نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

احکامِ طلاق — از کفایتُ اللہ سنابلی کا جائزہ ، 🔹 مشائخِ قرطبہ اور مالکی فقہاء کے درمیان ہونے والی مسئلہ طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد پر آئینی کش مکش سے غیر مقلدین کے استدلال کا حقیقت پسندانہ جائزہ 🔹

 



🔹 مشائخِ قرطبہ اور مالکی فقہاء کے درمیان ہونے والی مسئلہ طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد پر آئینی کش مکش سے غیر مقلدین کے استدلال کا حقیقت پسندانہ جائزہ 🔹

پانچویں صدی ہجری میں مُجمَع علیہ موقف (جس پر اجماع ہو چکا ہو) طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد کو مختلف فیہ  ثابت کرنے کی کوشش میں کفایت اللہ سنابلی نے اپنی عادت کے مطابق کتمانِ حق  کرتے ہوئے بڑی خیانت سے کام لیا۔


اندلس کے قاضی ابو جعفر احمد بن محمد بن مُغِیث الصَّدَفی الطُّلَیطُلی کے تعلق سے بھی سنابلی نے یہی باور کرایا کہ وہ بھی فتویٰ ہی دیتے تھے، حالانکہ یہ صریح (واضح) بددیانتی ہے۔ سنابلی نے کہا:

پانچویں صدی ہجری اور تین طلاق کے ایک ہونے کا "فتویٰ": امام احمد بن محمد بن مُغِیث (مولود ۴۶۰ متوفی ۴۵۹) کا فتویٰ: آپ اپنی کتاب "المُقنِع فی عِلم الشُّروط" میں فرماتے ہیں: فطلاق السنة هو الواقع على الوجه الذي ندب الشرع إليه "طلاق سنت وہ ہوتی ہے جو اسی طریقہ پر واقع ہوتی ہے جس طریقہ کی طرف شریعت نے رہنمائی کی ہے" (المقنع فی علم الشروط: ۸)

اس کے بعد امام ابن مُغِیث نے اس مسئلہ میں اختلاف ذکر کرنے کے بعد صرف تین طلاق کے عَدَمِ وُقُوع (واقع نہ ہونے) والے قول کے دلائل پیش کیے ہیں اور اس سلسلے میں بڑی تفصیل سے اس کی تائید (حمایت) میں صحابہ اور اہل علم کے اقوال نقل کیے ہیں۔ دیکھئے: [المقنع فی علم الشروط: ۸۰ تا ۸۲] (احکام طلاق صفحہ 587)

ابن مُغِیث کا اجماعی موقف

"عِلم الشروط" میں احمد بن مُغِیث نے جو کہا، سنابلی اس کو فتویٰ سمجھ کر نقل کر دیا، لیکن اس اختلاف سے پہلے وہ کیا کہہ رہے ہیں اگر وہ بھی نقل کر دیتے تو شاید غیر مقلدانہ ذہن کو اس مسئلہ کی اجماعی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا اور سیاہی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

قال أحمد بن مغيث ويكره للرجل أن يطلق ثلاثاً أو البتة، فإن فعل لزمه. وتكتب في ذلك : طلق فلان بن فلان، زوجه فلانة بنت فلان ثلاث تطليقات أو البتة، ملكت بهن أو بها أمر نفسها، وحرم عليه نكاحها معها أو معهن حتى تنكح زوجاً غيره، على ما نطق به التنزيل وأحكمته سنة الرسول . شهد على إشهاد المطلق فلان المذكور) بما ذكر عنه في هذا الكتاب من عرفه وسمعه منه، وهو بحال الصحة والجواز، وذلك في يوم كذا من تأريخ كذا۔

ترجمہ: احمد بن مُغِیث نے کہا کہ مرد کے لیے تین طلاقیں یا 'البتَّۃ' (حتمی طلاق) دینا مکروہ ہے، لیکن اگر وہ ایسا کرے تو وہ لازم ہو جاتی ہے۔ اس (طلاق نامے/دستاویز) میں یوں لکھا جائے گا: "فلاں بن فلاں نے اپنی زوجہ فلاں بنت فلاں کو تین طلاقیں یا 'البتَّۃ' (حتمی طلاق) دے دیں۔ جس کے ذریعے (تین طلاقوں یا حتمی طلاق سے) عورت اپنے معاملے کی مالک ہو گئی، اور اس (مُطَلَّقہ) عورت سے اس (مرد) کا نکاح کرنا حرام ہو گیا جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے، جیسا کہ قرآنِ مجید نے بیان کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے اسے پختہ کیا ہے۔ مذکورہ طلاق دینے والے فلاں نے اس (طلاق کے) اقرار پر گواہ بنایا ان لوگوں کو جنہوں نے اسے پہچانا اور اس سے سنا، اور وہ (طلاق دیتے وقت) صحت مند اور جائز حالت میں تھا۔ یہ فلاں تاریخ کے فلاں دن ہوا۔"

(المقنع فی علم الشروط صفحہ 80)

اور یہیں پر بس نہیں، آگے فرماتے ہیں:

ثم اختلف أهل العلم بعد إجماعهم على أنه مطلق كم يلزمه من الطلاق،

ترجمہ: "پھر اس بات پر اجماع کے بعد کہ (اس نے طلاق دی) طلاق واقع ہو چکی ہے، اہل علم میں اختلاف ہوا کہ اُس پر کتنی طلاقیں لازم ہوں گی۔" (صفحہ 80)

ابنِ مُغِیث رحمہ اللہ طلاقِ ثلاثہ کے وقوع کو اجماعی مسئلہ کہہ رہے ہیں، جو اس مسئلہ کی اجماعی حیثیت کا پختہ ثبوت ہے۔ ابنِ مُغِیث المالکی اور اُن کے ہم خیال لوگوں نے اس مسئلہ میں ایک شاذ (کمزور، منفرد) رائے کو اختیار کیا ہوا تھا، باوجود اس کے کہ وہ اس مسئلہ پر اجماع کے انعقاد کو تسلیم کر چکے ہیں۔

غیر مقلدین کا استدلال اور مالکی شیوخ کا شاذ قول

اب اس کے بعد غیر مقلدین کے موقف کو تقویت دیتی ہوئی عبارت شروع ہوتی ہے، جہاں وہ اپنے فہم کے مطابق اس مسئلہ میں اختلاف کو نقل کرتے ہیں اور حضرت علی، عبداللہ بن مسعود، اور ابنِ عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے (کہ وہ تین کو ایک کہتے تھے) اور اس کے مثل زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن ابنِ عوف سے منقول ہے، اور یہ سب انہوں نے اپنے شیخ ابنِ وضَّاح سے روایت کیا ہے۔

اور پھر اپنے ہم عصر علماء کے بارے میں کہتے ہیں:

وبه قال من شيوخ قرطبة ابن زنباع (۲) شيخ وقتنا هذا ،و محمد بن بقي بن مخلد (۱)، ومحمد بن عبد السلام الخشني (٢) فقيه عصره،وأصبغ بن الحباب (۳) وجماعة من فقهاء قرطبة سواهم .

ترجمہ: "اور ہمارے اس دور کے شیوخِ قرطبہ میں سے ابن زِنباع نے بھی یہی کہا۔ اور محمد بن بَقِیّ بن مَخلَد، اور اپنے زمانے کے فقیہ محمد بن عبدالسلام الخُشَنی، اور أصبَغ بن الحَبّاب اور اُن کے علاوہ قرطبہ کے فقہاء کی ایک جماعت نے بھی (اسی قول کو اختیار کیا)۔"

ابن مُغِیث کی رائے کا سیاق

ابنِ مُغِیث کے موقف اور مَنشَا (مقصد) کو سمجھنے کے لیے ہمیں اندلس میں قرطبہ کے ماحول کو سمجھنا ہوگا کہ ایسی کیا وجہ ہوئی کہ اس شاذ رائے کو اسلام کے اس سنہرے دور میں حکومتی سطح پر نافذ کرنے کی بات ہونے لگی جو ایک شاذ رائے تھی۔

ابنِ مُغِیث کا نظریہ طلاقِ ثلاثہ کو ایک شمار کرنے کے ان تمام نظریات میں شامل ہے جو بعد میں ابنِ تیمیَّہ اور دیگر لوگوں نے پیش کیے، لیکن دونوں کی فقہی بنیاد اور سیاق (پس منظر) مختلف تھا۔ ابنِ مُغِیث کا مقصد اپنے خطے (اندلس) کے مالکی قانونی نظام میں اپنی رائے کو "عِلم الشروط" کے ذریعے نافذ کرنا تھا، جس کا مطلب تھا براہ راست موجودہ اندلس کے عدالتی طریقہ کار کو چیلنج کرنا، جو کہ پہلے ہی سے ایک متواتر  رائے جو اعلامِ اسلام میں جانی مانی تھی پر عمل چلا آ رہا تھا۔ ابنِ مُغِیث کا چیلنج اندلس کے مالکی فقہاء کے اجماع کے اندرونی استحکام سے متعلق تھا جس کا اشارہ انہوں نے یہ کہہ کر دیا کہ "اس مسئلہ میں غور کیا جائے"۔ (عِلم الشروط 80)

:قاضی ابنِ رُشد الجَد کا مخالفین پر عدالتی ردِ عمل :

اس کے برعکس، اندلس کے قاضی ابنِ رُشد الجَد رحمہ اللہ کا رد موجود ہے جو فقہِ مالکی کے عملی اجماع کو برقرار رکھنے پر مرکوز تھا، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اندلس کے قضائی (عدالتی) نظام میں انتشار (بگاڑ) پیدا نہ ہو اور لوگوں کے درمیان ازدواجی رشتے حرام نہ ہو جائیں یا غلط طور پر حلال نہ سمجھے جائیں، جو اس رائے کے عملی ہونے کا لازمی نتیجہ ہو جاتا، کا سد باب کیا۔

مالکی نہج کے مجتہد قاضی ابنِ رُشد الجَد جو مشہور ابنِ رُشد الحفید (فلسفی) کے دادا ہیں، پکّے اشعری عالمِ دین اور غضب کے مجتہد تھے، نے اپنی مشہور تصنیف "المقدمات المُمَہِّدَات" میں طلاقِ ثلاثہ کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس رائے کے مخالف کو فقہی دائرے سے باہر قرار دیا۔

فرمایا:

، وهو مذهب جميع الفقهاء وعامة العلماء لا يشذ في ذلك عنهم إلا من لا يعتد بخلافه منهم

ترجمہ: "اس مسئلے میں ان تمام فقہاء و علماء سے صرف وہ شخص انحراف (اختلاف کرتا ہے )جس کے اختلاف کو قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔" (المقدمات الممهدات ابن رشد الجد (501/1)

قاضی ابنِ رُشد الجَد کا یہ بیان انتہائی قاطع (فیصلہ کن) اور واضح ہے۔ "لا يَشُذُّ في ذلك عنهم إلا من لا يُعتَدّ بخِلافِه" (صرف وہی شخص اس میں اختلاف کرتا ہے جس کے اختلاف کا اعتبار نہیں کیا جاتا) کا اطلاق ابنِ مُغِیث اور ان جیسے دیگر لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے اس مسئلے میں جمہور (اکثریت) کی مخالفت کی۔ یہ محض ایک علمی تبصرہ نہیں، بلکہ ایک عدالتی اعلان ہے۔ چونکہ ابنِ مُغِیث "عِلم الشروط" میں تھے اور ابنِ رُشد قاضی تھے، ابنِ رُشد نے اپنے اس بیان کے ذریعے عملی طور پر قاضیوں اور کاتبوں پر واضح کر دیا کہ تین طلاقوں کو ایک ماننے والی رائے ایک ایسا قول ہے جسے عدالتی کارروائی میں مُطلقاً (بالکل) قبول نہیں کیا جائے گا، اس طرح انہوں نے مالکی فقہ کے بنیادی قضائی اصولوں کا دفاع کیا۔ اس طرح کے شاذ قول کو قانونی دستاویزات میں شامل کرنے کی کوشش کو مسترد کرنے کے لیے یہ ایک حتمی ضابطہ مرتب کیا۔

حیلہ سازی کے خلاف تاریخی فیصلہ

ابنِ مُغِیث کی رائے کے خطرناک عملی مضمرات (نتائج) اس وقت ظاہر ہوئے جب لوگوں نے طلاقِ ثلاثہ دینے کے بعد رجوع کی کوشش کی اور اس کے لیے عدالتی نظام میں تحریری ہیر پھیر کا سہارا لیا۔ اس صورت حال میں، قاضی ابنِ رُشد الجَد نے ان کاتبوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیا جو طلاقِ ثلاثہ کے معاملے میں "مُتَحَیِّسل" (چالاک یا دھوکہ دینے والا) کردار ادا کرتے تھے۔

چناں چہ "مسائل أبي الوليد ابن رشد" (مسائل ابنِ رُشد الجَد)، جو مالکی فقہ کے فتاویٰ اور شرعی مسائل پر مشتمل ہے، جیسے برصغیر میں جو اہمیت فتاویٰ عالمگیری کو حاصل تھی، یہ بھی اسی حیثیت کی کتاب اس وقت تھی جب اندلس (Spain) میں مسلمانوں کی حکومت تھی۔ یہ کتاب فقہی سوالات کا مجموعہ ہے جو ابنِ رُشد الجَد (وفات 520 ہجری) کو پیش کیے گئے، اور وہ ان کے جوابات دیتے ہیں۔

سوال: [١]- رَدّ المطلقہ ثلاثًا فی کلمۃ واحدۃ، وتجریح الشاھد

سوال: ایک ہی کلمے میں تین طلاقیں دی گئی عورت سے رجوع کرنا اور گواہ کو مجروح کرنا۔

جو کچھ میری نظر میں آیا ہے، ان چیزوں میں سے ایک تین طلاقیں دی گئی عورتوں سے رجوع کرنا ہے، اور اس عظیم گناہ کو حلال ٹھہرانا (رجوع کے ذریعے)؛ تو آپ کا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جس نے اس عورت کو واپس لینے پر گواہی دی، اور اس حیلہ سازی (سازش) میں شامل ہوا کہ ان تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق بنا دیا جائے؟

نوٹ: قارئین! سوال سمجھیے اور سوال کی حساسیت کو سمجھیے؛ جس تین طلاق کو غیر مقلدین اور کفایت اللہ سنابلی ایک طلاقِ رجعی ثابت کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں اور جو ماحول پاک و ہند کا اس مسئلہ میں غیر مقلدین کی تحقیق کے نتیجے میں بگڑا ہے، وہی حالات اس وقت اندلس کے تھے۔ مخالفین کسی طرح اس طلاقِ بائن کبریٰ میں آئینی تبدیلی کرنا چاہتے تھے، جب یہ نہیں ہو پایا تو قانون میں لچک پیدا کرنے کے لیے حیلے تراشنے لگے، جیسے آج کل پاک و ہند کی آئینی لچک دیکھ لو، بڑے سے بڑا جرم کرنے کے باوجود مجرم بچ کر نِکل جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ قانون میں اتنے "Loopholes" ہیں کہ ہر کوئی اس کو اپنی من مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے۔ بالکل یہی صورت اس مسئلہ کو لے کر اندلس (Spain) میں اس وقت پیدا ہو گئی تھی جس کا ذکر اس سوال میں ہے، اس کا جواب بھی بڑا سخت دیا گیا ہے۔

ابنِ رُشد الجَد کا تاریخی فتویٰ (Judgment)

اور قاضی ابنِ رُشد اس مسئلہ پر اپنا تاریخی "Judgment" (عدالتی فیصلہ) رقم کرواتے ہوئے لکھتے ہیں:

جواب: والقول بأن المطلقة ثلاثا في كلمة واحدة لا تَحِلُّ لمطلقها إلا بعد زوج مما أجمع عليه فقهاء الأمصار، ولم يختلفوا فيه؛ فالكاتب، الذي ذكرت عنه أن يحلها قبل زوج ويكتب في ذلك المراجعة، رجل جاهل، قليل المعرفة، ضعيف الدين، فعل ما لا يسوغ له بإجماع من أهل العلم؛ إذ ليس من أهل الاجتهاد، فتسوغ له مخالفة ما اجتمع عليه فقهاء الأمصار: مالك، والشافعي، وأبو حنيفة، وأصحابهم، وإنَّما فرضه تقليد علماء وقته، فلا يصح له أن يخالفهم برأيه.فالواجب أن ينهى عن ذلك، فإن لم ينته عنه أدب عليه، وكانت جرحة فيه، تسقط إمامته وشهادته.

ترجمہ: "اور یہ قول کہ جس عورت کو ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں دی گئی ہوں وہ اپنے مُطَلِّق (طلاق دینے والے) کے لیے دوسرے شوہر کے بعد ہی حلال ہو سکتی ہے، یہ ان مسائل میں سے ہے جس پر تمام شہروں کے فقہاء کا اجماع ہے، اور انہوں نے اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا، لہٰذا وہ لکھنے والا (کاتب)، جس کے بارے میں آپ نے ذکر کیا کہ وہ اسے (عورت کو) دوسرے شوہر سے پہلے ہی حلال قرار دیتا ہے اور اس بارے میں رجوع لکھتا ہے، وہ ایک جاہل، کم علم، اور کمزور دین والا شخص ہے، اس نے ایسا کام کیا ہے جو اہل علم کے اجماع سے جائز نہیں ہے؛ کیونکہ وہ اجتہاد کے اہل میں سے نہیں ہے کہ اسے ان مسائل میں مخالفت کی اجازت ہو جن پر تمام شہروں کے فقہاء کا اتفاق ہوا ہے: مالک، اور شافعی، اور ابو حنیفہ، اور ان کے اصحاب (شاگردوں) کا، اور اس پر تو فرض تھا کہ وہ اپنے وقت کے علماء کی تقلید کرتا، لہٰذا اس کے لیے صحیح نہیں کہ وہ اپنی رائے سے ان کی مخالفت کرے۔ لہٰذا لازم ہے کہ اسے اس کام سے روکا جائے، اگر وہ اس سے باز نہ آئے تو اسے تادیبی سزا دی جائے گی، اور یہ اس کے حق میں عیب (کمزوری) ہو گا، جس سے اس کی امامت اور گواہی ساقط ہو جائے گی۔"

(مسائل أبي الوليد ابن رشد 1245/2)

عدالتی فیصلے سے اخذ شدہ نتائج

اس عدالتی فیصلے (Judgment) سے حکومتی سطح پر درج ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:

ایک ہی لفظ کی تین طلاق دہندہ عورت واپس نہیں ہو سکتی جب تک کہ تحلیل (دوسرے شوہر سے نکاح کرکے طلاق لینا) نہ کر لے۔

تمام شہروں (مشرق، مغرب) کا اجماع ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین ہوتی ہے۔

جو تین طلاق کو ایک رجعی طلاق قرار دیتا ہے وہ جاہل ہے، کم علم ہے، کمزور دین والا ہے۔ اور اس نے وہ کام کیا جس کی اس کو قطعاً اجازت نہیں تھی۔

اور ایسا فتویٰ دینے والا اہلِ اجتہاد میں سے نہیں (تو کیوں ان کو شیخ الاسلام کہا جائے؟)

قاضی ابنِ رُشد الجَد کی کفایت اللہ سنابلی اور تمام غیر مقلدین کو یہ نصیحت ہے کہ ان پر فقہ مالکی کی تقلید (پیروی) فرض ہے!

اور جو یہ مذموم (قابلِ مذمت) رائے رکھتا ہے اس کو سختی سے روکا جائے، اور سزا دی جائے۔

اور مستقبل میں اس کی گواہی بھی معتبر نہیں ہوگی۔

کفایت اللہ اینڈ پارٹی جان لیں کہ فتویٰ ایسا ہوتا ہے! اور یہ صرف ہمارے خیال والا فتویٰ نہیں ہے بلکہ سلطنتِ اندلس کی قانونی دستاویز ہیں، جن میں موجود اختلافِ رائے کو سنابلی نے جاہلانہ انداز میں اپنی جاہل عوام کے سامنے رکھا!

یہ نصوص (عبارتیں) واضح طور پر ایک قانونی تصادم کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا تھا، تو وہ اس شاذ رائے کا سہارا لے کر (جیسا کہ ابنِ مُغِیث نے شروط میں بیان کیا تھا) کاتب (قانونی دستاویز تیار کرنے والا) پر دباؤ ڈالتا تھا کہ وہ اس طلاق کو رجعی (ایک) طلاق کے طور پر لکھ دے تاکہ رجوع ممکن ہو سکے۔ ابنِ رُشد کے فتاویٰ میں کاتب کو سزا دینے کی ضرورت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ابنِ مُغِیث کا نقطہ نظر صرف نظریاتی بحث نہیں رہا تھا، بلکہ اندلس کے عدالتوں میں عملی طور پر ایک قانونی کمزوری یا "loophole" کے طور پر استعمال ہونے لگا تھا، جس کی وجہ سے قضاۃ (قاضیوں) کو عدالتی نظام کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات اٹھانے پڑے تو قاضی ابنِ رُشد الجَد نے یہ کام بہ خوبی کیا، اللہ اس کو مقبولیت بخشے۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...