امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب امام ابو حنیفہؒ پر اہلِ کتاب کے اسلام سے متعلق اعتراض کا تحقیقی و اصولی جائزہ
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اہلِ کتاب کے اسلام سے متعلق اعتراض کا تحقیقی و اصولی جائزہ
تو بھی اس سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کوئی شرعی یا علمی اعتراض لازم نہیں آتا۔ اس لیے کہ یہاں اصل نزاع ایک فقہی و اجتہادی مسئلے کا ہے، جس میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہمیشہ سے رہا ہے۔ ائمۂ اہلِ سنت کے ہاں یہ بات مسلم ہے کہ اجتہادی مسائل میں سخت کلامی جرحِ شرعی نہیں بنتی، بلکہ یہ منہجی اختلاف کا اظہار ہوتی ہے۔
اصل نزاع کی نوعیت: اہلِ کتاب کے اسلام میں کلمۂ شہادتین اور براءتِ دین کا مسئلہ
اب اصل مسئلے کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ سارا اشکال اسی مقام پر پیدا ہوا ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگر کوئی یہودی یا نصرانی کلمۂ شہادتین ادا کرے، تو کیا وہ محض اس قول سے مسلمان ہو جائے گا، یا اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے سابقہ دین سے صراحتاً براءت کا اظہار کرے؟
بعض لوگوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف یہ بات منسوب کر دی کہ وہ مطلقاً اہلِ کتاب کے اسلام کے لیے براءتِ دین کو شرط قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ نسبت سرے سے غلط اور امام ابو حنیفہ کے مسلک کی خلافِ حقیقت تصویر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے تمام تلامذہ و اصحاب اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص خلوص کے ساتھ کلمۂ شہادتین ادا کر لے، وہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس اصول میں کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اہلِ کتاب کے ایک مخصوص گروہ کے بارے میں تفصیل بیان فرمائی ہے، جسے سمجھے بغیر ان پر اعتراض کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
یہ وہ مخصوص گروہ تھا جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار تو کرتا تھا، مگر اس قید کے ساتھ کہ آپ ﷺ صرف عربوں کے رسول ہیں، بنی اسرائیل یا تمام انسانوں کے لیے نہیں۔ ایسے لوگ شہادتین اس مفہوم کے ساتھ ادا کرتے تھے جو درحقیقت شہادت کے حقیقی مفہوم کے منافی تھا۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے محض کلمہ کہنا کافی نہیں، جب تک وہ صراحت کے ساتھ اپنے سابقہ باطل دین سے براءت اور دینِ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان نہ کریں۔
یہ بات محض امام ابو حنیفہ کی رائے نہیں، بلکہ کتبِ ملل و نحل اور فقہی مصادر میں اس کی صریح تصریحات موجود ہیں۔ جیسا کہ د. غالب بن علي عواجي نے اپنی کتاب (فرق معاصرة تنتسب إلى الإسلام وبيان موقف الإسلام منها ٣/١١١٦) میں ان گروہوں کا ذکر کیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو صرف عربوں تک محدود سمجھتے تھے، اور اسی مفہوم کو انہوں نے امام شہرستانی کی (الملل والنحل للشهر ستاني ١ /٢١٧) سے نقل کیا ہے۔ ان گروہوں کا کلمہ پڑھنا دراصل اسلام قبول کرنا نہیں تھا، بلکہ اپنے سابقہ باطل عقیدے پر قائم رہتے ہوئے ایک لفظی اقرار تھا۔
اسی حقیقت کی وضاحت شیخ یوسف بن عمر قادوری رحمہ اللہ نے «جامع المضمرات في شرح مختصر القدوري» میں کی ہے کہ "في الزاد: وفرقة من أهل الكتاب يقولون محمد رسول الله إلى العرب دون بني اسرائيل. فهذه الفرقة لا يكون أحد منهم مسلما باتيان الشهادتين حتى يتبرؤوا من الدين الذي هم عليه، ولو قال واحد منهم إني مؤمن لم يكن بذلك مسلما لأنهم يزعمون ان الايمان و الاسلام ماهم عليه". انتهى
اہلِ کتاب کا یہ مخصوص گروہ اگر محض شہادتین ادا کرے تو وہ مسلمان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ ایمان اور اسلام کو وہی سمجھتا ہے جس پر وہ پہلے سے قائم ہے۔ لہٰذا ان کے اسلام کے لیے سابقہ دین سے براءت شرط ہے، تاکہ ان کے باطن اور ظاہر میں تضاد باقی نہ رہے۔
اسی طرح «السیر الکبیر» اور «المحیط» جیسے معتبر فقہی مصادر میں بھی یہ صراحت موجود ہے کہ
قال أبو يعقوب الجرجاني الحنفي في خزانة الأكمل: "وفي السير الكبير: أن اليهود و النصارى الذين بين أظهرنا إذا قالوا أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله لا يكونون مسلمين، فانهم يقولون إنه يرسل اليكم فلا بد من البراءة عن دينهم و اقرارهم بالدخول في الاسلام والقبول بما جاء من عند الله. هذا مذهب أبي حنيفة رضي الله عنه". انتهى
عراق اور اس جیسے علاقوں میں رہنے والے بعض یہودی و نصرانی رسول اللہ ﷺ کو صرف عربوں کا رسول مانتے تھے، اس لیے ان کا محض “محمد رسول اللہ” کہنا اسلام میں داخل ہونے کے لیے کافی نہ تھا، جب تک وہ اپنے سابقہ دین سے اعلانِ براءت نہ کریں۔
امام ابو حنیفہؒ کا موقف: مخصوص اہلِ کتاب اور تحفظِ عقیدۂ رسالت
پس یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف نہ تو شاذ ہے، نہ اسلام میں تنگی پیدا کرنے والا، بلکہ عین تحفظِ عقیدہ رسالت پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس شرط کو ایک مخصوص فتنہ انگیز گروہ کے لیے لازم قرار دیا، نہ کہ مطلق اہلِ کتاب کے لیے۔
نتیجہ:
یہ بھی عرض ہے کہ اگر اس مسئلے کی باریکی کو نہ سمجھنا محدثین کی علمی کوتاہی ہے، تو اس کا بوجھ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر نہیں ڈالا جا سکتا ۔امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمۂ احناف کی یہ عظمت ہے کہ انہوں نے ان فکری فتنوں کو پہچانا اور اسلام کو ان یہودی و نصرانی گروہوں کی تحریفات سے محفوظ رکھا جو بظاہر رسالت کا اقرار کرتے تھے مگر حقیقت میں اس کے منکر تھے۔ افسوس کہ بعض محدثین نے ان باریک فقہی و اعتقادی نکات کو سمجھے بغیر، حدیث اور جرح کے نام پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر سخت جملے کہے۔
اللہ تعالیٰ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کی عظیم خدمات کو قبول فرمائے، اور ہمیں تعصب، یک رُخی اور ائمہ کے درمیان ناحق نزاع سے محفوظ رکھے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں