مسئلہ میں اکٹھا ہو جانا ہی اجماع کے لیے کافی ہے۔ کسی احمق کی منفرد رائے کا کوئی اعتبار نہیں۔


طلاقِ ثلاثہ کو مختلف فیہ مسئلہ ثابت کرتے ہوئے   دوسری دلیل

امام ابو الولید محمد بن احمد بن رشد المالکی (ابن رشد لحفید )

چھٹی صدی ہجری کے تحت امام ابن رشد الحفید کا حوالہ پیش کیا گیا، جس کی وجہ سے پوری چھٹی ہجری کے علماء کا اتفاق صرف ابن رشدؒ کے اس تفرد کی نذر کر دیا۔

سنابلی صاحب ابن رشدؒ کے حوالے سے کہتے ہیں:

"وكأن الجمهور غلبوا حكم التغليظ في الطلاق سدا للذريعة، ولكن تبطل بذلك الرخصة الشرعية والرفق المقصود في ذلك أعنى في قوله تعالى: ﴿لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا﴾"

[بداية المجتهد : 3/84]

مزید فرماتے ہیں:

"ولذلك ما نرى - والله أعلم – أن من ألزم الطلاق الثلاث في واحدة، فقد رفع الحكمة الموجودة في هذه السنة المشروعة."

[بداية المجتهد : 3/85]

الجواب:

پہلی بات: عبارت ہی میں ابن رشد المالکی نے طلاقِ ثلاثہ فی مجلس واحد کو جمہور کا مذہب بتایا ہے اور اس کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کر رہے ہیں۔

خود کفایت اللہ سنابلی نے اپنی کتاب "یزید بن معاویہ" میں زبیر علی زئی کو جواب دیتے ہوئے عبدالرحمٰن بن معاویہ پر بیس محدثین سے توثیق پیش کرکے "جمہور اور اکثریت" سے دلیل پکڑتے ہوئے لکھا ہے:

"عبدالرحمٰن بن معاویہ کے بارے میں تحقیق کرکے ثابت کر دیا گیا ہے کہ جمہور کے نزدیک ثقہ ہیں۔"

(صفحہ 686)

اور ایک جگہ عنوان باندھا:

"دوسرا قرینہ: اکثریت کی مخالفت" (صفحہ 139)

ان کا خود کا حال یہ ہے کہ جب بات اپنے مطلب کی ہو تو جمہور اور اکثریت مقبول بن جاتی ہے، اور مطلب کی نہ ہو تو دور کی کوڑی بھی ڈھونڈ کر جمہور کے مقابلے میں پیش کرکے اجماع کے انعقاد پر سوال کھڑا کر دیتے ہیں۔

حالانکہ طلاق ثلاثہ کا معاملہ خیرالقرون سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔

کبھی کسی بھی سنی خلافت یا بادشاہت میں یہ مسئلہ تبدیل نہیں ہوا، بلکہ جب بھی کسی نے اس کے خلاف رائے دی تو اسے سخت معیوب سمجھا گیا۔ محض کسی کی رائے سے تین کے ایک ہونے سے اجماع پر حرف نہیں آتا بلکہ اس رائے پر مسلمانوں کا عمل بھی ہونا چاہیے، جو کہ پوری تاریخِ اسلام میں کہیں نہیں ملتا!

دوسرا جواب: امام ابن رشد کا تعارف

ان کی وفات 595ھ میں اپنے گھر میں نظر بندی کی حالت میں ہوئی۔

الموحد خلافت (الدولۃ الموحدیۃ) — ایک بربر مسلم سلطنت — شمالی افریقہ اور اندلس میں قائم تھی۔

ابن رشد کی پیشہ ورانہ زندگی اسی خلافت کے تحت گزری۔ وہ مراکش میں فلکیاتی مشاہدات کرتے تھے۔

امام ذہبی لکھتے ہیں:

"وَمَال إِلَى عُلُومِ الحُكَمَاءِ، فَكَانَتْ لَهُ فِيهَا الإِمَامَة"

اور وہ حکماء (فلسفیوں) کے علوم کی طرف مائل ہوئے، تو ان میں انہیں امامت حاصل ہوئی۔

"وَلَمَّا كَانَ المَنْصُوْرُ صَاحِبُ المَغْرِبِ بِقُرْطُبَةَ، اسْتَدْعَى ابْنَ رُشْدٍ، وَاحْتَرَمَهُ كَثِيراً، ثُمَّ نَقَمَ عَلَيْهِ بَعْدُ – يَعْنِي: لِأَجْلِ الفَلْسَفَةِ –"

پھر بعد میں ان پر ناراض ہوا — یعنی فلسفہ کی وجہ سے۔

"ولا ينبغي أن يُروى عنه"

اور ان سے روایت نہیں کرنی چاہیے۔

(سیر أعلام النبلاء 21/308)(تاریخ اسلام للذہبی 42/196)

امام ذہبی کے نزدیک ان سے روایت لینا بھی درست نہیں تھا  جس کی وجہ ارسطو کا فلسفہ تھا!

تو ان کی رائے کیسے معتبر ہو سکتی ہے؟

اور موصوف چھٹی صدی ہجری کے اجماع کو اس اکیلے فلسفی کی وجہ سے توڑ رہے ہیں۔۔۔!

حالانکہ اجماع کے لیے "مطلق اتفاق" ضروری نہیں، آگے اپنے مقام پر اس کی تفصیل آئے گی۔


ابن رشد کی بنیادی "غلطی"

ابن رشد کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ ارسطو کے فلسفے کو اسلام میں ضم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ابن تیمیہؒ کہتے ہیں:

"اللَّذَيْنِ أَفْسَدُوا بِهِمَا الإِيمَانَ بِالتَّوْحِيدِ، وَالرِّسَالَةِ ... وَكَلَامُ ابْنِ سَبُعَيْنِ وَابْنِ رُشْدٍ الْحَفِيدِ ... وَأَمْثَالِهِمْ مِنْ الجَهْمِيَّةِ نُفَاةِ الصِّفَاتِ ..."

(مجموع الفتاوی 6/518)

یعنی: جن اصولوں سے انہوں نے توحید اور رسالت کے ایمان کو خراب کیا، ابن سبعین، ابن رشد الحفید اور دیگر جہمیہ کا کلام انہی باطل اصولوں پر گھومتا ہے۔

جب ابن تیمیہؒ تک ابنِ رشد کے اصولوں کو اہلِ ایمان کیلئے مضر کہتے ہیں تو پھر ایک فلسفی کی رائے سے چھٹی صدی کا اجماع کیسے ٹوٹ سکتا ہے؟

مسلمانوں کا عملی برتاؤ ابن رشد سے متعلق

مسلمانوں نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ معروف ہے۔

تفصیل کیلئے دیکھیں: "ابن رشد — فلسفہ ابن رشد" (Ernest Renan)

تیسرا جواب: علمِ کلام پر غیر مقلدین کا اپنا موقف

جب کہ غیر مقلدین / سلفی حضرات علمِ کلام کو بدعت، گمراہی اور ہر فتنہ کی جڑ کہتے ہیں،

تو پھر علمِ کلام کے ایک بڑے فلسفی ابنِ رشد کی منفرد رائے کو لے کر چھٹی صدی کے اجماع کو اختلاف میں بدل دینا —

یہ صریح تضاد ہے۔


چھٹی صدی ہجری کے تحت مسئلہ طلاقِ ثلاثہ فی مجلس واحد کو مختلف فیہ ثابت کرنے کے لیے علّامہ رازی رحمہ اللہ کا حوالہ۔

مسئلہ طلاقِ ثلاثہ فی مجلس واحد پر اجماع کی حیثیت پر اہلِ علم کے اقوال۔

▪️ چھٹی صدی ہجری کے تحت مسئلہ طلاقِ ثلاثہ فی مجلس واحد پر اہلِ سنت کے اجماع کو غیر معتبر ثابت کرنے کے لیے ایک دلیل اور، کفایت اللہ سنابلی نے امام رازی کی تفسیر سے ان کا تبصرہ نقل کرکے دی، جو سورہ بقرہ آیت نمبر 229 کے تحت ہے۔ یہ پیش کر کے سنابلی نے یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ امام رازی الشافعی رحمہ اللہ کی اس تفسیر کے بعد اجماع کا دعویٰ غیر معتبر ہے۔

وهو اختيار كثير من علماء الدين، أنه لو طلقها اثنين أو ثلاثا لا يقع إلا الواحدة، وهذا القول هو الأقيس، لأن النهى يدل على اشتمال المنهى عنه على مفسدة راجحة، والقول بالوقوع سعى في إدخال تلك المفسدة في الوجود وأنه غير جائز، فوجب أن يحكم بعدم الوقوع "

ترجمہ: اور یہی دین کے بہت سے علماء کا انتخاب ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دو یا تین طلاقیں دے، تو صرف ایک طلاق واقع ہو گی۔

اور یہ قول زیادہ قیاس کے مطابق ہے، کیونکہ نہی (ممانعت) اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس چیز سے منع کیا گیا ہے وہ ایک راجح مفسدہ (نقصان دہ چیز) پر مشتمل ہے۔ اور طلاق کے وقوع کا قول (کہ طلاق واقع ہو گئی) اس مفسدے کو وجود میں لانے کی کوشش ہے، جو کہ جائز نہیں ہے۔ لہٰذا، لازم ہے کہ طلاق کے عدمِ وقوع کا حکم دیا جائے۔ (احکام طلاق 586)

(مفاتیح الغیب أو التفسیر الکبیر)


◾ اس پر کفایت اللہ سنابلی نے یہ عنوان باندھا ہے کہ "امام رازی کا فتویٰ" ‼️ جو کہ ایک صریح مغالطہ ہے کیونکہ یہ فتویٰ نہیں بلکہ امام رازی کا تبصرہ ہے جو ان اشخاص کی طرف نشاندہی کرتا ہے جو اس مسئلے میں تفرد کا شکار تھے، اور ان کی رائے کو قبول نہیں کیا گیا جن کے حوالے کفایت اللہ نے 800 صفحے کی اس کتاب میں دیے ہیں۔ اوّل تو اس کو فتویٰ کہنا ہی غلط ہے۔

فتویٰ اور کسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اختلاف نقل کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو ہر اجماعی مسئلہ کے خلاف کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے مگر اس سے اجماع کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

جب کوئی مسلمان کسی مشکل شرعی مسئلہ کا سامنا کرے تو علمائے کرام اور مفتیانِ کرام کی طرف سے دیا جانے والا حکم شرعی "فتویٰ" کہلاتا ہے۔ یہ ذاتی رائے نہیں بلکہ شریعت کی تشریح ہوتی ہے جو واجب العمل ہوتی ہے۔ اس درجے کی کوئی بات امام رازی کے اس تبصرے میں نظر نہیں آتی۔ علامہ رازی کا یہ تبصرہ غیر مقلدین کے موقف سے بہت الگ ہے۔

• قارئین علامہ رازی کی عبارت میں دیکھ سکتے ہیں کہ "وهذا القول هو الأقيس" یعنی یہ قول زیادہ قیاس کے مطابق ہے، جبکہ غیر مقلدین اس کو احادیثِ رسول ﷺ سے ثابت کرنے کے دعوے دار ہیں، اور قیاس کو معیوب سمجھتے ہیں۔

• اور یہ امام رازی کا اپنا موقف بھی نہیں، وہ بس قائلین کا قول اور ان کی دلیل نقل کر رہے ہیں، نہ کہ اپنا فتویٰ۔۔۔!

جیسے کہ یہ قول نقل کرنے کے بعد انہوں نے احناف کا قول نقل کیا:

وَالْقَوْلُ الثَّانِي: وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رضي الله عنه: أَنَّهُ وَإِنْ كَانَ مُحَرَّمًا إِلَّا أَنَّهُ يَقَعُ، وَهَذَا مِنْهُ بِنَاءً عَلَى أَنَّ النَّهْيَ لَا يَدُلُّ عَلَى الْفَسَادِ.

دوسرا قول:ور یہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اگرچہ یہ فعل حرام ہے، لیکن طلاق واقع ہو جائے گی۔ یہ ان کا موقف اس بنیاد پر ہے کہ نہی (ممانعت) فساد (عمل کے باطل ہونے) پر دلالت نہیں کرتی۔


• جب امام رازی کی نفی والی تفسیر سے اجماع غیر معتبر ہو سکتا ہے تو اثبات والی تفسیر سے اجماع کو معتبر کیوں نہیں کیا گیا؟؟


🔸 »امام رازی کے کلام کا اصل مطلب«


• یہاں امام رازی الشافعی اپنے مسلک کے موقف کے حساب سے کلام کر رہے ہیں۔ امام شافعی کے نزدیک اکٹھی طلاق دینا جائز ہے جبکہ احناف کے نزدیک ناجائز ہے۔

اسی پر بحث کرتے ہوئے امام رازی کہتے ہیں:

لِأَنَّ النَّهْيَ يَدُلُّ عَلَى اشْتِمَالِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ عَلَى مَفْسَدَةٍ رَاجِحَةٍ،

کیونکہ ممانعت (نہی) اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس چیز سے منع کیا گیا ہے وہ ایک غالب (راجح) خرابی (مفسدہ) پر مشتمل ہے۔

وَالْقَوْلُ بِالْوُقُوعِ سَعْيٌ فِي إِدْخَالِ تِلْكَ الْمَفْسَدَةِ فِي الْوُجُودِ

اور وقوع کا قول اس مفسدے کو وجود میں لانے کی کوشش ہے۔

پھر کہتے ہیں:

فَوَجَبَ أَنْ يُحْكَمَ بِعَدَمِ الْوُقُوعِ.

لہٰذا ضروری ہے کہ عدمِ وقوع (طلاق کے واقع نہ ہونے) کا حکم دیا جائے۔

(مفاتیح الغیب أو التفسیر الکبیر 442/6)

امام رازی کی اس بات کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر اکٹھی طلاق دینا جائز نہیں تو طلاق بھی واقع نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ پھر اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ ایک "مفسدہ" عمل کو جائز بنانے کی کوشش ہے، اور یہ کوشش جائز نہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ طلاق کے عدمِ وقوع کا حکم دیا جائے۔

یہاں بس منطقی بحث ہو رہی ہے جس کا فتوے سے کوئی تعلق نہیں۔

ثابت ہوا کہ کفایت اللہ سنابلی کا امام رازی کے اس تبصرے سے چھٹی صدی ہجری کے اجماع کو غیر معتبر ثابت کرنا بالکل فضول ہے۔ لہٰذا کفایت اللہ سنابلی کا امام رازی کی یہ بات نقل کرنا محض کتاب کے کاغذوں کی تعداد بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں۔

کیونکہ یہ مسئلہ اہل سنت والجماعت کا اجماعی مسئلہ ہے جو قطعی نوعیت کا حامل ہے، اس لیے بعد کے لوگوں کا اختلاف محض شاذ رائے کے علاوہ کچھ نہیں اور اسے کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔


⭕ »مسئلہ طلاقِ ثلاثہ اور اس کی اجماعی حیثیت«

امام نووی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث.

امام شافعی، امام مالک، امام ابو حنیفہ اور امام احمد اور سلف و خلف کے جمہور علماء نے کہا کہ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔

(شرح مسلم 70/10)

امام ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا:

وَإِيقَاعُ الثَّلَاثِ لِلْإِجْمَاعِ الَّذِي انْعَقَدَ فِي عَهْدِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ وَلَا يُحْفَظُ أَنَّ أَحَدًا فِي عَهْدِ عُمَرَ خَالَفَهُ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا۔

اور تین طلاقیں واقع کرنا اس اجماع کی وجہ سے ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں منعقد ہوا، اور یہ محفوظ نہیں کہ ان کے دور میں کسی نے اس کی مخالفت کی ہو۔

(فتح الباری 365/9)

قاضی ابنِ رشد الجد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

…وهو مذهب جميع الفقهاء وعامة العلماء لا يشذ في ذلك عنهم إلا من لا يعتد بخلافه منهم

یہ تمام فقہاء اور عام علماء کا مذہب ہے، اور اس میں صرف وہی لوگ اختلاف کرتے ہیں جن کے اختلاف کی کوئی وقعت نہیں۔

(المقدمات الممهدات 1/501)

ملّا علی قاری حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَوْ حَكَمَ حَاكِمٌ بِأَنَّ الثَّلَاثَ بِفَمٍ وَاحِدٍ وَاحِدَةٌ، لَمْ يُنَفَّذْ حُكْمُهُ…

اگر کوئی قاضی فیصلہ کرے کہ ایک بار میں دی گئی تین طلاقیں ایک شمار ہوں گی، تو اس کا فیصلہ نافذ نہیں کیا جائے گا…

(مرقاة المفاتیح 5/2147)

علمائے اسلام کے اتنے حوالے کافی ہیں کہ یہ مسئلہ قطعی الثبوت اور اجماعی ہے، اور اس کے خلاف رائے ہمیشہ شاذ ہی رہی ہے۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...