اعتراض : امام احمدؒ کا یہ کہنا کہ “اصحابِ ابی حنیفہ کو حدیث میں بصیرت نہیں، یہ محض جُرأت ہے”
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ: "يَقُولُ لِهَؤُلَاءِ، أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ: لَيْسَ لَهُمْ بَصَرٌ بشَيْءٍ مِنَ الْحَدِيثِ، مَا هُوَ إِلَّا الْجُرْأَةُ "
میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: “یہ جو ابو حنیفہ کے اصحاب ہیں، انہیں حدیث کے کسی پہلو میں بصیرت حاصل نہیں، یہ محض جرأت (بے باکی) ہی ہے۔” (مختصر قيام الليل وقيام رمضان وكتاب الوتر ١/٢٩٧ )
الجواب : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول اس روایت پر اگر غیر جذباتی، علمی اور اصولی انداز میں غور کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا یہ جملہ حقیقتِ حال کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک خاص منہجی رجحان اور فقہی مزاج کے تحت دیا گیا تبصرہ ہے۔ اسے نہ تو اہلِ کوفہ کی مجموعی علمی حیثیت پر حتمی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اصحابِ ابی حنیفہ کی حدیثی قدر و منزلت پر کوئی قطعی حکم سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر امام احمد رحمہ اللہ کے اس قول کو عمومی اور مطلق مفہوم میں لیا جائے کہ اصحابِ ابی حنیفہ کو حدیث میں بصیرت حاصل نہیں تھی، تو یہ دعویٰ خود مسلمہ تاریخی اور حدیثی حقائق سے ٹکرا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصحابِ ابی حنیفہ میں ایسے جلیل القدر ائمہ شامل ہیں جن کی حدیثی حیثیت پر پوری امت کا عملی اور نظری اتفاق ہے۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ، جو منصبِ قضاء پر فائز رہے اور قاضی القضاۃ کے عہدے تک پہنچے، فقہ اور حدیث دونوں میں مسلم الثبوت امام ہیں۔
امام زفر رحمہ اللہ فقہی استنباط اور روایت میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔
امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ، جنہیں ائمۂ جرح و تعدیل حدیث کا امام قرار دیتے ہیں، وہ بھی اصحابِ ابی حنیفہ میں سے ہیں۔
اسی طرح عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ، جو زہد، فقہ اور حدیث تینوں میدانوں میں امامت کا درجہ رکھتے ہیں، اسی علمی حلقے سے تعلق رکھتے تھے۔
اسی تسلسل میں امام ابو عبدالرحمن المقرئ، امام ابو نعیم فضل بن دکین، امام مکی بن ابراہیم اور امام ابو عاصم النبیل جیسے جلیل القدر محدثین بھی شامل ہیں۔ یہ تمام حضرات ثقہ، ثبت اور امام ہیں، اور صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ان کی روایات موجود ہیں۔ ائمۂ جرح و تعدیل نے ان میں سے بعض کو حافظ، بعض کو امام اور بعض کو حجت قرار دیا ہے۔ ان ناقابلِ تردید حقائق کے بعد یہ تصور خود بخود باطل ہو جاتا ہے کہ اصحابِ ابی حنیفہ حدیث سے ناآشنا یا علمی طور پر کمزور تھے۔
خود امام احمد رحمہ اللہ کا عملی طرزِ عمل بھی اس قول کے عمومی مفہوم کی نفی کرتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ امام احمد نے حدیث کا سب سے پہلا باقاعدہ درس قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ سے حاصل کیا تھا (تاريخ بغداد 14/255) ، اور وہ قاضی ابو یوسف کو “صدوق” کہہ کر ان کی علمی ثقاہت اور امامت کا اعتراف بھی کرتے ہیں «اﻟﻌﻠﻞ» (5332) ، حالانکہ قاضی ابو یوسف امام ابو حنیفہ کے ممتاز ترین شاگردوں میں سے ہیں۔ اگر واقعی اصحابِ ابی حنیفہ کو حدیث میں بصیرت حاصل نہ ہوتی تو امام احمد کا ان سے درس لینا اور ان کی توثیق کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ امام احمد کا یہ تبصرہ کسی اصولی، ہمہ گیر یا حتمی جرح پر مبنی نہیں، بلکہ ایک خاص فقہی منہج پر تنقید کا اظہار ہے۔
درحقیقت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اہلِ رائے کے منہج کے سخت ناقد تھے، خصوصاً کوفی فقہی اسلوب اور قیاس کے کثرتِ استعمال سے انہیں شدید اختلاف تھا۔ اسی منہجی سختی کا عکس ان کے بعض بیانات میں نظر آتا ہے۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 35 : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح
تاہم اصولِ جرح و تعدیل کے مطابق محض فقہی منہج یا “اہلِ رائے” ہونے کی بنیاد پر کسی راوی کی عدالت، دیانت یا ضبطِ حدیث کو ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بنا پر امام احمد رحمہ اللہ کا یہ تبصرہ جرحِ مفسر کے درجے میں نہیں آتا اور نہ ہی اس سے اصحابِ ابی حنیفہ کی حدیثی حیثیت پر کوئی حقیقی اثر مرتب ہوتا ہے۔
اگر بالفرض اصحابِ ابی حنیفہ واقعی حدیث میں کمزور یا “گئے گزرے” ہوتے تو امتِ مسلمہ کا عملی رویہ اس کے بالکل برعکس ہوتا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسے اعلیٰ ترین مجموعاتِ حدیث میں ان سے روایت نہ لی جاتی، ائمۂ نقد انہیں ثقہ قرار نہ دیتے، اور امت صدیوں تک ان کے علم، فقہ اور قضاء پر اعتماد نہ کرتی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حدیث، فقہ اور عدلیہ کے میدان میں ان حضرات کی خدمات اور قبولیت مسلم ہیں اور ان کا علمی مقام ناقابلِ انکار ہے۔
لہٰذا نتیجہ یہ ہے کہ اصحابِ ابی حنیفہ نہ حدیث سے ناواقف تھے اور نہ ہی ان کی ثقاہت محلِ اشکال ہے۔ امام ابو یوسف، امام زفر، امام ابو عبدالرحمن المقرئ، امام ابو نعیم فضل بن دکین، امام مکی بن ابراہیم ، امام وکیع اور عبداللہ بن مبارک جیسے ائمہ سب اصحابِ ابی حنیفہ میں شامل ہیں اور سب کے سب ثقہ، معتمد اور حجت ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کا یہ قول دراصل منہجی سختی اور ذاتی فقہی مزاج کا اظہار ہے، نہ کہ ایسا فیصلہ جس سے اصحابِ ابی حنیفہ کی حدیثی حیثیت پر کوئی حقیقی زد پڑتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ نے اس قول کو کبھی بھی عمومی اور مطلق معنی میں قبول نہیں کیا۔
آخر میں ایک الزامی اور اصولی جواب بھی قابلِ غور ہے: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے امام اوزاعی رحمہ اللہ کو بھی ایک مقام پر ضعیف قرار دیا ہے (تاريخ بغداد ١٣/ ٤١٦)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا غیر مقلدین صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ان تمام روایات کو ضعیف کہیں گے جو امام اوزاعی سے مروی ہیں؟ یا وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں گے کہ امام احمد سے یہاں اجتہادی خطا ہوئی، اور بخاری و مسلم کی روایات سنداً صحیح ہیں؟ اگر وہ امام احمد کے امام اوزاعی پر تبصرے کو حتمی نہیں مانتے، تو بعینہٖ یہی اصول ثقہ اصحابِ ابی حنیفہ کے بارے میں امام احمد کے تبصروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں