کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 1 : انتساب ، تقریظ از: محقق اہلسنت حضرت مولانا مفتی رب نواز دامت برکاتہم
---------------------------------------------------------------------------
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 1 : انتساب ، تقریظ از: محقق اہلسنت حضرت مولانا مفتی رب نواز دامت برکاتہم
انتساب
احقر اپنی اس کاوش کو امام اہل السنت ،پاسبان مسلک حقہ ،شیخ الحدیث والتفسیر ،ثقہ ثبت حجہ محقق حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کے اسم گرامی سے انتساب کرتا ہے ۔جو
اسلاف امت کے جانشین اوراکابر اہل السنت والجماعت احناف (علمائے دیوبند)کثر اللہ
سوادہم کے معتمد علیہ ہیں۔
جنہوں نے تعلیمات ِاکابر اہل السنت والجماعت رحمہم اللہ کی نشرواشاعت اورمسلک حقہ کی پاسبانی کو اپنا مقصد حیات بنایا اورجن کی تصانیف عالیہ سے انشاء اللہ ہمیشہ متلاشیانِ حق راہِ حق پاتے رہیں گے اور باطل لرزہ براندام رہے گا۔
احقر
نیاز احمد غفرلہ
ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ
۹۱۴۴۲۱۲۔۰۳۳۱
تقریظ
از: محقق اہلسنت حضرت مولانا مفتی رب نواز دامت برکاتہم
مدرس: دارالعلوم فتحیہ احمد پور شرقیہ بہاولپور
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
تنقیح دعوٰی :
علمائے احناف اورغیر مقلدین کے درمیان جو مسائل اختلافی ہیں ان میں ایک مسئلہ نماز میں رفع یدین کا ہے ۔اس مسئلہ میں کئی طرح کا اختلاف ہے ایک اختلاف متنازعہ رفع یدین کے دوام کا ہے ۔غیر مقلدین کا دعوٰی ہے کہ رکوع جاتے وقت،رکوع سے سر اٹھاتے وقت اورتیسری رکعت کی ابتداء میں رفع یدین کرنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اورآپ ﷺ اسے موت تک کرتے رہے حتیٰ کہ پوری زندگی میں کسی نماز کی کسی ایک رکعت میں بھی اس رفع یدین کو ترک نہیں فرمایا۔
غیر مقلدین نے بہت سی کتابوں میں یہ دعوٰی کر رکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ وفات تک رفع یدین کرتے رہے مثلاً دیکھئے:
۱۔صلوٰۃ الرسول : ص۲۳۲
۲۔القول المقبول : ص۴۱۴
۳۔ نورالعینین : ص۳۲۸
۴۔فتاوی ثنائیہ : ج۱ص۶۳۸وغیرہ۔
اس کے بالمقابل علمائے احناف کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رفع یدین کیا تو ہے مگر اسے وفات تک کرتے رہنا ہرگز ثابت نہیں بلکہ آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا تھا ۔
لہٰذا غیر مقلدین کو چاہیے کہ وہ ایسی احادیث پیش کریں جن میں یہ مضمون ہو کہ رکوع کا رفع یدین رسول اللہ ﷺ موت تک کرتے رہے ہیں ۔ایسی احادیث ان کے دعوی کے موافق ہوسکتی ہیں مگر ہماری معلومات کے مطابق صحیح یا حسن احادیث کے ذخیرہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں جس میں یہ مضمون ہوکہ رسول اللہ ﷺ نے وفات تک رکوع والا رفع یدین کیا ہے ۔
اعتراف حق:
علمائے احناف کا دعوی ہے کہ رکوع کا رفع یدین موت تک کرتے رہنا ثابت نہیں بلکہ آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا تھا اس دعوی کو غیر مقلدین کے شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین دہلوی صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے ۔
چنانچہ میاں صاحب لکھتے ہیں کہ:
علمائے حقانی پر پوشیدہ نہیں ہے کہ رکوع میں جاتے وقت اوررکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے میں لڑنا،جھگڑنا تعصب اورجہالت سے خالی نہیں ہے کیونکہ مختلف اوقات میں رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں ثابت ہیں اوردونوں طرح کے دلائل موجود ہیں ۔۔۔۔۔کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم سے رفع یدین نہ کرنا بھی ثابت ہے ابن حزم نے اس حدیث کو صحیح کہا اورترمذی نے حسن ۔قصہ مختصر رفع یدین کا ثبوت اور عدم ثبوت دونوں مروی ہیں ۔عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کا رفع یدین نہ کرنا اس کے مستحب ہونے کے منافی نہیں ۔(فتاوی نزیریہ :ج۱ص۴۴۱،فتاوی علمائے حدیث: ج۳ص۱۶۰)
غیر مقلدین کے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں :
‘‘سنت یا مستحب تو وہی ہوتا ہے کہ ‘‘ فعل مرۃ وترک اخری ’’کبھی کیا ہو اورکبھی چھوڑا ہو ۔’’(فتاوی ثنائیہ :ج۱ص۵۸۱،فتاوی علمائے حدیث :ج۳ص۱۵۵)
غیر مقلدین رفع یدین عندالرکوع کو عموماً سنت یا مستحب کہتے ہیں اورامرتسری صاحب کی تصریح کے مطابق سنت ومستحب وہی عمل کہلاتا ہے جسے کبھی کیا ہو اور کبھی چھوڑا ہو ۔۔۔۔۔تو رفع یدین کا ترک ثابت ہوا۔
جن احادیث سے ترک رفع یدین کاثبوت ملتا ہے ان میں سے ایک حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔(نسائی: ج۱ص۷۷۷،ترمذی: ج۱ص۳۵،ابوداود: ج۱ص۱۰۹)
ترک رفع یدین کی اس حدیث کو غیر مقلدین کی ایک درجن سے زائد کتابوں میں صحیح یا حسن لکھا ہوا ہے اورکافی حوالہ جات کتاب میں آپ کو ملیں گے۔ہم یہاں دوحوالے ذکرکرتے ہیں جو کتاب کے مسودہ میں نہیں ہیں ۔
(۱)غرباء اہلحدیث کے امام عبدالستار دہلوی صاحب لکھتے ہیں:
‘‘ اہلحدیث کے نزدیک تو صحاح ستہ کی کل احادیث اپنے اپنے محل موقع پر قابل عمل ولائق تسلیم ہیں ۔’’(فتاوی ستاریہ : ج۲ص۵۷)
ترک رفع یدین والی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ صحاح ستہ میں سے تین کتابوں نسائی،ترمذی اور ابوداود میں موجود ہے۔ترک رفع یدین کی حدیث سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ابوداود(ج۱ص۱۰۹)میں مروی ہے ۔
ابوداود صحاح ستہ میں شامل ہے اورغربائے اہلحدیث کے امام کی تصریح کے مطابق صحاح ستہ کی تمام حدیثیں صحیح بھی ہیں اورقابل عمل بھی۔
(۲) کراچی کے مسعود احمد صاحب غیر مقلد نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے متعلق لکھا ہے :
‘‘یہ صحیح ہے کہ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ،اوریہ بھی صحیح ہے کہ حسن کا درجہ صحیح کے بعد ہے ،اس حدیث کی سند بے شک حسن بلکہ صحیح ہے سند میں کوئی خاص خدشہ نہیں ہے نہ سند پر کسی نے کوئی خاص جرح ہی کی ہے اس حدیث پر جو کچھ جرح ہوئی ہے وہ بلحاظ متن ہوئی ہے ۔’’(خلاصہ تلاش حق : ص۸۱)
مسعود صاحب کا اس حدیث کو سند کے لحاظ سے صحیح مان لینا بھی غنیمت ہے ۔(والحمد للہ)
کچھ مصنف کے بارے میں:
یہ کتاب ‘‘تسکین العینین فی مسئلۃ ترک رفع الیدین ’’ترک رفع یدین کے موضوع پر ہے جو حضرت مولانا نیازاحمد اوکاڑوی حفظہ اللہ کی تحقیق وکاوش ہے ۔مولانا صاحب نوعمر ہیں،محنتی اورمطالعہ کے دھنی ہیں ۔مجھے کئی بار ان کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا ،میں نے انہیں ہر وقت مطالعہ میں مگن پایا متعدد بار سردیوں میں ان کے ساتھ لائبریری میں رہنے کا موقع ملا ،سردیوں کی لمبی راتوں میں رات کو دودوبجے تک انہیں مطالعہ میں مستغرق پایا،ان کی محنت وشوق مطالعہ کو دیکھ کر رشک کرتا تھا۔
اورجب مطالعہ موقوف کرتے تو کوئی نہ کوئی علمی بحث چھیڑ دیتے،کبھی کسی راوی کی ثقاہت وتضعیف زیر بحث ہوتی ،کبھی مسئلہ تدلیس پر گفتگو فرماتے ،کبھی مخالف کے کسی اعتراض کو دہرا کر جواب عنایت فرماتے،کبھی کسی مسئلہ کے حل کیلئے مشورہ کرتے اور کبھی اکابر علماء کی محنتوں کوداددیتے ہوئے مخالفین کی بے بسی کا تذکرہ فرماتے ۔الغرض مولانا صاحب کی ملاقاتوں اوررفاقتوں سے پتہ چلتا کہ ماشاء اللہ وہ ایک علم دوست انسان ہیں ۔
مولانا صاحب نے اپنے سالہا سال کے مطالعہ کو کاغذ کے سفینے پر لائے ہیں ،کچھ عرصہ پہلے پونے دوسو صفحات پر مشتمل ‘‘دینی امور پر اجرت کا تحقیق جائزہ ’’کتاب عوام الناس کی خدمت میں پیش کرچکے ہیں،سینکڑوں صفحات کو محیط ‘‘ مسند معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما’’مولانا صاحب کی ترتیب شدہ کتاب تحقیق،تخریج اورفقہی فوائد کے ساتھ بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہے ۔
مولانا صاحب کی کتاب ‘‘تسکین العینین ’’کی طرف متوجہ ہوتے ہیں،یہ کتاب ترک رفع یدین کے موضوع پر ہے تخمینہ کے مطابق قریباً چھ سو صفحات پر شائع ہوگی اوروہ بھی صرف اپنے دلائل پر مشتمل ہے ،مخالف کے دلائل کے جواب کے لیے الگ کتاب تحریر کریں گے یا اسی کتاب کی دوسری جلد میں بحث ہوگی۔(ان شاء اللہ)
مسئلہ رفع یدین پر صحیح طریقہ سے بحث وہی شخص کرسکتا ہے جو اصول حدیث اوراسماء الرجال کا علم رکھتا ہو ۔پھر اس کے ساتھ مخالفین کی کتابوں کا مطالعہ بھی ہو تو تحریر کا رنگ مزید نکھر جاتا ہے ۔
ماشاء اللہ مولانا صاحب اصول حدیث جانتے ہیں ،رجال کا علم بھی انہیں حاصل ہے اورغیر مقلدین کی کتابوں کا مطالعہ بھی کافی رکھتے ہیں اس لہے اپنی اس کتاب میں بہت اچھی بحث کی ہے ۔
اس کتاب میں تحقیق وتنقید اوروسعت مطالعہ کا اس قدر ثبوت ہے کہ پڑھنے والا یہی خیال کرے گا کہ مصنف کوئی ادھیڑ عمر معمر بزرگ ہوگا جس کا تیس وچالیس سالہ تدریسی مشغلہ رہا ہوگا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا صاحب بالکل نوعمر ہیں ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔
کتاب کے مشتملات پر ایک نظر :
کتاب کی جن خوبیوں پر بندہ مطلع ہوا ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
(۱)مسئلہ ترک رفع یدین پر احادیث ،آثار صحابہؓ وتابعین ؒکو بحوالہ نقل کیا ہے ۔
(۲)احادیث وآثار کی تخریج فرمائی،ایک ایک حدیث واثر پر تخریج کرتے ہوئے متعدد ماخذ کو ذکر کرتے ہیں ان ماخذ کتب کے حوالہ جات کئی کئی سطروں پر سجے نظر آتے ہیں ۔
(۳)احادیث وآثار کی سند پر بحث کرتے ہوئے رواۃ کی توثیق کو محدثین کے اصولوں سے بیان کیا ہے ۔
(۴)احادیث وآثار کی سندوں پر مخالفین حضرات کے جو اعتراضات تھے ان کادندان شکن جواب دیا ہے ۔
(۵)احادیث وآثار میں سے کسی حدیث واثر کے متن پر مخالفین کا کوئی اعتراض تھا تو اس کا بھی جواب دیا ہے ۔
(۶)احادیث وآثار کو ضعیف قرار دینے کے لیے مخالفین ن جن محدثین کو اپنا ہم نوا گرداناہے محدثین کی طرف منسوب ان حوالوں کی حقیقت واضح کی ہے ۔
(۷)جگہ جگہ اپنی بات کی صداقت پر مخالفین کے بہت سے حوالہ جات پیش کیے ہیں۔
(۸)کچھ غیر مقلدین ایسے بھی ہیں جنہوں نے ترک رفع یدین کی مخالفت میں اپنے مسلمات کا انکار کیا ہے مولانا صاحب نے ایسے مقامات کی نشاندہی کی اوردوسرے غیر مقلدین کے حوالہ جات سے منکرین کو لا جواب کیا ہے ۔
(۹)دورحاضر میں غیر مقلدمناظرین عموماً زبیر علی زئی صاحب کی کتاب ‘‘نورالعینین ’’کو مطالعہ میں رکھتے ہیں مولانا صاحب نے اپنی اس کتاب میں علی زئی اعتراضات کے تسلی بخش جواب دے دیئے ہیں۔
غیر مقلدین کے رسالوں میں متعدد مرتبہ پڑھنے میں آیا کہ نورالعینین کتاب کا جواب اب تک نہیں آیا۔ان کے عوا م تو کہہ رہے تھے کہ اس کا جواب دیوبندیوں کے بس میں نہیں ہے ۔
غیر مقلدین جس کتاب کو ‘‘لاجواب’’کہہ رہے ہیں اس کا جواب اتنا آسان ہے کہ علمائے دیوبند کے ایک نوجوان نے دے دیا۔
(۱۰)زبیر علی زئی صاحب تو پاکستانی غیر مقلد ہیں ،رئیس ندوی صاحب غیر مقلد انڈیا کے ہیں ۔مولانا صاحب نے دونوں کے اعتراضات کو سامنے رکھا اورپھر مسلمہ اصولوں سے ان کا جواب دیا۔
گویا یہ کتاب انڈیا اورپاکستان میں کئے گئے موضوع سے متعلقہ سب اعتراضات کاجواب ہے ۔(الحمد للہ)
(۱۱)مولانا صاحب نے مرکزی طورپر رئیس ندوی اورزبیر علی زئی کے اعتراضات کو سامنے رکھا ہے مگر ساتھ ساتھ دوسرے غیر مقلدین کے جو اعتراضات سامنے آئے ان کا جواب بھی دے دیا ہے ۔
(۱۲)کتاب میں زیادہ تر ندوی صاحب اورعلی زئی صاحب کے اعتراضات کا جواب ہے اس لئے ان دونوں کی تضاد بیانیوں اوراغلاط کو واضح کیا ہے ۔
(۱۳)ندوی اورعلی زئی صاحبان کے علاوہ دوسرے غیر مقلدین کی بھی تضادبیانیوں ،غلطیوں ،جہالتوں اورچیرہ دستیوں کو طشت ازبام کیا ہے ۔
(۱۴)مولانا صاحب نوجوان بھی ہیں اورمتاخر بھی۔اس لہے اکابر کے علوم سے استفادہ کرکے ان کی تحقیقات کو بھی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔
(۱۵)مولانا صاحب کی کتاب چونکہ اس موضوع کی سب کتابوں سے آخر میں آرہی ہے اس لئے اس میں غیر مقلدین کے قدیم اورجدید جتنے اعتراض سامنے آسکے سب کا جواب دیا۔یعنی غیر مقلدین کے جدید اعتراضات کا جواب خاص کر اسی کتاب میں ہے ۔
(۱۶)اکابر کے علوم کا اصاغر مقابل نہیں کرسکتے البتہ پچھلے ادوار میں بہت سی قلمی کتابیں دنیا کی مختلف لائبریریوں میں تھیں جن تک دسترس مشکل تھی اب وہ کتابیں شائع ہو کر منظر عام پر آگئی ہیں اس لیے وہ کتابیں مولانا صاحب کے مطالعہ میں آئی ہیں ان کے حوالہ جات بھی کتاب میں شامل کردیئے ہیں۔
(۱۷)دنیا بھر کی بہت سی کتب ایسی تھیں جو شائع تو ہوچکی تھیں مگر ان سب کو پاکستان میں خرید کرلانا مشکل تھا،البتہ وہ کتابیں بلکہ پورے پورے مکتبے سی ڈیز اورکمپیوٹر میں محفوظ ہیں جب کہ رامنا سابق میں کمپیوٹر سے مطالعہ کرنے کی سہولت نہیں تھی مولانا صاحب نے کمپیوٹر سے بھی مدد لی ہے اس لئے انہیں معلومات کا وافر ذخیرہ کمپیوٹر سے ملا ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب میں شامل فرمادیا ہے ۔
(۱۸)خلافیات بیہقی میں ترک رفع یدین کی حدیث موجود ہے مگر یہ کتاب دستیاب نہ تھی دوسری کتب کے حوالہ سے حدیث بیان کی جاتی رہی۔غیر مقلدین نے اس حدیث پر جو اعتراضات کیے ،ان کا جواب اصل کتاب کو دیکھنے کے بعد ہوسکتا تھا۔مولانا صاحب نے مولانا عبدالغفار ذہبی صاحب حفظہ اللہ کے واسطہ سے خلافیات بیہقی کے قلمی نسخے کا عکس بیرون ملک سے منگوایا اورپھر غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب دیا ۔قلمی نسخے کا عکس آنے سے پتہ چلا کہ غیر مقلدین کے اعتراض میں کوئی وزن نہیں ۔
خلافیات بیہقی والی حدیث پر اچھی بحث بھی اس کتاب کا خاصہ ہے ۔
(۱۹)اخبار الفقہاء والمحدثین میں حدیث ہے جس کا مفہوم ہے کہ مکہ میں نماز کی ابتداء اوردرمیان میں رفع یدین تھا اورمدینہ میں ابتداء والا رفع یدین باقی رہا اوردرمیان والا چھوڑ دیا۔
اس حدیث پر غیر مقلدین کے جو اعتراضات تھے علمائے دیوبند نے ان کے جوابات اپنے شاگردوں کوپڑھائے تھے اورکاغذات پر لکھ کر اس کی کاپیاں طلباء کو دی ہوئی تھیں مگر باقاعدہ کتاب میں ان کو شائع نہ کیا جاسکا۔مولانا صاحب نے ان سب اعتراضات کا جواب کتاب میں شامل کیا اورساتھ ہی اپنی طرف سے بحث بھی کی ہے ۔
حاصل یہ ہے کہ اخبار الفقہاء والمحدثین والی حدیث پر تسلی بخش بحث بھی اس کتاب کی خوبی ہے ۔
(۲۰)اس کتاب میں اکثر رئیس ندوی غیر مقلد اورزبیر علی زئی غیر مقلد کی تحریروں کا جواب ہے اوریہ دونوں غیر مقلد اپنی گفتگو اورلہجے میں بڑی شدت رکھتے تھے مگر مولانا صاحب نے ان جیسا شدت آمیز لہجہ اختیار کرنے سے پرہیز کیا ۔پھر بھی کہیں کوئی لہجے کی سختی سامنے آئے تو اسے رد عمل پر محمول کرنا۔
کچھ رئیس ندوی اورعلی زئی کے بارے میں:
کتاب میں زیادہ تر رئیس ندوی اورعلی زئی کی تحریروں کا جواب ہے اس لیے مناسب ہے کہ کچھ باتیں ان کے بارے میں بھی عرض کردی جائیں ۔
رئیس ندوی صاحب کا رویہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اورائمہ احناف کے خلاف انتہائی جارحانہ ہے ان کی کتابوں میں اس قدر جارحیت ہے کہ اس کی متعدد کتابیں میرے پاس ہیں مگر میں کسی ایک کو بالاستیعاب نہیں پڑھ سکا۔سلفی تحقیق جائزہ کا مطالعہ کرنے لگتااس میں اس قدر جارحیت ہے کہ چند صفحات پر رک جاتا،پھر دل پر جبر کرکے دوبارہ مطالعہ شروع کرتا مگر چند صفحات سے آکے نہ بڑھ سکتا۔ان کی طرف سے جارحیت کا اندازہ لگائیں کہ انہوں نے اام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اورامام ابو یوسف رحمہ اللہ کو کفریہ وشرکیہ عقائد کا حامل ٹھہرایاہے۔(دیکھئے: سلفی تحقیق جائزہ : ص۱۰۶،۱۲۴،۱۲۵وغیرہ)
زبیر علی زئی صاحب کا لہجہ بھی علمائے دیوبند واحناف کے خلاف بہت جارحانہ ہے علی زئی صاحب کی جارحانہ عبارتوں کو مولانا ظہو راحمد الحسینی صاحب نے اپنی کتاب ‘‘ علمائے دیوبند پر زبیر علی زئی کے اعتراضات کے جوابات’’میں درج کردیا ہے ۔
علی زئی اور ندوی دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ ان کی تحریروں میں تضاد بیانیاں بہت ہیں جیسا کہ مولانا صاحب نے اپنی کتاب میں انہیں باحوالہ درج کیا ہے ۔نیز علی زئی صاحب کی تضادبیانیوں کو بندہ نے بھی آج سے تین سال پہلے اپنی کتاب ‘‘زبیر علی زئی کا تعاقب ’’کے آغاز میں درج کیاتھا۔اس کا جواب آج تک نہ علی زئی صاحب نے دیااورنہ ہی کسی اورغیر مقلد نے ۔
ندوی اورعلی زئی اختلاف:
ندوی اورعلی زئی صاحبان اگرچہ علمائے دیوبند کی مخالفت میں متحد تھے مگر ان کا آپس میں کافی اختلاف تھامثلاً۔۔۔۔
(۱)ندوی صاحب کہتے ہیں کہ سجدوں کا رفع یدین صحیح حدیث سے ثابت ہے۔(رسول اکرم ﷺکا صحیح طریقہ نماز: ص۳۶۸،۳۶۹)جب کہ علی زئی صاحب اس سے انکاری ہیں۔(نورالعینین : ص۱۸۹)
(۲)علی زئی صاحب کہتے ہیں کہ ازروئے حدیث قنوت وتر رکوع سے پہلے پڑھنی چاہیے ۔(توضیح الاحکام : ج۱ص۱۷۷)
جبکہ ندوی صاحب اس کے منکر ہیں۔(رسول اکرمﷺ کا صحیح طریقہ نماز : ص۶۳۱)
(۳)علی زئی صاحب کا فتوی ہے کہ ازروئے دلائل قربانی کے تین دن ہیں ۔(توضیح الاحکام : ج۲ص۱۷۷)جب کہ ندوی صاحب چار دن قربانی کرنے کے قائل ہیں۔(ضمیر کا بحران : ص۲۸۰،غایۃ التحقیق فی تضحیۃ ایام التشریق)
(۴)علی زئی صاحب کی تحقیق ہے کہ چاردن قربانی کرنے کا کوئی صحابی بھی قائل نہیں۔(علمی مقالات : ج۴ص۳۴۵)جب کہ ندوی صاحب متعدد صَحابہ کرام مثلاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف سے چار دن قربانی کرنے کے موقف کو منسوب کرتے ہیں۔(ضمیر کا بحران : ص۲۸۱)
(۵)ندوی صاحب نے اپنی کتاب سلفی تحقیقی جائزہ میں بار بار وحید الزمان کو امام اہلحدیث کہا ہے ۔(دیکھئے: سلفی تحقیق جائزہ : ص۶۳۵،۸۳۱وغیرہ)جب کہ علی زئی صاحب وحید الزمان کو امام اہلحدیث تو کجاسرے سے اہلحدیث ہی نہیں مانتے ۔(دین میں تقلید کا مسئلہ : ص۵۹،علمی مقالات : ج۳ص۴۵۳)
(۶)علی زئی صاحب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف حدیثیں بھلا دینے کے الزام کو گستاخی کہتے ہیں۔(ماہنامہ الحدیث ش نمبر ۳۸ص۶۴)جب کہ ندوی صاحب مذکورہ الزام سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر لگاتے ہیں ۔(رسول اکرم ﷺ کا صحیح طریقہ نماز : ص۴۱۰)
(۷)علی زئی صاحب ابوبکر بن عیاش کو ثقہ مانتے ہیں ۔(نورالعینین : ص۱۶۸طبعہ جدید)جب کہ ندوی صاحب اسے مجروح کہتے ہیں ۔(رسول اللہ ﷺ کا صحیح طریقہ نماز : ص۴۵۲)
(۸)علی زئی صاحب ابن خزیمہ میں سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی سین پر ہاتھ باندھنے کی روایت کو ضعیف کہتے ہیں ۔(نماز میں ہاتھ باندھنے کا مقام)جب کہ ندوی صاحب نے اسے صحیح کہا ہے ۔(رسول اکرم ﷺ کا صحیح طریقہ نماز : ص۲۵۹)
(۹)علی زئی صاحب کے نزدیک عاصم بن کلیب ثقہ ہے۔(علمی مقالات : ج۱ص۴۲۵)جب کہ ندوی صاحب کے نزدیک یہ راوی غیر معتبر ہے ۔(سلفی تحقیق جائزہ : ص۵۷۲)
(۱۰)ندوی صاحب نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف منی کی پاکی کو منسوب کیا تو علی زئی نے اس کی تردید کرتے ہوئے لکھا:
‘‘ندوی صاحب کی نقل کردہ عبارات میں مذکور صحابہ کرام میں سے کسی صحابی سے بھی طہارت منی کا قول ثابت نہیں ہے ۔’’(توضیح الاحکام : ج۱ص۲۱۲)
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اختلاف ان دونوں میں مثلاً علی زئی کے نزدیک حدیث نبوی ‘‘ اذا قرء فانصتوا’’صحیح ہے ۔(علمی مقالات : ج۲)جب کہ ندوی صاحب اسے ضعیف کہتے ہیں۔(سلفی تحقیق جائزہ : ص۳۷۳)
تصویر کا دوسرا رخ:
اوپر علی زئی اورندوی کے اختلاف کی باحوالہ بحث کو آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے اس اختلاف کے برعکس ایک ایسے مسئلہ پر اتفاق کرلیا کہ ان کا اتفاق عام غیر مقلدین کے خلاف ہے ۔
عام غیر مقلدین منی کو پاک کہتے ہیں مگر ندوی اور علی زئی دونوں نے منی کے ناپاک ہونے پر اتفاق کیا۔ندوی صاحب نے ضمیر کا بحران (ص۱۰۹)میں منی کو ناپاک کہا اور علی زئی صاحب نے توضیح الاحکام(ج۱ص۲۱۲)میں ذ منی کو پلید مانا ہے ۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں نے عوام الناس کے اعتراض سے بچنے کے لئے منی کی پلیدی کو تسلیم کیا ہے یا احادیث کی وجہ سے ۔اگر اول صورت ہے تو اقرار کریں اوردوسری صورت ہے تو منی کے پلید ہونے پر احادیث ذکر کریں تاکہ وہ حدیثیں ہم ان غیر مقلدین کے خلاف پیش کرسکیں جو اب تک منی کو پاک کہتے پھر رہے ہیں۔
آخری باتیں:
آخر میں چند مزید باتیں عرض کرکے ہم اپنی تحریر کو ختم کرتے ہیں۔
٭اس کتاب میں بحثیں خالص علمی وفنی ہیں مگر طلباء وفضلاء کرام کے لیے اس سے استفادہ مشکل نہیں لہٰذا طلباء کرام اورفضلائے عظام اس سے خوب استفادہ کریں۔
٭ندوی اورعلی زئی وغیرہ غیر مقلدین اپنی اپنی تحریروں میں علمائے دیوبند کو جھوٹا جھوٹا کہنے کی رٹ لگائے رکھتے ہیں مولانا صاحب نے اس کی حقیقت کو ذکر کیا ہے اورساتھ ہی ایک مضمون اپنی کتاب کے آخر میں شامل کیا ہے جس میں غیر مقلد علماء کی گواہیاں ہیں کہ اہلحدیث کہلوانے والے لوگ جھوٹے ہیں یہ پورا مضمون والفضل ما شہدت بہ الاعداء کا مصداق ہے ۔
٭ہم مولانا صاحب کے معاونین سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ اپنا تعاون مولانا کے ساتھ برقرار رکھیں تاکہ مولانا صاحب مزید تحقیقی کام کرسکیں۔
٭مولانا صاحب سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس طرح کا تحقیقی کام دیگر مسائل مثلاً ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا،آمین آہستہ کہنااورمسئلہ تین طلاق وغیرہ پر بھی کریں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت میرے برادر مولانا نیاز احمد اوکاڑوی صاحب کی اس تصنیفی کاوش کو قبول فرمائے اورانہیں زیارت حرمین اورسعادت دارین نصیب فرمائے۔(آمین)
رب نواز عفا اللہ عنہ
---------------------------------------------------------------------------
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں