احکامِ طلاق — از کفایتُ اللہ سنابلی کا جائزہ ، چوتھی صدی ہجری اور طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد کا اختلافی پہلو: امام طحاوی پر تلبیس کا رد۔
چوتھی صدی ہجری اور طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد کا اختلافی پہلو: امام طحاوی پر تلبیس کا رد۔
کیا چوتھی صدی ہجری میں بھی ایک مجلس کی تین طلاقیں (طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد) مختلف فیہ مسئلہ رہا ہے؟ اور کیا امام ابو جعفر طحاوی حنفی کا فتویٰ واقعی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ماننے کا تھا؟
📢 کفایت اللہ سنابلی کا دعویٰ اور "فَذَهَبَ قَوْمٌ" کی غلط تعبیر
کفایت اللہ سنابلی نے اپنی کتاب "احکام طلاق" میں چوتھی صدی ہجری کے تحت ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کے موقف کو امام ابو جعفر طحاوی الحنفی رحمہ اللہ کے "فتویٰ" کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس پر کئی سنجیدہ اعتراضات اور بددیانتی کے الزامات عائد ہوتے ہیں۔
سنابلی نے امام طحاوی کی عبارت کا ایک حصہ نقل کیا:
"فذهب قوم إلى أن الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا معا، فقد وقعت عليها واحدة..."
اس اقتباس کے ترجمے میں انہوں نے "فَذَهَبَ قَوْمٌ" (پس ایک گروہ کا موقف ہے) کا ترجمہ "اہل علم کی ایک جماعت" سے کیا، اور اس عنوان کو "چوتھی صدی ہجری اور تین طلاق کا ایک ہونے کا 👈🏻فتویٰ!" کے تحت شامل کیا۔
(احکام طلاق صفحہ 588)
یہاں پر دو بنیادی مغالطے اور تلبیسات کی گئی ہیں:
"فَذَهَبَ قَوْمٌ" کی غلط تعبیر: عربی زبان میں یہ اصطلاح عموماً کسی خاص یا شاذ رائے کو نقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، نہ کہ اجتماعی، غالب یا مستند موقف کے لیے۔ اس کا درست ترجمہ "ایک گروہ کا موقف" یا "بعض لوگ قائل ہیں" بنتا ہے۔ اسے "اہل علم کی ایک جماعت" سے بدل کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ موقف جید اور مستند اہل علم کی اکثریت کا تھا۔
نقل قول کو فتویٰ بنانا: کسی محدث یا فقیہ کا اختلافی یا شاذ قول کو ذکر کرنا محض نقل روایت یا تبصرہ ہوتا ہے، نہ کہ ان کا ذاتی فتویٰ یا مذہب۔ سنابلی نے اس نقل شدہ رائے کو براہ راست امام طحاوی کا فتویٰ قرار دے کر صریح بددیانتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
💡 امام طحاوی کا اصل اور مکمل موقف: اکثریت کا مذہب تین طلاق کا وقوع۔
یہ تلبیس اس وقت عیاں ہو جاتی ہے جب امام طحاوی رحمہ اللہ کی عبارت کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے۔ کفایت اللہ سنابلی نے امام طحاوی کی تردیدی عبارت کو جان بوجھ کر چھپا دیا۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے مذکورہ "فَذَهَبَ قَوْمٌ" والی شاذ رائے نقل کرنے کے فوراً بعد جمہور اہل علم کا موقف اور اپنا ذاتی رجحان بیان فرمایا:
"وَخَالَفَهُمْ فِي ذَلِكَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَقَالُوا: الَّذِي أَمَرَ بِهِ الْعِبَادَ مِنْ إِيقَاعِ الطَّلَاقِ... وَأُمِرُوا بِتَفْرِيقِ الثَّلَاثِ إِذَا أَرَادُوا إِيقَاعَهُنَّ، وَلَا يُوقِعُونَهُنَّ مَعًا. فَإِذَا خَالَفُوا ذَلِكَ... لَزِمَهُمْ مَا أَوْقَعُوا مِنْ ذَلِكَ، وَهُمْ آثِمُونَ فِي تَعَدِّيهِمْ مَا أَمَرَهُمُ اللهُ عز وجل۔"
ترجمہ: "اور اکثر اہل علم نے اس معاملے میں ان (پہلے گروہ) کی مخالفت کی، اور کہا: جس طلاق کو واقع کرنے کا اللہ نے بندوں کو حکم دیا ہے... اور اگر وہ (تین طلاقیں) واقع کرنا چاہیں تو انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ تینوں کو الگ الگ وقت میں دیں، اور وہ ایک ساتھ تینوں کو واقع نہ کریں۔ پس اگر انہوں نے اس کی مخالفت کی... تو جو کچھ انہوں نے واقع کیا وہ ان پر لازم ہو جائے گا، اور وہ اللہ کے حکم کی حد سے تجاوز کرنے کے سبب گناہگار ہوں گے۔"
(شرح معاني الآثار للطحاوي 55/3)
امام طحاوی کا حتمی نتیجہ:
امام طحاوی رحمہ اللہ نے شرح کے آخر میں اپنا اور جمہور فقہاء کا نظریہ اس طرح بیان فرمایا:
"فَهَذَا هُوَ النَّظَرُ فِي هَذَا الْبَابِ [...] كَانَ كَذَلِكَ مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَأَوْقَعَ كُلًّا فِي وَقْتِ الطَّلَاقِ لَزِمَهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَلْزَمَ نَفْسَهُ، وَإِنْ كَانَ قَدْ فَعَلَهُ عَلَى خِلَافِ مَا أُمِرَ بِهِ۔"
ترجمہ: "تو اسی طرح جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے... تو اس پر وہ لازم ہو جائے گا جو اس نے اپنے اوپر لازم کیا، اگرچہ اس نے یہ کام حکم کے خلاف کیا ہو۔ (یعنی ایک مجلس میں تین طلاق دی ہو) پس یہ ہے اس باب میں (جمہور کا) نظریاتی پہلو۔"
(شرح معاني الآثار 53/3)
⚖️ نتیجہ بحث
سنابلی کا دعویٰ کہ امام طحاوی کا فتویٰ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کا تھا، سراسر جھوٹ اور علمی خیانت پر مبنی ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے واضح طور پر "فَذَهَبَ قَوْمٌ" کے مقابلے میں "وَخَالَفَهُمْ فِي ذَلِكَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ" کا موقف بیان کیا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ پہلے قول کو شاذ اور دوسرے کو راجح و جمہور کا موقف قرار دے رہے ہیں۔
ان کی حتمی عبارت صاف بتاتی ہے کہ تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اگرچہ ایسا کرنا خلاف سنت (گناہ) تھا۔
یہ طریقہ کار، جس میں ایک محقق جمہور کے مذہب کی تائید میں پیش کی گئی عبارتوں کو چھپا کر محض نقل شدہ شاذ اقوال کو متکلم کا فتویٰ بنا دے، تحقیق کے بنیادی اصولوں سے انحراف اور صریح بددیانتی ہے۔ اس سے اس کتاب "احکام طلاق" کی تحقیق اور مصنف کی علمی دیانت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
داؤد ظاہری سے مسئلہ طلاق ثلاثہ کے عدم وقوع کی دلیل پکڑنے کا تحقیقی تنقیدی جائزہ
کفایت اللہ سنابلی نے طلاقِ ثلاثہ فی مجلس واحد کے وقوع کے مسئلے کو غیر اجماعی ثابت کرنے کے لیے "ظاہری مذہب" کے قول سے دلیل پکڑی ہے۔ یہ استدلال علمی اعتبار سے ایک غیر ذمہ دارانہ،اقدام ہے، کتاب موٹی اور عقل چھوٹی کے مترادف اور مغالطہ آرائی، اور غیر مستحکم بنیاد پر قائم ہے۔ اس منہج پر ہمارا اصولی اور دو ٹوک رد ایک جامع اور تنقید کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے، اس سے پہلے کچھ تمہیدی بات ذہن نشیں کر لیں ۔
• ہم اس بات کی سخت مذمت کرتے ہیں کہ امت کے ایک ہزار سال سے زائد کے مستقر فقہی تسلسل اور اجماعِ سلف کو توڑنے کے لیے ایسے ظاہری فقہ کے بانی کا سہارا لیا جائے جسے، جمہور ائمہ نے عدمِ استحقاقِ اجتہاد کی بنا پر غیر معتبر قرار دیا تھا۔ طلاقِ ثلاثہ کے وقوع پر اجماعِ اہلِ سنت کو باطل قرار دینے کے لیے داؤد ظاہری کے قول کو دلیل بنانا درحقیقت علمی دیانت سے روگردانی اور اصولی مغالطہ آرائی کے مترادف ہے۔
اسی کے ضمن میں اس بات کی طرف بھی قارئین کی توجہ دلانا بہتر ہے کی،داؤد ظاہری کی کتاب" إبطال التقلید" کو غیر مقلدین آج دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ خود داؤد کی شخصیت اس قابل ہی نہ تھی کہ اس کی ایسی آراء پر امت کا اعتماد قائم ہو۔ یہ وہ شخص تھا جس کے خطرناک عقائد پر ائمۂ حدیث کھڑے ہوگئے، یہاں تک کہ اسحاق بن راہویہ جیسے پہاڑ جیسے محدث نے اس کے فاسد نظریے پر اسے مارا اور سخت نکیر کی۔ جب ایک فرد کے اصولی عقائد ہی اس درجے متزلزل ہوں کہ وہ “قرآن مُحدَث ہے” جیسی بدعت کا قائل ہو جائے، تو اس کی کتاب إبطال التقلید جیسے رسالے کو بنیاد بنا کر آج غیر مقلدین کا تقلید کے خلاف شور مچاناعلمی دنیا میں صرف ایک مزاحیہ حرکت شمار ہوتا ہے، نہ کہ دلیل۔
پھر جس دور میں داؤد نے یہ رسالہ لکھا، وہ تقلید کا دورِ عروج تھا ائمۂ اربعہ اور ان کے تلامذہ پوری امت میں معتمد تھے۔ اگر داؤد کے دلائل میں کوئی جان ہوتی تو امت کے ائمہ اس پر متفق نہ ہوتے کہ تقلید شریعت کا عملی نظام ہے۔ ایک شخص کا شاذ اور علیحدہ راستہ اختیار کرنا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت بھی تقلید ضرورتِ دین تسلیم کی جاتی تھی جیسے آج کی جاتی ہے، اسی لیے داؤد کے پر ردّ ضروری سمجھا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر داؤد کا موقف وزنی ہوتا، تو بغداد، نیشاپور اور خراسان کے بڑے محدثین اسے تنہا نہ چھوڑتے، نہ اس کے افکار کو فتنہ قرار دیتے۔
قاضی ابو بکر ابن عربی الاندلسی (543ھ) نے داؤد ظاہری کی فقہی رائے کے بارے میں کیا خوب فرمایا:"وانعقد الإجماع على وُجُوب الغسل بالتقاء الختانين وإن لم يُنزل، وما خالف في ذلك إلّا داود، ولا يُعبَأ به۔"ترجمہ:"ختنوں کے ملنے (یعنی جماع کی حالت) میں غسل کے واجب ہونے پر اجماع قائم ہو چکا ہے، چاہے انزال نہ بھی ہو۔ اس کے خلاف صرف داؤد نے رائے دی ہے، مگر اس کی کوئی وقعت(حیثیت )نہیں رکھی جاتی۔"
عارضة الأحوذي (شرح جامع الترمذ 169/1)
جس شخص کی فقہی رائے کی کوئی اہمیت ہی نہ سمجھی جاتی ہو، اس کی رائے پیش کر کے اجماع کو غیر معتبر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ایک اہم علمی نکتہ یہ ہے کہ داؤد بن علی کے مذہب کی باقاعدہ تدوین نہیں ہو سکی۔ ان کے اصول اور فروع مدوّن صورت میں دستیاب نہیں ہیں، بلکہ ائمہ کی تصانیف میں نقل شدہ روایات کے ذریعے ہی ان کے اقوال ہم تک پہنچے ہیں۔ابنِ حزم کا مذہب مدوّن صورت میں موجود ہے، جو الگ موضوع کا تقاضا کرتا ہے۔ ابنِ حزم اصول میں داؤد بن علی سے اختلاف رکھتے ہیں، البتہ فروع دونوں ایک ہیں۔الغرض، ہمارے پاس مذہبِ ظاہری کو سمجھنے کے لیے بنیادی مرجع ابنِ حزم ہی ہیں۔
کفایت اللہ سنابلی نے اپنی کتاب أحکامِ طلاق میں داؤد ظاہری کے طلاق سے متعلق موقف کو اجماع کے خلاف دلیل بنانے کے چکر میں یہ بھی کہا:
"بعض اہلِ تقلید کا یہ کہنا کہ امام داؤد ظاہری کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں، یہ تعصب پر مبنی اور انتہائی غلط بات ہے۔"۔ (احکام طلاق)اور اپنی اس بات کی تائید میں سیر اعلام النبلاء (13/104، 108) کا حوالہ دیا۔
تو آئیے یہیں سے شروع کرتے ہیں اور پرکھتے ہیں کہ کیا داؤد ظاہری کی کوئی رائے اعلامِ اسلام میں کوئی حیثیت رکھتی تھی؟
امام ذھبی رحمہ اللہ نے میں کہا۔
O 'قُلْتُ: لِلعُلَمَاءِ قَوْلاَن فِي الاعتِدَاد، بِخِلاَفِ دَاوُدَ وَأَتْبَاعِهِ: فَمَنْ اعتَدَّ بِخِلاَفِهِم، قَالَ: مَا اعْتِدَادُنَا بِخِلاَفِهِم لأَنَّ مُفْرَدَاتِهِم حُجَّةٌ، بَلْ لِتُحكَى فِي الجُمْلَةِ، وَبَعْضُهَا سَائِغٌ، وَبَعْضُهَا قَوِيٌّ، وَبَعْضُهَا سَاقِطٌ، ثُمَّ مَا تَفَرَّدُوا بِهِ هُوَ شَيْءٌ مِنْ قَبِيْلِ مُخَالَفَةِ الإِجْمَاعِ الظَّنِّي، وَتَنْدُرُ مُخَالَفَتُهُم لإِجْمَاعٍ قَطْعِي.
ترجمہ: میں کہتا ہوں: علماء کے نزدیک اعتداد (یعنی فقہی آراء شمار کرنے) کے بارے میں دو قول ہیں، داؤد اور ان کے پیروکاروں کے سوا۔۔۔!
جو لوگ ان کے خلاف کو شمار کرتے ہیں، وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم ان کے اقوال کو اس لیے شمار کرتے ہیں کہ ان کی منفرد رائیں حجّت۔۔! ہیں، بلکہ اس لیے کہ مجموعی طور پر ان کا تذکرہ ہو جائے۔ ان میں سے بعض آراء قابلِ قبول ہوتی ہیں، بعض قوی، اور بعض ساقط و کمزور(جیسے طلاق کا مسئلہ)۔ پھر ان کی جو منفرد آراء ہوتی ہیں، وہ عام طور پر اجماعی ظنّی کے خلاف ہوتی ہیں، اور ان کا قطعی اجماع کے خلاف جانا بہت نادر ہے۔
اور فرمایا۔
O "وَمَنْ أَهْدَرَهُم، وَلَمْ يَعْتَدَّ بِهِم، لَمْ يَعُدَّهُم فِي مَسَائِلِهِم المُفْرِدَةِ خَارِجِيْنَ بِهَا مِنَ الدِّيْنِ، وَلاَ كَفَّرَهُم بِهَا، بَلْ يَقُوْلُ: هَؤُلاَءِ فِي حَيِّزِ العَوَامِّ، أَوْ هُم كَالشِّيْعَةِ فِي الفُرُوْعِ، وَلاَ نَلْتَفِتُ إِلَى أَقْوَالِهِم، وَلاَ نَنْصِبُ مَعَهُم الخِلاَفَ، وَلاَ يُعْتَنَى بِتَحْصِيْلِ كُتُبِهِم، وَلاَ نَدُلُّ مُسْتَفْتِيًا مِنَ العَامَّةِ عَلَيْهِم. وَإِذَا تَظَاهِرُوابِمَسْأَلَةٍ مَعْلُوْمَةِ البُطْلاَنِ، كَمَسْحِ الرِّجِلَيْنِ، أَدَّبْنَاهُم، وَعَزَّرْنَاهُم، وَأَلزَمْنَاهُم بِالغَسْلِ جَزْمًا.
ترجمہ: اور جو لوگ ان کے قول کو غیر معتبر سمجھتے ہیں اور ان کی آراء کو شمار نہیں کرتے، وہ بھی انہیں ان کے انفرادی مسائل کی وجہ سے دین سے خارج نہیں کہتے، نہ ان کی وجہ سے ان کی تکفیر کرتے ہیں، بلکہ کہتے ہیں:
"یہ لوگ عامۃ الناس کے درجے میں ہیں، یا فروع میں شیعہ کی طرح ہیں۔ ان کی اقوال کی طرف ہم توجہ نہیں کرتے، نہ ان کے ساتھ نزاع قائم کرتے ہیں، نہ ان کی کتابوں کے حاصل کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، اور نہ عوام فتوے کے لیے ان کی طرف رجوع کریں۔"
اور جب وہ لوگ کسی ایسے مسئلے پر متفق ہو جائیں جو واضح طور پر باطل ہو، جیسے پاؤں کا مسح کرنا (غسل کی جگہ)، تو ہم انہیں ادباً تنبیہ کریں گے، تعزیر کریں گے، اور قطعی طور پر انہیں غسلِ رجلین پر مجبور کریں گے۔
O قَالَ الأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ الإِسْفَرَايِيْنِيُّ: قَالَ الجُمْهُوْرُ:
إِنَّهُم -يَعْنِي: نُفَاةَ القِيَاسِ- لاَ يَبْلُغُونَ رُتْبَةَ الاجتِهَادِ، وَلاَ يَجُوْزُ تَقْلِيْدُهُم القَضَاءَ
ترجمہ: استاذ ابو اسحاق اسفراینی نے کہا:
جمہور کا قول یہ ہے کہ نفاةِ قیاس (قیاس کے منکر) اجتہاد کے درجے تک نہیں پہنچتے، اور ان کا تقليد کرنا یا ان کو قاضی بنانا جائز نہیں۔
O وَقَالَ إِمَامُ الحَرَمَيْنِ أَبُو المَعَالِي: الَّذِي ذَهَبَ إِلَيْهِ أَهْلُ التَّحْقِيْقِ:أَنَّ مُنْكِرِي القِيَاس لاَ يُعَدُّوْنَ مِنْ عُلَمَاءِ الأُمَّةِ، وَلاَ مِنْ حَمَلَةِ الشَّرِيْعَةِ؛ لأَنَّهُم مُعَانِدُوْنَ مُبَاهِتُوْنَ فِيمَا ثَبَتَ اسْتفَاضَةً وَتَوَاتُرًا، لأَنَّ مُعْظَمَ الشَّرِيْعَةِ صَادِرٌ عَنِ الاجتِهَادِ، وَلاَ تَفِي النُّصُوْصُ بعُشْرِ مِعْشَارِهَا، وَهَؤُلاَءِ مُلتَحِقُوْنَ بِالعَوَامِّ.
ترجمہ: اور امام الحرمین ابو المعالی نے کہا:
اہلِ تحقیق کا مذہب یہ ہے کہ قیاس کے منکرین کو امت کے علماء اور شریعت کے حاملین میں شمار نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ وہ ایسی چیز میں عناد اور مباہت کا اظہار کرتے ہیں جو استفاضہ اور تواتر کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے۔
کیونکہ شریعت کا اکثر حصہ اجتہاد پر قائم ہے، اور نصوص اس کے عشرِ عشیر کو بھی پورا نہیں کرتیں۔
لہٰذا یہ لوگ عامی لوگوں کے درجے میں ملحق ہیں۔
( یہ بات کرنے کے بعد علّامہ ذھبی اپنا فیصلہ سناتے ہیں)
O قُلْتُ: هَذَا القَوْلُ مِنْ أَبِي المعَالِي أَدَّاهُ إِلَيْهِ اجْتِهَادُهُ، وَهُم فَأَدَّاهُم اجتِهَادُهُم إِلَى نَفِي القَوْلِ بِالقِيَاسِ، فَكَيْفَ يُرَدُّ الاجتِهَادُ بِمِثْلِهِ، وَنَدْرِي بِالضَّرُوْرَةِ أَنَّ دَاوُدَ كَانَ يُقْرِئُ مَذْهَبَهُ، وَيُنَاظِرُ عَلَيْهِ، وَيُفْتِي بِهِ فِي مِثْلِ بَغْدَادَ، وَكَثْرَةِ الأَئِمَّةِ بِهَا وَبِغَيْرِهَا، فَلَم نَرَهُم قَامُوا عَلَيْهِ، وَلاَ أَنْكَرُوا فَتَاويه وَلاَ تَدْرِيسَهُ، وَلاَ سَعَوا فِي مَنْعِهِ مِنْ بَثِّهِ
ترجمہ: میں کہتا ہوں: ابو المعالی کا یہ قول ان کے اپنے اجتہاد کا نتیجہ ہے، اور ان (داؤد وغیرہ) کا اجتہاد انہیں قیاس کے انکار تک لے گیا۔ تو اجتہاد کو اجتہاد سے کیسے ردّ کیا جا سکتا ہے؟
اور ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ داؤد اپنے مذہب کی تدریس کرتے تھے، اس پر مناظرے کرتے اور اسی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے — ایسی جگہ میں جیسے بغداد، جہاں ائمہ کی کثرت تھی۔لیکن ہم نے نہ دیکھا کہ وہاں کے ائمہ نے ان پر قیام کیا ہو، نہ ان کے فتاویٰ یا تدریس کا انکار کیا ہو، نہ انہیں اس مذہب کی نشر و اشاعت سے روکا ہو۔
(سیر اعلام النبلا 104,108/13)
•ان اقتباسات سے درج ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:
•اجتہاد کے معاملات میں دو گروہ ہیں: داؤد ظاہری اور اس کے پیروکار، اور ان سب کے مقابلے میں ہے۔ یہی ایک قطعی ثبوت ہے کہ داؤد ظاہری کی رائے حجت نہیں۔
• اجماعِ ظنی اور اجماعِ قطعی کی اصطلاح برحق ہے، کیونکہ کفایت اللہ نے اجماعِ ظنی کو ’’اجماعِ مجہول‘‘ باور کرا کے اس کی حیثیت ہی ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
• داؤد ظاہری جیسے لوگوں کی تکفیر نہیں کی جاتی، مگر علمی میدان میں ان کی حیثیت عام لوگوں جیسی ہے۔ ایسے لوگ فروع میں شیعہ کی طرح منفرد رائے رکھتے ہیں۔
• اہلِ علم داؤد ظاہری کے اقوال کی طرف توجہ نہیں دیتے، نہ ہی اُن سے علمی مناقشہ کرنا پسند کرتے ہیں۔
• داؤد ظاہری کی کتابوں کی طرف علماء کی کوئی خاص دلچسپی نہیں، یہاں تک کہ اُن کی کتابیں حاصل کرنے کا اہتمام بھی نہیں کیا جاتا۔
• ان کے فتووں کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
• داؤد ظاہری قیاس کے منکر تھے، اور جو شخص قیاس جیسے شرعی ماخذ کا منکر ہو، وہ کبھی مجتہد نہیں ہو سکتا۔
• وہ مجتہد کیا، شریعت کا پابند بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔
•اور پھر آخر میں امام ذہبی کی کلام کو توڑ کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ گویا داؤد ظاہری نے اجتہاد کر کے ہی قیاس کا انکار کیا، حالانکہ سوال یہ ہے: ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد کو کیسے باطل کر سکتا ہے؟
یہ کفایت اللہ نے ہماری ہی طرف سے حوالہ نقل کرکے خود ہی اپنا ردّ کر لیا…! (سبحان اللہ)
سمجھ میں نہیں آتا کہ 900 صفحات کی کتاب لکھ ماری، لیکن ایسی سینہ زوری کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں خود امام ذہبی داؤد ظاہری پر تنقید کر رہے ہیں اور دیگر علماء کے اقوال بھی نقل کر رہے ہیں، وہاں یہ صاحب فرماتے ہیں کہ “داؤد کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہ سمجھنا مقلدین کا تعصب ہے“…!!!
اس جدیدی سلفی کو کوئی سمجھائے کہ داؤد بن علی الظاہری اور پورے ظاہری مذہب کا کبھی کوئی اعتبار نہیں کیا گیا۔ ان کی رائے عالمِ اسلام میں کبھی مقبول نہیں ہوئی۔ ظاہری مذہب میں اگر کچھ جان باقی ہے تو وہ ابنِ حزم کے طفیل ہے۔اور مجھے اندیشہ ہے کہ کفایت اللہ خود ظاہری ہے، اور شاید میری یہ بات اُس دن ثابت ہو جائے جب یہ جرح و تعدیل سے نکل کر فقہی معاملات میں دلچسپی لینا شروع کر دے؛ کیونکہ ظاہری مذہب اجماع اور قیاس کا سخت منکر ہے، بلکہ بعض اوقات اسے حرام تک کہتا ہے۔ کفایت اللہ نے بھی اپنی کتاب میں اجماع کی کوئی حیثیت نہیں چھوڑی، جو اس کے ظاہری ہونے کی واضح علامت ہے۔
خیر… یہ موقع مناسب ہے کہ داؤد ظاہری کے بارے میں قارئین کو تفصیل سے بتایا جائے کہ اس مہاشئے کا علمی کردار کیا رہا ہے…!
⭕ داؤد بن علی الظاہری کا تعارف
دَاوُدُ بنُ عَلِيِّ بنِ خَلَفٍ البَغْدَادِيُّ الظَّاهِرِيّ (م ۲۷۰ھ)
امام ذہبی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ بنُ حَزْمٍ:إِنَّمَا عُرِفَ بِالأَصْبَهَانِيِّ، لأَنَّ أُمَّهُ أَصْبَهَانِيَّةٌ، وَكَانَ أَبُوْهُ حَنَفِيُّ المَذْهَبِ۔
ابو محمد ابنِ حزم کہتے ہیں:
“انہیں اصفہانی اس لیے کہا جاتا تھا کہ ان کی والدہ اصفہان کی تھیں، اور ان کے والد حنفی المذہب تھے۔”
قَالَ أَبُو بَكْرٍ الخَطِيْبُ:
صَنَّفَ الكُتُبَ، وَكَانَ إِمَامًا وَرِعًا نَاسِكًا زَاهِدًا، وَفِي كُتُبِهِ حَدِيْثٌ كَثِيْرٌ، لَكِنَّ الرِّوَايَةَ عَنْهُ عَزِيْزَةٌ جِدًّا۔
ابو بکر خطیب بغدادی کہتے ہیں:
“انہوں نے کتابیں تصنیف کیں، وہ بہت بڑے امام، پرہیزگار، عبادت گزار اور زاہد تھے۔ ان کی کتابوں میں حدیثیں بکثرت ہیں، لیکن ان سے روایت کرنا نہایت کم ملتا ہے۔”
سعید بن عمرو البرذعی کی روایت:
قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي زُرْعَةَ الرَّازِي...
(عربی عبارت مکمل برقرار)
سعید بن عمرو البرذعی کہتے ہیں:
ہم ابو زرعہ رازی کے پاس تھے کہ ہمارے دو ساتھیوں میں داؤد اصفہانی اور مزنی کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ دونوں شخص فضلَک رازی اور ابنِ خِراش تھے۔
ابن خِراش نے کہا: “داؤد کافر ہے۔”
فضلک نے کہا: “مزنی جاہل ہے۔”
ابو زرعہ دونوں پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:
“تم دونوں میں سے کوئی بھی ان دونوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔”
پھر فرمایا:
“تم اس داؤد کو دیکھتے ہو؟ اگر یہ اہلِ علم کے دائرے میں رہ کر کلام کرتا تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے پاس جو قوتِ بیان اور دلائل ہیں، ان سے اہلِ بدعت کو مغلوب کر دیتا۔ مگر اس نے حد سے تجاوز کیا۔”
آگے فرمایا:
“وہ نیشاپور آیا تھا، تو محمد بن رافع، محمد بن یحییٰ، عمرو بن زرارہ، حسین بن منصور اور نیشاپور کے دیگر مشائخ نے مجھے خط لکھا کہ اس نے وہاں کیا کچھ نیا ایجاد کیا ہے۔
میں نے نتائج کے اندیشے سے ان باتوں کو پوشیدہ رکھا اور اسے کچھ نہ بتایا۔”
(سیر اعلام النبلاء 13/99
ابنِ خِراش جیسے ناقدِ حدیث اور جرح و تعدیل کے ماہر نے تو داؤد ظاہری کو ’’کافر‘‘ تک کہہ دیا۔ اگرچہ ابو زرعہ نے اسے سختی سے روکا اور کہا کہ تم دونوں ان ائمہ کے مقام کو نہیں پہنچ سکتے، لیکن ساتھ ہی ابو زرعہ نے داؤد کے بعض افعال پر سخت تنقید بھی کی۔
نیشاپور کے مشائخ نے ابو زرعہ کو خط لکھا کہ:
داؤد ظاہری نے وہاں کچھ "نئی چیزیں" پیدا کیں، جو اہلِ علم کے معروف فہم سے ہٹ کر تھیں۔
ابو زرعہ نے ان باتوں کو چھپایا، کیوں کہ اگر یہ فتنہ عوام میں پھیل جاتا تو:
•عوام میں کنفیوژن پیدا ہوتا
•موجودہ فقہی نظام متزلزل ہوسکتا تھا
•مذہبی اختلاف شدت اختیار کر لیتا
•فرقہ واریت کا دروازہ کھل جاتا
•عوام کا دین ہل جاتا
•اس لیے علماء بعض فتنوں کو عوام سے چھپاتے تھے تاکہ دین غیر مستحکم نہ ہو۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ: داؤد ظاہری ’’نئے مسائل‘‘ پیش کر رہے تھےجو امت کے علمی و فقہی تسلسل سے ہٹ کر تھےاور جن سے عقائد و احکام کے باب میں انتشار پیدا ہونے کا اندیشہ تھا
اسی لیے ابو زرعہ نے معاملہ دبایا اور فرمایا:
“اگر میں اسے بتا دیتا کہ لوگ اس کے نظریات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو وہ مزید انتشار پیدا کر سکتا تھا۔”
"کیا ایسی فکر غیر مقلدین سے امید کی جاسکتی ہے؟ جن کا کام ہی دن بھر شاذ آراء کو پھیلانا اور فقہی مذاہب کی کشمکش کو ہوا دینا ہو!"
اسکے بعد امام ذہبی مزید فرماتے ہیں۔
وَأَمَّا دَاوُدُ فَقَالَ: القُرْآنُ مُحْدَثٌ.
فَقَامَ عَلَى دَاوُدَ خَلْقٌ مِن أَئِمَّةِ الحَدِيْثِ، وَأَنْكَرُوا قَولَهُ وَبَدَّعُوْهُ، وَجَاءَ مِنْ بَعْدِهِ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ النَّظَرِ، فَقَالُوا:
كَلاَمُ اللهِ مَعْنَىً قَائِمٌ بِالنَّفْسِ، وَهَذِهِ الكُتُبُ المُنْزَلَةُ دَالَّةٌ عَلَيْهِ، وَدَقَّقُوا وَعَمَّقُوا، فَنَسْأَلُ اللهَ الهُدَى وَاتِّبَاعَ الحَقِّ،
ترجمہ :رہا داؤد، تو انہوں نے کہا: “قرآن مُحدَث ہے۔”اس پر ائمۂ حدیث کی ایک بڑی جماعت داؤد کے خلاف کھڑی ہوئی، انہوں نے اس کے قول کا انکار کیا اور اسے بدعت قرار دیا۔ پھر بعد میں نظر و استدلال والوں(اشعری ، ماتریدی)کی ایک جماعت نے کہا کہ:“اللہ کا کلام ایسا معنی ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے، اور یہ نازل شدہ کتابیں اسی معنی پر دالّ ہیں۔”انہوں نے اس مسئلے میں بڑی باریکیاں اور گہرائیاں اختیار کیں۔پس ہم اللہ سے ہدایت اور حق کی پیروی مانگتے ہیں۔
قَالَ المَرُّوْذِيُّ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ إِبْرَاهِيْمَ النَّيْسَابُورِيُّ:أَنَّ إِسْحَاقَ بنَ رَاهْوَيْه لَمَّا سَمِعَ كَلاَمَ دَاوُدَ فِي بَيْتِهِ، وَثَبَ عَلَى دَاوُدَ وَضَرَبَهُ، وَأَنْكَرَ عَلَيْهِ ۔الخَلاَّلُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بنَ مُحَمَّدِ بنِ صَدَقَةَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بنَ الحُسَيْنِ بنِ صَبِيْحٍ، سَمِعْتُ دَاوُدَ الأَصْبَهَانِيَّ يَقُوْلُ:القُرْآنُ مُحْدَثٌ، وَلَفْظِي بِالقُرْآنِ مَخْلُوْقٌ
ترجمہ: مروذی نے کہا:
"مجھے محمد بن ابراہیم نیشاپوری نے بتایا:
جب اسحاق بن راہویہ نے اپنے گھر میں داود کی بات سنی تو وہ اُس پر حملہ آور ہوئے اور اسے مارا، اور اس پر سخت نکیر کی۔"
خلال نے کہا:
"میں نے احمد بن محمد بن صدقہ سے سنا، وہ محمد بن حسین بن صبیح سے روایت کرتے ہیں:
میں نے داود اصفہانی کو کہتے سنا: قرآن مُحدَث ہے اور میرا تلفظ (ادائیگی) بالقرآن مخلوق ہے۔"
(سیر اعلام النبلا 13/102)
کفایت اللہ سنابلی کی کتاب أحکام الطلاق میں داؤد ظاہری کے اس شاذ قول کو بنیاد بنا کر اجماعِ امت پر حملہ کرنا نہ صرف بے وزن ہے بلکہ علمی دنیا میں محلِّ اعتراض بھی۔ اجماع صدیوں سے محفوظ ہے اور ایک ایسے شخص کی رائے سے نہیں گرایا جا سکتا جسے ائمۂ حدیث نے بدعتی کہا، اسحاق بن راہویہ نے اس پر ضرب(مار )لگائی، اور جس کے خطرناک نظریات سے علماء خوفزدہ تھے۔ بہتر یہ ہوتا کہ سنابلی امت کے اجماعی فہم کو تسلیم کرتے، نہ کہ امت کی وحدت کو ایک ایسے فرد کے مہمل اور مردود قول کی بنیاد پر چیلنج کرتے جسے خود ائمہ نے ناقابلِ اعتماد ٹھہرایا۔
پھر اس پر سب سے بڑا علمی انحراف یہ کہ داؤد نے کہا: "قرآن مُحدَث ہے"۔ اس قول پر ائمۂ حدیث کی ایک جماعت ان کے خلاف کھڑی ہوگئی، انہوں نے اس قول کو بدعت قرار دیا، انکار کیا، ردّ کیا۔ اس کے بعد بھی انہوں نے کہا کہ "میری قرآن کی ادائیگی مخلوق ہے"۔ یہ وہ خطرناک طرقِ فکر ہیں جن سے سلف نے امت کو خبردار کیا تھا۔ کفایت اللہ سنابلی اگر واقعی علمی دیانت رکھتے تو اس حقیقت کو چھپانے کے بجائے بتاتے کہ جس شخص کے عقائد ہی اس قدر متزلزل تھے، اس کے فروعی اقوال سے اجماع کو چیلنج کرنا علمی بددیانتی ہے، نہ کہ تحقیق۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں