نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب امام ابو حنیفہؒ پر اہلِ کتاب کے اسلام سے متعلق اعتراض کا تحقیقی و اصولی جائزہ

 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب امام ابو حنیفہ  رحمہ اللہ پر اہلِ کتاب کے اسلام سے متعلق اعتراض کا تحقیقی و اصولی جائزہ


٨٣٥ - أَخْبَرَنَا العباس بن أحمد المستلمي النجار بطرطوس، أنهم سألوا أبا عبد الله عن رجل نصراني، أو يهودي قَالَ: أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، ﷺ؟ قَالَ: فقد أسلم. فقلنا له: قَالَ ذاك عندنا رجل بطرطوس. فقال فِيهِ ابن شيبويه: رأيته قد أسلم، وَقَالَ غيره: لا. حتى يقول: برئت من النصرانية، وتركت ديني. فَقَالَ: سبحان الله! لقد قَالَ النبي، ﷺ، لرجل: قل: أشهد أن لا إله إلا الله، وأني رسول الله، فأسلم بذاك. ثم قَالَ: كل من نظر فِي رأي أبي حنيفة إلا كان دغل القلب يذهب إليه. ہمیں عباس بن احمد المستلمی النجار نے طرطوس میں خبر دی کہ لوگوں نے ابو عبد اللہ (امام احمد) سے ایک نصرانی یا یہودی کے بارے میں پوچھا جس نے کہا: “میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔” تو انہوں نے فرمایا: وہ مسلمان ہو گیا۔ ہم نے ان سے عرض کیا: طرطوس میں ہمارے پاس ایک شخص نے یہی کہا ہے۔ تو ابنِ شیبوَیہ نے اس کے بارے میں کہا: میں نے اسے مسلمان ہوتے دیکھا ہے، اور کسی دوسرے نے کہا: نہیں، (وہ مسلمان نہیں ہوگا) یہاں تک کہ وہ یہ کہے: میں نصرانیت سے بیزار ہوں اور میں نے اپنا دین چھوڑ دیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ! نبی ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا تھا: کہو “میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں”، تو وہ اسی کے ذریعے مسلمان ہو گیا۔ پھر فرمایا: جو شخص ابو حنیفہ کی رائے پر نظر رکھتا ہے، اس کا دل کھوٹا ہوتا ہے اور وہ اسی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ (أحكام أهل الملل والردة - من الجامع للخلال - ت كسروي ١/‏٢٩٥)

الجواب :  
العباس بن أحمد المستلمي النجار :  مجہول راوی

یہ روایت عباس بن احمد المستلمی النجار القاضی بطَرسوس کے واسطے سے منقول ہے، اور  ایک مجہول کی روایت کو امامِ امت ابو حنیفہؒ جیسے جلیل القدر فقیہ کے خلاف کیسے دلیل بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری نہایت اہم بات یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ جملہ واقعی امام احمد رحمہ اللہ ہی کا ہو: “جو شخص ابو حنیفہ کی رائے پر نظر رکھتا ہے، اس کا دل کھوٹا ہوتا ہے اور وہ اسی کی طرف مائل ہو جاتا ہے”

تو بھی اس سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کوئی شرعی یا علمی اعتراض لازم نہیں آتا۔ اس لیے کہ یہاں اصل نزاع ایک فقہی و اجتہادی مسئلے کا ہے، جس میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہمیشہ سے رہا ہے۔ ائمۂ اہلِ سنت کے ہاں یہ بات مسلم ہے کہ اجتہادی مسائل میں سخت کلامی جرحِ شرعی نہیں بنتی، بلکہ یہ منہجی اختلاف کا اظہار ہوتی ہے۔

 اصل نزاع کی نوعیت: اہلِ کتاب کے اسلام میں کلمۂ شہادتین اور براءتِ دین کا مسئلہ

اب اصل مسئلے کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ سارا اشکال اسی مقام پر پیدا ہوا ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگر کوئی یہودی یا نصرانی کلمۂ شہادتین ادا کرے، تو کیا وہ محض اس قول سے مسلمان ہو جائے گا، یا اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے سابقہ دین سے صراحتاً براءت کا اظہار کرے؟ 

بعض لوگوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف یہ بات منسوب کر دی کہ وہ مطلقاً اہلِ کتاب کے اسلام کے لیے براءتِ دین کو شرط قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ نسبت سرے سے غلط اور امام ابو حنیفہ کے مسلک کی خلافِ حقیقت تصویر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے تمام تلامذہ و اصحاب اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص خلوص کے ساتھ کلمۂ شہادتین ادا کر لے، وہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس اصول میں کسی قسم کا اختلاف نہیں۔ البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اہلِ کتاب کے ایک مخصوص گروہ کے بارے میں تفصیل بیان فرمائی ہے، جسے سمجھے بغیر ان پر اعتراض کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔

یہ وہ مخصوص گروہ تھا جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار تو کرتا تھا، مگر اس قید کے ساتھ کہ آپ ﷺ صرف عربوں کے رسول ہیں، بنی اسرائیل یا تمام انسانوں کے لیے نہیں۔ ایسے لوگ شہادتین اس مفہوم کے ساتھ ادا کرتے تھے جو درحقیقت شہادت کے حقیقی مفہوم کے منافی تھا۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے محض کلمہ کہنا کافی نہیں، جب تک وہ صراحت کے ساتھ اپنے سابقہ باطل دین سے براءت اور دینِ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان نہ کریں۔

یہ بات محض امام ابو حنیفہ کی رائے نہیں، بلکہ کتبِ ملل و نحل اور فقہی مصادر میں اس کی صریح تصریحات موجود ہیں۔ جیسا کہ  د. غالب بن علي عواجي نے اپنی کتاب  (فرق معاصرة تنتسب إلى الإسلام وبيان موقف الإسلام منها ٣/‏١١١٦) میں ان گروہوں کا ذکر کیا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو صرف عربوں تک محدود سمجھتے تھے، اور اسی مفہوم کو انہوں نے امام شہرستانی کی (الملل والنحل للشهر ستاني ١ /٢١٧) سے نقل کیا ہے۔ ان گروہوں کا کلمہ پڑھنا دراصل اسلام قبول کرنا نہیں تھا، بلکہ اپنے سابقہ باطل عقیدے پر قائم رہتے ہوئے ایک لفظی اقرار تھا۔

اسی حقیقت کی وضاحت شیخ یوسف بن عمر قادوری رحمہ اللہ نے «جامع المضمرات في شرح مختصر القدوري» میں کی ہے کہ "في الزاد: وفرقة من أهل الكتاب يقولون محمد رسول الله إلى العرب دون بني اسرائيل. فهذه الفرقة لا يكون أحد منهم مسلما باتيان الشهادتين حتى يتبرؤوا من الدين الذي هم عليه، ولو قال واحد منهم إني مؤمن لم يكن بذلك مسلما لأنهم يزعمون ان الايمان و الاسلام ماهم عليه". انتهى

 اہلِ کتاب کا یہ مخصوص گروہ اگر محض شہادتین ادا کرے تو وہ مسلمان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ ایمان اور اسلام کو وہی سمجھتا ہے جس پر وہ پہلے سے قائم ہے۔ لہٰذا ان کے اسلام کے لیے سابقہ دین سے براءت شرط ہے، تاکہ ان کے باطن اور ظاہر میں تضاد باقی نہ رہے۔

وَفِي الْمُحِيطِ مَنْ يُقِرُّ مِنْ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى بِرِسَالَةِ مُحَمَّدٍ - ﷺ - وَلَكِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ رَسُولٌ إلَى الْعَرَبِ لَا إلَى بَنِي إسْرَائِيلَ كَمَا فِي بِلَادِ الْعِرَاقِ فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ مُسْلِمًا بِإِقْرَارِهِ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى يَتَبَرَّأَ مِنْ دِينِهِ ذَلِكَ أَوْ يُقِرَّ بِأَنَّهُ دَخَلَ فِي دِينِ الْإِسْلَامِ اهـ
المحیط میں ہے: جو یہودی اور نصرانی رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار تو کرتے ہیں، لیکن یہ گمان رکھتے ہیں کہ آپ ﷺ صرف عربوں کے لیے رسول ہیں، بنی اسرائیل کے لیے نہیں—جیسے عراق کے علاقوں میں (بعض لوگ)—تو وہ محض اس اقرار سے کہ “محمد اللہ کے رسول ہیں” مسلمان نہیں ہوتے، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دین سے براءت کا اظہار کریں یا یہ اقرار کریں کہ وہ دینِ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ٥/‏١٣٩)

اسی طرح «السیر الکبیر» اور «المحیط» جیسے معتبر فقہی مصادر میں بھی یہ صراحت موجود ہے کہ 

قال أبو يعقوب الجرجاني الحنفي في خزانة الأكمل: "وفي السير الكبير: أن اليهود و النصارى الذين بين أظهرنا إذا قالوا أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله لا يكونون مسلمين، فانهم يقولون إنه يرسل اليكم فلا بد من البراءة عن دينهم و اقرارهم بالدخول في الاسلام والقبول بما جاء من عند الله. هذا مذهب أبي حنيفة رضي الله عنه". انتهى

عراق اور اس جیسے علاقوں میں رہنے والے بعض یہودی و نصرانی رسول اللہ ﷺ کو صرف عربوں کا رسول مانتے تھے، اس لیے ان کا محض “محمد رسول اللہ” کہنا اسلام میں داخل ہونے کے لیے کافی نہ تھا، جب تک وہ اپنے سابقہ دین سے اعلانِ براءت نہ کریں۔

امام ابو حنیفہؒ کا موقف: مخصوص اہلِ کتاب اور تحفظِ عقیدۂ رسالت

پس یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف نہ تو شاذ ہے، نہ اسلام میں تنگی پیدا کرنے والا، بلکہ عین تحفظِ عقیدہ رسالت پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس شرط کو ایک مخصوص فتنہ انگیز گروہ کے لیے لازم قرار دیا، نہ کہ مطلق اہلِ کتاب کے لیے۔

نتیجہ: 

 یہ بھی عرض ہے کہ اگر اس مسئلے کی باریکی کو نہ سمجھنا  محدثین  کی علمی  کوتاہی  ہے، تو اس کا بوجھ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر نہیں ڈالا جا سکتا ۔امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمۂ احناف کی یہ عظمت ہے کہ انہوں نے ان فکری فتنوں کو پہچانا اور اسلام کو ان یہودی و نصرانی گروہوں کی تحریفات سے محفوظ رکھا جو بظاہر رسالت کا اقرار کرتے تھے مگر حقیقت میں اس کے منکر تھے۔ افسوس کہ بعض محدثین نے ان باریک فقہی و اعتقادی نکات کو سمجھے بغیر، حدیث  اور جرح  کے نام پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر سخت جملے کہے۔

اللہ تعالیٰ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کی عظیم خدمات کو قبول فرمائے، اور ہمیں تعصب، یک رُخی اور ائمہ کے درمیان ناحق نزاع سے محفوظ رکھے۔ 



تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...